سندھ کی تمام 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع کر دیا گیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریننگ اینڈ لائسنسنگ اقبال دارا کے مطابق اب انٹرنیشنل پرمٹ کے اجرا کا آغاز آن لائن اور سندھ بھر کی 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں 14ستمبر سے سندھ کے شہروں حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے علاوہ کراچی کی 6 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
اقبال دارا کے مطابق کوئی بھی شہری اگر وہ سندھ سے جاری مستقل ڈرائیونگ لائسنس رکھتے ہیں تو انہیں کسی ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانے کی ضرورت نہیں وہ اپنے گھر یا کسی بھی ملک میں بیٹھے اپنا انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کر اسکتے ہیں جو ٹی سی ایس کے ذریعے ان کے دیے گئے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کی فیس ایک ہزار 88 روپے آن لائن ادا کی جا سکتی ہے۔
Tag: سندھ حکومت
-

سندھ کی تمام برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع
-

وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ایکسپریس وے فیز 1 آئندہ ماہ کھولنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو ملیر ایکسپریس وے پر کام مکمل کرنے کی ہدایت کردی تاکہ پہلے مرحلے کو آئندہ ماہ تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ احکامات وزیراعلیٰ ہاؤس میں جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیے۔ اجلاس میں وزیر مںصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، سیکریٹری توانائی مصدق خان، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ کے سی ای او اسد ضامن نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان بھر کے شہری ملازمت کی تلاش، کاروباری مواقع اور رہائش کی غرض سے کراچی کا رخ کرتے ہیں اس لیے شہری کی آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگیا ہے۔ آبادی میں بےپناہ اضافے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام کے واقعات عام ہوگئےہیں۔ شہریوں کو وقت اور پٹرول کے ضیاع جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شور اور دھویں کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور حادثات بھی بڑھ رہے ہیں۔
70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں دو بندرگاہیں ہیں جہاں سے بڑی گاڑیوں میں تیل اور دیگر برآمدی اشیا باقی ملک کو سپلائی کی جاتی ہیں جس کے باعث سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سے پہلے شہر کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا دباؤ الگ آتا ہے۔ اس صورتحال کو مدںظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے مختصر متبادل راستے کے ذریعے شہر کو موٹروے سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جانچ پڑتال کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ ملیر ندی کے دائیں کنارے پر پچاس کلومیٹر طویل چھ رویہ ایکسپریس وے قائم کیا جائے جو قیوم آباد کے قریب کے پی ٹی انٹرچینج سے شروع ہو کر کاٹھوڑ کے مقام پر ایم 9 موٹروے سے ملے۔ جام صادق پل سے شروع ہونے والے ملیر ایکسپریس وے پر تین پل اور ایک انڈرپاس ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جام صادق پل سے قائد آباد تک 15 کلومیٹر کا پہلا حصہ 85 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ قائدآباد سے کاٹھوڑ تک 38 کلومیٹر پر مشتمل دوسرے حصے پر 35 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ملیر ایکسپریس وے پر قائدآباد پل، شاہ فیصل انٹرچینج اور ای بی ایم انٹرچینج پر کام کی خود نگرانی کریں تاکہ ملیر ایکسپریس وے کا پہلا حصہ آئندہ ماہ کے آخر تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے کے کناروں اور سلوپ کے کام کو باقاعدہ اچھے طریقے سے سرانجام دیا گیا ہے۔
-

سندھ حکومت کا پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی انڈیکس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ سندھ محمد علی ملکانی نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پروگرام انڈیکس رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اسلام آباد کے ادارے زمینی حقائق جانے بنا “ڈیسک انالسٹ” کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت جانے بنا سندھ کے تعلیم معیار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پلاننگ کمیشن نے یکطرفہ رپورٹ جاری کی ہے کہ سندھ میں اسکول خستہ حال ہیں، ہم یہ بات خود پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں شدید برساتوں اور سیلاب کی وجہ سے 20 ہزار اسکولز متاثر ہو چکے ہیں، قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارا تعلیمی انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، سیلاب صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی دورہ کیا، انفرا اسٹرکچر کے سیلاب سے متاثر ہونے کے معاملے کو کارکردگی ہیں شامل کرنا بے بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن والوں کو پتا ہی نہیں ہے، سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے کہ جس کے نصاب کے بارے میں یونیسیف کے غیر جانبدار تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کا نصاب پورے ملک کے نصاب سے بہتر اور جامع ہے، ہم نے اپنے نصاب میں ثقافتی پہلو کو شامل کیا جبکہ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے، سندھ میں تمام مذاہب کے بچوں کو ان کے مذہب کی تعلیم دینے نصاب تشکیل دیا، سندھ میں ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ ہے، صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ میں میرٹ پر 60 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے عمل میں مکمل شفافیت کے پہلو نظر انداز ہونے نہیں دیا، پنجاب کے اسکولز میں اساتذہ کی کمی ہے، خیبرپختونخواہ کے اسکولز خالی ہیں اس پر کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے یونیسکو کی جانب سے پچاس ممالک کے اساتذہ کے ٹیسٹ کا انعقاد کیا، ان میں پاکستان کے آٹھ اساتذہ کامیاب ہوئے ان میں پہلے نمبر پر سندھ کے ضلع سجاول کی ٹیچر پہلے نمبر پر آئیں، جبکہ ٹاپ ٹین میں 2 دیگر اساتذہ کا تعلق بھی سندھ سے ہے، سندھ میں اساتذہ بھرتی ہونے کے بعد معیار بھتر ہوا ہے اور داخلا کا تناسب بھی بڑھا ہے.
اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا
پلاننگ کمیشن کے شمولیت کے انڈیکس کے پہلو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوۓ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں ایک لاکھ اسکوائر کلومیٹر ایراضی پر ریگستان، کوہستان، کوسٹل ایریا اور پہاڑ ہیں جہاں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ظاہر ہے نیٹ ورک مہیا کرنے کا کام محکمہ تعلیم تو نہیں کر سکتا، ٹیکنالاجی کا معاملہ براہ راست ہم پر لاگو نہیں ہوتا، ہمارے سسٹم کی جائز خامیاں ہم نے کبھی بھی چھپائی نہیں ہیں۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ بھرتی کے بعد ان کی پروفیشنسی ڈولپمینٹ کو آگے بڑھاتے ہوۓ سندھ میں پہل کرتے ہوۓ ٹیچرز لاسنس پالیسی متعارف کروائی گئی، انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لئے ایجوکیشن مینجمینٹ کیڈر متعارف کروا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کی اپنی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سندھ کے نوشہروفیروز ضلع نے پنجاب کے نصف سے زائد اضلاع اور خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ کر بھی کاکردگی کے لحاظ سے 69 نمبر حاصل کیا ہے، نوشہروفیروز پنجاب کے 70 فیصد اضلاع سے لرننگ آئوٹ کم میں آگے ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے اپنی خامیوں کو کبھی چھپایا نہیں، لیکن وفاقی ادارے رپورٹ بنانے سے پہلے ہم سے بھی پوچھنے کی اگر زحمت کریں کے تو یہ سوئیمنگ اسٹیٹمینٹ سے بچ سکتے ہیں، ڈیٹا سائنس کا دور ہے درست اعداد و شمار بتانے سے ہی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔ ایک سوال پر صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جاتا ہے کہ سندھ میں بوڈرز کو او ایم آر مشینیں نہیں دی گئیں، حالانکہ محکمہ تعلیم نے او ایم آر مشینیں بورڈ کے حوالے کردی تھیں۔ اس موقع پر وزیر جامعات محمد علی ملکانی نے کہا کہ اس سال کے پیپرز پرانے مبنوئل طریقے سے ہی چیک کیے گئے ہیں, ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ امتحانات مارچ یا اپریل میں منعقد کراوئے جائیں اور اگلے سال ہم تین یار چار پیپرز میں ای مارکنگ اور او ایم آر شیٹس لاگو کرینگے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بورڈز چیئرمین کے کیسز کورٹ میں چل رہے ہیں اور آج بھی سیکریٹری عباس بلوچ کورٹ میں تھے, ان کو دس اکتوبر کی تاریخ ملی ہے امید ہے کہ کورٹ کیسز جلد ہی ختم ہوجائینگے۔
-

سعید غنی کی زیر صدارت صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ، اہم فیصلے
چیئرمین صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سعید غنی کی زیر صدارت صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کمیٹی کے ممبران، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ خالد حیدر شاہ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ امتیاز علی شاہ،ڈی ایس فنانس ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل کمشنر کراچی ون، میئر شہید بے نظیرآباد، اے ڈی سی میرپورخاص، ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، ایم سی میرپور خاص کے علاوہ میئر حیدرآباد،سکھر اور لاڑکانہ آن لائن موجود تھے.اس کے علاوہ ایس ایس ڈبلیوایم بی کے افسران ٹیکنیکل ولیگل کنسلٹنٹ بھی موجود تھے۔اجلاس میں اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ جس میں صفائی ستھرائی کے اینڈ ٹو اینڈ سلوشن کے لئے ضلع ملیر، غربی، کیماڑی کے معاہدے میں تین سال کی توسیع اور بلوں کی ادائیگی ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کرنے کی منظوری دی گئی، معاہدے سے صفائی ستھرائی کی مد میں ضلع ملیر میں 25 فیصد اور ضلع غربی اور کیماڑی میں 28 فیصد بچت ہوگی۔
جعلی میڈیکل ویزوں پرپاکستان آنے والے 9 افغان شہری گرفتار
وزیر بلدیات کو اس سلسلے میں تمام ڈیٹا کی تحقیقی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نئے معاہدے کے مطابق صفائی ستھرائی کا کام زیادہ موثر اور بہتر انداز سے انجام دیا جا سکے گا، جبکہ مانیٹرنگ کا مربوط سسٹم بھی معاہدے میں شامل ہے۔اس کے علاوہ ضلع شرقی میں صفائی ستھرائی کے کام کے لئے نئے ٹینڈر کرنے کی منظوری دی گئی اور جب تک ٹینڈر کا عمل مکمل ہوگا دوسری کمپنی صفائی ستھرائی کا کام انجام دے گی۔
اجلاس میں ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے اپنے ذرائع آمدنی سے اخراجات کے لئے صنعتی علاقوں، کمرشل ایریاز اور گھروں سے کچرا اٹھانے کی فیس مختص کرنے کے لئے ٹائون میونسپل کارپوریشن کی مشاورت لینے کی تجویز پیش کی گئی۔ ضلع شہید بے نظیرآباد اور میرپور خاص کی تشخیص اور تجزیاتی رپورٹ(Assessment & Analysis) تیار کرنے کی منظوری دی گئی، سکھر اور حیدرآباد کی لینڈ فل سائیٹ کی دیکھ بھال کا کام بھی متعلقہ صفائی کرنے والی کمپنی کو سنبھالنے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کو بتایا گیا کہ جام چاکرو اور گوند پاس کراچی کے لئے بھی نئے ٹینڈر کا عمل پروسیس میں ہے لہذا جب تک ٹینڈر کا عمل پروسیس میں ہے پرانی کمپنی کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
-

کراچی میں ٹریفک کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے،شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے بڑے بس اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جارہا ہے اور غیر قانونی بس اڈے ختم کئے جا رہے ہیں.
سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن نے کہا ک مسافروں کو شہر سے باہر بس ٹرمینل پر پہنچانے کے لئے مفت شٹل سروس شروع کی گئی ہے، بھاری ٹریفک کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا تھا، پریمئم نمبر پلیٹس سے حاصل ہونے والی رقم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے تحت سیلاب متاثرین کے دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لئے دی جا رہی ہے،دوسرے مرحلے میں 12 اکتوبر کو کراچی میں پریمئم نمبر پلیٹس کے اجراع کی ایک اور تقریب ہونے جارہی ہے، مخیر حضرات پریمئم نمبر پلیٹس خریدیں گے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے لئے دی جائے گی۔
سندھ پولیس: سیکورٹی اداروں میں خواتین کی شمولیت سے متعلق اجلاس
انہوں نے کہا کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی بار پریمئم نمبر پلیٹس کا آن لائن اجراع شروع کرنے جارہے ہیں، جس کا پورٹل تیار کیا جارہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لوگ گھر بیٹھے آن لائن پریمئم نمبر پلیٹ حاصل کر سکیں گے۔ سوک سینٹر میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر میں اصلاحات کئے گئے ہیں ، ان اصلاحات کا مقصد عوام کی تکالیف کو ختم کرنا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کریں اور فائدہ پہنچائیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین میں ترامیم اور قانونسازی کرنا پارلیامینٹرینز کا کام ہے، ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت ساری چیزیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، اس طرح آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے، پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے ، پیپلز پارٹی آئین کی تخلیقکار ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں جب مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئے گئے تھے اس میں بھی عدالتی اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔ نمبرز پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت وہ چیزیں نہیں ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ جو بھی آئینی ترامیم کرنی ہیں وہ تمام جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کے ساتھ کرنی ہیں، 18ویں ترمیم جب پاس کی گئی تھی، اس وقت بھی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے پیدا کیا گیا، 73 کے آئین کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ، 18ویں ترمیم کے لئے صدر آصف علی زرداری نے اتفاق رائے پیدا کیا، اس وقت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جو بھی ترامیم ہوں وہ اتفاق رائے سے ہوں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں سینیٹ خواہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل نہیں تھی، ممبرز پورے نہ ہونے کے باوجود بل پاس ہو جاتے تھے، اسپیکر کو آئیز اور نوز بولنے کا اختیار نہیں تھا، کم نمبرز ہونے کے باوجود پی ٹی آئی والوں نے غیر قانونی کام کئے، اسد قیصر اس وقت اسپیکر تھا، پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں بدمعاشی سے قانون پاس کروائے، عمران خان کے دور حکومت میں بندوق کے زور پر حکومت چلائی گئی، عمران خان کے دور حکومت میں نمبر پورے نہ ہونے کے باوجود قانونسازیاں کی گئیں، سینیٹ میں سیٹین دی گئیں، 7 ووٹوں سے یوسف رضا گیلانی صاحب ہو ہرا دیا گیا، پی ٹی آئی نے متعدد غیر آئینی کام کئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے اور عدلیہ کا احترام بھی کرتی ہے، اگر پیپلز پارٹی عدالتی اصلاحات چاہتی ہے تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی ولاے سوشل میڈیا کے دہشتگرد ہیں، اگر یہ پیپلز پارٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں تو ہم بھی اس طرح کر سکتے ہیں،لیکن ہمیں ہماری پارٹی اجازت نہیں دیتی کہ آپ کسی برے کے ساتھ برے بن جائیں، عمران خان نے پہلے اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، پھر اس نے عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، عدم اعتماد کی تحریک کے دوران عمران خان نے اپنے ہی ایم این ایز کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، پی ٹی آئی والے نے اپنے مخالف ایم این ایز کے گھروں پر حملے کئے، جن جج حضرات سے متعلق ان کو لگتا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ دینگے تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم سے ایک دن پہلے آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بیہودہ قسم کی ٹویٹس ہوئیں ، ممہم چلائی گئی اور وہ عمران خان کے اپنے اکاؤنٹ سے چلائی گئی ، ہمارے پاس اکثریت ہوگی تو ہم آئینی ترمیم کریں گے، اور وہ آئینی ترمیم عوام کے لئے کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی ایک شخص کو بیس، پچیس سالوں تک انصاف کے لئے عدالتوں کے دھکے کھانے نہ پڑیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی این آر او مانگ رہی ہے اور حکومت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی بندوق اور بدمعاشی کے زورپرمطالبات ماننے کاکہتی ہے توتسلیم نہیں کریں گے، انہوں نے نومئی اور ڈجیٹل دہشتگردی نہیں کی تومقدمات کاسامنا کریں، اگر عمران خان کسی بھی چیز میں ملوث نہیں ہوگا تو رہا ہو جائے گا۔ ملک میں سب کو سیاست کرنے کا اختیار ہے، ہم چاہتے ہیں جو غلطیاں کی ہیں، عمران خان ان کی معافی مانگے ، عوام کے سامنے بولے کہ میں نے یہ گھناؤنے جرم کئے ہیں، پھر حکومت اگر معاف کرتی ہے تو وہ وہ پی ایم ایل این کی حکومت کی صوابدید پر ہے۔
-

سندھ کابینہ کا اجلاس، اہم منصوبوں کی منظوری
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے اور کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس منظور کر دیئے.سندھ کابینہ نے 1.5 ایم جی ڈی اسلام کوٹ (تھرپارکر) میں آر او پلانٹ کی بحالی کر غور کیا. ، کابینہ کو آگاہی دی گئی کہ آر او پلانٹ اسلام کوٹ کے لئے بہت اہم ہے کس کے بعد سندھ کابینہ نے آر او پلانٹ کو بحالی کیلئے 434.109 ملین روپے کی منظوری دیدی اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ ڈپارٹمینٹ کو ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر آر او پلانٹ شروع کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ نے آر او پلانٹ کے لئے فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت دیدی.
سندھ حکومت کا متوسط طبقہ کیلئےسستی بستی” منصوبہ
اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے ڈیننگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ کراچی کے چارٹر کی منظوری دیدی،ڈیننگ انسٹیٹیوٹ ڈگری دینے کا ادارہ ہوگا، سندھ کابینہ نے چارٹر کی منظوری دے کر اسمبلی کو بھیج دیا.کابینہ نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری-ہیبلیٹیشن کو محکمہ صحت سے لیکر ڈپارٹمینٹ آف پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز کو دینے کی منظوری دیدی.سندھ کابینہ نے جسٹس (ر) شاہنواز طارق کو کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف صوبائی محتسب تحفظ کو مزید چار سال کیلئے مقرر کرنے کی منظوری دیدی.
-

سندھ حکومت کا متوسط طبقہ کیلئےسستی بستی منصوبہ
سندھ حکومت کی جانب سے صوبے کے متوسط طبقہ کیلئے سستی بستی منصوبہ اعلان کر دیا گیا، نجمی عالم نے کہا کہ پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں تاکہ انہیں اپنا گھر مل سکے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی، لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سید نجمی عالم نے اعلان اپنے دفتر میں ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی کے سالانہ بجٹ کی 29ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی اراکین محمد یوسف بلوچ، عروبہ ربانی، میئر حیدرآباد کاشف شورو، میئر سکھر بیرسٹر ارسلان شیخ، سیکریٹری و ڈائریکٹر جنرل ہیومن سیٹلمنٹ شارق احمد، چیف انجینئر کاشف خان، ریجنل ڈائریکٹر بلال شیخ سمیت گورننگ باڈی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں سالانہ بجٹ کی منظوری کے ساتھ گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی۔
پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون
سید نجمی عالم نے اجلاس میں اراکین کو بتایا کہ ہم نے سندھ کے غریب عوام کیلئے اپنے گھر بنانے کیلئے سستی بستی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جبکہ ہم نے سندھ کی کچی آبادیوں میں تجاوزات ہٹانے کیلئے ڈیمالیشن اسکواڈز بھرتی کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ کے ضرورت مند متاثرین کو گھر دینے کے منصوبے کو "سستی بستی” کا نام دیا ہے اور یہ منصوبہ ہماری پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق ہے۔
عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی
-

عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، نجمی عالم
صوبائی مشیر برائے ماہی گیری و لائیو اسٹاک سید نجمی عالم نے کہا ہے کہ ہمیں سندھ کے غریب عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے جس کیلئے محکمہ لائیو سٹاک کے افسران اور ڈاکٹرز اپنی خدمات صرف ان کیلئے وقف کرنا ہونگی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا اظہار انھوں نے منگل کو اپنے دفتر میں سندھ کے تمام اضلاع میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹرز لائیو اسٹاک اینیمل ہسبنڈری کے ساتھ کارپٹ ویکسین کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سندھ کے ہر ضلع کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے صوبائی مشیر کو سندھ کے مویشیوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے گزشتہ بارشوں میں رین ایمرجنسی کیمپوں میں استعمال ہونے والی ویکسین، اسپتال اسٹرکچر اور ویکسین کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبائی مشیر نے تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ویٹرنری ہسپتال کی عمارتوں اور سولر تنصیبات کی تعمیر کے منصوبوں کے حوالے سے اپنی تجاویز ارسال کریں تاکہ ہم محکمہ لائیو سٹاک میں آئندہ نئے پراجیکٹس سے انہیں یہ سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں کریں۔
صوبائی مشیر نے کہا کہ ہمیں 20 جانور رکھنے والے سندھ کے مویشی فارمز کی رجسٹریشن کا کام کرنا ہے تاکہ ہم ان کے جانوروں کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے کاشتکاروں کو مویشیوں کے چارے کے بارے میں آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے دودھ اور گوشت میں اضافہ ہوگا۔
-

سندھ حکومت نے 12 نئی زرعی اجناس کی منظوری دے دی
سندھ حکومت نے کپاس، گندم، سرسوں، بیری کی 12 نئی زرعی اجناس کی منظوری دے دی ہے.
کراچی: باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے زرعی سائنس دانوں نے زیادہ پیداوار دینے والی نئی زرعی اجناس تیار کر لی ہیں، سندھ حکومت نے کپاس، گندم، سرسوں، بیری کی 12 نئی زرعی اجناس کی منظوری دے دی۔وزیرزراعت اور بیورو آف سپلائی سردار محمد بخش خان مہر کی صدارت میں سندھ سیڈ کاؤنسل کا 36 واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے بیجوں کی خصوصیات، نئی متعارف کردہ اقسام کی کاشت کے لیے منظوری دی گئی۔اجلاس میں نئی زرعی اجناس میں کپاس کی کرس 644، کرس 674، کرس 682، نیا بی ٹی 2021 اور میاں ریشم نان بی ٹی کی منظوری دی گئی، گندم کی IV-3، جب کہ عروج 22، اکبر 19، صبحانی 21، نیا میک پاسطہ کی جزوی ایک سال کے لیے منظوری دی گئی، سرسوں کی کیزولہ، بیری کی لیمائی گولو کی منظوری دی گئی۔کاشت کاروں نے اجلاس میں شکایت کی کہ پنجاب کے چاول کے بیج کی وجہ سے سندھ کے کسانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جس پر وزیر زراعت محمد بخش مہر نے کاشت کاروں کی شکایت پر سخت نوٹس لیا اور محکمے کو انکوائری کی ہدایت کر دی، اور ان سے اس سلسلے میں رپورٹ طلب کی ہے۔
محمد بخش مہر نے کہا محکمہ زراعت میں کافی بہتری آئی ہے مگر کمزوری بھی ہے جسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے، کاشت کاروں کی مشاورت سے ہی نئی زرعی اجناس کی منظوری دی جائے گی، سندھ حکومت سیڈ ایکٹ پر کام کر رہی ہے، ایکٹ منظور ہونے کے بعد دیگر صوبوں کی جعلی زرعی اجناس اور کمپنیوں کے خلاف سندھ کے افسران کارروائی کر سکیں گے.وزیر زراعت محمد بخش مہر نے کہا موسمی تبدیلی کی وجہ سے زرعی ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے، کیوں کہ کاشت کار طبقہ قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر زرعی سائنس دان تحقیقی سرگرمیاں مزید تیز کریں۔
ڈائریکٹر جنرل ریسرچ مظہر کیریو اجلاس میں بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ مذکورہ نئی اقسام جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے تیار کی گئی ہیں، اور یہ اقسام نہ صرف صوبے میں زرعی پیداوار میں اضافہ کی حامل ثابت ہونگی بلکہ زرعی سائنسدانوں کی یہ کاوشیں زرعی میدان میں سندھ کو خود کفیل بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی. کاشت کار رہنما ندیم شاہ نے کہا کہ اجناس کی نئی ورائٹیاں منظور ہونے سے سندھ کپاس اور گندم میں خود کفیل ہو جائے گا.اجلاس میں سیکریٹری زراعت رفیق احمد برڑو،ڈائریکٹر جنرل ریسرچ مظہر کیریو، ڈی جی فیڈرل سیڈ سرٹی فکیشن، سیڈ کمپنیز کے نمائندے، ڈی جی زراعت منیر احمد جمانی، ممبران کاشتکار رہنما سید ندیم شاہ، سید میران محمد شاہ، سید زین شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی اطلاعات منیر احمد کاکا اور دیگر زرعی سائنسدان شریک ہوئے۔
-

کراچی سے غیر قانونی بس اڈوں کا خاتمہ ہر صورت ہو گا، شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کراچی شہر سے غیر قانونی بس اڈوں کے خاتمے اور عوام کے لیے مفت شٹل سروس پر اہم بیان سامنے آیا ہے
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ نئے ٹرمینل تک مفت شٹل سروس کی فراہمی کے باوجود کچھ بس آپریٹرز نے جھوٹے اور من گھڑت بنیادوں پر مقدمات درج کرائے ہیں، بعض آپریٹرز قانونی اقدامات کے خلاف مزاحمت کرنے یا ذاتی مفادات کے لیے پبلک آفس ہولڈرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں،ٹرمینلز کی منتقلی ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی، دباؤ آرہا ہے لیکن ہم ہر صورت کام جاری رکھیں گے، کراچی شہر سے باہر ٹرمینلز کی منتقلی کا مقصد شہر کی سڑکوں سے غیر قانونی بس اڈوں کا خاتمہ ہے،محکمہ ٹرانسپورٹ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور عدالتی احکامات کی تعمیل کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، شہر کی حدود سے باہر بس ٹرمینلز کا قیام عدالتی احکامات کے مطابق ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز قانون کا احترام اور تعاون کریں،حکومت سندھ ٹرانسپورٹرز کو درپیش چیلنجز سے واقف ہے، چاہتے ہیں کہ شہریوں کی تکالیف کا خاتمہ ہو اور ٹرانسپورٹرز کا کاروبار بھی متاثر نہ ہو، ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھائے جائیں گے، محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ شہر کے اندر ہموار اور قانونی ٹرانسپورٹ آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے،
گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی
لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار
ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں
دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ
بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے
بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی
بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا