Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • جہاں کام ہوتا  وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،مصطفیٰ کمال

    جہاں کام ہوتا وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تمام اراکین سندھ اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا صوبہ تباہ و برباد ہو گیا، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے 15 سال کی کارکردگی کی پریزنٹیشن دی، ان کے تمام ترقیاتی دعوؤں کو رد کرتے ہیں۔

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ میں اگر کچھ اچھا ہوتا تو ہم ان کی تعریف کرتے، سندھ کے حکمرانوں کے سامنے عوام کا مقدمہ پیش کیا،ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے عوام کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑا، سندھ حکومت نے اپنے 15 سال کے دور میں کچھ بھی نہیں کیا،سندھ حکومت نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی، اربوں روپے صرف اشتہارات پر لگائے جا رہے ہیں، یہ پیسہ کسی کا ذاتی نہیں میرا اور آپ کا پیسہ ہے، جہاں کام ہوتا ہے وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی، تعلیم پر 3200 ارب خرچ کیے گئے، 76 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ،سندھ حکومت پچھلے 15 سالوں میں 18ہزار ارب خرچ کر چکی ہے،اتنے میں 50 نئے سندھ بن سکتے تھے،آج کراچی دنیا میں انسانوں کے رہنے کیلئے بد ترین جگہوں میں پانچویں نمبر پر ہے، وزیراعلی کہتے ہیں سندھ میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں

    ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ میرے زمانے میں کراچی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے 12شہروں میں شامل تھا، اپنے دور میں کراچی میں 3 سو ارب روپے خرچ کیے تھے، 3 سو ارب روپے کا ایک یک پیسہ کراچی پر لگایا تھا، صحت کے شعبے میں سندھ حکومت نے 1700 ارب روپے خرچ کیے، اسپتالوں کو فنڈ دینے والے مخیر حضرات کو ہٹا دیں تو صحت کے شعبے کی اصلیت معلوم ہو جائے گی۔جیسے ہی پنجاب شروع ہوتا ہے ہمیں سڑکوں کا فرق پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے، گاڑی کی وائبریشن سے پتا چل جاتا ہے کہ سندھ ختم ہو گیا اور پنجاب شروع ہو گیا، مراد علی شاہ کے مطابق سندھ دنیا میں انسانوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی کہ وزیراعلیٰ سندھ کی بتائی گئی چیزوں کو گراونڈ‌پر دیکھیں، انکے مطابق سندھ دنیا میں انسانوں کےرہنے کے لئے سب سے اچھی جگہ، ترقی یافتہ صوبہ بن گیا، یہاں ہر چیز بہتر ہو گئی، فوٹو شوٹ، ڈاکو منٹریز دکھائی گئیں،میں سندھ حکومت کے تمام دعوؤں کو رد کرتا ہے، ایم کیو ایم پاکستان کہتی ہے کہ انہوں‌نے غلط معلومات دیں، غلط تصاویر دیں،کچھ اچھا ہوتا تو ببانگ دہل اچھے کاموں کی تعریف کرتے،کاموں کو بتانے کے لئے اربوں روپے کی ایڈورٹائیزمنٹ نہیں کرنی پڑتی، سمجھو یہ دال میں کالا ہے، ٹی وی کھولیں ہر سیکنڈ کے بعد نیا ایڈ آ رہا ،کچھ اچھا کیا ہوتا تو سامنے نظر بھی آتا، اربوں روپے اشتہارات پر جیسے الیکشن مہم چل رہی ہو، ٹی وی مالکان کے مزے ہیں، وہ پیسے کما رہے ہیں،یہ لوگوں کا پیسہ ہے، کسی کی ذاتی جیب سے پیسہ نہیں آ رہا، اربوں کے اشتہارات کیوں دیئے جا رہے، یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ کیا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے، اس میں سچائی نہیں ہے،

    کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے مصطفی کمال ہیں،ترجمان سندھ حکومت
    دوسری جانب ایم کیو ایم رہنما مصطفی کمال کے بیان پر ترجمان حکومت سندھ گھنور خان اسران کا ردعمل سامنے آیا ہے،ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے مصطفی کمال ہیں، بطور سٹی ناظم مصطفی کمال نے بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کو چن چن کر بلدیاتی اداروں، واٹر بورڈ، کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بھرتی کیا، بلدیہ فیکٹری میں ڈھائی سو معصوم انسانوں کو زندہ جلانے والے متحدہ کے بھرتی کردہ بلدیہ ملازمین تھے، شہر کو بوری بند نعشوں کا تحفہ دینے والے آج شہر کے لئے ماتم کناں ہیں، کراچی پر ایم کیو ایم کی حکمرانی بدعنوانی، بھتہ خوری، تشدد، بوری بند نعشوں اور سیکٹرز کے نام پر ٹارچر سیلوں پر مبنی رہی ہے،ملکی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں رکاوٹ ڈالنے اور صنعتوں کو ملک بدر کروانے میں متحدہ کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،متحدہ کی جانب سے کراچی کے عوام کو ایک بار پھر گمراہ کن راستے پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے، ایم کیو ایم والے الزام تراشی سے پہلے ریکارڈ چیک کر لیا کریں،کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کا استعمال دنیا بھر میں ایک عام رواج ہے, دنیا بھر میں حکومتیں عوام کو اپنے اقدامات اور کامیابیوں سے آگاہ کرنے کے لیے باقاعدگی سے اشتہارات کا استعمال کرتی ہیں ،کراچی پر برسوں تک دہشت سے راج کرنے والے ویسٹ مینجمنٹ، پانی کی قلت، اور پبلک ٹرانسپورٹیشن کے مسائل تک حل نہ کر سکے،

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

  • وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ ویژن پر بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ ویژن پر بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ویژن پر بریفنگ دی ہے

    سندھ ویژن تقریب کا انتظام سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں مائننگ پروجیکٹس میں 71 فیصد تھری مقامی افراد کام کر رہے ہیں،تھر مائننگ پروجیکٹس میں 3303 مقامی لوگوں کو افرادی وقوت شامل ہے،تھر کی بااختیار 52 خواتین ڈمپ ٹرکس ڈرائیو کر رہی ہیں،9 تھری خواتین کو تربیت دی کر آر او پلانٹس پر تعینات کیا گیا ہے،سندھ حکومت نے مقامی افراد کی دوبارہ آبادکاری کی ہے،ری سیٹلمنٹ ولیج 100 فیصد مکمل ہے جہاں 172 خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے،ری سیٹلمنٹ ولیج میں تمام بنیادی سہولیات پینے کا صاف پانی، صحت کی خدمات، تعلیم، پارک، مسجد، مندر، سولر سسٹم کے ساتھ 100 یونٹ فری بجلی میسر کی گئی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ سندھ حکومت کی شراکت داری کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج صوبے میں ہر بچہ 30 منٹ کے اندر عالمی معیار کی ایمرجنسی صورتحال سے 24 گھنٹے مفت حاصل کر رہا ہے،سندھ کے 9 اسپتالوں میں جدید ایمرجنسی رومز جو کہ کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں ہیں،ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک سندھ کی تمام تحصیلوں پر محیط ہے جہاں اطفال کے ماہر کے ذریعہ ساتوں دن 24 گھنٹے مشاورت فراہم کی جاتی ہے،2023-24 میں 10 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ایمرجنسی سہولیات فراہم کی گئیں ،امریکہ کی بنیاد پر آزاد تحقیق کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے ایمرجنسی رومز میں آنے والے شدید بیمار بچوں کی اموات کی شرح 19 ملتے جلتے ممالک سے بہت کم ہے ،SYNERGY کے لیے چائلڈ لائف نے زیادہ اثر کے لیے دیگر تنظیموں جیسے این آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی، ایس آئی ای ایچ ایس، پی پی ایچ آئی اور انڈس ہسپتال کے ساتھ شراکت داری کی ہے،سندھ میں اعلیٰ معیار کے پیڈیاٹرک ایمرجنسی روم ہیں،سندھ بھر میں بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی،این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے تحت لاڑکانو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، سیہون، سکھر، نوابشاہ، مٹھی، خیرپور، لیاری میں سیٹیلائٹ یونٹس قائم کئے گئے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی کراچی، ٹنڈو محمد خان اور سکھر میں اسٹروک انٹروینشن پروگرام شروع کا ہے،اسٹروک انٹروینشن کے 300 سے زیادہ طریقہ کار اب تک مکمل کیے جا چکے ہیں،یہ صحت کی سہولیات بالکل مفت ہیں، موبائل ڈائیگنوسٹک اور ایمرجنسی ہیلتھ کیئر لیبارٹری ٹیسٹنگ اور ادویات سمیت ہنگامی صحت کی خدمات فراہم کرتی ہے ،موبائل ڈائیگنوسٹک اینڈ ایمرجنسی ہیلتھ کیئر ڈائریکٹوریٹ میں 26 موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس جبکہ پروجیکٹ میں مزید 10 موبائل یونٹس شامل ہیں ،تھرپارکر، ٹھٹو، بدین، سجاول، سانگھڑ، عمرکوٹ، جامشورو، دادو، لاڑکانو، شکارپور، جیکب آباد، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز اور خیرپور کے اضلاع شامل ہیں،ڈائریکٹوریٹ کے 26 موبائل یونٹس نے گزشتہ 5 سالوں میں 2,570,612 مریضوں کا علاج کیا ہے اور 549,013 میڈیکل ٹیسٹ کیے ہیں،،پراجیکٹ کے 10 موبائل یونٹس نے گزشتہ سال 93542 مریضوں کا علاج کیا اور 27297 میڈیکل ٹیسٹ کروائے،ان موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس نے COVID-19 اور سیلاب / بارش کی ایمرجنسی میں بھی اہم کردار ادا کیا ،اس سال مزید چار موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس کا اضافہ کیا جائے گا،

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • پریمئم نمبر پلیٹس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا،شرجیل میمن

    پریمئم نمبر پلیٹس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا،شرجیل میمن

    محکمہ ایکسائز حکومت سندھ کی جانب سے پریمئم نمبر پلیٹس کے اجراکے لئے مخصوص دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    عوام کو گھر بیٹھے نمبر پلیٹس کی فراہمی کا نظام متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت، ڈی جی ایکسائز، ڈی جی نارکوٹکس کنٹرول اور دیگر افسران شریک ہوئے،کراچی کے ضلع جنوبی میں موٹر رجسٹریشن کے دفتر کے قیام اور شام کے اوقات میں بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا،

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پریمئم نمبر پلیٹس کے اجرا کا پہلا مرحلہ کامیاب رہا، عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی،پریمئم نمبر پلیٹس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ بھی جلد شروع کیا جائے گا، رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، حکومت سندھ کا عزم ہے کہ عوام کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ہمارا اولین فرض اور ذمہ داری ہے، محکمہ ایکسائز کو کارپوریٹ طریقے سے چلانے کے خواہاں ہیں،

    عمران خان نے سیلاب زدگان کیلیے جمع 5 ارب سے کتنے خاندانوں کی مدد کی؟شرجیل میمن

    نہ صرف گھر بنا کر دینگے بلکہ مالکانہ حقوق بھی دیں گے، شرجیل میمن

    معمولی جرائم میں ملوث افراد سرینڈر کریں تو معافی مل سکتی ہے،شرجیل میمن

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز سے متعلقہ متعدد امور بشمول پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات، گزشتہ دس برسوں کے دوران حاصل ہونے والی آمدن اور اخراجات، گزشتہ دس برسوں کے دوران فارغ ہونے والے ملازمین کی تعداد اور ان کی گریڈ وائز تفصیلات، پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد اور ان پر آنے والے اخراجات بشمول تنخواہ و دیگر مراعات کے علاوہ پاکستان سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی سمیت اس نجکاری کرنے اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات اور ملازمین کے مستقبل سے متعلقہ امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے حوالے سے سی ایف او پاکستان سٹیل ملز محمد عارف شیخ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے کے ہیں جن میں سے 2.12 ارب کے اثاثہ جات منقولہ اور 858 ارب کے غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ منقولہ اثاثہ جات میں 1.45 ارب کی مشینری اور گاڑیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین کا تخمینہ 2021 میں لگایا گیا تھا اور کمپنی نے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق یہ تخمینہ لگوایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی 500 گاڑیاں ہیں جن میں بسیں، کاریں اور سیکورٹی وینز وغیرہ شامل ہیں جن میں سے 350 ورکنگ حالت میں ہیں اور باقی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ادارے کی 1500 ایکڑ زمین سی پیک میں استعمال ہو گی اور اس ادارے کی کل زمین 18 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے 8 ہزار ایکڑ پر رہائشی کالونیاں قائم ہیں باقی پر پلانٹ لگے ہیں۔ کمیٹی کو ادارے کے اثاثہ جات بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین622 ارب کی ہے جبکہ وہ زمین جو سرمایہ کاری کے لئے رکھی گئی ہے وہ 63 ارب کی ہے فیکٹری بلڈنگ کے اثاثہ جات 43 ارب کے ہیں نان فیکٹری بلڈنگ2 ارب کی ہے،2.2 ارب کی سٹرکیں، ریلوے ٹریک اور پلیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ریلوے ٹریک اور ریلوے انجن کی تفصیلات آئندہ اجلا س میں طلب کر لیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کی مالی سال 2022-23 میں آمدن 5.65 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا پلانٹ اور مشینری 115.7 ارب روپے کے ہیں۔ گیس اور بجلی انسٹالیشن 2.7 ارب کی ہے۔پانی، سیوریج سسٹم 1.99 ارب کا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 200 ملین گیلن فی ماہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ سیوریج سسٹم بہت بہتر ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 جون2024 کے بعد گیس سپلائی بند کر دی گی ہے۔ادارے کی آمدن کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2022-23 میں ادارے کی آمدن 5.65 ارب روپے تھی جس میں سے2.71ارب روپے سکریپ فروخت کر کے حاصل کی گئی جبکہ اخراجات 33.11 ارب روپے رہے،25ارب کا مالی سال 2022-23 میں خسارہ رہا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ، سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے
    انتظامی اخراجات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ لیبر کاسٹ2.1 ارب روپے کی ہے جو گزشتہ برس 2.9 ارب کی تھی اور اس سے قبل برس 4.9 ارب کی تھی۔ ادارے کو صرف6 ارب کی گرانٹ ملی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سے 104 ارب اور نیشنل بنک پاکستان سے 38 ارب کا قرض لیا گیا۔ 103 ارب کا مارک اپ ادا کر چکے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 13 جون2024 کو ساڑھے پانچ سو سے زائد ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے ان کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں 12 ہزار382 ملازمین ادارے سے فارغ ہو چکے ہیں جن میں سے 5701 ریٹائرڈ ہوئے،128 نکالے گئے،359 نے استعفیٰ دیا،39 میڈیکل گراؤنڈ پر گئے،397 سکیم کے تحت رضا کارانہ چھوڑ گئے،577 انتقال کر گئے وغیرہ شامل تھے۔ 12 ہزار382 ملازمین سے 4 ہزار588 افسران جبکہ 7794 ورکرز تھے۔پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ہے جن میں سے 166 افسران اور2120 ورکرز ہیں۔ 2286 ملازمین کی سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملازمین کو 32 ارب روپے کی تنخواہ ادا کی گئی اور گزشتہ 10 برسوں میں 7 ارب کی گیس ادارے میں استعمال کی گئی۔

    پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں سی ایف او عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں پاکستان سٹیل ملز کو جوائن کیا تب یہ مل تقریبا بند ہو چکی تھی صرف 36 فیصد کپیسٹی پر چل رہی تھی۔2000 سے2008 تک یہ ملز اوسطا 80 فیصد کپیسٹی کے ساتھ منافع دے رہی تھی۔ 2009 میں بین الاقوامی مسئلہ آیا جو دنیا کے بڑے بنکوں کی وجہ سے تھا۔30 جون2009 کو یہ ملز 36 فیصد کپیٹی پر آ گئی اور 26 ارب کا نقصان ہوا جس کی انکوائری نیب اور سپریم کورٹ دونوں نے کرائی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب کر لیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009 میں ادارے نے حکومت سے کمرشل قرض 15 فیصد پر حاصل کیا اور 6.5 ارب کی ایل سی کی ادائیگی کی۔ کم فنڈز کی وجہ سے پیداواری کپیٹی کم سے کم ہوتی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ادارے کے 27 ہزار ملازمین تھے جبکہ 2008 میں ملازمین کی تعداد 20 ہزار تھی اس وقت بھی ادارے کی ضرورت کل 7 ہزار ملازمین کی تھی۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2010 میں ساڑھے 4 ہزار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی حکومت نے ہدایا ت دیں۔ادارے کی جانب سے فنڈز کی کمی کا کہا گیا تو حکومت کی جانب سے فنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان ملازمین کا بوجھ ادارے پر 12 ارب روپے کا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اتنا منافع دینے والے ادارے کو مناسب حکمت عملی کے تحت چلانا چاہیے تھے ایک حکم نامے کے ذریعے اتنے ملازمین ریگولر کرنا ادارے کا تباہ کرنے کے مترادف تھا۔سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا گیا کہ حکومت کے حکم کے تحت کی گئی بھرتی غیر قانونی نہیں ہوتی۔

    سندھ حکومت 7 سو ایکڑ زمین پر نئی سٹیل مل بنائے گی
    سیکرٹری صنعت و پیدا وار نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نگران حکومت نے اس ادارے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ ترامیم کی تھیں۔مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں ہے حکومت اس کو سکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقصد میں استعمال میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور وفاقی کیبنٹ نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ زمین وفاق کی ہے یا سندھ حکومت کی اس کے لیز کاریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس زمین کو اسٹیٹ لینڈ کے طور پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی زمین کے دوسرے استعمال کے لئے صوبائی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کی زمین پر ایکسپورٹ پروموشن زون / صنعتی زون کے استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نگران صوبائی حکومت نے نگران وفاقی حکومت کو اس کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ موجودہ حکومت نے نگران حکومت کے فیصلے کو رویو کیا ہے۔ سندھ حکومت ایک نئی سٹیل ملز قائم کرے گی اگر سندھ حکومت نئی سٹیل ملز بناتی ہے تو 7 سو ایکڑ پر قائم کی جائے اور باقی پاکستان سیٹل ملز کے نام زمین رہے گی۔ سندھ کیبنٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اعلیٰ معیار کے لوہے کو سی کیٹگری کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر فروخت نہیں ہوا۔

    پاکستان سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے،یونین
    کمیٹی اجلاس میں سٹیل ملز سے تعلق رکھنے والے یونین کے نمائندے نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین 12 فیصد کے حقدار ہیں یا نہیں اور کیا یہ مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعداد شمار بتائے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں اور ایکسپورٹ پرومن زون کے لئے اس ادارے کی زمین استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ اس ادارے کا ابھی تک سی ای او کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ادارے کے بورڈ آف گورنر کا کیا اسٹیٹس ہے۔ ممبران بورڈ کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزرا پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ہم ہر طرح کی سہولت اور تعاون فراہم کریں گے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو اور عوام کی حالت میں بہتری آئے۔ وزرا کی موجود گی میں کمیٹی اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی ہو جاتا ہے۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ سٹیل ملز کی گیس بند نہیں کرنی چاہیے ورنہ پلانٹ چلانے کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکرٹری وزارت صنعت و پیدا وار پاکستان سٹیل ملز یونین کے نمائندوں سے ملیں اور معاملات کو بہتر بنائیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن، دنیش کمار، حسنہ بانو، سیف اللہ سرور خان نیازی، خلیل طاہر، محمد عبدالقادر اور دوست علی جیسر کے علاوہ سیکرٹری صنعت وپیدا وار، سی ایف او پاکستان سٹیل ملز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • محکمہ تعلیم سندھ کا نیویارک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ   آن لائن کوآرڈینیشن پروگرام   کا فیصلہ

    محکمہ تعلیم سندھ کا نیویارک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ آن لائن کوآرڈینیشن پروگرام کا فیصلہ

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس (Mr. Phil Ramos) نے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات کی ہے،

    ملاقات میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی، سیکریٹری کالج ایجوکیشن صدف انیس شیخ، چیف پروگرام مینجر آر ایس یو ڈاکٹر جنید سموں، اور دیگر افسران بھی موجود تھے،32 رکنی وفد میں اسمبلی رکن ایلیک بروک، امریکن پاکستانی کمیٹی کے ڈاکٹر اعجاز، امتیاز راہی، امتیاز پیرزادہ، عامر میمن اور دیگر شامل تھے،وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس اور آئے ہوئے وفد کو سندھ میں تعلیمی چیلینجز کے سلسلے میں آگاہی دی۔ اور کہا کہ سندھ کی تعلیم کی ترقی میں امریکی عوام کا قابل تعریف تعاون رہا ہے۔سندھ میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے سیلاب سے متاثر ہونے والے 108 اسکولز کی اسٹیٹ آف دی آرٹ عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ورچوئل نظام کے تحت تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

    وفد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ کے اسکولز اور نیویارک کے اسکولز کے مابین آن لائین کوآرڈینیشن نظام قائم کیا جاۓ۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں ایک سرکاری اور ایک نجی اسکول کا نیویارک کے اسکولز کے ساتھ ورچوئل رابطہ قائم کیا جاۓ گا۔سندھ اور نیویارک کے اسکولز کی کانفرسنگ کنیکٹوٹی سے اساتذہ اور طلباء اور ایک دوسرے معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے۔

    نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس نے کہا کہ وہ نیویارک کمیونٹی کے طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔آن لائین کانفرنسنگ کے ذریعہ امریکی طلبہ پاکستان کے بارے میں پاکستانی طلبہ اور پاکستانی اساتذہ امریکیوں سے سیکھ سکتے ہیں، امریکی اور پاکستانی تعلیمی اداروں کے آن لائین کوآرڈینیشن سے تکنینکی تعلیم اور شارٹ کورسز کو بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس کی ملاقات
    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس (Mr Phil Ramos) نے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات کی، ملاقات میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر تعلیم سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم رحیم شیخ اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز شریک تھے،32 رکنی وفد میں اسمبلی رکن ایلیک بروک، امریکن پاکستانی کمیٹی کے ڈاکٹر اعجاز، امتیاز راہی، امتیاز پیرزادہ، عامر میمن اور دیگر شامل تھے، وزیراعلیٰ سندھ اور نیو یارک اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے درمیان صحت کے شعبے میں ٹریننگ پر بات چیت ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نرسز کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے، نرسنگ کی بہترین ٹریننگ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نیو یارک اسٹیٹ کے نرسنگ اساتذہ سندھ میں آن لائن ٹیچنگ کرینگے تو معیار میں بہتری آئے گی،

    وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ اسپیشلائیڈ نرسز کی بہت ضرورت ہے، نیو یارک اسٹیٹ اگر نرسز کی اسپیشلائیزیشن کیلئے تعاون کرے تو اچھا ہوگا،

    وزیراعلیٰ سندھ اور نیویارک کے ڈپٹی اسپیکر نے تعلیمی وفد کے تبادلے پر بھی بات چیت کی،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں کے بچے اور اساتذہ نیویارک کے تعلیمی اداروں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، تعلیمی وفد کے تبادلے سے ایک دوسرے کی تعلیمی سرگرمیوں کا تجربہ ہوگا، سید مراد علی شاہ نے اگلے سیشن میں سندھ اسمبلی سے نیویارک اور کراچی سسٹر سٹیز کی قرارداد منظور کرنے کا اعلان کیا

  • عمران خان نے سیلاب زدگان کیلیے جمع   5 ارب سے کتنے خاندانوں کی مدد کی؟شرجیل میمن

    عمران خان نے سیلاب زدگان کیلیے جمع 5 ارب سے کتنے خاندانوں کی مدد کی؟شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ڈاکٹر عارف علوی کے ٹویٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ ڈاکٹر علوی، سندھ حکومت نے سیلاب زدگان کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ کے عظیم مقصد کی حمایت میں پاکستان کی پہلی نیلامی کا انعقاد کیا،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ نیلامی میں 2251 مکانات کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھے کیے گئے، کیا آپ ایمانداری سے واضح کر سکتے ہیں کہ آپ کے لیڈر عمران خان نے سیلاب زدگان کے لیے جمع کیے گئے 5 ارب سے کتنے خاندانوں کی مدد کی؟ ایسا لگتا ہے کہ تمام فنڈز پاکستان کے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں صرف ہو گئے ہیں، جو ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے بجائے افراتفری پھیلا رہے ہیں، عمران خان نے چیریٹی فنڈز کو رئیل اسٹیٹ وینچرز میں موڑ دیا ہے، اب وہ منی لانڈرنگ اور غیر ملکی فنڈنگ ​​کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما، سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ سندھ میں موٹر کار کی ایک نمبر پلیٹ دس کروڑ میں نیلام ہوئی!میں اور کیا کہ سکتا ہوں؟ سواۓ اس کے کہ اس ملک کے حکمران میرے وطن کو تیزی سے ایک گھٹیا اور زوال پزیر معاشرے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔بے شرم انداز سے دولت کی نمائش کی حوصلہ افزائی ایک لالچی ریاست کر رہی ہے، جو خود بھی لوٹ مار کرتی ہے، چوری کے راستے کھولتی ہے، پھر دولت کی عدم مساوات کے عوامی ‘مجروں’ کا اہتمام کرتی ہے۔عوام میں اور موجودہ حکمرانوں میں ایک بہت بڑی خلیج نظر آرہی ہے اور دولت مندوں میں بے حسی کی عجیب کیفیت ہے۔اگر دنیا میں ایسا ہوتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ ہم بھی وہی کریں۔ خاص طور پر جب میرے بھوکے ننگے عوام، اشرافیہ کی عیاشیوں کے لیئے اپنی خون پسینے کا حلال رزق، حرام کھانے والوں کو کمر توڑ ٹیکس کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔اللہ رحم کرے۔خدا کے واسطے اس ظالم نظام کو بدلو،میرے پریشان حال، فرشتہ سیرت غریب لوگوں

    واضح رہے کہ حکومت سندھ نے 40پریمیئم نمبر پلیٹس کی نیلامی سے67کروڑ 54 لاکھ روپے جمع کئے ۔وزیر ٹرانسپورٹ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ رقم سے سیلاب زدگان کے گھر بنائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی نیلامی ہوئی ہے

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • سندھ ، غیر قانونی ایل این جی اور ایل پی جی دکانوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    سندھ ، غیر قانونی ایل این جی اور ایل پی جی دکانوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کے احکامات پر صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو غیر قانونی ایل این جی اور ایل پی جی دکانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیا

    محکمہ داخلہ کی جانب سے صوبہ بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ،وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ ایل این جی اور ایل پی جی کی دکانوں کی انسپیکشن کی جائے اور غیر معیاری سلینڈرز ضبط کئے جائیں – تمام ایل این جی اور ایل پی جی کی دکانوں کو وفاقی حکومت کی طے شدہ ایس او پی کے تحت چلانے کا پابند کیا جائے-ایل ایم جی اور ایل پی جی کی دکانیں مصروف بازاروں اور رہائشی علاقوں سے دُور منتقل کرائی جائیں- تمام ڈپٹی کمشنرز ہر ہفتے ایل این جی اور ایل پی جی دکانوں کا معائنہ کریں۔ محکمہ داخلہ کو ہفتہ وار رپورٹ پیش کریں۔

    واضح رہے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں سلنڈر کی دکان میں دھماکا ہوا تھا جس میں 20سے زائد جانیں چلی گئی تھیں، جس کے بعد حکومت نے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے،شرجیل انعام میمن

    ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے،شرجیل انعام میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈال دیں، جو ڈاکو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں وہ ہتھیار ڈالیں گے تو حکومت ان سے بات چیت کر سکتی ہے-

    سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کہا گیا کہ کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈال دیں، جو ڈاکو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں وہ ہتھیار ڈالیں گے تو حکومت ان سے بات چیت کر سکتی ہے، جو ڈاکو پکڑے گئے ہیں ان کو بھی توبہ تائب ہونے کا موقع دیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں کے حوالے سے مفاہمتی کمیٹیاں بنائی جائیں، اور جھگڑے ختم کروائے جائیں قبائلی جھگڑوں میں معصوم لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں، قبائلی جھگڑوں کے سدباب کے لیے قبائلی سرداروں کو متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ لوگوں کو درست راہ پر لا سکیں، منشیات فروش سے بھی توبہ کرلیں تو حکومت ان کے ساتھ بھی رعایت برتے گی جو منشیات فروشی کے کام کو جاری رکھے گا، اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، منشیات کے خلاف حکومت سندھ کی پالیسی زیرو ٹالرنس پر مبنی ہے۔

    کارگل جنگ میں تعاون پر بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا …

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے اجلاس کا پیغام واضح ہے کہ مجرم ہتھیار ڈال دیں اور حکومت سے بات کریں، حکومت آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہونے نہیں دے گی، اور ان کے ساتھ قانون کے تحت پیش آئے گی حکومت سندھ نے پہلے ہی سندھ پولیس کے جدید اسلحے کے لیے احکامات جاری کر دئیے ہیں، وہ ہتھیار ملنا شروع ہوگئے ہیں، پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے، پولیس اہلکاروں کو مراعات دی جارہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف وفاقی حکومت آپریشن پروپوز کرے گی، سندھ حکومت نے ہمیشہ ہر اچھے کام کی حمایت کی ہے، پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے، پیپلز پارٹی نہیں چاہے گی کہ ملک میں انارکی اور افتراتفری کی صورتحال پیدا ہو امن و امان کے حوالے سے جہاں ضرورت ہوگی وہاں سرداروں کو انگیج کیا جائے گا، حکومت سندھ جرائم کے خاتمے کے لئے تمام ممکنہ آپشنز پر کام کرے گی۔

    ملک بھر میں 26 جون سے بارشوں کی پیشگوئی

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کسی بھی جماعت کا ہو، وفاق کے ساتھ چلنے میں ہی بہتری ہے، بدترین خدشات کے باوجود ہم وفاق کے ساتھ چل رہے ہیں، کے پی کے وزیر اعلیٰ کو جتنے بھی خدشات ہوں وہ وفاق کے ساتھ چلیں ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے، اگر آپ اب بھی بانی پی ٹی آئی کے فلسفے پر چلے تو ملک کو خدانخواستہ نقصان پہنچانے کی بات کریں گے۔

  • لائشیں پھینکنےاور اوجھڑی کاٹنے والوں کے خلاف کارروائیاں،111 افراد گرفتار

    لائشیں پھینکنےاور اوجھڑی کاٹنے والوں کے خلاف کارروائیاں،111 افراد گرفتار

    کراچی: پولیس نے الائشیں پھینکنے اور اوجھڑی کاٹنے والے 111 افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کرلیے۔

    باغی ٹی وی :میئر کراچی مرتضٰی وہاب کی جانب سے آئی جی سندھ سے رابطے کے بعد پولیس نے عوامی مقامات پر آلائشیں پھینکنےاور اوجھڑی کاٹنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کراچی سے 111 افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں-

    کراچی کے ضلع جنوبی کے علاقوں عید گاہ، گارڈن، سنگولین، لیاری میں سڑک پر قربانی کے جانور کی الائشیں پھینکنے اور چیر پھاڑ کرنے والے 14 افراد کو گرفتار کیا گیا کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی سے 16 اور ضلع ملیر کے علاقوں قائد آباد فلائی اوور اور شاہ لطیف سے 10 افراد گرفتار کیا گیا-

    پولیس کے مطابق ضلع وسطی کے علاقوں نارتھ ناظم آباد سے 10، نیو کراچی سے 6، لیاقت آباد سے 3، پاپوش نگر سے 8 اور شاہراہ نورجہاں سے 4 گرفتار کیا گیا،ضلعی غربی کے علاقے مومن آباد سے 5 اور کیماڑی کے علاقے سائٹ سے 2 افراد، کراچی شرقی کے علاقے فیروز آباد سے 5، جمشید کوارٹرز سولجر بازار سے 9 اور گلزار ہجری سے 5 افراد گرفتار کر کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ کمشنر کراچی نے سڑک پر قربانی کے جانور کی اوجھڑی پھینکنے پر پابندی عائد کی تھی جبکہ ایک روز قبل عوامی شکایات پر میئر کراچی نے الائشوں کی چھیر پھاڑ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے کارروائی کی سفارش کی تھی۔

  • گورنر سندھ کا اونٹ دیکھنے کے لئےاینمل سنٹر کا دورہ،اینمل شیلٹر کی منیجر برس پڑیں

    گورنر سندھ کا اونٹ دیکھنے کے لئےاینمل سنٹر کا دورہ،اینمل شیلٹر کی منیجر برس پڑیں

    سانگھڑمیں وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کو کراچی اینمل شیلٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں اسکی مصنوعی ٹانگ لگائی جائیگی

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نےمتاثرہ اونٹنی کیمی کو دیکھنے اینمل شیلٹر کا دورہ کیا،اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ میری بیٹی نے مجھ سے کہا کہ اس اونٹنی کو لازمی جا کر دیکھیں، اونٹنی کے زخمی ہونے کا واقعہ ناقابلِ برداشت ہے، اونٹنی کو ہمارے مذہب میں خاص مقام حاصل ہے اونٹنی کے قتل پر اللّٰہ نے ایک قوم پر عذاب نازل کیا تھا، میں مانتا ہوں کہ ایسے واقعات پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے،بے زبان جانور کے ساتھ زیادتی کی گئی، آج ہم اگر کچھ کر نہیں سکتے لیکن آواز تو اٹھا سکتے ہیں، ظلم انسانوں پر ہو یا جانوروں پر سب اللّٰہ کی مخلوق ہیں، میں اینیمل شیلٹر آ کر بہت مطمئن ہوا ہوں، اونٹنی کا علاج بہت اچھی طرح ہو رہا ہے۔

    گورنر سندھ کے دورے کے دوران میڈیا بھی پہنچ گیا جس پر اینمل سنٹر کی انچارج گورنر کے دورے کے بعد برس پڑیں، منیجر اینمل شیلٹر شیما خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ "اونٹ کا زخم صحیح ہو رہا ہے، وہ اب بھی تکلیف میں ہے، اس کی ٹانگ سے سوجن بھی ختم ہوئی ہے، آج بھی پٹی کی گئی ہے، انسانوں کی موجودگی اونٹ کو پریشان کر دیتی ہے،اونٹ کے علاوہ غیر انسانی سلوک کا شکار یہاں کتے اور گدھے بھی موجود ہیں، یہ تمام جانور اجنبی لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں

    میڈیا ٹاک کے دوران صحافی نے شیما خان سے سوال کیا کہ یہ زخمی جانوروں کا میڈیکل سینٹر ہے؟ پھر آپ نے گورنر کو منع کیوں نہیں کیا؟ منیجر اینمل شیلٹر شیما خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اتنے میڈیا کے نمائندے آئیں گے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شازیہ مری نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے اینمل شیلٹر کا دورہ کرنے پرتنقید کی ہے اور کہا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ گورنر سندھ آج دوپہر کے وقت کیمی اونٹ کی عیادت کر رہے ہیں، میں ان سے درخواست کروں گی کہ براہ کرم اسے سرکس یا فوٹو سیشن میں نہ بدلیں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ زخمی ہے اس لیے گھبراہٹ کا شکار اور خوفزدہ ہے، اونٹ کی دیکھ بھال کو ظاہر کرنے کے اور بہت سے پُرسکون طریقے ہیں۔

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    اونٹنی کے مالک کا اب اونٹنی سے کوئی تعلق نہیں اس نے اونٹ کا معاوضہ لے لیا ،شازیہ مری
    دوسری جانب سانگھڑ میں شازیہ عطا مری نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ا گورنر سندھ کو اونٹ کے علاج کی فکر نہیں اونٹ کے مالک کو دو اونٹ دینے کی فکر ھے جو اپنے اونٹ کو چھوڑ کر بھاگ گیا ہے.وہ سیاست کررہے ہیں اگر ان کو اونٹنی سے ہمدردی ہے تو اونٹنی کے علاج پر توجہ دیں، اونٹنی کے مالک کا اب اونٹنی سے کوئی تعلق نہیں اس نے اونٹ کا معاوضہ لے لیا ہے،بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اونٹنی کو علاج کی غرض سے کراچی پہنچایا گیا ہے،اونٹنی کے مالک نے پہلے دن ہی اونٹنی کا معاوضہ لے لیا ہمارے سیاسی مخالفین نے اونٹنی پر سیاست کی،اے سی میں بیٹھے ہوئے جن کو حقیقت سے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ لوگ اونٹنی کے معاملے پر دوکانداری کر رھے ہیں انکو شرم آنی چاہیۓ،خواجہ سعد رفیق بھی اونٹ پر بیان بازی کررھے ہیں۔