Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 251 کی انتخابی عذرداری کیس میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے-

    یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں بلوچستان الیکشن ٹربیونل کی جانب سے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا 18 فروری 2024 کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 48 تیار کرتے وقت فارم 45 کے نتائج میں دانستہ اور غیر قانونی تبدیلیاں کیں، عدا لت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ خوشحال خان کاکڑ کے ہر پولنگ اسٹیشن سے 100 ووٹ کم کر کے مخالف امیدوار کے کھاتے میں ڈالے گئے پو لنگ اسٹیشن نمبر 343 پر خوشحال خان کاکڑ کے 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے ووٹوں میں 200 ووٹوں کا اضافہ کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر فارم 45 کے نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو خوشحال خان کاکڑ 1863 ووٹوں کی واضح برتری سے کامیاب ہوتے۔

    سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ نتائج میں تبدیلی انتخابی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی اور ریٹرننگ افسر کے پاس فارم 45 کے نتائج تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے، جبکہ ووٹوں میں ردوبدل عوامی را ئے پر شب خون مارنے کے مترادف ہےانتخابی عملے کیجانب سے نتائج میں ردوبدل انتخابی قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اٹارنی کے ذریعے اپنے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اگر پاور آف اٹارنی کے تحت کسی کو جائیداد منتقل کرنی ہو تو اس کے لیے اصل مالک سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کی منتقلی سےقبل اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کرے، بصورت دیگر ایسی منتقلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی،زیرِ سماعت کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو زمین اس کے بیٹوں کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، ا س کے باوجود منتقلی کی گئی جو قانون کے منافی ہے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض چیک کے ذریعے رقم کی ادائیگی جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبو ت نہیں سمجھی جا سکتی۔

    کیس کی تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی بعد ازاں انہوں نے اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا، تاہم اٹارنی نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی، جسے عدا لت نے کالعدم قرار دے دیا۔

  • جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل میں مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی.

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے کے مطابق مجرم نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر سوئے ہوئے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا اور اپنے ستر سالہ والد غلام محمد کو بے دردی سے قتل کر دیا، جبکہ مداخلت کرنے پر سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی زخمی کیا،چار زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ ان بیانات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں، جبکہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھ چکا تھا۔

  • سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کے خلاف ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کے خلاف ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان پر دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے دہشتگردی کی دفعات کے خاتمے سے متعلق دائر کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کر کے اس پر فیصلہ کیا جائے، سماعت کے دوران مطیع اللہ جان کی جانب سے وکیل قدیر جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران پراسیکوشن کی جانب سے ہائیکورٹ کو ہدایات دینے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، ڈپٹی پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت ڈائریکشن دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے پر فیصلہ نہیں دیتی، اس وقت تک ٹرائل کورٹ میں فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    واضح رہے کہ مطیع اللہ جان نے دہشتگردی کی دفعات کے خاتمے کے لیے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، تاہم متعلقہ عدالت کے فیصلے کو انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  • سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی شاندار تزئین و آرائش، جس پر 20 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے، اسلام آباد میں موسم کی پہلی موسلا دھار بارش کے بعد سپریم کورٹ کی چھتوں سےپانی ٹپکنے لگا۔

    صحافی عبدالقیوم صدیقی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صحافیوں کے لیے بنائے گئے کمرے میں بارش کا پانی داخل ہو گیا جس نے ایک مہنگے منصو بے کی ناکامی کو عیاں کر دیا اور عوامی رقم کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    انہوں نے لکھا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوا ایک ذریعہ کے مطابق 20کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے لیکن موسم کی پہلی تیز بارش نے ساری قلعی کھول دی کیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کسی ذمہ دار کو بلا کر اس عوامی رقم کا حساب لیں گے ؟ یہ منظر صحافیو ں کے لیے بنائی گئی جگہ کا ہے جتنی بارش باہر اتنی اس کمرے میں جاری ہے-

    اس کے علاوہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا تھا جس پر انتظامیہ نے ٹپکتی چھتوں کے نیچے بالٹیاں رکھ دی تھیں۔

  • سعودی سپریم کورٹ کی مسلمانوں سے عید کا چاند دیکھنے کی اپیل

    سعودی سپریم کورٹ کی مسلمانوں سے عید کا چاند دیکھنے کی اپیل

    سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 29 رمضان، بروز بدھ شام، یعنی 18 مارچ 2026 کو شوال کا چاند تلاش کریں۔

    سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص چاند دیکھے، چاہے آنکھ سے ہو یا دوربین کے ذریعے، وہ اپنی مشاہدے کی رپورٹ قریبی عدالت میں جمع کرائے یا مدد کے لیے نزدیکی مرکز سے رابطہ کرے تاکہ عدالت تک پہنچ سکے،چاند دیکھنے والے افراد ان سرکاری کمیٹیوں میں حصہ لیں جو سعودی عر ب بھر میں عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی ہیں، سپریم کورٹ نے زور دیا کہ اس میں حصہ لینے سے نیکی میں تعاون بڑھتا ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    عید کے دنوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    مضان 2026 کے اختتام کے قریب، دنیا بھر کے مسلمان شوال کے چاند کے منتظر ہیں، سعودی عرب میں ایک ہفتے پر محیط عیدالفطر کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے،چاند دیکھنے کی صدیوں پرانی اسلامی روایت ہجری کیلنڈر کے تعین میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، جو قمری چکروں کی پیروی کرتا ہے اور اسلامی روایات کے مطابق مذہبی تہواروں کے شیڈول کو درست رکھتی ہے۔

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

  • سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب حملے کے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے اپیلوں پر جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کی شناخت کا عمل بھی مشکوک ہے، گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی قسم کی چوٹ نہ آنا غیر فطری امر ہے۔

    مزید برآں، ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے مقدمے کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم جس مقدمے میں اعتراف کیا گیا، اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

    کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری

  • سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست بھی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ