Baaghi TV

Tag: سندھ

  • ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں،ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں،ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کا ہے، ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں، ہماری جانب سے مدد مانگنے پر پاک فوج نے اپنے 2 یونٹس کو تعینات کیا ہے، پاکستان نیوی نے بھی اپنی ٹیمیں بھیج دی ہیں، کل میری واپسی کے بعد ایک چینل نے خبر چلائی کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، حالانکہ وہ کیمپ صرف بریفنگ دینے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں کراچی سے زیادہ صحافی ہیں، جب میں دورہ کرنے کے لیے گیا تو وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس کی گواہی شرجیل میمن بھی دیں گے، ہم نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں کیمپ لگا ہوا ہے، جہاں ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک چینل پر خبر چلائی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، لیکن وہ ویڈیو میں نہیں دکھاؤں گا۔

    صنعا اور الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ،11 یو این اہلکارزیر حراست

    ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، دیکھیں اس دن کیا صورت حال بنتی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے ہیں، ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، لیکن اس وقت ہمارا فوکس آئندہ 15 دن کو خیر و عافیت سے گزارنے پر مرکوز ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں، انہیں جو بھی امداد درکار ہوگی، ہم کرنے کو تیار ہیں۔

    کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آیا، یہ پانی کالا باغ تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا، وہ الگ مقام ہے، اس وقت یہ بات کرنا فضول ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

  • پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سپر فلڈ کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں،حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے-

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے خود گدو اور سکھر بیراج سمیت حساس بندوں کا معائنہ کیا ہے جہاں سپر فلڈ کی صورت میں 9لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ آسکتا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج انخلاء اور ریلیف کے انتظامات میں مصروف ہیں جبکہ کچے کے علاقوں میں بروقت انخلاء کے لیے 192 کشتیاں تعینات کی جا چکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کچے کے تمام علاقوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور آبادی، گھروں اور مویشیوں کے نقشے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں، ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات، سرکاری اسکولوں، عمارتوں اور ٹینٹ سٹی ویلیجز میں منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہیں، جبکہ ریلیف کیمپس میں کھانے، پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام حساس بندوں پر فلڈ فائٹنگ کی رفتار تیز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔ کے کے بند، شاہین بند، قادرپور، راونتی اور دیگر حساس مقامات پر مشینری، پتھروں اور عملے کی تعیناتی کی جا چکی ہے اور افسران 24 گھنٹے نگرانی پر مامور ہیں،یہ صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ امتحان ہے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی کارکنوں کو متاثرین کی مدد کی ہدایت دی گئی ہے۔

    سینیئر وزیر نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ افواہوں اور خوف پھیلانے کے بجائے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

  • سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا ہےکہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے سپر فلڈ کی صورتحال میں 9 لاکھ کیوسکس پانی بہنے کی توقع ہے، تاہم صوبائی حکومت کو امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا،سپر فلڈ کی صورت میں کچے کے علاقے ڈوب سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ نے پورے کچے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے عوام، مویشیوں اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تمام نقشے، آبادی کی تفصیلات اور مویشیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ اور پاک فوج کی مدد سے 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کی جا چکی ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، طبی امدادی کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جہاں سانپ کے کاٹنے کے ویکسین سمیت تمام ضروری ادویات موجود ہیں،متاثرین کے لیے وقتی رہائش اور واپسی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ کچے میں ڈوبنے والے گھروں کو دوبارہ اونچے مقامات پر تعمیر کیا جائے گا،24 اگست کو گڈو سے ساڑھے 5 لاکھ کیوسکس پانی گذرا، جس کی وجہ سے کچھ بندوں اور فصلوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور خوف پھیلانے سے گریز کریں۔

    صوبائی وزیر محکمہ آبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری ظریف کھیڑو اور چیف انجنیئر سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ سندھ بند سپر فلڈ کے مطابق تشکیل دیا گیا ہےبند مینوئل گائیڈلائنز کے تحت ہر میل پر چار لاندیاں قائم کی گئی ہیں اور 16 افراد بند کی نگرانی کے لیے گشت پر مامور ہیں۔ یہ عملہ 24 گھنٹے چوکس رہے گا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری اقدامات کرے گا۔

    دریائے سندھ کے دائیں کنارے گڈو اور سکھر بیراج کے 820 میل پر 3280 افراد تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لیفٹ مارجینل بند، کے کے بند، کے کے فیڈر بند، نیو گھورگھاٹ، ایکس بند، اولڈ توری بند اور ایس بی بند کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہےبائیں کنارے گڈو تا سکھر 516 میل پر 2064 افراد تعینات ہیں، جہاں قادر پور شنک بند، قادر لوپ بند، راونتی بند، بائیجی بند اور آر این بند کو بھی حساس مقامات قرار دیا گیا ہے۔

    ان مقامات پر رات کے گشت، عملہ کی تعیناتی، ضروری مشینری، کمزور جگہوں کی مرمت اور مضبوطی کے کام شامل ہیں۔ کمزور لوکیشنز پر بھاری پتھروں کی فراہمی اور 24 گھنٹے افسران کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہےوزیراعلیٰ سندھ نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کرنے، حساس بندوں کی کھڑی نگرانی کرنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی ہدایات بھی دی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور بیراجوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سپر فلڈ کی ممکنہ صورتحال میں احتیاطی اقدامات کا جائزہ لیا اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی پلان پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر آغا شیرزمان نے وزیراعلیٰ کو متاثرہ علاقوں، انخلا کے انتظامات اور ریلیف کے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا، سپر فلڈ کی صورت میں 8 یونین کونسلز، 38 دیہات اور 171 گائوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں مجموعی طور پر 2 لاکھ 6 ہزار 107 افراد اور 31 ہزار 257 خاندان آباد ہیں۔ ان علاقوں میں 2 لاکھ 68 ہزار 225 مویشی موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ عوام کو ان کے مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور انخلا کے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ کندھ کوٹ میں 15 کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے گا، جبکہ 21 دیگر کشتیوں کی مدد سے کام آسان بنایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جن میں توری بند، کے کے بند، گھوراغاٹ اور بی ایس فیڈر آر ڈی 45 پر چار میڈیکل کیمپس شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے 30 فیصد حفاظتی بندوں کے نزدیک سرکاری اسکولوں یا عمارتوں میں قیام فراہم کیا جائے گا اور باقی افراد کو ٹینٹ سٹیز/ویلیجز میں محفوظ پناہ دی جائے گی۔ کندھ کوٹ میں 14، کشمور میں 10 سرکاری عمارتیں ریلیف سینٹر میں تبدیل کی گئی ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں ٹینٹ سٹیز بھی قائم کی جائیں گی۔

    صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کندھ اسپتال میں 24 ڈاکٹرز، 78 پیرامیڈیکل اسٹاف، 20 بستروں اور 2 ایمبولینس، کشمور اسپتال میں 13 ڈاکٹرز، 113 پیرامیڈیکل اسٹاف، 6 بستروں اور ایک ایمبولینس، اور دیگر ہسپتالوں میں بھی ضروری طبی انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ PPHI کے تحت 44 ہیلتھ فیسلیٹیز، 10 KMC سروسز، 10 EPI سینٹرز، 16 لیبر رومز، اور 9 لیبارٹریز بھی خدمات انجام دیں گی۔ ایمرجنسی کے لیے 2 سول ایمبولینس، 7 PPHI ایمبولینس اور 5 ایمبولینس 112 تعینات کی گئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی کمی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کمپلین سیل فعال رہیں گے ضرورت پڑنے پر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث جہاں پنجاب میں سیلابی صورت حال ہے وہیں دریائے سندھ میں بھی گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم پانی سے مکمل بھر گیا ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش بھی 1550 فٹ ہی ہےمنگلا ڈیم بھی 1222 فٹ تک بھر گیا ہے جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1242 فٹ ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا جبکہ زیریں کیچمنٹ ایریا جیسے راولپنڈی ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی،دریائے جہلم کے کیچمنٹ ایریا خشک رہیں گے جبکہ دریائے چناب کے اپر اور زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےدریائے راوی میں لاہور ڈویژن کے زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ دریائے ستلج کے زیریں اور اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ تونسہ، گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر 4 اور 5 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گادریائے کابل میں پانی کی سطح سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ دریائے چہلم میں منگلا اور رسول کے مقام پر پانی کی سطح سیلاب کے درجے سے نیچے ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ مرالہ اور تریمو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر پانی کا لیول سیلاب سے کم ہے دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اونچے جبکہ شاہدرہ اور بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گاجبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹے میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی،دریائے چناب میں تریمو کے مقام پر 29 اگست کی شام انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گا جبکہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔

  • بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب دیا جائے گا،شرجیل میمن

    بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب دیا جائے گا،شرجیل میمن

    کراچی:وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ،اقلیتوں کو پاکستان میں حقوق ترجیحی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں بھارت میں اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق محفوظ نہیں ہیں-

    سندھ اسمبلی میں،شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کے قومی پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں کے حقوق کا علم بردار ہے،تمام پاکستانی سازشوں کے باوجود بھی بھائیوں کی طرح رہتے ہیں،اقلیتوں کو پاکستان میں حقوق ترجیحی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں بھارت میں اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق محفوظ نہیں ہیں پیپلز پارٹی نے جنرل نشستوں پر اقلیتوں کو نمائندگی دی ہے آصف زرادری نے جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بنایا تھا تب سب سے زیادہ بینیفشری اقلیتیں تھیں۔

    شرجیل میمن،نے کہا کہ ہم بھارت نہیں ہیں جو اپنی اقلیتوں پر ظلم کریں پاکستان میں کبھی مذہبی فساد نہیں ہونے دیا ہے اقلیتوں کے اوپر مشکل وقت آتا ہے تو مسلمان بھائی گھروں کے باہر بندوقیں لے کر ان کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں، افسوس ہوا کہ اس اہم دن پر بھی متحدہ نے سیاست کرنے کی کوشش کی ایم کیو ایم اور قیدی نمبر 804 میں کوئی فرق نہیں ہے،میرا نام لیا گیا تو مجھے حق ہے کہ میں جواب دوں ڈمپر حادثے میں 2 بچے اللہ کو پیارے ہوگئے، اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہ۔ واقعے کے بعد پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر کے ڈمپر تحویل میں لے لیا اس کے بعد دہشتگرد سوچ کے لوگ سڑکوں پر آتے ہیں اور مختلف 7 ڈمپرز کو جلایا گیا۔

    وزیراعظم نے 2 نئے سفیروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی

    انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے مقدمے چلائیں گے، کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے جو اس سوچ کو ترغیب دیں گے ان کو بھی نہیں چھوڑیں گے دوبارہ بھتہ خوری اور غنڈا گردی کی سیاست نہیں ہونے دیں گے۔ وہ کون لوگ ہیں جو شہر کے امن کو تباہ کر رہے ہیں ہم سب چیزوں کو دیکھ رہے ہیں حکومت اپنا کام کرے گی بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب دیا جائے گا، سڑکیں کھلوانا سرکار کا کام ہے، ہم نے ایسوسی ایشن سے اسٹامپ پیپر پر معاہدہ کیا ہے کہ 25 تاریخ کے بعد کیمرہ اور ٹریکر والے ڈمپرز سڑکوں پر آئیں گے –

    زرتاج گل پہلے سرنڈر کریں پھر سزا کیخلاف اپیلیں سنیں گے، لاہور ہائیکورٹ

  • سندھ:مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

    سندھ:مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

    سندھ حکومت نے صوبے بھر کے تمام صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    وزیر محنت سندھ شاہد تھہیم کے مطابق نیم ہنر مند افراد کے لیے ماہانہ اُجرت 41,380 روپے، ہنر مندوں کے لیے 49,628 روپے اور اعلیٰ ہنر مند افراد کے لیے 51,745 روپے مقرر کی گئی ہے اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ اجرت تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صنعتی و تجارتی اداروں پر یکساں لاگو ہوگی، اور مرد و خواتین مزدوروں کو برابری کی بنیاد پر اُجرت دی جائے گی، ایسے تمام ادارے جہاں مزدوروں کو فی گھنٹہ اُجرت دی جاتی ہے، اُنہیں کم از کم 192 روپے فی گھنٹہ ادائیگی یقینی بنانا ہوگی،یہ فیصلہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد مہنگائی کے بوجھ تلے دبے مزدور طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

    وزیر محنت نے کہا کہ سندھ حکومت مزدور دوست پالیسیوں پر گامزن ہے اور مزدوروں کی فلاح و بہبود، مناسب اُجرت اور بہتر ماحول کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کم از کم اُجرت میں اضافے کا بنیادی مقصد مزدوروں کو باعزت زندگی دینا اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنا ہےمحکمہ محنت نے صنعتکاروں سے رابطے کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی مزدور کا استحصال نہ ہو۔

  • لیاری بلڈنگ حادثہ:محمد اسحاق کھوڑو  معطل،شاہ میر خان بھٹو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے سربراہ مقرر

    لیاری بلڈنگ حادثہ:محمد اسحاق کھوڑو معطل،شاہ میر خان بھٹو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے سربراہ مقرر

    کراچی کے علاقے لیاری میں 3 روز قبل عمارت گرنے کے واقعے کے بعد ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی محمد اسحاق کھوڑو کو عہدے سے ہٹا کر شاہ میر خان بھٹو کو نیا ڈی جی ایس بی سی اے تعینات کردیا گیا-

    نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات کے بعد سانحہ لیاری پر ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی محمد اسحاق کھوڑو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ شاہ میر خان بھٹو کو نیا ڈی جی ایس بی سی اے تعینات کردیا گیا ہے۔

    شاہ میر بھٹو سیکریٹری چیف منسٹر انکوائری کمیٹی تعینات تھے جبکہ 20 ویں گریڈ کے اسحٰق کھوڑو کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی شروع کردی گئی ہے، سندھ حکو مت نے سابق ڈی جی ایس بی سی اے اسحٰق کھوڑو کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیاہے، اسحٰق کھوڑو بلڈنگ گرنے کے کسی واقعے میں ملوث پائے گئے تو کاروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ 3 روز قبل کراچی کے علاقے لیاری میں 6 منزلہ عمارت زمیں بوس ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، عمارت کا ملبہ اٹھانے کا عمل آج مکمل کرلیا گیا ہے،سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے آج صوبائی وزرا کے ساتھ پریس کانفرسن کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ ڈی جی ایس بی سی اے کو عہدے سے ہٹادیا ہے، اس موقع پر 27 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب، ایس بی سی اے کی ٹیم نے لیاری میں گرنے والی پانچ منزلہ عمارت کا دورہ کیا انسپکٹر ذوالفقار شاہ نے متاثرہ عمارت کا معائنہ کیا تاہم جب صحافیوں نے علاقے میں موجود دیگر مخدوش عمارتوں کی تعداد کے بارے میں سوال کیا تو انسپکٹر نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بارے میں ڈائریکٹر صاحب ہی بتا سکتے ہیں،فی الحال صرف ایک قریبی عمارت کو گرانے کا حکم ملا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سال بھر میں کتنی عمارتیں گرائی گئیں، تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں اندازہ نہیں۔

    ادھر، کھارادر میں کوئلہ گودام کے قریب ایک آثار قدیمہ رہائشی عمارت گرنے سے بچ گئی۔ مکینوں کی بروقت کارروائی اور محکمہ آثار قدیمہ و پولیس کی مداخلت سے ممکنہ تباہی کو ٹال دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق بلڈر مافیا ہیوی مشینری کے ذریعے آثار قدیمہ کی ایک سیل شدہ عمارت کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے دوران قریب ہی واقع عمارت میں جھٹکے محسوس کیے گئے، علاقہ مکینوں نے فوری طور پر محکمہ آثار قدیمہ اور پولیس کو اطلاع دی، جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیصل علی سروئیر کی سربراہی میں ٹیم موقع پر پہنچی محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق پولیس کی مدد سے بلڈر مافیا کے دو کارندوں، خان گل اور لقمان، کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    محکمے نے سندھ کلچر اینڈ ہیریٹیج پریزرویشن ایکٹ 1994 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر محکمہ آثار قدیمہ کے افسر مشتاق احمد کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بلڈر مافیا نے سیل شدہ ہیریٹیج عمارت کو غیر قانونی طور پر ڈی سیل کر کے نقصان پہنچایا۔

  • سندھ میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی نافذ

    سندھ میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی نافذ

    ماحول کی بہتری کے لیے سندھ بھر میں پلاسٹک شاپنگ بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    سیکریٹری ماحولیات سندھ آغا شاہنواز نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام صنعتیں، تھوک فروش اور ریٹیلرز فوری طور پر پلاسٹک بیگز کا کاروبار بند کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے ہی مہلت دی گئی، آگاہی مہمات چلائی گئیں اور وارننگز بھی دی گئیں، اب کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    انہوں نے جامعہ کراچی میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں کہا کہ پلاسٹک بیگز کی تیاری، ترسیل اور استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، گرفتاریاں اور فیکٹری کی بندش جیسے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔سیکریٹری ماحولیات کا کہنا تھا کہ اس بار پابندی صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ سخت کارروائی کے واضح احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل نے امریکا سے مدد مانگ لی، ٹرمپ انتظامیہ کا غیر واضح مؤقف

    گوادر بارڈر راہداری بند، ایران میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا قافلہ تہران سے روانہ

    ریکوڈک منصوبے میں آئی ایف سی کی 400 ملین ڈالر کی مزید سرمایہ کاری

    ریکوڈک منصوبے میں آئی ایف سی کی 400 ملین ڈالر کی مزید سرمایہ کاری