Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا  بڑا  حکم جاری

    سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا بڑا حکم جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر 10 مارچ 2026 کے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ میں کفایت شعاری پالیسی 15 جون 2026 سے موثر طور پر ختم ہو جائے گی، جس کے بعد عدالت کے تمام انتظامی اور عدالتی امور معمول کے مطابق چلائے جائیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 15 جون سے سپریم کورٹ کے تمام شعبے اور معمولات سابقہ طریقہ کار کے تحت بحال کر دیئے جائیں گے، جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت عائد پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔

  • تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، کہا کہ عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” قائم کرے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سماعت کی کیس کا 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا فیصلے میں عدالت نے فیصل آباد کی خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے عبدالمنان کی درخواست خارج کردی سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا، عدالت کا متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بندی کیے گئے جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے، قتل انسان کو ایک بار ختم کرتا ہے، تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اور "زندہ لاش” بن جاتا ہے، سپریم کورٹ نے مجرم عبد المنان کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کیا جائے، عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فرو خت پر مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے، تیزاب خریدنے والے کا نام، شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک (انگوٹھے کا نشان) لینا لازمی قرار دیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قو می بحالی فنڈ”(National Acid Survivors’ Rehabilitation Fund) قائم کرے، تیزاب حملے کے مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا دیا جائے، ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کی خود نگرانی کریں، متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے تیز رفتار ٹرائل ناگزیر ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھاکہ متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل معذور یا بیروزگار ہو جانے والے متاثرین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ "معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں، متاثرین کو سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے، تیزاب گردی کے متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی اور سما جی بحالی کے اقدامات کرے، تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلئے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے، قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں جن میں متاثرین کی تاعمر علاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔

    عدالت نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس کو بھجوانے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ نے کہا فیصلے کی کاپی سیکریٹری قانون، چیئرمین قانون و انصاف کمیٹی، تمام صوبائی محکمہ قانون کو بھجوائی جائیں، فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھیجی جائیں۔

  • آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔

    صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

    سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔

    آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔

    انتخابات سے قبل ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت پر اختلافات سامنے آئے تھے، جس کے بعد حکومت نے قانونی ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کی ریفرنس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

    یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے

  • نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم  ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس صلاح الدین پہنور اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی، دورانِ سماعت ملزم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو تسلیم کیا کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا وہ مقتولہ نور مقد م کے اہلِخانہ سے معذرت خواہ ہیں اور ان کے دلائل کا مرکز قتل کےوقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت ہے، ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے-

    وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ مؤقف اختیار نہیں کر رہے کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وقوعے اور ٹرائل کے دورا ن ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی،ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزو فر ینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اس کا علاج جاری رہا۔

    سماعت کے دوران بینچ کے ارکان نے استفسار کیا کہ ایسا طبی ریکارڈ پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ ملزم کا علاج کب شروع ہوا، کس ڈاکٹر نے کیا اور وقوعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی ؟عدالت نے ملزم کی تعلیمی زندگی اور طبی تاریخ سے متعلق ریکارڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    وکیلِ صفائی کی جانب سے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بینچ نے اس خط کی تاریخ اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ دفاع کا مؤقف ہے کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ ایک جانب مرضی کا وکیل نہ ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب لندن سے طبی دستاویزات حاصل کر لی گئیں۔

    خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس ہاشم کاکڑ نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، تو اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپکو اسکا کیا فائدہ ہوتا۔

    اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہےسپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے جواباً کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں، تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

    خواجہ حارث کی جانب سے نظر ثانی اپیل پر سماعت پیر ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مختصر وقفے کے بعد دلائل جاری رکھنے کا حکم دیا۔

    وقفے کے بعد عدالت نے کیس کی کارروائی آگے بڑھائی جس دوران وکیل صفائی نے دلائل جاری رکھے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد نور مقدم قتل کیس میں اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

    واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ایک گھر میں قتل کیا گیا تھ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی جسے 20 مئی 2025 کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد مجرم کی جانب سے نظر ثانی اپیل دائر کی گئی جس پر آج سپریم کورٹ نے 4 گھنٹے تک سماعت کی۔ مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے خواجہ حارث نے دلائل دیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

  • چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج

    چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج

    سپریم کورٹ نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں –

    جسٹس ہاشم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا،جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔

    کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں،اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ جب مقا بلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

    ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی، اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟

    تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی 6،6بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 251 کی انتخابی عذرداری کیس میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے-

    یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں بلوچستان الیکشن ٹربیونل کی جانب سے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا 18 فروری 2024 کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 48 تیار کرتے وقت فارم 45 کے نتائج میں دانستہ اور غیر قانونی تبدیلیاں کیں، عدا لت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ خوشحال خان کاکڑ کے ہر پولنگ اسٹیشن سے 100 ووٹ کم کر کے مخالف امیدوار کے کھاتے میں ڈالے گئے پو لنگ اسٹیشن نمبر 343 پر خوشحال خان کاکڑ کے 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے ووٹوں میں 200 ووٹوں کا اضافہ کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر فارم 45 کے نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو خوشحال خان کاکڑ 1863 ووٹوں کی واضح برتری سے کامیاب ہوتے۔

    سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ نتائج میں تبدیلی انتخابی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی اور ریٹرننگ افسر کے پاس فارم 45 کے نتائج تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے، جبکہ ووٹوں میں ردوبدل عوامی را ئے پر شب خون مارنے کے مترادف ہےانتخابی عملے کیجانب سے نتائج میں ردوبدل انتخابی قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اٹارنی کے ذریعے اپنے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اگر پاور آف اٹارنی کے تحت کسی کو جائیداد منتقل کرنی ہو تو اس کے لیے اصل مالک سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کی منتقلی سےقبل اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کرے، بصورت دیگر ایسی منتقلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی،زیرِ سماعت کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو زمین اس کے بیٹوں کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، ا س کے باوجود منتقلی کی گئی جو قانون کے منافی ہے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض چیک کے ذریعے رقم کی ادائیگی جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبو ت نہیں سمجھی جا سکتی۔

    کیس کی تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی بعد ازاں انہوں نے اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا، تاہم اٹارنی نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی، جسے عدا لت نے کالعدم قرار دے دیا۔

  • جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل میں مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی.

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے کے مطابق مجرم نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر سوئے ہوئے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا اور اپنے ستر سالہ والد غلام محمد کو بے دردی سے قتل کر دیا، جبکہ مداخلت کرنے پر سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی زخمی کیا،چار زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ ان بیانات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں، جبکہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھ چکا تھا۔