Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کا جعلی ٹیسٹ رپورٹس اجرا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا جعلی ٹیسٹ رپورٹس اجرا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    وزیر توانائی، ترقی و منصوبی بندی سندھ سیدناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ پاور ڈپارٹمنٹ کی وائرنگ ٹیسٹ رپورٹ اور ورک کمسمنٹ رپورٹ (WCR) جعلی تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق اس سلسلے میں پاور ڈپارٹمنٹ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو کہ مشترکہ طور پر کریک ڈائون کی نگرانی اور ایکشن کی ذمیدار ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار اج انہوں نے محکمہ توانائی کے پاور ڈیپارٹمنٹ کے اعلی سطحی اجلاس کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری توانائی مصدق احمد خان، ڈائریکٹر جنرل پاور نند لال شرما ایڈیشنل۔سیکریٹری محبوب علی سیال اور تمام ڈیویژن کے الیکٹرک انسپکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی کے کئی مقامات پر پاور ڈپارٹمنٹ کی جانب سے صارفین کے لئے کے الیکٹرک کو جمع کرائے جانے والے ورک کمسمنٹ رپورٹ اور وائرنگ ٹیسٹ رپورٹ جعلی طور پر تیار کی جارہی ہے جس میں محکمہ پاور کے متعلقہ افسران کی جعلی مہریں اور جعلی دستخط کی جارہی ہیں جبکہ کے الیکٹرک کو توجہ دلانے کے باوجود بھی محکمہ پاور سے تصدیق نہیں کروائی جارہی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صارفین کی جان و مال، فائر اور سیفٹی کے حوالے سے محکمہ توانائی کی جانب سے سرٹیفیکیٹ کا اجرا ضروری ہے مگر جعلی سرٹیفکیٹ کا اجرا صارفین کیلئے انتہائی سیفٹی و سیکیورٹی رسک ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2003 سے سالانہ انسپیکشن کا کام بند ہے جس کے باعث گھریلو، کمرشل اور فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس کاسبب غیر معیاری الیکٹرکل انسٹالیشن ہے۔ وزیر توانائی سیدناصرحسین شاہ نے ہدایت کی کہ الیکٹریکل وائرمین اور الیکٹریکل سپروائزر کے امتحانات اور لائسنس کے اجرا کے طریقہ کا کو منصفانہ شفافانہ بنایا جائے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات بھی کئے جائیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ پاور کے تمام سسٹم آن لائن کیا جائے اور عوام کے بہتر مفاد کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سالانہ انسپیکشن کے حوالے سے ٹرانسپیرنٹ نظام کی تشکیل کیلئے تجاویز تیار کی جائے اور جلد اسکی رپورٹ انھیں بھجوائی جائے۔ وزیر توانائی سیدناصرحسین شاہ نے ہدایت کی کہ بجلی کے صارفین کے بلوں میں الیکٹریسٹی ڈیوٹی (ED) جو کہ حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک وصول کرتا ہے پاور ڈپارٹمنٹ اس کی وصولیابی کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ سندھ حکومت کے ریوینیو میں اضافہ ہو سکے۔ وزیر توانائی نے ہدایت کی کہ بجلی صارفین کی زائد بلنگ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ وغیرہ کے حوالے سے الیکٹریکل انسپکٹر کی جانب سے ازالہ کے لئے میکنیزم کو مزید بہتر بنایا جائے۔

    کراچی حملے کی تحقیقات، سندھ اور بلوچستان سے کئی افراد گرفتار

  • وفاق کا گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کر نے کا فیصلہ

    وفاق کا گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کر نے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کر نے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کیلئے حکومت سندھ نے گرین لائن بس سروس منصوبے کے آپریشنز سنبھالنے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں،وفاقی حکومت رواں سال دسمبر میں گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کرے گی۔

    اس حوالے سے وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں گرین لائن بس سروس کے آپریشنز کا جائزہ لیا گیا،شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گرین اور اورنج لائن منصوبوں کو جوڑنے کا کام دسمبر 2024 سے پہلے مکمل ہو جائے گا، وفاق کی گرین لائن پر 2 ارب روپے کی سبسڈی پر حکومت سندھ نظرِ ثانی کرے گی، گرین لائن منصوبے کی سندھ حکومت کو منتقلی کے بعد اس میں مزید بسیں شامل کریں گے۔

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا پاور شو،رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے …

    افغان کرکٹر راشد خان نے شادی کرلی

  • پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کا آن لائن اجرا شروع کیا جا رہا ہے،شرجیل میمن

    پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کا آن لائن اجرا شروع کیا جا رہا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ محکمہ ایکسائز حکومت سندھ کی جانب سے 3 اکتوبر سے پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کا آن لائن اجراع شروع کیا جا رہا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ اجرا نیلامی کے ذریعے ایک طرح کی فنڈ ریزنگ ہے، پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کے اجراع سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لئے عطیہ کئے جائیں گے، سیلاب متاثرین کے لئے 21 لاکھ گھر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے، مخیر حضرات جو پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کے خواہشمند ہیں وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے تحت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، جے یو آئی ف اور دیگر جماعتوں نے ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ عوام کی منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری کرسکیں، آئینی عدالتیں میں میثاق جمہوریت میں شامل تھیں،میثاق جمہوریت کے تحت اٹھارویں ترمیم وجود میں آئی اور صدر آصف علی زرداری نے اپنے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کردیئے، آئینی عدالتوں کے قیام کا نقطہ بھی میثاق جمہوریت میں شامل تھا، آئینی عدالتوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی پوزیشن 2008 میں بھی واضح تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آئینی عدالتوں کے معاملے پر سب کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ اتفاق رائے کے ساتھ سب کی رضامندی سے آئینی عدالت کے قیام کے ترمیم لانے کے لئے کوشاں ہیں۔

    ریٹائرڈ میجر کے اغواء برائے تاوان میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار
    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سب کے لئے یکساں انصاف کے جہدوجہد کررہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے شہید چیئرمین کو پھانسی دی گئی جس پر 45 سال بعد سپریم کورٹ نے اس سزا کو غلط قرار دیا، اس ملک کی آئینی وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی دو حکومتوں کو غیر آئینی طریقے سے ختم کر دیا گیا، یہاں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی، بیس سال بعد فیصلہ آیا کہ یہ بندہ بے قصور تھا، پیپلز پارٹی جوڈیشل ایکٹوازم کا سب سے بڑا شکار رہی ہے، پیپلز پارٹی پر زیادتیوں کے پہاڑ توڑے گئے، شہید بی بی کی شہادت کو 16 سال ہوگئے ہیں لیکن ان کے قتل کیس کی سماعت کے لئے عدالت کے پاس وقت نہیں ہے، اس لئے پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ آئینی عدالت ہو جو ان ناانصافیوں کو روک سکے۔
    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ ہمارے لیے قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ دونوں ہی قابل احترام ہیں، وہ لوگ جنہوں نے عدالتوں کے ججوں کو سر عام دھمکیاں دیں ان کو عدالتوں سے ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی کے جلسے میں ایک خاتون جج کا نام لیکر ان کو دھمکیاں دی گئیں، ثاقب نثار نے بانی پی ٹی آئی کے غیرقانونی گھروں کو ریگیولرائز کرایا، اس شخص کو صادق و امین کا لقب دیا، کراچی میں پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے نے ایک عام مزدور کو سڑک پر زد و کوب کیا، ثاقب نثار نے فیصلہ کیا کہ تھپڑ اور گھونسے کا ہرجانہ ڈیم فنڈ میں پئسے جمع کروادیں، عدالتوں کو فیصلے قانون کے دائرے میں رہ کر کرنے چاہئیں۔
    انہوں نے کہا کہ چند مخصوص ججز نے قانون کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی، یہ شروعات افتخار چوہدری نے کی، اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف خط نہ لکھنے پر یوسف رضا گیلانی کو نااہل کر دیا گیا، ریکوڈک کیس میں ملک کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، اس طرح کے فیصلوں کا افتخار چوہدری اور ثاقب نثار سے حساب لینا چاہیے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے بی آر ٹی میں جو سزا دی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سپریم کورٹ نے اس کیس میں آئینی اداروں کو انکوائری تک سے روک دیا ۔
    یہ کیسا انصاف ہے اسی طرح سے قاسم سوری کی جیت کو الیکشن کمیشن نے غلط قرار دیا تو جسٹس بندیال نے ان کو ریلیف دے دیا۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ کسطرح ایک شخص کو ریلیف دیا گیا، فارن فنڈنگ کے کیس اس پارٹی کو بھارت، اسرائیل سے فنڈنگ واضح ہوئی لیکن کارروائی کوئی نہیں ہوئی، آج اسرائیل کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، آج کی تاریخ میں عمران خان کے لندن میں رہنے والے رشتے دار نے اسرائیل کو امید کی کرن قرار دیا ہے ۔
    لنڈن میں میئر کے انتخاب کے دوران عمران خان نے پاکستانی نژاد صادق خان کی مخالفت کی، اور اپنے رشتے دار زیک گولڈ اسمتھ کی الیکشن مہم چلائی ، عمران خان کے ٹوئیٹس موجود ہیں جس میں وہ زیک گولڈ سمتھ کی حمایت کر رہے ہیں، چند دن پہلے جس طرح اسرائیلی اخبارات نے کہا کہ عمران خان نے اسرائیل اپنا وزیر بھیجا۔ عمران خان کی گرفتاری پر ایک اسرائیلی خاتون نے آفیشلی بیان دیا کہ کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے تانے بانے وہاں سے ملتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرادری کو بکتربند اور پولیس موبائلوں میں لایا جاتا تھا، عمران خان کو مرسڈیز مں لایا گیا اور چیف جسٹس نے کہا گڈ ٹو سی یو، اسرائیل جیسا انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والا ملک پاکستان میں عمران کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی پامالی کی بات کررہا ہے۔ عمران کو عدالت سے مسلسل ریلیف ملتے رہے ہیں، عمران خان پر کیسز ثابت ہونے کے باوجود ان کو کچھ نہیں ہوتا، ان کو ناجائز فیورز مل رہے ہیں، جیل میں ملنے کے لیے عمران خان سے لسٹ مانگی گئی کہ آپ بتائیں کہ کس کس سے ملنا چاہتے ہیں یہ سہولت پاکستان میں عام قیدیوں کو نہیں، ثاقب نثار کی کورٹ نے علیمہ خان کو فنڈنگ کیس میں بھی ریلیف دیا، سزا یافتہ ہونے کے باوجود یہ صاحب جیل میں بیٹھ کر آپ سیاست کررہے ہیں ریلیف لے رہے ہیں۔
    ڈاکٹر اسرار احمد نے بہت پہلے عمران خان کے بارے میں واضح کردیا تھا، حکیم سعیداور مولانا عبد الستار ایدھی نے بھی ان کے کام واضح کئے جو آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت کہاں تھی جب پرائیویٹ جہاز بھر بھر کے ان کے بندے پورے کئے جارہے تھے، انہوں نے آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی، عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ ڈالنے والوں کے حق کو سلب کیا گیا کہ کسی پارٹی کا ممبر اگر اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے گا تو وہ ووٹ گنا بھی نہیں جائے گا یہ کیسا تضاد ہے آپ اپنے ممبر کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں لیکن اس کے ووٹ کو گنے جانے سے نہیں روک سکتے ہیں، آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام ضرور ہے، آئین توڑنا عدالتوں کا کام نہیں، قانون بنانے کا واحد اختیار پارلیمنٹ کو ہے، چند لوگوں کی ذاتی خواہشات پر قانون کو بلڈوز کرنا نہیں چاہیے۔
    ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاستدان ہیں ۔کوشش ہے کہ سب کے اتفاق سے آئینی ترمیم لائی جائے۔ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی کے ساتھ نہ ہو ، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ لاڈلے کے لئے گڈ ٹو سی یو جیسے ریلیف نہ دیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اللہ تعالی پاکستان کو سدا قائم رکھے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان میں 9 مئی جیسے وطن دشمن واقعات کرنے والے بھی موجود ہیں۔
    عمران خان کے گھر کے اندر سے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے۔ اس پر بھی عدالت نے کوئی سو موٹو نہیں لیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں خود کو گرفتار کرنے آنے والوں کو بخوشی گرفتاری دی، لیکن ایک پارٹی کے لیڈر نے قوم کے بچوں کو انتشار کی تعلیم دی ہے اپنے بچوں کو لندن میں رکھا ہوا ہے، جس نے بھی کسی کو ماورائے عدالت ریلیف دیا اس کا نام تاریخ میں اچھے حروف میں نہیں آئے گا۔
    ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میرے چیئرمین کا پیغام ہے کہ سارے ججز ہمارے لئے قابلِ احترام ہیں لیکن آئین کو تبدیل کرنے کی اجازت صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے کسی جج کا اختیار نہیں ہے، ہم نہیں جانتے کہ ملک کی تباہی یا مایوسی کا ماحول پیدا ہو بلکہ ہم سب نے ملک کی ترقی کیلئے متحد ہوکر آگے بڑھنا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان بھی آئینی ترمیم کے لئے اپنی تجاویز دیں گے پھر انشا اللہ سب کے اتفاق سے آئینی ترمیم کی کوشش کریں گے اگر اس میں پی ٹی آئی بھی آتی ہے تو ہمارے ساتھ آئے۔
    ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جن جن ججوں نے خلاف آئین فیصلے دیئے ان سب کی بالخصوص ثاقب نثار ، افتخار چودھری اور عمر عطا بندیال کی مراعات واپس لی جائیں، پیپلز پارٹی ہرصورت آئین پاکستان کی حفاظت کرے گی اور اپنا آئینی حق ضرور استعمال کرے گی، پیپلز پارٹی کسی بھی پارٹی کے احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہے اور سب کو اس حق کے استعمال کے لئے قانون کے مطابق سہولت مہیا کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جج کا نوٹیفیکیشن نکالنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے، ہم چاہیں گے کہ ہرکوئی اخلاق کے دائرے میں رہ کر اپنا حق استعمال کریں۔

  • پیپلز پارٹی کی بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے،جماعت اسلامی

    پیپلز پارٹی کی بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے،جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 16سالہ بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کی ممبر شپ مہم کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ ، نادرا میگا سینٹر کے قریب اور پاپوش نگر میں ممبر شپ کیمپوں کے دورے کے دوران کیمپوں پر موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ،16برس میں مسائل حل کرنے کے بجائے بڑھائے اور شہر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ، پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے اور صرف لوٹ مار کرنا جانتی ہے ، حکمرانوں سے عوام کا حق لینے کے لیے جماعت اسلامی کی مزاحمتی جدو جہد جاری ہے ، ممبر شپ مہم میں بھی عوام اور تاجروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے ممبر بن رہے ہیں ۔خواتین اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں ،جماعت اسلامی حکمرانوں سے عوام کا حق حاصل کر کے رہے گی ۔اس موقع پر امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن نے بھی خطاب کیا ۔

    حیدری مارکیٹ ممبر شپ کیمپ پر حیدری مارکیٹ مینجمنٹ کے صدر سید اختر شاہد،محمد ندیم و جاوید بھائی ، آل لیاقت آباد و حیدری جیولرز ایسوسی ایشن کے فراز احمد، آل حیدری بزنس ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سابق صدر سعید احمد اور دیگر تاجر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور جماعت اسلامی کے ممبر بنے ۔ قبل ازیں حیدری مارکیٹ پہنچنے پر منعم ظفر خان کا تاجر رہنمائوں اور دکانداروں نے شاندار استقبال کیا اور ان کی آمد کا بھر پور خیر مقدم کیا ۔
    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نچلی سطح پر ٹائون اور یوسی میں اختیارات منتقل نہیں کررہی ،جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے اختیارات اور وسائل نہ ہونے کے باوجود دس ماہ میں تقریباًً100پارکوں کو بحال کیا ہے ،38ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگائی گئی ہیں ، اوپن ائیر جم بنائے گئے ہیں ،کھیلوں کے میدان اور پارکوں کو آباد کیا ہے ، اسکول اپ گریڈ کیے گئے ، جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے اختیارات ووسائل سے بڑھ کر عوام کی خدمت کررہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے ، اہل کراچی کو مایوس نہیں کریں گے ، اہل کراچی نے جماعت اسلامی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے ، ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت تاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ تاجر دشمن اسکیم ہے ،جس کے ذریعے ان کوپریشان کیاجارہا ہے ، جماعت اسلامی نے تاجروں کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک تاریخی ہڑتال کی ۔تاجروں اور عوام پر ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی ۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ گزشتہ دنوں سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138گاڑیوں کے لیے 2ارب روپے مختص کیے،جس کو جماعت اسلامی نے عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت نے حکم امتناع جاری کیا ۔سندھ حکومت کو عوامی مسائل اور مشکلات سے کوئی سر کار نہیں ،کراچی میں سڑکیں ٹوٹی ہیں ،گٹر بہہ رہے ہیں ، نلکوں میں پانی پہنچانے کے بجائے ٹینکروں کے ذریعے فروخت کیا جارہا ہے اور اربوں روپے کمائے جارہے ہیں ، نعمت اللہ خان نے اہل کراچی کی بھرپور خدمت کی ، پانی کا کے تھری منصوبہ مکمل کیا اور کے فور شروع کیا لیکن ان کے بعد کراچی کے لیے ایک بوند پانی کا اضافہ نہیں ہوا ، ایم کیو ایم کے دو میئر ز آئے جنہوں نے سوائے اپنے مفادات سمیٹنے کے کچھ نہیں کیا ، 19سال ہوگئیK-4منصوبہ مکمل نہیں ہوا ، اب کہتے ہیں کہ 2025تک مکمل ہوجائے گا لیکن مکمل ہونے کے بعد بھی کراچی کو مکمل پانی دستیاب نہیں ہوگا کیونکہ پانی کی ترسیل کا نظام تباہ حال ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ’’حق دو کراچی تحریک ‘‘وسیع ہو کر ملک بھر میں ’’حق دو عوام کو تحریک‘‘ کی صورت اختیار کر گئی ہے ، راولپنڈی میں 14روزہ دھرنا پاکستان کے عوام کی دل کی آواز تھا، جس میں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا ، حکومت نے تحریری معاہدے کے باوجود خلاف ورزی کی ،فارم 47کی بنیاد پر مسلط حکمرانوں کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ،متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے ، گھروں کے کرایوں سے زیادہ بجلی کے بل آرہے ہیں ، لوگ مجبور ہوکر خود کشیاں کررہے ہیں ، اس ظالمانہ نظام کے خلاف جماعت اسلامی کراچی سمیت پورے ملک میں آوا ز بلند کررہی ہے ۔

  • سندھ کی تمام برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع

    سندھ کی تمام برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع

    سندھ کی تمام 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع کر دیا گیا.
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریننگ اینڈ لائسنسنگ اقبال دارا کے مطابق اب انٹرنیشنل پرمٹ کے اجرا کا آغاز آن لائن اور سندھ بھر کی 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں 14ستمبر سے سندھ کے شہروں حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے علاوہ کراچی کی 6 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
    اقبال دارا کے مطابق کوئی بھی شہری اگر وہ سندھ سے جاری مستقل ڈرائیونگ لائسنس رکھتے ہیں تو انہیں کسی ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانے کی ضرورت نہیں وہ اپنے گھر یا کسی بھی ملک میں بیٹھے اپنا انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کر اسکتے ہیں جو ٹی سی ایس کے ذریعے ان کے دیے گئے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کی فیس ایک ہزار 88 روپے آن لائن ادا کی جا سکتی ہے۔

    شرجیل میمن و دیگر کیخلاف ریفرنس کی سماعت12 اکتوبر تک ملتوی

  • وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ایکسپریس وے فیز 1  آئندہ ماہ کھولنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ایکسپریس وے فیز 1 آئندہ ماہ کھولنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو ملیر ایکسپریس وے پر کام مکمل کرنے کی ہدایت کردی تاکہ پہلے مرحلے کو آئندہ ماہ تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ احکامات وزیراعلیٰ ہاؤس میں جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیے۔ اجلاس میں وزیر مںصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، سیکریٹری توانائی مصدق خان، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ کے سی ای او اسد ضامن نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان بھر کے شہری ملازمت کی تلاش، کاروباری مواقع اور رہائش کی غرض سے کراچی کا رخ کرتے ہیں اس لیے شہری کی آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگیا ہے۔ آبادی میں بےپناہ اضافے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام کے واقعات عام ہوگئےہیں۔ شہریوں کو وقت اور پٹرول کے ضیاع جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شور اور دھویں کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور حادثات بھی بڑھ رہے ہیں۔

    70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی

    مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں دو بندرگاہیں ہیں جہاں سے بڑی گاڑیوں میں تیل اور دیگر برآمدی اشیا باقی ملک کو سپلائی کی جاتی ہیں جس کے باعث سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سے پہلے شہر کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا دباؤ الگ آتا ہے۔ اس صورتحال کو مدںظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے مختصر متبادل راستے کے ذریعے شہر کو موٹروے سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جانچ پڑتال کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ ملیر ندی کے دائیں کنارے پر پچاس کلومیٹر طویل چھ رویہ ایکسپریس وے قائم کیا جائے جو قیوم آباد کے قریب کے پی ٹی انٹرچینج سے شروع ہو کر کاٹھوڑ کے مقام پر ایم 9 موٹروے سے ملے۔ جام صادق پل سے شروع ہونے والے ملیر ایکسپریس وے پر تین پل اور ایک انڈرپاس ہوگا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جام صادق پل سے قائد آباد تک 15 کلومیٹر کا پہلا حصہ 85 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ قائدآباد سے کاٹھوڑ تک 38 کلومیٹر پر مشتمل دوسرے حصے پر 35 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ملیر ایکسپریس وے پر قائدآباد پل، شاہ فیصل انٹرچینج اور ای بی ایم انٹرچینج پر کام کی خود نگرانی کریں تاکہ ملیر ایکسپریس وے کا پہلا حصہ آئندہ ماہ کے آخر تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے کے کناروں اور سلوپ کے کام کو باقاعدہ اچھے طریقے سے سرانجام دیا گیا ہے۔

  • سندھ حکومت کا پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی انڈیکس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار

    سندھ حکومت کا پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی انڈیکس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ سندھ محمد علی ملکانی نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پروگرام انڈیکس رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اسلام آباد کے ادارے زمینی حقائق جانے بنا “ڈیسک انالسٹ” کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت جانے بنا سندھ کے تعلیم معیار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پلاننگ کمیشن نے یکطرفہ رپورٹ جاری کی ہے کہ سندھ میں اسکول خستہ حال ہیں، ہم یہ بات خود پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں شدید برساتوں اور سیلاب کی وجہ سے 20 ہزار اسکولز متاثر ہو چکے ہیں، قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارا تعلیمی انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، سیلاب صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی دورہ کیا، انفرا اسٹرکچر کے سیلاب سے متاثر ہونے کے معاملے کو کارکردگی ہیں شامل کرنا بے بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن والوں کو پتا ہی نہیں ہے، سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے کہ جس کے نصاب کے بارے میں یونیسیف کے غیر جانبدار تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کا نصاب پورے ملک کے نصاب سے بہتر اور جامع ہے، ہم نے اپنے نصاب میں ثقافتی پہلو کو شامل کیا جبکہ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے، سندھ میں تمام مذاہب کے بچوں کو ان کے مذہب کی تعلیم دینے نصاب تشکیل دیا، سندھ میں ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ ہے، صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ میں میرٹ پر 60 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے عمل میں مکمل شفافیت کے پہلو نظر انداز ہونے نہیں دیا، پنجاب کے اسکولز میں اساتذہ کی کمی ہے، خیبرپختونخواہ کے اسکولز خالی ہیں اس پر کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے یونیسکو کی جانب سے پچاس ممالک کے اساتذہ کے ٹیسٹ کا انعقاد کیا، ان میں پاکستان کے آٹھ اساتذہ کامیاب ہوئے ان میں پہلے نمبر پر سندھ کے ضلع سجاول کی ٹیچر پہلے نمبر پر آئیں، جبکہ ٹاپ ٹین میں 2 دیگر اساتذہ کا تعلق بھی سندھ سے ہے، سندھ میں اساتذہ بھرتی ہونے کے بعد معیار بھتر ہوا ہے اور داخلا کا تناسب بھی بڑھا ہے.

    اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا

    پلاننگ کمیشن کے شمولیت کے انڈیکس کے پہلو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوۓ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں ایک لاکھ اسکوائر کلومیٹر ایراضی پر ریگستان، کوہستان، کوسٹل ایریا اور پہاڑ ہیں جہاں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ظاہر ہے نیٹ ورک مہیا کرنے کا کام محکمہ تعلیم تو نہیں کر سکتا، ٹیکنالاجی کا معاملہ براہ راست ہم پر لاگو نہیں ہوتا، ہمارے سسٹم کی جائز خامیاں ہم نے کبھی بھی چھپائی نہیں ہیں۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ بھرتی کے بعد ان کی پروفیشنسی ڈولپمینٹ کو آگے بڑھاتے ہوۓ سندھ میں پہل کرتے ہوۓ ٹیچرز لاسنس پالیسی متعارف کروائی گئی، انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لئے ایجوکیشن مینجمینٹ کیڈر متعارف کروا رہے ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کی اپنی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سندھ کے نوشہروفیروز ضلع نے پنجاب کے نصف سے زائد اضلاع اور خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ کر بھی کاکردگی کے لحاظ سے 69 نمبر حاصل کیا ہے، نوشہروفیروز پنجاب کے 70 فیصد اضلاع سے لرننگ آئوٹ کم میں آگے ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے اپنی خامیوں کو کبھی چھپایا نہیں، لیکن وفاقی ادارے رپورٹ بنانے سے پہلے ہم سے بھی پوچھنے کی اگر زحمت کریں کے تو یہ سوئیمنگ اسٹیٹمینٹ سے بچ سکتے ہیں، ڈیٹا سائنس کا دور ہے درست اعداد و شمار بتانے سے ہی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔ ایک سوال پر صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جاتا ہے کہ سندھ میں بوڈرز کو او ایم آر مشینیں نہیں دی گئیں، حالانکہ محکمہ تعلیم نے او ایم آر مشینیں بورڈ کے حوالے کردی تھیں۔ اس موقع پر وزیر جامعات محمد علی ملکانی نے کہا کہ اس سال کے پیپرز پرانے مبنوئل طریقے سے ہی چیک کیے گئے ہیں, ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ امتحانات مارچ یا اپریل میں منعقد کراوئے جائیں اور اگلے سال ہم تین یار چار پیپرز میں ای مارکنگ اور او ایم آر شیٹس لاگو کرینگے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بورڈز چیئرمین کے کیسز کورٹ میں چل رہے ہیں اور آج بھی سیکریٹری عباس بلوچ کورٹ میں تھے, ان کو دس اکتوبر کی تاریخ ملی ہے امید ہے کہ کورٹ کیسز جلد ہی ختم ہوجائینگے۔

  • سعید غنی کی زیر صدارت صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ، اہم فیصلے

    سعید غنی کی زیر صدارت صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ، اہم فیصلے

    چیئرمین صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سعید غنی کی زیر صدارت صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کمیٹی کے ممبران، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ خالد حیدر شاہ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ امتیاز علی شاہ،ڈی ایس فنانس ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل کمشنر کراچی ون، میئر شہید بے نظیرآباد، اے ڈی سی میرپورخاص، ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، ایم سی میرپور خاص کے علاوہ میئر حیدرآباد،سکھر اور لاڑکانہ آن لائن موجود تھے.اس کے علاوہ ایس ایس ڈبلیوایم بی کے افسران ٹیکنیکل ولیگل کنسلٹنٹ بھی موجود تھے۔اجلاس میں اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ جس میں صفائی ستھرائی کے اینڈ ٹو اینڈ سلوشن کے لئے ضلع ملیر، غربی، کیماڑی کے معاہدے میں تین سال کی توسیع اور بلوں کی ادائیگی ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کرنے کی منظوری دی گئی، معاہدے سے صفائی ستھرائی کی مد میں ضلع ملیر میں 25 فیصد اور ضلع غربی اور کیماڑی میں 28 فیصد بچت ہوگی۔

    جعلی میڈیکل ویزوں پرپاکستان آنے والے 9 افغان شہری گرفتار

    وزیر بلدیات کو اس سلسلے میں تمام ڈیٹا کی تحقیقی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نئے معاہدے کے مطابق صفائی ستھرائی کا کام زیادہ موثر اور بہتر انداز سے انجام دیا جا سکے گا، جبکہ مانیٹرنگ کا مربوط سسٹم بھی معاہدے میں شامل ہے۔اس کے علاوہ ضلع شرقی میں صفائی ستھرائی کے کام کے لئے نئے ٹینڈر کرنے کی منظوری دی گئی اور جب تک ٹینڈر کا عمل مکمل ہوگا دوسری کمپنی صفائی ستھرائی کا کام انجام دے گی۔

    اجلاس میں ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے اپنے ذرائع آمدنی سے اخراجات کے لئے صنعتی علاقوں، کمرشل ایریاز اور گھروں سے کچرا اٹھانے کی فیس مختص کرنے کے لئے ٹائون میونسپل کارپوریشن کی مشاورت لینے کی تجویز پیش کی گئی۔ ضلع شہید بے نظیرآباد اور میرپور خاص کی تشخیص اور تجزیاتی رپورٹ(Assessment & Analysis) تیار کرنے کی منظوری دی گئی، سکھر اور حیدرآباد کی لینڈ فل سائیٹ کی دیکھ بھال کا کام بھی متعلقہ صفائی کرنے والی کمپنی کو سنبھالنے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کو بتایا گیا کہ جام چاکرو اور گوند پاس کراچی کے لئے بھی نئے ٹینڈر کا عمل پروسیس میں ہے لہذا جب تک ٹینڈر کا عمل پروسیس میں ہے پرانی کمپنی کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    لانچوں کے ذریعہ ایرانی ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

  • کراچی میں ٹریفک کے مسائل کا حل  ڈھونڈ نکالا ہے،شرجیل میمن

    کراچی میں ٹریفک کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے بڑے بس اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جارہا ہے اور غیر قانونی بس اڈے ختم کئے جا رہے ہیں.

    سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن نے کہا ک مسافروں کو شہر سے باہر بس ٹرمینل پر پہنچانے کے لئے مفت شٹل سروس شروع کی گئی ہے، بھاری ٹریفک کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا تھا، پریمئم نمبر پلیٹس سے حاصل ہونے والی رقم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے تحت سیلاب متاثرین کے دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لئے دی جا رہی ہے،دوسرے مرحلے میں 12 اکتوبر کو کراچی میں پریمئم نمبر پلیٹس کے اجراع کی ایک اور تقریب ہونے جارہی ہے، مخیر حضرات پریمئم نمبر پلیٹس خریدیں گے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے لئے دی جائے گی۔

    سندھ پولیس: سیکورٹی اداروں میں خواتین کی شمولیت سے متعلق اجلاس

    انہوں نے کہا کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی بار پریمئم نمبر پلیٹس کا آن لائن اجراع شروع کرنے جارہے ہیں، جس کا پورٹل تیار کیا جارہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لوگ گھر بیٹھے آن لائن پریمئم نمبر پلیٹ حاصل کر سکیں گے۔ سوک سینٹر میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر میں اصلاحات کئے گئے ہیں ، ان اصلاحات کا مقصد عوام کی تکالیف کو ختم کرنا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کریں اور فائدہ پہنچائیں۔
    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین میں ترامیم اور قانونسازی کرنا پارلیامینٹرینز کا کام ہے، ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت ساری چیزیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، اس طرح آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے، پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے ، پیپلز پارٹی آئین کی تخلیقکار ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں جب مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئے گئے تھے اس میں بھی عدالتی اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔ نمبرز پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت وہ چیزیں نہیں ہو سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ جو بھی آئینی ترامیم کرنی ہیں وہ تمام جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کے ساتھ کرنی ہیں، 18ویں ترمیم جب پاس کی گئی تھی، اس وقت بھی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے پیدا کیا گیا، 73 کے آئین کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ، 18ویں ترمیم کے لئے صدر آصف علی زرداری نے اتفاق رائے پیدا کیا، اس وقت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جو بھی ترامیم ہوں وہ اتفاق رائے سے ہوں۔
    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں سینیٹ خواہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل نہیں تھی، ممبرز پورے نہ ہونے کے باوجود بل پاس ہو جاتے تھے، اسپیکر کو آئیز اور نوز بولنے کا اختیار نہیں تھا، کم نمبرز ہونے کے باوجود پی ٹی آئی والوں نے غیر قانونی کام کئے، اسد قیصر اس وقت اسپیکر تھا، پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں بدمعاشی سے قانون پاس کروائے، عمران خان کے دور حکومت میں بندوق کے زور پر حکومت چلائی گئی، عمران خان کے دور حکومت میں نمبر پورے نہ ہونے کے باوجود قانونسازیاں کی گئیں، سینیٹ میں سیٹین دی گئیں، 7 ووٹوں سے یوسف رضا گیلانی صاحب ہو ہرا دیا گیا، پی ٹی آئی نے متعدد غیر آئینی کام کئے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے اور عدلیہ کا احترام بھی کرتی ہے، اگر پیپلز پارٹی عدالتی اصلاحات چاہتی ہے تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی ولاے سوشل میڈیا کے دہشتگرد ہیں، اگر یہ پیپلز پارٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں تو ہم بھی اس طرح کر سکتے ہیں،لیکن ہمیں ہماری پارٹی اجازت نہیں دیتی کہ آپ کسی برے کے ساتھ برے بن جائیں، عمران خان نے پہلے اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، پھر اس نے عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، عدم اعتماد کی تحریک کے دوران عمران خان نے اپنے ہی ایم این ایز کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، پی ٹی آئی والے نے اپنے مخالف ایم این ایز کے گھروں پر حملے کئے، جن جج حضرات سے متعلق ان کو لگتا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ دینگے تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم سے ایک دن پہلے آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بیہودہ قسم کی ٹویٹس ہوئیں ، ممہم چلائی گئی اور وہ عمران خان کے اپنے اکاؤنٹ سے چلائی گئی ، ہمارے پاس اکثریت ہوگی تو ہم آئینی ترمیم کریں گے، اور وہ آئینی ترمیم عوام کے لئے کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی ایک شخص کو بیس، پچیس سالوں تک انصاف کے لئے عدالتوں کے دھکے کھانے نہ پڑیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی این آر او مانگ رہی ہے اور حکومت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی بندوق اور بدمعاشی کے زورپرمطالبات ماننے کاکہتی ہے توتسلیم نہیں کریں گے، انہوں نے نومئی اور ڈجیٹل دہشتگردی نہیں کی تومقدمات کاسامنا کریں، اگر عمران خان کسی بھی چیز میں ملوث نہیں ہوگا تو رہا ہو جائے گا۔ ملک میں سب کو سیاست کرنے کا اختیار ہے، ہم چاہتے ہیں جو غلطیاں کی ہیں، عمران خان ان کی معافی مانگے ، عوام کے سامنے بولے کہ میں نے یہ گھناؤنے جرم کئے ہیں، پھر حکومت اگر معاف کرتی ہے تو وہ وہ پی ایم ایل این کی حکومت کی صوابدید پر ہے۔

  • سندھ کابینہ کا اجلاس، اہم منصوبوں کی منظوری

    سندھ کابینہ کا اجلاس، اہم منصوبوں کی منظوری

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے اور کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس منظور کر دیئے.سندھ کابینہ نے 1.5 ایم جی ڈی اسلام کوٹ (تھرپارکر) میں آر او پلانٹ کی بحالی کر غور کیا. ، کابینہ کو آگاہی دی گئی کہ آر او پلانٹ اسلام کوٹ کے لئے بہت اہم ہے کس کے بعد سندھ کابینہ نے آر او پلانٹ کو بحالی کیلئے 434.109 ملین روپے کی منظوری دیدی اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ ڈپارٹمینٹ کو ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر آر او پلانٹ شروع کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ نے آر او پلانٹ کے لئے فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت دیدی.

    سندھ حکومت کا متوسط طبقہ کیلئےسستی بستی” منصوبہ

    اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے ڈیننگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ کراچی کے چارٹر کی منظوری دیدی،ڈیننگ انسٹیٹیوٹ ڈگری دینے کا ادارہ ہوگا، سندھ کابینہ نے چارٹر کی منظوری دے کر اسمبلی کو بھیج دیا.کابینہ نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری-ہیبلیٹیشن کو محکمہ صحت سے لیکر ڈپارٹمینٹ آف پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز کو دینے کی منظوری دیدی.سندھ کابینہ نے جسٹس (ر) شاہنواز طارق کو کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف صوبائی محتسب تحفظ کو مزید چار سال کیلئے مقرر کرنے کی منظوری دیدی.

    جنرل ساحر شمشاد کا دورہ چین ،اہم ملاقاتیں