Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ بار

  • صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیک کمیشن کا معاملہ ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کو کام سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،عابد زبیری نے طلبی کے نوٹس کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی،درخواست میں وفاق، آڈیو لیک کمیشن، پیمرا اور پی ٹی اے کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ آڈیو لیک کمیشن تشکیل کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے،آڈیو لیک کمیشن کا نوٹی فیکیشن آرٹیکل 9، 14،18، 19، 25 کی خلاف ورزی ہے،مبینہ آڈیو لیک کمیشن کی کارروائی اور احکامات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے قرار دیا جائے کسی بھی شہری کی جاسوسی یا فون ٹیپنگ نہیں کی جا سکتی، مبینہ آڈیوز کو غیر قانونی قرار دیا جائے،حکم دیا جائے کہ مبینہ غیر آئینی آڈیوز کی بنیاد پر کسی شہری کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے،غیر قانونی آڈیوز کو میڈیا پر نشر کرنے اور آگے پھیلانے سے روکنے کا حکم دیا جائے،جوڈیشل کمیشن کے نوٹی فیکیشن اور کاروائی کا کالعدم قرار دیا جائے،متعلقہ فریقین کو گمنام سوشل میڈیا اکاونٹس چلانے والوں کی شناخت کا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • پی ڈی ایم کا دھرنا کا فیصلہ،سپریم کورٹ بار کا سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی کا اعلان

    پی ڈی ایم کا دھرنا کا فیصلہ،سپریم کورٹ بار کا سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی کا اعلان

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار نے پی ڈی ایم کے دھرنے کے پیش نظر سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر عابد ایس زبیری، سیکرٹری سپریم کورٹ بار مقتدیر اختر شبیر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں، سیاسی جماعتوں کے اعلان کردہ احتجاج کے خلاف سپریم کورٹ کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

    ہم کراچی کا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیں گے ،حافظ نعیم الرحمان

    سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تحفظ یقینی بنائیں گے،تقدس مجروح کرنے کی کوشش ناکام ہوگی، پرتشدد دھرنا اور احتجاج کا اعلان، قانون کی خلاف ورزی اور امن و امان کے لیےخطرہ ہوگا اسلام آباد میں پہلے ہی آئین کے آرٹیکل 245 کو لاگو کیا جا چکا ہے وفاقی حکومت اور اداروں پر فرض ہےکہ سپریم کورٹ کی حفاظت کیلئےفول پروف سکیورٹی انتظامات کریں،سپریم کورٹ بار آئین پاکستان، قانون کی حکمرانی اور عدالت کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے اختیار کو کمزور کرنے یا چیلنج کرنے کی کوئی بھی کوشش جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پاکستان کوسٹ گارڈز نے بیرون منشیات اسمگلنگ کا منصوبہ ناکام بنادیا

    واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کے دھرنے میں بھرپور شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ماڈل ٹاؤن کے پارٹی سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے شرکت کی اور پھر ڈی ایم کے سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کرنے کا فیصلہ دیا۔

    ذرائع کے مطابق ہنگامی اجلاس مریم نواز کی ہدایت پر منعقد کیا گیا، جس کی صدارت خواجہ سعد رفیق، ملک سیف الملوک کھوکھر نے کی۔ جس میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز سمیت سابقہ بلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی۔

    دوسری جانب وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف دھرنے میں ن لیگ کی نمائندگی کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے …

  • پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منظور کی گئی صریح غیر قانونی قرار داد کو پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےساتھ کھڑے ہیں،بدقسمتی کی بات ہےکہ قومی اسمبلی جوکہ آئین کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے، نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے آرٹیکل 68 کسی جج یا جج کے طرز عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے منع کرتا ہے-

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ، ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ کے ارکان کے خلاف توہین آمیز اور انتہائی اہانت آمیز تبصرے کیے ہیں، یہ تبصرےنہ صرف آئین کی خلاف ورزی بلکہ عدلیہ کی سالمیت کے لیے براہ راست چیلنج ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ اورایگزیکٹو کو آزادانہ طور پرکام کرنا چاہیےریاست کی کوئی شاخ کسی دوسرے پر تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس سے برتر ہے عدالتی فیصلہ حتمی ہے اور قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا-

    کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ قرارداد ایوان کے 342 میں سے صرف 43 ارکان نے منظور کی تھی، ایسی قراردادیں انتشار کا باعث بنیں گی جب استحکام اور جمہوری طور پرمنتخب حکومتوں کی ضرورت ہوسپریم کورٹ بار پاکستان کے تمام قانونی برادری کے ساتھ مل کر معزز ججوں کے میڈیا ٹرائل کی شدید مذمت کرتی ہے-

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عدلیہ کی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی بحالی کے لیے باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں، ایسا کرنے میں ناکامی سے ہمارا ملک مکمل انارکی کی طرف بڑھے گا، ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا باہمی اتحاد بہت ضروری ہے۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی عابد زبیری کو صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہونے پر مبارکباد

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی عابد زبیری کو صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہونے پر مبارکباد

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیابی پر نومنتخب صدر عابد زبیری کو مبارکباد دی۔تفصیلات کے مطابق چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے عابد زبیری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

     

    عمران خان ایماندار اورمخلص انسان،آرمی چیف کو کبھی غدار نہیں کہا:فیصل واوڈا

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ عابد زبیری وکلاء برادری کے مسائل کے حل کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے کیونکہ وہ منجھے ہوئے وکیل ہیں اور وکلاء برادری کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یقین ہے کہ عابد زبیری وکلاء برادری کی فلاح وبہبود کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

    مونس الٰہی نے کہا کہ عابد زبیری کی کامیابی پر دلی خوشی ہوئی ہے، ان کے سپورٹرز وکلاء کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔واضح رہے کہ حامد خان گروپ کے امیدوار بیرسٹرعابد زبیری صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہو گئے ہیں۔

    چوہدری غلام حسین کوکیوں گرفتارکیا؟ایف آئی اے نے بتادیا

    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ امتحانات میں اسلام آباد پولنگ اسٹیشن سے بھی عابد زبیری کو فتح حاصل ہو گئی، عابد زبیری کو اسلام آباد سے 251 ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف خالد جاوید 227 ووٹ لے سکے۔

     

  • سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن انتخابات:حکومت کےحمایت یافتہ امیدوارکوشکست:حامد خان گروپ کامیاب

    سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن انتخابات:حکومت کےحمایت یافتہ امیدوارکوشکست:حامد خان گروپ کامیاب

    اسلام آباد:حامد خان گروپ کے امیدوار بیرسٹر عابد زبیری صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ امتحانات میں اسلام آباد پولنگ اسٹیشن سے عابد زبیری کو فتح حاصل ہو گئی، عابد زبیری کو اسلام آباد سے 251 ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف خالد جاوید 227 ووٹ لے سکے۔

    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران…

    بلوچستان میں پروفیشنل پینل کے حمایت یافتہ امیدوار عابد زبیری نے 75 ووٹ حاصل کیے جبکہ شکیل اور کامران مرتضیٰ کے پینلز حمایت یافتہ امیدوار خالد جاوید نے 57 ووٹ حاصل کیے۔

    عابد زبیری نے جیت کے فوری بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ بول ٹی وی نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے، میں شعیب شیخ اور عائشہ صاحبہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ شفقت کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ بول نیوز کو بہت ترقی دے تاکہ یہ چینل آزادی صحافت کیلئے ہمیشہ کام کرتا رہے۔

    عمران خان ایماندار اورمخلص انسان،آرمی چیف کو کبھی غدار نہیں کہا:فیصل واوڈا

    تمام 12 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتائج کے مطابق حامد خان گروپ کے عابد شاہد زبیری کو 1347 ووٹ ملے جبکہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے ایڈوکیٹ خالد جاوید کو 1148 ووٹ مل سکے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں حکومتی حمایت یافتہ عاصمہ جہانگیر گروپ کو 3سال بعد شکست کاسامنا کرنا پڑا ہے۔

  • پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے  شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایڈیشنل سیکریٹری چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا ہے کہ بقول تھامس جیفرسن کسی بھی حکومت کی قانونی مضبوطی کا انحصار عوام کی رائے پر ہوتا ہے.

    چوہدری ریاست علی گوندل کا کہنا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے عیاں ہے کہ حکومت اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے صاف اور شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے. تمام اداروں کو پاکستان کے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا.

    چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا کہ ابراہیم لنکن نے کہا تھا کہ عوامی حکومت ہی جمہوریت ہے جو عوام سے ہوتی ہے اور عوام کیلئے ہوتی ہے.

    انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اپنا کردار ادا کرےگی.

  • الیکشن کمیشن بلا خوف و خطرسیاسی جماعتوں کے کیسزکا فیصلہ کرے،احسن بھون

    الیکشن کمیشن بلا خوف و خطرسیاسی جماعتوں کے کیسزکا فیصلہ کرے،احسن بھون

    الیکشن کمیشن بلا خوف و خطرسیاسی جماعتوں کے کیسزکا فیصلہ کرے،احسن بھون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا ہے کہ ہم سب وکلا متفق ہیں کہ موجودہ الیکشن کمیشن غیر متنازعہ ہے

    احسن بھون کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنانا ملک کے خلاف سازش ہے،لیٹر گیٹ اسکینڈل آگیا اس سے خارجہ پالیسی متاثر ہورہی ہے سیاسی کارڈ کھیل کرقومی ادارو ں کو نقصان نہ پہنچایا جائے،سیاسی معاملات میں قومی اداروں کو نہ گھسیٹا جائے الیکشن کمیشن کو متنازعہ نہ بنایا جائے الیکشن کمیشن غیر جانبداری سے کام کر رہا ہے تو اس پر حملے نہ کیے جائیں الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن بلا خوف و خطر سیاسی جماعتوں کے کیسز کا فیصلہ کرے

    صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے موجودہ چیرمین الیکشن کمیشن کو خود تعینات کیا پہلے انکی تعریفیں کرتے تھے اب انکے خلاف ہوئے ہیں عوامی جلسوں میں عدلیہ پر تنقید اور نعرے بازی کسی صورت برداشت نہیں ،

    واضح رہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے متوقع فیصلے کے پیش نظر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے،عمران خان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ ووٹ بیچنےوالوں کیخلاف سماعت کرے،پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے،اگر کوئی ایکشن نہیں ہوا تو پیسے لینے والے بچ جائیں گے،آج پورے قوم کو کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے الیکشن کمیشن کو مستعفی ہوجانا چاہے، الیکشن کمیشنر جانبدار آدمی ہے، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے. تحریک انصاف نے 26 اپریل کو الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کا بھی اعلان کر رکھا ہے،

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    نور مقدم قتل کیس،فیصلہ آ گیا،مرکزی ملزم سفاک ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

  • اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا کہناہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو کسی نے نہیں روکا تھا کہ 14روز انتظار کرے ،

    احسن بھون کا کہنا تھا کہ اسپیکرتحریک عدم اعتماد پر دوسرے یا تیسرے روز اجلاس بلا سکتے تھے اسے مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ اجلاس بلانے کیلئے کوئی دوسری عمارت موجود نہیں ،اسپیکر قومی اسمبلی آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوے ہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، کہ آئین میں دیئے گئے مقررہ وقت پر اجلاس نہیں بلایا گیا ہو اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے۔حکومت کا آرٹیکل 63 اے کے خلاف ریفرنس ناقابل سماعت ہے اسپیکر قومی اسمبلی کےخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ کرتا ہوں.

    قبل ازیں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے آئین سے انحراف کیا آئین کی خلاف ورزی پر درخواست سے متعلق مشاورت جاری ہے آئین میں 14روز سے آگے اجلاس لے جانے کی کوئی گنجائش نہیں

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہیے تھا،25مارچ کو اجلاس بلا کر اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی پارلیمنٹ کی تزئین و آرائش کے باعث اجلاس میں تاخیر غیر آئینی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کے وضاحت ناقابل قبول ہے، ریکوزیشن سے پہلے وزرا اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا چیلنج دیتے رہے ،ریکوزیشن کے بعد وزیراعظم نے کہا ان کی دعا قبول ہو گئی،وزیراعظم نے اپنے ہی ارکان پر پیسے لینے کا الزام لگایا اور دھمکی دی،وزیراعظم اب ارکان کو واپس آنے کی منت سماجت کر رہے ہیں آئین میں یہ نہیں ہے ارکان پارٹی لیڈر کی مرضی کے بنا ووٹ نہیں دے سکتے،حکومت ارکان پارلیمنٹ سے ووٹ کا حق نہیں چھین سکتی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر قومی اسمبلی کو خلاف آئین اقدامات پر وارننگ دی ہے مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 14 دن میں اجلاس کا آئینی تقاضا پورا نہ کرکے عمران صاحب اور سپیکر آرٹیکل 6 کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں 14 دن میں اجلاس نہ بلا کر سپیکر نے اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد 14 دن گزر چکے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانا آئین سے انحراف ہے آئین کی واحد تشریح کے باوجود سپیکر کا 14 دن میں اجلاس نہ بلانا قابل مذمت، افسوسناک اور سراسر غیر آئینی ہے سپیکر کا رویہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ وہ آئین پر پارٹی چئیرمن کے مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں دستور شکنی غداری اور بغاوت ہے، سزا کے لئے تیار رہیں عمران صاحب کو اقتدار سے اتنی محبت ہے کہ ایک مزید دن بڑھانے کے لئے آئین کو روند دیا ہے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے، اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس طلب کر لیا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا۔اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 54 (3) اور شق 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا قومی اسمبلی کا اجلاس صرف ایک گھنٹہ جاری رہے گا اور پیر تک ملتوی ہو جائے گا۔ 12 بجے جمعہ کا وقفہ ہو گا اور ہفتہ اتوار کو اجلاس نہیں ہوگا

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    پی ٹی آئی منحرف اراکین کو ہم نے زبردستی نہیں رکھا،سعید غنی

  • عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    اسلام آباد:عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں:اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہےکہ تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدم اعتماد کے روز تصادم کے خطرے کے پیش نظر آئینی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم، وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے مکمل ہو، عدم اعتماد آرٹیکل 95 کے تحت کسی بھی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے، سپریم کورٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے کرنے کا حکم دے۔

    ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدم اعتماد کی تحریک کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک سیاسی عمل ہے، تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ آئین اور قانون پر سختی سے عمل ہوگا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں کو کہیں گےکہ وہ بھی قانون کے مطابق عمل کریں، اٹارنی جنرل آپ 63 اےمیں ریفرنس دائر کررہے ہیں، اٹارنی جنرل ریفرنس صبح تک دائرکردیں تاکہ ہم اس کی سماعت کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ عدالت یقنیی بنائے گی کہ قومی اداروں کو تحفظ فراہم کرے، اٹارنی جنرل آپ 63 اے کے حوالے سے عدالت کی رائے چاہتے ہیں، ہم وہ معاملہ بھی اس درخواست کے ساتھ سن لیتے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اورپارلیمنٹرینز کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت کا پلیٹ فارم کسی فریق کو صورت حال خراب کرنے کے لیے استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے، عدالت قانونی سوالات کا آئین کے تحت جواب دے گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر پیپلزپارٹی، (ن) لیگ ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کو نوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت پیر دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

  • سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے جلسے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، حکومتی جماعت ہو یا کوئی اور، شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے،وکیل نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے جلسوں کا اعلان کیا ہے، ٹکراؤ کا خدشہ ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے درخواست گزار وکیل سے استفسار کیا کہ ٹکراؤ کیوں ہو گا؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایک دن اور ایک وقت میں سب اکٹھے ہو رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ عدالت اس میں کیا کر سکتی ہے؟ یہ عدالت متعلقہ فورم نہیں ہے انتظامیہ نے اجازت دینے کا فیصلہ کرنا ہے یہ عدالت رسک اسسمینٹ تو نہیں کر سکتی، یہ تو متعلقہ اتھارٹی کا کام ہے جن کی ذمہ داری ہے سیکیورٹی کا تعین بھی تو وہی کرتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اجازت تو نہیں دی گئی، اگر کوئی تقصان ہوتا ہے تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد ذمہ دار ہونگے، 2014میں بھی اس نوعیت کی ایک درخواست اس عدالت کے سامنے آئی تھی،عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ جنہوں نے اجازت دینی ہے ذمہ داری بھی انکی ہے،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر انتظامیہ کی نااہلی سے نقصان ہوتا ہے تو پھر کیا ہو گا،جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ درخواست دائر کریں کہ یہ نقصان ہوا ہے عدالت ذمہ داری فکس کریگی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی ,درخواست میں وزیر اعظم ،اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزارنے کہا کہ سپریم کورٹ تمام ریاستی حکام کو آئین کے مطابق عمل کرنے کا حکم دے، سپریم کورٹ تمام ریاستی حکام کو آئینی حدود میں رہنے کا حکم دے، اسلام آبا دمیں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا جائے، عدم اعتماد کا عمل پر امن انداز سے مکمل ہو،عدم اعتماد معاملے پر سیاسی جماعتوں میں ممکنہ تصادم کاخدشہ ہے عدم اعتماد آرٹیکل 95کے تحت وزیراعظم کوہٹانے کا آئینی راستہ ہے سپریم کورٹ اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پر امن انداز سے مکمل ہونے کا حکم دیں، درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع،آئی جی اسلام آباد،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا تھا کہ ہررکن اسمبلی کا آئینی حق ہے کہ وہ پارلیمنٹ جائے اور اپنا ووٹ کاسٹ کرے ریاست ذمے دار ہے کہ اسے سکیورٹی دے ،کوئی بھی ایم این اے کو نہیں روک سکتا، وکلا کے اعلئ قیادت کی میٹنگ کے بعد صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن احسن بھون نے وائس چیرمین پاکستان بار کونسل کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کاجمہوری حق ہے۔اس مسئلے کو جمہوری طریقے سے حل ہونا چاہئے اسپیکر آئین کے مطابق چلے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے