Baaghi TV

Tag: سیدرا صدف

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔

    اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
    یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔

    اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔

    باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔

    سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔

    ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔

  • آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    سابق کھلاڑیوں نے بھی میدان پر برا دن گزارا ہے۔۔۔ وسیم, وقار,شعیب, انضمام اور حفیظ وغیرہ کی پرفارمنسزز بھی پاکستان کی شکست کا باعث بنتی رہی ہیں۔۔۔

    ریٹائرڈ ہونے کے بعد کھلاڑی بھول جاتا ہے کہ میدان میں برا دن اس پر بھی آیا تھا۔۔۔۔۔تنقید کوئی عام انسان کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن کچھ سابق کھلاڑیوں کی اپنے خراب دن بھلا کر موجودہ کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید افسوسناک ہے۔۔۔۔

    چند میچز یاد کریں تو پاک بھارت ٹی ٹوئینٹی میچ 2012 اور 2014 میں محمد حفیظ نے بطور کپتان بالترتیب 53 اور 68 کے اسٹرائیک ریٹ سے دونوں مقابلوں میں 15 اسکور کیا تھا۔۔۔۔دونوں میچز میں ٹیم پاکستان کو انتہائی شرمناک یکطرفہ شکست ہوئی تھی۔۔۔

    1996 اور 1999 ورلڈکپ میں سپر اسٹار کھلاڑیوں سے بھری ٹیم ناک آؤٹ مقابلے ہار گئی تھی۔۔بھارت سے شکست ہوئی تھی۔۔۔ورلڈکپ 2003 میں ٹورنمنٹ کا بہترین باؤلنگ یونٹ خراب باؤلنگ اور فیلڈنگ سے بھارت کے خلاف 273 کا دفاع نہ کر سکا تھا۔۔۔بہترین پاکستان ٹیم ورلڈکپ مقابلوں میں بنگلہ دیش اور ائرلینڈ سے ہاری ہے۔۔

    پاکستان بھارت سے پچاس اوور ورلڈکپ کے سات جبکہ 20 اوورز ورلڈکپ کے ایک ٹائی سمیت چار مقابلے ہارا ہے۔۔ورلڈکپ مقابلوں کی مجموعی پرفارمنس دیکھیں تو پاکستان ایک بار چمپیئن جبکہ سات بار ناک آؤٹ مقابلے میں باہر ہوا۔۔۔۔

    ایشیا کپ ٹورنمنٹ میں صرف 2010 سے 2018 تک پاکستان بھارت سے پانچ مقابلے ہارا جبکہ ایک فتح آفریدی کے یادگار چھکوں نے ہماری جھولی میں ڈالی۔۔ ایشیا کپ ہم صرف دو بار ہی جیت سکے جبکہ ہمارے ٹیم میں نامی گرامی کھلاڑی ہوتے تھے۔۔۔

    موجودی کھلاڑیوں نے ایک سال میں بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تین مقابلے کیے اور دو جیتے ہیں۔۔۔بابراعظم وہ پہلے پاکستانی کپتان جنکی قیادت میں ٹیم نے بھارت کو ٹی ٹوئینٹی ورلڈکپ مقابلے میں شکست دی۔۔۔۔۔ایشیا کپ کے دونوں میچز لڑ کر کھیلے۔۔۔۔۔

    پاکستان نے 2017 میں بھارت کو ہرا کر چمپئنز ٹرافی ضرور جیتی تھی لیکن اسکے بعد پاکستان بھارت سے ایشیا اور ورلڈکپ کے تین مقابلے یکطرفہ ہار گیا تھا۔۔۔فائیٹ ہی نظر نہیں آئی۔۔۔

    بابر اور اس ٹیم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔۔۔غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہے۔۔۔۔ٹیم سلیکشن میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنی ہے۔۔۔
    لیکن ہم تجربہ کار کھلاڑیوں اور کپتانوں کے ہوتے بھی شکست دیکھ چکے ہیں۔۔حالانکہ تب شکست کی وجوہات زیادہ سنگین تھیں۔۔۔میچ فکسنگ, گروپنگ, کپتانی کے جھگڑے وغیرہ۔۔۔یہ ٹیم خراب کھیل کر ہاری ہے۔۔۔۔غلط سلیکشن کا نتیجہ بھگتا ہے۔۔۔کپتان,کوچ اور کھلاڑیوں کو بھی پتہ ہے۔۔۔تھوڑا وقت دینا چاہیے۔۔۔اگر غلطیاں دہرائی جاتی ہیں تو تنقید جائز ہو گی۔۔۔باقی پسندیدگی پر مبنی سلیکشن بھی سابق کھلاڑیوں کا دیا ہوا کلچر ہے۔۔مجھے امید ہے جلد ختم ہو جائے گا۔۔۔

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔