Baaghi TV

Tag: سنی اتحاد کونسل

  • وزیراعلی ہا ؤس ٹک ٹاکرز سے بھرا ہوا ہے،ملک احمد خان بھچر

    وزیراعلی ہا ؤس ٹک ٹاکرز سے بھرا ہوا ہے،ملک احمد خان بھچر

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کا اچھا تاثر نہیں گیا،

    ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ پنڈی سے ہمارے اسیران رہا ہوئے تو ڈپٹی کمشنر نے سولہ ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا ۔وزیر اعلیٰ انتقامی کارروائیوں کے ذریعے رتھلس ہونے کا ثبوت دیں رہی، ایک جماعت کو دبانے کے لیے کتنی کارروائیاں کریں گے، کل ہماری سینٹ کی دو نشستیں فائنل ہوگئی ہے، ہمارے ممبر رابطے میں تھے اس لئے دو سیٹ طے تھی،یہ کوئی کسی کی جانب سے احسان نہیں کیا گیا، پولیس کو صرف تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں کے لیے رکھا ہے۔ رمضان میں چیزوں کی قیمتوں میں ستر فیصد اضافہ ہوگیا،احتجاج کے حوالے سے فیصلہ ہماری لیڈر شپ کریں گی،وزیراعلی ہائوس ٹک ٹاکرز سے بھرا ہوا ہے، نگہبان پروگرام کے آٹے کی صرف 10 فیصد تقسیم ہوئی، فارم 47 کی حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی،آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو ایوارڈ تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاون کرنے،کاروبار تباہ کرنے ،گھر توڑنے اور فیملیز پر ظلم کرنے کی وجہ سے ایوارڈز دیے گئے ہیں۔عوام کی خدمت کرنے پر نہیں۔

    تھانہ روجھان کی حدود سے کچے کے ڈاکوؤں کے سہولت کار کو گرفتار کرلیا گیا

    گھوٹکی: کچے کے علاقے میں پولیس کا ڈاکوؤں کے ساتھ مبینہ مقابلہ،3 مغوی بازیاب کرانے کادعویٰ

    تنگوانی:کچے کے ڈاکوؤں نے 2 شہریوں کو اغواء کرلیا

    تنگوانی : کچے کے ڈاکوؤں نےمل چوکیدارسمیت 10 افراد اغوا کرلئے

    گھوٹکی:کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن،خطرناک ڈکیت نے ہتھیارڈال دئے

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست متعلقہ بینچ کو بھیجنے کا حکم

    مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست متعلقہ بینچ کو بھیجنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس متعلقہ بنچ کو بھجوانے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی،عدالتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی نوعیت کی درخواست پر ایک اور سنگل بنچ سماعت کررہا ہے۔اس درخواست کو بھی متعلقہ بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے عبداللہ ملک ایڈوکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ، درخواست میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی ہے اور مخصوص سیٹیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی ہیں، سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائیکورٹ سمیت لاہور ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کر رکھا ہے

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخوا ست میں الیکشن کمیشن سمیت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹربیونل ہے اور نہ ہی عدالت ہے، پنجاب اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔

  • سنی اتحاد کونسل نے قائد  حزب اختلاف کیلئے عمر ایوب کا  نام تجویز  کر دیا

    سنی اتحاد کونسل نے قائد حزب اختلاف کیلئے عمر ایوب کا نام تجویز کر دیا

    اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل نے قائد حزب اختلاف کے لیے عمر ایوب کا نام تجویز کردیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیےکے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے سنی اتحاد کونسل کے وفد نے ملاقات کی، عامر ڈوگر کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل کے وفد نے ایاز صادق سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات کی، ملاقات میں صاحبزادہ حامد رضا، علی محمد خان، ریاض فتیانہ اور دیگر اپوزیشن ممبران بھی موجود تھے۔

    اعلامیےکے مطابق سنی اتحاد کونسل نے قائد حزب اختلاف کے لیے نام جمع کرادیا، سنی اتحاد کونسل نے قائد حزب اختلاف کے لیے عمر ایوب کا نام تجویز کیا ہے،نام قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر رول نمبر 39 کے تحت جمع کرایا گیا ہے۔

  • سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کر دیا

    لاہور: سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے درخواست دائر کی، درخوا ست میں الیکشن کمیشن سمیت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹربیونل ہے اور نہ ہی عدالت ہے، پنجاب اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست چار ایک سے مسترد کر دی تھی، سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد ہونے کے پارٹی 77 مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی تھی اور یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی کو مل گئی ہیں-

  • الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد خالی مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کردی ہے

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا نوٹی فیکشن جاری کردیا۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کو ایک ایک نشست مل گی۔ نیلم ، جیمز اقبال اور رمیشن کمار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں،قومی اسمبلی میں پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کا نوٹی فیکشن بھی جاری کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کو دو اور مسلم لیگ ن کو ایک نشست مل گئی۔ ثمینہ خالد گھرکی ، نتاشہ دولتانہ اور تمکین نیازی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئی ہیں

    الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کی خالی مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کردی ہے۔ پیپلز پارٹی کو مزید دو نشستیں مل گئیں، سندھ میں ایم کیو ایم کو ایک اور نشست مل گئی۔پیپلز پارٹی کی سمیتا افضال خواتین کی کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بن گئیں ، پیپلز پارٹی کے سریندر ولاسائی اقلیت کی نشست پر رکن سندھ اسمبلی بن گئے جبکہ ایم کیو ایم کی فوزیہ حمید بھی سندھ اسمبلی کی رکن بن گئی ہیں ۔ سندھ اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے بعد پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی۔پیپلزپارٹی ارکان اسمبلی کی تعداد 116 ہو گئی ، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی کی تعداد 37 ہو گئی ۔جی ڈی اے کے تین ، پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد 9 اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے.

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کی باقی تین نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمعیت علماء اسلام میں تقسیم کردی گئی ہیں ۔مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اور جمیعت علما اسلام کو ایک ایک نشست الاٹ کردی گئی ہے

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا. فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں کو دینے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی،سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر الیکشن نہیں لڑا،چئیرمین سنی اتحاد کونسل نے بھی اپنا انتخابی نشان ہونے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا،الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سنایا،چیف الیکشن کمشنر،ممبر سندھ،پنجاب اور بلوچستان نے نشستیں اکثریتی فیصلے کی حمایت کی،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔نوٹ میں کہا کہ "معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں ".

    8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے، بلے کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اور جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص سیٹوں کے لئے فہرست جمع نہیں کروائی جس کی بنیاد پر انہیں سیٹیں نہیں دی جا سکتیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو بھی اس کیس میں سنا تھا، اور فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ،صدارتی ،سینیٹ انتخاب ملتوی کیے جائیں،علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ افسوس ناک ہے، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے گی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں،الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے،صدارتی انتخاب اورسینیٹ الیکشن میں ہمیں نقصان ہوگا،الیکشن کمیشن نےہمیں مخصوص نشستوں کےحق سےمحروم کیاہےہماری جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے تک صدارتی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوسکتے،صدارتی اور سینٹ کے الیکشن ملتوی کیے جائیں ،پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر صدارتی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات ہوئے تو ہم اس کو قبول نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن جانبدار ہے، اپنی ذمہ داریاں آئینی طریقے سے پوری نہیں کی، وہ فوری مستعفی ہو اور ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے، ہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ جائیں گے اور وہاں سے فیصلہ آنے تک وزیراعظم، سینیٹ اور صدارتی انتخاب قابل قبول نہیں۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ وزیر اعظم کے الیکشن سے پہلے جاری نہیں کیا،پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکی، آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لوگ کنفیوژ نہیں ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا ،آئین کہتا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آج ہاوس کے سامنے مطالبہ ہے کہ پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو،

    الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ ،چیلنج کریں گے،شعیب شاہین
    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے،
    امید ہے ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا ، سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کیخلاف ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رابطے شروع کردیئے، پی ٹی آئی نے سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا، تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب نے اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے گفتگو کی جائے گی،پی ٹی آئی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی،اجلاس میں فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی تھی،بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

  • بابر سلیم سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    بابر سلیم سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر منتخب،حلف اٹھا لیا

    سنی اتحاد کونسل کے بابر سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں

    اسپیکر کے عہدے کیلئے سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم سواتی اور پیپلز پارٹی کے احسان اللہ میاں خیل کے درمیان مقابلہ ہوا، جب کہ ڈپٹی اسپیکر کےعہدے کیلئے سنی اتحاد کونسل کی ثریا بی بی اور ارباب وسیم کےدرمیان مقابلہ ہو گا۔ اسیپکر کے عہدے کے لئے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی ہوئی،سنی اتحاد کونسل کے امیدوار بابرسلیم سواتی نئے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی منتخب ہوگئے،مجموعی طور پر 106 ووٹ ڈالے گئے،بابر سلیم سواتی نے 89 اور احسان میان خیل نے 17 ووٹ لیے،مشتاق احمد غنی نے نتائج کا اعلان کیا، بعد ازاں بابر سلیم سواتی نے اسپیکر خیبرپختونخوااسمبلی کےعہدے کاحلف اٹھالیا. جس کے بعد ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے، سنی اتحاد کونسل کی ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی منتخب ہو گئیں، ثریا بی بی 87 ووٹ لے کر خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بن گئیں،ثریا بی بی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چترال کی تحصیل مستوج سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ ثریا بی بی 2024 کے عام انتخابات میں چترال سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 1 پر کامیاب ہونے والی واحد خاتون رکن اسمبلی ہیں۔کل بروز جمعہ صبح دس بجے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کےلیے صوبائی اسمبلی میں انتخابات ہونگے

    خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد نے حکومتی اراکین کو ٹھینگا دکھا دیا,اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے الیکشن کے لیے ثوبیہ شاہد ووٹ ڈالنے کیلئے اٹھیں تو گیلریز سے کارکنان نے جملے کسے جس پر ثوبیہ شاہد نے نامزد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی شکایت کی,خاتون رکن اسمبلی نے نامزد وزیراعلیٰ کو حکومتی کارکنان کے نعروں کی شکایت کی جس پر علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا,

    سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ،

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    خیبر پختونخوا میں تیسری بار تحریک انصاف حکومت بنانے جا رہی ہے، 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی نے صوبے میں حکومت بنائی اور پرویز خٹک وزیراعلیٰ بنے،2018 میں پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ حکومت بنائی اورمحمود خان صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی تاریخ میں واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف حکومتیں بنانے کی ہیٹرک مکمل کی بلکہ مسلسل دوسری مرتبہ صوبے میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔علی امین گنڈا پور اس بار وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں، عمران خان نے اڈیالہ جیل سے علی امین گنڈا پور کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا،

  • الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    سنی اتحاد کے چئیرمین حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،

    حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنرل الیکشن کروائے جانے پر الیکشن کمیشن پارٹیوں کو خط لکھتا ہے کہ پانچ فیصد کوٹا خواتین کو دیا جاتا ہے، سنی اتحاد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا،اس کو آرٹیکل 206 کی بنیاد پر پڑھا گیا ہے، چونکہ ہم نے جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، ہم نے یہ کسی جگہ پر نہیں کہا کہ ہمیں مخصوص نشتیں نہیں چاہئیے، ہمارے پاس خط موجود ہے،وہ خط صرف ہمیں نہیں لکھا گیا تمام جماعتوں کو لکھا گیا ہے، میرا بیان حلفی وہاں پر موجود ہے کہ اگر ہم الیکشن لڑیں گے تو مخصوص نشتیں لیں گے، چیف الیکشن کمشنر کی مرضی ہے وہ جو مرضی سمجھ لیں،

    واضح رہے کہ مخصوص سیٹوں کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا،سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے 26 جنوری کو الیکشن کو خط لکھا سربراہ سنی اتحاد کونسل نے خط میں لکھا ہمیں مخصوص نشستیں نہیں چاہیے،بیرسٹر علی ظفر نے خط سے لاعلمی کا اظہار کیا.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • وزیراعلیٰ مریم نواز  کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب اسمبلی اجلاس، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایوان میں پہنچ گئیں

    سپیکر ملک احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا،پنجاب اسمبلی میں ایک ماہ کا صوبائی بجٹ منظور کر لیا گیا، اپوزیشن نعرے بازی کرتی رہی،358 ارب 94 کروڑ سے زائد ماہانہ کے پنجاب کے بجٹ میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات شامل ہیں جب کہ مارچ کے لیے بنائے گئے بجٹ کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے مختص ہے۔ اس کے علاوہ جاری ترقیاتی اسکیموں کی ضروری ادائیگیوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں ،اپوزیشن کے اعتراضات اور نعرے بازی کے دوران صوبے کے ایک ماہ کے بجٹ کا تخمینہ پنجاب اسمبلی میں منظور ہوگیا، جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا

    پنجاب اسمبلی نے 358 ارب روپے کی منظوری دیدی، کس شعبے کو کتنا بجٹ ملا تصیلات سامنے آ گئیں,پولیس کیلئے 13 ارب 872 کرو ڑ روپےمختص, تعلیم کے لئے دس ارب 16 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔،ہیلتھ سروسز کیلئے 27 ارب 64 کروڑ روپے رکھے گئے,زراعت کیلئے 21ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ویٹرنری کیلئے 1 ارب64 کروڑ 31 مختص کیے گئے ہیں,سول ورکس کیلئے 1ارب 25 کروڑ 81 لاکھ 16 ہزار مختص کیے گئے۔ریلیف پیکج کی مد ایک ارب 31 کروڑ 36 لاکھ روپے رکھے گئے۔سبسڈیز کی مد میں 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں,متفرق کی مد میں 62 ارب مختص کیے گئے ہیں۔گندم اور شوگر کی خریداری کیلئے 30 ارب روپے مختص,ڈویلپمنٹ کی مد 28 ارب روپے رکھے گئے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا احسن اقدام،مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات کی اور احتراماً سلام کیا،اس موقع پر مریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ تھیں۔مریم نواز نے رانا آفتاب کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ آپ کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں،مریم نواز شریف نے رانا آفتاب احمد خان کے لئے خیر سگالی کے جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ انتخاب کے دن آپ سے میری ملاقات نہ ہوسکی، اس دن بھی چاہتی تھی کہ آپ ایوان میں ہوتے، یہی کہنے آئی ہوں کہ آپ سب کے لئے میرے دروازے کھلے ہیں،جتنی حکومتی ارکان کی وزیر اعلیٰ ہوں، اتنی ہی آپ کی بھی ہوں، رانا آفتاب احمد خان نے آمد پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس دن کوئی جگہ بتا دی جاتی تو ہم آ جاتے، مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے اس دن لوگوں کو آپ کے پیچھے بھیجا، میں نے پوری کوشش کی کہ آپ اس عمل میں شریک ہوں، مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت کرنا میرا فرض ہے، اپنا فرض ادا کروں گی۔ عوامی خدمت کر کے مخالفین کو غلط ثابت کروں گی۔ مخالفین کو سمجھ نہیں آ رہی ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ میرا کام پنجاب کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب بازو پر کالی پٹی باندھ کر اجلاس میں شریک ہیں، رانا آفتاب کو سنی اتحاد کونسل نے وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا تا ہم اجلاس کے روز سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے وزیراعلیٰ کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا.رانا آفتاب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس دن میں ایم پی اے منتخب ہوا ہوں میرے گھر میں دو دفعہ چوری ہو چکی ہے میں اپنے بیڈ روم میں نہیں رہ سکتا۔

    مریم نواز خاتون وزیراعلیٰ پنجاب،خراج تحسین کی قرارداد اسمبلی میں جمع
    دوسری جانب مریم نوازکی بطور پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے پر خراج تحسین کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی ہے،قرارداد مسلم لیگ (ن)کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ مریم نواز کی سیاسی جدوجہد اور جمہوریت کے لئے دی گئی قربانیاں بے مثال ہیں، پنجاب کا یہ ایوان پر امید ہے کہ مریم نوازکے منتخب ہونے سے پنجاب کی خواتین سیاسی، سماجی، معاشی و قانونی طور پر مضبوط و خودمختار بنیں گی۔

    ملازمت پیشہ خواتین کے لیے پنک بائیک پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد
    پنجاب اسمبلی میں ایک اور قرارداد بھی جمع کروائی گئی ہے،قرارداد مسلم لیگ نون کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کروائی گئی،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے پنک بائیک پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے، پنجاب میں اس سے قبل مسلم لیگ نون کی حکومت نے ہی خواتین کو پنک بائیک تقسیم کرنے کا پروگرام شروع کیا تھا،آج بھی سینکڑوں خواتین اور نوجوان لڑکیاں سڑکوں پر وہی پنک بائیک چلاتی نظر آتی ہیں، ملازمت پیشہ خواتین کے لیے سستی موٹر سائیکل سکیم قابل ستائش پروجیکٹ ہے.

    پنجاب میں میڈیسن کی ہوم ڈیلیوری یکم مئی سے شروع کرنے کا اصولی فیصلہ
    دوسری جانب وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام بی ایچ یو اور رورل ہیلتھ سنٹر کی مرحلہ وار ری ویمپنگ کی ہدایت کر دی، پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں فری میڈیسن کی فراہمی کا پلان طلب کر لیا گیا،میڈیسن کی ہوم ڈیلیوری یکم مئی سے شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پتھالوجی لیب سسٹم میں بہتری کے لئے تجاویز طلب کر لیں ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نےپنجاب بھر میں پتھالوجی لیب کا معیار بہتر بنانے کا حکم، پلان بھی طلب کر لیا،سرکاری ہسپتالوں کے لئے سنٹرل پتھالوجی لیب بنانے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا،3 اضلاع میں میڈیکل سٹی بنانے کے لئے سفارشات اور تجاویز طلب کر لی گئیں،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں خالی، متروک اور بند پڑے ہسپتالوں کی عمارتوں کی فہرست طلب کر لی،

    عوام کو طبی سہولتیں دینا کوئی احسان نہیں، احسان کرنے والا رویہ بدلنا ہوگا،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ مفت ادویات عوام کا حق ہے،میڈیسن دینے کا عہد پورے کریں گے۔ پسماندہ اور دور دراز شہروں کے لوگوں کا بھی طبی سہولتوں پر پورا حق ہے۔عوام کو طبی سہولتیں دینا کوئی احسان نہیں، احسان کرنے والا رویہ بدلنا ہوگا۔ ہیلتھ کارڈ کو ری ڈیزائین کرکے جلد فنکشنل کر دیا جائے گا۔ پنجاب کے بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ جون تک مکمل کر لی جائے گی۔سابق سینیٹر پرویز رشید،ارکان اسمبلی، مریم اورنگزیب، خواجہ سلیمان رفیق،عظمیٰ بخاری،بلال کیانی،خواجہ عمران نذیر، ثانیہ عاشق نے اجلاس میں شرکت کی،چیف سیکرٹری، سیکرٹریز، صحت، فنانس،پنجاب ہیلتھ فیسلیٹیز مینجمنٹ کمپنی، پی ڈی ہیپاٹائٹس،ڈی جی ہیلتھ سروسزاور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئی تھیں، ان کی تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں ہوئی جہاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ان سے حلف لیا تھا، اس موقع پر نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، کیپٹن ر صفدر و دیگر موجود تھے.

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    قبل ازیں مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہو گئی ہیں،مریم نواز کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں 220 ووٹ ملے ہیں،وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے بعد مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے دفتر ، دل اور چیمبر کے دروازے اپوزیشن کے لئے بھی کھلے ہیں،ڈیتھ سیل، قید تنہائی، بےقصور عدالتی راہداریوں میں دھکے کھانا، والد کی گرفتاری، ماں کا گزرجانا ، ان سب تکالیف کے باوجود مخالفین کی شکرگزار ہوں،اپنی والدہ اور قوم کی تمام ماؤں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں،جو آج یہ تاریخ بن رہی ہے یہ ہر خاتون کی فتح ہے ہر بیٹی اور ہر ماں کی فتح ہے۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت ہونا بیٹی ہونا آپ کے خوابوں کی تعبیر کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔