Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب کے دوران سٹرکوں کے نقصانات،فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب

    سیلاب کے دوران سٹرکوں کے نقصانات،فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب

    ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں این ایچ اے اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز میں تقرریوں کیلئے ملک کے پسماندوہ اورخاص طور پر صوبہ بلوچستان کیلئے امیدواروں کیلئے عمر کی حد اور رولز کے مطابق عمر کی حد میں ریلیف،نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی ملک بھر کیلئے 1900 اسامیوں کی صوبہ وائز تفصیلات کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے علاقہ بولان میں پنجرپل کی تعمیر کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹرپر نس احمد عمر احمد زئی نے کہا کہ ملک کے پسماندہ علاقوں اور خاص طور پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو نوکریوں کے حوالے سے عمر کی حد میں ریلیف دینا چاہیے۔ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو سہولیات نہ ہونے کے برابر ملتی ہیں۔ سیلاب و دیگر مسائل کی وجہ سے ان لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ ہے۔ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ صوبہ قدرتی معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں صرف سٹرکیں بنی ہیں باقی سٹرکیں پرانی اور سیلابوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر ہمیں خصوصی توجہ کرنی چاہیے اور اس قائمہ کمیٹی نے ہمیشہ پسماندہ علاقوں کے روڈ نیٹ ورک پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کوشش کی جائے کہ جن علاقوں کی آسامیاں سامنے آئیں ان علاقوں کے امیدواروں کو ترجیح دینی چاہیے۔

    بھرتیوں کے لئے عمر کی حد اور کتنا ریلیف؟
    آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویزنے قائمہ کمیٹی کو بھرتیوں کے لئے عمر کی حد اور رولز کے مطابق دیئے جانے والے ریلیف کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نان یونیفارم اور سویلین موٹر وے ملازمین کے گریڈ15 اور اس سے نیچے کے گریڈ کے ملازمین کیلئے کم سے کم عمر18 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال ہے۔ گریڈ16 کی کم سے کم 20 اور زیادہ سے زیادہ 28 سال عمرہے اور گریڈ 19 کیلئے کم سے کم32 اور زیادہ سے زیادہ40 سال ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عمر کی بالائی حد میں نان یونیفارم ملازمین کیلئے 5 سال کا ریلیف ہے۔اقلیتوں کیلئے 3 سال،قبائلی علاقہ جات، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کیلئے 3 سال، سندھ دیہی اور بلوچستان کے گریڈ 15 اور نیچے کے گریڈ کیلئے 3 سال کی رعایت ہے۔ آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ افسران کیلئے 15 سال کی اور وہ سرکاری ملازمین جنہوں نے دو سال کی مسلسل نوکری کی ہو ان کو 10 سال کی رعایت ہے۔ معذور افراد کیلئے گریڈ 15 اور اس سے کم کیلئے 10 سال کی رعایت ہے جبکہ بیوہ اور فوت ہو جانے والے ملازمین کے بچوں کیلئے 5 سال کی رعایت ہے۔ پولیس افسران کیلئے عمر کی حد گریڈ14 کی کم سے کم 18 سال اور زیادہ سے زیادہ25 سال ہے۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی 1900 اسامیوں کی صوبے کے لحاظ سے تفصیلات
    قائمہ کمیٹی کو نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی 1900 اسامیوں کی صوبے کے لحاظ سے تفصیلات دی گئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ساڑھے سات فیصد کوٹہ کے لحاظ سے 143 سیٹیں ہیں۔ پنجاب میں 50 فیصد کوٹے کے ساتھ966، سندھ دیہی11.4 فیصد کوٹے کے ساتھ 223، سندھ اربن 7.6 فیصد کوٹے کے ساتھ 146، صوبہ خیبر پختونخواہ 11.6 فیصد کوٹے کے ساتھ 222، صوبہ بلوچستان 6 فیصدکوٹے کے ساتھ 159، فاٹا 4 فیصد کوٹے کے ساتھ 63، گلگت بلتستان1 فیصد کوٹے کے ساتھ 21، اے جے کے 2 فیصد کوٹے کے ساتھ42، معذور افراد 2 فیصد کوٹے کے ساتھ 5 اسامیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیفارم 1750 اور نان یونیفارم240 اسامیاں ہیں۔ ممبر ایڈمن این ایچ اے نے بتایا کہ تقرریوں کیلئے عمر کے تعین کے حوالے سے این ایچ اے کی بھی یہی پالیسی ہے۔

    ہمارے محکمے کے ملازمین کو شہید تصور نہیں کیا جاتا،آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز
    آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز نے کمیٹی کو درپیش مسائل بارے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے ایک سمری ریکورمنٹ کے لئے بجھوائی ہے اس کی منظوری کا انتظار ہے۔ کمیٹی اس حوالے سے مدد کرے ور چوئل یونیورسٹی سے ادارے کی تقرریوں کو پراسس ہونا ہے۔ ادارے کے ڈیلی الاؤنس کے حوالے سے بھی ایک مسئلہ ہے جس کی منظوری وزیراعظم پاکستان نے دی تھی مگر مالی مشکلات کی وجہ سے ہمیں اجازت نہیں دی گئی ہم اپنے بجٹ سے یہ ادا کر دیں گے کمیٹی اس کے لے سپورٹ کرے۔ ہمیں ایڈمن الاؤنس بھی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے دیگر محکموں کے افسران ڈیپوٹیشن پر بھی نہیں آتے اور اس محکمے میں آنے سے بھی کتراتے ہیں۔یہ الاؤنس باقی متعلقہ اداروں کو مل رہے ہیں جن میں ایف سی اور اسلام آبا پولیس وغیرہ شامل ہیں اور ہمارے محکمے کے ملازمین کو شہید بھی تصور نہیں کیا جاتا ان کو ڈیتھ ان سروس تصور کیا جاتا ہے یہ تمام امتیازی سلوک ختم کرنے میں کمیٹی ہماری مدد کرے۔

    پنچر پل،سیلاب کی وجہ سے گر گیا،تاحال کام شروع نہ ہو سکا
    قائمہ کمیٹی کو صوبہ بلوچستان کے علاقہ بولان میں پنچر پل کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ پل 26 اگست 2022 کو سیلاب کی وجہ سے گر گیا تھا۔ 4 ستمبر 2022 کو متبادل راستہ بنا دیا گیا تھا۔ این 65،سیلاب کی وجہ سے 30 فیصد خراب ہو چکی ہے۔ اس پل کی تعمیر پر 485 ملین روپے خرچ ہونگے۔ ٹینڈر ہو چکا ہے اب صرف ایوارڈ کرنا باقی ہے۔ اس منصوبے کیلئے اے ڈی بی کا قرضہ موجود ہے۔ اس سال اگست کے آخر میں اس منصوبے پر کام شروع ہو جائے گا۔ پہلے پل کی لمبائی 90 میٹر تھی اب 100 میٹر ہوگی اور10 میٹر واٹر وے کو بھی بنایا جائے گا اور مستقبل کیلئے ٹنل بھی بنائی جا رہی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئرش کاز وے 90 ملین روپے سے بنائی جا رہی ہے۔18 جون سے کام شروع ہے اور17 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ پنجر پل پر ابھی تک 27 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے سٹرکوں کے نقصانات.فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب
    کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے ڈی بی نے 150 ملین ڈالر قرض دیا ہے جو 2022 کے سیلاب میں ہونے والے سٹرکوں کے نقصانا ت جن میں 32 پل بھی شامل ہیں پر خرچ کیا جائے گا۔ کمیٹی کو پنجر پل کے حوالے سے نئی الائنمنٹ روڈ جو 11 کلومیٹر پر مشتمل ہو گی بارے بھی آگاہ کیا گیا، بتایا گیا کہ پی سی ون بن گیا ہے ۔ ڈیرہ مراد جمالی پر بائی پاس بن رہا ہے۔ بسیمہ خضدار روڈ جون2022 میں مکمل ہو چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عرم احمد زئی نے کہا کہ پنجر پل کو تقریباً اس سال ہو چکا ہے۔ انتہائی اہم جگہ جو صوبہ سندھ اور پنجاب کو بلوچستان سے ملتا ہے اس پر ایمرجنسی لگا کر کام کرنا چاہیے تھا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے اپنے وسائل سے سیلاب کے دوران ہونے والے سٹرکوں کے نقصانات پر کام کر رہا ہے۔ سیلاب سے نقصانات پر کام کیلئے کوئی خصوصی فنڈ فراہم نہیں کیے گئے جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی سمیت متعلقہ اداروں کو طلب کر لیا۔

    سینیٹر کامل علی آغا نے ایم فور موٹرویز پر سروسز ایریا قائم نہ ہونے کامعاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے ٹال ٹیکس تو وصول کیا جارہاہے مگر بدقسمتی کی بات ہے مگر ایک سال سے زائد گزرنے کے باوجود بھی ایم فور پر کوئی ایک بھی فیول اسٹیشن اور سروس ایریا نہیں ہے۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیول اسٹیشن کے لئے کنڑیکٹ ایوارڈ ہو چکے ہیں۔ زمین کے کچھ مسائل ہیں جلد کام شروع ہو جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے باقی ایجنڈ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • بھارتی آبی جارحیت،ہر طرف پانی ہی پانی ،آج وزیر اعظم کا دورہ متوقع

    بھارتی آبی جارحیت،ہر طرف پانی ہی پانی ،آج وزیر اعظم کا دورہ متوقع

    قصور
    بھارتی جارحیت سے گنڈا سنگھ کے قریبی دیہات میں پانی ہی پانی،لوگ نقل مکانی پہ مجبور،برقی نظام معطل،موبائل سروس ختم،موبائل سروس بند ہونے سے لوگ سخت پریشان،وزیر اعظم پاکستان کا آج سیلابی علاقوں میں دورہ متوقع

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑے جانے پہ تباہی مچ گئی
    گنڈا سنگھ کے قریبی دیہات میں پانی ہی پانی لوگ نقل مکانی پہ مجبور ہو گئے
    برقی نظام معطل ہو گیا اور موبائل سروس بلکل بند ہوگئی ہے جس سے اہلیان علاقہ کو شدید پریشانی ہے
    گنڈا سنگھ کے قریبی دیہات
    سہجرہ،دھوپ سڑی، مستکے کے مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے
    نیز موضع چندا سنگھ، سہجرہ ،دھوپ سڑی، نگر دونہ، چھاٹ، مبوکے، مستکے گٹی کلنجر و دیگر دیہات کا زمینی راستہ ختم ہو گیا ہے
    کسانوں کی کروڑوں روپیہ کی دھان و مکئی کی فصل برباد ہو گئی ہے
    اور جانوروں کے لیے چارے کا انتظام بھی نہیں رہ گیا ابھی بھی بہت سے لوگ دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں
    اہلیان علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب اور ضلعی انتظامیہ قصور سے موبائل نیٹ ورک بحال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مشکل میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ میں رہیں
    واضع رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں چھوڑا جانے والا پانی کا ریلہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوا جس سے پانی کی سطح بہت زیادہ بلند ھو گئی ہے
    ستلج رینجرز کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح بلند ہو کر 18 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہیڈ گنڈا سنگھ سے پانی کا اخراج 46 ہزار کیوسک سے بھی تجاوز کر گیا ہے
    ابھی پانی کی سطح می مذید بلندی ہونے کا خدشہ ہے
    گزشتہ دن ڈپٹی کمشنر قصور محمد ارشد بھٹی، ڈی پی او قصور طارق عزیز سندھو اور اسسٹنٹ کمشنر قصور رضوان الحق نے تلوار پوسٹ پہ قائم ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا اور ریسکیو 1122 کو کشتیوں کی تعداد میں اضافے کرنے کی ہدایت کی
    نیز آج وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں دورہ متوقع ہے

  • راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    وزیراعظم آفس کی جانب سے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آج اور کل (11 جولائی) کو شدید بارشوں کی توقع ہے جبکہ دریائے چناب اور راوی میں طغیانی کا خدشہ ہے کیونکہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کے بروقت انخلا اورمدد پررینجرز اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ممکنہ طور پرمتاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت وبا حفاظت انخلا کی تیاریوں کی بھی ہدایت کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ رینجرز اور ریسکیو کی بروقت امدادی کارروائی سے خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی جان بچائی گئی۔ پاکستان کے فرض شناس سپوتوں کو مجھ سمیت قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی۔ شہباز شریف نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت و با حفاظت انخلاکی تیاریوں کی بھی ہدایت کر دی۔

    اس سے قبل دریائے راوی کے بعد بھارت نے دريائے چناب اور ستلج میں بھی پانی چھوڑ دیا۔ دو لاکھ 33 ہزار کیوسک پانی کی آمد سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ پرپانی کی آمد ایک لاکھ چھیترہزار 940 کیوسک اور ہیڈ خانکی پرچورانوے ہزار 364 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق دريائے راوی میں جسڑکرتار پور پر پانی کا بہاؤ 30 ہزارکیوسک تک بڑھ گیا۔ سیلابی ریلا شاہدرہ کی طرف بڑھنے لگا۔ دريا کے اندرآباد بستيوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے این ای او سی کی مون سون اپڈیٹ جاری کی گئی جس کے مطابق موسمیاتی ماڈلز کے مطابق دریائے چناب،راوی ستلج اور منسلک نالوں بھمبر،ایک،دیگ،بین پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے تاہم پانی ندی/نالوں تک محدود رہنے کا امکان ہےجس کا ممکنہ اثر صرف دریا کنارے سے ملحق نشیبی علاقوں پر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم کے مطابق میونسپل علاقوں لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ میں بارشوں اوراربن فلڈنگ جبکہ بلوچستان، کے پی، پنجاب، جی بی اور اے جے کے کےپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خدشہ ہے۔ اسی طرح کراچی،تھرپارکر،سکھر،لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین شہید بینظیر آباد میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ہو سکتی ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان (سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ) میں گرج چمک کیساتھ درمیانی تا شدید بارش متوقع ہے۔علاوہ ازیں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں گرج چمک کے ساتھ/درمیانے سے شدید درجے بارش متوقع ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ موسمی صورتحال کے پیش نظرضروری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے ، شہری و ضلعی انتظامیہ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں ایمرجنسی عملہ و مشینری بشمول ڈی واٹرنگ پمپس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انتظامیہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے انڈر پاس اور نشیبی سڑکوں سے نکاسی آب آپریشن کے دوران متبادل ٹریفک پلان کو یقینی بنائے۔ متعلقہ انتظامیہ سٹاک ٹیکنگ کی تکمیل یقینی بنائے، بارش کے خطرے سے دوچار علاقوں کی انتظامیہ 20 جولائی تک سیلاب کے امکانات کے حوالے سے حساس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس،تریموں بیراج اور دریائے راوی میں جیسز کے مقام پر متوقع پانی کے بہاؤ پر مانیٹرنگ جاری رکھیں۔

    این ای او سی کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب ،دریائے چناب، راوی، ستلج اور منسلک نالوں کے گرد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو بروقت اطلاع دیتے ہوئے انخلا کو یقینی بنائے۔ ریسکیو سروسز پاک افواج ،این جی اوز خطرے سے دوچار علاقوں میں ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کیلئے انتظامات مکمل رکھیں۔ متعلقہ ادارے پانی کے زیادہ بہاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے مروجہ ضابطے کے تحت ہنگامی پروٹوکول کو نافذ کریں تاکہ پانی رابطہ نہروں میں جائے۔تمام متعلقہ انتظامیہ و ادارے فعال ہم آہنگی و رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے لہٰذا وہ چوکس اور تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بارشوں سے جو لوگ متاثر ہو سکتے ہیں ان کا تخمینہ 9 لاکھ لگایا گیا ہے۔ شیری رحمٰن نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہروں لاہور، نارووال اور سیالکوٹ میں ہوگی، دوسرے صوبوں کو بھی موسلادھار سے درمیانے درجے کی بارش کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے، جن شہروں اور میونسپل علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، وہاں سیلاب کے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مربوط تیاری اور فعال ردعمل سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور تمام رسپانس ٹیموں کو چوکس رہنے کی تاکید کی۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطۂ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 8 اور 9 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، بہاول نگر اور اوکاڑہ) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح زیریں سندھ (ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، نگرپارکر، اسلام کوٹ، مِٹھی، پڈعیدن، چھور، حید رآباد، جامشورو اور کراچی) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ بارشوں کے باعث مری، گلیات، کشمی، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلادھاربارش کے باعث کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں اور ملحق برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، شمالی بلوچستان، زیریں سندھ، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔

  • بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے گیا،ریڈ الرٹ جاری

    بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے گیا،ریڈ الرٹ جاری

    بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا اور پل، گاڑیاں، گھر اور دیگر اشیاء اپنے ساتھ بہا لے گیا۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا کے مطابق ملک کی شمالی ریاستوں میں طوفانی بارشوں کے باعث گزشتہ دو روز کے دوران کم از کم 12 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں جب کہ بھارتی محکمہ موسمیات نے نئی دلی، ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، راجستھان، پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی بھی کی ہے۔


    ریاست ہماچل پردیش میں طوفانی بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف حادثات میں 5 افراد ہلاک ہوئے، ریاستی انتظامیہ نے ہماچل پردیش کے 7 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔


    اتوار کو دیر رات کی جانے والی کارروائی میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نے چھ لوگوں کو بچایا جو منڈی ضلع کے ناگوین گاؤں کے قریب دریا کے پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے۔


    دریں اثنا، ہماچل پردیش میں اتوار کو طوفانی بارشوں کے نتیجے میں پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بارشوں سے ہونے والی تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے نتیجے میں مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور عام زندگی درہم برہم ہوگئی۔


    ریاست کے ایمرجنسی اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ہماچل پردیش کے 12 میں سے 10 اضلاع میں 204 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس دوران لینڈ سلائیڈنگ کے 14 بڑے واقعات اور 13 مقامات پر سیلابی کیفیت رپورٹ ہوئی جبکہ ریاست میں 700 سڑکوں کو بند کر دیا گیا۔


    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث ریاست ہماچل پردیش میں مختلف پلوں کو نقصان پہنچا اور دریائے بیاس کے قریب آبادیوں میں بھی پانی داخل ہو گیا مقامی حکام نے ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کو اگلے دو دنوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے راوی، بیاس، ستلج، سواں اور چناب سمیت خطے کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہے۔

    دوسری جانب بھارت کے محکمہ موسمیات نے انتہائی بارشوں کے لیے ایک نیا ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق 10 سے 12 اضلاع میں 204 ملی میٹر سے زیادہ بارش متوقع ہے ریاستی حکومت نے احتیاطی اقدامات اٹھاتے ہوئے ریاست سے منسلک تمام سرکاری اور نجی اسکولوں اور کالجوں کو 10 جولائی سے 11 جولائی تک دو دن کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

  • بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    لاہور: دریائے چناب میں پانی کی سطح میں واضح اضافے کے بعد ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں چھوڑا گیا سیلابی ریلہ آج نارووال پہنچے گا، بھارت نے گزشتہ روز ایک لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی چھوڑا تھا،جس سے شکرگڑھ کے سرحدی گاؤں جلالہ میں 70ہزارکیوسک کاریلا داخل ہو گیا-

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چک جیندھڑ اورچن مان سنگھ کے کھیتوں میں پانی داخل ہو گیا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کا کہنا ہے کہ شکر گڑھ کے علاقے میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے اب تک 301 افراد کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے، پانچ خواتین سمیت 60 افراد کو چک جیندھڑ شکرگڑھ سے ریسکیو کیا گیا،دھاریوال سے 51 افراد کو بحفاظت دریا کے دوسرے کنارے سے ریسکیوکر لیا گیا۔

    دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، ہائی الرٹ جاری

    چندیاں والی میں 4 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جھن مان سنگھ اور پیر کنڈیالہ سے 186 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، ریسکیوکئے گئے افراد میں 202 مرد، 99 خواتین شامل ہیں۔

    دوسری جانب ہیڈ تریموں سے چوبیس گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلہ گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیاہے،جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ مَرالہ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک ہو گئی، جس کے تحت دریائے چناب کے اطراف میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا۔ دریائے چناب کے قریب 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں،ڈپٹی کمشنرجھنگ کا کہنا تھا کہ 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے شکر گڑھ نالہ بین میں بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ راوی سمیت دیگر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بہہ رہا ہے،دریاؤں، برجز،ڈیمز اور نالہ جات میں پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور صوبائی کنٹرول روم سے صورتحال کی مانیٹرنگ جاری ہے۔

    صادق آباد میں ڈاکوؤں کی پولیس وین پر فائرنگ،3 اہلکار زخمی

    واضح رہے کہ بھارت ہر سال پاکستانی دریاؤں میں بغیر اطلاع کے پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے گزشتہ سال بھارت نے ایک لاکھ 73 ہزار کیوسک پانی چھوڑا تھا۔ چھوڑے گئے پانی کا تقریباً ایک تہائی یعنی 60,000 کیوسک جسر تک پہنچا تھا۔ جس کی وجہ سے سیلاب کی نچلی سطح (دریائے راوی پر گیجنگ پوائنٹ) پر بنی تھی۔

    دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے پاکستان میں 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بارش کے مزید اثرات کی پیش گوئی کی ہے سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہروں لاہور، نارووال، سیالکوٹ میں ہوگی۔ جبکہ دیگر صوبوں کو بھی موسلادھار سے درمیانی بارش کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے مربوط تیاری اور فعال ردعمل جانیں بچاتا ہے، لہٰذا متاثرہ علاقوں میں تمام رسپانس ٹیموں، عوامی اور این جی اوز دونوں کو چوکس اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    فی الحال یوکرین نیٹو ممبرشپ کیلئے تیار نہیں ہے،امریکی صدر

    شیری رحمان کے شئیر کردہ ڈیٹا کے مطابق شمالی اور شمال مشرقی پنجاب اور لاہور، سیالکوٹ اور نارووال میں شدید گرج چمک کے ساتھ تیز بارش امکان ہے۔ جبکہ دریائے چناب، راوی، ستلج اور اس سے منسلک نالوں بھمبر، ایک، دیگ، بین، پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہوسکتا ہے میونسپل علاقوں میں اربن فلڈ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    کراچی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین، شہید بینظیر آباد میں گرج چمک کے ساتھ درمیانے اور بھاری درجے کی بارش کی پیشگوئی ہے۔

    شمال مشرقی بلوچستان کے علاقوں سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ میں گرج چمک کے ساتھ بارشکا امکان ہے جبکہ کے پی کے علاقوں بنوں، ڈی آئی خان، سوات، بالاکوٹ میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔

    اسٹاک ہوم میں مقامی مسجد کےسامنے ہزاروں افرادکا قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھاکر احتجاج

  • بارشوں کے پیش نظر دریائے سندھ کی ملحقہ نہروں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان

    بارشوں کے پیش نظر دریائے سندھ کی ملحقہ نہروں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان

    بارشوں کے پیش نظر دریائے سندھ کی ملحقہ نہروں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان
    پنجاب میں بارشوں کے پیش نظر دریائے سندھ کے چشمہ بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور ملحقہ نہروں میں بھی پانی کی سطح بلند ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سےمتعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی طور پر ابرآلود اور مرطوب رہنے کا امکان ہے ۔ لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، مری، گلیات، اٹک، چکوال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔ پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے بارشوں کے پیش نظر دریائے سندھ کے چشمہ بیراج کے مقام پر نچلےدرجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ تیز بارش کے باعث دریا سے منسلک نہروں میں پانی کی سطح بلند ہوسکتی ہے ۔جس کے بعد ملحقہ علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اداکارہ شکیل یوسف چل بسے
    جہلم؛ سیشن جج، دو بیٹوں سمیت ڈوب کر جاں بحق
    حج کے دوران 6 ہزار سے زائد حجاج کرام ہیٹ سٹروک سے متاثر ہوئے. رپورٹ
    نمازِ عید کے دوران سنگین مقدمات میں مطلوب درجن سے زائد قیدی فرار
    سڑکوں یا گلی محلوں میں آلائشیں نظر نہیں آنی چاہئیں،نگران وزیراعلیٰ کی ہدایت
    سویڈن میں قرآن پاک نذر آتش،مراکش نے اپنا سفیر واپس بُلا لیا
    بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا آخری مرحلہ، جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کا عمل عروج پر
    جاری الرٹ کے مطابق آندھی جھکڑ گرج چمک اور بارشوں کے باعث کمزور انفرا سٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

  • امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

    امریکا نے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے مزید ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد کی امداد کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: امریکا نے جون کے وسط سے ہونے والی موسلا دھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے ملک کی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کا اعلان کیا ہے-

    پاکستانی سیاست کے فیصلے پاکستانی عوام نے کرنے ہیں،امریکا

    ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر یو ایس ایڈ اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے دیگر حکام کے ہمراہ خیرپور کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اس موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ خوراک کاسنگین بحران دیکھا ہے16 لاکھ سےزائد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں،صحت کی فراہم کردہ سہولتیں ناکافی ہیں۔

    افغانستان کےصوبے بدخشاں میں بم دھماکہ:صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق

    انہوں نے کہا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے امریکا نے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے مزید امداد کا اعلان کیاہے،سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کیلئے پہلے 20 کروڑ ڈالر کی امداد دی، اب ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی امداد مزید جاری کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب میں سالوں سے بند ایرانی سفارت خانہ آج کھول دیا جائے گا

  • کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ

    کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ

    افریقی ملک کانگو میں بارش کے بعد سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:سی این این کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے مشرقی علاقے میں سیلاب سے کم از کم 176 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ایک علاقائی گورنر نے جمعہ کے روز بتایا کہ صوبے کیوو میں شدید بارش سے اسکول اور اسپتالوں سمیت کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ سیلاب کئی دیہات کو بہا لے گیا۔

    سعودی عرب، دبئی اور مشرق وسطیٰ ممالک میں ہیڈ آفسز میں موجود عہدوں میں 18 …

    امدادی کارکنوں نے مٹی میں دبی لاشوں کو نکالا ساتھ ہی درجنوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 130 سے ​​زائد افراد لاپتہ ہیں۔

    جنوبی کیوو صوبے کے کیووعلاقے میں ہونے والی بارش کی وجہ سے جمعرات کو دریا بہہ گئے، جس سے بشوشو اور نیاموکوبی کے دیہات زیر آب آ گئے جنوبی کیوو کے گورنر تھیو نگوابیڈجے کاسی نے مرنے والوں کی تعداد 176 بتائی اور کہا کہ دیگر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

    سول سوسائٹی کے ایک مقامی رکن کیسول مارٹن نے کہا کہ 227 لاشیں ملی ہیں لوگ کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں، اسکول اور ہسپتال بہہ گئے ہیں-

    اوچ شریف :طوفانی آندھی، موسلا دھار بارش سے میلے کے انتظامات متاثر، ٹینٹ، شامیانے اکھڑ …

    ریڈ کراس کے کارکنوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد گھر تباہ ہوگئے۔

    جنوبی کیوو میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، جس کی سرحد روانڈا کے ساتھ ملتی ہے۔ رواں ہفتے روانڈا میں بھی شدید بارشوں نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا، جس میں 130 افراد ہلاک اور 500 سے زائد گھر تباہ ہوئے۔

    کانگو میں اسی پیمانے کا آخری واقعہ اکتوبر 2014 میں پیش آیا تھا جب شدید بارشوں نے 700 سے زائد گھر تباہ کر دیے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت 130 سے ​​زائد افراد لاپتہ تھے۔

    بھارتی حکومت نے منی پورمیں قتل عام کیلئے مزید کمانڈوز بھیج دئے،انٹرنیٹ سروس معطل

  • کراچی اور بلوچستان میں مزید بارش کا امکان

    کراچی اور بلوچستان میں مزید بارش کا امکان

    کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر قائد نمیں 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابرآلود رہنے اور بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات نے کراچی میں آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا مطلع جزوی ابرآلود ہے جبکہ درجہ حرارت 32 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہوامیں نمی کا تناسب 77فیصد ہے۔

    پی ٹی آئی کی ریلی، لبرٹی چوک پرسیاسی پاورشوکی تیاریاں مکمل،الیکشن کمیشن نے بھی عمران …

    شام میں گرج چمک کے ساتھ کہیں ہلکی کہیں تیز بارش ہوسکتی ہے شمال مغرب سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار7 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے
    شمال مشرقی سمت سے ہوا کی رفتار 14 ناٹیکل مائل ہے جب کہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ آج بھی بارش کا امکان ہے۔

    سابق گورنر پنجاب کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج

    محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم جزوی طور پر ابر آلود ہے، کوئٹہ ، قلات، خضدار، زیارت ، بارکھان، چمن، قلات، دالبندین، آواران، پنجگور ، خاران اورلسبیلہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور پہاڑی علاقوں کےندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہےکوئٹہ کو بولان سے ملانے والا پنجرہ پل دوبارہ پانی میں بہہ جانے کے بعد چھوٹی گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے راستہ بحال کیا گیا ہے۔

    پولیس مقابلے میں مطلوب ریکارڈ یافتہ 2 ڈاکو ہلاک

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 سینٹی گریڈ جب کہ زیارت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا قلات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22 سینٹی گریڈ، پشین میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 سینٹی گریڈ، گوادر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سینٹی گریڈ اور سبی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

  • کراچی میں یکم مئی تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    کراچی میں یکم مئی تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    واشنگٹن: اقوام متحدہ نے پاکستان میں رواں برس شدید بارشوں کے باعث سیلاب سے خبردار کردیا۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان میں رواں سال بھی شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات موجود ہیں۔ گلوبل انفارمیشن ارلی وارننگ سسٹم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شدید بارشوں کا سامنا کرنے والے 20 ممالک میں شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق افغانستان، تاجکستان، عراق اور ترکیہ میں بھی رواں سال شدید بارشیں ہوسکتی ہیں جس کے باعث وہاں سیلابی صورت حال ہوگی۔

    دوسری جانب ہفتے کی شام شہرمیں بادل برس پڑے، کہیں ہلکی اورکہیں درمیانی شدت کی بارش ہوئی، سب سے زیادہ بارش پی اے ایف بیس فیصل میں 14ملی میٹرریکارڈ کی گئی بارش سے قبل معمول سے قدرے تیز ہوائیں بھی چلیں،جس کی رفتار25کلومیٹرفی گھنٹہ ریکارڈ ہوئی جبکہ محکمہ موسمیات نے اتوار کو موسلا دھاربارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی جانب سے جاری نئی پیشگوئی کے مطابق مغربی ہواوں کی لہر جنوبی بلوچستان اورسندھ پر برقرار ہے، سسٹم کا پھیلاؤ شمالی بحیرہ عرب تک ہے، کراچی میں یکم مئی تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان برقرار ہے۔

    ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق اتوارکو کراچی میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش بھی ہوسکتی ہے، کراچی کا درجہ حرارت 3روز کے دوران 31 سے33 ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے، شہر میں اس دوران مغربی اورجنوب مغربی سمت کی ہوائیں چلیں گی،جس کی رفتار میں کبھی کبھاراضافہ متوقع ہے،دیہی سندھ کے اضلاع میں بارشیں 2مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔