Baaghi TV

Tag: سندھ ہائی کورٹ

  • پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    تحریک انصاف کے رہنماوں حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر نے پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پولیس ہمارے خلاف مقدمات درج کرکے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کی توہین کررہی ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سعید کے بینچ نے دفعہ 144 کے مقدمات درج کرنے سے روکا تھا۔پریڈی اور سہراب گوٹھ پولیس نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مئی سے کراچی میں جلسے کی اجازت مانگ رہے ہیں لیکن ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس جس طرح پی ٹی آئی کے پیچھے لگی ہے اسی طرح اگر دہشتگردوں کے پیچھے پڑ جائے تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

    ریلوے اسٹیشنز پر لگے سیکیورٹی کیمرے و دیگر آلات خراب نکلے

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

  • سندھ ہائی کورٹ کے توہین عدالت کی درخواست پرحکومت سندھ ودیگر کو نوٹس جاری

    سندھ ہائی کورٹ کے توہین عدالت کی درخواست پرحکومت سندھ ودیگر کو نوٹس جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی ای) میں معزور افراد کے کوٹہ پرنوکریوں کے حکم پرعمل نہ کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرحکومت سندھ، کے ڈی اے اوردیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں معزور افراد کے کوٹہ پر نوکریوں کے حکم پرعمل نہ کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ 28 اپریل 2021 کو عدالت نے دونوں معزور افراد کو نوکری پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم پر عملدرآمد ناکرنے پر توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔عدالت نے حکومت سندھ کے ڈی اے اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے 7 روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    کراچی:گاڑی ٹکر سے نجی ٹی وی چینل کا کارکن جاں بحق، ڈمپر نے نوجوان کچل دیا

  • ٴْداؤد یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف درخواست دائر

    ٴْداؤد یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف درخواست دائر

    سندھ ہائی کورٹ داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سابقہ وی سی کے دور میں گریڈ 18 کے افسران کی غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف درخواست دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق درخوستگزار نے دائر درخواست میں موقف دیا ہے کہ سابق وی سی فیض اللہ عباسی کے دور میں 2014 سے 2022 تک ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کی انکوائری اینٹی کرپشن نے کی مگر اینٹی کرپشن کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی۔سلیکشن بورڈ کے بغیر غیر قانونی بھرتیاں، بغیر کسی اشتہار، انٹرویو، بغیر سنڈیکیٹ وغیرہ کے گریڈ 18 میں چند من پسند افراد کی براہ راست بھرتیاں کی گئیں۔داؤد یونیورسٹی میں انجینئر ساجد حسین سیال، فدا حسین کھوسو، انجینئر دریا خان کاکے پوٹو، مس درخشاں آرا اور دیگر کو گریڈ 18 میں بھرتی کیا گیا۔مس تہمینہ کو 2017 میں جعلی این ٹی ایس کارڈ پر اور پی اے سی کارڈ کے بغیر جیولوجسٹ کی سیٹ کے لیے بھرتی کیا گیا تھا جب لیب انجینئر کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا گیا تھا۔دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ انجینئر عرفان عباسی جو کہ بی ای ٹیکسٹائل ہیں کو انرجی اینڈ انوائرمنٹ انجینئرنگ میں بطور لیکچرار بھرتی کیا گیا تھا جبکہ اشتہار میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ بی ای متعلقہ شعبے میں ہونا چاہیے۔انجینئرز ساجد سیال، فدا کھوسو، دریا خان کاکے پوٹو اور درخشاں آرا کو 2 نومبر کو ہونے والی سنڈیکیٹ میں پروفیسر گریڈ 21 میں ترقی دی جا رہی ہے۔

    برطانیہ میں پاکستانی ملازمین کی شدید ضرورت، ویزوں کا اعلان

    برطانیہ میں پاکستانی ملازمین کی شدید ضرورت، ویزوں کا اعلان

    اللہ کی رضا کیلئے نتاشا کو معاف کیا‘ کارساز واقعے کے ورثا کا حلف نامہ جمع

  • کراچی کی خاتون پڑوسی کی مرغیوں کے شور سے تنگ ہائیکورٹ جا پہنچیں

    کراچی کی خاتون پڑوسی کی مرغیوں کے شور سے تنگ ہائیکورٹ جا پہنچیں

    کراچی کے علاقے کلفٹن میں پڑوسی کی مرغیوں کے شور سے تنگ خاتون عدالت جا پہنچیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کلفٹن کنٹونمنٹ کے علاقے میں گھر میں مرغیاں پالنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے ابھی تک اس حوالے سے قوانین کیوں نہیں بنائے، کیا آپ کا کوئی بنیادی حق متاثر ہو رہا ہی درخواست گزار خاتون نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ مرغیاں دکانوں میں فروخت کررہے ہیں یا گھروں میں پالے ہوئے ہیں، کیا آپ کا کوئی بنیادی حق متاثر ہو رہا ہی خاتون نے کہا کہ بغیر لائسنس پڑوسی نے گھر پر مرغیاں پال رکھی ہیں، مرغیوں کے شور سے تنگ ہوتے ہیں، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ نے بتایا ہے یہ غیر قانونی ہے۔سی بی سی کے وکیل نے کہا کہ کوئی مرغی رکھے یا نہ رکھے ایسا کوئی قانون نہیں۔درخواست گزار خاتون نے کہا کہ میں نے ثبوت کی طور پر ویڈیوز بھی فراہم کی تھیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

    رئیر ایڈمرل فیصل امین نے کمانڈر کوسٹ کا عہدہ سنبھال لیا

    حریت وفد کی ہیومن رائٹس کونسل، ایم کیو ایم اور فلسطین فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں

    جماعت اسلامی سندھ کے نئے امراء اضلاع کے تقرر کا اعلان

    مالکن کو بیہوش کرکے ملازمہ سوا کروڑ سے زائد کا سونا اور نقدی لے اڑی

    کے-الیکٹرک کی 16 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست

  • سندھ ہائیکورٹ کا میئر کراچی کے براہ راست انتخاب سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری

    سندھ ہائیکورٹ کا میئر کراچی کے براہ راست انتخاب سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے میئر کراچی کے براہ راست انتخاب سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل درخواستگزار کے مطابق مئیر کراچی سے متعلق درخواستیں آئینی تناظر میں دائر ہیں۔ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ درخواستیں آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے۔جب تک صوبائی اسمبلی میں آئینی بینچ کی تشکیل کا مرحلہ مکمل نہیں ہوتا اس وقت روسٹر کے مطابق بینچز سماعت کرتے رہیں گے۔ 26 ویں ترمیم کے تحت ہائی کورٹس میں آئینی بینچ کی تشکیل کے لئے متعلقہ اسمبلیوں کو کثرت رائے سے قرارداد منظور کرنا ہوگی۔ آئینی بینچ کا مرحلہ مکمل ہونے تک حسب معمول بینچز اپنا کام جاری رکھیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔ عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے عبوری حکم امتناع میں آئندہ سماعت تک توسیع کردی ۔ عدالت نے مئیر کراچی کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کر رکھا ہے۔

    ایکسپو سینٹر میں پانچویں ٹیکسپو پاکستان نمائش کا باقائدہ آغاز ہو گیا

    رعنا انصار کے بیٹے کی نمازِ جنازہ ادا ، چیئرمین ایم کیو ایم سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

  • 26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جانے والی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے جہاں درخواست میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد انس نامی شہری نے وکیل عدنان خان کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عدالتی امورپر تجاویز دینے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے درخواست میں 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ادھر 26ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے۔عدالت عالیہ میں درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوں نے درخواست میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے اور اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئینی ترمیم کی سیکشن 8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیںدرخواست میں سکریٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکریٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ ماہ سے حکمران اتحاد آئینی ترامیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں سیاسی جماعتوں سے بھرپور لابنگ کرنے میں مصروف تھا جہاں ان ترامیم میں بنیادی توجہ عدلیہ پر مرکوز تھی۔اس دوران کئی دن تک جاری مشاورت میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت کوشش کے باوجود بھی اس ترامیم کو ایوان میں سے منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔تنازع کی ایک بڑی وجہ ایک مجوزہ وفاقی آئینی عدالت تھی، جس کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بجائے آئینی بینچ کے قیام کا مطالبہ کیا جسے بعدازاں مسودے کا حصہ بنا لیا گیا۔اس سلسلے میں فیصلہ کن پیشرفت گزشتہ ہفتے ہوئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں کامیاب رہے جنہوں نے ترامیم کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو قائل کیا۔اتوار کو بالآخر کابینہ سے 26ویں آئینی ترمیم کا پیکج منظور ہونے کے بعد اسے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔وزیر اعظم نے ترامیم کو منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس ارسال کیا جنہوں نے گزشتہ روز 26ویں آئینی ترمیم کے گزیٹ پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی۔ان ترامیم میں سب سے اہم بات چیف جسٹس کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے جہاں پہلے سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے تھے تاہم اب اسے تبدیل کردیا گیا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس کی تقرری سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کی جائے گی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی اس کا حتمی فیصلہ کر کے نام وزیر اعظم کو بھیجے گی۔اس کے حوالے سے ترامیم میں آئینی بینچز کے قیام کے ساتھ ساتھ ججوں کی کارکردگی اور فٹنس کو جانچنے کے حوالے سے شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

    آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ، بُلند ترین سطح پر

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

  • حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کے متنازع قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کی درخواست کردی۔

    انکوائری کی درخواست وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی جانب سے کی گئی جس میں 18 ستمبر 2024 کو تھانہ سندھڑی، میرپور خاص کی حدود میں ہونے والے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتا لگانے کی استدعا کی گئی۔ڈاکٹر کنبھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا اور واقعے سے ایک دن قبل ان کے خلاف مذکورہ دفعات کے تحت عمرکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور سندھ آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔تاہم آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

    قتل کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی لاش کو جلانے کی کوشش کی گئی اور لاش کی بے حرمتی نے عوام کو مزید مشتعل کردیا اور ان واقعات کے بعد عمرکوٹ میں تعزیرات پاکستان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور 2022 کے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام و تحفظ کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔27 ستمبر 2024 کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خاندان نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قتل، اغوا اور دوران حراست تشدد کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ اب ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عدالتی تحقیقات پر مصر ہے۔محکمہ داخلہ نے استدعا کی کہ حقائق کا پتا لگانے اور سوگوار خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل

    واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کے خلاف عمرکوٹ پولیس نے مبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس تمام واقعے سے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں ملزم کراچی فرار ہو گیا ہے لیکن عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر کے میرپورخاص منتقل کردیا جہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘(پولیس مقابلے) میں ہلاک کر دیا تھا۔سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کے ساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تاہم ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ نے اسے جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واقعے کے ایک ہفتے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا اور مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا جب کہ متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائےگی۔اس کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کر کے اس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی ، ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ نے براہ راست میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں براہ راست میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزاورں کے وکیل راجہ قاسط نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونین کمیٹی کی سطح پر الیکشن پہلے ہوتے ہیں۔چیئرمین ٹی ایم سی، میئر یا ڈپٹی میئر کے لئے بطور یوسی چیئرمین کامیاب ہونا ضروری ہے۔ لوگل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم سے پہلے منتخب ہونا ضروری تھا۔ الیکشن کے اعلان کے وقت جو قوانین موجود تھے، انتخابات کے وقت بھی وہی قوانین ہوتے ہیں۔ میئر بننے کے بعد الیکشن لڑنے سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا اعتراض ہے کہ براہ راست انتخاب سے اسکروٹنی کا عمل بائی پاس کیا گیا براہ راست میئر کے انتخاب کے بعد جب یوسی چیئرمین کے الیکشن لڑیں گے تو اسکروٹنی کا عمل بھی مکمل ہوجائے گا۔
    راجہ قاسم ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ میں انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا گواہ ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پھر کٹہرے میں آنا ہوگا۔ وکیل گواہ نہیں ہوسکتا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ پورا کراچی اس بات کا گواہ ہے۔ اگر ترمیم کی ضرورت تھی تو اگلے انتخابات کے لئے کردی جاتی۔ ایک شخص کو فائدہ دینے کے لئے ترمیم کی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر نے یوسی چیئرمین کا الیکشن کب لڑا تھا سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ 5 نومبر 2023 میئر نے یوسی الیکشن لڑا۔
    سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 15 جون 2023 کو لوکل گورنمنٹ کے الیکشن ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی کا اعتراض بنتا تھا تو وہ پارٹی کے اراکین کا بنتا تھا۔ ان کی موجودگی میں کسی اور کو لاکر میئر بنانے پر انکا اعتراض بنتا تھا۔ وہ تمام لوگ نا صرف خاموش رہے اور ووٹ بھی دیئے۔ کسی پارٹی رکن نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ وکیل درخواستگزار نے موقف دیا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن ہوئے۔
    پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا، کوئی رکن کیا اعتراض کرے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ منتخب رکن عوام کی آواز ہوتا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر دیگر امیدواروں کو پتہ ہوتا تو وہ بھی الیکشن نہیں لڑتے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ قانونی دلیل تو نہیں ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر کوئی منتخب فرد میئر بنتا تو ہم عدالت ہی نا آتے۔ہمارا اعتراض ہی یہ ہے کہ ایک چہیتے شخص کو لاکر میئر بنا دیا گیا ہے۔ مرتضی وہاب کے کاغذات نامزدگی پر جو رہائشی پتہ درج ہے وہ موجود ہی نہیں۔ بیرسٹر حیدر وحید وکیل مرتضی وہاب نے موقف دیا کہ چلیں ابھی سماعت کے بعد انکے گھر چلتے ہیں۔ عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

  • سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روکتے ہوئے بنائی گئی کمیٹی کو تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کرنے اور ایف آئی اے کو اس معاملے میں تحقیقات کے لیے ٹیم نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔چیف سیکریٹری سندھ، جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جن کے مارکس 195 سے زیادہ ہیں، یہاں ہم سندھ کے بچوں کے رزلٹ کو پنجاب اور کے پی کے بچوں سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس امجد سہتو نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کا اس حوالے سے معاملہ ختم ہوگیا کہ پیپر لیک ہوا یا نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر امتحان میں کوئی خامی ہے تو یہ بھی بتایا جائے، 187 مارکس حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد 1100 سے زیادہ تھی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ کے پی اور پنجاب کے طلبہ کے نمبرز کی تفصیل آجائیں تو سندھ سے میچ کیا جائے گا۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ اگر پیپر کسی ایک سینٹر کا لیک ہوا تو اس ڈویڑن کا پیپرز روکا جائے، پورے سندھ کے نہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے جو 190 پلس والے طلبہ کہاں جائیں گے۔ پنجاب میں 58 ہزار، کے پی میں 42 ہزار اور سندھ میں 38 ہزار طلبہ نے امتحان دیا ہے۔وائس چانسلر نے بتایا کہ محکمہ صحت نے ایک کمیٹی بنائی جس میں لگائے گئے الزامات کا ثبوت نہیں ملا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کہیں نہ کہیں پر یہ چیز ضرور ہوئی اس لیے الزامات لگتے ہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہ چیزیں غلط چلا رہا ہے اور وہ بلیک میلنگ کر رہے ہیں، باقی انتظامیہ دودھ کی دھلی ہوئی ہے۔ پیپر لیک ہونے والی بات ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میرا گھر مجھے بنانے دیں میں اچھا بناؤں گا۔سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے کہا کہ محکمہ صحت کا رول یہ تھا کہ کریکیولم میں تبدیلی کریں، مجھے بھی 12 بجے میسیجز آئے۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ جب شکایتیں آئیں تو آپ پیپر منگواتے، کسی ادارے نے زحمت نہ کی پیپر لیک ہوا کہ کینسل کریں۔ اس معاملے پر جو کام کیا ہے وہ سیکریٹری صحت نے بھی نہیں کیا۔ محکمہ صحت اور پی ایم ڈی سی مکمل ملے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کیس آیا ہے تو انصاف تو کرنا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روک دیا۔
    عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اس پروسیس پر عمل نہیں ہو جاتا ایم ڈی کیٹ ایڈمیشن کے رزلٹ کو ہولڈ کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا ہے کہ 38 بچوں نے سندھ میں 190 سے زیادہ مارکس لیے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام فریقین کو اس حوالے سے نوٹیفائی بھی کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری اوقاف پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی کو اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔
    چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سیکریٹری اوقاف اس سے قبل بورڈز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کریں اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی حکم دیا جاتا ہے اس معاملے میں تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم نامزد کرے۔ عدالت کی جانب سے درخواستوں کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی میں سیکڑوں بچوں نے ہم سے رابطہ کیا، سیکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے، 8 ہزار پر بچہ لے کر 10 کروڑ روپے ڈاؤ یونیورسٹی کو ملے ہیں اور 7 کروڑ روپے سے زیادہ میڈیکل ٹیسٹ کیلیے لیے گئے۔ بچوں کی جانب سے میں ایوان سے شدید مذمت کرتا ہوں، عدالت کے بڑے شکر گزار ہیں جنہوں نے بچوں کی فریاد پر دو کمیٹیاں بنا دی ہیں۔
    خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ عدالت نے تحقیقات کرکے 15 دن میں جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹیوں میں ایف آئی اے اور ایم آئی ٹی پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے۔ پورے سندھ میں 199 مارکس مختلف طلباء نے حاصل کیے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا۔ آدھے سے زیادہ طلباء بیرون بورڈ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آخر کار پیپر لیک کرنے والا مافیا ہے کون پچھلے 4 سے 5 سالوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہو رہے ہیں۔
    پیپر فوٹو اسٹیٹ دکانوں پر سو روپے میں بیچے جا رہے ہوتے ہیں۔ اب ظلم یہ ہے کہ میڈیکل بورڈز کے بھی پرچے لیک ہو رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایک انسٹیٹیوٹ کے 132 بچوں نے 199 نمبرز حاصل کیے ہیں، ان بچوں کے مستقبل کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ ہم ڈاؤ اور پی ایم ڈی سی کو ان کے اس جرم کی سزا دلوائیں گے۔ جب ٹیسٹ کے لیے آئی بی اے موجود ہے تو ڈاؤ کیوں لے رہا ہے۔ عدالت میں سارا معاملہ رکھا ہے بچوں کے مستقبل سے متعلق سے نہیں کھیلا جائے گا۔

    عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    جمعیت علماء اسلام کے وفد کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات اور تعزیت

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

  • کے الیکٹرک کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست مسترد

    کے الیکٹرک کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست مسترد

    سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست مسترد کر دی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ درخواست مسترد کرنے کی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی، فنانس ایکٹ کے تحت ٹیکس کا نفاذ کیا جاتا ہے، آپ نے فنانس ایکٹ چیلنج کیا؟۔سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کئی ماہ بعد ہوتے ہیں اگر کوئی کرایہ دار ہے تو یہ فیول ایڈجسٹمنٹ اس کی حق تلفی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نیپرا درخواست کا جائزہ لے کر فیول ایڈجسٹمنٹ طے کرتا ہے۔کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ ایڈوانس ٹیکس، اِنکم ٹیکس دینے والے صارفین پر نافذ نہیں ہوتا اگر درخواست گزار انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں تو ہم سے رابطہ کر لیتے، بجلی ایک قابل فروخت شے ہے جس پر ٹیکس لگتے ہیں۔فیول ایڈجسٹمنٹ تیل کی قیمتوں کے مطابق ریگولیٹ ہوتے ہیں۔وکلاءکے دلائل کے بعد عدالت نے کے الیکٹرک کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے کے-الیکٹرک کے بلوں میں میونسپل ٹیکس کی وصولی کے خلاف درخواست پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کے-الیکٹرک اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اگست تک جواب طلب کیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پہنورکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر اور جماعت اسلامی کے رکن سیف الدین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور حکم نامہ جاری کردیاتھا۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے اسکولوں اور اسپتالوں کی فہرست طلب کرلی اور حکم دیا ہے کہ سکولوں اور ہسپتالوں میں بالترتیب طلبہ اور عملے کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں۔عدالت نے مئیر کراچی، کے-الیکٹرک اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ مئیر کراچی کی جانب سے لگائے گئے میونسپل ٹیکس غیر قانونی قرار دیا جائے، مئیر کراچی اور کے-الیکٹرک کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

    خواتین کو شرعی وراثتی حق فراہم کرنے کی ضرورت،سپریم کورٹ کا فیصلہ