Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • چین کےصحرائی علاقوں میں شدید  سیلابی صورت حال کا امکان

    چین کےصحرائی علاقوں میں شدید سیلابی صورت حال کا امکان

    چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں رواں موسمِ گرما میں شدید سیلابی صورت حال کے لیے تیار رہیں، کیونکہ غیر معمولی گرمی، شدید بارشوں اور گلیشیئر ز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے سب سے بڑے صحرائی علاقے، تکلامکان ریگستان، میں جون کے آغاز ہی میں رواں سال کا پہلا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جمعے کے روز نشر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی عام طور پر خشک رہنے والے ریت کے ٹیلوں میں بھر گیا، اگرچہ تکلامکان ریگستان میں 2021 سے ایسے سیلاب آتے رہے ہیں، تاہم عموماً یہ اگست میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جب درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے، اس سال صورتحال مختلف رہی اور گرمی کی شدت معمول سے کہیں پہلے بڑھ گئی۔

    رائٹرز کلائمیٹ مانیٹر کے مطابق 12 جون کو سنکیانگ کا درجہ حرارت اس موسم کے معمول سے 7.3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا سنکیانگ کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران بارشوں کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، سی سی ٹی وی کے مطابق بعض علاقوں میں جون کے اوائل کے تاریخی اوسط کے مقابلے میں بارشیں دو سے تین گنا زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

    شدید گرمی اور بارشوں کے امتزاج نے صحرائی سیلابوں کو جنم دیا ہے، تیان شان اور کونلون پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز اور برف کی وسیع تہیں تیزی سے پگھل رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کا بہاؤ چین کے سب سے طویل اندرونی دریا، دریائے تاریم، میں پہنچ رہا ہے، پانی کی اس بڑی مقدار کے باعث دریائے تاریم اپنے کناروں سے باہر نکل آیا اور اس کا پانی صحرائی علاقے کے نشیبی حصوں میں پھیل گیا۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ موسمی سیلاب عارضی طور پر مختصر مدت کے لیے نخلستان نما علاقے پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ان کے زیادہ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تکلامکان ریگستان سمندر سے بہت دور واقع ہے اور چاروں طرف بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جس کے باعث نمی کی سطح کم رہتی ہے جبکہ شدید بخارات جلد ہی پانی کو خشک کر دیتے ہیں، اگرچہ یہ پانی مقامی جنگلات کے لیے اہم آبپاشی فراہم کرتا ہے، تاہم حکام نے خبر دار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    چین کی موسمیاتی انتظامیہ کی تجزیہ کار سن چیان چیان نے سی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید سیلاب سڑکوں، ریلوے لائنوں اور تیل و گیس کی تنصیبات کو تباہ کر سکتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر آفات کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے،سیلابی موسم کے دوران ان علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو سرکاری انتباہات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اپنے سفری منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

  • خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے متعلقہ 5 حساس اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں موسمی صورتحال کے پیش نظر گلیشیئرز پگھلنے کا امکان ہےشدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کا خدشہ ہے پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ کو حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی اور فوری وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلاء سے متعلق مشقیں کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہےجبکہ محفوظ مقامات پر انخلاء مراکز کو مکمل طور پر فعال اور سہولیات سے لیس رکھنے کی تاکید کی گئی ہے پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر الرٹ ر ہنے اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

    ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری اور آلات پہلے سے تعینات کرنے جبکہ عوام کو ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیوں کے بہہ جانے کے خطرے سے متعلق عوام کو خبردار کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو حساس علاقو ں کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی سڑکوں کی بندش یا نقصان کی صورت میں این ایچ اے، ایف ڈبلیو او اور سی اینڈ ڈبلیو سے فوری رابطے جبکہ شدید خطرے کی صورت میں گلیشیائی جھیلوں کے کنٹرولڈ اخراج پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

    ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شمالی علاقوں میں غیر معمولی درجہ حرارت کے باعث مارچ تا ستمبر کے دوران ہیٹ ویو اور گلشیئر کے تیز پگھلنے کے خدشات پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث ممکنہ طور پر ہیٹ ویو اور گلیشیئر پگھلنے کے عمل میں تیزی کا خدشہ ہےشمالی علاقہ جات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر مارچ تا ستمبر کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی جاری ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مارچ سے جون کے دوران تیزی سے پگھلتے گلیشیئر کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، گلیشائی جھیلوں کے ممکنہ سیلاب کے باعث آبادیوں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان کا اندیشہ ہےگلگت بلتستان کے احمد آباد، فیض آباد، مجاور، وادی اشکومن، گلکن، گلمت بوبر اور وہند سمیت متعدد علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں خیبر پختونخوا کے ریشون، کمراٹ، یارخن ویلی، لشٹ،استاچ، ڈزق اور بریپ کے علاقو ں میں گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی

    پی ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے،ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی انخلا کے لائحہ عمل اور پیشگی انتباہی نظام فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے عوام موسم کے حوالے سے بر وقت آگاہی یقینی بنائیں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں دریا کے کناروں اور گلیشیائی ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام ممکنہ خطرے کی صورت میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں، مستند معلومات اور بروقت الرٹس کے لیے ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ ایپ سے راہنمائی لیں۔

    قصور میں ڈیجیٹل بلیک میلنگ سے تنگ 22 سالہ نوجوان طالبہ کی خودکشی

  • دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد میں اگلے 24گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کے حوالے تفصیلات جاری کر دیں،کوٹری بیراج پر حالیہ تقریباً 4 لاکھ کیوسک بہاؤ کے ساتھ درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور کوٹری پر ستمبر کے آخر تک صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔

    گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ میں بتدریج کمی ہو رہی جبکہ معمول کے مطابق بہاؤ موجود رہے گا،دریائے راوی میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ میں کمی کا رجحان ہے جبکہ سلیمانکی اور اسلام بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،دریاؤں میں موجودہ بہاؤ کے باعث بھی متعدد مقامات پر نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    غیر قانونی ٹریول ایجنسی چلانے والا ملزم گرفتار

    دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر 56 ہزار اور سلیمانکی پر 81 ہزار کیوسک ہے۔‎دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 37ہزار،خانکی ہیڈ ورکس پر پنتیس ہزار جبکہ قادر آباد کےمقام پر 17 ہزارکیوسک ہے ‎دریائےراوی جسڑ پر 6 ہزار، شاہدرہ پر 5 ہزار ،‎بلوکی ہیڈ ورکس پر 25 ہزار اور ہیڈسدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کیوسک ہے ‎ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28ہزار اور ‎پنجند کےمقام پر 95ہزارکیوسک ہے،جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ ختم ہو گیا ہے،متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، خامنہ ای

    این ڈی ایم اے کا این ای او سی تمام صورتحال کی ہمہ وقت نگرانی کر رہا ہے، تمام متعلقہ اداروں کی ممکنہ صورتحال کے حوالے سے ضروری ہدایات باہم پہنچائی جا رہی ہے،عوام خطرے سے دوچار علاقوں میں سفر سے گریز کریں، سیلابی ریلوں کو کراس کرنے سے گریز کریں، امدادی کیمپوں میں موجود لوگ اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے متعلقہ اداروں کی ہدایات کا انتظار کریں۔

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق،دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے نقصانات کے باعث اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 134 ہوگئی جبکہ 47 لاکھ سے زائد لوگ اور 27 اضلاع متاثر ہوئے سیلاب کے باعث 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے جبکہ دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 47 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 271 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جہاں شہریوں کو کھانا اور تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں متاثر ہونے والے اضلاع میں 300 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں،سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 38 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 283 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 21 لاکھ 17 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا آغاز 24 ستمبر کو ہوگا، شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہےدریائے ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہےستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے۔

    پی سی بی کا ملک بھر میں سکولز کے لئے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز

    دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 25 ہزار کیوسک ہےہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک اور ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہےدریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6 ہزار کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 26 ہزار کیوسک ہےڈیرہ غازی خان ڈویژن کی رود کوہیوں میں بہاؤ نہیں ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج

  • ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا،  شرجیل میمن

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    سندھ کےسینیئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا دائرہ محدود کیا جاسکتا تھا مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی۔

    سینیئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن نے حکومت پنجاب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب میں سیلاب پر کوئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بنے تو پتا چل جائے گا کہ پنجاب میں تباہی اس سے کم ہوسکتی تھی، ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، اگر اچھی منصوبہ بندی کی جاتی تو اتنی تباہی سے بچا جاسکتا تھا۔

    https://x.com/sindhinfodepart/status/1970038275361665026

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں محکمہ آبپاشی نے اچھی منصوبہ بندی کی، وزیراعلیٰ صاحب خود ہر چیز کو مانیٹر کررہے تھے، مانیٹرنگ سیلز بنائے گئے، ( ہر محکمے سے ) ایک ایک نمائندہ وہاں موجود ہے، اور آج بھی مانیٹرنگ سیلز قائم ہیں،میں یہ نہیں کہوں گاکہ سو فیصد ( تباہی سے ) بچ گئے، میں بھی کوئی غلط بات نہیں کروں گا، پنجاب میں پانی زیادہ آیا تھا، تاہم اگر بہتر منصوبہ کی جاتی اور محکمہ آبپاشی کی رہنمائی کی جاتی تو تباہی کو محدود کیا جاسکتا تھا۔

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو چکا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    پرووانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو چکا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 4 ہزار کیوسک ہے، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 42 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 44 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 37 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 41 ہزار کیوسک ہے،پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 8 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 9 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کی کیوسک ہے،دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر محکمے الرٹ ہیں۔

    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ سے قبل پی سی بی کا بڑا فیصلہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 47سو سے زائد موضع جات متاثر ہو چکے ہیں، دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 47 لاکھ 55 ہزار لوگ متاثر ہوئے،شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 319 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں 407 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 22 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 356 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 20 لاکھ 90 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    نبیل جاوید نے کہا کہ منگلا ڈیم 96 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 99 فیصد جبکہ تھین ڈیم 90 فیصد تک بھر چکا ہے، حالیہ سیلاب سے مختلف حادثات میں 127 شہری جانبحق ہوئے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا جلد آغاز کر دیا جائے گا سروے مکمل ہونے پر شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

  • موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند

    موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند

    لاہور: ترجمان موٹروے کے مطابق موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔

    ترجمان موٹروے کے مطابق موٹروے پولیس ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزار رہی ہے اور ملتان سے سکھر سفر کرنے والی گاڑیاں متبادل راستے سے سفر کرسکتے ہیں،شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ کی طرف ٹریفک جاسکتی ہےاور اوچ شریف سے انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے ایم 5 پر سفر کر سکتے ہیں، سکھر سے ملتان ایم 5 اوچ شریف انٹرچینج قومی شاہراہ پر سفر کیا جاسکتا ہے اور شیر شاہ انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے ایم 5 کو جوائن کر سکتے ہیں۔

    چیف پولیس آفیسر ملتان کے مطابق موٹروے ایم فائیو کا مشرقی حصہ شگاف پڑنے سے سیلاب میں بہہ گیا، اس سے پہلے ایم فائیو کا مغربی حصہ سیلاب میں بہہ گیا تھا، موٹروے پولیس اور این ایچ اے کا عملہ مشینری کے ساتھ موقع پر موجود ہے موٹر وے پر دریائے ستلج کا پانی شدید بہاؤ کے ساتھ دریائے چناب کی جانب بہہ رہا ہے، پانی کا بہاؤ کم کرنے کے لیے شگاف میں پتھر ڈالے جا رہے ہیں، ملتان سے جھانگڑہ تک 8 ویں روز بھی موٹروے بند ہے۔

  • دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی میں کمی کا رجحان برقرار رہنے سے آمد 385055 کیوسک اور اخراج 356834 کیوسک ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 499850 کیوسک اور اخراج 446470 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 326942 کیوسک اور اخراج 306887 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،صوبائی حکومت دریائے سندھ کے بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے آج سے مون سون کا سیزن ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے، پانی کا لیول کم ہونے کی وجہ سے اب کافی اضلاع میں کشتیاں بھی آپریشنل نہیں ہے پنجاب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، ابھی پانی کا لیول کم ہو رہا ہے ، بند توڑنا نہیں پڑا ہے۔

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ان کا کہنا تھا سیلاب کی صورتحال میں تمام اداروں نے مل کر کام کیا، پنجاب میں آج تک 28 اضلاع میں 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، سب سے زیادہ علی پور، ملتان اور جلال پور میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے،24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آیا، چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد متاثر ہو ئی ہے، محکمہ زراعت نے مویشیوں کو چارہ دینے میں بہت مدد کی اور لائیو اسٹاک کو بچایا، 425 میڈیکل کیمپس میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی، کل سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ایک ہلاکت ہوئی، اب تک پوری سیلابی صورتحال میں 123 افراد جاں بحق ہوئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سندھ میں سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث کچے کا وسیع علاقہ ڈوب گیا ہے، گھروں میں پانی داخل ہونے کے ساتھ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    سیلابی ریلا آنے کے بعد دیہاتیوں کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےکندھ کوٹ میں سیلابی پانی سے 80 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہےپنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اُترنا شروع ہو گیا ہے لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے لگے جبکہ متاثرین نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ منجٹھ کے قریب مزید زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی کا تیز بہاؤ سڑک بہا کرلے گیا ہے،پانی کے تیز بہاؤ سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔