Baaghi TV

Tag: سندھ پولیس

  • سندھ پولیس کا ملزمان کا ڈیٹا بینک قائم کرنے کا فیصلہ

    سندھ پولیس کا ملزمان کا ڈیٹا بینک قائم کرنے کا فیصلہ

    سندھ پولیس اور سی پی ایل سی نے صوبائی سطح پر چوری، گمشدہ، چھینی گئی گاڑیوں اور واردات میں ملوث ملزمان کا مشترکہ مرکزی ڈیٹا بینک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت صوبے میں چوری، گمشدہ، چھینی گئی گاڑیوں کی شکایات اور واقعات سے متعلق اہم جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ کاروائیوں میں چوری کا سامان خریدنے والے 74 ملزمان گرفتار اور 67 مقدمات درج کیے گئے۔ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کے مطابق یکم جنوری سے اب تک 912 اسکریپ ڈیلرز کے خلاف کاروائی کی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سی پی ایل سی، پولیس 15،اسپیشل برانچ،اے وی ایل سی،ضلعی پولیس، ایس فور،اور دیگر ادارے گاڑی چوری، گمشدگی، چھینے جانے سمیت ملوث ملزمان کا ڈیٹا ایپلیکیشن میں درج کریں گے، جبکہ چوری کے سامان کی خرید و فروخت میں ملوث اسکریپ ڈیلرز کے خلاف کاروائی کو مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی اے وی ایل سی نے تجویز دی کہ شاہراہوں پر”ہٹ اینڈرن”میں ملوث گاڑیوں کا ریکارڈ بھی ڈیٹا بینک میں شامل کرنیکی ضرورت ہے، جبکہ سی پی ایل سی چیف زبیرحبیب نے کہا کہ سی پی ایل سی ڈیٹا کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت اس سال جرائم میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جرائم میں کمی کا کریڈٹ سندھ پولیس کی مؤثر پولیسنگ کو جاتا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ کراچی پولیس اور سی پی ایل سی کا جرائم سے متعلق ڈیٹا کم و بیش ایک جیسا اور مستند ہے، داروں، یونٹس اور اضلاع کے مابین مضبوط روابط جرائم میں کمی کی کنجی ہے۔ اس موقع پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ ایس ایچ او چوری، گمشدہ، چھینی گئی گاڑیوں کی ایف آئی ار اور ڈیٹا کے اندراج کو ممکن بنائے گا، جبکہ ایس ایچ او جرائم اور اس میں ملوث ملزمان سے متعلق تمام ضروری معلومات مجوزہ ایپلیکیشن میں اندراج کرے گا۔آئی جی سندھ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام افسران اسپیشل برانچ کی جانب سے چوری شدہ سامان کی خریدو فروخت کرنے والے اسکریپ ڈیلرز کے خلاف ایک بار پھر متحرک ہوکر سخت کاروائی کریں۔ چوری، گشمدہ، چھینی گئی گاڑیوں اور ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کا ڈیٹا سینٹرلائزڈ ہونے سے ملزمان کے گرد گھیرا یقینی طور پر تنگ ہوجائےگا، سندھ پولیس کا شعبہ آئی ٹی ایک ایپلیکیشن تیارکرے۔آئی جی سندھ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ایپلیکیشن میں سی پی ایل سی، پولیس 15، اسپیشل برانچ، اے وی ایل سی، ضلعی پولیس، ایس فور، اور دیگر ادارے گاڑی چوری، گمشدگی، چھینے جانے میں ملوث ملزمان کے ڈیٹا کے اندراج کو ممکن بنائیں گے۔ڈیٹاکی مدد سے جرائم، اس کے طریقہ کار اور اس میں ملوث ملزمان کی “ہسٹری” بنانے میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب، ایڈیشنل آئی جی کراچی،ڈی ائی جیز سمیت یونٹس اور اضلاع کے ایس ایس پیز نے شرکت کی۔

    کراچی‘ 27 مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جانیوالا پھر گرفتار

  • کراچی سے کاریں چھیننے والے گینگ کے 6 ملزمان گرفتار

    کراچی سے کاریں چھیننے والے گینگ کے 6 ملزمان گرفتار

    شہر قائد سے کاریں چھیننے والے گینگ کے 6 ملزمان کو گرفتار کرکے چوری کی گئی دو کاریں برآمد کرلیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے مطابق کراچی میں اینٹی کار لفٹنگ سیل اورنگی اور گلستان جوہرڈویژن نے کارروائیوں میں شہر سے کاریں چھیننے والے گینگ کے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے بتایا کہ کارلفٹر گینگ سے سرجانی ٹاؤن اور گلستان جوہر سے چوری کی گئی دو کاریں برآمد کرلیں، ملزمان میں فرقان علی، غلام اصغر، عجب گل، معراج حسین، منصور خان اور یار محمد شامل ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان کیساتھیوں کی گرفتاری اورمزیدگاڑیوں کی بر آمدگی کیلئیچھاپے مارے جارہے ہیں۔یاد رہے چند ہفتے قبل کراچی میں بوٹ بیسن پولیس نے اے وی ایل سی کے ہمراہ میرپور خاص میں چھاپہ مار کر کلفٹن بلاک 4 سے چوری ہونے والی سرکاری گاڑی برآمد کرلی تھی۔ایس پی کلفٹن ماجدہ پروین نے بتایا تھا کہ کارروائی کے دوران کارچوری میں ملوث 2 ملزمان کو کار کلفٹن کے معروف شاپنگ مال کی پارکنگ سے چوری ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ گاڑی سندھ حکومت کے محکمہ ایم ایس ڈی پی کے چیف انجینئر کی تھی تاہم شک کی بنیاد پر پہلے کار کے پرائیویٹ ڈرائیور ریاض کو حراست میں لیا تو دوران تفتیش ڈرائیور نے خود کار چوری کرانے کا انکشاف کیا۔

    اداکارہ نگار چوہدری کے شوہر عماد بٹ کو منشیات برآمدگی کیس میں سزا

  • سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش ، ملزم ساتھیوں سمیت گرفتار

    سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش ، ملزم ساتھیوں سمیت گرفتار

    سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش کرنے والے ملزم کو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا، ملزم لاکھوں کی رقم لوٹنے کا الزام سابقہ سسر پر لگانا چاہتا تھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں ون فائیومددگار پر ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع دینا شہری کو مہنگا پڑگیا، سائٹ سپرہائی وے پولیس نے اپنے سابقہ سسر کو پھنسانے کے لیے ون فائیو مددگار پر ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع دینے والے شخص احمد کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
    پولیس نے بتایا کہ ون فائیومددگار پر احمد نے ایمرجنسی کال کہ اور بتایا کہ احسن آباد چڑھائی کے قریب ہائی روف میں سوار ملزمان نے ہم سے 14 لاکھ 95 ہزار روپے چھینے ہیں جس پر پولیس فوری پہنچی ، جہاں یاروگوٹھ کے رہائشی تین افراد موجود تھے۔پولیس نے بتایا کہ کالر احمد نے کہا اس کا دوست حیدرآباد سے پلاٹ فروخت کرکے رقم کے ہمراہ آرہا تھا ، جس نے اسے پک کرنے کے لیے بلایا تھا، جب وہ اسے لے کر جارہے تھے تو ان سے واردات ہوگئی۔پولیس نے شبہ ہونے پر سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو ملزمان نے سچ اگل دیا، احمد نے بتایا کہ اس نے سابقہ سسر کو پھنسانے کے لیے ڈرامہ کیا تھا اور جس ہائی روف کا نمبر پولیس کو دیا وہ اس کے سابقہ سسر کی تھی۔پولیس نے تصدیق کے لیے ملزم کے سسر کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹی نے 2 ماہ پہلے احمد سے خلع لے لی تھی۔پولیس کا کہنا ہے ملزم جھوٹی اطلاع کے ذریعے دوستوں کے ساتھ مل کر سسر کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، جن کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

  • پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    ضلع کورنگی تصویر محل پولیس چوکی کے سابق انچارج سب انسپکٹر راؤ فیاض کو جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ضلع کورنگی سے بی کمپنی بھیجا جانے والا پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کا سرپرست نکلا، بلیک کمپنی میں بند کیے گئے رائوفیاض احمد کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا اس سلسلے میں حتمی حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا۔حکم نامے میں بتایا گیا کہ سب انسپکٹر رائوفیاض احمد کو دو ستمبر کو معطل کرکے بی کمپنی میں بند کیا گیا تھا، سب انسپکٹر رائو فیاض پر منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد سے ملی بھگت کا الزام تھا، رائو فیاض احمد پر گٹکا فروشوں اور دیگرغیر قانونی اشیا کی سپلائی کی سرپرستی کا بھی الزام تھا، الزامات کے حوالے سے 23 ستمبر کو رائوفیاض کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا اور 18 اکتوبر کو رائو فیاض کو دوسرا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔مختلف ذرائع سے رائو فیاض سے متعلق انفارمیشن رپورٹ بھی موصول ہوئی، ایف آئی آر کے مطابق دوران پوسٹنگ راو فیاض گٹکا ماوا بنانے والوں اور چھالیہ کے ڈیلرز کی سرپرستی میں ملوث رہا، رائو فیاض نے دوران پوسٹنگ زمینوں پر قبضے اور دیگر جرائم کی سرپرستی پرائیویٹ بیٹر بشیر کے ذریعے کی، ملزم بشیر اب بھی جرائم کی سرپرستی کے عوض ہفتہ وار بھتہ وصول کر رہا ہے، ملزم بشیر جرائم پیشہ افراد کو پولیس چوکی تک پہنچانے کا کام بھی کرتا تھا۔رائو فیاض نے ایک جرائم پیشہ نعیم عرف بوس کو حراست میں لینے کے بعد رشوت لے کر رہا کیا، پولیس چوکی تصویر محمل میں رائو فیاض کے ساتھ ایک لڑکی رمشا دیکھی گئی رمشا کی سرپرستی میں ضلع کورنگی اورملیر میں اسٹریٹ کرمنلز کا ایک گروہ کام کر رہا ہے۔رائو فیاض کی ایک ایمبولینس سروس رائو ایمبولینس کے نام سے بھی چل رہی ہے، ایمبولینس سروس شہر کے دو بڑے نجی اسپتالوں میں چلائی جا رہی ہے، پولیس رول کے مطابق رائوفیاض کو تادیبی کارروائی کے لیے مجاز ٹہرایا گیا۔چیف جاوید عالم اوڈھو کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی نے راؤ فیاض کے خلاف محکمانہ انکوائری کی، چھ نومبر کو انکوائری رپورٹ فائل کی گئی جس میں رائو فیاض کو لگائے گئے الزامات میں قصور وار ٹہرایا گیا، انکوائری رپورٹ میں راؤ فیاض کے خلاف مزید سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔رپورٹ کی روشنی میں 11 نومبر کو رائو فیاض کو اظہار وجوہ کا حتمی نوٹس جاری کیا گیا، انکوائری کمیٹی نے 21 نومبر کو راؤ فیاض کو ذاتی طور پر سنا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا، رائوفیاض احمد نے جرائم پیشہ افراد سے تعلق سے انکار نہ کیا اور بتایا کہ وہ اسکے مخبر ہیں، رائو فیاض نے راؤ ایمبولینس کی ملکیت سے انکار پر زور دیا۔رائو فیاض احمد کا کہنا تھا کہ وہ فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے ایمبولینس سروس کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے، رائو فیاض کی سروس شیٹ کا بھی جائزہ بھی لیا گیا، سروس شیٹ کے مطابق رائو فیاض پر متعدد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاع ہیں راو? فیاض احمد اچھی شہرت کا حامل نہیں ہے، اسے ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہے۔

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • آئی جی سندھ کی صدارت ،مانیٹرنگ ایکٹ 2022جائزہ اجلاس

    آئی جی سندھ کی صدارت ،مانیٹرنگ ایکٹ 2022جائزہ اجلاس

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ذیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں عادی ملزمان کی نگرانی اور اس تناظر میں پولیس اقدامات سے متعلق تفصیلات کا ذریعہ بیفنگ جائزہ لیا گیا اور مذید ضروری ہدایات دی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں ڈی آئی جیز،ٹی اینڈ ٹی،کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز برانچ، انویسٹی گیشن،سی آئی اے، ٹریننگ،ہیڈکوارٹرز،آئی ٹی سمیت دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی اور کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز برانچ نی”سندھ عادی ملزمان مانیٹرنگ ایکٹ 2022″ اور اس پر عملدرآمدی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں چار ہزار (4000) عادی ملزمان کی نگرانی کا آغاز ذریعہ الیکٹرانک ٹیگنگ ڈیوائسز کیا جائیگاجبکہ عادی ملزمان اور ان کی نگرانی کا تعین معزز عدالت کرے گی۔علاوہ اذیںای-ٹیگنگ ڈیواسز کی خریداری کے لیئے اشتہار بھی 11 نومبر کوجاری کردیا گیا ہے۔بریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ نگرانی کے عمل کا آغاز پولیس اسٹیشن سے کرتے ہوئے بعداذاں اسے ڈویژنز، زونز اور سی پی او تک وسعت دی جائیگی۔آئی جی سندھ نے کہا کہ آئین اور قانون میں عادی ملزم کی تشریح بالکل صاف اور واضح ہے۔لہذا ضروری ہےکہ تمام ایس ایس پیز، ایس پیز انویسٹی گیشنز متعلقہ تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر عادی ملزمان کا ڈیٹا مرتب کرنیکے تمام اقدامات کو یقینی بنائیں جبکہ جیلوں میں قید ملزمان پر کڑی نظر رکھتے ہوئے عادی ملزمان کا تعین اور ڈیٹا بھی ترتیب جائے۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ملزمان کے شناختی کارڈز کا اندراج ناصرف یقینی بلکہ اس سسٹم کو سینٹرلائزڈ بھی کیا جائے اور ڈیوائس کی تنصیب،استعمال اور نگرانی کے لیئے نچلی سطح تک آگاہی اور تربیت کی فراہمی کے حوالے سے بھی ہر ممکن اقدامات کیئے جائیں۔انہوں نے ہدایات دیں کہ مانیٹرنگ ڈیوائس کے استعمال سے متعلق پولیس افسران و اہلکاروں کے لیئے تربیتی و آگاہی کورس ترتیب دیا جائے جبکہ عملدرآمدی کمیٹی افسران اور عملہ سے متعلق ایس او پی ترتیب کو بھی یقینی بنائے۔انہوں نے مذید کہا کہ قوی امید ہیکہ عادی ملزمان کی نگرانی سے جیلوں پر دبا میں کمی آئیگی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی کام جاری ہے،میئر کراچی

    ماربل سٹی کراچی کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری کردی

  • اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    کراچی میں کینٹ ریلوے اسٹیشن سے سندھ کے مختلف ٹریننگ سینٹرز کے زیر تربیت جوان اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے موقع پر سیکیورٹی ڈیوٹی دینے کے لئے روانہ ہوگئے ہیں.

    وفاقی حکومت نے 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال پر سندھ حکومت سے نفری مانگی تھی۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال پر وفاقی حکومت نے سندھ حکومت سے پولیس کی نفری مہیا کرنے کی درخواست کی تھی۔وفاقی حکومت کی درخواست پر سندھ کے مختلف ٹریننگ سینٹرز سے 13 سو 50 سے زائد زیر تربیت جوان اسپیشل ٹرین کے زریعے کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوگئے ہیں۔شاہد حیات ٹریننگ سینٹر سے 263 اہلکار روانہ ہوئے ہیں، رزاق آباد ٹریننگ سینٹر سے 228 اہلکار اسلام آباد جارہے ہیں جبکہ حیدر ا?باد ٹریننگ سینٹر سے 315 اہلکار اور خیرپور سے 544 جوان اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔نفری کے ہمراہ اینٹی رائٹس کٹس، 1 ہزار لانگ 1 ہزار شارٹ شیل بھی ہیں۔

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • آئیڈیاز 2024 نمائش کا آغاز : پولیس کے 4 ہزار 800 جوان سیکیورٹی پر تعینات

    آئیڈیاز 2024 نمائش کا آغاز : پولیس کے 4 ہزار 800 جوان سیکیورٹی پر تعینات

    بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2024 کے لئے پولیس کے 4 ہزار 800 جوان سیکیورٹی پر تعینات کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز کا باقاعدہ آغاز ہوگیاہے، کراچی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے گئے ہیںکراچی پولیس کے 4ہزار 800جوان سیکیورٹی کے فرائض انجام ددے رہے ہیںجبکہ سیکیورٹی پر پولیس آفیسر،آفیشل اور لوکل پولیس تعینات کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایس ایس یو کمانڈوز،ریپڈ رسپانس فورس اور اسپیشل برانچ بھی فرائض انجام دے رہی ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے اہلکار مختلف اہم مقامات پر تعینات کیئے گئے ہیں۔ایکسپو سینٹر کے اطراف عمارتوں پر بھی نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیاہے ، ایئرپورٹ سے ہوٹل اور ہوٹل سے ایکسپو سینٹر تک بھی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار بھی بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔چار روزہ نمائش کے دوران صبح سات سے شام سات بجے تک ایکسپو سینٹر سے منسلک سڑکیں بند رہیں گی جبکہ ایکسپو سینٹر کی حدود میں موجود تعلیمی ادارے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔حسن اسکوائر فلائی اوور سے نیشنل اسٹیڈیم سڑک اور فلائی اوور بندکردیاگیاہے جبکہ ڈالمیا روڈ اسٹیڈیم سگنل سے دائیں جانب حسن اسکوائرجانیوالی سڑک بند کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ یونیورسٹی روڈ نیپا سے ایکسپو سینٹر کے بائیں جانب جانیوالی سڑک بھی بند ہوگی جبکہ شاہراہِ فیصل سے ہیوی اور کمرشل گاڑیوں، واٹر ٹینکر کا کارساز روڈ پر داخلہ بند ہوگا۔یاد رہے دفاعی نمائش آئیڈیاز 2024 کے موقع پر حفاظتی نکتہ نظر کے تحت کراچی بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، دفعہ 144 کا نفاذ 7دن کیلئے کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق 18 نومبر سے 24 نومبر تک ہوگا، ان ایام میں جلسے، جلوس، ریلیاں نکالنے پر سخت پابندی ہوگی۔

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

  • ہوٹلز ،گیسٹ ہائوسز کیخلاف کریک ڈائون ، 9غیر ملکی باشندےگرفتار

    ہوٹلز ،گیسٹ ہائوسز کیخلاف کریک ڈائون ، 9غیر ملکی باشندےگرفتار

    سندھ پولیس نے ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے سرٹیفکیٹ اور ہوٹل آئی کے ریکارڈ کے بغیر چلنے والے ہوٹل اور گیسٹ ہائوس کے خلاف کریک ڈان شروع کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم 9 غیر ملکی باشندوں کو حراست میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب غیر ملکی شہریوں پر حملے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں سی آئی اے کراچی کو غیر رجسٹرڈ ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف کریک ڈائون کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
    اس حوالے سے ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے بتایا کہ ٹاسک ملنے کے بعد سی آئی اے نے شہر بھر میں 150 کے قریب ہوٹل اور گیسٹ ہاسز کی سرچنگ کی ہے جس میں غیر قانونی طور پر مقیم 9 غیر ملکی باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ اور سندھ پولیس کے سافٹ ویئر ہوٹل آئی میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے 100 سے زائد ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف متعلقہ اداروں کو خط بھی لکھا ہے۔خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس طرح کے ہوٹل اور گیسٹ ہائوسز سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سی آئی اے کراچی نے ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز کی سرچنگ بھی کی ہے۔ایس ایس پی اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ شعیب میمن کے مطابق متعلقہ تھانے ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف کریک ڈائون کرتے رہتے ہیں لیکن حالیہ دہشت گردی کی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا ہے جس میں گیسٹ ہائوس اور ہوٹلوں کے خلاف کریک ڈائون کا ٹاسک دیا گیا ہے جس کے بعد اسپیشلائزڈ انویسٹی یونٹ نے 6 ٹیمیں تشکیل دے کر کریک ڈائون شروع کیا ہے۔ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز کی سرچنگ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ہوٹل اور گیسٹ ہائوس ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے سرٹیفکیٹ کے بغیر چلائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹل آئی کے سافٹ ویئر میں بھی ان کی رجسٹریشن موجود نہیں ہے، سی آئی اے نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے گیسٹ ہائوسز اور ہوٹلوں کو بند کرا دیا ہے اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    10کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اسمگل موٹرسائیکلیں برآمد

  • پولیس کی بروقت کارروائی، شہری کو اغوا ہونے سے بچالیا

    پولیس کی بروقت کارروائی، شہری کو اغوا ہونے سے بچالیا

    کشمور پولیس کی کامیاب اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے شمور پولیس نے پنجاب کے رہائشی کو اغوا ہونے سے بچالیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق کشمور پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بکھر پنجاب کے رہائشی کو اغواء ہونے سے بروقت بچا لیا۔ کشمور پولیس کو ٹیکنیکل ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی کہ ایک آدمی کو اغواء کرنے کے لیئے کچے کی طرف بلایا گیا ہے۔ پولیس نے فوری طور پر تھانہ کشمور کی حدود میں ناکہ بندی کر کے اغواء ہونے سے ایک آدمی کو بچالیا۔اغوا سے بچ جانے والے آدمی کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔1.*محمد مسعود اقبال خان ولد گل نواز خان*رہائشی بھکر پنجاب ،اغوا سے بچ جانے والے آدمی کو باحفاظت کشمور پولیس نے ورثاء کے حوالے کر دیا۔کشمور پولیس عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ فیک کالز اور جھانسے والے پیغامات سے ہوشیار رہیں۔ اگر آپ کو دوستی، شادی، نوکری، سستے داموں گاڑی، مال مویشی یا دیگر لالچ میں پھنسانے کی کوئی کوشش کی جائے تو فوری طور پر مقامی پولیس سے رابطہ کریں۔

    میئر کراچی کی صدارت کراچی چڑیا گھر اورسفاری پارک سے اعلی سطحی اجلاس

    کراچی :اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں ملوث دو ملزمان گرفتار

    کراچی:سائیٹ ایریا ہارون آباد کے علاقے میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن