ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ ہوگئی، او زی گروپ کو سابقہ پارٹنرز کی دستبرداری کے سبب مالی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
پی سی بی نے گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم کنگز مین کو ایک ارب 75 کروڑ جبکہ آٹھویں ٹیم او زی گروپ کو ایک ارب 85کروڑ روپے میں فروخت کی تھی، امریکی کمپنی نے تو وقت پر واجبات ادا کر دیے، البتہ آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا نیلامی کے وقت ہی جب بڈز بڑھتی رہیں تو اوز ی کے پارٹنرز کو تشویش ہوئی، درمیان میں وقفہ لے کر فون پر دونوں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جب بڈ جیت لی تو سیالکوٹ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دونوں پارٹنرز نے رقم زیادہ ہونے کا جواز دے کر دستبرداری اختیار کر لی۔
او زی گروپ نے خاصی تاخیر سے بینک گارنٹی جمع کرائی جس سے معاہدہ ختم ہونے سے بچ گیا، البتہ فیس کی ادائیگی میں اسے مشکلات کا سامنا رہا، ایسے میں ایک نئی پارٹی کو 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے پر اتفاق ہوا، اس کے اونر محمد شاہد سے رقم لیے بغیر ہی لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کر لیا گیا لیکن کچھ بھی نہ ملنے پر پھر نئے پارٹنر کی تلاش شروع ہوئی، اس پر جس پارٹی سے پہلے بات ہوئی تھی اس نے سنگین الزامات بھی عائد کیے، صور تحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کیش کراتے ہوئے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن موجود تھا، البتہ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش جاری رہی۔
ذرائع نے بتایا کہ بڈنگ میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی 90 فیصد سے زائد شیئرز لینے پر آمادہ ہو چکی، اس سے اوزی گروپ کا انتظامی معاملات پر کنٹرول ختم ہو جائے گا قوانین کے تحت تین سال سے قبل 100 فیصد شیئرز کی منتقلی ممکن نہیں ہے، اسٹریٹیجک پارٹنر کی صورت میں نئی پارٹی آ سکے گی، جب پی سی بی نے اپنے طور پر مزید تحقیقات کیں تو ایک اونر کے ماضی میں دیوالیہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا، البتہ نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے کوئی اعلان متوقع ہوگا-
دوسری جانب، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں رہے، ان کے مطابق کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف زبانی بات چیت ہوئی تھی۔

















