Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • جاپانی سفیرکی پاک فوج کےسربراہ سےملاقات:سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئےمکمل تعاون کی پیشکش

    جاپانی سفیرکی پاک فوج کےسربراہ سےملاقات:سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئےمکمل تعاون کی پیشکش

    راولپنڈی:پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرین کی بحالی کے لیے جاپان نے مکمل تعاون کی پیشکش کر دی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار سے جاپانی سفیر نے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر جاپانی سفیر نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا اور سیلاب متاثرین سے اظہار تعزیت کی۔

    بیان کے مطابق جاپانی سفیر نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پاکستان کو مکمل تعاون کی پیشکش کی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیوں کو سراہا۔

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سلامتی کیلئے جاپان کے کردار کو سراہتا ہے،پاکستان، جاپان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے خواہاں ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے عالمی برادری کا کردار اہم ہے۔

  • ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی زیر صدارت ریلیف سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلا اجلاس ہوا ہے ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی امداد برائے سیلاب سے متعلق سرگرمیوں کے پہلے اجلاس کی صدارت ہوئی۔

    میٹنگ کا ایجنڈا "انسانی امداد اور امدادی کوششوں کی نقشہ سازی” تھا۔

    اجلاس میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، وزارت خارجہ، وزارت صحت، بی آئی ایس پی، وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور او سی ایچ اے کے نمائندوں اور وزارت اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیر اقتصادی امور نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد کی موثر اور موثر فراہمی کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری کی بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک کو درپیش تباہی کے لیے بھرپور مدد فراہم کرنے پر شکر گزار ہے ۔

    انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ اس وقت پاکستان سیلاب متاثرین کو خوراک، پناہ گاہ، طبی سہولت، مچھر دانی وغیرہ کی فراہمی کے ساتھ فوری امداد فراہم کرنے کے پہلے مرحلے میں ہے۔ “ہمیں ابھی بھی بحالی اور تعمیر نو کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔ تباہی بے حد ہے۔

    اجلاس کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں سیلاب کی صورتحال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہر گھر کو نقد امداد فراہم کرنے کے لیے کیے گئے امدادی اقدامات اور حالیہ اقدام پر روشنی ڈالی۔

    بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے کوششوں کو سراہا اور اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو تسلیم کیا جو انہیں حکومت کے ساتھ زیادہ موثر انداز میں ہم آہنگی میں مدد فراہم کرے گا۔وزیر ای اے ڈی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ 15 اکتوبر تک ڈیمیج نیڈز اسسٹنس رپورٹ تیار ہو جائے گی جو سیلاب سے ہونے والے مجموعی نقصان کی مکمل تصویر فراہم کرے گی۔

    ترقیاتی شراکت داروں بشمول ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین، یو ایس ایڈ اور اقوام متحدہ نے اب تک فراہم کی گئی امداد کی تفصیلات شیئر کیں اور آنے والے دنوں میں مزید کا وعدہ کیا۔ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت کے بارے میں بات کی۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    کراچی:گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق ،اطلاعات کےمطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں 78,000 سے زائد مریضوں نے ہیلتھ کیمپوں میں رپورٹ کیا ، صوبے میں بیماریوں کا پھیلنا باعث تشویش ہے، جہاں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں سے مزید 6 اموات ہوئیں۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، دو کی موت گیسٹرو اینٹرائٹس سے ہوئی، دو کی موت پائریکسیا آف نامعلوم اصل (PUO) سے ہوئی – ایک ایسی حالت جس میں ایک شخص کا درجہ حرارت تین ہفتوں سے زیادہ بیماری کے ساتھ ہوتا ہے – اور ایک ایک مایوکارڈیل انفکشن اور کارڈیو پلمونری گرفتاری سے۔

    محکمہ نے بدھ کو روزانہ کی صورتحال کی رپورٹ میں کہا کہ یکم جولائی سے اب تک صوبے میں مختلف بیماریوں سے 324 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سندھ، جہاں ملک کے شمال سے آنے والے سیلابی پانی اور بلوچستان سے آنے والے پہاڑی دھاروں نے صحت کے مسائل کو جنم دیا ہے، وہاں ہزاروں لوگوں کو سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے اور اب مختلف بیماریوں، خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔

    پاکستان کے پہلے ہی کمزور صحت کے نظام اور امداد کی کمی کے باعث، بے گھر خاندانوں نے بیماری سے متاثرہ پانی پینے اور کھانا پکانے پر مجبور ہونے کی شکایت کی ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • بلوچستان کے ضلع چاغی کیلئے ایمبولینسز فراہم

    بلوچستان کے ضلع چاغی کیلئے ایمبولینسز فراہم

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی درخواست پر عالمی ادارہ صحت نے ضلع چاغی کیلئے ایمبولینسز فراہم کر دیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کچھ عرصہ قبل ضلع چاغی کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں بہتر بنانے اور صحت کے مراکز تک مریضوں کی آسان رسائی کیلئے ضلع چاغی کو خصوصی طور پر ایمبولینسز فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے وسیع رقبہ پر پھیلے ضلع چاغی کیلئے ایمبولینسز، طبعی آلات، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے مشینز فراہم کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کے اسلام آباد میں واقع دفتر میں ایک مختصر مگر پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی تھے جس میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے بھی شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر پلیتھا گونراتھنا ماہیپالا نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت شدید قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں عارضی صحت کے مراکزاور طبی آلات سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کئے جا رہے ہیں۔متاثرہ علاقوں میں ملیریا، ڈینگی اور ڈائریا کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں کو غذائی قلت کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں اور اس مشکل وقت میں پاکستان کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کی بھرپور مدد پر سینیٹ اور پاکستانی عوام کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور سیلاب کی ابتدائی تباہ کاریوں کے بعد ابھی بھی متاثرین کی مکمل بحالی کا مشکل مرحلہ باقی ہے۔ تمام ادارے لوگوں کو صاف پانی اور غذا فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو وبائی امراض سے بچانے کیلئے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ڈبلیو ایچ او نے بہترین کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں دور دراز علاقوں میں بہت سے اقدامات اٹھانا ابھی باقی ہے اور عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بہت بڑامسئلہ ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ان مسائل پر قابو پا کر پسماندہ علاقوں میں بھی صحت کی بنیادی سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    دھویں دار مخبریاں، عمران خان نے اپنا کباڑہ کر لیا، نواز شریف کیلیے بری خبر

    ٹیلی تھون میں اربوں جمع کرنے کا دعویٰ ،سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے کپتان لے کر گیا خالی ٹرک باغی ٹی وی سب حقائق سامنے لے آیا

  • چائے بنانے والےغیرملکی کمپنی کیطرف سیلاب زدگان میں 1 ٹن چائے تقسیم

    چائے بنانے والےغیرملکی کمپنی کیطرف سیلاب زدگان میں 1 ٹن چائے تقسیم

    کراچی: چائے بنانے والے غیرملکی کمپنی ایکاٹیرا(ekaterra) نےتباہ کُن سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے 10 لاکھ خاندانوں کے لیے 100 ٹن چائے کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے سیلاب زدگان میں1 ٹن چائے تقسیم کردی ہے ۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی کمپنی ایکاٹیرا نے سیلاب متاثرین میں چائے کی تقسیم انڈس اسپتال، دی سٹیز ن فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن، روشن اکیڈمی اورکمپنی کی اپنی شراکت داراین جی اوزکے ذریعے کی-

    پاکستان سیلاب کی تباہ کاری اور قرضوں کے باوجود بالکل ڈیفالٹ نہیں ہوگا. مفتاح…

    صدر اور جنرل منیجر پاکستان ایکاٹیرا فرحین سلمان عامر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ”اگر“ کا نہیں بلکہ ”کب“ کا ہے کہ ہم کب تک اپنی ماں جیسی سرزمین کےساتھ ہونے والی ماحولیاتی بدسلوکی کے نتائج برداشت کرتے رہیں گے،ا ہم قدرت سے کچھ لینے سے زیادہ اُسے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کے پاکستان میں گرین ہاؤسز گیسوں کا اخراج دنیا کے 1 فیصد سے بھی کم ہے اس کے باوجود پاکستان شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔

    ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں. وزارتِ فوڈ سیکورٹی

    محتاط اندازے کے مطابق ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے33 ملین پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے، اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، اور 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ،اور 10 لاکھ خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔

    سیلاب کے نتیجے میں 2لاکھ 18 ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے اور 5 لاکھ کے قریب گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، سیلاب سے 7 لاکھ پچاس ہزار سے زائد مویشی لقمہ اجل بن چکے ہیں اور تقریباََ 20 لاکھ ایکڑرقبے پر محیط فصل مکمل تباہ ہوچکی ہے۔

    نیویارک،وزیراعظم کی کس کس سے ہوں گی ملاقاتیں؟ تفصیل سامنے آ گئی

  • پاک انگلینڈ سیریز: سیلاب متاثرین کی اسٹیڈیم میں انٹری مفت ہوگی

    پاک انگلینڈ سیریز: سیلاب متاثرین کی اسٹیڈیم میں انٹری مفت ہوگی

    کراچی :پاک انگلینڈ سیریز کیلئے سیلاب متاثرین اسٹیڈیم میں مفت داخل ہوسکیں گے،اطلاعات کے مطابق کراچی پولیس چیف جاویدعالم اوڈھو اور ڈی آئی جی ایس ایس یو مقصود میمن نے نیشنل اسٹیڈیم میں سیکیورٹی کے حوالے سے پی سی بی کے آفیشلزکے ساتھ میٹنگ کی۔

    میٹینگ میں ٹیموں کی سیکورٹی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ تمام فورسز کے اہلکارکل ہونے والی ریہرسل میں حصہ لیں گے۔

    جاوید عالم اوڈھو اور مقصود میمن نے کہا پی سی بی نے سیلاب متاثرین کو فری ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے، ہم سیلاب متاثرین کو خوشیاں دیں گے۔انہوں نے کہا سیلاب متاثرین کیلئے اسٹیڈیم میں فری انٹری ہوگی جس پر چیئرمین پی سی بی رضامند ہیں، ہماری ٹیمیں ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں گی۔

    کراچی پولیس چیف جاویدعالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی کھلاڑی کو باہر جانے سے نہیں روکا، پی سی بی جب ہمیں آگاہ کرے گا ہم کھلاڑیوں کو جانے دیں گے۔

    کھلاڑیوں کو صدارتی پروٹوکول دیا گیا ہے، صدارتی پروٹوکول میں باہر جانے کیلئے ایک روزقبل پیشگی اطلاع دینی پڑے گی، اگر کھلاڑی باہر جانا چاہتے ہیں تو پی سی بی کے ذریعے ہمیں اطلاع دیں۔انہوں نے کہا سیکورٹی پلان مناسب انداز سے بنایا گیا ہے، انگلینڈ کی ٹیم کوبہترین سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، انگلش سیکورٹی آفیشلز ہماری پلاننگ سے خوش ہیں، انگلش ٹیم کی سیکیورٹی پر5 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ڈیرہ اسمٰعیل خان:کہیں امن تو کہیں چوریاں ڈاکے،مسجد کی ٹوٹیاں تک اتارلی گئی

    ڈیرہ اسمٰعیل خان:کہیں امن تو کہیں چوریاں ڈاکے،مسجد کی ٹوٹیاں تک اتارلی گئی

    ڈیرہ اسماعیل خان:نوجوان سماجی شخصیت سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل کے سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کے دورے،علاقہ معززین ومشران سے ملاقاتیں اورعلاقے کودرپیش مسائل کے حوالے سے بات چیت،دستیاب وسائل بروئے کارلاکر سیلاب زدگان کی بلاتفریق مددکررہے ہیں اوران کی بحالی کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں، سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل۔تفصیلات کے مطابق نوجوان سماجی شخصیت سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کے دورے کررہے ہیں اورسیلاب زدگان کی بلاتفریق مددکررہے ہیں۔

    سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل سیلاب متاثرین کوکھاناودیگرامدادی سامان فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔اب انہوں نے سیلاب زدگان کے گھروں کی بحالی کے سلسلے میں کام کاآغازکیاہے اوراس سلسلے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے معززین علاقہ ومشران سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے۔اس حوالے سے سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل نے ملک امیراحمدکے ہمراہ حاجی ثناء اللہ کے ساتھ گنڈی عاشق کے حجرہ میں ملاقات کی جہاں انہوں نے متاثرین سیلاب کے درپیش مسائل کے حل کیلئے گفتگوکی۔ اس موقع پرسردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل کوعلاقے میں سیلابی صورتحال اورسیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں جس کے ازالے کیلئے سردارحیدرخان میانخیل اورشیرازمغل نے فوری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔

     

     

    ادھر سابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کی عوامی شکایات اوریوٹیلیٹی سٹوروں پر سامان کی عدم دستیابی پرریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار سے اس کے آفس میں ملاقات۔ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یارواضح جواب نہ دے سکے اورآئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔تفصیلات کے مطابق سابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی نے یوٹیلیٹی سٹوروں پر اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی اورعوام کوگھنٹوں انتظارکرانے پر ایکشن لیتے ہوئے ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار سے اس کے آفس میں ملاقات کی اوران کی سخت سرزنش کی۔ملاقات کے دوران ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کومطمئن نہ کرسکے اورکوئی خاطرخواہ جواب نہ دے سکے۔

    اس حوالے سے نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی نے کہاکہ عوام کے حقوق پر ڈاکے مارنے والے کومعاف نہیں کیاجائے گااوراس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے معلوم ہواہے کہ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار نے اپنے سیاسی آقاؤں سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ اس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیاجائے۔واضح رہے کہ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یارکی کرپشن اورمالی بدعنوانیوں کے خلاف کافی عرصے سے عوامی شکایات منظرعام پر آرہی ہیں۔نااہل ریجنل منیجریوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہریارکی تعیناتی سے یوٹیلیٹی سٹوروں پراشیائے ضروریہ کا کوٹہ انتہائی کم کردیاگیاہے جبکہ عوام کو گھنٹوں لائنوں میں انتظارکے باوجوداشیاء نہیں ملتی ہیں۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ریجنل منیجر طاہر یار کے خلاف ایکشن لینے پرسابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے۔

    ادھرسابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کی عوامی شکایات اوریوٹیلیٹی سٹوروں پر سامان کی عدم دستیابی پرریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار سے اس کے آفس میں ملاقات۔ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یارواضح جواب نہ دے سکے اورآئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔تفصیلات کے مطابق سابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی نے یوٹیلیٹی سٹوروں پر اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی اورعوام کوگھنٹوں انتظارکرانے پر ایکشن لیتے ہوئے ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار سے اس کے آفس میں ملاقات کی اوران کی سخت سرزنش کی۔ملاقات کے دوران ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کومطمئن نہ کرسکے اورکوئی خاطرخواہ جواب نہ دے سکے۔

    اس حوالے سے نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی نے کہاکہ عوام کے حقوق پر ڈاکے مارنے والے کومعاف نہیں کیاجائے گااوراس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے معلوم ہواہے کہ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یار نے اپنے سیاسی آقاؤں سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ اس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیاجائے۔واضح رہے کہ ریجنل منیجر یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہر یارکی کرپشن اورمالی بدعنوانیوں کے خلاف کافی عرصے سے عوامی شکایات منظرعام پر آرہی ہیں۔نااہل ریجنل منیجریوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن طاہریارکی تعیناتی سے یوٹیلیٹی سٹوروں پراشیائے ضروریہ کا کوٹہ انتہائی کم کردیاگیاہے جبکہ عوام کو گھنٹوں لائنوں میں انتظارکے باوجوداشیاء نہیں ملتی ہیں۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ریجنل منیجر طاہر یار کے خلاف ایکشن لینے پرسابق ایم پی اے وجمعیت علماء اسلام کے امیدوارصوبائی اسمبلی پی کے112سٹی ٹونوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے۔

    ادھر پولیس کے مطابق جان ہاؤسنگ کالونی فیز 2 نزد گیلانی ٹاؤن میں نامعلوم چورآدھی رات کو مسجد سلمان فارسی سے دو نئی بیٹریاں اڑا لے گئے، مسجد میں آنے والے نمازیوں سمیت بچوں کو مشکلات کا سامنا،اس حوالے سے مسجد انتظامیہ کی مخیر حضرات سے مددکی اپیل۔ مخیر حضرات امداد کیلئے اس نمبر 03229127974پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جان ہاؤسنگ کالونی فیز ٹونزدگیلانی ٹاؤن میں نامعلوم چورآدھی رات کومسجد سلمان فارسی سے دونئی بیٹریاں چوری کرکے لے گئے۔ بیٹریاں چوری ہونے والے مسجد میں آنے والے نمازیوں سمیت قرآن پاک پڑھنے والے بچوں کو مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔ اس حوالے سے مسجد انتظامیہ نے نئی بیٹریاں خریدنے کیلئے مخیر حضرات سے مددکی اپیل کی ہے۔مسجد انتظامیہ کاکہناہے کہ ثواب کے کام میں دل کھول کر حصہ ڈالیں اوراپنی دنیاوآخرت سنواریں۔انہوں نے کہاکہ امداد کرنے والے مخیر حضرات اس نمبر 03229127974پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    جان ہاؤسنگ کالونی میں زیرتعمیر مکان سے نامعلوم چور ٹوٹیاں اورپانی کی موٹرچوری کرکے لے اڑے،کینٹ پولیس نے نامعلوم چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق جان ہاؤسنگ کالونی میں چوری کی وارداتوں میں روزبروز اضافہ ہورہاہے۔ گزشتہ رو زنامعلوم چورجان ہاؤسنگ سکیم میں زیرتعمیر مکان سے تالے توڑ کر ٹوٹیاں اورپانی کی موٹرچوری کرکے لے گئے۔ بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں کی وجہ سے اہلیان علاقہ عدم تحفظ کا شکارہیں۔ انہوں نے ڈی پی او ڈیرہ سے چوری کی وارداتوں میں ملوث چوروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیاہے۔ تھانہ کینٹ پولیس نے نامعلوم چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان:پشاور مفتی محمود مرکزمیں جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کی مجلس عمومی کا اجلاس سینٹر مولانا عطاء الرحمن کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطاء الحق درویش نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ عبدالجلیل جان شعبہ اطلاعات نورالاسلام شعبہ مالیات محمد اسرار انصار الاسلام مولانا احمد علی درویش مفتی محمود مرکز میں سالانہ رپورٹ پیش کی۔ سینٹر مولانا عطاء الرحمن نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں سیلاب کی صورتحال اضلاع کی تنظیموں کی متاثرین سیلاب کے لیے فعال سرگرمیوں ضمنی انتخابات آئندہ عام انتخابات صوبہ میں امن امان کی صورتحال اور دیگر اہم امور سے متعلق تفصیلی خطاب کیا۔تفصیلات کے مطابق پشاور مفتی محمود مرکزمیں جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کی مجلس عمومی کا اجلاس سینٹر مولانا عطاء الرحمن کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطاء الحق درویش نے رپورٹ پیش کی۔ عبدالجلیل جان شعبہ اطلاعات نورالاسلام شعبہ مالیات محمد اسرار انصار الاسلام مولانا احمد علی درویش مفتی محمود مرکز میں سالانہ رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں سینٹر مولانا عطاء الرحمن نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں سیلاب کی صورتحال اضلاع کی تنظیموں کی متاثرین سیلاب کے لیے فعال سرگرمیوں اور آئندہ عام انتخابات اور صوبہ میں امن امان اوردیگراہم امور سے متعلق خطاب کیا۔

    ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے چیئرمین شاہجہان خان کی ہدایت پر صدر بازار ڈیرہ سے فوارہ چوک ڈیرہ تک نکاسی آب کے بند نالوں جن کو تاجران برادری نے اپنی اپنی دکانوں کے سامنے بند کر دیا تھا۔ ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے چیئرمین شاہجہان خان کی خصوصی ہدایت پر ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے سپروائزر عبدالرحمان خان سدوزئی اور چیف سینیٹری انسپکٹر جاوید خان نے ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے اہلکاروں سمیت ایکسیویٹر مشین اور دیگر مشینری کے ہمراہ نکاسی آب کے نالوں کو کھولا گیا عوامی شکایات پر سرکلر روڈ صدر بازار ڈیرہ سے فوارہ چوک ڈیرہ تک نکاسی آب کا پانی سڑک کنارے کھڑا رہتا تھا۔ جبکہ نکاسی آب کے نالے کو ایکسیویٹر مشین سے کھولا گیا اور نکاسی آب کا پانی سڑک پر جمع تھا وہ ختم ہو گیا۔ ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے چیئرمین شاہجہان خان نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب کے نالوں کو کنکٹریٹ سیمنٹ سے بند نہ کیا جائے کیونکہ ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کا عملہ صفائی نہیں کر سکتا۔ نکاسی آب کے نالے کی صفائی اور کھدائی کروانے پر اہلیان علاقہ کی عوام نے ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کے چیئرمین شاہجہان خان اور سپروائزر عبدالرحمان خان سدوزئی’ چیف سینیٹری انسپکٹر جاوید خان اور ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔

    چیف ایگزیکٹو پیسکو کے جاری اعلامیے کے مطابق تمام معززین پیسکو صارفین ڈی آئی خان کومطلع کیاجاتاہے کہ132کے وی گرڈاسٹیشن میں بوجہ سالانہ مرمتی اوورہالنگ اورپروٹیکشن کی وجہ سے مورخہ19-9-2022بروزسومواربوقت7:30بجے سے لے کر2:30بجے تک مندرجہ بالا فیڈرز کی بجلی منقطع رہے گی۔ شیخ یوسف نمبر2، توپانوالا،سی آربی سی،کوٹلہ حبیب،منیزآباد،کینٹ نمبر2،گمل،مفتی محمودہسپتال، ایم ای ایس فیڈرز پر بجلی منقطع رہے گی۔تفصیلات کے مطابق چیف ایگزیکٹو پیسکو کے جاری اعلامیے کے مطابق پیسکو صارفین ڈی آئی خان کومطلع کیاجاتاہے کہ132کے وی گرڈاسٹیشن میں بوجہ سالانہ مرمتی اوورہالنگ اورپروٹیکشن کی وجہ سے مورخہ19-9-2022بروزسومواربوقت7:30بجے سے لے کر2:30بجے تک درج ذیل فیڈرز کی بجلی منقطع رہے گی۔مورخہ19-9-2022بروزسومواربوقت7:30بجے سے لے کر2:30بجے تک شیخ یوسف نمبر2، توپانوالا،سی آربی سی،کوٹلہ حبیب،منیزآباد،کینٹ نمبر2،گمل،مفتی محمودہسپتال، ایم ای ایس فیڈرز پر بجلی منقطع رہے گی۔اس سلسلے میں عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

    تھانہ سٹی ایس ایچ او کاگن مین اختیارسے تجاوز کرنے لگا، عوام کو موٹرسائیکل ڈبل سواری کے نام پرتنگ کرنامعمول بنالیا۔گن مین خودکو ایس ایچ ظاہرکرنے لگا،بدتمیزی سے پیش آنے پرعوام کی عزت نفس مجروح ہونے لگی،ڈی پی او ڈیرہ کیپٹن (ر)نجم الحسنین لیاقت سے ایس ایچ اوتھانہ سٹی کے گن مین کوعوام سے اخلاق سے پیش آنے کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کاگن مین اختیارات سے تجاوز کرنے لگا۔معمولی معمولی باتوں پر عوام سے تلخ کلامی سے پیش آنا اس نے وطیرہ بنالیا ہے۔ چہلم محرم الحرام میں پولیس کی جانب سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ڈبل سواری پر عوام کو ذلیل وخوارکرنے لگاجس کی وجہ سے ان کی عزت نفس بری طرح مجروح ہورہی ہے۔ اس کے برعکس ایس ایچ او تھانہ سٹی خوش اخلاق انسان ہے اوراپنے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہاہے۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے کیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت سے ایس ایچ او تھانہ سٹی کے گن مین کواپنا قبلہ درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ گن مین کوعوام سے خوش اخلاقی سے پیش آنے کے احکامات جاری کریں ورنہ اس کا تبادلہ کسی دوردراز علاقے کردیاجائے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں 40 لاکھ خواتین اور بچوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا:حالات بگڑسکتے ہیں

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں 40 لاکھ خواتین اور بچوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا:حالات بگڑسکتے ہیں

    لاہور:پاکستان کے سيلاب متاثرہ علاقوں ميں 40 لاکھ خواتین اور بچے مختلف بيماريوں ميں مبتلا ہیں جنہیں فوری امداد نہ ملی تو زندگيوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ديگر اداروں نے حکومت کو خبردار کرديا۔

    رواں سال کے تباہ کن سیلاب کے بعد جنم لینے والی بیماریوں نے لاکھوں افراد خصوصاً بچوں اور خواتین کی زندگیوں کو داﺅ پر لگا دیا ہے اور آئندہ دنوں اس میں مزید اضافے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں لوگ خصوصاً بچے اور خواتین بیماریوں اور بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    صوبائی محکمہ صحت، یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ پروگرام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور منسٹری آف ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوارڈینیشن کی جانب سے حکومت کو اگلے دو تین ماہ میں ماں بننے والی خواتین کی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے۔

    مذکورہ اداروں نے حکومت کو سردی کے موسم میں سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں کے 1کروڑ 60 لاکھ بچوں کی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی متنبہ کیا گیا ہے۔

    بین الاقوامی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سیلاب کے باعث پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے تقریباً 7 کروڑ لوگ بے گھر ہوئے ہیں جب کہ پاکستان ریسرچ کونسل اور منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے مطابق تباہ کن سیلاب کے باعث تقریباً 4 کروڑ لوگ خوراک کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

    رواں برس میں مون سون سیزن کے دوران ہونے والی غیر معمولی بارشوں نے ملک کو تاریخ کی بدترین تباہی سے دوچار کیا۔ سیلاب کے نتیجے میں فصلوں، گھروں، معاشی ذرائع، جانوروں کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔

    قدرتی آفات صنف کے امتیاز کے بغیر سب کو متاثر کرتی ہیں تاہم خواتین پر ان کے اثرات دیرپا اور زیادہ ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جب قدرتی آفات خواتین اور بچوں پر اثرانداز ہوتی تو اموات کا تناسب کا خدشہ مردوں کی نسبت 14 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق 70 فیصد خواتین کو قدرتی آفات میں مختلف اقسام کے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، قدرتی آفات کے دوران خواتین اور لڑکیاں مردوں اور لڑکیوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

    ریسکیو اور ریلیف کے دوران بھی خواتین اور لڑکیوں کو کم ترجیح دی جاتی ہے، جب قدرتی آفت گزر جاتی ہے اور نام نہاد بحالی کا کام شروع ہوتا ہے تو خواتین مزید متاثر ہوتی ہیں۔ اُن پر کام کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے اور ان کی رسائی صحت اور تعلیم کی سہولیات تک مزید کم ہو جاتی ہیں۔ انہیں بحالی کے دوران نوکری کی سہولیات تک بھی کم رسائی دی جاتی ہے اور اُن کی تنخواہیں بھی انتہائی کم رکھی جاتی ہیں۔

    سیلاب نے پاکستان کے وسیع علاقے کو متاثر کیا ہے اور تقریباً 650,000 حاملہ خواتین جن میں سے 73000 اگلے ماہ ماں بن جائیں گی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یو این ایف پی اے کے مطابق ان خواتین کو صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جو نومولود کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی پاکستان میں ماں اور نومولود کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں مجموعی طور پر خواتین پر اثرات انداز ہوئی ہیں تاہم حاملہ خواتین اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    سیلاب نے پاکستان کے صحت کے مراکز کو تباہ کر دیا اور صرف صوبہ سندھ میں 1000 سے زیادہ مراکز صحت سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث 193 صحت کے مراکز تباہ ہوئے جب کہ سڑکیں اور مواصلات کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، ان رکاوٹوں سے حاملہ خواتین کی صحت بھی متاثر ہوئے۔ بحالی کے دوران پاکستانی اور بین الاقوامی اداروں کو حاملہ خواتین کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اوراس کے اثرات غیر معمولی ہوں گے:عالمی بینک

    پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اوراس کے اثرات غیر معمولی ہوں گے:عالمی بینک

    نیویارک:پاکستان میں سیلاب سے تباہی کی شدت عالمی اداروں نے بھی محسوس کی ہے اور اب توعالمی اداروں نے دنیا بھر سے اپیل کردی ہے کہ اگرپاکستان کی اس مشکل وقت میں مدد نہ کی گئی تو پاکستان میں بہت بڑا انسانی ، غذائی اور مالیاتی بحران آسکتا ہے جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے،

    اسی سلسلے میں عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات غیرمعمولی اور بحالی و تعمیر نو کیلئے بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے۔

    عالمی بینک کے حکام نے سماء سے خصوصی بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات غیر معمولی ہوں گے، جب کہ بحالی و تعمیر نو کیلئے بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے۔

    عالمی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ ڈیزاسٹر اینڈ اسسیسمنٹ پر کام جلد مکمل کر لیا جائے گا، عالمی بینک، یو این ڈی پی،اے ڈی بی،یورپی یونین مشترکہ جائزہ لے رہے ہیں۔

    حکام نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے مل کر سیلاب کے اثرات کا ابتدائی جائزہ تیار ہورہا ہے، وفاقی و صوبائی ڈیٹا کی بنیاد پر عالمی طریقہ کار کے مطابق کام جاری ہے۔

    پاکستان کواس وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے ، کہیں معاشی بحران تو کہیں معاشرتی مگر پچھلے دو ماہ سے پاکستان جس تکلیف اور کرب سے گزررہا ہے پاکستان کی تاریخ میں شاید ایسے پہلے نہیں ہوا، کئی ہفتوں سے جاری طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے۔

    پاکستان جیسے غریب ملک میں تقریباً 220 ملین آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک جولائی اور اگست میں مون سون کی تاریخی بارشوں کے بعد موسمیاتی بحران کا مرکز ہے۔اب تک 1527 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    12758 افراد زخمی ، 18 لاکھ سے زائد مکانات تباہ 12 ہزار 718 کلومیٹر سڑکیں تباہ جبکہ 9 لاکھ 27 ہزار سے زائد جانور اور مویشی بھی جان کی باری ہارگئے ہیں

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے شدید موسم کو ’’عشرے کا مونسٹر مانسون‘‘ قرار دیا۔

    وفاقی وزیراحسن اقبال کے مطابق انکی حکومت نے کل مالی نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالر لگایا ہے، جس میں کم از کم چار ملین ہیکٹر (9.8 ملین ایکڑ) زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔

    پاکستان اور اقوام متحدہ دونوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو شدید موسم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بارش کی سطح کو "ایپوچل” قرار دیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ملک کے 160 میں سے کم از کم 81 اضلاع کو سیلاب سے "آفت زدہ” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • طوفانی بارشوں اورسیلاب نےپاکستان کوتباہ کردیا:1500سےزائد جانحق3کروڑسےزائد بےگھر

    طوفانی بارشوں اورسیلاب نےپاکستان کوتباہ کردیا:1500سےزائد جانحق3کروڑسےزائد بےگھر

    لاہور:پاکستان کواس وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے ، کہیں معاشی بحران تو کہیں معاشرتی مگر پچھلے دو ماہ سے پاکستان جس تکلیف اور کرب سے گزررہا ہے پاکستان کی تاریخ میں شاید ایسے پہلے نہیں ہوا، کئی ہفتوں سے جاری طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے۔

    پاکستان جیسے غریب ملک میں تقریباً 220 ملین آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک جولائی اور اگست میں مون سون کی تاریخی بارشوں کے بعد موسمیاتی بحران کا مرکز ہے۔اب تک 1527 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    12758 افراد زخمی ، 18 لاکھ سے زائد مکانات تباہ 12 ہزار 718 کلومیٹر سڑکیں تباہ جبکہ 9 لاکھ 27 ہزار سے زائد جانور اور مویشی بھی جان کی باری ہارگئے ہیں

     

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے شدید موسم کو ’’عشرے کا مونسٹر مانسون‘‘ قرار دیا۔

    وفاقی وزیراحسن اقبال کے مطابق انکی حکومت نے کل مالی نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالر لگایا ہے، جس میں کم از کم چار ملین ہیکٹر (9.8 ملین ایکڑ) زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔

    پاکستان اور اقوام متحدہ دونوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو شدید موسم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بارش کی سطح کو "ایپوچل” قرار دیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ملک کے 160 میں سے کم از کم 81 اضلاع کو سیلاب سے "آفت زدہ” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔

    بصری خصوصیات کی مندرجہ ذیل سیریز میں، الجزیرہ نے جنوب کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے شمال تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نقشہ بنایا ہے: جانوں، املاک، مویشیوں اور فصلوں کے ڈوبنے کا نقصان۔

    سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
    پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ اور بلوچستان حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اگست میں سندھ میں ماہانہ اوسط سے 726 فیصد زیادہ اور پڑوسی ملک بلوچستان میں 590 فیصد بارش ہوئی۔

    ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ بارش نے صوبہ سندھ کے علاقوں کو 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل میں بہا دیا۔ سندھ کی آبادی تقریباً 50 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو پنجاب کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ اس آفت کےدوران امداد ان لوگوں کو جا رہی ہے جنہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے سیاسی روابط ہیں۔” "پانی نکالنے یا ان درجنوں خواتین کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے جو بچے کو جنم دینے والی ہیں۔ کھانے کے ٹکڑوں کو سڑک کے کنارے بیٹھے مدد کے انتظار میں ہر ایک کے درمیان بانٹ دیا جاتا ہے۔”

    جیسا کہ سیلاب کا پانی پہاڑی علاقوں سے نکلتا ہے، یہ پہاڑی دھاروں سے نیچے بہہ جاتا ہے، جو کہ پہاڑوں سے زرعی زمینوں تک بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی ایک قسم ہے۔ پانی نیچے کی طرف جاتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے، چھوٹی معاون ندیوں سے جھیلوں میں بہاؤ میں اضافہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سے سیلابی پانی میں اضافہ ہوا کیونکہ پہاڑی سلسلے میدانی کھیتوں میں بہہ گئے۔

    ملک کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے ادارے، منچھر جھیل کے پشتے حکام نے گزشتہ ہفتوں میں متعدد بند توڑ دیے تاکہ اوور فلو سے بچا جا سکے اور پانی کو جھیل سے تقریباً 5 کلومیٹر (3.1 میل) دور دریائے سندھ تک پہنچایا جا سکے۔

    منچھر جھیل میں شگاف ڈالنے کے باوجود پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی۔ پانی کو کسی خاص علاقے میں نہ بھیجنے سے جھیل کے آس پاس کے گنجان آباد علاقوں کو مزید نقصان پہنچے گا۔جھیل کو بہنے سے روکنے کی کوششوں میں تقریباً 150,000 لوگ بے گھر ہوئے۔

     

    محکمہ موسمیات کی طرف سے شیئر کی جانے والی تصاویر کے مطابق منچھر جھیل کا اوور فلو سہون کے ہوائی اڈے اور ٹول پلازہ کی طرف تھا اور اب بھی کچھ حصوں میں مرکزی شاہراہ کا احاطہ کرتا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق موجودہ پریشر پوائنٹ کوٹری بیراج پر ہے۔

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔

    ان حالات سے نمٹنے کے عالمی برادری خصوصا برادراسلامی ملکوں کی طرف سے امداد کا سلسلہ جاری ہے ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ترکی، چین اور امریکہ سمیت کئی ممالک تباہی سے براہ راست متاثر ہونے والے 35 ملین پاکستانیوں کے لیے امداد بھیج رہے ہیں۔

     

    پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے چلائے جانے والے ایک پبلک ڈپلومیسی اکاؤنٹ نے جمعرات کو کہا، "101 بین الاقوامی امدادی امدادی پروازیں مصیبتوں کو کم کرنے میں مدد کے لیے پہنچی ہیں۔””ضرورت کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کے لیے جو مدد اور حمایت کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے۔”

    وزارت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 55 امدادی پروازیں بھیجی ہیں، امریکہ نے 15، ترکی نے 13 اور چین اور قطر سے چار چار پروازیں بھیجی ہیں۔ یونیسیف اور سعودی عرب نے امدادی امداد کے دو جہاز بھیجے ہیں جبکہ برطانیہ، نیپال، اردن، ازبکستان، ترکمانستان اور فرانس نے ایک ایک جہاز بھیجے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اب تک تین طیاروں اور یو این ایچ سی آر 13 بھیج چکا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا کہ طوفانی مون سون جس نے پاکستان کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ زیرِ آب کر دیا ہے، سو سال میں ایک ایسا واقعہ ہے جو ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مزید شدید ہو گیا ہے۔

    پورے دریائے سندھ کے طاس میں، سائنسدانوں نے پایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دو ماہ کی مون سون کی مدت کے دوران زیادہ سے زیادہ بارش تقریباً 50 فیصد زیادہ تھی، جب کہ پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں یہ 75 فیصد زیادہ شدید تھی۔