Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر جرمانہ

    سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر جرمانہ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مہلت مانگنے کی استدعا مسترد کردی اور سندھ حکومت کو غیر ضروری التوا پر فریقین کے وکلا کے سفری اخراجات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اگلی سماعت سے پہلے وکیل امداد علی اور ضمیر اللہ کو پچاس پچاس ہزار روپے ادا کرے، دونوں وکلاء حیدرآباد اور سندھ سے آئے ہیں انکو اخراجات ادا کیے جائیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ تحریری جواب کی کاپی جمع نہیں کروا سکے، آپ کو جرمانہ کر رہے ہیں دونوں وکلا کو ادا کریں، گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔
    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے دو دن کی مہلت دینے کی استدعا کی۔ تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس التوا کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کردی۔

    وازشریف خطاب میں پاکستانی پاسپورٹ کے بارے میں جھوٹ بولتے پکڑے گئے،کارکنوں نے شرم کے مارے نظریں جھکا لیں

    فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ کب سنایا جائے گا؟ بتا دیا گیا

  • کورونا ازخود نوٹس کیس، سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل

    کورونا ازخود نوٹس کیس، سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل

    اسلام آباد، چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ 18 مئی کو کورونا ازخود نوٹس پر سماعت کرے گا۔ اس کے لئے اٹارنی جنرل پاکستان، صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، سیکریٹری صحت اور چیف سیکریٹریز سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔ کورونا از خود نوٹس پر سماعت کے لیے جسٹس عمرعطابندیال اور جسٹس سجادعلی شاہ کی عدم دستیابی کے باعث سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دیا گیا۔ جسٹس مشیرعالم اور جسٹس سردارطارق مسعود اب فاضل بینچ کا حصہ بن گئے ہیں۔

  • سپریم کورٹ سے درخواست کہ وہ غیر قانونی اور قانونی اختیارات کے بغیر ، متنازعہ ٹیکس قانون کو کالعدم قرار دے.

    سپریم کورٹ سے درخواست کہ وہ غیر قانونی اور قانونی اختیارات کے بغیر ، متنازعہ ٹیکس قانون کو کالعدم قرار دے.

    سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ غیر قانونی اور قانونی اختیارات کے بغیر ، متنازعہ ٹیکس قانون (ترمیمی) آرڈیننس نمبر 2020 ، جسے حال ہی میں صدر پاکستان نے نافذ کیا تھا کو کالعدم قرار دے.

    پاکستان مسلم لیگ نواز (مسلم لیگ ن) کے سابق وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز چوہدری نے وزارت قانون و انصاف ڈویژن ، وزارت خزانہ و ديگر کو فريق بناتے ہوۓ اپنے کونسل زاہد سلطان خان منہاس ايڈووکيٹ سپريم کورٹ آف پاکستان کے توسط سے آئینی پٹيشن بر خلاف فیڈریشن آف پاکستان، آئين کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ میں دائر کی۔

    درخواست گزار نے عدالت عظمی سے استدعا کی کہ وہ متنا زعہ ٹيکس لاء ترمیمی آرڈیننس 2020 جو کہ ايک نيا NRO اور امتيازى قانون ہے کو خلاف آئین و قانون قرار ديتے ہوۓ کالعدم قرار دے.

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے حال ہی میں ملک کی تعمیراتی صنعت کے لئے ٹیکس قانون آرڈیننس 2020 جاری کیا تھا۔ جس میں حکومت نے مقامی ڈویلپرز اور بلڈروں کے لئے ٹیکس میں متعدد ترمیمیں متعارف کروائیں ہیں۔

    اس کے مطابق ، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 111 پر اگر شراکت داروں اور شراکت دار کی جانب سے معمولی شراکت میں بلڈروں / ڈویلپر / افراد کی انجمن کے ساتھ محدود سرمایہ کاری میں رقم کی سرمایہ کاری پر لاگو نہیں ہوتا ہے اگر دارالحکومت کی سرمایہ کاری ہو یا زمین 31 دسمبر سے پہلے یا اس سے پہلے منتقل ہو۔

    اسی طرح ، کسی پروجیکٹ کی نئی تعمیر شدہ عمارتوں کے پہلے خریدار کو دفعہ 111 کی دفعات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا اگر خریداری 30 ستمبر 2022 کو یا اس سے پہلے کی گئی ہو۔

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز چوہدری نے ایڈووکیٹ زاہد سلطان خان منہاس کے توسط سے دائر اپنی درخواست میں عدالت سے مزید استدعا کی کہ فوری آئینى پٹیشن کے فيصلے تک ٹیکس قانون (ترمیمی) آرڈیننس نمبر 2020 پر عمل درآمد اس دوران معطل / روک ديا جائے۔

    درخواست گزار نے سوال کیا کہ کیا 2020 کا متنازعہ آرڈیننس نمبر 1 قانون ، حقائق کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی / ایلیٹ کلاس کے لئے ایک نیا این آر او نہیں ہے جس کے ذریعہ ان کے ذرائع کو ظاہر کیے بغیر تعمیراتی صنعت میں اپنے کالے دھن کو جائز قرار دیا جائے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 111 کے مطابق انکم یا اس کا کوئی ٹیکس ریکارڈ ظاہر کرنا ضرروی ہے.

    انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا متنازعہ آرڈیننس حقائق سے مکمل طور پر خلاف نہیں ہے ، قانون کے برخلاف اور سپریم کورٹ کى لینڈ مارک این آر او فیصلے (پی ایل ڈی 2010 ایس سی 265) نیز آئین کے ساتھ ہی ، عدالت عظمیٰ کے طے کردہ اصول و قانون کى حکمرانی کے بھی خلاف ہے؟

    مزید سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 111 کے آپریشن کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت تمام جرائم کی کارروائی کو ختم کرتے ہوئے ، یہ ناپسندیدہ آرڈیننس ، منی لانڈرنگ ، جرم کی آمدنی ، دہشت گردی کی مالی اعانت کی نشاندہی کرنے کے لئے قانونی طریقوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی جانب ايک قدم ہے۔

    انہوں نے پیش کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 111 کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ہونے والے تمام جرائم کی کارروائی کو ختم کرکے ناپاک آرڈیننس کے تحت منی لانڈرنگ ، جرم ، دہشت گردی کی وارداتوں کی نشاندہی کرنے کے لئے قانونی طریقوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت اس طرح کے سیکشن اور جرائم کی مالی اعانت اور بھتہ خوری اور ان کی معطلی ، پوری طرح خود 2020 کے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس نمبر 1 کے مقصدوں سے اس طرح کی رقم کو خارج کرنے کے مقصد کو شکست دیتی ہے۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ناپسندیدہ آرڈیننس کوویڈ 19 متاثرین یا روزانہ کام کرنے والوں يا مزدوروں کے لئے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ اس سے آئین کے آرٹیکل 4 ، 23 ، 25 اور آرٹیکل 38 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضروری اشیاء سے منافع کمانے کو بھی قانونی حیثیت دى گئى ہے۔

    2020 کا متنازعہ آرڈیننس نمبر 1 قانون ، حقائق کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی / ایلیٹ کلاس کے لئے ایک نیا این آر او ہے جس کے ذریعہ اس نے انکم ٹیکس ریکارڈ کا انکشاف کیے بغیر تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری کی آڑ میں اپنے کالے دھن کو سفيد کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔

    مزید یہ کہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ متنازعہ آرڈیننس حکومت پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اپنے ليٹر آف انٹينٹ اور اس سے منسلک معاہدہ کے تحت 19 جون 2019 کو کیے گئے بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آرڈیننس اقوام متحدہ کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے خاص طور اقوام متحدہ کنونشن برخلاف انسداد بد عنوانی ، 2003 (یو این سی اے سی) جس کے تحت پاکستان 9 دسمبر 2003 کو دستخط کنندہ ہوا اور 31 اگست 2007 کو اس کی توثیق کردی۔

    انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2020 کا متنازعہ آرڈیننس نمبر 1 ايک پائیدار قانون نہیں ہے کیونکہ ٹیکس چوری کے ایک مجرمانہ عمل کو صدر پاکستان نے اس قانون کے ذریعہ تحفظ فراہم کیا ہے جو کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے حقوق کے خلاف ہے جو باقاعدگی سے اپنے ٹيکس اور واجبات ادا کررہے ہیں.

    درخواست گزار نے مزید کہا ، "2020 کا متنازعہ آرڈیننس نمبر 1 آنے والے ہر وقت کے لئے ٹیکس چوری کی کھلی کھڑکی ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے ہی منصوبہ شدہ اقدامات کى آڑ کے طور پر COVID-19 وبائی بیماری کا زبردست استعمال کیا گیا ہے۔”

    انہوں نے عرض کیا کہ یہ دستور کے آرٹیکل 4 کے ان احکامات کے بھی منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلا امتیاز تمام شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا، لہذا قانون کے نفاذ سے شہریوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے،جو کہ سپریم کورٹ کے فيصلہ جات ڈاکٹر مبشر حسن پی ایل ڈی 2010 ایس سی 265 (i) ، محمود خان اچکزئی کیس پی ایل ڈی 1997 ایس سی 426 اور سید ظفر علی شاہ کیس پی ایل ڈی 2000 ایس سی 869 کى کھلى خلاف ورزی ہے.

  • سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے  ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی سے عدالت مطمئن نہیں، آج ہم ان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کریں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ حکم تباہ کن ہو سکتا ہے، آپ ظفر مرزا کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں،عدالت میں ابھی سماعت جاری ہے. عدالت کے اس فیصلے کو لے سوشل میڈیا پر عوامی تبصے اور تجزیئے شروع ہوچکے ٹویٹر پر سپریم کورٹ اور ڈاکٹر ظفر مرزاء کے نام سے ٹرینڈز بھی پینل پر موجود ہیں. عوام ان ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے.
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے. ججز اور عدلیہ کی طرف سے یہ دخل اندازی معاملات کو بگاڑ دے گی.


    سوشل میڈیا صارف بےنظیر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی کارکردگی سے غیر متفق ہوسکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا کچھ نہیں کر رہے یہ غلط ہوگا. ہمارے ڈاکٹرز، پولیس اور دیگر سبھی ادارے اس وقت کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں


    ایک اور سوشل میڈیا صارف مریم حسین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس بحران کے موقع پر سیاسی کھیل شروع کردیا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے
    https://twitter.com/maryamacca/status/1249624730640027648?s=20
    سوشل میڈیا صارف اویس گیلانی کا کہنا تھا کہ قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے مجھے لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزاء کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا حکم نامناسب ہے اور کرونا کے خلاف جنگ میں عدالتی مداخلت ہے


    عاطف نامی سوشل میڈیا صارف نے ڈاکٹر ظفرمرزا کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی آئی اے کے سی ای او کام نہیں کرسکتے کہ وہ اس عہدے کے لیے ناموزوں ہیں، اب ظفر مرزا بھی ناموزوں ٹھہرے، کل کو یہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائیں گے، پھر یہ لوگ وزیراعظم کی قابلیت پر بھی سوال جر دیں گے
    https://twitter.com/PTI_Achievement/status/1249618223684870146?s=20
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ڈاکٹر ظفر مرزا بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں.
    https://twitter.com/oyaDrAQ/status/1249628009608278016?s=20
    واضح رہے کہ حکم نامہ عدالت نے ابھی تک نہیں لکھوایا حتمی حکمنامے میں عدالت حتمی فیصلہ دے گی. سپریم کورٹ نے ظفر مرزا کی کارکردگی پر آج بھی اور گزشتہ ایک سماعت میں بھی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی کیا ہے

  • ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    اسلام آباد :ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ ظلم کے اس واقعہ کو برداشت نہ کرسکی تو پھرسخت اور ناقابل بیان ریمارکس دے دیئے ، سپریم کورٹ نے خاتون پر تیزاب پھینکنے والے مجرم کی سزا برقراررکھی

    "خداپاکستان کی حفاظت کرے”وزیراعظم شہید کردیئے گئے ، کب اور کہاں‌؟

    ذرائع کےمطابق آج سپريم کورٹ نے خاتون پر تیزاب پھینکنے والے مجرم کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔خاتون پر تیزاب پھینکنے کے مجرم علی اعوان کی بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منظور ملک نے ريمارکس ديے کیوں نہ مجرم کی سزا بڑھا دیں کيونکہ عورت پر تیزاب پھینکنے کا جرم انتہائی اذیت ناک ہے۔

    رینجرز طلب ، احتجاج ختم، موٹروے ٹریفک کیلئے بحال،

    جسٹس منظور نے ریمارکس دیے کہ خاتون کا چہرہ ضائع ہو جائے تو پھر اس کی باقی زندگی کیا ہے۔ وہ خاتون ہی نہيں رہتی۔ عورت پر تیزاب پھینکنے سے بہتر گولی مار دی جائے۔عدالت نے تيزاب گرد مجرم کی بریت کی درخواست خارج کرتے ہوئے 10 سال سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔یاد رہےکہ مجرم علی اعوان نے 2010 میں اسلام آباد میں شکیلہ نامی خاتون کے چہرے پر گھر میں داخل ہو کر تیزاب پھینک دیا

    بھٹوکی نگری میں عام تعطیل،پی ٹی آئی اورجے یوآئی کی صلح ہوگئی

  • پورے ملک کا پولیس نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے.پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں. سپریم کورٹ

    پورے ملک کا پولیس نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے.پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں. سپریم کورٹ

    لاھور:سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے پاکستان میں سیکورٹی کی خراب صورت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پولیس کا نطام تو تباہ ہو کر رہ گیا ہے آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے. دن کو پولیس والے ڈیوٹیاں کرتے ہیں تو رات کو زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں،ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہوُچکا ہے، پولیس نام کی کوئی چیز نہیں، ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، لوگ گلے کاٹ رہے ہیں پولیس کہاں ہے؟ پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس گلزاراحمد نے پنجاب کے سیکرٹری خزانہ اور آئی جی پر اظہار برہمی کیا۔

    جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پولیس آخر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے؟، سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں، بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں، صرف اس بات کی فکر ہے کہ اپنے الاؤنس کیسے بڑھانا ہیں. پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ لیتے ہیں۔

    سیکرٹری خزانہ کے اپنے بیان سے مکرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری خزانہ پنجاب کو شاید پتا ہی نہیں انکا کام کیا ہے، آپ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کھڑے کھڑے ہی بات سے مُکر گئے، پورا صوبہ پنجاب کا خزانہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کو کچھ کام کا پتا ہی نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کو دل کرے جتنا دل کرے آپ دیدیں، آپ صرف دفتر میں بیٹھ کر اپنے پیسے بنانے کی سوچتے ہیں۔

    صوبائی سیکرٹری خزانہ نے جواب جمع کرایا کہ ٹریفک وارڈنز کی منجمد ہونے والی اضافی بنیادی تنخواہ بحال کر رہے ہیں، اضافی بنیادی تنخواہ نہیں صرف منجمد ڈیلی الاؤنس بحال ہوگا۔ ٹریفک وارڈنز کے وکیل نے کہا کہ تنخواہ بحال ہوجائے تو مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا۔