Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
    جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
    بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟

    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل

    جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

    Muhammad Abdullah
  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ، تنظیمی تربیتی ماحول اور یونٹ کی سطح سے مرکزی سطح تک کسی قسم کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے کارکنان کی تربیت سازی کا کوئی رواج ہی نہیں۔ جب ہم قوم یوتھ کہتے ہیں تو اس سے مراد گزشتہ الیکشن میں پہلی دفعہ ووٹ دینے والے نوجوان ہیں، جن کو بڑے بڑے صحافی خود ہی "یوتھیے” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، ان کی جانب سے گھٹیا ٹرینڈز آنا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ ن کا سٹرکچر بھی ایسا ہی ہے، وہاں نوجوانوں کا دیہاتی طبقہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ یوتھیے اور نونی قوم کے اخلاقی زوال کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جماعتی ماحول میں تربیت پانے والے کارکنان گالم گلوچ کے بجائے دلیل سے بات کرتے ہیں، عوامی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ وغیرہ کے کارکنان سوشل میڈیا پر میری اس بات کے گواہ ہیں۔ لہذا جماعتوں کو چاہیے کہ نظام بنائیں اور کارکنان سازی کریں۔ محض ووٹرز کے دم پر چلنے والی جماعتیں جلد زوال کا شکار ہوجایا کرتی ہیں جبکہ کارکنان کے زور بازو پر پنپنے والی تحریکیں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔

  • نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    موجودہ دور میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ ہمارے نظام تعلیم میں اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں برداشت کے حوالے سے کوئی رہنمائی اور ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ ہم ہمیشہ سے اس مغا لطے کے شکار ہیں کہ ہم سب سے بہتر ہیں اور دوسرے کم تر ہیں۔ اس سوچ کی بدولت ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف آج کل سوشل میڈیا کی بدولت شہرت کی وبا پھیل رہی ہے۔ ہر دوسرا شخص سوشل میڈیا پر آ کر کسی دوسرے کے نظریے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ نظریہ خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ،کسی انسان کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر فسادات نظریاتی اختلافات کی بدولت ہی ہوئے ہے۔ نظریات پر حملہ آور کو منفی سوچ کے لوگوں سے زیادہ پذیرائی بھی ملتی ہے۔ اور لوگ بھی بغیر کسی تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں۔ گذشتہ روز پی ٹی ایم کی طرف سے تین بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ یہ بھوک کی وجہ سے مر گئے حلانکہ ان بچوں نے موسم سرما کے کپڑے پہنے تھے اور یہ ایک پرانی تصویر تھی لیکن اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر لوگ دھڑا دھڑ پھیلا رہے تھے۔ اسی طرح چند دن پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے ترکی میں جلوس کے تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں۔ کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کا بجٹ کے خلاف مظاہرہ ہے۔ حلانکہ اس تصویر میں، بلڈنگ، کپڑے، سب کچھ نمایاں تھیں۔ اج کل سوشل میڈیا پر بغیر دلیل و استدلال مغا لطے کی بنیاد پر نظریات زیر عتاب ہیں۔ کوئی بندہ آزادنہ طور پر اپنے نظریے پر بات نہیں کرسکتا۔ کیونکہ سوچ وشعور سے عاری مفتیان اور غازیانِ سوشل میڈیا فتویٰ کی بمباری شروع کرتے ہیں۔ ہر روز بے بنیاد اور دلیل کے بغیر خبریں جھوٹی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ بغیر دلیل و شعور کے نظریات پر حملوں سے با ت گالیوں تک پہنچتی ہے۔ گالیوں سے بات معاشرے میں بگاڑ اور خون خرابے تک چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ ہم کسی جھوٹی خبر کو نہیں پھیلائیں گے۔ کسی کے نظریات پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہمیشہ مثبت تنقید کریں گے۔ کسی بندے کے ذاتی زندگی پر حملہ نہیں کریں گے اور کوئی بھی با ت ثبوت کے بغیر نہیں کریں گے۔ اسی سے معاشرے میں ایک مثبت مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے گی اور دوسرے کے نظریات کو تحمل سے برداشت کرنے کی روش عام ہو گی۔

  • دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    آج وقت ہے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے
    سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے. پوسٹ, ویڈیو پیغام اور کمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے لیے بھرپور آواز اٹھائے.
    PTM ہو یا ان کی حمایتی کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے نام نہاد لیڈر جوکہ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے دوست ہیں. ان سب کی گز گز لمبی زبانوں کو بند کروانا آج ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے.

    آج اپنی سیاسی وابستگی کسی سے بھی ہو.. مطلب کسی سے بھی.. کسی بھی سیاسی پارٹی سے. مگر ہمیں سیاسی وابستگی نہیں دیکھنی بلکہ ملک کی سالمیت دیکھنی ہے. جو ملک کے دشمنوں کو افطاریوں میں دعوت دیں وہاں پلان بنائیں, آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کریں وہ دہشت گرد گروہ اور سیاسی گماشتے ان کی سپورٹ کریں زبان درازی کریں اپنے اداروں پر, افواج پاکستان پر. یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا.
    میں مرسکتا ہوں مگر اپنے شہدا, کے خون سے غداری نہیں کرسکتا. پاک فوج ہماری فوج ہے. ہر پاکستانی اس خطرناک سازش کو سمجھیں. ڈراموں, فلموں, کہانیوں, کارٹونوں اور میچوں سے باہر نکل کر زرا حیقیت کی دنیا میں آجاو. اب وقت نہیں ہے زیادہ کہ ہم غفلت کی نیند سوئیں. دشمن اب پھر گھیرا ڈال رہے ہیں. اندر اور باہر سے ملک مخالف آوازیں اٹھانے والے متحرک ہوچکے ہیں. منظور پشتین, گلالئی اسماعیل, علی وزیر, محسن ڈارڑ, محمود اچکزئی, اسفند یار ولی, ملالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے حمایتی اپنا کام پوری محنت سے کررہے ہیں. مگر پاکستانی نوجوان سویا ہوا ہے. لڑکوں لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ ملک کے خلاف کتنی بڑی سازش ہورہی ہے, کل میں نے ایک تقریب میں لڑکوں کی بڑی تعداد سے پوچھا کہ بتاو PTM کیا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف کیا محاذ گرم کیا ہوا ہے تو کوئی بتانے والا نا تھا , کیونکہ ہماری نوجوان نسل کی دلچسپی کچھ اور ہے. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. اقبال کا شاہین ایسا تو نا تھا. پاکستانی نوجوان, مسلمان عوام, کو ایسا ہونا چاہیے کہ یہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں تو پتا چل جائے کہ صورتحال کیا ہے اور میرے کرنے کا کام کیا ہے.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے وہ مجاہد سپاہی وہ لشکر جو تکفیری اور ملک دشمنوں سے ٹکرا گئے وہ پاک فوج کے جانباز جو دفاع وطن میں جان کی بازی ہار گئے ان کو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤ گئے. سوچو زرا ؟؟؟
    ان شہدا نے کس بات پر قربانیاں دی ہیں کبھی خیال تو کرو. آؤ آگے بڑھو اور کردار ادا کرو ایک ایک دوست کو, کلاس فیلو, رشتہ دار کو, ہمسائے کو, امام مسجد کو, سکول ٹیچر کو, عالم دین کو, تاجر کو, ریڑھی والے کو, محنت کش کو, کسان کو, مزدور کو, دکاندار کو, ہر پاکستانی بھائی جان کو آج صورتحال سے آگاہ کرو اور ذہن سازی کرو ورنہ کہیں کل ہم بھی عراق, شام, فلسطین, افغانستان نا بن جائیں.
    اللہ تیری پناہ مانگتے ہیں ہم.
    اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ہم تیرے دئیے ہوئے ملک کی حفاظت کریں اللہ ہماری افواج پاکستان کے سپاہیوں اور مجاہدوں کو ہمت و حوصلہ عطا فرما تاکہ دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کریں.
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد