Baaghi TV

Tag: سیلاب زدگان

  • سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی

    سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں سیلاب سے تباہی مچی ہوئی ہے

    سیلابی پانی میں شہری محصور ہو چکے، گھر تباہ ہو چکے، مویشی مر چکے، گھروں کا سامان بہہ گیا، سیلابی علاقوں میں لوگ کھانے پینے کو ترس گئے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،حکومت ، پاک فوج، رفاہی ادارے سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک یہ مدد کچھ بھی نہیں، انسانی زندگیوں کو محفوظ کرنا ہے، انکے املاک کو بچانا ہے

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے آپٹیکل فائبر کیبل کو پہنچنے والے نقصان اور بجلی کی بندش سے چترال، اپر دیر، دونبالا، سوات، مدین، لال قلعہ ثمربغدیر، ٹانک اور ڈی آئی خان میں رابطہ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سروسز کی مکمل بحالی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

    ہرنائی، کیچ کے مقام پر پل ٹوٹنے سے کوئٹہ زیارت روڈ بند ہو گیا ہے، ہرنائی ٹو کوئٹہ شاہراہ مانگی اور زردآلو پل ٹوٹنے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چیئر لفٹ پر پہاڑی تودا گرنے سے راستہ بند ہوا،ہرنائی پنچاب شاہراہ بھی سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہے

    میانوالی سے سکھر تک دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے، دریائے سندھ کے قریب رہنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم جاری کردیا گیا ہے، میانوالی،لیہ،تونسہ،راجن پور،روجھان،رحیم یار خان، خان پور کو بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، پورے ضلع رحیم یار خان کو سیلاب سے متاثر ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، ضلع میں صادق آباد،رحیم یار خان،خان پور،لیاقت پور،اور دیگر مضافاتی علاقے شامل ہیں

    دوسری جانب نوشہرہ ،پولیس لائن کے قریب پانی مین جی ٹی روڈ تک پہنچ گیا پولیس لائن کے قریب آبادی اور ہوٹل زیر آب آگئے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے کابل میں پانی کے سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مختلف علاقوں سے دریائے کابل کے کنارے متاثرین کی نقل مکانی جاری ہے

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی نیشنل پریس کلب میں پاکستان سویٹ ہوم اور پی ایف یو جے کے مشترکہ فلڈ ریلیف کیمپ میں آمد۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ بھی چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ تھے۔ امدادی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورت حال کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسطرح کے سیلاب اور بارشوں سے کوئی بھی حکومت اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ساری قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے چاروں صوبائی حکومتوں کی کوششوں کو سراہا۔ انکا کہنا تھا کہ فوری امدادی کاموں کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی اصل مرحلہ ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے امدادی کیمپ میں مدعو کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کو اس وقت اسطرح کی مزید کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امداد کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کے حضور جُھک کر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ پاک ہماری غلطی کوتاہیاں معاف فرمائے اور متاثرین کی مشکلات میں کمی فرمائے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سرگرمیوں شروع کر دی گئی ہے ،ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سبی اوردیگر اضلاع میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد راشن پہنچا دیا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی مسلسل جاری رہے گی،مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے کوئٹہ میں میاں غنڈی کا دورہ کیا مشیر داخلہ بلوچستان نے میاں غنڈی کے متاثرین سیلاب سے ملاقات کی اور کہا کہ سڑکوں اور شاہراوں کو بند کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،پورا پاکستان سیلاب سے متاثر ہے،یہ کسی ایک علاقے کی بات نہیں،مکینوں کی بحالی کےلیے جلد ازجلد اقدامات کیے جائیں گے

    30 جون 2022 سے 26 اگست 2022 کے درمیان سیلاب اور بارشوں کے باعث گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں 14 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوئے ہیں گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں مختلف قدرتی آفات سے 4 ارب روپے سے زائد مالیت کی عوامی املاک تباہ ہوئی ہیں اس میں 383 مکمل طور پر تباہ شدہ گھر اور257 جزوی طور پر تباہ شدہ “پکے” گھر شامل ہیں 52 پل بھی تباہ ہوئے ہیں جس سے 360 ملین روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ان تباہ شدہ پلوں میں سے 43 کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے سرکاری تخمینے کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران گلگت بلتستان کو 7 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں نے متاثرین کی بحالی کے لئے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں ہیں اور اب تک 62 ونٹرائزذ ٹینٹس، 769 ٹینٹس، 666 راشن بیگز، 326 کمبل، 162 رضائیاں، 422 فوم میٹریس، 419 سرانے، 690 پلاسٹک میٹس، 360 گیبنز، 126 ترپال، 50 سینڈ بیگز، 59 سلیپنگ بیگز، 1 جنریٹر(3.5 کلوواٹ)، 1 واٹر ٹینک، 4 پورٹیبل واش رومز متاثرہ خاندانوں اورعلاقوں کو مہیا کردیئے گئے ہیں

    ٹھٹہ پولیس نے دريا سندھ جرار بیلے میں پھنسے مزید 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ایس ایس پی ٹھٹہ عدیل حسین چانڈیو کی ہدایات پر ٹھٹہ پولیس کی جانب سے حالیہ بارشوں میں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے، ایس ایچ او کینجھر سب انسپیکٹر بشیر احمد ملاح بمعہ اسٹاف نے رات کے وقت دریا سندھ جروار سونڈا بیلے میں پھنسے ہوئے چانگ اور ملاح قوم کے 40/50 فیملیز کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کرکے نکالا گیا تھا اس کے علاوہ ولیج انور ملاح جرار بیلے میں پھنسے ہوئے مزید 17 فیملیز جن میں 50 سے زائد بوڑھے، عورتیں، بچے شامل ہیں جن کو سیلاب ریسکیو کرکے نکالا گیا ہے مزید ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے ایس ایس پیب ٹھٹہ نے کہا کہ پولیس عوام کی خدمت اور قانون کی عملداری کیلئے ہر وقت تیار اور پر عزم ہے، ٹھٹہ پولیس کہ افسران اور اہلکار متاثرہ علاقوں میں موقع پر موجود ہیں ، اس کے علاوہ کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے،

    صدرپیپلزپارٹی خیبرپختونخوا نجم الدین کا کہنا ہے کہ وادی کمراٹ دیر میں 18سیاح پھنسے ہوئے ہیں،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے سیاحوں کو مقامی لوگوں نے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو مقامی لوگ نہیں نکال پا رہے وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی نکالنا ممکن ہے،ہم صوبائی حکومت اور اداروں سے متعدد بار ہیلی کاپٹر کی درخواست کر چکے وفاقی یا صوبائی حکومت جلد از جلد سیاحوں کو نکالے ورنہ کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بارشوں او رسیلاب سے ملک بھر میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں ہم سب کو ایک ہو کر متاثرین سیلاب کی زندگیاں بچانے پر توجہ دینی چاہیے سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی،سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے حکومتی ،فوجی ، ملکی اور مقامی رضاکار واہلکار سرگرم ہیں میڈیا والے سیلاب کی اپیلیں چلا رہے ہیں جو قابل تعریف ہے

    دوسری جانب وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے اعلان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ خاندانوں میں 25 ہزار روپے کی نقد رقم تقسیم کی جارہی ہے اور ضلع کوہلو کے 4904 مستحق خاندانوں میں رقم کی تقسیم کا عمل جاری ہے

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے صوبائی وزیر مال نوابزادہ منصور علی خان کی ملاقات ہوئی ہے، نوابزادہ منصور علی خان نے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے چیک دیا .وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مالی امداد کے چیک پر نوابزادہ منصور علی خان کا شکریہ ادا کیا ,وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے جذبے کو سراہا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے آگے آنا عبادت سے کم نہیں۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یقین ہے کہ قوم متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری کے کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی صاحب ثروت افراد کی دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد میں پیش پیش ہوں حکومت پنجاب متاثرین کی مدد کے لئے تمام ممکنہ وسائل مہیا کررہی ہے۔ پنجاب حکومت کی سیاسی و انتظامی ٹیم ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔جنوبی پنجاب میں غیر معمولی بارشوں و سیلاب سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ تباہ کاریوں کوالفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت اختلافات بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے۔ اصل سیاست اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے ۔

    قبل ازیں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب پولیس کے جوان الرٹ اورامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں پولیس متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہی ہیں۔آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کے حکم پر تمام سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس کی امدادی ٹیمیں متحرک ہیں، جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کی سیلابی صورتحال اور امدادی سر گرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، آئی جی پنجاب کے حکم پر دریائے سندھ میں سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، اٹک، میانوالی ، بھکر ، لیہ، مظفرگڑھ ، رحیم یار خان اور ڈی جی خان ریجن کے علاقوں میں پنجاب پولیس کی امدادی ٹیمی تعینات ہیں،پولیس کی اضافی نفری رود کوہیوں کے راستوں ،نشیبی علاقوں اور کچہ میں بھی تعینات ہیں،

    ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ریجن میں پولیس ٹیموں نے اب تک سیلابی پانی میں گھرے 13 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے پولیس ٹیموں نے 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا ہے ۔ سیلاب زدگان میں 15 ہزار سے زائد امدادی سامان کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں ۔ریجن کی تمام دریائی چوکیاں ہائی الرٹ ہیں اور کشتیوں کے ذریعے بھی گشت جاری ہے ۔پولیس دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں موجود آبادیوں کو مطلع کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔پولیس دیگر اداروں کے ہمراہ ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں پولیس اپنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر اور عمران خان کے چیف آف سٹاف سینیٹر شبلی فراز صاحب سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کہا کہ میری طرف سے عمران خان سے درخواست کریں کہ سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کریں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔سب کام چھوڑ کر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں کی دوبارہ بحالی کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، خوارک اور ادویات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصان کا ازالہ کریں گے اور مکانات دوبارہ بنا کر دیں گے۔ سیلاب سے متاثرین کی بحالی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج ولاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی امداد اور ریلیف سرگرمیوں کے لئے 6رکنی کمیٹی قائم کر دی جو مخیر حضرات سے متاثرین سیلاب کی فوری امداد و بحالی کے لئے نقد رقوم کے علاوہ راشن، خوراک، ادویات، کپڑے کی مد میں بھی عطیات وصول کرے گی اور اس حوالے سے فوری طور پر کام شروع کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے گی۔پروفیسر الفرید ظفر نے پی جی ایم آئی سے فارغ التحصیل بیرون ملک خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹرز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی طور پر آگے آئیں اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی عملی مدد کریں۔انہوں نے شہریوں اور میڈیکل کمیونٹی سے درخواست کی کہ پی جی ایم آئی کی تشکیل کردہ اس ریلیف کمیٹی کو دل کھول کر عطیات دیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے یقین دلایا کہ اس مد میں وصول ہونے والی ایک ایک پائی کو دیانتداری کے ساتھ متاثرین کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا لہذا وہ کھلے دل کے ساتھ دکھی انسانیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر محمد حنیف میاں اس ریلیف فنڈکمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ڈاکٹر محمد عرفان ملک، ڈاکٹر رضوان فاروق، ڈاکٹر عمران حیات،ڈاکٹر جہانزیب عقیل اور ڈاکٹر احمد فراز اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی اترنے کے بعد وبائی امراض،جلد و پیٹ کی بیماریاں، ملیریا، ٹائیفائیڈ پھیلنے کے امکانات ہیں جس کے کیلئے میڈیکل کمیونٹی کو ابھی سے تیار رہنا ہوگا اور متعلقہ اداروں کو بھی ان بیماریوں سے بچاؤ اور مریضوں کے بہتر علاج کیلئے ضروری انتظامات کو عملی شکل دینا ہوگی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ ان حالات میں ہم سب کو اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

  • ہیلی کاپٹرجاتے ہیں پھر واپس آجاتے ہیں،پریشان ہیں کہ پانی کہاں نکالیں ،شیری رحمان

    ہیلی کاپٹرجاتے ہیں پھر واپس آجاتے ہیں،پریشان ہیں کہ پانی کہاں نکالیں ،شیری رحمان

    چیئرپرسن نزہت پٹھان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا

    نزہت پٹھان نے کہا کہ کہا جاتا ہے وزارت موسمیاتی تبدیلی بادل روک بھی سکتی ہے اور برسا بھی سکتی ہے ،سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی آصف حیدر شاہ نے قائمہ کمیٹی کے شرکا کو بریفنگ دی اور کہا کہ ہماری وزارت کے کئی نام تبدیل کیے گئے پاکستان کی قیادت میں ماحولیات کے حوالے سے 134 ممالک کام کر رہے ہیں ماحولیات کو خراب کرنے میں گرین ہاوس اور دوسری گیسز شامل ہیں کوئلہ جلانے ،گاڑیوں کے دھویں سمیت کئی گیسز ماحولیات پر بہت اثر ڈال رہا ہے بڑhتی ہوئی آبادی بھی ماحول پر اثرانداز ہورہی ہے ،1970میں گرین گیسز 28 بلین ٹن ہوتی تھی اس وقت 60 بلین ٹن سالانہ تک یہ گیسز پہنچ چکی ہیں،

    مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ مارگلہ ہلز اور خان پور ڈیم میں کرشنگ پلانٹ لگائے گئے ہیں، مارگلہ کی پہاڑیوں کو کاٹا جارہا ہے ،انسپکٹر جنرل فاریسٹ غلام قادر شاہ نے کہا کہ اس وقت تک 31 کرش پلانٹ کام کر رہے ہیں ،31کرش پلانٹ میں سے 11 رجسٹرڈ اورباقی غیر قانونی ہیں ،ہم نے کئی کرش پلانٹ بند کیے ہیں پانچ کرشنگ پلانٹ کے سپریم کورٹ میں کیس بھی چل رہے ہیں ، مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ غیر قانونی کرشنگ پلانٹ میں افغانی مافیا کا پورا گینگ ملوث ہے اسمبلی تک ہم نے آواز اٹھائی کرشنگ سے بچوں کی قوت سماعت 30 فیصد متاثر ہوئی ،لوگ دو سال سے احتجاج کر رہے ہیں بارشوں سے خانپور ڈیم میں کرشنگ کا گند جارہا ہے خانپورڈیم کا پانی اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگ پی رہے ہیں ،افغانیوں کو صوبائی حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی چیف سیکریٹری کے کہنے پر 30 دن وہ کرشنگ روکی گئی بارشوں سے 10سال میں جو نقصان نہ ہوا وہ اس2 ماہ میں ہوگیا ،نزہت ہٹھان نے کہا کہ کرشنگ سے کینسر،قوت سماعت سے محرومی اور نکھوں سمیت کئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں چیئرپرسن کمیٹی نزہت پٹھان نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری کو طلب کر لیا اور کہا کہ آئندہ میٹنگ اسی علاقے میں کرینگے کمیٹی چیئرپرسن نزہت پٹھان نے واٹر رسورس منسٹری کو بھی اگلی میٹنگ میں طلب کر لیا

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا ہوا ہے ،بارشوں میں کمی نظر نہیں آرہی،سندھ کے 30 ڈسٹرکٹ ڈوب چکے ہیں کمیٹی کو نوٹس لینا چاہیے،پانی کو راستہ دینے کے لیے جگہ نہیں بلوچستان میں تو مواصلاتی نظام بھی بیٹھ گیا ہے ہمارے ہیلی کاپٹر جاتے ہیں پھر واپس آجاتے ہیں کئی لوگ اس وقت سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے ہیں،ہم پریشان ہیں کہ پانی کہاں نکالیں ،نالوں ،دریاوں اور بند پر گھر بن چکے ہیں ان حالات میں غریب لوگ کہاں جائیں،ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا ہوا ہے ،حالات خراب ہیں بارشوں سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں ،900 سے زائد لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں، امداد دینے کے لیے پہنچ نہیں پا رہے ہیں، سندھ میں چار گنا زیادہ بارش آئی ہے ،ہم سب کو مل کر مدد کرنا ہے ستمبر میں مزید بارشوں کا امکان ہے،

    میں کئی دن سے سوئی نہیں،دعا زہرا کی والدہ کا ویڈیو پیغام

     کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی دعا زہرہ کا ویڈیو بیان منظرعام پرآگیا

    دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    چولستان میں پانی کی قلت ، مویشی مرنے لگے ،مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت

  • وطن عزیز کی مٹی دکھی انسانیت کی خدمت کا تقاضا کرتی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وطن عزیز کی مٹی دکھی انسانیت کی خدمت کا تقاضا کرتی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے جھنگ کے ارکان اسمبلی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی سے ملاقات کرنے والوں میں صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، غلام بی بی بھروانہ، رانا شہباز احمد اور اعظم چیلہ شامل تھے ملاقات میں سیاسی امور ، ترقیاتی منصوبوں اور سیلاب زدگان کی بحالی کے اقدامات پر گفتگو کی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی سیلاب متاثرہ علاقوں میں آبیانیہ اور مالیہ معاف کر دیا ہے متاثرین کی بحالی کے لئے 5 ارب روپے کا خصوصی فنڈ قائم کیا ہے مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کا سہارا بنیں وطن عزیز کی مٹی آج ہم سب سے دکھی انسانیت کی خدمت کا تقاضا کرتی ہے میں نے دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے جو پورا کرکے دم لوں گا ۔

    چودھری پرویزالٰہی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم آزمائش کی گھڑی میں ہمیشہ سرخرو رہی ہے انشاءاللہ نئے جذبے اور عزم سے سیلاب متاثرین کی بحالی کا چیلنج ضرورپورا کریں گے ،اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی چودھری پرویز الہی کی قیادت میں پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پیش پیش ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی سب سے پہلے سیلاب متاثرین کے پاس پہنچے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں سیلاب کی غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ جو کچھ بھی انسانی بس میں ہے، متاثرین سیلاب کی مدد کیلئے کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے ”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ قائم کر دیا ہے۔ مخیر حضرات اور عوام سے اپیل ہے کہ اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں۔ یہ وقت مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ پاکستانی چیلنج قبول کرکے اسے موقع میں بدلنے والی قوم ہے۔ انشاء اللہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے قوم اٹھے گی متاثرہ بہن بھائیوں کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری بھی ہے اور دینی و اخلاقی فریضہ بھی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں چپے چپے پر پہنچ کر متاثرین کی مدد کریں متاثرین سیلاب کی مشکلات کا پورا احساس ہے تمام تر توجہ متاثرہ بہن بھائیوں کی بحالی و آبادکاری پر مرکوز ہے پاک فوج،ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور دیگرادارے دن رات متاثرین کی بحالی میں مصروف ہیں متاثرین کی بحالی کے کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹانے والی تنظیموں اور رضاکاروں کو سراہتے ہیں

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

  • سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی :موسمی تبدیلیوں کے براہ راست اثر کے طور پر اس مون سون کے دورا ن پاکستان کو غیر معمولی بارشوں،GLoFاور Cloud Burstکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے متعدداضلاع میں سیلابی صورتحال اور بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ ایسے میں اپنی قومی ذمہ داری کے تحت، پاکستان آرمی نے نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں ایک بھرپور ریسکیو اور ریلیف مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے ماتحت ریلیف اور ریسکیو آرگنائزیشن قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک40,000لوگوں کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ137سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مزید برآں، 200کے قریب عارضی طبی مراکز میں 23,000لوگوں کو ادویات اور طبی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح آرمی اپنے موجود اسٹاک میں سے3700سے زائد ٹینٹ اور ضرورت کی دیگر اشیاء بھی متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف کے خصوصی حکم پر آرمی اپنے3دن سے زائد راشن(تقریباََ1500ٹن) کو بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عام لوگوں میں بانٹ چکی ہے۔ اسی جذبے کے تحت آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی نتخواہ متاثرین کی مدد کے لیے دی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پر مالی عطیات دے رہے ہیں۔

    لیکن اس سب امداد کے باوجود، سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید ریلیف کی چیزوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی جلد از جلد دادرسی کی جا سکے۔ ایسے میں ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ضرورت کے اس لمحے میں اپنے متاثرین بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں کئی مخیر حضرات نے آرمی سے اس مد میں رابطہ بھی کیا ہے۔ اس اہم کاوش کی اہمیت کے مدِ نظر پاکستان آرمی وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت تمام بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے عطیہ کیے جانے والے سامان کی کولیکشن کے لیے عطیہ مراکز قائم کرے گی۔ جہاں ضروری اشیاء جیسا کہ:۔ ٹینٹ، شلٹر، شمسی لائٹس، بستر/گدا، موسمی کمبل /چادر، پانی ذخیرہ/صاف کرنے کی کٹ/ٹینک، ٹارچ/لائیٹس، بارش والے جوتے اور ترپال وغیرہ جمع کیے جائیں گے۔
    راشن(آٹا، گھی، چاول، دال، خشک دودھ، چینی، پتی) پینے کا صاف پانی بھی وصول کیا جائے گا۔

    فرسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات جیسے کہ ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات۔مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس انسانی ہمدردی اور قومی المیہ کے موقع پر بڑ ھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ ان تمام اشیاء کی جلداز جلد سیلاب زدہ علاقوں میں منتقلی او ر متاثرین کو فراہمی پاکستان آرمی یقینی بنائے گی۔ علاوہ ازیں ہم وطنوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن ار کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں تاکہ فراہمی مدد کو متاثرین کی ضرورت کے مطابق مرکوز رکھا جا سکے۔ مزید مالی استطاعت والے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں دل کھول کر عطیات دیں۔

    اس دکھ اور تکلیف کے مرحلے میں پاکستان آرمی، قوم کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف پر توجہ دی جا رہی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی درخواست پر ایک اچھی Rehabمہم کی بنیادی ضرورت کے طور پر آرمی تمام نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سروے کرنے میں سول انتظامیہ کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔ جس کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کر دیا گیا ہے۔

  • 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی امداد کیلئے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ اجلاس ہوا

    اجلاس میں ورلڈ بینک، ایشائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ڈویلپمنٹ ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ڈونرز سمیت چین، امریکہ اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے وزیراعظم نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو ملک بھر میں سیلاب کی تباہی کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے،املاک کے علاوہ فصلیں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، سڑکیں، پل بہہ جانے سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آرہی ہیں،پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے، 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے،سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کرسکتے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    قبل ازیں وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بہت ہی تکلیف دہ و پریشان کن ہیں، پورا ملک بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اس قومی اور انسانی بحرانی صورت حال میں ہمیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے،اس وقت ہماری ترجیح سیاسی معاملات و اختلافات نہیں سیلاب زدگان کی امداد ہونی چاہئے، متاثرین کو ہم سب کی مدد کی اشد ضرورت ہے سب کو دل کھول کر انکی مدد کریں،

  • ملک ڈوب رہا،عمران خان لوگوں کو کہہ رہے کہ آخری کال کے لیے تیار رہیں،شیری رحمان

    ملک ڈوب رہا،عمران خان لوگوں کو کہہ رہے کہ آخری کال کے لیے تیار رہیں،شیری رحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    شریں رحمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کا کوئی ایس حصہ ایسا نہیں جو بارشوں اور سیلاب کی زد میں نہ ہو، افسوس ہے کہ اس صورتحال کے باوجود عمران خان نے ہری پور میں جلسہ کیا، بارشوں اور سیلاب سے خیبرپختونخوا میں 169 لوگ جاں بحق ہوئے ،پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے 164 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، عمران خان متاثرین کی جان و مال بچانے کے بجائے سیاست بچانے میں لگے ہوئے ہیں کیا عمران خان کو پورے ملک میں سیلاب نظر نہیں آ رہا ؟ ملک ڈوب رہا، عمران خان لوگوں کو کہہ رہے کہ آخری کال کے لیے تیار رہیں، پہلے کہتے تھے آخری گیند تک کھیلوں گا اب کہہ رہے آخری کال دونگا،کیا یہ احتجاج اور مظاہروں کا وقت ہے؟عمران خان کوجلسوں کے بجائے سیلاب زدگان کی مدد کرنی چاہیے ، احتجاج کے لیے عوام کا سمندر نکالنے کا اعلان کرنے والے کو متاثرین نظر نہیں آ رہے؟

    وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بہت ہی تکلیف دہ و پریشان کن ہیں، پورا ملک بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اس قومی اور انسانی بحرانی صورت حال میں ہمیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے،اس وقت ہماری ترجیح سیاسی معاملات و اختلافات نہیں سیلاب زدگان کی امداد ہونی چاہئے، متاثرین کو ہم سب کی مدد کی اشد ضرورت ہے سب کو دل کھول کر انکی مدد کریں،

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو غیر ملکی فنڈنگ کی مستی اور گھمنڈ ہے عمران خان غیرملکی فنڈنگ سے ملک میں انتشار پھیلا رہا ہے ،عمران خان نے غیرملکی ایجنڈے کے تحت ملک کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی،مافیا چیف اب سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دے رہا ہے، عمران خان کے تمام بچے بیرون ملک ہیں انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے،عمران خان اپنے بچوں کو پاکستان کیوں نہیں لاتے ،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

  • سیلاب سے اموات،نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سیلاب سے اموات،نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستان میں سیلاب سے ہونی والی تباہ کاریوں، امدادی کاموں ،موجودہ سیاسی حالات کے حوالہ سے ٹویٹس کی ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مبشر لقمان کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب آتے رہتے ہیں ،سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہیں جہاں انسان مرتے ہیں وہیں مال مویشی کی بھی موت ہوتی ہے،سیلاب سے کھیت تباہ ہو جاتے ہیں، فصلیں برباد ہو جاتی ہیں، جب بھی سیلاب آئے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ،کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم نقصان برداشت کر لیتے ہیں ، جانیں گنوا دیتے ہیں لیکن بڑے ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہو سکتے

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ہی کام کر رہے ہیں، ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، ہر علاقے میں پاک فوج کے جوان نظر آئیں گے جو متاثرین کی مدد کر رہے ہوں گے، ہمارے تمام سولین محکمے اور وزارتیں کچھ بھی نہیں کر رہیں، سوال یہ ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں عوام کی خدمت کرنے میں ہمارے دیگر محکمے کیوں ناکام ہو چکے ہیں؟ اگر انہیں کام نہیں کرنا تو پھر ان پر کروڑوں کے بجٹ کیوں خرچ ہوتے ہیں،

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان کہتے ہیں کہ سیلاب میں لوگ مر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو کوئی فکر ،پرواہ نہیں، سب اپنی سیاست کر رہے ہیں، سیاسی بیانات دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ جو رویہ سیاستدانوں کا نظر آ رہا ہے اس رویے سے عوام جلد ہی انکے خلاف ہو جائیں گے ،

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    واضح رہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں 9000 سے زائد گھر تباہ، 700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1300 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ صرف سندھ میں بارش اور سیلاب سے 300 اموات ہوئیں

  • سیلاب زدگان کی مدد کیلئے عطیات کیسے جمع کروائیں؟ مریم اورنگزیب نے بتا دیا

    سیلاب زدگان کی مدد کیلئے عطیات کیسے جمع کروائیں؟ مریم اورنگزیب نے بتا دیا

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات
    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام کمرشل بینکوں کے ذریعے عطیات جمع کرنے کا سرکلر جاری کر دیا ہے اندرون و بیرون ملک پاکستانی عطیات اس اکاؤنٹ میں جمع کرا سکتے ہیں بارشوں کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ملک بھر بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں غیرمعمولی تباہی ہوئی آئیں ہم سب مصیبت میں گھرے اپنے اہل وطن کی مدد کریں، ہم سب بنیں سہارا اندرون و بیرون ملک تمام پاکستانیوں سے دل کھول کر عطیات جمع کرانے کی اپیل ہے یہ عطیات اکاؤنٹ (Prime Minister Relief Fund Account 2022 Account No. ‘G-12164) میں جمع کرائے جا سکتے ہیں عطیات کے ذریعے تمام پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد کے کام میں شامل ہوسکتے ہیں

    مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکلر کے تحت تمام کمرشل بینک اور ان کی شاخیں وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 میں عطیات جمع کر سکتی ہیں بیرون ملک پاکستانی وائر ٹرانسفر، منی سروس بیوروز، منی ٹرانسفر آپریٹرز اور ایکسچینج ہاؤسز کے ذریعے بھی عطیات بھجوا سکتے ہیں عطیات تمام کمرشل بینکوں میں نقد بھی جمع کرائے جاسکتے ہیں بینکوں کے ڈراپ باکس میں کراس چیک، موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایمز، اے بی ایف ٹی، راست کے ذریعے بھی جمع کروائے جاسکتے ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر ریسکیو اورریلیف کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قطر سے سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف کے اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں وزیراعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے سمیت تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو اشتراک عمل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارشوں کاپے درپے سلسلہ سیلاب کی تباہی میں مزید اضافہ کر رہا ہے سیلاب سے لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے ان کی مدد ہم سب کا فرض ہے۔ قدرتی آفت کا شکارعلاقوں میں بحالی ایک بہت بڑا کام ہے، یہ اجتماعی کوشش سے ہی ممکن ہے

    دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور قائم مقام سپیکر زاہد اکرم درانی نے بلوچستان ،سندھ، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے سپیکر اور قائم مقام سپیکر نے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔

    قبل ازیں ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سیلاب میں ڈوب گیا اور صوبائی حکومت عمران نیازی کو بچانے کی فکر میں لگی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام صوبائی حکومت کی راہ تک رہے ہیں۔ پیشگی اطلاع ہونے کے باوجود سیلابی ریلے سے بچاؤ کے اقدامات نہ ہونا افسوسناک ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں حکومتی سست روی قابل مذمت ہے۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    واضح رہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں 9000 سے زائد گھر تباہ، 700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1300 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

  • قومی لائحہ عمل کے تحت سیلاب زدگان کی مدد کیلئےوفاقی حکومت نے وزرائےاعلیٰ کو خط لکھ دیئے

    قومی لائحہ عمل کے تحت سیلاب زدگان کی مدد کیلئےوفاقی حکومت نے وزرائےاعلیٰ کو خط لکھ دیئے

    وزیراعظم کی ہدایت پہ ریلیف کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی لائحہ عمل کے تحت سیلاب زدگان کی مدد کے لئے صوبائی وزرا اعلی کو خط لکھ دئیے گئے،احسن اقبال نے ریلیف کمیٹی کے ہمراہ وزراعلی ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلی گلگت بلتستان سے ملاقات کا وقت مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی : احسن اقبال کے دستخط بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزرا اعلی ، وزیراعظم آزادجموں وکشمیرسردار تنویر الیاس اور وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کو بھی خطوط ارسال کر دئیے گئے ہیں-

    پنجاب کے سیاحتی مقامات پر ہیلپ لائن 1421 کا آغاز کر دیا گیا

    احسن اقبال نے خط میں لکھا کہ ملاقات کا وقت دیا جائے تاکہ سیلاب زدگان کی تیزی سے مدد کے اقدامات پر اشتراک عمل وضع ہوسکے، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں این ڈی ایم اے نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ دیا ہے-

    خط میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ ایک قدرتی آفت ہے جس سے متاثرہ علاقوں اور عوام کی مدد کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے، وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں ہر صوبہ ایک فوکل پرسن مقرر کرے تاکہ سیلاب زدگان کی امدادی عمل کو تیز کیا جاسکے۔

    کراچی: پولیس افسران بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر، اسسٹنٹ کمشنر کو اسلحے کے زور پر لُوٹ لیا گیا

    خط میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لئے میری سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے، وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ وفاق اور صوبوں اور خصوصی خطوں کے درمیان اشتراک عمل پیدا کیا جائے-

    احسن اقبال نے مزید خط میں لکھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی قومی مقصد ہے جس کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہےاشتراک عمل سے سیلاب زدگان کی مدد کا عمل تیز ہونے کے علاوہ وسائل اور کوششوں کو مربوط بنانا ممکن ہوگا-

    پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ کےمختلف علاقوں میں آج بھی بار شوں کی پیشگوئی