Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جلد سماعت کے مقدمات کیلئے سپریم کورٹ میں  خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ

    جلد سماعت کے مقدمات کیلئے سپریم کورٹ میں خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے، جبکہ جلد سماعت کے مقدمات کی کارروائی کے لیے شام کے اوقات میں بھی بینچ بیٹھے گا۔

    نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک بینچ کے سامنے ایک روز میں 75 مقدمات مقرر ہوئے، مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے پالیسی ویب پر اپ لوڈ کردی گئی ہے، اور اب ان کے اپنے کہنے پر بھی کوئی مقدمہ فکس نہیں ہوتا,کاز لسٹ میں شامل ہونے وا لے مقدمات کو 2 افسر دوبارہ چیک کرتے ہیں, کاز لسٹ میں آنے والے مقدما ت کو 2 افسران دوبارہ چیک کرتے ہیں تاکہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق مقدما ت کی فہرست تیار کی جاسکے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدلیہ کی اصل کامیابی فیصلوں کی محض تعداد سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور شفاف انصاف کی فراہمی سے جڑی ہے,ججز کی چھٹیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمومی تاثر ہے کہ ججز 3 ماہ کی چھٹیاں کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ججز 3 ماہ کے اندر صرف ایک ماہ کی چھٹی کرتے ہیں, شریعت اپیلیٹ بینچ ہر 2 ماہ میں ایک ہفتے کے لیے بیٹھے گا۔

  • سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز 14 ستمبر سے ہوگا

    سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز 14 ستمبر سے ہوگا

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال 27-2026 کا باقاعدہ آغاز 14 ستمبر کو ہوگا، اس سلسلے میں تقریب سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں منعقد کی جائے گی۔

    نئے عدالتی سال 2026-2027 کی تقریب سپریم کورٹ کورٹ روم نمبر ایک منعقد ہوگی ،نئے عدالتی سال کی تقریب کی صدارت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گےتقریب میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی خطاب کریں گے، تقریب میں اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان اور بار کے نمائندگان بھی خطاب کریں گے،اس موقع پر عدلیہ، بار اور قانونی برادری سے وابستہ شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

    نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سپریم کورٹ میں گزشتہ عدالتی سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے، عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز اور آئندہ سال کی ترجیحات پر گفتگو کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

  • گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار

    گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

    گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نےقیمتوں کے اجتماعی تعین پر سی سی پی کا فیصلہ برقرار رکھا اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو 3 کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کی،عدالت عظمیٰ نے پی وی ایم اے کے خلاف سی سی پی کی پرائس فکسنگ فائنڈنگ برقرار رکھی۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے مؤقف کی توثیق کی اور گھی و کوکنگ آئل کی قیمتوں کا اجتماعی تعین کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ مسابقتی کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر طے کرنا ہوں گی۔ تجارتی ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی قیمتوں کا تعین بھی کمپٹیشن کو محدود کرتا ہے۔ قیمت کم ہو تب بھی مسابقتی کاروباری اداروں کا مل کر قیمت طے کرنا جائز نہیں۔ کم قیمت صارفین کے لیے فائدہ مند، مگر قیمت کا اجتماعی تعین کمپٹیشن کی خلاف ورزی ہے۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقصد بھی اجتماعی پرائس فکسنگ کو جائز نہیں بناتا، سپریم کورٹ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے بنیاد ی نتائج کی توثیق کر دی اور فیصلہ دیا کہ ہر کاروباری ادارہ اپنی تجارتی ضروریات کے مطابق قیمت کا آزادانہ تعین کرے،مشترکہ قیمت کا تعین آزادانہ مسا بقتی قیمتوں کی جگہ نہیں لے سکتا، وفاقی حکومت کو بائی پاس کرکے نہیں، قیمتوں کے معاملے پر سی سی پی سے رجوع کرنا چاہیے تھاسی سی پی کو بائی پا س کرکے پی وی ایم اے سے قیمتوں پر مشاورت کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا باعث بنی۔

  • اٹک جیل میں قیدی 2 سال سے علاج کا منتظر،بیٹے کی دو سال قبل چیف جسٹس کو دی گئی درخواست وائرل

    اٹک جیل میں قیدی 2 سال سے علاج کا منتظر،بیٹے کی دو سال قبل چیف جسٹس کو دی گئی درخواست وائرل

    شہری نے چیف جسٹس آف پاکستان سے دو سال قبل اٹک جیل میں قید والد کا علاج کرانے کی درخواست دی گئی تھی جس کا علاج تاحال نہیں ہو سکا-

    درخواست 2 سال قبل اٹک جیل میں قیدغریب قیدی غلام شبیر کے بیٹے واجد اجمل کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام دی گئی تھی،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میرا والد اٹک جیل میں قید ہے گزشتہ کچھ دنوں سے اس کی صحت تسلی بخش نہیں ہے اور بیماری کے باعث اسے مسلسل طبی نگرانی ک ضرورت پیش آ رہی ہے گھر والوں کو اس کی صحت کی جانب سے شدید تشویش ہے کہ دی جانے والی سہولیات اسکے مرض کے مکمل علاج کیلئے کافی ہیں یا نہیں-

    واجد اجمل نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ متعلقہ اداروں سے ممکنہ حد تک رجوع کر چکا ہے اب آپ سے امید وابستہ کرتے ہوئے یہ درخواست کر رہا ہوں کہ اس کی طبی حالت کا باقاعدہ جائزہ کسی مستند ماہر ڈاکٹر یا میڈیکل بورڈ سے کروایا جائے،اگر طبی رپورٹ کے مطابق اے کسی ایسے علاج ،ٹیسٹ یا سہولت کی ضرورت ہو جو جیل میں میسر نا ہو تو براہ کرم اسے کسی نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جائے،علاج کے دوران جیل انتظامیہ کی جانب سے ضروری حفاظتی انتظامات برقرار رکھے جا سکتے ہیں،بروقت علاج نا ہونے کی صورت میں اس کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے-

    درخواست گزار نے یہ درخواست دو سال قبل 18 نومبر 2024 کو چیف جسٹس پاکستان کے نام جمع کرائی تھی جس پر تاحال کو ئی حکم جاری نہیں کیا گیاتاہم اب یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر ردعمل دیتے ہوئے صارفین کا کہنا ہےاگر قانون سب کے لیے برابر ہے توتقریبا عرصہ دو سال سے ایک قیدی کی درخواست اعلی عدلیہ کی نظر کرم کی متقاضی ہے –

    سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کا علاج نجی اسپتال میں کرانے کے حکم پر صارفین کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا منظور نظر قیدی کی طرح غلام شبیر ولد اکرم علی حال قید اٹک جیل کی زندگی بھی بچانے کے لیے نجی ہسپتال میں علاج کا حکم جاری کیا جائے گا؟-

  • عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا گیا ہے اور شفا اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی،سپریم کورٹ کا حکم ان قوانین کے مطابق نہیں جو سزا یافتہ قیدیوں سے متعلق ہیں، جبکہ عدالت کے حکم کے دیگر نکات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیصلہ جاری کیا ہے، تاہم حکومت اس فیصلے پر ازسرنو جائزے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی جیلوں میں بہت سے قیدی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور اہلخانہ و ڈاکٹروں سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

  • سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نےعمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق  رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نےعمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد سرکاری معالجین عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقا عدگی سےملاقات کرائی جاتی ہے، دونوں کی اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں، وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو عمران خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    رپورٹ میں ہائیکورٹ کے فیصلے میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سے عدالت میں دی گئی یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے کہا تھا ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے، عدالتی حکم نامے کے باجود میڈیا ٹاک کرکے خلاف ورزی کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بینچ شیر افضل کیس میں جیل رولز 265 کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے، جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ میڈیکل افسران بانی پی ٹی آئی کے دن میں 3 مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں، اس کے ساتھ متعدد سرکاری معالجین عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں جس کا ریکارڈ موجود ہے ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے، عمران خان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔

    رپورٹ کے ساتھ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے معائنے کی سمری بھی شامل ہے۔

    واضح رہے سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کل عمران خان کی صحت اور ملاقوں سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔

  • نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ

    نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ پر اپنی اولاد کی کفالت قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے تاہم نان و نفقہ کی مقدار کا تعین بچے کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

    جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسما شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،عدالت کے روبرو درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچے کے والد بنگلا دیش میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں منیجر ہیں اور اچھی تنخواہ وصول کرتے ہیں اس لیے نابالغ بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 40 ہزار روپے مقرر کیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ فیملی کورٹ کے فیصلے میں اپیل کے بعد ڈسٹرکٹ جج نے نابالغ بچے کا نان و نفقہ 30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا تھا جس میں ہر سال 15 فیصد اضافے کا بھی حکم دیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی اسی فیصلے کو برقرار رکھا،ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے والد کی آمدنی، مالی وسائل، کفالت کی دیگر ذمہ داریوں اور بچے کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نان و نفقہ مقرر کیا عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ والد اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دو دیگر بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے محمد عمران باقر بنام مسما زرنین آرزو (PLD 2026 SC 170) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باپ پر اپنی اولاد کی کفالت قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے تاہم نان و نفقہ کی مقدار کا تعین بچے کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

    سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی، شواہد کے غلط جائزے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت نہیں کر سکیں، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں،عدالت نے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ نے 30 صفحات کا فیصلہ جاری کردیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا،نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی،نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا،اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا جس کی چیف جسٹس آف پاکستان نے یوٹیلیٹی الاؤنس منظوری دے دی،یوٹیلیٹی الاؤنس میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق گریڈ 1 سے 6 تک کا الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار روپے اور گریڈ 7 سے 10 تک کا الاؤنس 8 ہزار سے بڑھا کر 16 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا،گریڈ 11 سے 15 تک کے ملازمین کا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار روپے، گریڈ 16 کے افسران کا الاؤنس 12 ہزار سے بڑھا کر 24 ہزار روپے اور گریڈ 17 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا۔

    گریڈ 18 کے افسران کا الاؤنس 18 ہزار سے بڑھ کر 36 ہزار روپے اور گریڈ 19 کے افسران کا الاؤنس 21 ہزار سے بڑھا کر 42 ہزار روپے کر دیا گیا گریڈ 20 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 24 ہزار سے بڑھا کر 48 ہزار روپے جبکہ گریڈ 21 اور اس سے اوپر کے افسران کا الاؤنس 30 ہزار سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے اخراجات شامل ہیں، اضافی اخراجات مالیاتی سال 2027-2026 کے منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔

  • سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا  بڑا  حکم جاری

    سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا بڑا حکم جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر 10 مارچ 2026 کے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ میں کفایت شعاری پالیسی 15 جون 2026 سے موثر طور پر ختم ہو جائے گی، جس کے بعد عدالت کے تمام انتظامی اور عدالتی امور معمول کے مطابق چلائے جائیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 15 جون سے سپریم کورٹ کے تمام شعبے اور معمولات سابقہ طریقہ کار کے تحت بحال کر دیئے جائیں گے، جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت عائد پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔