سندھ کی تمام 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع کر دیا گیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریننگ اینڈ لائسنسنگ اقبال دارا کے مطابق اب انٹرنیشنل پرمٹ کے اجرا کا آغاز آن لائن اور سندھ بھر کی 11 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں 14ستمبر سے سندھ کے شہروں حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے علاوہ کراچی کی 6 ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
اقبال دارا کے مطابق کوئی بھی شہری اگر وہ سندھ سے جاری مستقل ڈرائیونگ لائسنس رکھتے ہیں تو انہیں کسی ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانے کی ضرورت نہیں وہ اپنے گھر یا کسی بھی ملک میں بیٹھے اپنا انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کر اسکتے ہیں جو ٹی سی ایس کے ذریعے ان کے دیے گئے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کی فیس ایک ہزار 88 روپے آن لائن ادا کی جا سکتی ہے۔
Tag: سندھ پولیس
-

سندھ کی تمام برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع
-

ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی
سندھ کے شہر عمرکوٹ میں توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت سے متعلق انکوائری رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انکوائری رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ پولیس نے 18 گریڈ کے ڈاکٹر شاہنواز کو کراچی سے گرفتار کیا اور انہیں میرپور خاص پولیس کے حوالے کیا۔رپورٹ کے مطابق میرپور خاص پولیس نے ڈاکٹر شاہنواز کو قتل کیا اور مقابلہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جس سے سندھ پولیس کا امیج خراب ہوا، میرپور خاص پولیس کے اہلکاروں نے مقتول کے قتل پر جشن بھی منایا۔انکوائری رپورٹ میں ڈی آئی جی، ایس ایس پی میرپور خاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ پر مقدمے کی سفارش کی گئی جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی مزید انکوائری سی ٹی ڈی سے کروائی جائے۔
70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی
-

آئی سی سی وفد کا ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے وفد نے آئی سی سی سیکیورٹی ریکی ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ میسکر کی قیادت میں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ پاکستان میں آئندہ آئی سی سی کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے تیاریوں کا حصہ تھا، جس کا مقصد کھلاڑیوں، آفیشلز، اور شائقین کے لیے محفوظ اور پُرامن ماحول کی فراہمی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آئی سی سی کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔کمانڈنٹ ایس ایس یو انور کھیتران نے نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں ہونے والے میچز کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے سیکیورٹی کے مربوط نظام کی اہمیت پر زور دیا، جس میں شائقین کا نظم و نسق، ایمرجنسی ریسپانس کا لائحہ عمل، اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن ڈاکٹر مقصود احمد نے بھی وفد سے ملاقات کی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھیں اور وسائل کی کسی بھی ضرورت کو فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کریں تاکہ ایک کامیاب ٹورنامنٹ کے لیے تمام ضروری معاونت فراہم کی جا سکے۔
کراچی میں ٹریفک کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے،شرجیل میمن
آئی سی سی کے وفد کے سربراہ نے ایس ایس یو کی جانب سے کی جانے والی انتھک کوششوں کو سراہا اور مقامی حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ایونٹ کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر کا ایک اہم ایونٹ ہے۔ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور ہم بین الاقوامی سطح کے ٹورنامنٹس کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی اور ایس ایس یو دونوں اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ جدید مواصلاتی آلات کے ذریعے تمام سیکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جائے -

کراچی مٰیں پولیس اور رینجرز کا فلیگ مارچ
چُپ تعزیہ اور ماہِ ربیع الاوّل کی سیکیورٹی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس اور سندھ رینجرز کا مشترکہ فلیگ مارچ کیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلیگ مارچ میں ایس ڈی پی او سب ڈویژن سچل، گلشن نیو ٹاؤن سمیت ایس ایچ اوز اور افسران و جوانوں نے شرکت کی۔فلیگ مارچ کراچی یونیورسٹی سے شروع ہو کر عباس ٹاؤن، ابوالاصفہانی روڈ، نیپا چورنگی، حسین ہزارہ گوٹھ، جوہر چورنگی، بولان سجی، میلینیم مال، اسٹیڈیم روڈ، بہادر آباد، پی آئی بی کالونی اور یونیورسٹی روڈ سے ہوتا ہوا کراچی یونیورسٹی پر اختتام پذیر ہوا۔فلیگ مارچ چپ تعزیہ اور ماہِ ربیع الاوّل کے موقع پر امن و امان کو قائم رکھنے اور سیکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔مزید شر پسند عناصر کو یہ پیغام دینا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
-

لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سندھ پولیس کو عملی اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔
باغی ٹی وی : کم سن لڑکی سمیت 7 لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی،سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کی،دوران سماعتتفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہری رئیس ذہنی مریض ہے-
جس پر جسٹس نعمت اللہ نے کہا اگر شہری ذہنی مریض بھی ہے تو بھی اسے تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ادھر ادھر کی باتیں کرکے پولیس اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں کر سکتی، عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک لڑکی بنگلے سے لاپتہ ہوئی ہے اسے کون تلاش کرے گا؟ کم عمر لڑکی ہے شادی کرلی ہے یا کچھ اور مسئلہ ہے،تحقیقات کے 100 طریقے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کوکرنا ہے،امریکا
لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ برسوں گزرنے کے باوجود پولیس کچھ پتا نہیں لگا سکی کہ ان کے پیارے کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے اہلخانہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم لاپتہ افراد کی تلاش کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لیے پولیس کو عملی اقدامات کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ متعلقہ تھانے گمشدہ شہریوں کے مقدمات درج کریں نئے لاپتہ شہریوں کی گمشدگی کے مقدمات درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا جائے،بعدازاں سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے بھی 12 اگست کو رپورٹ طلب کر لی۔
گوادر میں دہشتگروں کا رہائشی کوارٹر پر حملہ،7 افراد جاں بحق ایک زخمی
-

رواں سال کراچی میں 425 مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے، سندھ پولیس
کراچی: سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال کراچی میں ڈاکوؤں سے 425 مقابلے ہوئے اوران مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے۔
باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق کراچی میں رمضان میں ڈکیتی مزاحمت پر 19 افراد قتل اور55 سے زائد زخمی ہوئے رواں سال جنوری سے اب تک 58 افراد ڈکیتی مزاحمت پرقتل کیے گئے اور 200 سے زائد افراد ہوئے 2023 میں جنوری سے اپریل تک 25 افراد قتل اور 110 زخمی ہوئے تھے اور مجموعی طور پر سال 2023 میں ڈکیتی مزاحمت پر 108 افراد قتل اور 469 افراد زخمی ہوئے تھے-
پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال کراچی میں ڈاکوؤں سے 425 مقابلے ہوئے اور ان مقابلوں میں 55 ڈاکو ہلاک اور 439 زخمی ہوئے، اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب سابق نگران وزیر داخلہ سندھ حارث نواز کا کہنا ہےکہ وزیراعلیٰ سندھ کا اپنا نکتہ نظرہے مگر ہم نے اچھے کردارکے لوگوں کولگایا، ایک بھی ایس پی، ڈی ایس پی یا ایس ایچ او میں نے نہیں لگایا بلکہ اُس وقت کے آئی جی سندھ نے سکیورٹی کلیئرنس کے بعد افسران کولگایا،نشے کے عادی افراد کےخلاف سخت کریک ڈاؤن کرنا چاہیے، نشے کے عادی افراد بھی ڈکیتیاں کرتے ہیں، جب نشے کے عادی افراد جرائم کرتے ہیں تو انہیں گولی چلاتے ہوئے احساس نہیں ہوتا۔
حارث نواز کا کہنا تھاکہ پولیس اوررینجرز کوسڑکوں پرہونا چاہیے، لوگ رات کو شاپنگ کیلئے نکلتے ہیں تو پولیس افسران رات کو سڑکوں پرنکلیں، جب تک ایس ایس پی رات 8 بجے کے بعد سڑکوں پرنہیں نکلے گا جرائم کم نہیں ہوں گے، افسران اور اہلکار قابل ہیں، بات صرف اتنی ہےکہ پولیس اوررینجرزکوکس طرح استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کچے میں امن کیلئے وڈیروں پر سختی کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہم نےکچے میں اغوا کی وارداتیں تقریباً ختم کردی تھیں، کچے میں جب تک وڈیروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، مقدمے نہیں بنیں گے ڈاکو ختم نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے امن و امان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری نگران حکومت پر ڈال دی اور کہا کہ سندھ میں نگران حکومت کے دور میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی، نگران حکومت نے سندھ کے ایس پی اور تھانیدار تبدیل کیے جیسے وہ سب میرے رشتے دار ہوں، تھانے کے عملے ہیڈ منشی کہیں سے اٹھا کر کہیں پھینک دیے، اسی لیے امن و امان کے مسئلے نے جنم لیا، اس سب کو ٹھیک کر رہے ہیں جس میں وقت لگے گا۔
-

کالے جادو کا الزام،سندھ پولیس کےدو کانسٹیبلز کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش
کراچی: کالے جادو کے الزام میں سندھ پولیس کےدو کانسٹیبلز کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کر دی گئی۔
باغی ٹی وی :سرکاری دستاویزات کے مطابق دو نوں کانسٹیبلز پرسندھ پولیس کے اعلی افسر کی طر ف سے تعویذ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ، ایس ایس پی لیول کےافسر نے 2کانسٹیبلز کی 2سال کی سروس ختم کر دی،دونوں کانسٹیبلز نے قبرستان جا کر ایک افسر کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے نام معلوم کئے۔ ایک کانسٹیبل نےڈی ایس پی کے سامنے اعتراف کیا کہ 2ملزم کانسٹیبلز نے اسے تعویذات کے لیے ایس ایس پی اور اس کے فیملی ممبرز کے نام دئیے تھے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق دونوں کانسٹیبلز کو تعویزکرانے کے الزام پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے پولیس کانسٹیبلز نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ ہم تعویز کو نہیں مانتے، الزامات جھوٹے ہیں، ہماری کردار کشی کی گئی، اور ہمیں سخت سزا دی گئی ہے، ہم آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کی اپیل کر تے ہیں۔
کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی
مولانا کی بچے کے ساتھ بدفعلی، ماریہ کا بھائی کے ہاتھوں قتل، بات اسمبلی پہنچ …
کراچی: ڈکیتی کے واقعات میں ایک شخص جاں بحق،حساس ادارے کے افسر سمیت 2 زخمی
-

کراچی: تاجر کے گھر ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی کی ضمانت منظور
کراچی:عدالت نے اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی ملزم عمیر طارق باجاری کی ضمانت منظور کرلی۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ کی عدالت نمبر 2 کے روبرو اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی ملزم عمیر طارق کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، ملزم کے وکیل عامر منسوب ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ میرے موکل پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، سابق ایس ایس پی ساؤتھ کہ کہنے پر سب کچھ ہوا اور اسے بے قصور قرار دے دیا گیا، ایس ایچ او پیر آباد وہ افسر ہے جو ڈکیتی میں شامل تھا اور وہ اس مقدمے کی انکوائری میں شامل ہے، ہم ٹرائل کا سامنا کررہے ہیں، ضمانت قبول کی جائے،عدالت نے موقف سننے کے بعد ملزم عمیر طارق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ قبل ازیں رواں ماہ 13 دسمبر کو پولیس نے اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر میں کروڑوں روپے ڈکیتی کے کیس میں ڈی ایس پی عمیر طارق باجاری سمیت 8 ملزمان کو واردات میں ملوث قرار دے دیا تھا، پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں مقدمہ کا عبوری چالان پیش کیا پولیس نے عبوری چالان میں ایس ایس پی جنوبی عمران قریشی سمیت دو ملزمان کو بے قصور قرار دے دیا تھا-
چالان میں کہا گیا تھا کہ ایس ایس پی عمران قریشی اور کانسٹیبل عظمت کے خلاف شواہد نہیں مل سکے چالان میں ایس ایس پی عمران قریشی ، ریاض کارپینٹر ، ساون اور عظمت کا نام کالم نمبر دو رکھا گیا ہے، پولیس نے ڈی ایس پی عمیر طارق باجاری سمیت 8 ملزمان کو واردات میں ملوث قرار دے دیا تھا چالان میں کہاگیا تھا کہ انفارمر سے ایس ایس جنوبی کو اطلاع ملی کہ اورنگی ٹاؤن کے گھر میں ایم کیو ایم لندن کے لوگ موجود ہیں، اطلاع تھی کہ اورنگی ٹاؤن کے گھر سے ایم کیو ایم لندن کے لوگوں کو دہشتگردی کے لئے مالی معاونت کی جاتی ہے، یہ بھی اطلاع تھی کہ گھر سے بلیک منی اور ٹیرر فنانسنگ کے شواہد مل سکتے ہیں۔
-

کرکٹر سے رشوت لینے والے پولیس اہلکار گرفتار
کراچی ، کرکٹرصہیب مقصود اور عامر یامین نےسندھ پولیس پر رشوت وصولی کا الزام لگا دیا
کرکٹر صہیب مقصود،عامر یامین کا کہنا ہے کہ کراچی سے ملتان جاتے ہوئے پولیس نے روکا اور رشوت طلب کی، پولیس اہلکاروں نے تعارف کرانے کے باوجود ہم سے رشوت لی، پولیس ہر پچاس کلو میٹر فاصلے پر روک کر رشوت لیتی ہے،
اگر آپ انہیں رشوت دے دیتے ہیں تو 50 کلومیٹر کے بعد پھر وہ آپ کو روکیں گے اور پھر پیسے مانگیں گے۔پولیس آپ کو بغیر کسی وجہ کے پولیس اسٹیشن لے جانے کی دھمکی دیتی ہے۔صہیب مقصود نے کہا کہ سندھ پولیس میں کرپشن عروج پر ہے۔آئی جی سندھ نے عامر یامین کی شکایت کا نوٹس لےکر ڈی آئی جی بے نظیر آباد کو تحقیقات کا حکم دے دیاhttps://twitter.com/sohaibcricketer/status/1729219848230613220
سکرنڈ کے قریب ہائی وے پر قومی کرکٹرز سے پولیس کی مبینہ رشوت وصولی کا واقعہ،قومی کرکٹرز سے مبینہ رشوت وصولی میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا،ترجمان سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی شہیدبینظیرآباد نے انکوائری رپورٹ مرتب کرلی، سکرنڈ تھانہ کے 04 پولیس اہلکار ملوث پائے گئے، اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جارہی ہے،
اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی
ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں
خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی
-

سندھ پولیس میں ایس ایس پیز کی تقرریاں اور تبادلے
کراچی: سندھ پولیس میں ایس ایس پیز کی تقرریاں اور تبادلے کردئیے گئے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
باغی ٹی وی: نوٹیفکیشن کے مطابق غلام مرتضی تبسم کو اے آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی تعینات کردیا گیا جبکہ ذیشان شفیق صدیقی کو اے آئی جی انٹرنل اکاؤنٹنٹیبلیٹی بیورو تعینات کیا گیا ہے،جنید احمد شیخ کو اے آئی جی موٹر ٹرانسپورٹ سندھ تعینات کردیا گیا جبکہ خالد مصطفٰی کورائی کو ایس ایس پی ایس آئی یو تعینات کردیا گیا ہے، شکیل احمد سرفراز کو ایس ایس پی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن برانچ ٹو تعینات کردیا گیا ہے۔
آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائیں، عام انتخابات کے پرامن انعقاد اور سیکیورٹی کے حوالے سے جامع منصوبہ تیار کیا جائے، اینٹی اسمگلنگ مہم کے مطابق آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی پر مشاورت کی گئی-
https://x.com/SindhPoliceDMC/status/1726547776719520084?s=20
آئی جی سندھ نے کہا کہ آئندہ ہونیوالے عام انتخابات پر مشتمل ایجنڈاز کو پوائنٹ ٹو پوائنٹ زیر بحث لایا گیا اور بعدازاں بریفنگ میں مزید ہدایات اور فیصلے کئے گئے ،اجلاس میں ڈی آئی اسپیشل برانچ نے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی اور اس حوالے سے قائم کردہ مراکز برائے غیرقانونی تارکین وطن کے جملہ امور و اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی، زونل و رینج ڈی آئی جیز نے بھی اجلاس میں زیر بحث ایجنڈا پر مختلف حوالہ جات اور اقدامات پر مشتمل بریفنگ دی۔آئی جی سندھ نے ہدایات دیں کہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے شناختی کارڈ,فیملی ٹری نادرا سے چیک کروائیں اور اگر اس حوالے سے ایشوز سامنے آتے ہیں تو ان کی باقاعدہ فہرست ارسال کی جائے تاکہ انھیں جلد سے جلد حل کیا جاسکے،ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جو بھی ٹیمیں کام کررہی ہیں یا جتنی بھی ٹیمیں وقف ہیں وہ اپنے کام میں مزید تیزی لائیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ صوبے میں جاری اینٹی اسمگلنگ مہم کو مذید تیز کریں اور اسمگلنگ میں ملوث گروہوں,ان کے کارندوں اور سرپستوں پر مضبوط ہاتھ ڈالیں،اسمگلنگ کے خلاف عمدہ کارکردگی اور کریک ڈاؤن پر آئی جی سندھ نے ایس ایس پی شکارپور کو شاباش دی اور سراہا۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ آئندہ ہونیوالے عام انتخابات کی مناسبت سے باقاعدہ فہرست تیار کی جائے جسکے تحت تھانہ جات کی حدود میں قائم کردہ پولنگ اسٹیشنز, امیدواران,ووٹرز کی تعداد,قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں, انتہائی حساس,حساس و نارمل پولنگ اسٹیشنز کی ، تعداد سمیت دیگر ضروری اقدامات کا احاطہ کیا جائے تاکہ فہرست کی بنیاد پر فول پروف سیکیورٹی کے ضمن میں افرادی قوت کی ڈپلا ئمنٹ کی جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ شفاف,غیرجانبدارانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز,قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ مضبوط رابطوں پر مشتمل جامع منصوبہ تیار کیا جائے جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق اور اسکی ترجیحات پر عمل درآمد جیسے اقدامات کو لازماً شامل کیا جائے۔