Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • سندھ حکومت کاسوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے کیخلاف اقدامات کا فیصلہ

    سندھ حکومت کاسوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے کیخلاف اقدامات کا فیصلہ

    کراچی: سندھ حکومت نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سوشل میڈیا پر ملکی مفادات کے خلاف چلنے والی منفی مہمات کو ناکام بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملک اور قومی مفادات کے خلاف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے صوبائی سطح پر ایک خصوصی سیل قائم کیا جانا چاہیے تاکہ جھوٹی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا بروقت اور مؤثر تدارک کیا جا سکےاظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا آئینی حق ہےتاہم اس کی آڑ میں جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سندھ قومی مفادات کے تحفظ اور درست معلومات کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔

    اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے،جبکہ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔

    قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    (فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے گئے )
    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہےانہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

    فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیو ں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔

    دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔

    اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس بک کی سروس ڈاؤن

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس بک کی سروس ڈاؤن

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ کی سروس ڈاؤن ہوگئی ۔

    سروس میں خلل کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق دنیا بھر میں کئی صارفین کو فیس بک کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اس حوالے سے ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے ایکس پر پیغام جاری کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صارفین نے فیس بک میں مسائل کی نشاندہی رپورٹ کی ہے، اتوار کے روز فیس بک کے مسائل کی شکایات میں اچانک اضافہ ہوا صبح تقریباً 10 بج کر 39 منٹ پر شکایات کی تعداد صرف چند لمحوں میں 5 سے بڑھ کر 3 ہزار 555 تک پہنچ گئی۔

    رپورٹس کے مطابق فیس بک کا ڈیسک ٹاپ ورژن بھی کئی صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھا بعض افراد کو اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش پر پیغام موصول ہوا کہ “آپ کا اکاؤنٹ عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے، سائٹ کے مسئلے کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ فی الحال بند ہے، امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا، چند منٹ بعد دوبارہ کوشش کریں۔

  • اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر  چیٹ ممکن

    اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر چیٹ ممکن

    مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین منفرد یوزر نیم (Username) کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے، جس کے بعد چیٹ کے لیے فون نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا پیر سے صارفین ایپ کے ذریعے اپنا یوزر نیم محفوظ (Reserve) کر سکیں گے، تاہم یہ فیچر لازمی نہیں ہوگا، صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف بھی کر سکیں گے یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ چند معروف شخصیات، سرکاری عہدیداروں اور مشہور ناموں کو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ ہو۔

    واٹس ایپ کی ہیڈ آف پروڈکٹ ایلس نیوٹن ریکس نے کہا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر گروپ چیٹس میں، اپنا فون نمبر دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے مطابق یہ فیچر صارفین کو اس بات پر زیادہ اختیار دے گا کہ وہ ایپ پر اپنی شناخت کس طرح ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم صارفین کے پاس بدستور ناپسندیدہ پیغامات بھیجنے والوں کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا اختیار موجود ہوگا۔

    دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور کتاب Privacy is Power کی مصنفہ کاریسا ویلز نے کہا کہ اگرچہ یہ فیچر پرائیویسی کے حوالے سے مفید ہے لیکن واٹس ایپ مجموعی طور پر مکمل طور پر پرائیویسی دوست پلیٹ فارم نہیں کیونکہ یہ اشتہارات کے لیے صارفین کا مختلف قسم کا میٹا ڈیٹا، جیسے وہ کس سے اور کب رابطہ کرتے ہیں استعمال کرتا ہے۔

    واٹس ایپ نے واضح کیا کہ وہ صارفین کی نجی گفتگو کا مواد اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ تمام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہوتی ہیں اور کمپنی ان کے مندر جات نہیں پڑھ سکتی فیچر کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد صارفین کے فون نمبر دیگر افراد کو نظر نہیں آئیں گے تاہم واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر بدستور ضرور ی ہوگا ، یوزر نیمز کی کوئی عوامی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی۔

  • متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی ہے،متحدہ عرب امارات (UAE) نے بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ تاریخی قدم اٹھایا ہے

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیصلے کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مکمل سہولیات تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوگی، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے متحدہ عرب امارات اس اقدام کے ذریعے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے خطے میں ایک نئی مثال قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے،جس کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

  • برطانیہ میں  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

    پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔

    اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنی حا صل ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔

    دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ، کابینہ میں استعفوں اور دفاعی اخراجات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ بچوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے اور دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • بھارتی محبوبہ سے ملنے کے لیےپاکستانی نوجوان نے ’لائن آف کنٹرول‘ پار کرلی

    بھارتی محبوبہ سے ملنے کے لیےپاکستانی نوجوان نے ’لائن آف کنٹرول‘ پار کرلی

    پاکستانی نوجوان نے سوشل میڈیا پر ہونے والی محبت کی خاطر آزاد اور مقبوضہ کشمیرکی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرلی، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے پار سے ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے دیکھا، جسے مقبوضۃ کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا گیا سیکیورٹی فورسز کی تفتیش کے دوران اس نوجوان نے اپنی شناخت ذیشان احمد میر ولد لال دین میر بتائی، جو مظفرآباد کے علاقے پائن کڈی کا رہائشی ہے، اور اس کے پاس سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    cnic
    zeeshan

    نوجوان نے اڑی سیکٹر جیسے دنیا کے حساس ترین اور سخت پہرے والے سرحدی علاقے کو پار کرنے کی جو وجہ بتائی،ذیشان نے بھارتی تفتیشی حکام کو بتایا کہ اس نے یہ خطرناک قدم اڑی کی رہنے والی اپنی محبوبہ ارم بانو سے ملنے کے لیے اٹھایا ان دونوں کی پہلی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے اور اسی آن لائن دوستی کے بعد اس نے سرحد پار کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ذیشان اور ارم بانو دونوں سے مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان کے دعوؤں کی حقیقت کا پتہ لگایا جا سکے،ایجنسیاں اس وقت دونوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نو عیت کو سمجھا جا سکے۔

  • اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، سروسز اسپتال انتظامیہ

    اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، سروسز اسپتال انتظامیہ

    سروسز اسپتال اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے سوشل میڈیا پر اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے-

    پرنسپل سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زہرہ اور ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹر رانا خرم آفتاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اسپتال کے حوالے سے چلنے والی حالیہ ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے۔

    ڈاکٹر زہرہ نے اسپتال کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ سروسز اسپتال پر عوام کا اعتماد مثالی ہے اور گزشتہ روز 7 ہزار سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں 2100 سے زائد ایمرجنسی کیسز تھے جبکہ 300 سے زائد آپریشنز کیے گئے غریب مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دیا جا رہا ہے اور عید کے ایام میں فالج کے مریضوں کو لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی انجکشنز بالکل مفت فراہم کیے گئے تاکہ کوئی غریب مریض خود کو بے بس نہ سمجھے۔

    ترکیہ نے دو دہائیوں بعد فیفا ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا

    ڈاکٹر زہرہ نے میڈیا پر زور دیا کہ کسی بھی خبر کو چلانے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کریں کیونکہ ایک غلط خبر پورے محکمے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہےآپریشن تھیٹر میں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان صرف خدا کی ذات ہوتی ہے، اس لیے اس مقدس رشتے اور اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، اگرچہ سسٹم میں بہتری کی گنجا ئش ہمیشہ رہتی ہے اور ہم اس کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

    اس موقع پر ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹررانا خرم آفتاب نے وضاحت کی کہ جیسے ہی مبینہ ویڈیو سامنے آئی، فوری طور پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور انکوائری رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے حالیہ بارشوں اور شٹ ڈاؤن کے باوجود اسپتال میں علاج معالجے کا عمل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا اور تمام مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

  • واٹس ایپ نے نیا کنٹرول سسٹم متعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے نیا کنٹرول سسٹم متعارف کرادیا

    واٹس ایپ بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹس کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے اس فیچر کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے اکاؤنٹس پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔

    کمپنی کے مطابق یہ نیا سسٹم خاص طور پر 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہےاس میں بچوں کا اکاؤنٹ والدین کے اکاؤنٹ سے منسلک ہوگا تاکہ والدین یہ طے کر سکیں کہ ان کا بچہ کن افراد سے چیٹ کر سکتا ہے، کن گروپس میں شامل ہو سکتا ہے اور کن سیٹنگز کو استعمال کر سکتا ہےاس کے علاوہ بچوں کی پرائیویسی سیٹنگز اور چیٹ سے متعلق کئی آپشنز بھی والدین کے کنٹرول میں ہوں گے۔

    اس فیچر کے تحت ان خصوصی اکاؤنٹس میں بچوں کو صرف پیغامات بھیجنے اور کال کرنے کی سہولت دی جائے گی جبکہ اشتہارات بھی نہیں دکھائے جائیں گےاگرچہ ایپ اسٹورز پر اس ایپ کی عمر کی حد 13 سال یا اس سے زیادہ رکھی گئی ہے، تاہم بہت سے کم عمر بچے اپنے والدین سے رابطے کے لیے پہلے ہی اس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔

    5G اسپیکٹرم نیلامی: مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں واضح اضافہ

    میٹا کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام میں بچے کا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین یا سرپرست کو اپنے فون اور بچے کے فون دونوں کی ضرورت ہوگی سیٹ اپ کے دوران اکاؤنٹ کو کیو آرکوڈ کے ذریعے تصدیق کیا جائے گا اور والدین کو اکاؤنٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں مختلف الرٹس بھی موصول ہوں گے، مثال کے طور پر اگر بچہ کسی نئے کانٹیکٹ کو شامل کرے، بلاک کرے یا رپورٹ کرے تو والدین کو فوری اطلاع ملے گی۔

    اگر کسی نامعلوم یا مشکوک شخص کی طرف سے پیغام آئے تو اسے الگ فولڈر میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں والدین اسے دیکھ کر بلاک یا اجازت دینے کا فیصلہ کر سکیں گے اس کے علاوہ والدین چاہیں تو اضافی نوٹیفکیشنز بھی فعال کر سکتے ہیں، جیسے کہ بچے کی پروفائل تصویر یا نام تبدیل کرنا، کسی نئے چیٹ ریکوئسٹ کا آنا، کسی گروپ میں شامل ہونا یا اسے چھوڑنا۔ یہ تمام سیٹنگز والدین کے مقرر کردہ چھ ہندسوں کے پن کے ذریعے محفوظ ہوں گی۔

    اینٹوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،سرکاری ریٹ پر دستیابی کی استدعا

    کمپنی کے مطابق ان اکاؤنٹس میں کئی فیچرز دستیاب نہیں ہوں گےمثال کے طور پر میٹا کی میٹا اے ائی، چینلز اور اسٹیٹس جیسی سہولیات بچوں کے لیے بند رہیں گی۔ اسی طرح پرائیویٹ چیٹس میں ڈزاپیئرنگ کا آپشن بھی دستیاب نہیں ہوگا، اگر کسی نامعلوم نمبر سے بچے کو پیغام موصول ہو تو ایپ اس کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرے گی، جیسے کہ وہ شخص کس ملک سے ہے یا کیا وہ کسی مشترکہ گروپ میں موجود ہے، نامعلوم افراد کی تصاویر بھی خودکار طور پر دھندلی دکھائی جائیں گی تاکہ بچے محفوظ رہیں۔

    کمپنی کے مطابق جب بچے کی عمر بڑھ جائے گی تو انہیں اطلاع دی جائے گی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کو عام اکاؤنٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم والدین چاہیں تو اس تبدیلی کو مزید 12 ماہ تک مؤخر بھی کر سکیں گے اس فیچر کو ابتدائی طور پر چند ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور آئندہ مہینوں میں اسے مرحلہ وار دیگر ممالک میں بھی پھیلا دیا جائے گا۔

    
ایران کی دھمکی، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو خطے کی تمام بندرگاہیں نشانے پر ہوں گی

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات پر بحث جاری ہے۔

  • قطر میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزامات پر سینکڑوں افراد گرفتار

    قطر میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزامات پر سینکڑوں افراد گرفتار

    قطر کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں 313 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق ان افراد کو ویڈیوز بنانے، غلط معلومات پھیلانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شائع کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا،یہ کارروا ئی ملک میں جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی گئی ہے،قطری وزارتِ داخلہ کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔

    پی ایس ایل 11 کا مجوزہ شیڈول سامنے آ گیا

    ایران کیساتھ جنگ: ایک اور امریکی فوجی ہلاک، امریکا نے تصدیق کردی

    مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں