Baaghi TV

Tag: سندھ پولیس

  • سندھ کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ

    سندھ کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ

    آئی جی سندھ نے شہر قائد سمیت اندرون سندھ کے تمام تھانوں کی مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایس ایس پیز کو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی تنصیب کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تھانوں کے مرکزی گیٹ، احاطے، ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کے کمروں، ڈیوٹی افسر و رپورٹنگ سینٹر روم اور لاک اپ میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ضروری ہو گی۔مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ایس ایس پیز کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ تھانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ موثر طریقے سے کی جائے۔

    اس کے علاوہ ان کی فعالیت کی تصدیق کر کے رپورٹ آئی جی آپریشن روم سینٹرل پولیس آفس میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پولیس افسران و اہلکاروں کی ڈیوٹی کے دوران نگرانی کو مزید مؤثر بنائے گا، جس سے تھانوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور عوامی تحفظ میں اضافہ ہو گا۔

    ریلوے نے مزید 620بوگیوں کی پاکستان میں تیاری شروع کر دی

    سینئر وزیر پنجاب کو مریم اورنگزیب کو مزیدوزارتیں دے دی گئیں

  • سندھ پولیس ،نادرا کی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف

    سندھ پولیس ،نادرا کی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف

    سندھ پولیس میں نادرا سے ملنے والی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف ہواہے۔

    ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے ڈسٹرکٹ کورنگی کے تمام ایس ایچ اوز کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نادرا ویریسز، سی ڈی آر اور فیملی ٹری ڈیٹا کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ آئی جی پی آفس سندھ کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔سندھ کے مختلف اضلاع میں نادرا، سی آر او، سی آر ایم ایس ٹرمینلز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جب کہ متعلقہ آپریٹرز اور پولیس اہلکارحساس ڈیٹا کی رازداری کو برقرار نہیں رکھ رہے۔ایس ایچ اوز کو جاری کیے گئے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے، ڈیٹا صرف تفتیشی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او، ہیڈمحرر اور سپروائزر اس معاملے کی سختی سے نگرانی کریں۔ ایس ایچ اوز ویریسز، سی ڈی آر اور فیملی ٹری ڈیٹا کی رازداری یقینی بنائیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    خیرپور، دریافت تیل و گیس کے ذخائر سے پیداواری عمل شروع

  • پولیس نے سندھ اور کراچی میں بہت قربانیاں دی ہیں، غلام نبی میمن

    پولیس نے سندھ اور کراچی میں بہت قربانیاں دی ہیں، غلام نبی میمن

    انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری پولیس قربانیوں کے باعث کم ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں سندھ پولیس کے 48 افسران اور جوانوں کو پاکستان اور قائداعظم میڈل دینے کی تقریب سے آئی جی سندھ نے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوانوں کو ایوارڈ دینے کی تقریب ہر سال ہونی چاہیے، 2014ء سے 2024ء تک روکے ہوئے ایوارڈ آج دیے جارہے ہیں۔غلام نبی میمن نے مزید کہا کہ 6 شہید اور 42 پولیس اہلکاروں کو ایوارڈ دیے جارہے ہیں، پولیس نے سندھ اور کراچی میں بہت قربانیاں دی ہیں۔اٴْن کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری پولیس کی قربانیوں اور محنت سے کم ہوئی، پولیس کا کردار امن و امان کیلیے اہم رہا ہے۔آئی جی سندھ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اب رات گئے شہر میں ٹریفک اور رونق ملے گی، رونق کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے شہر میں امن ہوا ہے۔

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

    پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں اینٹی ریپ ایکٹ آگاہی اور ٹریننگ سیمینار

  • سال 2024:سندھ پولیس کی سالانہ رپورٹ پیش

    سال 2024:سندھ پولیس کی سالانہ رپورٹ پیش

    سندھ پولیس کی یکم جنوری تا دسمبر 2024 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ پولیس نے یکم جنوری تا دسمبر 2024 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو پیش کردی ہے جب کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں گزشتہ سال کی نسبت واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں کے قتل کے 98 کیسز میں 75 (77 فیصد) مقدمات کو حل کرتے ہوئے 112 ڈکیت گرفتار جب کہ 33 ہلاک ہوئے۔دوران ڈکیتی شہریوں کو زخمی کیے جانے کے 321 کیسزمیں سے 226 (71 فیصد) مقدمات کو حل کرتے ہوئے 332 کریمنلز گرفتار جب کہ 36 ہلاک ہوئے۔سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور کے کچہ ایریاز میں جاری آپریشنز کے نتیجے میں ڈاکوں سے 559 مقابلوں میں 73 ڈاکو ہلاک، 120 زخمی جب کہ 378 گرفتار کیے گئے۔ڈاکوئوں کے قبضے سے 436 کی تعداد میں مختلف اقسام کا اسلحہ و ایمیونیشن برآمد کیا گیا جب کہ ڈاکوں اور کریمنلز سے مقابلوں کے دوران 19 پولیس ملازمان شہید اور31 زخمی ہوئے۔پولیس نے انٹیلی جینس بیسڈ اطلاعات کے تحت 618 شہریوں کو ہنی ٹریپ سے بچایا۔ صوبے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف 3864 پولیس مقابلوں میں 1782 جرائم پیشہ گروہوں کو ختم کیا گیا۔سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ 7383 کریمنلز کو موقع پر ہی رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جب کہ مجموعی طور پر 342 ڈکیت اور کریمنلز ہلاک اور 21504 گرفتار ہوئے۔علاوہ ازیں 5 نوٹیفائیڈ ڈاکو ہلاک اور 08 گرفتار ہوئے، 3 ہائی ویز ڈکیت ہلاک اور 26 گرفتار ہوئے۔گرفتار و ہلاک کریمنلز کے قبضہ سے 02 ایل ایم جیز، 14 جی تھری رائفلز، 180 ایس ایم جیز کلاشنکوف، 644 رائفلز، شاٹ گنز، ریپیٹرز، ایم پی فائیو، 9400 پسٹلز، ریوالورز، ماذر، 42 ہینڈ گرنیڈز، 78748 رانڈز اور کارٹیرجز برآمد کیے گئے۔منشیات مافیاز کے خلاف 10692 چھاپوں کے تحت 12200 مقدمات درج کرتے ہوئے 14506 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا جب کہ 117.378 کلو گرام آئس، 57.679 کلو گرام ہیروئن، 9096.411 کلو گرام چرس، 104.469 کلو گرام اوپیئم جب کہ 361544 لیٹرز شراب برآمد کی گئی۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    اسکیننگ کے بعد واٹس ایپ پر ریورس امیج فیچر کی تیاری

    کراچی میں سردی بڑھنے کی پیش گوئی

  • سندھ پولیس میں اعلیٰ افسران کے تقرر اور تبادلے

    سندھ پولیس میں اعلیٰ افسران کے تقرر اور تبادلے

    آئی جی سندھ نے پولیس کے اعلیٰ افسران کی نئی تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت مختلف اضلاع اور یونٹس میں پولیس افسران کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق تقرریوں کے مطابق سید محمد عباس رضوی کو اے آئی جی ویلفیئر سی پی او کراچی، قمر رضا جسکانی کو ایس ایس پی اسپیشل برانچ انٹیلی جنس کراچی، اور اعجاز احمد شیخ کو اے آئی جی ایڈمنسٹریشن سی پی او کراچی کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ خالد مصطفیٰ کورائی کو ایس پی آرآرایف حیدرآباد تعینات کیا گیا ہے، جبکہ عرفان مختار بھٹو کو ایس ایس پی اسپیشل برانچ سیکیورٹی کراچی میں تعینات کیا گیا ہے۔اسی طرح، ظفر اقبال ملک کو ایس پی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کراچی، عبدالعظیم کو ایس پی اسپیشل برانچ لاڑکانہ، ثاقب ابراہیم کو ایس ایس پی ہیڈکوارٹرز اینڈ ٹریننگ آرآرایف کراچی، عامر عباس شاہ کو ایس پی اسپیشل برانچ حیدرآباد، اور آصف احمد بھگیو کو ایس پی سی ٹی ڈی حیدرآباد تعینات کیا گیا ہے۔طارق نواز کو اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ ون سی پی او کراچی، اور منصور احمد مغل کو ایس پی اسپیشل برانچ سکھر تعینات کیا گیا ہے۔ان تعیناتیوں کا مقصد پولیس کے آپریشنز اور سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مؤثر بنانا اور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔آئی جی سندھ نے ان تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تمام افسران کو اپنی نئی ذمہ داریوں میں بہتر کارکردگی کی ہدایت کی ہے تاکہ عوام کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کراچی میں دھرنوں کا راج، لاکھوں شہری پریشان

    نئے سال کا تحفہ،مختلف موٹرویز کے ٹول ٹیکس میں اضافہ

    کراچی: نمائش چورنگی پر کشیدگی، مظاہرین نے موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی

    نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

  • محکمہ سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

    محکمہ سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

    محکمہ سندھ پولیس میں بڑے پیمانے میں تبدیلیاں کردی گئی ہیں،آئی جی سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت علی کھتیان ایس ایس پی ٹریفک ضلع ملیر تعینات،ڈاکٹر سیدقمر عباس رضوی ایس ایس پی ٹریفک ڈسٹرکٹ سینٹرل،،سید محمد علی رضا ایس ایس پی ریپیڈ رسپانس فورس (RRF) الفلاح بیس،سہائے عزیز ایس ایس پی ٹریفک ضلع جنوبی،فرح امبرین وائس پرنسپل(SBB _EPTC) رزاق آباد تعینات کردیاگیاجبکہ نہیں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی ٹریفک کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔سعادت علی یاسین کو اے آئی جی فرانزک ڈویژن تعینات کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد اعظم جمالی ایس پی پرنسپل ٹریفک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سعیدآباد،عابد حسین قائم خانی اے آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن ،علی انور سومرو ایس پی وائس پرنسپل شاہد حیات پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد تعینات کیاگیاہے

    موٹروے ایم 1 برہان سے صوابی تک دھند کے باعث بند

    مزار قائد پر گورنراور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

    جنرل ساحر شمشادکی دورہ کویت کے دوران ولی عہد سے ملاقات

    جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

  • وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ کی فراہمی، جدید آلات اور خصوصی تربیت کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سابق آئی جیز کی تنظیم اے ایف آئی جی پی کے وفد سے خطاب کر رہے تھے۔ وفد کی قیادت تنظیم کے سربراہ افضل شگری کر رہے تھے۔ ملاقات میں وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر ملاقات خوشگوار رہی، انتظامی بہتری، احتساب اور محکمے کے اندر اتنظامی خودمختاری پر بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں اضافے، جدید آلات کی فراہمی اور خصوصی ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے احتساب اور دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا، پولیس کے اندرونی تنازعات سے بچنے کےلیے انتظامی خود مختاری پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2002 کے بعد پولیس اور سول سروس کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے اس لیے تمام سروسز کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے کانسٹیبلز کو تعلیمی قابلیت، لکھنے کی صلاحیت اور آئی ٹی اسکلز کے ذریعے بااختیار بنانے اور تحقیقات کا آغاز کانسٹیبل لیول سے کرنے کی تجویز دی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے مالیاتی اختیارات تھانے کی سطح تک منتقل کردیے ہیں لیکن کانسٹیبل کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ شکایات کے اندراج اور نگرانی کےلیے سیںٹرلائزڈ ریسورس منجمنٹ سسٹم ( آر ایم ایس) قائم کیا جائے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آر ایم ایس کمپلیمنٹ سیل بنانے کی ضرورت ہے جہاں شکایات درج کرنے کےلیے پولیس کے علاوہ لوگ تعینات کیے جائیں۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرز پر اربن پولیسنگ کا ماڈل اختیار کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرائم کی کھوج لگانے اور متاثرین کے تحفظ کے نظام پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سابق آئی جیز سے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اپنی تجاویز ارسال کریں۔ ملاقات میں پولیس کو 1972 میں حیدرآباد میں الاٹ کی گئی 150 ایکڑ زمین کے جاری تنازعے پر بھی تبادلہ خیال گیا۔ اس موقع پر کراچی میں ٹریفک کے انتظام میں بہتری اور سی پی ایل سی کو دیگر شہروں تک پھیلانے پر بھی بات کی گئی۔ سابق آئی جیز نے پولیس افسران اور ان کی فیملیز کےلیے حکومت سندھ کے حال میں میں متعارف کرائے گئے میڈیکل انشورنس کی تعریف کی اور اس کو پورے ملک کےلیے ایک مڈال اقدام قرار دیا۔ ملاقات کا اختتام اصلاحات کےلیے تعاون بڑھانے کے عزم پر کیا گیا۔ افضل شگری نے دعوت دینے پر وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ تعاون کی یہ سوچ پبلک سیفٹی میں اضافے اور سندھ پولیس میں اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

  • سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سندھ رینجرز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ اور سندھ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق کراچی کے علاقے قائد آباد سے دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور بھتہ وصولی کی متعدد وارداتوں میں ملوث فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزمان محمد جاوید سواتی عرف بھائی جان، شاہد حسین عرف عمر اور اکبر زیب خان کو گرفتار کرلیا گیا۔
    ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، یمیونیشن اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا گیا۔پاکستان رینجرز (سندھ)اور CTD ترجمان کے مطابق ملزمان کا تعلق فتنہ الخوارج سوات گروپ سے ہے۔ ملزم جاوید سواتی عرف بھائی جان 2008 میں فتنہ الخوارج سوات گروپ میں شامل ہوا اور سوات میں کمانڈر عمر الرحمان عرف استاد فاتح اور بن یامین کے گروپ کے ساتھ سوات میں انتہائی متحرک رہا۔ملزم کے دو بھائی شاہد اور زاہد سوات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے اور ملزم اپنی فیملی کے ہمراہ سوات آپریشن کے بعد کراچی میں شفٹ ہوا اور مختلف مقامات پر روپوش رہا۔ملزم 2012 میں کراچی سے گرفتار ہوا اور سوات میں عرصہ تقریبا 14 ماہ تک جیل میں رہا۔جیل سے رہائی کے بعد ملزم گلشن بونیر لانڈھی میں شفٹ ہوا جبکہ ملزم کے قریبی ساتھی کمانڈر عمرالرحمان عرف استاد فاتح، عبد الرحمان عرف شہزاد، حبیب اللہ عرف معاویہ کنڑ افغانستان میں شفٹ ہوگئے .ملزم کے کمانڈر عمر الرحمان عرف استاد فاتح ، عبد الرحمان عرف شہزاد اور حمید اللہ عرف اظہار سے انتہائی قریبی تعلقات تھے اور بذریعہ واٹس ایپ مسلسل رابطے میں تھے ۔ ملزم ان کے لئے سہولت کاری کا کام بھی سر انجام دیتا رہا ہے۔۔رینجرز ترجمان کے مطابق ملزمان شاہد حسین عرف عمر اور اکبر زیب خان 2010 میں غلبہ السلام میں شامل ہوئے۔ 2014 میں زکریا عرف انعام اللہ فتنہ الخوارج سوات گروپ میں شامل ہوئے۔ملزمان عسکری تربیت یافتہ ہیں اور افغانستان متعدد بار جاچکے ہیں۔ ملزمان کراچی میں بھتہ وصولی، قتل و اقدام قتل کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں زکریا عرف انعام اللہ ، رفیع اللہ عرف ٹیکسی والا اور عدنان ہزارے وال کے ساتھ مل کر جنرل ٹائر کمپنی کے صدر کو 20لاکھ روپے، بنارس میں جنرل سٹور کے مالک کو 10 لاکھ روپے، اسٹیل ٹاون میں ٹینکر والے کو 10 لاکھ روپے، بنارس کے قریب فروٹ سپلائر کو 3 لاکھ، پراپرٹی ڈیلر کو 2 لاکھ ، بنارس میں جنرل اسٹور کے مالک کو 15 لاکھ کی بھتہ کی ڈیمانڈ کی اور متعدد سے بھتہ وصول کیا۔تاجرعبدالغفارسے مبلغ 50 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں جس کی ایف آئی آر تھانہ قائد آباد میں درج ہے۔ ملزم اکبرزیب خان نے اپنے ساتھی زکریا عرف انعام للہ کے ساتھ مل کر لانڈھی کے قریب مخبری کے شبے میں ریٹائرڈ ہیڈ کانسٹیبل فضل زادہ کو قتل اور سید آفرین کو زخمی کیا جس کی ایف آئی آر تھانہ قائد آباد میں درج ہے۔ملزمان سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ملزمان سے مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    مئیر کراچی نے لانڈھی میڈیکل کمپلیکس میں مردہ خانے کا افتتاح کردیا

    ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ہوگی، ترامیم منظور

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

  • کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے اہم کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ اسمگلنگ گروہ کے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں امیر بخش، مبشر قادر، عبد الروف، محمد اشفاق اور باسط علی شامل ہیں، ملزمان سے اسلحے کے بھاری کھیپ برآمد ہوئی ہے۔سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان 2018 سے اسلحہ اسمگلنگ کا کام کر رہے تھے۔ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرتے تھے، وہ درہ آدم خیل سے اسلحہ فروخت کرتے تھے، انہوں نے 2 کروڑ روپے سے زائد غیر قانونی اسلحہ فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔گزشتہ روز شکارپور میں پولیس کا کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران پولیس نے دو مغویوں کو بازیاب کروایا تھا۔پولیس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ڈاکوؤں سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 روز قبل اغوا کئے گئے 2 مغوی بھائیوں کوبازیاب کروا لیا گیا، ڈاکوؤں کی گرفتاری کیلیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔اس سے قبل گزشتہ ماہ شکارپور میں کچے کے علاقے گڑھی تیغو میں آپریشن کے دوران دو مغویوں کو بازیاب کروالیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ بازیاب دونوں افراد شفیق انجم جٹ اور اظہر اعوان کا تعلق سرگودھا سے ہے، شفیق انجم جٹ کو سستی گاڑی کا جھانسہ دے کر اغوا کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق اظہر اعوان کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کیا گیا تھا۔

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    شہباز نواز ملاقات،ملکی سلامتی اور ترقی پر اتفاق

  • سندھ پولیس کو کچے میں آپریشن تیز کرنے کیلئے33 کروڑ روپے کا فنڈ جاری

    کراچی: سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن مزید تیز کرنے کیلئے 33 کروڑ روپے کا فنڈ جاری کردیا گیا،جبکہ پنجاب پولیس رحیم یار خان نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پولیس پر حملوں، قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکو کو ہلاک کردیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع سینٹرل پولیس آفس کے مطابق کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں پولیس اہلکاروں کو جدید سہولیات اور مخبروں کو انعامی رقم دینے کیلئے شکارپور، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع کے ایس ایس پیز کو 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں،سکھر اور لاڑکانہ رینج کے ڈی آئی جیز بھی 33 کروڑ کے فنڈز کا استعمال کرسکیں گے۔

    اس حوالے سے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کا بھرپور ایکشن جاری ہےکشمور، گھوٹکی اور شکارپور میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، سندھ پولیس نے گزشتہ تین ماہ میں 15 سے زائد مغویوں کو بازیاب کرایا ہے اس کے علاوہ 10 سے زائد ڈاکوؤں کو مقابلے میں ہلاک کیا ہے۔

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بتایا کہ پولیس نے کچے میں حکمت عملی تبدیل کی ہے، کچے کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں، 100 سے زائد پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور ریپڈ ریسپانس فورس کے افسران و اہلکاروں کو سندھ اور پنجاب کے بارڈر ایریاز میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈاکو ایک کمین گاہ سے دوسری کمین گاہ فرار نہ ہوسکیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دو رینج (لاڑکانہ ، سکھر) کے ڈی آئی جیز کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر کریں اور چار اضلاع (سکھر ، گھوٹکی ، کشمور اور شکارپور) کے ایس ایس پیز کو کچے میں بھرپور کریک ڈاؤن کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

    سندھ میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس نے جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرون کا بھی استعمال کیا ہے جس سے پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، سندھ پولیس اب تک ڈرون کی مدد سے 10 ڈاکو ہلاک کرچکی ہے اس کے علاوہ ڈرون کا استعمال کرنے والے ماہر افسران نے ڈاکوؤں کے کئی ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کی ہے جس کے بعد پولیس نے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو ختم کیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس رحیم یار خان نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پولیس پر حملوں، قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکو کو ہلاک کردیا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رحیم یارخان پولیس نے کچے کے ڈاکوؤں کے شہری کو لوٹنے کےعزائم کو خاک میں ملا دیا، مسلح ڈاکوؤں نے کچے کے علاقے مقبول موڑ کے قریب شہری عبد الرشید عباسی کے گھر پر واردات کی نیت سے حملہ کیا، اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ فوری ریسپانس کیا، پولیس کو دیکھ کر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی-
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1863708409037721938
    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو فاروق چانڈیہ ہلاک مارا گیا جبکہ ہلاک ڈاکو کے دیگر ساتھی اندھیر ے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فصلوں میں فرار ہو گئے، ہلاک ڈاکو کے قبضے سے کلاشنکوف اور سینکڑوں کی تعداد میں گولیاں برآمد ہوئیں جبکہ پولیس کی جانب سے تمام علاقے کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس کے 02 اور بہادر سپوت فرض کی راہ میں قربان، ایک سب انسپکٹر شدید زخمی ہو گئے-

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس پارٹی شراب کی ترسیل کی اطلاع پر شراب فروشوں کے تعاقب میں جا رہی تھی کہ انڈس ہائی وے روڈ پر کھیتران پمپ کے قریب پولیس وین اور ٹرک کے درمیان تصادم ہو گیا، تصادم کے نتیجے میں کانسٹیبل عطاء اللہ اور کانسٹیبل محمد کاشف جام شہادت نوش کر گئے جبکہ سب انسپکٹر ذیشان شدید زخمی ہیں، زخمی سب انسپکٹر کو طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1863826955100909640
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور فرض کی راہ میں جان قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا، زخمی پولیس اہلکار کو بہترین علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔