پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویمن کرکٹ کے ڈومسیٹک سیزن 2019-20 کا اعلان کردیا ، سیزن کا آغاز قومی ٹرائینگولر ایک روزہ خواتین کرکٹ چیمپئن شپ سے ہوگا، چیمپئن شپ 17 سے 26 ستمبر تک لاہور جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلی جائے گی،ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 5 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گی،
پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کو آئندہ ماہ بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز کھیلنی ہے،پاکستان اے خواتین کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ اے سی سی ایمرجنگ کپ میں شرکت کرے گی، قومی ٹرائینگولر ٹی ٹونٹی خواتین چیمپئن شپ آئندہ سال جنوری میں ہوگی
Tag: سوشل میڈیا
-

پی سی بی نے سال 2019-20 کیلئے ویمن کرکٹ کے ڈومیسٹک شیڈول کا اعلان کر دیا
-

غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ
مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔
یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔
رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔
غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین
-

قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس
پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے
_______________________
خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہےبالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں
اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں
لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے
کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں
ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔
-

جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان
پاکستانی میڈیا کو اب تک 4 ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
پہلا دور سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا تھا۔ جس کے خبرنامہ میں صدر، وزیر اعظم کی سرکاری تقریبات، وزیر اطلاعات وغیرہ کے پالیسی بیان، ملک میں ہونے والا بڑا حادثہ، کھیل، شوبز کی خبریں اور آخر میں موسم کا حال سنا کر سب امن سکون کی شنید سنائی جاتی تھی۔ اس دور میں مالاکنڈ ڈویژن میں زیادہ بارش اور بلڈ پریشر کے مریض کم ہوتے تھے۔
پھر اخبارات کا دور آیا۔ حکومت مخالف خبریں شایع ہونا شروع ہوئیں اور ساتھ ہی سینسر شپ بھی۔ قلم کے مزدور باز نہ آتے۔ روز کسی نئے انداز سے معلومات عوام تک پہنچا دیتے۔ آزادی صحافت کے لیے کوڑے کھانے والوں کے قلم کی کاٹ سے ایوانوں میں رہنے والے پریشان ہوجاتے۔ گرفتاریاں، کریک ڈاون اور اخبارات کو بند کرنے کے احکامات روز کا معمول تھا۔
سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہپھر نجی ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد نہ صرف میڈیا فاسٹ ہوا بلکہ کمرشل بھی ہوگیا۔ صحافیوں کی تنخواہیں بہتر ہونے کے ساتھ صحافت نایاب ہوگئی۔ یار دوستوں کو کہتے سنا۔ پہلے اخبار میں صحافت کرتے تھے۔ اب چینل میں نوکری کرتے ہیں۔ چینل بھی تقسیم ہیں۔ ایک حکومت کا حامی تو دوسرا مکمل مخالف، ایک پرو آرمی تو دوسرا آرمی مخالفت میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ ایسے میں کس پر اعتبار کریں
سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہسب چھوڑیں اب بات کرتے ہیں دور حاضر کی۔ موبائل نے سب کو فوٹوگرافر اور سوشل میڈیا نے سب کو صحافی بنادیا ہے۔ حقائق کیا ہیں اسے چھوڑیں بس اپنے لیڈر کو درست اور مخالف کو ننگا کرنا مشن ہے۔ مشرقی اقدار، روایات، اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ کبھی بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں اب مخالف سیاسی پارٹی کی ہوگئی ہیں۔
کبھی دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی۔ بھی گلوبل ویلیج بن گئی اور اب سوشل میڈیا نے اسے ایک اندھیرا کنواں بنا دیا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں جو خوش فہمی یا مایوسی میں مبتلا کردیتے ہیں۔
ماضی کے میڈیا پر الزام تھا کہ وہ مرضی کی خبریں دکھاتے ہیں۔ مگر آج سوشل میڈیا کے کسی اسٹیٹس یا ٹوئیٹ پر آنکھ بند کر کے اعتبار کریں تو معلوم ہوتا ہے فیک اکاونٹ ہے۔
اب آپ ہی بتائیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟
-

سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ
گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟
مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

Muhammad Abdullah -

سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر
پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ، تنظیمی تربیتی ماحول اور یونٹ کی سطح سے مرکزی سطح تک کسی قسم کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے کارکنان کی تربیت سازی کا کوئی رواج ہی نہیں۔ جب ہم قوم یوتھ کہتے ہیں تو اس سے مراد گزشتہ الیکشن میں پہلی دفعہ ووٹ دینے والے نوجوان ہیں، جن کو بڑے بڑے صحافی خود ہی "یوتھیے” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، ان کی جانب سے گھٹیا ٹرینڈز آنا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ ن کا سٹرکچر بھی ایسا ہی ہے، وہاں نوجوانوں کا دیہاتی طبقہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ یوتھیے اور نونی قوم کے اخلاقی زوال کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جماعتی ماحول میں تربیت پانے والے کارکنان گالم گلوچ کے بجائے دلیل سے بات کرتے ہیں، عوامی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ وغیرہ کے کارکنان سوشل میڈیا پر میری اس بات کے گواہ ہیں۔ لہذا جماعتوں کو چاہیے کہ نظام بنائیں اور کارکنان سازی کریں۔ محض ووٹرز کے دم پر چلنے والی جماعتیں جلد زوال کا شکار ہوجایا کرتی ہیں جبکہ کارکنان کے زور بازو پر پنپنے والی تحریکیں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔

-

نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک
موجودہ دور میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ ہمارے نظام تعلیم میں اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں برداشت کے حوالے سے کوئی رہنمائی اور ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ ہم ہمیشہ سے اس مغا لطے کے شکار ہیں کہ ہم سب سے بہتر ہیں اور دوسرے کم تر ہیں۔ اس سوچ کی بدولت ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف آج کل سوشل میڈیا کی بدولت شہرت کی وبا پھیل رہی ہے۔ ہر دوسرا شخص سوشل میڈیا پر آ کر کسی دوسرے کے نظریے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ نظریہ خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ،کسی انسان کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر فسادات نظریاتی اختلافات کی بدولت ہی ہوئے ہے۔ نظریات پر حملہ آور کو منفی سوچ کے لوگوں سے زیادہ پذیرائی بھی ملتی ہے۔ اور لوگ بھی بغیر کسی تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں۔ گذشتہ روز پی ٹی ایم کی طرف سے تین بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ یہ بھوک کی وجہ سے مر گئے حلانکہ ان بچوں نے موسم سرما کے کپڑے پہنے تھے اور یہ ایک پرانی تصویر تھی لیکن اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر لوگ دھڑا دھڑ پھیلا رہے تھے۔ اسی طرح چند دن پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے ترکی میں جلوس کے تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں۔ کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کا بجٹ کے خلاف مظاہرہ ہے۔ حلانکہ اس تصویر میں، بلڈنگ، کپڑے، سب کچھ نمایاں تھیں۔ اج کل سوشل میڈیا پر بغیر دلیل و استدلال مغا لطے کی بنیاد پر نظریات زیر عتاب ہیں۔ کوئی بندہ آزادنہ طور پر اپنے نظریے پر بات نہیں کرسکتا۔ کیونکہ سوچ وشعور سے عاری مفتیان اور غازیانِ سوشل میڈیا فتویٰ کی بمباری شروع کرتے ہیں۔ ہر روز بے بنیاد اور دلیل کے بغیر خبریں جھوٹی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ بغیر دلیل و شعور کے نظریات پر حملوں سے با ت گالیوں تک پہنچتی ہے۔ گالیوں سے بات معاشرے میں بگاڑ اور خون خرابے تک چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ ہم کسی جھوٹی خبر کو نہیں پھیلائیں گے۔ کسی کے نظریات پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہمیشہ مثبت تنقید کریں گے۔ کسی بندے کے ذاتی زندگی پر حملہ نہیں کریں گے اور کوئی بھی با ت ثبوت کے بغیر نہیں کریں گے۔ اسی سے معاشرے میں ایک مثبت مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے گی اور دوسرے کے نظریات کو تحمل سے برداشت کرنے کی روش عام ہو گی۔
-

دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ
آج وقت ہے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے
سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے. پوسٹ, ویڈیو پیغام اور کمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے لیے بھرپور آواز اٹھائے.
PTM ہو یا ان کی حمایتی کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے نام نہاد لیڈر جوکہ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے دوست ہیں. ان سب کی گز گز لمبی زبانوں کو بند کروانا آج ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے.آج اپنی سیاسی وابستگی کسی سے بھی ہو.. مطلب کسی سے بھی.. کسی بھی سیاسی پارٹی سے. مگر ہمیں سیاسی وابستگی نہیں دیکھنی بلکہ ملک کی سالمیت دیکھنی ہے. جو ملک کے دشمنوں کو افطاریوں میں دعوت دیں وہاں پلان بنائیں, آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کریں وہ دہشت گرد گروہ اور سیاسی گماشتے ان کی سپورٹ کریں زبان درازی کریں اپنے اداروں پر, افواج پاکستان پر. یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا.
میں مرسکتا ہوں مگر اپنے شہدا, کے خون سے غداری نہیں کرسکتا. پاک فوج ہماری فوج ہے. ہر پاکستانی اس خطرناک سازش کو سمجھیں. ڈراموں, فلموں, کہانیوں, کارٹونوں اور میچوں سے باہر نکل کر زرا حیقیت کی دنیا میں آجاو. اب وقت نہیں ہے زیادہ کہ ہم غفلت کی نیند سوئیں. دشمن اب پھر گھیرا ڈال رہے ہیں. اندر اور باہر سے ملک مخالف آوازیں اٹھانے والے متحرک ہوچکے ہیں. منظور پشتین, گلالئی اسماعیل, علی وزیر, محسن ڈارڑ, محمود اچکزئی, اسفند یار ولی, ملالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے حمایتی اپنا کام پوری محنت سے کررہے ہیں. مگر پاکستانی نوجوان سویا ہوا ہے. لڑکوں لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ ملک کے خلاف کتنی بڑی سازش ہورہی ہے, کل میں نے ایک تقریب میں لڑکوں کی بڑی تعداد سے پوچھا کہ بتاو PTM کیا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف کیا محاذ گرم کیا ہوا ہے تو کوئی بتانے والا نا تھا , کیونکہ ہماری نوجوان نسل کی دلچسپی کچھ اور ہے. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. اقبال کا شاہین ایسا تو نا تھا. پاکستانی نوجوان, مسلمان عوام, کو ایسا ہونا چاہیے کہ یہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں تو پتا چل جائے کہ صورتحال کیا ہے اور میرے کرنے کا کام کیا ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے وہ مجاہد سپاہی وہ لشکر جو تکفیری اور ملک دشمنوں سے ٹکرا گئے وہ پاک فوج کے جانباز جو دفاع وطن میں جان کی بازی ہار گئے ان کو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤ گئے. سوچو زرا ؟؟؟
ان شہدا نے کس بات پر قربانیاں دی ہیں کبھی خیال تو کرو. آؤ آگے بڑھو اور کردار ادا کرو ایک ایک دوست کو, کلاس فیلو, رشتہ دار کو, ہمسائے کو, امام مسجد کو, سکول ٹیچر کو, عالم دین کو, تاجر کو, ریڑھی والے کو, محنت کش کو, کسان کو, مزدور کو, دکاندار کو, ہر پاکستانی بھائی جان کو آج صورتحال سے آگاہ کرو اور ذہن سازی کرو ورنہ کہیں کل ہم بھی عراق, شام, فلسطین, افغانستان نا بن جائیں.
اللہ تیری پناہ مانگتے ہیں ہم.
اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ہم تیرے دئیے ہوئے ملک کی حفاظت کریں اللہ ہماری افواج پاکستان کے سپاہیوں اور مجاہدوں کو ہمت و حوصلہ عطا فرما تاکہ دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کریں.
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد




