Baaghi TV

Tag: سیاستدان

  • مفاداتی سیاست  کرنے والے  ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفاداتی سیاست کرنے والے ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں ایسے ادوار آئے اور چلے گئے مضبوط سیاسی لیڈر موجود تھے۔پاکستان ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں لیڈر نظر نہیں آتے تاہم ناقص ترین کارکردگی کے نام نہاد رہنما نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور قوم اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، سیاسی نظریات کو دفن کرکے مفاداتی سیاست کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جانے لگا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی لیڈرشپ کا فقدان کیوں ہو رہاہے۔ شاندارلیڈر شپ کا دور بظاہر ختم ہورہا ہے ۔ نواز شریف جو اس ملک کے سینئر ترین سیاستدان ہیں ،عمران خان بلاشبہ جو اس وقت جیل میں ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہیں۔انہوں نے سینئر ترین سیاستدان نواز شریف کے خلاف ایسی سازش کی کہ ان کو لندن ان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہائوس اور گلی چوراہوں میں منی لانڈرنگ اور چور ثابت کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا اسے پاکستان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے آج وہ خود اور ان کی جماعت بھگت رہی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کے خلاف اس سازش میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مبینہ طور پر چند اشخاص بھی شامل تھے۔

    ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے دعویداروں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کیا کردار ادا کیا ؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے، آئین اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جس کے ذمہ دار خود سیاستدان ہیں۔ سیاستدانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے تحت ان کی تابع رہے۔ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست رکھیں۔ آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے آپ کی پسند وناپسند مختلف ہوگی لیکن فوج تو اپنی ہے اور ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہے۔ جن کی وجہ سے آپ کی سیاست بھی قائم ہے ۔ سیاستدانوں کی جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کم عقل سیاستدان ملک میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دارفوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ماضی اور حال میں فوج کو سیاستدا ن سو کنوں کی طرح طعنے ہی دیتے ہیں ، سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے۔

  • سیاسی ومذہبی جماعتیں  نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی ومذہبی جماعتیں نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک بچانے کےلئے نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں ۔ پاکستان کو صرف اسلامی نظام کے نفاذ کے میثاق سے ہی بچایا جاسکتا ہے ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا کہنا تھا کہ ملک نازک ترین حالات سے گزررہا ہے اور ہمارے سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں ۔ ملک بچانے کےلئے میثاق اسلام کے علاوہ تمام تجربات ناکام ہوں گے ، کچھ جماعتیں میثاق معیشت اور کچھ جماعتیں میثاق جمہوریت کی تجویز پیش کررہی ہیں ہماری تجویز یہ ہے کہ ملک بچانے کےلئے میثاق اسلام پیش کیا جائے ۔ اسلئے کہ یہ ملک اللہ نے ہمیں اسلام کی برکت سے عطاکیا ہے ، جب ہمارے حکمرانوں نے نفاذ اسلام کے وعدے سے رو گردانی کی تو پھر حالات دن بہ دن تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے یہاں تک پاکستان دولخت ہوگیا ۔ اس وقت بھی اقتدار کے جو تجربے کئے جارہے ہیں یہ ناپائیدار ہوں گے ، پائیدار تجربہ صرف اسلام کا نفاذ ہے ۔ ہماری معیشت اور جمہوری ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا مزید کہنا تھا کہ معیشت اور جمہوری اداروں کے استحکام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کا سب سے اہم ترین لائحہ عمل یہ ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں نفاذ ِ اسلام کے میثاق پر متفق ہوجائیں ۔ یہ ملک ہمارے پاس لاکھوں شہدا ءکی امانت ہے ، اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے ۔اس کی بقا ، دفاع ، تحفظ اور استحکام صرف اور صرف باہمی اتحاد میں ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ہمارا دین تحمل ، برداشت اور باہمی اتحاد واتفاق کا سبق دیتا ہے ۔ جبکہ ہمارے سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں عوام اور ملک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جس کے نتیجہ میں بے یقینی کی کیفیت طاری ہے، مہنگائی روز بہ روز بڑھ رہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اتحاد واتفاق کا مظاہرہ اور میثاق اسلام پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • عام انتخابات، اپنی ہار تسلیم کرنیوالے سیاستدان

    عام انتخابات، اپنی ہار تسلیم کرنیوالے سیاستدان

    بالآخر ملک بھر میں عام انتخابات ہو گئے، نتائج بھی آ گئے، الیکشن میں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے، سابق وفاقی وزرا ایوانوں سے باہر ہو گئے ، سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی ایوانوں میں نہ پہنچ سکے، نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے ہارے تو نتائج قبول کی بجائے نتائج چیلنج کر دیئے، آزاد امیدوار بھی نتائج چیلنج کر رہے ہیں وہیں کچھ ایسے امیدوار بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے کھلے دل سے اپنی ہار تسلیم کی اور جیتنے والے امیدواروں کو مبارکباد بھی دی

    لاہور کے حلقہ این اے 122 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی شکست قبول کی، خواجہ سعد رفیق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سردار لطیف کھوسہ کو دلی مبارکباد دی اور کہا کہ وہ عوامی فیصلے پر خوش دلی سے سر تسلیم خم کرتے ہیں، اللہ کریم آنے والی پارلیمان کو متحد ہو کر قومی بحرانوں پر قابو پانے کی توفیق و تقویت عطا فرمائے۔

    استحکامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین اپنی دونوں سیٹیں ہار گئے، لودھراں اور ملتان کسی بھی حلقے سے کامیابی نی ملی، جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی خان ترین نے سوشل میڈیا پرایک بیان میں کہا کہ ہمارے مدِ مقابل تحریکِ انصاف کے عامر ڈوگر نے این اے 149 میں بہت اچھی مہم چلائی ہے، ان کی مہم بہت منظم اور پُراثر تھی، وہ کامیابی کے حق دار تھے۔البتہ جہانگیر ترین کی جانب سے ابھی تک مکمل خاموشی ہے ، اپنی انتخابی مہم کے دوران جہانگیر ترین کہہ رہے تھے کہ وہ ن لیگ کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے اور ملکی ترقی کے لئے کام کریں گے تا ہم جہانگیر ترین اسمبلی نہ پہنچ سکے بلکہ استحکام پاکستان پارٹی ملک بھر سے ٹوٹل تین سیٹیں جیتی ہے.

    عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی اپنی شکست قبول کرلی اور پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے آبائی ضلع مردان کے تمام حلقوں پر اے این پی کی شکست کی ذمے داری کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں، میرے حلقہ اور مردان کے عوام نے اگر ہم پر اعتماد نہیں کیا تو پارٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔

    اسلام آباد کے حلقہ این اے 47 اور 48 سے شکست کا سامنا کرنے والے آزاد امیدوار مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی کھلے دل سے اپنی ہار کو تسلیم کیا ہے، ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں۔

    سرگودھا میں این اے 83 میں مسلم لیگ (ن) کے محسن نواز رانجھا بھی میدان میں تھے البتہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار اسامہ احمد میلہ نے کامیابی حاصل کی، اسامہ احمد میلہ نے ایک لاکھ 36 ہزار ووٹ حاصل کیے جب کہ محسن نواز رانجھا کو 98 ہزار سے زائد ووٹ ملے،محسن شاہ نواز رانجھا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ احمد میلہ کو رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر دلی مبارک باد ہے۔

    خیبر پختونخوا میں بونیر سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 25 پر پیپلز پارٹی کی امیدوار سویرا پرکاش بھی میدان میں تھیں لیکن ان کو کامیابی نہ مل سکی،سویرا پرکاش نے صرف ساڑھے 17 سو ووٹ حاصل کیے، سویرا پرکاش نے سوشل میڈیا پر حلقے کا نتیجہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حمایت اور پیار کا شکریہ۔ ان کے علاوہ بھی کئی مزید سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے دھاندلی اورنتائج میں ہیرپھیر کا الزام لگائے بغیر شکست تسلیم کی ہے۔

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    سندھ میں پی پی کا تیر چل گیا،نتائج مکمل،پیپلز پارٹی84 سیٹیں لے اڑی

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    قومی وصوبائی855 میں سے 831 نتائج،آزاد 335 سیٹیں،ن لیگ 216 لے اڑی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    تخت لاہور،لطیف کھوسہ، میاں اظہر ،وسیم قادر کی جیت،شہباز،حمزہ،مریم،ایازصادق کی بھی جیت

    پنجاب،عمران نذیر،سلمان رفیق،میاں اسلم اقبال،بلال یاسین جیت گئے، رانا مشہود کو شکست

    انتخابی نتائج،آزاد امیدوار وں کا پلڑا تاحال بھاری، ن لیگ دوسرے نمبرپر

    تحریک انصاف کیلیے اچھی خبر، مخصوص نشستوں کا حصول آسان ہو گیا

    آزاد امیدوار ابھی تک آگے،مگر نواز شریف کو حکومت بنانے کی جلدی

    مانسہرہ سے نواز شریف جیت چکے ہیں،اسحاق ڈار کا دعویٰ

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    اسلام آباد : پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے 11 مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سیاستدان اور صحافی شامل ہیں،جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سید اکبر حسین، صابر شاکر، معید پیرزادہ، وجاہت سعید، عادل فاروق راجہ ،حیدر رضا مہدی ،شاہین صہبائی، پی ٹی آئی کے رہنما علی نواز اعوان، فرخ حبیب، مراد سعید اور حماد اظہر شامل ہیں۔


    پیمرا نے مذکورہ بالا 11افراد کو الیکٹرانک میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے،پیمرا نے ہدایت دی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر ایسے لوگوں کی کوریج کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے، ایسے افراد سے متعلق کسی بھی قسم کی خبر، بیانات نشر کرنے سے گریز کیا جائے کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • قرآن پاک نذر آتش کرنے کی دھمکی دینے والے سیاستدان کیخلاف برطانیہ کا بڑا اقدام

    قرآن پاک نذر آتش کرنے کی دھمکی دینے والے سیاستدان کیخلاف برطانیہ کا بڑا اقدام

    لندن: برطانیہ نے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی دھمکی دینے والے ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی: ” بی بی سی ” کے مطابق سوئیڈن کےسیاستدان ریسمس پالوڈن نےرواں سال کے آغاز میں اسٹاک ہوم میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی جس پر مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا واقعے کے بعد برطانیہ نے رمضان المبارک کی آمد سے قبل ریسمس پالوڈن کی ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ملک جو دنیا سے 7 سال پیچھے ہے،جہاں ایک سال میں 13 مہینے ہوتے ہیں

    سیاستدان نے رمضان کے آمد کے موقع پر برطانیہ میں قرآن پاک کی دوبارہ بےحرمتی کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے برطانیہ نے ریسمس پالوڈن کے داخلے پر پابندی عائد کی۔

    سیکیورٹی منسٹر ٹام ٹگینڈہاٹ نے کہا کہ اسلام مخالف پارٹی اسٹریم کرس کے بانی راسمس پالوڈن کو برطانیہ کی امیگریشن واچ لسٹ میں شامل کیا گیا ہےپالوڈن نے کہا تھا کہ اس نے اس ہفتے ویسٹ یارکشائر شہر کے ایک عوامی چوک میں مذہبی کتاب کو جلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

    یہ ایک ویک فیلڈ اسکول کے چار شاگردوں کو قرآن کے ایک نسخے کو نقصان پہنچانے پر معطل کرنے کے بعد آیا ہےاتوار کو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، مسٹر پالوڈن نے کہا کہ وہ "غیر جمہوری قوتوں” کے خلاف "لڑائی” کے لیے شہر کا سفر کریں گے۔

    رمضان میں بغیر اجازت افطار کھانا تقسیم کرنے پر جرمانہ ہو گا

    اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا ارادہ رمضان کے آغاز کے موقع پر بدھ کو قرآن مجید کو جلانے کا تھا مسٹر پالوڈن نے پچھلے کئی مظاہرے کیے ہیں جن میں اسلامی کتاب کو جلایا گیا تھا، جن میں سے کچھ پرتشدد جوابی مظاہروں کا باعث بنے۔

    جنوری میں اس نے سٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر قرآن پاک کا ایک نسخہ جلا یا تھا گستاخانہ واقعے کے بعد سوئیڈن اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ ترکی نے اب نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن کی درخواست کو روک رکھا ہے۔

    امریکی میڈیا ٹائیکون کا 92 سال کی عمر میں پانچویں شادی کرنے کا اعلان

  • ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    اداکار و گلوکار اور ہلال احمر کے چئیرمین ابرار الحق بھی سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کافی متحرک ہیں. گزشتہ روز ایک معروف صحافی نے ایک ٹویٹ کیا اور طنز کے نشتر چلائے ابرار الحق پر کے وہ ہلال احمر کے چئیرمین ہیں اور ابھی تک وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے میدان میں نہیں آئے. اطلاعات ہیں کہ ابرار الحق نے سیلاب زدگان کے لئے ایک کنسرٹ کیا ہے اور اس سے اکٹھی ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے نام کر دی ہے.
    ابرار الحق کا کہنا ہےکہ یہ کنسرٹ روٹین میں میری مصروفیات کے شیڈیول میں‌ تھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ میرے بہن بھائی پریشانی اور آفت کی زد میں آگئے ہیں تو میں نے اس کنسرٹ سے حاصل ہونے والی ساری کمائی ان کو دینے کا فیصلہ کر لیا . انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی خوشی

    کا موقع نہیں ہے کہ ہم گانے گاتے پھریں لیکن یہ شو صرف اسلئے کیا گیا ہے تاکہ جو پیسے اکٹھے ہوں ان سے بے سروسامان بیٹھے لوگوں کی مدد ہو سکے. ابرار الحق کی طرح بہت سارے لوگ جو ہو سکے کررہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے سیلاب زدگان کے لئے مدد کا بندوبست کیا جا سکے. یاد رہے کہ ابرار الحق تحریک انصاف کا بھی حصہ ہیں اور انہی کے پلیٹ فارم سے انہوں نے الیکشن بھی لڑا. ابرار الحق اس وقت ہلال احمر کے چیرمین کے طور پر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں.

  • ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے ثناءفخر

    ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے ثناءفخر

    لالی وڈ اداکارہ ثناءفخر کہتی ہیں کہ ووٹ ہی اصل طاقت ہے اس کااستعمال ٹھیک طریقے سے کیاجانا چاہیے اور اسمبلیوں میں ہر طبقے کی نمائندگی کرنے والا شخص ہونا چاہیے تاکہ ہر شعبے کے دیرینہ مسائل حل ہوں۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ جمہوری معاشروں میں ہمیشہ ایسے ہوتا ہے کہ عوام اپنے نمائندوں کو خود سلیکٹ کرتی ہے. ثناء نے کہا کہ عوام میں اب بہت حد تک شعور بیدار ہو چکا ہے اور شعور کو بیدار کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے.ہمارے ہاں لوگ بہت جذباتی ہیں وہ آج بھی ذات برادریوں کے نام پر ووٹ دیتے ہیں ان کے بڑے جن کو پسند کرتے تھے وہ بھی انہی کو پسند کرتے ہیں اور انہی کو

    ووٹ دیتے ہیں اور ذات برادری کو تو خاص کر بہت اہمیت دیتے ہیں. لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ووٹ ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے.اور ایسے لوگوں کا اتنخاب کیا جانا چاہیے جو تعلیم یافتہ ہوں اور جنہیں قوم کے مسائل کا ادراک ہو اپنے علاقے کے مسائل کا علم ہو.ثناء کا کہنا ہےکہ حکومت کی ترجیحات تعلیم کا شعبہ ہر حال میں‌ہونا چاہیے پڑھے لکھے لوگوں کا ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ہو تا ہے . .یاد رہے کہ ثناء فخر نوے کی دہائی میں لالی وڈ میں قدم رکھا ان کریڈٹ پر سپر ہٹ فلمیں ہیں، ثناء فیشن آئی کون کے طور بھی جانی چایتی ہیں، آج کل ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں.

  • پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام سنتے آئے اور اب شیر آیا شیر آیا کے مصداق ملک واقعی اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ایک ہم اور ہمارے حکمرانوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے؟ کیا حکمرانوں ، اعلیٰ بیورو کریسی کے افسران، اعلیٰ اور نچلے درجے کے پولیس افسران ، سول انتظامیہ کے افسران ، ریونیو کے افسران، نے کرپشن سے توبہ کر لی؟ کیا ملک کی بڑی مچھیلوں نے رضاکارانہ طور پر زیادہ ٹیکس دینے کا اظہار کیا؟ کیا ملک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران نے اپنی ضرورت سے زیادہ تنخواہ کم لینے کے جذبے کا اظہار کیا؟ کیا ہم نے گھاس کھا کر وطن کی آن بچانے کا عہد کیا؟

    ان تمام سوالات کا جواب اگر نہیں میں ہے تو ہم جس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ایک بھیانک انجام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے عرصے میں جب یورپ میں معاشی بحران آیا تو جرمنی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کو درخواست کی کہ ان پر ٹیکس زیادہ لگایا جائے حال ہی میں کینیڈا میں ایک شعبے کے ملازمین نے حکومت سے استدعا کی کہ ان کی تنخواہیں ان کی ضروریات سے زیادہ ہیں کم کی جائیں آج ملک میں کروڑوں کے پلاٹس، لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے موجود ہیں اعلیٰ انتظامی اور تکنیکی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعینات کئے جا رہے ہیں وزارتوں اسمبلیوں میں اور تکنیکی شعبوں میں محکمہ انکم ٹیکس و مالیات میں کرپٹ رشتہ داروں کو کھپایا جاتا ہے اور رونا رو رہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں اعلیٰ سیاستدانوں ، حکمرانوں ، مقتدر عہدوں پر فائز افسران سے لے کر تمام دفاتر میں براجمان چھوٹے بڑے ملازمین تک اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاکر حلف برداریاں آن ریکارڈ کریں کہ وہ بابائے قوم کے اقوال کے مطابق حقیقی طور پر ملک و قوم سے وفادار رہیں گے اور کوئی کرپشن ، اقربا پروری، سفارش نہیں کریں گے اور اس کے بعد آئی ایس آئی اور آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے تمام وزراء، مشیران، سول و ملٹری افسران کی کڑی نگرانی کی جائے اور ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے کے مرتکب عہدیداروں کے لئے سخت سزائیں دی جائیں ایسا نظام لایا جائے تاکہ کوئی بھی پاکستان کے ستقبل سے کیلنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس کارخیر میں سب کا کردار ہے۔