Baaghi TV

Tag: سیدرا صدف

  • استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    کل والدہ کے لیے خشک میوہ جات لینے بازار گئے۔۔۔ہول سیل ایک دو دکانوں سے معیار اور قمیتیں چیک کرتے تیسری دکان پر جا پہنچے۔۔۔معیار اور قمیت دونوں مناسب لگے اور واضح طور پر پہلی دو دکانوں سے بہتر تھے۔۔۔لہذا درکار میوہ جات کا آرڈر دے دیا۔۔۔

    اچانک کاؤنٹر پر موجود صاحب نے مخاطب ہوئے۔۔آپ میڈم (والدہ کا نام) کی بیٹی ہیں نا۔۔۔میں نے جواب دیا جی بالکل۔۔۔کہتے میں پہچان رہا تھا۔۔ میڈم سے شکل ملتی ہے۔۔آپکو ایک بار میڈم کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔میں انکا شاگرد رہا ہوں۔۔۔۔میڈم کیسی ہیں۔۔۔بہت پہلے ملاقات ہوئی تھی۔۔ میں نے بتایا ہارٹ پیشنٹ ہے۔۔۔کافی کمزور ہو گئی ہیں۔۔

    میں نے کہا آپ اپنا نام بتا دیجیے میں والدہ کو بتاؤں گی۔۔ نام بتایا پھر کہا آپ تشریف رکھیں۔۔۔میڈم سے ہم پانچوں بہن بھائیوں نے گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے۔۔۔ہم بہن بھائی جو کچھ بھی ہیں انکی وجہ سے ہیں۔۔۔ میں نے چھوٹے بھائی کے ساتھ پڑھنے کے بعد آبائی کاروبار سنبھالا۔۔باقی بھی سیٹل ہیں۔۔۔میڈم ہمیں اسکول کی پڑھائی کے ساتھ درس بھی دیتی تھیں۔۔میں زیادہ کمزور تھا پڑھائی میں شام کو آپکے گھر بھی آتا تھا میڈم مفت ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔۔

    خیر سامان پیک ہونے کے بعد لڑکے نے بل اور سامان پکڑا دیا۔۔میں نے پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آواز آئی۔۔رک جائیں پلیز۔۔۔یہ میری طرف سے میڈم کے "قدموں میں رکھ دیجیے گا” اور کہیے گا میرے اور میرے بچوں کے لیے دعا کر دیں بس۔۔۔یہ پیسے میں نہیں لے سکتا ہوں۔۔اور آئیندہ سے میڈم نے کچھ لینا ہو مجھے بس فون کر دیں۔۔

    اگر استاد نے محنت اور کسی غرض کے بنا شاگرد کو پڑھایا ہو اور شاگرد بھی اس محنت اور خلوص کو یاد رکھے تو استاد شاگرد ایک مضبوط ترین رشتہ ہے۔۔۔رشتہ ہمیشہ عزت کے دم پر قائم ہوتا ہے اور مجھے فخر ہے میری والدہ نے یہ عزت کمائی ہے کیونکہ ہمیں والدہ کے حوالے سے پہچان کر احترام پہلی بار نہیں ملا ہے۔۔۔

  • نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    "نواز تو میرا میچ ونر ایں مینوں ہمیشہ تیرے سے بھروسہ رئے گا۔۔۔”

    بابر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن اس ورلڈکپ میں جتنا نواز کا اعتماد تباہ کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ہے۔۔۔ نشان دہی ہوتی رہی کہ نواز کا مورال بہت ڈاؤن ہے۔غائب دماغ ہیں۔۔۔بھارت کے خلاف دو بہترین اوورز کے بعد ایک تیز گیند باز کا اوور بنتا تھا۔۔۔لیکن یہ بھی عدم اعتماد ہے کہ بالر کو مار پڑ جائے تو اسے دوبارہ اوور نہ دیا جائے۔۔ بالر کو بیک کرنا چاہیے۔۔۔چوتھا فاسٹ بالر دستیاب نہیں تھا لہذا نواز کو درمیان میں دوبارہ لانا چاہیے تھا۔۔

    پھر آخری اوور میں نواز سے لیفٹ آرام اسپن کی بجائے تیز باؤلنگ کرانے کی کوشش نے لائن اور لینتھ سے ہٹا دیا۔۔یوں چوتھا فاسٹ بالر نہ کھیلانے کا خمیازہ نواز نے بھگتا۔۔

    ۔زمبابوے والا میچ نواز کو فنش کرنا چاہیے تھا لیکن بھارت والے میچ نے انکا اعتماد خراب کیا اور زمبابوے والے میچ کے بعد وہ بالکل تباہ ہو گیا۔۔۔
    شاداب خان نے ناصر حسین کے ساتھ گفتگو میں واضح طور پر بتایا کہ نواز ان دو میچز سے ڈسٹرب ہے۔۔۔۔

    بابر اعظم کی کپتانی پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے بابر کی ہمیشہ سپورٹ کی ہے کہ بابر کو بطور کپتان مزید وقت دینا چاہیے کیونکہ ماضی میں ہم نے کپتان بدلنے سے بھی نتائج حاصل نہیں کیے۔۔۔۔۔

    لیکن بابراعظم کو بھی اب نئے جواز تلاشنے ہوں گے۔۔۔ ورلڈکپ اور ایشیا کپ ٹورنمنٹ کے ایک سیمی فائنل اور دو فائنل ہارنے کے بعد "ہم سیکھیں گے” کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔۔۔

    روایتی کپتانی کو چھوڑ کر پروایکٹیو ہونا پڑے گا۔۔۔یہ دیکھے بنا کہ لیفٹ آرام کو مارنے میں جو اینگل استعمال ہوں گے اس طرف باؤنڈی بڑی ہے کی بجائے دفاعی اپروچ کہ دو کھبے بلے باز ہیں تو لیفٹ آرام کو باؤلنگ نہیں دی جائے گی باوجود اس کے کہ آف اسپنر کو جہاں ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے وہ باؤنڈی چھوٹی ہے۔۔۔۔بھارت کے خلاف نواز پر چارج کرنے والے دو "دائیں ہاتھ” کے بلے باز تھے۔۔۔

    بیٹنگ میں نواز کا رول طے نہیں ہے۔۔۔ایک اوور مار پڑ جائے تو مڈل اوورز میں دوبارہ اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آخری اوور جہاں اسپنر رسک ہوتا ہے آواز دی جاتی ہے۔۔۔کھبے بیٹنگ کر رہے ہیں تو بیشک 100 کی پارٹنرشپ لگ جائے ایک اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔

    دھونی بطور کپتان ایک رول ماڈل کی حثیت رکھتے ہیں۔۔رکی پوئنٹگ بہترین کپتان رہے ہیں۔۔۔۔اس کی وجہ دونوں کے آئی سی سی ٹورنمنٹس جیتنا ہے۔۔۔ویرات کوہلی میچز جیتنے کی بہترین شرح رکھنے کے باوجود بڑے کپتانوں کی فہرست سے اسی لیے باہر ہیں کہ کریڈٹ پر کوئی ٹرافی نہیں ہے۔۔۔

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    منیجیمنٹ میں "صحیح آدمی, صحیح کام اور صحیح وقت پر” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجیمنٹ ہمیشہ اس اہم اصول کو نظر انداز کرتی آئی ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے اہم ٹورنمنٹ سر پر ہوتا ہے اور ٹیم کمبینیشن سردرد بنا ہوتا ہے۔۔۔

    کوچنگ اسٹاف ہو یا کھلاڑیوں کی سلیکشن کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے۔۔انٹرنیشنل لیول پر کوچز نہیں مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے جو ذہن سازی کرے معمولی خامیاں دور کرے۔۔۔کھلاڑیوں کی کوچنگ ڈومیسٹک لیول پر ہونی چاہیے۔۔اکیڈمیز میں کھلاڑیوں کے نقائص دور ہونے چاہیے۔۔قومی ٹیم میں نقائص سے بھرپور کھلاڑی آنا ڈومیسٹک سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔۔

    ایشیا کپ اور حالیہ انگلستان سیریز میں پاکستان ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔۔۔مڈل آرڈر کی ناکامی اس وقت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحیح مڈل آرڈر بلےباز دستیاب ہیں۔۔

    افتخار احمد اور آصف علی بطور مستند بلے باز مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔افتخار ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد قومی ٹیم میں آئے لیکن وہ انڈرپرفارم کر رہے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے ٹیم منیجیمنٹ انکو نچرل کھیل سے دور رکھے ہے۔۔۔دوسری جانب آصف علی اپنی کارکردگی سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک مستند بلے باز کی جگہ روکے محض دو اوورز کے بلے باز ہیں۔۔۔ایسا خطرہ پاکستان میں ہی لیا جاتا ہے کہ ایک مستند مڈل آرڈر بلے باز کی جگہ تین ,چار چھکوں کی آس پر دے رکھی ہے۔۔

    شاداب خان اور نواز کا بیٹنگ لائن میں کردار طے نہیں ہے۔۔دونوں باصلاحیت آلراؤنڈر ہیں جو باآسانی مڈل آرڈر میں عمدہ کردار نبھا سکتے ہیں۔۔

    ٹاپ آرڈر بیٹنگ رضوان اور بابر کی موجودگی میں مستحکم ہے۔۔البتہ ون ڈاؤن پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔۔شان مسعود, فخر زمان کی غیر موجودگی کو کیش کرنے میں ناکام رہے اور اطلاعات کے مطابق ٹیم منیجیمنٹ اور کوچ کی خواہش ہے کہ فخر زمان ٹیم میں کھیلیں۔۔۔فخر زمان پندرہ سے زائد ٹی ٹوئینٹی میچز میں ناکام ہونے کے بعد ڈراپ ہونے کی بجائے ون ڈاؤن آئے تھے۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر بھی انکی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔۔لیکن اگر وہ صحتیاب ہیں نیز کپتان انکو پلئینگ الیون کا حصہ چاہتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز میں رضوان کے ساتھ بطور اوپنر ٹرائی کر لینے میں حرج نہیں ہے۔۔۔کسی بھی ٹورنمنٹ کے دوران کمبینیشن بدلنا درست نہیں ہوتا ہے لہذا جو حتمی تبدیلیاں کرنے ہیں وہ تین ملکی سیریز میں کر لینی چاہیے۔۔۔

    شاہین شاہ آفریدی کی غیر موجودگی میں حارث رؤف نے باؤلنگ کا بوجھ اچھا اٹھایا لیکن کرکٹ ٹیم گیم ہے۔۔ایک کھلاڑی کی اچھی یا بری کارکردگی نتائج پر اثر ڈالتی ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حسنین اور وسیم جونیئر ورلڈکپ اسکوڈ کا حصہ ہیں لیکن تینوں پریشر سچوائیشن میں باؤلنگ کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔۔تینوں کی ناتجربہ کاری عیاں ہے۔۔۔یہ تین بالر اس وقت ہائی رسک ہیں۔۔ اگر مددگار کنڈیشنز مل گئی تو کارکردگی دیکھا سکتے ہیں۔۔۔اسپن باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ مجموعی طور پر اچھا ہے۔۔۔۔عماد وسیم کا اسکوڈ میں اسے اور مضبوط کر دیتا۔۔۔۔پاکستان پیس اٹیک شاہین, نسیم اور حارث کے ساتھ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔۔۔

    بدقسمتی سے اس وقت اسکواڈ میں زیادہ ورائیٹی موجود نہیں ہے۔۔ خوشدل شاہ سے باؤلنگ ہی نہیں کرانی تو انکو بطور آلراؤنڈر منتخب کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔۔وہ بنا باؤلنگ کسی کا متبادل نہیں ہیں۔۔عامر جمال کو بنام انگلستان سات میچز کھیلا کر چیک کیا جا سکتا تھا ٹیم کو اس وقت ایک تیز گیند باز آلراؤنڈر کی ضرورت ہے۔۔۔۔انگلستان کی سیریز ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں اہم تھی۔۔نیوزی لینڈ میں شیڈول تین ملکی سیریز میں اس الیون کو اترنا چاہیے تھا جس کے ساتھ ورلڈکپ کھیلا جائے گا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ کونسا کھلاڑی ,کب اور کدھر کھیلے گا۔۔۔۔

    اصولاً ٹی ٹوئینٹی اسکواڈ میں پانچ مستند بلے باز جو کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر کے نمبرز پورے کریں, چار آلراؤنڈر تیز و اسپنر,چار مستند تیز گیند باز ,دو وکٹ کیپر بلے باز ہونے چاہیے۔۔

    ٹیم پاکستان ہمیشہ Right Person, Right Job,Right Time کے اصول کے خلاف کھیلی ہے۔۔۔کبھی کبھار ملنی والی کامیابیوں نے اس اصول کو سمجھنے کی طرف کبھی راغب نہیں کیا ہے۔۔عین ممکن ہے کہ اسکواڈ میں موجود کچھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی کاوش سے ٹیم ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو جائے لیکن مارڈن ڈے کرکٹ کے اصولوں کو اپنائے بغیر تسلسل لانا مشکل ہے۔۔

  • یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔لیکن کب؟؟؟ "کب” پر ہی سارا مسئلہ کھڑا ہے۔۔کافی عرصے سے نشان دہی کی جا رہی تھی کہ ہمارا مڈل آرڈر کمزور ہے۔۔۔جو سیریز ہم نے حفیظ اور ملک کے بغیر کھیلیں اس میں دشواری آئی۔۔لہذا بار بار ملک اور حفیظ کی شمولیت ہوتی تھی۔۔ یہاں سے غلطی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔جب دونوں کے متبادل دستیاب نہیں تھے تو انکو لگاتار کھیلایا جاتا اور سیریز یا ٹورنمنٹ کے غیر اہم میچز میں ریسٹ دے کر کسی نئے کھلاڑی کو عین اس نمبر اور رول کے لیے تیار کیا جاتا۔۔

    صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں مڈل آرڈر کا ایک بھی جارحانہ اور سمجھدار بلے باز نہیں ہے۔۔۔اچھا بلے باز ہر نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن ہر کھلاڑی ایڈجسٹ کر لے ضروری نہیں ہے۔۔۔مسئلہ اوپننگ جوڑی کو چھیڑ کر بابر کو ون ڈاؤن کرنے سے بھی حل نہیں ہونا کیونکہ پہلی تین پوزیشنز ٹاپ آرڈر کی ہیں۔۔۔ہمارا اصل سر درد مڈل آرڈر ہے۔۔۔اس سردرد میں کچھ حصہ غیر معیاری سلیکشن,کچھ حصہ کھلاڑیوں کی غیر ذمہ داری, اور باقی حصہ بیٹنگ آرڈر مس منیجمنٹ کا ہے۔۔۔

    انگلستان کی طرف سے ہر میچ میں مڈل آرڈر نے پرفارم کیا۔۔بھارت کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی میں ساؤتھ افریقین مڈل آرڈر نے بتا دیا رنز کا تعاقب کیسے کیا جاتا ہے۔۔سری لنکا کو ایشین چمئین بنانے میں 50 فیصد حصہ مڈل آرڈر کا رہا۔۔۔سوریا کمار کی مثالیں دی جا رہی ہیں تو سوریا کمار بھی نمبر چار پر آ کر بلے بازی کرتے ہیں۔۔بلکہ سوریا, دنیش کارتک اور پانڈیا تینوں مڈل آرڈر میں پرفارمنسز دے رہے ہیں۔۔

    بابر کی کپتانی کبھی بہترین اور کبھی انتہائی بدترین درمیانی راہ نہیں ہے۔۔۔فائنل کا درجہ لیے میچ میں آؤٹ آف فارم خوشدل کو حیدر کی جگہ لانے کی سوچ سمجھ سے باہر تھی۔۔۔حیدر اور خوشدل دونوں ہی مسلسل ناکام جا رہے تھے لیکن فیصلہ کن میچ میں آپ اسی کھلاڑی کے ساتھ جائیں گے جو پہلے سے کھیل تھا اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر کھیلا تھا۔۔

    خوشدل کے لیے پرچی کے نعرے لگے جو کہ تکلیف دہ تھے۔۔۔ہوم کراؤڈ اگر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر خوشیاں منائے تو وہ زناٹے دار طمانچہ ٹیم منیجمنٹ کے منہہ پر ہے۔۔۔۔قصور ٹیم منیجمنٹ کا ہے جس نے آؤٹ آف فارم ڈراپ کھلاڑی کو فیصلہ کن میچ میں کھیلایا اور پھر 200 کے تعاقب میں نمبر چار پر اتار دیا جبکہ محمد نواز دستیاب تھے۔۔۔

    آصف علی کا ٹیلینٹ دو درجن گیندوں تک محدود ہو گیا ہے۔۔۔آخری اوورز میں باری آئے تو کچھ چھکے لگنے کے چانسز ہیں اگر باری 12ویں اوور تک آ گئی تو میچ کی صورتحال سے قطع نظر وہ اننگز نہیں جما پاتے ہیں حالانکہ وہ بطور "مستند بلے باز” کھیلتے ہیں۔۔
    شان مسعود جس فارم کو لے کر ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ کھو چکی ہے۔۔۔افتخار احمد پر شاید ٹیم منیجمنٹ کی ہدایات کا اثر ہے۔۔شاداب اور نواز کا بیٹنگ میں کیا رول ہے اس کا اللہ کے سوا ٹیم منیجمنٹ کو پتہ ہے۔۔۔۔دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم منیجمنٹ ضائع کر رہی ہے۔۔۔۔

    فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ بھی شاہین اور حارث نکال کر تشویشناک ہے۔۔۔شاہین انجری سے واپس آئیں گے ان پر دباؤ ہو گا۔۔نسیم شاہ بھی واپسی کریں گے۔۔۔۔وسیم جونیئر, حسنین اور دھانی وہ اسلحہ ہیں جو ملک اور دشمن کے لیے بیک وقت خطرہ ہے کسی طرف بھی چل سکتے ہیں۔۔

    اگر انہی چراغوں سے روشنی کرنی ہے تو ہر بلے باز کو ایک مستقل نمبر اور رول دیں۔۔۔ٹاپ یا مڈل آرڈر کے مستند بلے باز بہتر کھیلیں تو آخری اوورز میں زیادہ چھکوں کی آس نہیں رہتی ہے۔۔۔ البتہ کسی غیر معمولی صورتحال میں بیٹنگ آرڈر ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔۔

    اس سیریز میں نہ تو کھلاڑی ذمہ داری لینے کے موڈ میں لگے نہ ہی ٹیم منیجمنٹ کا کوئی پلان نظر آیا۔۔۔کسی کھلاڑی نے کوشش نہیں کی کہ مثبت ذہن سے کھیلے اور کسی مسئلے کا حل ثابت ہو۔۔

    نیوزی لینڈ میں شیڈول سیریز کے بعد ورلڈکپ میں جانا ہے۔۔۔اس سیریز میں مسئلے حل نہ ہوئے تو ورلڈکپ میں ہمیں فرشتوں کی مدد درکار ہو گی جو کم از کم ہمیں کیچز ہی پکڑ دیں باقی گزارا ایک دو کھلاڑیوں کے چلنے سے ہو جائے گا۔۔

  • پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    وکرانت گپتا اور بہت سے بھارتی یو ٹیوبرز نے محمد رضوان کے ایک بیان کو بہت پسند کیا۔۔۔رضوان نے کہا تھا کہ۔۔!

    ” اللہ محنت اور ایمانداری کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہمیں فتح دے دیں۔۔۔اگر حریف ٹیم ہم سے زیادہ محنت کرے گی تو وہ فتح پائے گی۔۔۔”

    اپنے دین کی اس سے خوبصورت خدمت نہیں ہوسکتی کہ آپ اپنے خالق کو "انصاف کرنے والا” قرار دیں۔۔۔اس ایک جملے میں دین اسلام کی روح ہے۔۔۔۔

    ایک صاحب محمد رضوان کے شدید ناقد ہیں۔ انکی تنقید مجھے ہمیشہ غیر منطقی لگی۔۔ یوں لگا جیسے رضوان سے کھیل کی بجائے کوئی ذاتی مسئلہ ہو۔۔۔پھر وہ کھل ہی گئے۔۔۔۔فرما ہی دیا کہ مسئلہ رضوان کے دین پسند ہونے سے ہے۔۔۔۔کرکٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے موصوف کو رضوان کے "مولانا پن” پر اعتراض ہے۔۔۔اور یہ صرف ایک شخص کی رائے نہیں اور بھی لوگ ایسے اعتراضات رکھتے ہیں۔۔۔

    رضوان اگر کرتا شلوار, سر پر ہیلمنٹ کی بجائے سفید ٹوپی اور ہاتھ میں بلے اور ستانے کی جگہ تسبیح تھامے کھیلنے آتے ہیں تو مسئلہ سمجھ بھی آتا۔۔۔یا میچ روک کر رضوان گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو اکھٹا کر کے صحیح احادیث سناتے تو بھی اعتراض درست ہوتا۔۔۔

    عین آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہوئے انکے دین پسند ہونے پر اعتراض ہے کہ اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں,نماز کیوں پڑھتے ہیں۔۔خواتین سے فاصلہ کیوں رکھتے ہیں۔۔۔یہ ہی اعتراضات ہیں نا اس کے علاوہ کیا ہیں۔۔؟

    اگر کوئی شخصیت عوامی مقام پر شراب نوشی یا دیگر اخلاق باختہ حرکات کرتی نظر آ جائے تو یہی طبقہ اسے ذاتی چوائس کا نام دیتا ہے۔۔معاشرے کو گھٹن زدہ قرار دیتا ہے۔۔۔۔شخصی آزادی کی بات ہوتی ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی معاملہ دین سے جڑتا ہے شخصی آزادی ہوا ہو جاتی ہے حالانکہ دینی معاملات صرف شخصی نہیں اجتماعی بھی ہیں۔۔۔

    شخصی آزادی اچھی سوچ ہے لیکن پھر سب کو بلاتفریق یہ آزادی دیں۔۔۔

  • پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    آخری میچ پر ایک رائے ہے کہ پاکستان اچھا نہیں کھیلا لہذا اس جیت کو جیت نہ سمجھا جائے۔۔۔کل پہلی اننگز پر میری بھی یہ رائے ہے کہ بیٹنگ آرڈر کو درست استعمال نہیں کیا گیا۔۔

    پچ قدرے سلو تھی, انگلستانی بالرز نے باؤلنگ بھی بہت اچھی کی,ریورس سوئنگ کا بھی استعمال کیا۔۔لیکن اس کے باوجود ٹیم منیجمنٹ نے دو غلطیاں کیں۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر آصف علی یا محمد نواز کو استعمال کرنا چاہیے تھا۔۔۔آصف علی کا دوسرا اچھا استعمال بھی ضائع کیا جب خوشدل کی جگہ انکو بھیجا جا سکتا تھا۔۔۔۔

    سلو پچ پر بال کو ٹائم کرنے والے بلے باز مشکلات کا شکار رہتے ہیں لہذا دوسرے اینڈ سے پاور کا استعمال کرنے والے بلے بازوں سے لگاتار چانس لیا جاتا تاکہ چار پانچ وکٹس گر بھی جاتی تو شاید بیس سے تیس رنز زیادہ بن جاتے۔۔۔
    نوجوان بالرز کا لائن لینتھ سے زیادہ رفتار پر فوکس, آخری اوورز میں ورائیٹی سے بال نہ کرانا نیز ہر میچ میں ایک اہم ڈراپ کیچ بھی ٹیم پاکستان کا سر درد ہے۔۔۔

    لیکن ان غلطیوں کے باوجود کچھ مثبت فیکٹر بھی سامنے آئے۔۔ورلڈکپ سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کونسا کھلاڑی کتنا موثر ہے۔۔۔یہ سیریز کبینیشن طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ہمیں اچھا ٹیم کمبینیشن مل گیا تو یہ ہی اس سیریز کا نتیجہ ہو گا۔۔۔ نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز اور ورلڈکپ پریکٹس میچز کمبینیشن کو کنڈیشن سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کریں گے۔۔۔۔

    افتخار احمد نے پریشر صورتحال میں اچھی باؤلنگ کرا کر ثابت کیا کہ افتخار ایک سمارٹ بالر ہے ۔۔ایشیا کپ فائنل میں بھی افتخار نے اچھی باؤلنگ کی تھی۔۔۔محمد نواز کو استعمال نہ کرنا بہرحال غلط فیصلہ تھا۔۔۔دونوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔اور کل یہ ایک اچھا آپشن ملا ہے۔۔۔۔

    حارث رؤف نے ثابت کیا کہ ایک دلیر بالر خراب بال یا اچھی بال پر باؤنڈی کھا کر ہتھیار نہیں پھینکتا ہے۔۔۔بیشک دو رنز رہ جائیں فائیٹ ضرور کرنی چاہیے۔۔بلے باز چڑھائی کرے تو ذہانت سے ہرایا جا سکتا ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی اور محمد حسنین کے سیکھنے کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے۔۔۔نسیم شاہ کو بھی جہاں سوئنگ نہ ملے مشکلات شکار رہتے ہیں۔۔ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں ایک اچھے بالر کو ہر طرح کی ورائیٹی درکار ہے تاکہ اسکی کمزوری حریف کی طاقت نہ بن سکے۔۔۔

    بابر اعظم کے لیے یہ سبق ہے کہ کرکٹ کو ناک سیدھ میں چلانے کی بجائے بعض دفعہ دلیری سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔۔۔پہلی اننگز میں بیٹنگ آرڈر کی جو غلطی کی فیلڈ میں وہ نہیں دہرائی۔۔۔افتخار اور نواز نے اچھی باؤلنگ کی تو عثمان قادر کی بجائے دونوں کے ساتھ کنٹینیو کیا۔۔

    ماضی میں پاکستانی بالرز فلیٹ پچز پر رنز روکتے رہے ہیں۔۔۔کرکٹ کا حسن اسی میں ہے کہ مقابلے کا توازن جاری رہے۔۔۔فلیٹ پچز پر ٹاس جیتو میچ جیتو تھیوری ناکام ہونی چاہیے۔۔۔فیلڈنگ ٹیم کو کم رنز پر بھی جان لڑانی چاہیے اور کل کی فتح اس حوالے سے مورال بلند کرے گی۔۔۔

  • آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ دیکھیں تو دس میں سے شاید سات پوزیشنز اسپنرز کے پاس ہیں۔۔۔وہ وقت کب کا ختم ہو چکا جب اسپنرز ٹی ٹوئینٹی میں غیر موثر سمجھے جاتے تھے۔۔۔اسپنرز کی اہمیت تسلیم ہوئی اور اب وہ وقت ہے کہ اچھا اسپنرز کسی بھی کپتان کے لیے اہم ترین ہتھیار ہے۔۔۔پاور پلے میں اسپنرز رنز روک رہے ہیں, وکٹس لے رہے ہیں۔۔۔

    پاکستان نے ہمیشہ بہترین اسپنرز اور اسپنرز کو کھیلنے والے بہترین بلے باز پیدا کیے ہیں لیکن مڈل آرڈر کا اسپنرز کے سامنے لگاتار ایکسپوز ہونا تشویشناک ہے۔۔

    شاید اسکی وجہ مڈل آرڈر میں ٹیلینٹ کا فقدان ہے۔۔۔مڈل آرڈر میں بہت زیادہ چوائسز نہیں ہیں۔۔۔کئی اسپنرز باؤلنگ کا آغاز بھی کرتے ہیں لیکن پرانے بال کے ساتھ پچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنا مڈل آرڈر میں ہی بہتر آتا ہے۔۔۔اور ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں بھی اب دیکھا جاتا ہے کہ سلو پچز پر دس اوور بعد ہی بال رک کر بلے پر آتا ہے۔۔

    ڈومیسٹک اور پی ایس ایل میں ٹاپ بلے باز پہلی دو پوزیشنز پر ہی سامنے آ رہے ہیں۔۔ایسا لگ ریا ہے کہ سب کو ہی اوپنر بننا ہے۔۔۔۔مڈل آرڈر میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔۔۔جو چند اچھے بلے باز ہیں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔۔

    سبھی اوپنرز بیک وقت اوپننگ نہیں کر سکتے ہیں پھر پوزیشن ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے جیسے شان مسعود اور حیدر علی کی ہوئی ہے۔۔۔۔ اب انکو اتنے میچز ضرور دینے ہوں گے جس کے بعد پرفارمنس کا جائزہ لیا جا سکے۔۔۔امید اور دعا ہے کہ دونوں ہی حل ثابت ہوں۔۔۔

    اچھا بلے باز ٹی ٹوئینٹی میں کسی بھی نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن وہ اچھا بلے باز ہر کوئی نہیں ہوتا ہے۔۔۔نمبر تین, چار اہم پوزیشن ہے۔۔

    لوئر آرڈر میں ہٹر بھی چاہیے لیکن یہ شرط نہیں ہونی چاہیے کہ ان ہٹرز کو دو اوورز سے پہلے نہ آنے دیا جائے۔۔۔ایسی شرطیں گلی محلے کے کھیل میں اچھی لگتی ہیں۔۔۔اچھے لوئر آرڈر بلے باز کا کام ہے کہ میچ کو بنائے اگر بنا ہوا ملا ہے تو فنش کرے۔۔۔۔

    دو سال پہلے اوپننگ پوزیشن سر درد تھی تو اب مڈل آرڈر ہے۔۔کیا اس وقت ایک کامیاب جوڑی کو ڈسٹرب کرنے کا رسک لینا چاہیے۔۔۔؟؟

    یعنی بابر یا رضوان میں سے ایک ون ڈاؤن آئے۔۔۔میرے خیال سے کامیاب اوپننگ جوڑی کو ڈسٹرب کیے بنا مڈل آرڈر کا حل نکالنا چاہیے تاکہ اگر ٹاپ آرڈر فیل ہو تو میچ سنبھالا جا سکے۔۔۔۔۔شعیب ملک, سرفراز احمد اور حارث سہیل کو مڈل آرڈر میں کردار دیے جا سکتے تھے۔۔۔حارث سہیل کی واپسی کے بابت غیر مصدقہ اطلاعات تو ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔۔۔

  • برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ کے شہر Leicester میں ہندو مسلم فسادات کی لہر چل رہی ہے۔۔۔مبینہ طور پر فسادات کا آغاز 28 اگست کو ہونے والے پاک بھارت مقابلے سے ہوا۔۔۔۔برطانوی حکومت بھی شاید پوری طرح انجوائے کر کے حالات قابو کرے گی۔۔۔

    میں بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی اس وحشیانہ سوچ کی مخالف ہوں جس کے تحت پاک بھارت مقابلوں کو بزنس اور میڈیا جنگ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔۔۔۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کھلاڑی اس گھٹیا سوچ سے تنگ باہمی محبت کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔

    سادہ اصول ہے۔۔بھارت کو اگر پاک بھارت مقابلوں سے پیسہ کمانا ہے تو باہمی سیریز کرائے۔۔پاک بھات میچز رکھنے کے لیے ٹورنمنٹس کا فارمیٹ خراب کرتے ہیں۔۔غیر منصافانہ گروپس بنائے جاتے ہیں۔۔۔یہ تو وہ زیادتی ہے جو کھیل کے ساتھ کی جا رہی ہے۔۔۔

    دوسری زیادتی پاک بھارت میچ کو جنگ کی صورت پیش کرکے ہائپ کریٹ کرنا ہے۔۔اور اس خباثت میں 100 فیصد ہاتھ بھارتی حکومت اور میڈیا کا ہے۔۔۔پھر اگر ایک جانب سے لگاتار اشتعال ہو تو ردعمل فطری ہے۔۔۔مودی حکومت ہندو مسلم خلیج کو بہت بڑھا چکی ہے۔۔۔مودی حکومت میں "مذہب” اہم ترین فیکٹر بن چکا ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے پاک بھارت مقابلوں میں مذہب بھی ٹرولنگ کا موضوع بن گیا ہے۔۔۔

    پاک بھارت ورلڈکپ 2021 میچ کے بعد شیخ رشید نے جو بیان دیا اسکو کسی نے سپورٹ نہیں کیا تھا۔۔لیکن کیا شیخ رشید کا بیان نکال دیں تو سب امن ہے۔۔؟آغاز کہاں سے ہوا ہے اور اسے لگاتار ہوا کون دے رہا ہے۔۔؟

    سوشل میڈیا پر پاک بھارت میچ سے پہلے اور بعد میں انتہا پسند بھارتیوں کا لب و لہجہ انتہائی گستاخانہ ہوتا ہے۔۔۔باقاعدہ گینگ کی صورت تبصرے کرتے ہیں۔۔ٹرینڈز بناتے ہیں۔۔۔۔مذہب کو ملوث کرنا انکے نزدیک عام بات ہے۔۔۔اِس قسم کے تبصرے ہوتے ہیں کہ خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔

    جینٹلمین گیم اب باقاعدہ فساد کا باعث ہے۔۔۔دونوں ملکوں کی سمجھدار عوام کو چاہیے طاقتوروں کے ہاتھوں میں دوبارہ نہ کھیلیں۔۔۔تقسیم برصغیر سے بھی اگر سبق نہیں لیا تو کیا فائدہ۔۔۔۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔