Baaghi TV

Tag: سگریٹ نوشی

  • سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

    سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

    اسٹاک ہوم: یورپی ملک سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی: سویڈن کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یورپ کے پانچویں بڑےسوئیڈن نے 13 نومبر کو باضابطہ طور پر دنیا کا پہلا اسموک فری (سگریٹ سے پاک) ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا ملک میں پیدا ہونے والے 4 اعشاریہ 5 فیصد افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر طے شدہ بینچ مارک 5 فیصد سے کم ہے، یعنی اس تعداد سے کم سگریٹ نوشی کرنے وا لے ممالک اسموک فری کہلائیں گے،یورپ میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد 24 فیصد ہے جو کہ سوئیڈن کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔

    تمباکو نوشی کے نقصانات سے بچاؤ پر کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کی سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پانے کی کامیابی کا راز وہاں کی حکومت کی جانب سے سگریٹ کے محفوظ متبادل کی بہترین پالیسی ہے۔

    سویڈن کی متعدد پالیسیاں ہیں جنہوں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں تمباکو ایکٹ: مارکیٹنگ، کفالت، اور آؤٹ ڈور اشتہارات پر پابندی شامل ہے، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی: 2019 سے بارز، ریستوراں، کھیل کے میدانوں، بس اسٹاپوں اور ٹرین اسٹیشنوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    تمباکو کی فروخت پر پابندیاں: سنگل سگریٹ اور چھوٹے پیک کی فروخت ممنوع ہے، اور وینڈنگ مشینوں کے ذریعے تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی ہے۔

    متبادل نیکوٹین مصنوعات کے بارے میں کھلا رویہ: سویڈن کی کامیابی کی وجہ متبادل نیکوٹین مصنوعات کے بارے میں اس کے کھلے رویے سے منسوب کی جا سکتی ہے۔

    سوئیڈن کو سگریٹ سے پاک کرنے والی تنظیم کے رہنما ڈیلن ہیومن کا کہنا ہے کہ سویڈن کا سگریٹ سے پاک ہونا پبلک ہیلتھ سیکٹر میں ایک بہت ہی بڑی پیشرفت ہے جو کہ سوئیڈن کی تمباکو کو کنٹرول سے متعلق مثبت پالیسیوں پر عمل درآمد کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا 1960 کی دہائی میں سوئیڈن کے آدھے سے زیادہ مرد سگریٹ نوشی کرتے تھے، حکومت نے نیکوٹین، ویپ اور تمباکو سے بنی دیگر اشیا کے استعمال کو روکنے اور عوام کی صحت کے لیے باقاعدہ اصول وضع کیے،سوئیڈن کا سگریٹ فری ہونے کا اعزاز حاصل کرنا پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن اور ایک متاثر کن ثبوت ہے کہ قابل عمل اور روشن خیال سوچ پبلک ہیلتھ سیکٹر میں مفید نتائج برپا کر سکتی ہے اور انسانوں کی زندگیاں بچا سکتی ہے۔

  • وفاقی اردو یونیورسٹی   میں منشیات و جرائم  کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی میں منشیات و جرائم کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی جانب سے منشیات و جرائم کے بارے میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب کے مہمان خصوصی محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی سیف سٹی و ٹریفک اسلام آباد پویس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ ڈاکٹر احتشام الحق انچارج اسلام آباد کیمپس، محمد علیم رضا ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ تقریب کا انعقاد یونیورسٹی آدیٹوریم میں کیا گیا جس میں طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے طلبہ کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کی طرف سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مختلف تعلیمی اداروں میں اسلام آباد پولیس کی طرف سے طلبہ کو معاشرتی جرائم و منشیات اور ان کی روک تھام کے لیئے اسلام آباد پولیس کے اقدامات کے بارے میں آگاہی دی جائے۔

    اپنے خطاب کے دوران مہمان خصوصی نے جرائم کی مختلف اقسام، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کی روک تھام کے لئے پولیس کے طریقہ کار، سیف سٹی کیمروں کا استعمال، گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار سمیت کئی اہم معلومات فرہم کی۔ طلباء کی طرف سے موجودہ حالات میں پولیس کا کردار اور اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کے بارے میں مختلف سوالات کئے گئے جن کے مفصل جوابات  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے دیئے۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے سیمینار میں شرکت کرنے پر معزز مہمان گرامی و دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ طلباء نے گروپ فوٹو بھی بنائے۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

     شارق خان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی منشیات کا گیٹ وے ہے،

  • تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے موثر آواز اٹھانے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی منشیات کا گیٹ وے ہے،اب تمباکو انڈسٹری نئے پراڈکٹس لا رہی ہے، بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانا ہو گا،کرومیٹک ایک حد تک کام کر سکتی ہے،حکومت کے ساتھ ملکر تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے.

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شارق خان کا کہنا تھا کہ خواتین میں منشیات میں اضافہ ہو رہا ہے، منشیات اب ہر گھر کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، تمباکونوشی کو منشیات کا گیٹ وے کہا جاتا ہے،تمباکو نوشی شروع کر کے پھر منشیات کی طرف جاتے ہیں، اب تمباکو انڈسٹری نے نیا رخ لیا ہے، ای سگریٹ ،نیکوٹین پاؤچز متعارف کروا دیئے، چھوٹے بچوں اور خواتین کو اس پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس طرح تمباکو انڈسٹری ہمارے آنے والے کل کو تباہ کر رہی ہے،

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے بارے قوانین موجود ہیں، اگر ان کو لاگو کیا جائے تو ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل حل ہو جائیں،تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر تک کوئی کھوکھا نہیں بنا سکتے لیکن سکول کی دیوار کے ساتھ سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں، ویب سائٹ پر منشیات فروخت ہو رہی ہے، پتہ نہیں ہم ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، پچھلے تین برسوں سے ہم کام کر رہے ہیں، ہم نے تمباکو پر ٹیکس بڑھوایا، اب تمباکو انڈسٹری نئے پراڈکٹس لا رہی اوران پر گفٹس رکھ رہی ہے،12 سے 15بر س کے بچوں کو انڈسٹری ٹارگٹ کرتی ہے اور یہ پھر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے والدین کا کردار انتہائی اہم ہے، پانچ چھ سال قبل والدین کے سامنے، یا گلی محلے میں کوئی لڑکا سگریٹ نہیں پیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے، والدین ،اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو نہ صرف سگریٹ سے منع کرنا ہے بلکہ روکنا ہے، والدین اگر بچوں کے سامنے سگریٹ پی رہے ہیں تو شرمناک بات ہے، وہ نہ صرف اپنی صحت کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں بلکہ بچوں کے ساتھ بھی ، ہمیں بچوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ کول چیز نہیں بلکہ فضول چیز ہے،یہ غیر اخلاقی بات بھی ہے،

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کل سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات ہوئی ہے، ان سے بات ہوئی کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف مہم چلائیں گے، 15 15 منٹ کی ڈسکشن ہر ماہ ہو گی، اس پر وزارت تعلیم سے بات کروں گا، تمباکو کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، قیمتیں زیادہ ہوں گی تا بچے خرید نہیں سکیں گے، ہم اینٹی ٹوبیکو یوتھ کلب بنا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ چلے، کرومیٹک ایک حد تک کام کر سکتی ہے، حکومت نیشن وائیڈ کام کر سکتی ہے، آنیوالے وقت میں ایک بہت بڑی مہم نظر آئے گی،یونیورسٹیز ہمارے ساتھ ہیں، وہاں ہماری مہم چل رہی ہے،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    بچوں کے عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہاہے کہ ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی اور ویپنگ کی لعنت میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے موقع پر تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی پاکستانی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پاکستان میں بچوں میں تمباکو کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے، تمباکو نوشی سےنہ صرف اموات میں اضافہ بلکہ بیماریاں بھی پھیلتی ہیں،والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی تربیت کریں، تعلیمی اداروں میں اساتذہ اس حوالہ سے کردار ادا کریں، مساجد کے امام خطبات جمعہ میں سگریٹ نوشی سے دو ر رہنے کی تلقین کریں، معاشرے سے سگریٹ نوشی تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب سب ملکر کام کریں گے،حکومت بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور خصوصا تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کے حکمنامے کو یقینی بنائے، سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا جائے، اس سے سگریٹ نہ صرف بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا بلکہ پاکستانی معیشت بھی مستحکم ہو گی.

    شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں۔یورپ میں ہونے والی جدید تحقیق نے ان مصنوعات کے خطرات کے بارے میں تفصیلی انتباہ دیا ہے۔ تمباکو کی جدید مصنوعات چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، یہ منہ کا کینسر، سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتے ہیں۔

    کرومیٹک کے رہنما، طیب رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یومیہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کررہے ہیں،یہ اعدادو شمار لمحہ فکریہ ہیں، تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں اور صحتمند زندگی گزاریں،سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور کرنے کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ان میں سے سب سے اہم تمباکو پر ٹیکس ہے، ٹیکس لگے گا تو سگریٹ مہنگا ہو گا اور بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا.پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • دوران سفر جہازکے واش روم میں "گھناؤنا کام” کرنیوالا گرفتار

    دوران سفر جہازکے واش روم میں "گھناؤنا کام” کرنیوالا گرفتار

    دوران سفر جہازکے واش روم میں "گھناؤنا کام” کرنیوالا گرفتار

    دبئی سے کولکتہ ، بھارت آنیوالی ایئر لائن انڈیگو کی فلائٹ کے واش روم میں مبینہ طور پر سگریٹ نوشی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، مسافر کو کولکتہ کے ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا نام سویم شکلا ہے، جو طیارے کے واش روم میں گیا اور وہاں جا کر سگریٹ نوشی کرنے میں مصروف ہو گیا، اسی دوران اسکو ایک کیبن کرو اور ایک اور مسافر نے طیارے کے واش روم میں سگریٹ نوشی کرتے دیکھ لیا جس پر طیارے کے پائلٹ کو فوری اطلاع دی گئی،

    پرواز نے لینڈنگ کی تو فلائٹ افسر نے ایئر پورٹ پر سیکورٹی اہلکاروں اور سی آئی ایس ایف کے اہلکاروں کو اطلاع دی، جس پر مسافر کو طیارے سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا،ملزم شکلا سے سی آئی ایس ایف کے حکام نے تحقیقات کیں پھر، اسے سٹی پولیس کے حوالے کر دیا،پولیس ملزم سے تحقیقات کر رہی ہے، شکلا کے خلاف ایئر کرافٹ رولز 1937 کی دفعہ دو کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    انڈیگو ایئر لائنز کے حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت کے لیے دوران سفر فلائٹ میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی ہے خوش قسمتی سے مسافر کو بروقت سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھ لیا گیا اور کارروائی کی گئی ورنہ حادثہ پیش آ سکتا تھا،

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    مسافر طیارے کا پچھلا حصہ زمین سے ٹکرا گیا جس کے بعد کیپٹن کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے

  • نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت اپنے ان ساتھیوں سے تبدیل ہوتی ہے جو سگریٹ نہیں پیتے۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں کیمبرج اور واروک یونیورسٹیوں اور چین کی فوڈان یونیورسٹی کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے 14، 19 اور 23 سال کی عمر کے 800 سے زائد نوجوانوں کے دماغی امیجنگ اور طرز عمل کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا،تحقیق میں دماغ کے دو حصوں میں موجود معلومات کو آگے بڑھانے والے بافتوں (سرمئی مادہ) کی مقدار اور نوجوانی میں سگریٹ نوشی کے آغاز کی طلب اور نِکوٹین کی عادت پختہ ہونے کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔

    محققین کے مطابق ایسے طریقہ کار کا وضع ہونا جس سے سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہونے کے متعلق پتہ لگایا جاسکے، لاکھوں زندگیوں کو بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین نے پایا کہ، اوسطاً، 14 سال کی عمر سے سگریٹ نوشی شروع کرنے والے نوجوانوں کے بائیں فرنٹل لاب کے ایک حصے میں واضح طور پر کم سرمئی مادہ ہوتا ہے جو فیصلہ سازی اور اصول کی خلاف ورزی سے منسلک ہوتا ہے سرمئی مادہ دماغی ٹشو ہے جو معلومات پر کارروائی کرتا ہے، اور اس میں اعضاء کے تمام نیوران ہوتے ہیں۔ اگرچہ دماغ کی نشوونما جوانی تک جاری رہتی ہے، بلوغت سے پہلے سرمئی مادے کی نشوونما عروج پر ہوتی ہے۔

    تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک سینئر مصنف پروفیسر ٹریور روبنز کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی دنیا کا سب سے عام نشہ آور رویہ ہے بڑی عمر کے افراد کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہےسگریٹ نوشی کی لت دورانِ نوجوانی لگتی ہے اس کی تشخیص کا کوئی بھی طریقہ لاکھوں زندگیوں کو بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں دماغ کے بائیں حصے میں سرمئی مادے کی کم مقدار کا تعلق اصول توڑنے کے رویے میں زیادتی کے ساتھ دیکھا گیا اور ممکنہ طور پر اصول توڑے جانے کا یہ رویہ انسداد سگریٹ نوشی کے اصولوں کی نفی پر مائل کرسکتا ہے سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے دماغ کے دائیں حصے میں بھی سرمئی مادے کی مقدار کم دیکھی اس حصے میں اس مادے کا کم ہوجانا شراب نوشی اور بھنگ کے بھرپور استعمال دیکھا گیا۔

    بینک میں خواتین کے باتھ روم میں خفیہ کیمرے کا انکشاف

    ایک بار جب نیکوٹین کی عادت پکڑ لیتی ہے، دائیں فرنٹل لاب میں سرمئی مادہ سکڑ جاتا ہے، جو "ہیڈونک موٹیویشن” کو متاثر کر کے سگریٹ نوشی پر کنٹرول کو کمزور کر سکتا ہے جس طرح خوشی کی تلاش اور انتظام کیا جاتا ہے دائیں دماغ میں سرمئی مادے کے بہت زیادہ نقصان کا تعلق بہت زیادہ شراب پینے اور چرس کے استعمال سے بھی تھا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ مل کر، نتائج ایک تباہ شدہ "نیوروبیہیوئل میکانزم” کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نیکوٹن کے استعمال کو جلد شروع کرنے اور طویل مدتی لت میں بند ہونے کا باعث بن سکتا ہے اس تحقیق میں IMAGEN پروجیکٹ کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے اور یہجرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوا ۔

    کیمبرج کے شعبہ نفسیات کے شریک سینئر مصنف پروفیسر ٹریور رابنز نے کہا کہ تمباکو نوشی شاید دنیا کا سب سے عام نشہ آور رویہ ہے اور بالغوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہےسگریٹ نوشی کی عادت کا آغاز نوجوانی کے دوران ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے اس کے بڑھتے ہوئے امکانات کا پتہ لگانے کا کوئی بھی طریقہ، تاکہ ہم مداخلتوں کو نشانہ بنا سکیں، لاکھوں جانیں بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    پوپ فرانسس کا مذاہب کے نام پر تشدد کا شکار افراد کے دن پر خصوصی …

    توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک دنیا بھر میں سگریٹ سے ہونے والی سالانہ اموات کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی فی الحال، ہر سال پانچ میں سے ایک بالغ کی موت صرف امریکہ میں سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے۔

    رابنز نے کہا کہ ہمارے مطالعے میں، بائیں پریفرنٹل کورٹیکس میں گرے مادے میں کمی کا تعلق اصول توڑنے کے بڑھتے ہوئے رویے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کے ابتدائی تجربات سے ہے یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اصول توڑنے سے تمباکو نوشی مخالف اصولوں کی خلاف ورزی ہو-

    بھارتی مشن چندریان 3 آج چاند پر اترے گا

  • سگریٹ نوشی کرنیوالوں کو "گھوریں” حکومتی حکمنامہ

    سگریٹ نوشی کرنیوالوں کو "گھوریں” حکومتی حکمنامہ

    سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے، کئی ممالک میں پاکستان کی طرح عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن پینے والے باز نہیں آتے ، ہانگ کانگ میں بھی ایسا ہی ہوا، جس پر محکمہ صحت نے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    پانگ کانگ میں سگریٹ نوشی کو کیسے روکا جائے؟ اس حوالہ سے بحث جاری تھی، حکومت کی جانب سے پابندیوں کے باوجود شہری سگریٹ نوشی سے باز نہیں آتے،تمباکو نوشی کو کیسے کم کیا جائے، اس ضمن میں ہانگ کانگ کے سیکرٹری صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ عوامی مقامات پر اگر کوئی سگریٹ پیتا نظر آئے تو اسکو گھوریں، یہی ایک حل ہے، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرنیوالوں کو گرفتار نہیں کروا سکتے، ہر ایک شخص کو پکڑنا ممکن نہیں ،اسلئے ضروری ہے کہ عوام کردار ادا کرے اور سگریٹ نوشی کرنے والوں‌کو گھوریں،

    ہانگ کانگ میں ممنوعہ مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے کے قوانین بھی سخت کیے جا رہے ہیں جہاں سگریٹ نوشی پر 1500 ہانگ کانگ ڈالر جرمانہ عائد کیا جائے گا

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

  • تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    امریکی ماہرین نے تنہائی کو ایک دن میں 15 سگریٹ پینے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یو ایس سرجن جنرل نے منگل کو صحت عامہ کی تازہ ترین وبا کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ کورونا کے دور میں تنہائی کے گہرے احساس نے لاکھوں امریکیوں کو متاثر کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ میں وسیع پیمانے پر تنہائی صحت کو اتنا ہی خطرناک بناتی ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا، جس سے صحت کی صنعت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

    ڈاکٹر وویک مورتھی نے اپنے دفتر سے 81 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا کہ تقریباً نصف امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنہائی کا تجربہ کیا ہے۔

    مورتھی نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ایک عام احساس ہے جس کا بہت سے لوگ تجربہ کرتے ہیں۔ یہ بھوک یا پیاس کی طرح ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جب جسم ہمیں اس وقت بھیجتا ہے جب ہمیں بقا کے لیے کوئی چیز درکار ہوتی ہےامریکہ میں لاکھوں جدوجہد کر رہے ہیں، اور یہ درست نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے یہ ایڈوائزری جاری کی تاکہ اس جدوجہد سے پردہ ہٹایا جا سکے جس کا بہت زیادہ لوگ تجربہ کر رہے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق امریکا میں تقریباً 50 فیصد لوگوں کو تنہائی کے متاثرین سمجھا جاتا ہے، اس لیے امریکی صحت کے حکام سماجی تنہائی کا منشیات کے استعمال یا موٹاپے کی طرح سنجیدگی سےعلاج کرنے پر زور دے رہے ہیں ماہرین کے مطابق تنہائی سگریٹ پینے سے زیادہ خطرناک ہونےکے علاوہ قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بنتی ہے۔

    سرجن جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں نے کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ میل جول ختم کیا امریکیوں نے 2020 میں دوستوں کے ساتھ روزانہ تقریباً 20 منٹ گزارے، جو تقریباً دو دہائیوں پہلے روزانہ 60 منٹ سے کم تھے تنہائی خاص طور پر 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کیلئے نافذ عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    ، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی قبل از وقت موت کے خطرے کو تقریباً 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے کمزور سماجی تعلقات رکھنے والوں میں بھی فالج اور دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہےتحقیق کےمطابق تنہائی کسی شخص کے ڈپریشن، اضطراب اورڈیمنشیا کا سامنا کرنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ مورتی نے کوئی ایسا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جس سے یہ واضح ہو کہ کتنے لوگ تنہائی یا تنہائی سے براہ راست مرتے ہیں۔

    سرجن جنرل کام کی جگہوں، اسکولوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، کمیونٹی تنظیموں، والدین اور دیگر لوگوں سے ایسی تبدیلیاں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں جس سے روابط کو فروغ ملے۔ وہ لوگوں کو کمیونٹی گروپس میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہے اور جب وہ دوستوں سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں تو اپنے فون استعمال نہ کریں –

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    ٹیکنالوجی نے تنہائی کے مسئلے کو تیزی سے بڑھا دیا ہے، رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرنے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے جو اس طرح کی ایپس پر ایک دن میں 30 منٹس کم وقت استعمال کرتے تھے۔

    مورتھی نے کہا کہ سوشل میڈیا خاص طور پر تنہائی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کے لیے خاص طور پر ان کے سوشل میڈیا رویے کے ارد گرد تحفظات تیار کرتی ہیں۔

    12 سال بعد کوئی ملک غریب نہیں ہوگا. بل گیٹس کا دعویٰ

    مورتھی نے کہا کہ "اندرونی بات چیت کا واقعی کوئی متبادل نہیں ہے۔ "جیسا کہ ہم اپنی بات چیت کے لیے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی طرف منتقل ہوئے، ہم نے ذاتی طور پر اس بات چیت سے بہت کچھ کھو دیا۔ ہم ایسی ٹیکنالوجی کو کیسے ڈیزائن کرتے ہیں جو ہمارے تعلقات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرتی ہے؟اس کہانی کو یہ ظاہر کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے کہ سرجن جنرل نے کہا کہ تنہائی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

  • سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    تُرک شہری نےسگریٹ نوشی کی لت سے جان چھڑانے کیلئے منفرد طریقہ اپنا لیا جو کہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق مضرصحت عادت سے چھٹکارا پانے کے لئے تُرک شہری کی جانب سے اختیارکیے جانے والے انوکھےطریقہ کار نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے گو یہ خبرذرا پُرانی ہے تاہم ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہے سگریٹ نوشی کی عادت سے نجات پانے کے لیے ابراہیم یوسل نامی ترک شخص نے اپنے سر پر پنجرہ باندھ لیا تاکہ وہ سگریٹ ہی نہ پی سکے۔

    فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ حکومت کا ردعمل

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ابراہیم نامی اس شخص نے اپنے والد کے پھیپھڑوں کے کینسر سے انتقال کر جانے کے بعد سگریٹ نوشی کی عادت سے نجات پانے کیلئے اٹھایا۔

    رپورٹس کے مطابق سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے سے پہلے ترک شری دو دہائیوں سے زائد عرصے سے روزانہ سگریٹ کے دو پیکٹ پیتا آرہا تھا، پُرانی عادت سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس نے موٹر سائیکل کے ہیلمٹ سےمتاثر ہو کر تانبےکی تارکی مدد سے پنجرہ بنا لیا تاکہ وہ سگریٹ کی طلب پر اسے پہن کر خود کو سگریٹ نوشی سے دورکرسکے۔

    پی ٹی آئی کا انتہائی خطرناک کھیل، مراد سعید نے کیا عدالت سے رجوع

    ترک شہری اپنا منہ پنجرے میں بند کرنے کے بعدچابی اپنے خاندان کے افراد کے حوالے کر دیتا۔ اِس عمل مں اس شخص کی اہلیہ نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا ابراہیم کو جب کھانا یا کچھ پینا ہوتا تو اس کی اہلیہ یہ پنجرہ کھول دیتی تاہم جیسے ہی وہ خوراک مکمل کرلیتا یہ پنجرا بند کردیا جاتا۔ اس سے ترک شہری کو سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے میں مدد ملی۔

    آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے،خالد مسعود سندھو

  • نابالغوں کو سگریٹ کی فروخت روکنے کی درخواست دائر

    نابالغوں کو سگریٹ کی فروخت روکنے کی درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں نابالغوں کو سگریٹ کی فروخت روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کردیئے، درخواست بیرسٹر احمد پنسوتا کی وساطت سے خضر قریشی نے دائر کی ، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سموکنگ آرڈینس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت نہیں کیے جا سکتے ۔حکومت آرڈینس پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہے ۔ عدالت 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ اور ویپس کی فروخت فوری روکنے کا حکم دے ۔، عدالت نے درخواست پر مختصر سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے،

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    واضح رہے کہ پاکستان میں پابندی کے باوجود کم عمر بچوں کو سگریٹ کی فروخت کی جاتی ہے، تعلیمی اداروں کے باہر بھی منشیات کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے،تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی 12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔