Baaghi TV

Tag: سندھ

  • کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا، حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ27جون کو سندھ رینجرز کی ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر 4 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا،دہشت گردوں کے تمام ہینڈلرز افغانستان سےمسلسل ہدایات دے رہے تھے،جس میں تین دہشتگردوں کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا باجوڑ سےتھاجو 20 برس افغانستان میں رہا دہشتگردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بناکر جانی نقصان پہنچانا تھا، سندھ رینجرز کے کامیاب آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا، سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔

    وزیر داخلہ کا کہنا کہ پچھلے کئی سالوں سے بدامنی کی کارروائیاں جاری ہیں،کراچی میں بدامنی پھیلانےکی کوشش کی گئی،کراچی کے امن کوسبوتاژ کرنے کی سازشوں کوخاک میں ملایا،سیکیورٹی فورسز دشمن کی ہرسازش کوناکام بنارہی ہیں ،سیکیورٹی فورسزنے حملے کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کوبےنقاب کیا۔

    پریس کانفرنس کے دوران گرفتار زخمی دہشت گرد کا اعترافی ویڈیو بیان بھی نشر کیا گیادہشت گردوں کے منصوبے کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ عوام کو یرغمال بنا کر شہر میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے،رینجرز کیمپ پرحملے میں ملوث خارجی دہشت گردکااعترافی بیان بھی سامنےآیا،کراچی کا امن تباہ کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف قوتیں ملک کے امن کونقصان پہنچانے کےدرپے ہیں، ان کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا کئی افغانی عار ضی اجازت نامے، شادی اور مختلف کارڈز کے سہارے رہ رہے تھے،اب کسی بھی غیر قانونی مقیم افغان باشندے کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،پشتون برادری کی آڑ میں غیر قانونی افغان باشندے شہر میں گھل مل جاتے ہیں جو بڑا چیلنج ہےانتہائی محتاط اورجامع حکمتِ عملی کے ساتھ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کے دوران اپنے شہریوں کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

    ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ اس دہشتگردی کی کارروائی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلے افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دو سرے مرحلے میں دہشتگردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرا مرحلہ سہولت کار گروپ کا تھا اور آخر میں اسلحہ و خود کش جیکٹس فراہم کی گئیں،ایک خودکش بمبار جا نان افغانی، دوسرا باجوڑ کا اور تیسرا عمر فاروق افغان صوبے کنڑ کا رہائشی تھا،زخمی حالت میں گرفتار چوتھے دہشت گرد عثمان کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ہے۔

    دہشگردوں کا افغانستان سے تعلق واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عثمان کو افغانستان کی جامعہ سے منتخب کر کے 2 مختلف کیمپس میں تربیت دی گئی، منصوبہ بندی میں نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور جماعت الاحرار کا امیر بصیر عرف احرار ملا ملوث ہیں،حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ٹاسک سونپا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ رینجرز نے آپریشن کے دوران ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کیا، جس نے جرائم کا اعتراف کیا،افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،گرفتار زخمی دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات فراہم کر دیں دہشت گردوں کا گروہ بلوچستان کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حب سٹی پہنچا،حب سٹی سے گاڑی کے ذریعے دہشت گردوں کو کراچی کی چمڑا چورنگی لایا گیا،گرفتار ما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو کراچی میں کرائے پر کمرہ لے کر دیا تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ رینجرز حملے کی اس کارروائی میں قاری بشیر سمیت مجموعی طور پر 13 دہشت گرد ملوث ہیں،دہشتگرد عثمان نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر موسمیات جاکر ریکی کی،حملے کا اصل ماسٹر مائنڈ قاری بشیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آ چکا ہے،ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے حملے پر روانہ کرنے سے قبل دہشت گردوں کو رخصت کیاما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے د ہشت گردوں کی ویڈیو بنائی،ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ کے کہنے پر اسمگلر احسان اللہ کے ذریعے کراچی ہتھیار پہنچائے گئے،پہلے مرحلے میں کلاشنکوف اور بعد میں دستی بم فراہم کیے گئے،ہتھیاروں کی فراہمی اور اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک میں رحیم آفریدی سمیت 6 ملزمان ملوث ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ قاری بشیر نے لیاقت نامی سہولت کار سے ہتھیارلیے اور کورنگی کراسنگ پر دہشت گردوں کے حوالے کیے،تمام تیاریاں مکمل ہونے پر ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو ٹیکسی کے ذریعے رینجرز کیمپ روانہ کیا،حملے کے آغاز میں خودکش بمبار جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایاجس کے بعد اس کے 3 ساتھی اندر داخل ہوئے، خودکش دھماکے کے بعد پہلے دو اور پھر تیسرا دہشت گرد رینجرز کیمپ میں داخل ہوا،کارروائی کے دوران دہشت گرد وں سے کلاشنکوف، دستی بم اور گولیاں برآمد کر لی گئیں، رینجرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام اہم دہشت گرد اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے،گرفتار ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دورا ن تفتیش نیٹ ورک سے متعلق ناقابلِ تردید شواہد پیش کر دیئے ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پاکستانی حدود میں کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کواستعمال کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں شریک آئی جی جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواں سال دہشت گردی کے صرف 7 واقعات ہوئے،جبکہ گزشتہ سال ایسے 37 واقعات پیش آئے تھے،سندھ میں خفیہ اطلاعات پر اب تک 770 سے زائد کامیاب آپریشنز کیے جا چکے ہیں تمام مراحل میں سی ٹی ڈی کی کارکردگی انتہا ئی متاثر کن رہی ہے،دہشت گردوں کا بنیادی مقصدکراچی کے امن و امان کو سبوتاژ کرنا تھا،پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی 700 سے زائد کارروائیوں میں 75 دہشت گرد گرفتار کیےدہشت گردوں کو کارروائی کے لیے وقت اور جگہ کے انتخاب کا فائدہ ہوتا ہے،دہشت گردی کے لیے کلاشنکوف اور دیگر جدید ہتھیار بھی افغانستان سے لائے جا رہے ہیں۔

  • یوم عاشورہ پر سندھ میں دو روزہ عام تعطیل کا اعلان

    یوم عاشورہ پر سندھ میں دو روزہ عام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے یومِ عاشور کے موقع پر 9 اور 10 محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

    محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق 25 اور 26 جون (جمعرات اور جمعہ) کو صوبے بھر میں سرکاری تعطیلات ہوں گی، اس دوران تمام سرکاری و نیم سرکاری دفاتر بند رہیں گے بلدیاتی کونسلز، خودمختار ادارے اور دیگر سرکاری دفاتر بھی دو روز تک بند رہیں گے۔

    واضح رہے محرم الحرام کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے پیشِ نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے پنجاب بھر میں 26 جون تک دفعہ 144 نافذ رہے گی عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیاروں اور آتش گیر مواد کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہو گی ماتمی جلوسوں کے راستوں پر موجود مکانات یا دیگر عمارتوں کی چھتوں پر مورچوں کی تعمیر پر پابندی ہو گی۔

  • 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، کیونکہ ملکی اور عالمی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشاورت کی ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا بعد ازاں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی سیاسی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل نکالا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت مسلسل 18واں صوبائی بجٹ پیش کر رہی ہے، صوبے میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبے اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 13.35 ٹریلین روپے کی وصولیوں تک صوبوں کو ان کا مقررہ حصہ ملے گا اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل کی جائے گی اور صوبے یہ رقم وفاق کو گرانٹ کی صورت میں فراہم کریں گے حکومت کو توقع ہے کہ ایف بی آر مقررہ ہدف حاصل کر لے گا، جبکہ نیشنل اسٹریٹجک انیشی ایٹو کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی کے باعث وفاق ایف بی آر پر اہداف کے حصول کے لیے دباؤ برقرار رکھے گا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی محصولات میں رواں سال 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے گزشتہ سال مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ عوام کو ٹرانسپورٹ، ایندھن اور بجلی کے شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیاسندھ حکومت نے کسانوں کی بھی بھرپور معاونت کی اور صوبے میں گندم کی پیداوار 1.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔

  • نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 27-2026ء کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی، سندھ کے مالی سال 27-2026ء کے لیے 2.7 ٹریلین روپے سے زائد بجٹ تخمینے کا امکان ہے۔

    صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے سندھ حکومت بلاول بھٹو کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے محنت کشوں کے لیے کم از کم اجرت کا بھی نئے بجٹ میں فیصلہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آج سہ پہر سندھ اسمبلی میںے 3,500 ارب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کریں گے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی بجٹ میں 298 ارب روپے کی بڑی کٹوتی جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ میں 418 ارب روپے کے نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، غیر ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 2,142 ارب روپے سے 2,560 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر جاری اخراجات پر مشتمل ہوگا۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلعی ترقیاتی بجٹ کو 55 ارب روپے سے کم کرکے 15 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام کو 520 ارب روپے سے کم کرکے 385 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہےنئے مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 3715 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، تاہم ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود مختلف شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بلدیات اور کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 99 ارب 76 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 7 ارب 94 کروڑ روپے، صحت کے لیے 17 ارب 43 کروڑ روپے اور تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے 25 ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    آبپاشی کے لیے 30 ارب 80 کروڑ روپے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 31 ارب 59 کروڑ روپے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40 ارب 86 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تعلیمی شعبے میں اسکول ایجوکیشن کے 404 منصوبوں کے لیے 13 ارب 95 کروڑ روپے، کالج ایجوکیشن کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور جامعات و تعلیمی بورڈز کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں کچے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے جبکہ خصوصی افراد کے محکمے کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، اسی طرح ایس ڈی جی میگا اسکیموں کے لیے تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد اضافے جبکہ کم از کم اجرت میں 20 فیصد اضافہ بھی زیر غور ہے۔

    سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 5 روز تک جاری رہے گی، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ تقریر میں رواں مالی سال کی کارکردگی اور حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے-

  • سندھ میں بجٹ اجلاس کل ہو گا

    سندھ میں بجٹ اجلاس کل ہو گا

    مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کیلئے سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس کل ہوگا-

    سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس بدھ کے روز شام 4 بجے طلب کر لیا گیا ہے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایوان میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے بجٹ اجلاس سے قبل سندھ کابینہ کا اجلاس بھی ہوگا جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس تقریباً پانچ روز تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ ایوان میں ضمنی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا آئندہ ہفتے سندھ بجٹ کی منظوری متوقع ہے۔

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی کا 43 واں بجٹ اجلاس آج دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا جس کی صدارت اسپیکر ملک محمد احمد خان کریں گے اجلاس میں آئندہ مالی سال کا اہم بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اخراجات کے نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے-

  • سندھ کے دوردراز علاقوں میں 5 ہزار ٹوائلٹس کی تعمیر مکمل

    سندھ کے دوردراز علاقوں میں 5 ہزار ٹوائلٹس کی تعمیر مکمل

    سندھ کے 7 اضلاع کے دوردراز علاقوں میں 5 ہزار ٹوائلٹس تعمیر کا عمل مکمل کرلیا گیا۔

    پسماندہ علاقوں میں صفائی اورپردہ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث کئی مسائل جنم لیتے ہیں اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فلاحی ادارے کی جانب سے لاڑکانہ کے گوٹھ رتوکوٹ میں پختہ ٹوائلٹس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیاگیا بعد ازاں لاڑکانہ کے پسماندہ علاقوں میں فلاحی ادارے کی طرف سے ٹوائلٹس کی تعمیر کا منصوبہ سندھ کے 7 اضلاع تک پھیل گیا اور اب تک 5 ہزار سے زیادہ ٹوائلٹس تعمیر کیے جاچکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ٹوائلٹس کی تعمیر سے خصوصاً خواتین، بزرگوں اور بچوں کو سہولت ملی ہے جبکہ صفائی کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

  • سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    او جی ڈی سی نے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کر لیا۔

    او جی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق بوبی ڈیپ ون کنویں سے یومیہ 2 ہزار بیرل تیل اور 1.1 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی پیداوار حاصل ہوئی ہے، نئی دریافت سے علاقے میں مزید تیل و گیس کی تلاش کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

    او جی ڈی سی کے مطابق نئی دریافت سے ملکی تیل و گیس کی پیداوار اور مجموعی ذخائر میں اضافہ ہوگا، اس دریافت سے ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا،جبکہ نئی دریافت کے نتیجے میں ملکی درآمدی بل میں بھی خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔

  • شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور پولیس نے کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کر کےلاہور پشاور سے اغوا کی گئی2 لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا-

    ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مغویہ 11 سالہ حورم سعید پٹھان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرالیا ہے اورآپریشن کے دوران مرکزی ڈاکو عبدالوحید عرف ملا سمیت 2 ڈاکو ہلاک ہوگئے ہیں، آئی جی سندھ نے پشاور سے تعلق رکھنے والی 11 سالہ بچی حورم سعید پٹھان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور کو بچی کی باحفاظت بازیابی کی ہدایت جاری کی تھی جس پر شکار پور میں کچے کے علاقے کوٹ شاہو میں 2 روز قبل آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا آپریشن کے نتیجے میں 22 مئی کو لاہور کی رہائشی نوکری کے جھانسے میں اغوا ہونے والی لڑکی جنیفر عامر مسیح جبکہ 23 مئی کو پشاور سے تعلق رکھنے والی حورم سعید پٹھان کو پولیس نے باحفاظت بازیاب کرالیا اور آپریشن کے دوران دو اغوا کار ڈاکو عبدالوحیدعرف ملا اور یاسین بنگلانی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کامیاب آپریشن پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکار پور محمد کلیم ملک اور آپریشن میں حصہ لینے والی پوری پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے افسران اور جوانوں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلا ن کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے افسران اور جوانو ں نے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور جوانمردی کامظاہرہ کرتے ہوئے مغوی بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرایاجو قابل تحسین اقدام ہے شکارپور پولیس اور آپریشن میں شریک افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر معصوم بچیوں کو بازیاب کیا، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سندھ پولیس کے آپر یشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

    پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

    جیکب آباد کے علاقے میرپور بوریرو میں پسند کی شادی کے تنازع پر مشتعل افراد کی جانب سے پورا گاؤں جلائے جانے کے واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دے دیا، جبکہ پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق چنا برادری سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی سدرا نے مبینہ طور پر بوریرو برادری کے نوجوان محمد حسن بوریرو سے پسند کی شادی کی، جس کے بعد دونوں نوجوان روپوش ہو گئےواقعے کے تقریباً 10 روز بعد لڑکی کے رشتہ داروں اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر گاؤں محمد صادق آرائیں پر حملہ کر دیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔

    مقامی افراد کے مطابق حملے میں 100 سے زائد مکانات جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ گھریلو سامان بھی تباہ ہو گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا،واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی خاندان گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پورے گاؤں کو نشانہ بنایا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب مقامی سطح پر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تنازع کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور لوگ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    میرپور بوریرو تھانے میں غلام شبیر بوریرو کی مدعیت میں 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں محسن علی چنا، صدام حسین چنا، عبداللہ چنا، محمد رفیق بھٹی، جہانگیر، منیر احمد اور کلیم اللہ بروہی سمیت دیگر شامل ہیں، ایس ایس پی فیضان علی کے مطابق مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کو ’غیر انسانی اور ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے لاڑکانہ ڈویژن کے کمشنر اور ڈی آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے وزیراعلیٰ نے پولیس کو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • سندھ کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

    سندھ کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

    حکومت سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا۔

    محکمہ تعلیم سندھ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسکول یکم جون سے 31 جولائی تک بند رہیں گےتعطیلات کا اطلاق تمام نجی و سرکاری اسکولوں پر یکساں طور پر ہوگا تاکہ شدید گرمی کے پیش نظر طلبہ اور اساتذہ کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    قبل ازیں پنجاب حکومت بھی صوبے میں گرمیوں کی طویل تعطیلات کا اعلان کر چکی ہے،وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب میں تعلیمی اداروں میں چھٹیاں 22 مئی سے شروع ہوں گی جبکہ اسکول 24 اگست کو دوبارہ کھولے جائیں گے۔