Baaghi TV

Tag: سندھ ہائی کورٹ

  • ایم کیو ایم کی سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف پٹیشن دائر

    ایم کیو ایم کی سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف پٹیشن دائر

    ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی عامر صدیقی نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے.

    باغی ٹٰ وی کی رپورٹ کے مطابق ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف پٹیشن دائر کر کے میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ایڈوکیٹ حسان صابر اور رکن سندھ اسمبلی عبدالوسیم بھی موجود تھے۔ عامر صدیقی نے مزید کہا کہ جو لوگ بل ادا نہیں کرتے انکی بجلی بند کرنے کے بجائے پورے پورے فیڈر پر لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، نیپرا قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئی ہی. ایم کیو ایم نے عوامی احتجاج کر کے بھی کے الیکٹرک کے زمہ داران کو عوام کو پہنچنے والی تکلیف سے آگاہ کیا تھا اور اب ہم ان کے خلاف عدالتوں کا رخ کر رہے ہیں، کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہے، یہ سندھ حکومت کی بنائی ہوئی قائمہ کمیٹی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے لیکن ایم کیو ایم عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ اس ظلم کے نظام سے عوام کی جان چھڑانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    عوام کے حقوق اور بلدیاتی اختیارات لے کر رہیں گے،منعم ظفر خان

    کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ملک میں انارکی ہوگی، نیپرا

  • ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    کارساز حادثے میں ملوث ملزمہ کی منشیات استعمال کرنے کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور ہوگئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے تحریری حکمنامے میں ملزمہ کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے باپ بیٹی کے ورثاء 6 ستمبر کو ملزمہ کو معاف کرنے کا حلف نامہ جمع کرواچکے ہیں جس کی وجہ سے اقدام قتل کے کیس میں ملزمہ پہلے ہی ضمانت حاصل کرچکی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا وہ شراب نوشی سے متعلق ہیں، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے۔ملزمہ کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ان کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال ہے۔ مرکزی کیس میں ورثاء کی ملزمہ سے صلح ہوچکی ہے۔

    کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے لہٰذا کیس مزید انکوائری کا بنتا ہے۔ ملزمہ کے تین بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں۔ انہیں ماں کی ضرورت ہے۔ ملزمہ گزشتہ 6 ہفتوں سے جیل میں ہے۔ عدالت ملزمہ کی 10 لاکھ روپے میں ضمانت منظور کرتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کار ساز حادثہ کیس کو میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ملی، سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر آواز بلند کی جو ملزمہ کے حق میں نہیں تھی، یہ واضح کر دیں عدالت کسی دباؤ میں آئے بغیر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا عدالت نے ان کا جائزہ لیا ہے۔ٕٕ

    شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ موجودگی کا انکشاف

    کیس میں ملزمہ کے خلاف لگائی دفعات شراب نوشی سے متعلق ہیں، ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات ایکٹ 1979 کی سیکشن 11 کا اطلاق حیران کن ہے، یہ نشہ آوار مواد ہے جو مبینہ طور پر ملزمہ کے جسم سے الکحول کی جگہ ملا، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے، ملزمہ کےخلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا اس میں زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، کیمیکل ایگزیمینر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے، کیس مزید انکوائری چاہتا ہے۔

    یو این یوٹیوب چینل پروزیراعظم شہبازشریف کا خطاب سب سے مقبول

    19 اگست کو حادثہ پیش آیا.یاد رہے کہ 19 اگست کو کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف باپ اور بیٹی تھے۔ جاں بحق عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔آمنہ عارف والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر سے گھر جا رہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔

  • جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت اور پاکستان بار کونسل کی جواب جمع کروانے کی مہلت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ بار، کراچی بار اور دیگر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔جامعہ کراچی اور پولیس نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔ جامعہ کراچی نے جواب میں کہا ہے کہ درخواستگزار کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی پٹیشن دائر کرے۔ یونیورسٹی کی ڈگری کوئی پبلک ڈاکیومنٹس نہیں ہوتی جبکہ یہ صرف طالب علم کی ملکیت ہوتی ہے۔ درخواستگزار کو ڈگری کے جھوٹا ہونے کا اندیشہ تھا تو کراچی یونیورسٹی سے رابطہ کرسکتا تھا۔
    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا پیپرکتنے لاکھ میں لیک ہوا؟طلبا کا انکشاف سامنے آ گیا
    جامعہ کراچی نے کہا کہ درخواستگزار نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ طالب علم کی ڈگری کو عدلیہ کی آزادی سے منسلک کرے۔ کراچی یونیورسٹی کو سنے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یونیورسٹی نے غیر قانونی کام کیا ہے۔ درخواستگزار نے مفروضوں کو بنیاد بناکر درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست کے ذریعے یونیورسٹی کے معاملات میں دخل اندازی کی گئی ہے۔
    کوئی بھی تعلیمی ادارہ سکھانے کا مرکز ہوتا ہے اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر چلتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کا حکم ان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کا حکم کراچی یونیورسٹی کے اس ریکارڈ کے مطابق ہے جو انہیں مہیا کیا گیا ہے۔وفاقی حکومت اور پاکستان بار کونسل نے جواب جمع کروانے کے لئے مہلت کی استدعا کردی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اسلامیہ کالج پشاور کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہی درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ اسلامیہ کالج کو بھی فریق بنا رہے ہیں۔
    عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت نے ان فئیر مینز کمیٹی کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کا فیصلہ معطل کرکے جامعہ کراچی کو معاملے پر کسی بھی کارروائی سے روک رکھا ہے۔عدالت نے پیمرا کو ان فیئر مینز کمیٹی سے متعلق خبروں اور ایف آئی اے کو ڈگری سے متعلق تحقیقات سے بھی روک رکھا ہے۔

  • کارساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشا کے ریلیز آرڈر جاری

    کارساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشا کے ریلیز آرڈر جاری

    جوڈیشل میجسٹریٹ ایسٹ نے کارساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشا کی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ریلیز آرڈر جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزمہ کی جانب سے دس لاکھ کے مچلکے جمع کروائے گئے ہیں ۔آج صبح سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں کار ساز حادثہ کیس میں ملزمہ نتاشہ دانش کی ضمانت منظور کی تھی۔۔ملزمہ کو 3 اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا.سندھ ہائی کورٹ میں کارساز میں پیش آنے والے حادثے میں ملوث مرکزی ملزمہ کی جانب سے انسدادِ منشیات کے مقدمے میں ضمانت کے لئے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی تھی۔ ملزمہ کار ساز حادثہ کیس میں پہلے مقدمے میں ضمانت پر ہے۔واضح رہے کہ 13 ستمبر کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشہ دانش کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

    سندھ کےسیاحتی مقامات پرشوٹنگ کی سرکاری فیس میں بڑی کمی

  • سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سندھ ہائیکورٹ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ اتھارٹی کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا، جس کے تحت مدعا علیہ کو سروسز ڈپارٹمنٹ کی ریکوزیشن کے تحت اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں تعینات کیا گیا۔عدالت عالیہ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی بذریعہ ڈیپوٹیشن غیر قانونی ہے۔ عدالت عالیہ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی و میر پور خاص سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سروسز ڈپارٹمنٹ کے ریکوزیشن آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت عالیہ نے سید ذوالفقار علی شاہ کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس قانون کے تحت سرچ کمیٹی کی سفارشات جو مسابقتی طریقہ کار کے تحت کی گئی ہو چیئرمین، سیکریٹری اور کنٹرولر کو تعینات کرنے کا اختیار ہے، جبکہ 1972 کے آرڈیننس میں یہ نہیں کہا گیا کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس وفاقی حکومت کے افسر کو براہ راست ریکوزیشن کے تحت تبادلہ کروا سکے۔واضح رہے کہ ذوالفقار علی شاہ بیک وقت چیئرمین انٹربورڈ کراچی اور میرپور خاص میں تعینات تھے۔

  • سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس ریٹائرڈ حازق الخیری انتقال کرگئے

    سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس ریٹائرڈ حازق الخیری انتقال کرگئے

    کراچی:سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس ریٹائرڈ حازق الخیری انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: اہلخانہ کے مطابق نماز جنازہ آج دوپہربعد نماز ظہر مبارک مسجد ڈی ایچ اے فیز 5 میں ادا کی جائےگی جسٹس ریٹائرڈ حازق الخیری سندھ ہائی کورٹ کے بھی جج رہ چکےہیں۔

    روضہ رسول ﷺ کے اطراف سونے اور تانبے کے نئے حصار کا افتتاح

    اس کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ حازق الخیری نے بطور صوبائی محتسب، پرنسپل سندھ مسلم لاء کالج میں بھی خدمات انجام دی وہ اردو کے معروف ادیب علامہ راشد الخیری کے پوتے تھے۔

    پاکستانی قاضی اور مصنف حازق الخیری نے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس، سندھ ہائی کورٹ کے جج اور سندھ مسلم لاء کالج کے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ برطانوی ہند کے ممتاز سماجی مصلح علامہ راشد الخیری کے پوتے تھے-

    وزارت تجارت کی اسرائیل سے تجارت کی خبروں پر وضاحت

    حاذق الخیری 5 نومبر 1931ء کو دہلی میں ایک ادبی گھرانے میں رازق الخیری اور بیگم آمنہ نازلی کے ہاں پیدا ہوئے،حاذق کے دادا علامہ راشد الخیری تھے جو برطانوی ہند کے سماجی مصلح اور اردو زبان کے نامور ادیب تھے خیری سینئر سرکاری ملازم رضوان احمد کے سسر ہیں۔

    حاذق خیری نے ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی لیکن بعد میں پاکستان کی آزادی کے بعد خیری کے خاندان کے ہجرت کے بعد کراچی میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 1954ء میں آرٹس میں گریجویشن کیا اور 1956ء میں سندھ مسلم لاء کالج سے بیچلر آف لاء کی ڈگری حاصل کی۔ خیری نےسیاست میں ماسٹرکی ڈگری بھی حاصل کی انہوں نے 9 مئی 2004 سے 4 جون 2009 تک بطورچیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ میں اپنی خدمات سرانجام دیں-

    پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق وائرل خبروں پر وزارت خزانہ کی وضاحت

  • سندھ ہائی کورٹ کا شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ کا شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ نے شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں آج بروز جمعہ 20 جنوری کو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

    جسٹس نعمت اللہ نے شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جس علاقے سے شہری لاپتہ ہوں متعلقہ تھانے میں فوری مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے ایس ایچ او شاہ لطیف کو حکم دیا کہ لاپتہ شہری میر علی حیدر کی گمشدگی کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کی جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار
    سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا شہری حیدر علی کی فوری بازیابی کا حکم دے دیا جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ لاپتا شہری منظور احمد گھر واپس آ گیا ہے۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا گمشدگی کے دوران منظور احمد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے، عدالت نے اسٹیل ٹاؤن سے لاپتا ہونے والے شہری منظور احمد کی گمشدگی کی درخواست نمٹا دی۔ اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ نے شہریوں کی گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

  • چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کےتبادلےکردیے

    چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کےتبادلےکردیے

    کراچی :سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پینتس ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کے تبادلے کردیے۔تفصیلات کے مطابق رجسٹرارسندھ ہائی کورٹ نے 35 ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ ججز کے تبادلوں سے متعلق نوٹفیکشن جاری کردیا۔رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹفکیشن میں بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی ون حلیم احمد کا تبادلہ ملیر کردیا گیا۔

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کا فیصلہ

    نوٹفیکشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر شاہد احمد اعوان کا تبادلہ شہید بے نظیر آباد کردیا گیا۔ ذوالفقار علی شیخ کا تبادلہ جیکب آباد سے دادود کررہا گیارجسٹر سندھ ہائی کورٹ نے نوٹفکیشن میں بتایا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن خالد شیخ کو سندھ ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔

    پی ٹی آئی نے الیکشن شیڈول کے بعد سیاسی بنیادوں پرایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کردیا۔پی ٹی آئی کراچی کے صدراور ایم پی اے بلال غفار نے شہاب امام ایڈووکیٹ کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

    اس مرتبہ مردم شماری سب کیلئے قابل قبول ہو گی،سعید غنی

    کراچی پولیس میں اصلاحات اور جدت پر تیزی سے کام جاری ہے، پولیس نے اسمارٹ کار تیار کر لی۔تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ کار تیار کر لی گئی ہے جو جلد سڑکوں پر دکھائی دے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ کار کی چھت پر ہائی ریزولوشن ریوالونگ کیمرہ نصب ہے۔ اسمارٹ کار پر لگا کیمرہ پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسلک ہوگا۔

    عورت مارچ، اجازت کے لئے انتظامیہ کو درخواست دے دی گئی

    کار میں وائر لیس سسٹم کے علاوہ تلاش اور تصدیقی ڈیوائس بھی موجود ہوگی۔ اسمارٹ کار میں دو افسر تعینات ہوں گے جن میں سے ایک افسر خود گاڑی ڈرائیو کرے گا جبکہ ایک افسر کی باڈی پر بھی کیمرہ نصب ہوگا۔ اسمارٹ کار پر تعینات افسران تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق ہوں گے۔

  • فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی لگوانے کی ایک اور کوشش ناکام

    فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی لگوانے کی ایک اور کوشش ناکام

    فلم جوائے لینڈ جس کو پنجاب میں‌تاحال نمائش کی اجازت نہیں ملی ، صوبہ سندھ میں اس فلم کی نمائش کامیابی سے جاری ہے ، لوگوں کی ایک بڑی تعداد فلم دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کررہی ہے. تاہم ایک طبقہ ایسا ہے کہ جو مسلسل اس کوشش میں ہے کہ فلم کی نمائش کو کسی نہ کسی طریقے سے روکا جائے. ایسی ہی ایک کوشش پہلے بھی ہو چکی ہے لیکن سندھ کی ایک عدالت نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کہا کہ فلم دیکھے بغیر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ فلم کی نمائش پر روک لگا دی جائے . ایسی ہی ایک کوشش حال ہی میں کی گئی ہے اور سندھ ہائی کوٹ میں ایک شہری نے درخواست دیکر کہا کہ فلم کی نمائش پر پابندی لگائی جائے کیونکہ یہ غیر اخلاقی کہانی پر مبنی ہے. اس پر عدالت نے کہا کہ کوئی بھی عدالت اس چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتی ہے کہ کون سی فلم دیکھی جا سکتی ہے اور کونسی نہیں غیر ضروری سنسر شپ آزادی

    رائے پر قدغن لگانے کے مترداف ہے لہذا ہم ایسا نہیں‌کر سکتے . عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ فلم کو سنسر بورڈ نے مکمل جانچ کے بعد نمائش کی اجازت دی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے فلم کے سرٹیفیکیشن کے عمل میں کسی قانونی خامی کی نشاندہی نہیں کی۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ آرٹیکل 19 کے تحت فلم ساز کو بھی اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کوئی معقول وجہ ہو تو سنسر بورڈ یا صوبائی مجاز اتھارٹی ہی فلم پر پابندی لگا سکتی ہے۔یوں‌جوائے لینڈ کی ریلیز پر پابندی کی درخواست ایک بار پھر مسترد کر دی گئی ہے.

  • سندھ ہائی کورٹ‌ میں اسد خٹک اور وینا ملک کا آمنا سامنا

    سندھ ہائی کورٹ‌ میں اسد خٹک اور وینا ملک کا آمنا سامنا

    گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ میں اداکارہ وینا ملک اور اسد خٹک کے درمیان بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔اس دوران اسد خٹک نے اپنے بچوں کے ساتھ ملاقات کی . اسد خٹک نے کہا کہ چار سال کے بعد میری میرے بچوں کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا حل نکلے کہ جو بچوں کے مستقبل کےلئے اچھا ہو. اسد خٹک نے یہ بھی کہا کہ میں ان تمام مسائل کے حل کےلئے مولانا طارق جمیل سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن ان سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا. میں بچوں‌کا باپ ہوں ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا

    ہوں ان کو پیار محبت اور اپنی شفقت دینا چاہتا ہوں . میری میڈیا سے بھی درخواست ہے کہ وہ میری مدد کرے تاکہ ہمارے مسائل کا کوئی مناسب حل نکل آئے . انہوں نے کہا کہ بچے مجھے بہت یاد آتے ہیں وینا ملک اس موقع پر بہت زیادہ بات کرتی ہوئی نظر نہیں آئیں انہوں‌ نے صرف اتنا کہا کہ غلط فیصلے ہو جایا کرتے ہیں . تاہم اسد خٹک کافی پریشان دکھائی دئیے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شاید اپنے اور وینا کے درمیان غلط فہمیوں اور تعلق کی خرابی پر نہایت پریشان ہیں . اسد خٹک نے تو میڈیا کی مدد بھی مانگ لی ہے.