Baaghi TV

Tag: سیاسی جماعتیں

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    مخصوص سیٹوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کا ردعمل سامنے آیا ہے،تحریک انصاف نے فیصلے کو خؤش آئند قرار دیا ہے تو وہیں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، اے این پی ،ایم کیو ایم نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

    فیصلے سے آئین، قانون اور جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے آئین، قانون اور جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ ملک کی جمہوریت، آئین وقانون کی بالا دستی کے مطابق نہیں ہوا،سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اپنی پارٹی سے الیکشن ہی نہیں لڑے سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کو فہرست ہی جمع نہیں کرائی۔

    ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔اسد قیصر
    تحریک انصاف انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن فارم 47 سے متعلق پٹیشنز پر جلد فیصلہ دے،سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے،آج جمہوریت کی فتح اور آئین و قانون کی بالادستی قائم ہوئی، فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ، 8 فروری کے انتخابات پر ہمارے تحفظات آج بھی برقرار ہیں،اے این پی
    اے این پی کے مرکزی ترجمان احسان اللّٰہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے ساتھ وہ ریلیف دیا گیا جو مانگا ہی نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، 8 فروری کے انتخابات پر ہمارے تحفظات آج بھی برقرار ہیں، یہ تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی زدہ اور متنازع انتخابات تھے،الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق بھی الیکشن کمیشن نے ڈرامہ کیا، آئینی ماہرین اس پر روشنی ڈالیں کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں تھا ہی نہیں، اس پر فیصلہ کیسے کیا گیا؟ آئین کی بالا دستی کے لیے عدلیہ میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، مخصوص نشستیں ان کا حق ہے جن کے اراکین اسمبلیوں میں ہیں۔

    میرے خیال میں آئین کو دوبارہ لکھا گیا ہے، آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا نقصان پی ٹی آئی کو ہوگا، چند دنوں میں اپوزیشن کے مزید ٹکڑے ہوجائیں گے کہ اِنہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، پی ٹی آئی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی، اس کیس میں جو استدعا کی ہی نہیں گئی اس پر بھی فیصلہ آ گیا ہے،میرے خیال میں آئین کو دوبارہ لکھا گیا ہے، آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔

    تحریک انصاف کی قیادت اس فتح کوسیاسی مکالمے کےآغاز سےمنائیں،عشرت العباد
    سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کےفیصلے نے آئین کی پاسداری کی توثیق کی ہے، مضبوط جمہوریت کی بنیاد آزاد عدلیہ،جمہوری پارلیمنٹ،قابل انتظامیہ پرقائم ہوتی ہے،جمہوری اصولوں کےحقیقی نفاذ کیلئے تمام سیاسی جماعتیں بامقصد بات چیت کریں،سیاسی جماعتیں عوام کو ریلیف کیلئے کام کریں اور قومی مفاد میں نظم و ضبط بحال کریں، تحریک انصاف کی قیادت اس فتح کوسیاسی مکالمے کےآغاز سےمنائیں، پی ٹی آئی قیادت استحکام کا مضبوط ستون بنے۔

    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ 11/2 کا فیصلہ ہے، 11 ججز نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک پارٹی تھی اور ہے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، الیکشن کمیشن جوجرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے گھر جائے گا،

    ایسے فیصلوں سے معاشی عدم استحکام بڑھتا ہے،طلال چودھری
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے پاکستان کے سیاسی استحکام کو نقصان دیتے ہیں اور ایسے فیصلوں سے معاشی عدم استحکام بڑھتا ہے، اس فیصلے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، الیکشن کمیشن کو ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہیے، انہیں ان کا کام کرنے دینا چاہیے، ہر دفعہ الیکشن کمیشن ہی کیوں غلط ہوتا ہے ، الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کیوں کی جاتی ہے، تمام اداروں کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو سپورٹ کرنا چاہیے، ان کے ساتھ چلنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ پاکستان میں ایسا ماحول بننا چاہیے جس سے سیاسی اور معاشی استحکام آئے۔

    ماہرِ قانون اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قانونی ابہام دور ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے،کیس تو سارا سنی اتحاد کونسل کا تھا، مخصوص نشستوں پر دعویٰ بھی ان ہی کا تھا، عدالت کے سامنے پی ٹی آئی کا کیس ہی نہیں تھا،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قانونی ابہام دور ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے، معاملہ پارلیمنٹ کی طرف جانا چاہیے تھا، عدالتی فیصلے سے حکومتی اتحاد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا

    طاقتور ستون جو پہلے ساس کے کنٹرول میں تھا ، ٹرکوں کے زیر اثر تھا اب “ڈیجیٹل دہشت گردوں “کے قابو آ چکا،وقار ستی
    صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ تلخ حقائق !!!جمہوریت کا تماشا بنانے یا اس کا گلہ دبانے میں کس ادارے کا کیا کردار ہے آج واضع ہوگیا۔افسوسناک صورتحال ہے کہ ریاست کا ایک سب سے طاقتور ستون جو پہلے ساس کے کنٹرول میں تھا ، ٹرکوں کے زیر اثر تھا اب “ڈیجیٹل دہشت گردوں “کے قابو آ چکاہے۔ کیا ریاست کے لیے اس سے بڑا خطرہ کوئی ہوسکتا ہے ؟ ایسے حالات اور ایسا ماحول پیدا کرنا ملک کو انارکی ، مارا ماری بےیقینی اور افراتفری کی طرف لے کر جانے کے مترادف ہے۔یہ حالات ملک کو عدم استحکام کی طرگ دھکیل رہے ہیں ۔ سیاسی تعلق سے بالاتر ہوکر سوچئیے کیا یہ ماحول پاکستان کے مفاد میں ہے یا اس کے نقصان میں۔ ؟؟

    صحافی نصر اللہ ملک کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے معاملہ مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ آرٹیکل 51 کی شق ڈی بالکل واضح ہے کہ خواتین اور اقلیتی نشستیں صرف ان جماعتوں کو دی جاسکتی ہیں جو فہرست میں شامل ہیں اور جنہوں نے ای سی پی کو فہرستیں فراہم کی ہیں۔پی ٹی آئی نے نہ تو دفعہ 104 کے تحت مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی نے ای سی پی میں مخصوص نشستوں کے لیے چیلنج کیا تھا۔ پی ٹی آئی کا بنیادی معاملہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ایس آئی سی میں شامل ہو چکے ہیں اور اب ایس آئی سی کے حقدار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ لکھا۔اگر ایس آئی سی میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی امیدوار مستقبل میں دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا گیا جس کا اس نے دعویٰ بھی نہیں کیا۔ سپریم کورٹ جب 185 کے تحت کسی بھی چیز کا جائزہ لیتی ہے، تو یہ عام طور پر ان درخواستوں تک محدود ہوتا ہے جو نچلی عدالت سے سپریم کورٹ تک پہنچتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے دیگر جماعتوں کو دی گئی مخصوص نشستوں کے اراکین کو سنے بغیر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا۔ عدالت میں جن 80 ارکان کا ذکر کیا گیا وہ نہ تو عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔فیصلہ آئین کے مطابق نہیں ہے۔ یہ پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔ اسے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ یہ ایک منفرد فیصلہ ہے جو آئین سے بالاتر ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر قبول کر لیا ہے جبکہ اس کے اراکین نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نشان پر الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتوں کی قدر ختم ہو جائے گی۔ آزاد امیدوار اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹیاں تبدیل کر سکیں گے۔ اس قسم کے فیصلے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایک ایسا نیا سسٹم سامنے آئے گا جس کی قانون اور آئین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے فیصلے آئین و قانون کے مطابق دینے کی بجائے سیاسی جماعتوں اور انکی سوشل میڈیا ٹیموں کو دیکھ کر دئیےجا رہے ہیں.

    صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کچھ بھی کہیں لیکن تحریک انصاف سے اسکا انتخابی نشان تو انہوں نے ہی چھینا تھا اب وہ کہتے ہیں میرے فیصلے کی غلط تشریح ہوئی لیکن طاقتور حلقوں کے کچھ ترجمان تو بہت پہلے سے کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف کو بلا نہیں ملے گا انہیں کیسے پتہ تھا؟ قاضی صاحب کا فیصلہ تو بہت بعد میں آیا یہ سب کیا تھا؟

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • عام انتخابات،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی حتمی فہرست، پی ٹی آئی "فارغ”

    عام انتخابات،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی حتمی فہرست، پی ٹی آئی "فارغ”

    آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا معاملہ،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست باغی ٹی وی کوموصول ہو گئی

    مسلم لیگ ن کے 10،ٹی ایل پی کے 2،جے یو آئی کے 5 امیدواروں کے نام حتمی فہرست میں شامل ہیں، جماعت اسلامی کے 4،پیپلزپارٹی کے 7،ایم کیو ایم کے 3 جبکہ پی ٹی آئی کے کسی امیدوار کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے.جی ڈی اے، اے این پی، آئی پی پی کا بھی ایک ایک نام مخصوص فہرست میں شامل ہے،بی این پی اور این پی کا بھی ایک ایک امیدوار فہرست میں شامل ہے،

    عدلیہ کیخلاف گھٹیا اور غلیط مہم چلانے پر سینکڑوں اکاؤنٹ بند کیے،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی پی 23 میں تحریک انصاف کا غلط فیصلہ،

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

    چاہت فتح علی خان الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ گئے

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان

    دوسری جانب عام انتخابات 2024میں ایسے پولنگ اسٹیشنز کاانکشاف ہواہے کہ اگر وہاں 50گھنٹے مسلسل ووٹ ڈالے جائیں پھر بھی سو فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوسکتے ہیں،الیکشن کمشین نے 6978ووٹر پر مشتمل پولنگ سٹیشن بنادیا ہے –الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ اسٹیشنز بنانے کے لیے12سو ووٹرز کا قانون یکسر نظر انداز کردیا،جب کہ پولنگ بوتھ 300ووٹرز پر بنانےکا قانون ہے اور الیکشن کمیشن نے17سو سے بھی زائد ووٹرز پر ایک پولنگ بوتھ بنادیا ایک گھنٹے میں ایک پولنگ بوتھ پر زیادہ سے زیادہ 40ووٹ مثالی حالات میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کو سوالات بھیجنے اور رابطہ کرنے کے باوجود موقف نہیں دیا.

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

  • سوشل میڈیا  استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    سوشل میڈیا استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ الیکشن کے قریب جاتے ہی جھوٹ، بہتان تراشی اور ہیجان پیدا کرنے والی معلومات میں اضافہ ہوگا، عوام سے اپیل ہے ایسی معلومات صحیفہ نہیں ہے، آگے پھیلانے سے پہلے اُس کی تصدیق کریں،لوگوں کو گلہ اور شکایت ہے تو 8 فروری کو وہ اپنے نمائندے منتخب کرلیں گے، کچھ یوٹیوبرز کے اکاونٹ میں ڈالرز تو آجاتے ہیں لیکن پاکستانی عوام کو اُس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، گھٹیا اور غلط معلومات جب آپ کے فون میں آئیں تو عوام سے اپیل ہے کہ اپنی عقل کا استعمال کریں، اُس جھوٹ کو آگے نہ بڑھائیں، ایک وہ لوگ ہیں جن کا کاروبار جھوٹ ہے، شام کو اُنہوں نے ڈھائی بندوں کو پکڑ کر اپنا وی لاگ بنا دیا،جس میں اُنہوں نے کہا کہ گدھے نے گھوڑے کو جنم دیا اور سورج کل مغرب سے طلوع ہو گا اور مشرق میں غروب ہو گا، اسلام آباد میں جنوری کے مہینے میں درجہ حرارت 55 ڈگری ہوگا، اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ایسی خبر کو ثواب کا کام سمجھ کر ہر طرف شئیر کرنے لگ جاتے، سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں، عدلیہ کیخلاف گھٹیا اور غلیط مہم چلانے پر سینکڑوں اکاؤنٹ بند کیے،کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے، اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، قانون اس میں کسی قسم کی تخصیص یا تمیز نہیں کرتا، جھوٹ پھیلانا کچھ لوگوں کا کاروبار ہے، کچھ لوگ عوام کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، ہمیں جھوٹ اور غلط معلومات سے چوکنا رہنا ہوگا،عوام ایسی غلط اور جھوٹی خبروں کو آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کریں،عدلیہ کے خلاف مہم ملک کے اندر اور بیرون ملک سے چلائی گئی،

    احمد شمیم پیر زادہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے پاس اسلام، اخلاقیات، عدالت اور سیکیورٹی اداروں سے متعلق توہین پر مواد کو ہٹانے کا اختیار رکھتے ہیں،اس صورتحال میں ہمارا بنیادی کام انٹرنیٹ بلاک کرنا اور مواد کو ڈیلیٹ کرنا ہے، سوشل میڈیا کی آؤٹ ریچ بہت زیادہ اور آسان ہے لیکن لوگوں کو اس کے استعمال کا شعور نہیں،

    کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم کریں،ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ
    ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جس اکاؤنٹ اور شخص کی شناخت کرتے ہیں، اُن کےخلاف قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی، ‏500 سے زیادہ اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے، باقی کی مانیٹرنگ کررہے ہیں،اِن کے خلاف کارروائی کرینگے، کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم کریں،سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر اداروں کےخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے، جب کارروائی شروع کرینگے تو سب کو نظر آئے گا،

    سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کی ضرورت ہے،مرتضیٰ سولنگی
    قبل ازیں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نےپائیڈ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات جمعرات 8 فروری 2024ءکو ہوں گے، پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے،مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے،انتخابات کے حوالے سے تمام مفروضے اور افواہیں دم توڑ چکی ہیں،آئین کے تحت پاکستان کو منتخب نمائندے چلائیں گے،انتخابات کے حوالے سے میڈیا کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا ہوگی، عام انتخابات کے حوالے سے میڈیا کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، معیشت، خارجہ پالیسی، تعلیم اور صحت سمیت اہم امور منشور کا حصہ ہوتے ہیں، بنیادی مسائل پر بحث ہونی چاہئے، لوگوں کے اجتماعی شعور میں اضافہ ہونا چاہئے، آج ہمیں آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے،ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہوگا، وعدوں اور دعوﺅں کی تکمیل سیاسی جماعتوں کا ہی کام ہے،عوام کے اجتماعی شعور میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے، 18 ویں ترمیم سے صوبوں کو بااختیار بنایا گیا، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کی ضرورت ہے، امید ہے ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کے حل کی طرف جائیں گے،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • گوگل نے پاکستان میں انتخابی سرچ ٹرینڈ کا صفحہ جاری کر دیا

    گوگل نے پاکستان میں انتخابی سرچ ٹرینڈ کا صفحہ جاری کر دیا

    8فروری2024 ء کو ہونے والے عام انتخابات کےباعث پاکستانیوں کی بڑی تعداد سیاسی جماعتوں ، اُن کے نامزد امیدواروں اور دیگر متعلقہ موضوعات کے بارے میں آن لائن معلومات تلاش کریں گے تاکہ انہیں انتخابی عمل میں مدد حاصل ہو سکے۔

    ذرائع ابلاغ اور عوام کو اس ڈیٹا تک آسان رسائی کی غرض سے گوگل نے ”گوگل ٹرینڈز پاکستان جنرل الیکشن (Google Trends Pakistan General Election) “کے نام سے ایک صفحہ متعارف کرایا ہے جو انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے بارے میں سوالات، موضوعات اور دلچسپیوں کے حوالے سے معلومات کو پیش کرتا ہے۔ اس صفحے پر ملک کے ہر حصے میں، انتخابات کے حوالے سے تلاش کیے جانے والے ٹاپ موضوعات مثلاً معیشت، ٹیکس اور اجرتوں کےبارے میں اعداد و شمار شامل ہیں۔

    گوگل ٹرینڈز پیچ کے تمام چارٹس کو کسی بھی ویب سائٹ پر شامل کیا جا سکتا ہے جہاں یہ خود بخود اپ ڈیٹ بھی ہوتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ گوگل ٹرینڈز کی جانب سے پاکستان میں متعارف کردہ یہ صفحہ عام انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کا سروے نہیں ہے اور نہ ہی ووٹنگ کے بارے میں رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صفحہ محض وقت گزرنے کے ساتھ مقامی سطح پر مخصوص موضوعات کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی اور تلاش کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی خاص سوال میں اضافہ، اس بات کی عکاسی نہیں کرتا کہ کوئی سیاسی جماعت کسی بھی معنوں میں ”زیادہ مقبول“ ہے یا ”جیت “ رہی ہے۔

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • 14 سیاسی جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات ،فیصلہ سنا دیا گیا، کئی پارٹیاں ڈی لسٹ

    14 سیاسی جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات ،فیصلہ سنا دیا گیا، کئی پارٹیاں ڈی لسٹ

    چودہ سیاسی جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    آل پاکستان مینارٹی الائنس ،آل پاکستان تحریک،عوامی پارٹی پاکستان ایس،بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا، سب کا پاکستان،نیشنل پیس کونسل پارٹی،پاکستان نیشنل مسلم لیگ،پاکستان امن پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا،پاکستان برابری پارٹی،مسیحی عوامی پارٹی،پاکستان قومی یکجہتی پارٹی،سنی تحریک اور نظام مصطفیٰ پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا، فیصلے میں کہا گیا ہک متعدد شوکاز نوٹسز کے باوجود تیرہ سیاسی جماعتوں نے غیرسنجیدہ رویہ اپنائے رکھا،

    آل پاکستان مسلم لیگ جناح کو انتخابی نشان جاری کرنے کا حکم دے دیا گیا،جمیعت علما پاکستان نورانی کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

  • مرکزی مسلم لیگ کا قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کا قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹریٹ میں مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق کی آمد ہوئی،اعجاز الحق نے صدر مرکزی مسلم لیگ کو قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی،خالد مسعود سندھو کی طرف سے دعوت قبول کرلی گئی۔

    اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ضیاء اعجاز الحق نے کہا کہ میں مرکزی مسلم لیگ کے ساتھ گزشتہ 6 ماہ سے رابطے میں تھا۔ہم نے قومی یکجہتی اتحاد ترتیب دیا ہے۔اس اتحاد میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شامل ہوئی ہے۔ہم ایک چھتری کے نیچے اکٹھے ہوکر پاکستان کے مفادات کے لیے الیکشن لڑیں گے۔ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی میں نظریہ پاکستان کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچی جارہی ہیں۔سیاستدان ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ہم نے قوم کو نظریہ پاکستان پر کھڑا کرنا ہے۔قومی یکجہتی اتحاد غربت اور مہنگائی کی ستائی ہوئی 25 کروڑ عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ہم پاکستان کو جس نظریئے پر بنا تھا اس پر لانا چاہتے ہیں، ہم سود پر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، عوام کے مفاد کی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، اس وقت ملک میں بہت اختلاف ہیں، کوئی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کو تیار نہیں، سولہ ماہ کچھ جماعتیں اکٹھی تھیں،انکی منزل اقتدار اور مفادات کی تھی، لوگ تماشا دیکھ چکے اب عوام کے مفاد کےلیے کام کرنا ہو گا اپنے سے بالاتر ہو کر پاکستان کے لئے ہم کام کرنا چاہتے ہیں، جس نظریئے پر ملک بنا تھا اس ڈگر پرملک کو لائیں گے.

    اعجاز الحق کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے امیدوار ایسے ہیں جو آزاد نہیں لڑنا چاہتے، بہت سے امیدوار ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، ہم نظریہ پاکستان کے مطابق ایک اتحاد بنا چکے ، مفادات کی سیاست ختم کرنی ہو گی ،پاکستان کے عوام کے مفادات کی سیاست کرنی ہو گی، بے روزگاری،مہنگائی، لاقانونیت کے خلاف جنگ کرنی ہو گی،لوگ پریشان ہیں، ماضی میں حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، عوام کو کچھ نہیں دیا لیکن اپنے وارے نیارے ہو گئے،قومی یکجہتی اتحاد کے نام پر ہمارا الائنس بنا ہے،مرکزی مسلم لیگ ہمارے ساتھ شامل ہوئی، جے یو آئی س والوں سے بھی بات ہوئی، اگلے ایک دو دن میں وہ بھی اس اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں، الیکشن آٹھ فروری کو ہیں، وقت زیادہ نہیں ہے ہم نے کوشش کی کہ ایک نشان پر سب دوست الیکشن لڑیں لیکن اس کے لئے تاخیر ہو چکی ہے،ہم مشورہ کریں گے کہ کیسے الیکشن میں جائیں تا کہ قومی یکجہتی اتحاد کے امیدوار کیسے کامیاب ہوں.

    بہت ساری پارٹیاں اس اتحاد کا حصہ بننے جارہی ہیں،خالد مسعود سندھو
    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ہمارے مزاکرات کافی دیر سے چل رہے تھے۔ سیاسی انتشار کا خاتمہ قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے مرکزی مسلم لیگ قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کرتی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ آج سے اس قومی یکجہتی اتحاد کا حصہ ہیں، اس اتحاد کا مقصد ملک کی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی استحکام کو مضبوط کرنا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد کی سیاست کی ہے اور ملک میں جاری انتشار کے خاتمے کے لیے گزشتہ ایک سال تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔بہت ساری پارٹیاں اس اتحاد کا حصہ بننے جارہی ہیں 8 فروری کا دن قومی یکجہتی اتحاد کی جیت دن ہوگا

    ملک کی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے

    بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے برابر کاشریک کریں 

    قرضے لیکر معیشت میں کبھی بھی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

  • ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

    آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

    بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

  • عام انتخابات کیس، سیاسی جماعتوں کا فریق بننے کا فیصلہ

    عام انتخابات کیس، سیاسی جماعتوں کا فریق بننے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ کے عام انتخابات کیس سے متعلق بڑی پیشرفت سامنے آ گئی، ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے فریق بننے کا فیصلہ کر لیا

    8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے مسلم لیگ(ن) نےا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا،مسلم لیگ (ن) لاہور ہائیکورٹ کے ریٹرننگ افسران سے متعلق فیصلے کے خلاف لارجر بینچ میں فریق بنے گی،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے پارٹی کو گرین سگنل دے دیا،مسلم لیگ (ن) کی لیگل ٹیم نے پٹیشن تیار کرنا شروع کر دی

    پیپلز پارٹی نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں عام انتخابات کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے، سابق صدر آصف زرداری نے فوری پٹیشن فائل کر کے فریق بننے کی ہدایت کی ہے،وہیں دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان بھی پیٹیشن فائل کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات کیلئے بیوروکریسی کی خدمات کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ،بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی کریں گے،لارجر بینچ میں جسٹس شہرام سرور، جسٹس جواد حسن، جسٹس سرفراز ڈوگراور جسٹس سلطان تنویر کو شامل کیا گیا ہے، لارجر بینچ 18 دسمبر کو درخواست کی سماعت کرے گا

    لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے تحریک انصاف کی عام انتخابات کیلئے بیوروکریسی کی خدمات لینے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا اور لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • سیاسی جماعتوں سے رابطے کیلئے آصف زرداری نے مذاکراتی کمیٹیاں بنا دیں

    سیاسی جماعتوں سے رابطے کیلئے آصف زرداری نے مذاکراتی کمیٹیاں بنا دیں

    اسلام آباد عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا معاملہ، پیپلز پارٹی نے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دیں

    سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لیے کمیٹیاں سابق صدر آصف علی زرداری نے تشکیل دی ہیں، پنجاب اورخیبر پختون خواہ کے لیے سید نیر حسین بخاری ، قمر زمان کائرہ ،فیصل کریم کنڈی ، محمد علی شاہ باچا اور ساجد طوری شامل ہیں ،سندھ میں سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لیے سعید غنی اور سید ناصر حسین شاہ کے نام شامل ہیں، بلوچستان میں سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لیے چنگیز خان جمالی، روزی خان کاکڑ اور صابر بلوچ شامل ہیں رخسانہ بنگش کو سابق صدر آصف علی زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری نامزد کیا گیا ہے.

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری میں کوئی اختلافات نہیں ،آصف زرداری نے انٹرویو سے پہلے بلاول صاحب کے ٹرپ کا پلان تیار تھا ،پیپلز پارٹی ایک تھی ایک ہے اور ایک رہے گی ،بلاول بھٹو کہہ رہے ہیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہئے شفاف انتخابات ہونے چاہئیں ،بلاول کی دونوں بہنیں دبئی میں موجو دہیں، ایک فیملی ملاقات ہے، اس وجہ سے گئے، غلط بیانیاں پھیلائی گئیں، منفی پروپیگنڈے کو سائیڈ پر کر دیں، پیپلزپارٹی ایک ہے اور رہے گی،پاکستان کی معیشت کو پیپلز پارٹی ہی مستحکم کرے گی، مسائل کے بھنور سے نکالے گی، اس وقت پورے پاکستان میں لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں لیکن بلاول حلقوں میں نکل کر انتخابی مہم چلا رہے ہیں، چترال تک عوامی رابطہ مہم چلائی گئی.

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    بلاول نے تصویر تبدیل کر کے کونسی بغاوت کی؟ فیصل کریم کنڈی

    بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیچ کوئی اختلاف نہیں ،شازیہ مر ی

    کسی کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کے بجائے ہمیں موقع دیں،بلاول

    کیا شہباز شریف اور انکے ساتھی 16 ماہ کی کارکردگی پر الیکشن لڑ سکتے ہیں؟بلاول

    طعنوں کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے، احسن اقبال کا بلاول کو مشورہ

    ایک الیکشن میں انکو کچھ تکلیف ہے تو ویلکم ٹو دی کلب

    اگر اس بار الیکشن کی بجائے سلیکشن ہُوا تو عوام نقصان اٹھائیں گے، بلاول

  • ملک میں ایک جماعتی نظام رائج کرنے کی درخواست مسترد

    ملک میں ایک جماعتی نظام رائج کرنے کی درخواست مسترد

    وفاقی شرعی عدالت کا بڑا فیصلہ، ملک میں ایک جماعتی نظام رائج کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی

    وفاقی شرعی عدالت نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری ہر دیا،تحریری فیصلہ شرعی عدالت کے جج ڈاکٹر سید محمد انور نے تحریر کیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانا یا کسی سیاسی جماعت کا کارکن بننے کا حق حاصل ہے،ملک میں سیاسی جماعت کی تشکیل آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق میں سے ہے،ملکی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا مختلف نقطہ نظر اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں بلکہ تصور اسلام کے عین مطابق ہے، اسلام شہریوں کو ایک جماعت کی حکمرانی پر اعتراض اور سوالات اٹھانے کی اجازت دیتا ہے،حکومت کو شہریوں کے سوالات کی وضاحت دینی چاہیے،

    تفصیلی فیصلے میں قرآن مجید کی سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 38 کا حوالہ دیا گیا،اور کہا گیا کہ مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کی مدت 1985 کے صدارتی آرڈیننس نمبر 14 کے ذریعے آئین میں شامل کی گئی،لفظ پارلیمنٹ کو مجلسِ شوریٰ کی اصطلاح سےبدل دی گیا،اس ترمیم کو اجاگر کرنے کا مقصد سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کی اہمیت پر زور دینا تھا، پارلیمنٹ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور بحث و مباحثہ کی جگہ ہے،پارلیمنٹ میں ایسی مشاورت سیاسی جماعتوں پر لازم ہے جو عوام الناس کی بھلائی اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہو،آئین کے آرٹیکل 51، 63 اے، 175 اور 224 بھی سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے آگاہی دیتے ہیں،وفاقی شرعی میں ایڈووکیٹ عبدالقدوس کی جانب سے ملک میں ایک جماعتی نظام رائج کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ایک سے زائد جماعتی نظام اسلامی احکامات کے خلاف ہے

    سندھ میں لڑکیوں سے برہنہ پریڈکروانے،20 افراد کی اجتماعی زیادتی پر کمیٹی قائم

    سندھ میں لڑکیوں سے برہنہ پریڈ ،اجتماعی زیادتی واقعہ پر عدالت نے نوٹس لے لیا

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ کروانے کے دو ملزم عدالت پیش

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ایم ایل او پر بھی لگ گیا گھناؤنا الزام

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس، متاثرہ لڑکیاں عدالت پیش،بیان ریکارڈ کروا دیا

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس،لڑکیوں نے ڈر کے مارے گاؤں چھوڑ دیا