Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • نیپال میں تباہ کن سیلاب: 64 سالہ خاتون اور 1 چینی شہری کو 10 دن بعد ملبے سے نکال لیا گیا

    نیپال میں تباہ کن سیلاب: 64 سالہ خاتون اور 1 چینی شہری کو 10 دن بعد ملبے سے نکال لیا گیا

    نیپال میں 64 سالہ چندریکا شریستھا کو ضلع نواکوٹ کے بیتراوتی علاقے میں ایک چار منزلہ مکان کے ملبے سے 10 دن بعد زندہ نکالا گیا۔

    نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے 10 روز (240 گھنٹے) بعد آرمڈ پولیس فورس نے نوواکوٹ ضلع کے علاقے بیٹراواٹی میں ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے دبی 64 سالہ خاتون چندیکا کماری شریستھا (Chandika Kumari Shrestha) کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے اندر سے ان کی آواز سنی، جس کے بعد کارروائی کرکے انہیں باہر نکالا گیا،خاتون کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، آرمڈ پولیس فورس کی 9 رکنی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں بے ہوش مگر زندہ حالت میں باہر نکالا،اسی روز ایک چینی شہری کو بھی ہائیڈرو پاور منصو بے کی سرنگ سے تقریباً 10 دن بعد زندہ نکالا گیا ہے، یہ گزشتہ 2 روز کے دوران تریشولی پن بجلی منصوبے کے مقام پر تیسری کامیاب ریسکیو کارروائی ہے۔

    اس سے قبل جمعے کو تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ سے 2 نیپالی کارکنوں کو زندہ باہر نکالا گیا تھا۔

    نیپالی فوج کے مطابق چینی شہری کو نکالنے کی کارروائی میں نیپالی فوجی اہلکاروں کے ساتھ جنوبی کوریا کے ڈیزاسٹر رسپانس ماہرین نے بھی حصہ لیا،متاثرہ شخص کو 225 میٹر طویل سرنگ سے زندہ نکالا گیا، جس کے بعد اسے طبی معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

    فوج کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں چینی شہری کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ سفر کے دوران ایک فوجی طبی اہلکار بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔

    نیپالی حکام کے مطابق ملک کے 12 پن بجلی منصوبوں میں تقریباً 900 کارکن تاحال لاپتا ہیں، جن میں سے لگ بھگ 500 کے مختلف سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تباہی گلیشیئر کے انہدام کے بعد آنے والے شدید سیلاب سے ہوئی، جس میں 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہئں ، جبکہ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 5000 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں،امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور سرنگوں، تباہ شدہ عمارتوں اور دیگر مقامات پر پھنسے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔

  • نیپال میں سیلابی ملبے سے کروڑوں روپے کا سونا اور نقدی برآمد

    نیپال میں سیلابی ملبے سے کروڑوں روپے کا سونا اور نقدی برآمد

    نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ملبے تلے دبے ایک بینک سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا، نقد رقم اور اہم دستاویزات برآمد کر لی گئیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیپال پولیس نے کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد کرشی وکاس بینک کی تریشولی ڈھونگے شاخ کے ملبے میں دبے لاکرز تلاش کیے،لاکرز سے تقریباً 50 کروڑ نیپالی روپے مالیت کا سونا، ڈیڑھ کروڑ روپے نقد اور متعدد اہم دستاویزات برآمد ہوئیں جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے جاری ویڈیو میں اہلکاروں کو بینک کے بیسمنٹ تک پہنچنے کیلئے ملبہ ہٹاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بھاری مشینری کی مدد سے لاکرز کو بھی باہر نکالا گیا۔

    نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں متعدد عمارتیں اور گاڑیاں کئی فٹ ملبے تلے دب گئی ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں کئی بینکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے،دوسری جانب ساتویں روز بھی امدادی کارروائیوں کے جاری رہنے اور مزید لاشیں ملنے کے بعد نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3,916 رہ گئی ہے، دوسری جانب چین میں سرکاری ذرائع کے مطابق 546 افراد لاپتہ ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 4,462 ہو چکی ہے نیپال میں لاپتہ افراد میں 30 سے زائد ممالک کے 583 غیر ملکی سیاح اور شہری شامل ہیں، جبکہ چین میں 23 ممالک کے 261 غیر ملکی لاپتہ ہیں۔

  • لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے جغور گول نالہ میں سیلاب کے باعث گاؤں میں پانی داخل ہوگیا جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    سیلاب کے باعث26 مکانات اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہےسیلاب میں ایک رابطہ پل بھی بہہ گیا اور کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ سیلاب سے قابل کاشت زرعی اراضی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا،متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو و فلاحی اداروں کی امداد ٹیمیں پہنچ گئیں جہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر راؤ حاشم عظیم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجد علی یوسفزئی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق،دوسری جانب خیبر پختو خوا کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، ملاکنڈ، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، کرم، خیبر، باجوڑ، ڈیرہ اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوراں بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز دیر میں 61 ملی میٹر بارش، مالم جبہ میں 25، چراٹ اور کاکال میں 22، بالاکوٹ اور پشاور میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

  • دریائے چناب میں سیلابی صورتحال، کئی ایکڑ رقبے پر کھڑ ی فصلیں زیر آب

    دریائے چناب میں سیلابی صورتحال، کئی ایکڑ رقبے پر کھڑ ی فصلیں زیر آب

    لاہور: دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے-

    محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہےضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلا ب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

    دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑ ی فصلیں زیر آب آ گئیں، دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا،اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیاد و ں پر کارروائی جاری ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہادریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہےہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہےنارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہےدوسری جا نب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔

  • بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں واقع سلال ڈیم کے تمام 11 دروازے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں دو لاکھ چوبیس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہو گیا ہے۔

    محکمہ ایریگیشن پنجاب نے ڈیم کے گیٹس کھولے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے سیالکوٹ اور وزیر آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد کا کہنا ہے کہ ضلع میں تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے بڑے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے، یہ بڑا سیلابی ریلا اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر وزیر آباد اور سیالکوٹ کے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے جس سے دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

    فی الوقت دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور دیگر بیراجوں پر شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 75 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے خانکی بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد کے باعث بلند درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک پانی کی آمد سے صورتحال فی الحال معمول کے مطابق بتائی جا رہی ہےدریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

    اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی

    دوسری جانب ملک بھر میں جاری مون سون کے دوسرے طوفانی اسپیل نے شدید تباہی مچائی ہوئی ہے پنجاب میں دو دنوں کے دوران بارشوں اور حادثات کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہو چکے ہیں گوجرانوالہ میں 31 گھنٹوں کے دوران 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔

    لاہور، فیصل آباد، نارووال، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سمیت متعدد شہروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہےشکر گڑھ میں نالہ بئیں اور کامونکی میں نالہ ڈیک میں طغیانی آنے سے بند ٹوٹ گئے اور پانی کئی آبادیوں اور دیہات میں داخل ہو گیا ہے، جس سے دسیوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

    پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے خیبرپختونخوا میں تین روز کے دوران حادثات کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہو گئے گلگت بلتستان کے ضلع دیامرمیں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث استور ویلی اور دیگر اہم سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی میں طغیانی آ گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • افغانستان میں سیلاب سے تباہی، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

    افغانستان میں سیلاب سے تباہی، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

    افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان میں شدید سیلاب نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 100 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاروں کو ملبے تلے دبے افراد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دور دراز علاقے پرون میں مقامی افراد لکڑی کے ڈنڈوں اور اپنے ہاتھوں سے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں،سیلابی ریلے نے صوبائی دارالحکومت پرون میں متعدد دکانیں تباہ کر دیں، جبکہ بڑے بڑ ے پتھر عمارتوں سے ٹکرا گئے، امدادی کارکن بیلچوں اور ہاتھوں کی مدد سے ملبہ ہٹا کر متاثرین کو تلاش کررہے ہیں۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ سیلاب انتہائی خوفناک تھا ایک فارماسسٹ فرید گل ظہیر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا خطرناک سیلاب نہیں دیکھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے زلزلہ آیا ہو،نورستان کے حکام کے مطابق پرون کے میئر اور کئی سرکاری اہلکار بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں ، سیلاب سے ہوٹل، بازار اور دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

    افغان ہلال احمر کے ترجمان جمعہ خان نائل نے صورتحال کو انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ رضاکار متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور خیمے فراہم کر رہے ہیں،افغان وزارت دفاع نے امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے فوج تعینات کر دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلی اور سیلابی صورتحال سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں حالیہ برسوں میں قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے۔

  • وزیراعظم  کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے گوانگشی ژوانگ خودمختار علاقے، ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن طوفانوں، بگولوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنےبیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس مشکل گھڑی میں چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت اور عوام، خصوصاً سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں پاکستان اپنے چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی، جبکہ امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔

    واضح رہے کہ چینی حکام کے مطابق مختلف صوبوں میں اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،گوانگشی میں موسلادھار بارشوں کے باعث درجنوں دریا خطرے کی سطح سے بلند ہو گئے، ایک آبی ذخیرے کا بند بھی ٹوٹ گیا، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  • اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث شدید سیلاب سے واحد رابطہ پل بہہ گیا، زمینی رابطہ منقطع

    اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث شدید سیلاب سے واحد رابطہ پل بہہ گیا، زمینی رابطہ منقطع

    اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی، جس سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی –

    اطلاعات کے مطابق یارخون کے علاقے بانگ گول میں اچانک سیلاب آنے سے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھروں، باغات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا اور کئی علاقے زیرِ آب آ گئے-

    انتظامیہ کے مطابق شدید سیلاب کے باعث بنگ نالہ پر قائم واحد رابطہ پل بھی دریا برد ہوگیا، جس سے یارخون ویلی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی پل بہہ جانے کے بعد یارخون کی تقریباً 50 ہزار آبادی کا واحد زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے مستوج، بروغل روڈ بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    علاقے کے عوام نے متعلقہ حکام، حکومتِ خیبر پختونخوا اور فلاحی تنظیموں سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے، متبادل راستے بحال کرنے اور متاثرہ افراد کی مدد کی اپیل کی ہے۔

  • چین کےصحرائی علاقوں میں شدید  سیلابی صورت حال کا امکان

    چین کےصحرائی علاقوں میں شدید سیلابی صورت حال کا امکان

    چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں رواں موسمِ گرما میں شدید سیلابی صورت حال کے لیے تیار رہیں، کیونکہ غیر معمولی گرمی، شدید بارشوں اور گلیشیئر ز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے سب سے بڑے صحرائی علاقے، تکلامکان ریگستان، میں جون کے آغاز ہی میں رواں سال کا پہلا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جمعے کے روز نشر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی عام طور پر خشک رہنے والے ریت کے ٹیلوں میں بھر گیا، اگرچہ تکلامکان ریگستان میں 2021 سے ایسے سیلاب آتے رہے ہیں، تاہم عموماً یہ اگست میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جب درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے، اس سال صورتحال مختلف رہی اور گرمی کی شدت معمول سے کہیں پہلے بڑھ گئی۔

    رائٹرز کلائمیٹ مانیٹر کے مطابق 12 جون کو سنکیانگ کا درجہ حرارت اس موسم کے معمول سے 7.3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا سنکیانگ کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران بارشوں کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، سی سی ٹی وی کے مطابق بعض علاقوں میں جون کے اوائل کے تاریخی اوسط کے مقابلے میں بارشیں دو سے تین گنا زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

    شدید گرمی اور بارشوں کے امتزاج نے صحرائی سیلابوں کو جنم دیا ہے، تیان شان اور کونلون پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز اور برف کی وسیع تہیں تیزی سے پگھل رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کا بہاؤ چین کے سب سے طویل اندرونی دریا، دریائے تاریم، میں پہنچ رہا ہے، پانی کی اس بڑی مقدار کے باعث دریائے تاریم اپنے کناروں سے باہر نکل آیا اور اس کا پانی صحرائی علاقے کے نشیبی حصوں میں پھیل گیا۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ موسمی سیلاب عارضی طور پر مختصر مدت کے لیے نخلستان نما علاقے پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ان کے زیادہ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تکلامکان ریگستان سمندر سے بہت دور واقع ہے اور چاروں طرف بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جس کے باعث نمی کی سطح کم رہتی ہے جبکہ شدید بخارات جلد ہی پانی کو خشک کر دیتے ہیں، اگرچہ یہ پانی مقامی جنگلات کے لیے اہم آبپاشی فراہم کرتا ہے، تاہم حکام نے خبر دار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    چین کی موسمیاتی انتظامیہ کی تجزیہ کار سن چیان چیان نے سی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید سیلاب سڑکوں، ریلوے لائنوں اور تیل و گیس کی تنصیبات کو تباہ کر سکتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر آفات کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے،سیلابی موسم کے دوران ان علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو سرکاری انتباہات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اپنے سفری منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

  • خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے متعلقہ 5 حساس اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں موسمی صورتحال کے پیش نظر گلیشیئرز پگھلنے کا امکان ہےشدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کا خدشہ ہے پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ کو حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی اور فوری وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلاء سے متعلق مشقیں کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہےجبکہ محفوظ مقامات پر انخلاء مراکز کو مکمل طور پر فعال اور سہولیات سے لیس رکھنے کی تاکید کی گئی ہے پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر الرٹ ر ہنے اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

    ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری اور آلات پہلے سے تعینات کرنے جبکہ عوام کو ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیوں کے بہہ جانے کے خطرے سے متعلق عوام کو خبردار کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو حساس علاقو ں کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی سڑکوں کی بندش یا نقصان کی صورت میں این ایچ اے، ایف ڈبلیو او اور سی اینڈ ڈبلیو سے فوری رابطے جبکہ شدید خطرے کی صورت میں گلیشیائی جھیلوں کے کنٹرولڈ اخراج پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔