Baaghi TV

Tag: سندھ

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا

  • کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:شہرقائد میں بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا نظر ثانی شدہ شیڈول جاری کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں تمام ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید…

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 4 دن کی توسیع کردی گئی ہے، اب کاغذات نامزدگی 15 جون تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

    سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کیلئے درخواست جمع

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ امیدواروں کی ابتدائی فہرست 16 جون کو جاری کی جائے گی جبکہ 17 سے 19 جون تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کرنے کے خلاف 20 سے 22 جون تک اپیل کی جاسکے گی۔علاوہ ازیں 27 جون کو نظرثانی شدہ فہرستیں آویزاں کی جائیں گے جبکہ 28جون کو کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے اور 29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے فوج اور رینجرز طلب کرلی گئی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ کو مراسلہ ارسال کردیا۔مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ 26 جون کو شیڈول ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے 9 ہزار 290 سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے جانے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان

    صوبائی الیکشن کمشنر نے مراسلے میں بتایا کہ فوج اور رینجرز کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہوں گے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوگا اور 28 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے نتائج جاری کیے جائیں گے۔

  • سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت عوام پر روزانہ کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے کچرا فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس پیشرفت کی تصدیق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر احمد چنہ نے کی ہے۔

    کراچی کے سپر اسٹور میں آتشزدگی کا واقعہ ، سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

    منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا کہنا ہے کہ بورڈ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے کے چارجز ان کے ماہانہ بلوں میں شامل کئے جائیں۔البتہ ایس ایس جی سی ایل نے اپنے یوٹیلیٹی بلوں میں کچرا اٹھانے کے چارجز شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کچرا اٹھانے کی فیس کی وصولی کیلئے اپنا ریونیو سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے ورلڈ بینک سے موبائل سافٹ ویئر ایپلی کیشن کیلئے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔زبیر چنہ نے موبائل ایپلی کیشن سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ طریقۂ کار تھوڑا مشکل ہے، لیکن بورڈ نے ریونیو اکٹھا کرنے کی ایپلی کیشن کے بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس کے ذریعے عوام سے کچرا فیس کی وصولی کی جائے گی۔

    ریونیو اکٹھا کرنے کے پورے نظام کو چلانے کیلئے ورلڈ بینک کی منظوری کے ساتھ ایک سافٹ ویئر تیار کیا جانا ہے، اس سافٹ ویئر کی تخمینی لاگت تقریباً 40 سے 50 ملین (چار سے 5 کروڑ) روپے ہے۔

    سندھ حکومت کی جیالہ فورس نے پی ٹی آئی کو نیزے پر رکھا ہوا ہے:بلال غفار

    یہ نظام کیسے کام کریگا؟
    ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر چنہ نے گاربیج فیس کلیکشن سسٹم سے متعلق بتایا کہ سب سے پہلے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جائے گی اور اسے ریونیو اکٹھا کرنے والے مرکزی سیل سے منسلک کیا جائے گا۔

    کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی فیس کیسے لی جائے گی؟
    کسی خاص علاقے میں بورڈ نے ایک ایسے شخص کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مذکورہ علاقے میں معروف ہو اور اس کے آس پاس کم از کم 10 سال سے رہ رہا ہو۔ وہ شخص، جس کا اس مخصوص علاقے میں نچلی سطح پر رابطہ ہے، وہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا نمائندہ ہوگا، جو رہائشی یونٹوں سے کوڑا کرکٹ کی فیس لینے کا مجاز ہوگا۔

    ایس ایس ڈبلیو ایم بی اس شخص کو ایک آئی ڈی جاری کریگا اور اسے موبائل سافٹ ویئر میں اپ لوڈ کرے گا، جیسے ہی ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا نمائندہ کسی بھی گھر سے کوڑا کرکٹ کی فیس جمع کرے گا تو سسٹم اس کی نشاندہی کرے گا۔

    منشیات فروشی کے خلاف سندھ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی

    کچرا فیس جمع کرنے کی ذمہ داری لینے والا شخص بورڈ کے پاس 10 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرائے گا۔ بورڈ اس فرد کو بینکوں سے 10 لاکھ روپے تک کا مائیکرو فنانسنگ قرض لینے میں مدد کریگا۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے پہلے ہی مذکورہ سفارش کی منظوری دے دی ہے اور بینک اس سلسلے میں قرضے جاری کرنے پر متفق ہیں۔

    ابتدائی طور پر بورڈ نے رہائشی یونٹس کیلئے کچرے کی فیس کا ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔ اسے 3 اقسام کم آمدنی والے علاقے، درمیانی آمدنی والے علاقے اور زیادہ آمدنی والے علاقے میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے سے 300 روپے تک رکھی گئی ہے۔

    کم آمدنی والے علاقوں کیلئے کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے ماہانہ، درمیانی آمدنی والے علاقوں کیلئے ماہانہ 200 روپے اور زیادہ آمدنی والے علاقوں کیلئے یہ فیس ماہانہ 300 روپے ہوگی۔ایس ایس ڈبلیو ایم بی کی کچرا اٹھانے کی فیس 6 کنٹونمنٹ بورڈز پر لاگو نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے پاس کچرا اٹھانے کا اپنا نظام اور ملازمین ہیں۔

    صنعتی اکائیوں کیلئے فیس کا ڈھانچہ درج ذیل ہے۔
    صنعتی صارفین کو بھی 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھوٹے صنعتی یونٹوں کیلئے 2000 سے 4000 روپے ہے، درمیانی صنعتی اکائیوں کیلئے چار ہزار سے 6 ہزار اور بڑی صنعتی اکائیوں سے 6 ہزار سے 10 ہزار روپے وصول کئے جائیں گے۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے ایم سی پہلے ہی اپنے بلوں میں میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اور ٹیکسز کی وصولی کیلئے کے الیکٹرک سے رابطے میں ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کیونکہ اسے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

    درخواست گزار نجیب الدین نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سندھ حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلاجواز عمل ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ ہے۔

  • سندھ :جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے800 سے زائد اساتذہ بھرتی ہونےکا انکشاف

    سندھ :جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے800 سے زائد اساتذہ بھرتی ہونےکا انکشاف

    کراچی : سندھ بھر میں جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے 800 سے زائد اساتذہ بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔میر پور خاص کے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کے مطابق سندھ بھر میں دیگرصوبوں کے 800 اساتذہ بھرتی کیےگئے، 291 پرائمری اور 509 جونیئر اسکول ٹیچرز بھرتی ہوئے۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کے مطابق میرپورخاص میں24 اور سانگھڑ میں 37 دیگر صوبوں کے امیدوار بھرتی ہوئے،کراچی ایسٹ میں سب سے زیادہ 118 بھرتیاں ہوئیں، باقی بھرتیاں دیگر علاقوں میں کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اسکینڈل سامنے آنےکے بعد تمام تعیناتیاں روک دی گئی ہیں اور معاملہ سیکرٹری تعلیم کی شکایات کمیٹی کے سپردکردیا گیا ہے۔

    سندھ میں انٹر بورڈز کے امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا۔صوبائی وزیر تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے سندھ میں انٹرامتحانات کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔اسماعیل راہو کے مطابق لاڑکانہ، میرپورخاص، سکھر اور شہید بینظیر آباد میں انٹر امتحانات 10جون سے ہوں گے۔صوبائی وزیر کے مطابق کراچی میں 18جون اور حیدرآباد میں 15 جون سے انٹر امتحانات شروع ہوں گے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نےملتوی امتحانات کی نئی ڈیٹ شیٹ جاری کردی ہے۔

    ترجمان تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے مطابق پرچے 11 سے 16 جون تک ہوں گے، ہائر ایجوکیشن پنجاب نے پیپرلیک ہونے پر 5 پرچےمنسوخ کر دیے تھے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کا مزید کہنا ہےکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو اساتذہ کے ڈومیسائل اور پی آرسی کی تصدیق کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔

    ادھر

  • سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی

    سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی

    سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی۔
    اس تقرری میں محکمہ اطلاعات نے وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
    اس مقصد کیلئے نصرت حسین سندھ انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر مقرر کر دیے گئے ۔

    صائمہ آغا ایڈووکیٹ اور شاہد جتوئی بھی انفارمیشن کمشنرز ہوں گے۔یہ کمیشن سندھ ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

    مزید یہ کہ اس میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ کمیشن مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات کی عدم فراہمی کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔

    اس کمیشن میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ چیف انفارمیشن کمشنر اور کمشنرز کی مدت تین سال ہوگی۔

  • بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتے ہیں :وزیراعلیٰ سندھ

    بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتے ہیں :وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی:اب صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت، وفاقی حکومت سے مل کر بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر برائے محکمہ تخفیف غربت اور سماجی تحفظ شازیہ مری اور انکے وفد کی ملاقات ہوئی، وفد میں سیکریٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر عصمت طاہرہ، ڈی جی نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) نوید اکبر، ڈی جی سندھ بی این آئی ایس پی ثمر تالپور، ڈائرکٹر بیت المال ڈاکٹر عدنان، تخفیف غربت گروپ کے رہنما احمد علی خٹک شریک ہوئے۔

     

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ساتھ وزیر تعلیم سید سردار شاہ، معاون خصوصی برائے سماجی شعبہ حارث گزدر، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، سیکریٹری صحت ذوالفقار شاہ، سیکریٹری تعلیم اکبر لغاری، اسپشل سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ رحیم شیخ شریک تھے۔

    ادھر اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ بینظیر کارڈ کے ذریعے کیش ٹرانسفر پروگرام 2018 میں شروع کیا گیا، نیشنل پاورٹی اسکور کارڈ کی سروے 11-2010 میں کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری نے سندھ میں 7.744 ملین ہاؤس ہولڈ کو کور کیا ہے، 101 تحصیل سطح پر ڈیسک قائم کی گئی ہے تاکہ رہ جانے والے گھر بھی شامل ہوسکیں، نادرا کی شہریت رجسٹری کے ذریعے تصدیق کی جارہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سات ہزار تین ماہ میں مستحق خواتین کو اے ٹی ایم کے ذریعے دیتے ہیں، سندھ میں ابھی تک 425.445 ارب روپے 2.9 ملین خواتین کو دیئے جاچکے ہیں، بینظیر تعلیمی وظیفہ پروگرام کے تحت پورے ملک میں پرائمری سے کلاس 12 تک وظیفہ ملتے ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ ابھی تک 2021592 طلباء کو وظیفہ مل چکا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے صوبائی محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر کام کیا جائے، سندھ حکومت، وفاقی حکومت سے مل کر بینظیر نشو نما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتی ہے، سندھ حکومت کی تعلیم ان پروگرامز کا جائزہ لے گی تاکہ اسکو مل کر شروع کیا جائے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے

    سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے

    کراچی: سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآڑڈی نیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ایک بار پھر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کردی گئی ہے جبکہ سپرویژن کمیٹی، ضلعی ڈیمولیشن کمیٹی اور سب لیول کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    سپرویژن کمیٹی کمشنر کراچی کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس حوالے سے قائم کردہ کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی، ڈی جی ایس بی سی اے، چیئرمین آباد سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

    بحیثیت اپوزیشن لیڈرمیری 2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا،شہباز شریف

    واضح رہے کہ قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ نےلیاقت آباد نمبر 2 میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق درخواست پر ایس بی سی اے کے 6 افسران کےخلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ پیش کرنےکا حکم دیا تھاجسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لیاقت آباد نمبر 2 میں قانونی تعمیرات کیخلاف درخواست کی سماعت کی تھی عدالت عالیہ نے درخواست پر بڑا حکم جاری کردیا اور ذمہ دار ایس بی سی اے افسران کو جاری کردہ شوکاز نوٹس ناکافی قرار دے دیا تھا-

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ،پولنگ کا عمل شروع

    عدالت نے تمام ذمہ دار افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئےایس بی سی اے نے 6 افسران کو غیر قانونی تعمیرات کا ذمہ دار قرار دیا تھاغیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار افسران میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایاز شہاب، سینئر انسپکٹر زبیر مرتضی، انسپکٹر کلیم احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر شکیل جمالی، انسپکٹر فرقان یار خان اور ساجد علی بخاری شامل ہیں۔

    لانگ مارچ میں ناکامی،پی ٹی آئی کی ایڈوائزری کونسل نے رپورٹ جاری کر دی

    جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، شوکاز نوٹس جیسی معمولی سی کارروائی ناکافی ہے عدالت نے حکام کو ایس بی سی اے افسران کیخلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا-

    درخواست گزار مریم خاتون نے دائر درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ پلاٹ نمبر 2/606 پر خلاف قانون گراؤنڈ پلس 6 منزلہ تعمیرات کر دی گئی ہیں۔

    عمران خان دوبارہ فساد کی کوشش کی تو جیل کا ٹچ دیکر حوالات بھیج دینگے: حمزہ شہبازکا…

  • حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس کا دوبارہ چھاپہ

    حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس کا دوبارہ چھاپہ

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس نے دوبارہ چھاپہ مارا۔

    ترجمان اپوزیشن لیڈر کی جانب سے جری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی پی کے چہیتے اے ایس آئی فیضان کریم، نجی کپڑوں میں ملبوس افراد اور پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مارا، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس فیملی میمبران کو ہراساں کررہی ہے، اہلکاروں نے گھر پر حلیم عادل شیخ کے متعلق معلومات لی۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ آئیں گے، پولیس اہلکار کہہ کر واپس روانہ ہوگئے۔

    ترجمان اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی ایما پر پولیس انتقامی کاروائیوں میں مصروف ہے۔

    خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کی تھیں‌۔عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا ۔

    عدالت نے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کیا۔پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں، کہتے ہیں لیڈر آف اپوزیشن پر کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ آپ نے مجھ پر گھوٹکی میں جھوٹا مقدمہ بنایا جس میں باعزت بری ہوا جبکہ عمرکوٹ میں آپ لوگوں نے جھوٹا مقدمہ بنایا اس میں بھی باعزت بری ہوا۔

  • پولیس حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پہنچ گئی

    پولیس حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پہنچ گئی

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ پولیس اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر کے باہر موجود ہے۔

    اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے اطلاع دی کہ سندھ پولیس نے حلیم عادل شیخ کے گھر کا گھیراؤ کرلیا ہے۔

    علی زیدی کے مطابق بظاہر پولیس کمانڈوز کے ساتھ 6 موبائل موجود ہیں۔

     

     

    دوسری جانب فواد چوہدری نے بھی علی زیدی کے ٹویٹ کی تصدیق کرتے ہوئے پیغام جاری کیا ہے کہ پولیس موبائلز حلیم عادل شیخ کے گھر انہیں گرفتار کرنے پہنچی ہیں۔

    اس حوالے سے حلیم عادل شیخ نے بھی کئی ٹویٹس کی ہیں۔ جن میں اس اقدام کو سندھ حکومت کی دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔

     

     

    اپوزیشن لیڈر سندھ کا کہنا ہے کہ ہم غیر محفوظ ہیں، ہمارے گھروں پر ریڈ ماری جارہی ہے۔

     

     

     

     

    خیال رہے کہ   انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کی ہیں۔

    عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا ۔

    عدالت  نے  ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کیا۔

    پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت پہنچے۔

    عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    عدالت نے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا، عدالت نے پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کرلیا۔

    پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔