Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ،ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، سیلاب پر امریکی کانگریس میں بریفنگ

    پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ،ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، سیلاب پر امریکی کانگریس میں بریفنگ

    واشنگٹن: امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے ایوان نمائندگان میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے مدد کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پاکستان میں سیلاب سے متعلق بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ، ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق


    پاکستان کا حال ہی میں دورہ کرنے والی امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے سیلاب سے متاثر علاقوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ، ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔ ایسی بارش ہوئی جس سے ہر طرف سیلاب ہے-

    انہوں نے کہا کہ فضائی سروے میں پاکستان کے سیلاب سےمتاثرعلاقوں کےدورے میں تاحد نظر پانی دیکھا سیلابی پانی نے پل اورسڑکیں تباہ کردی ہیں۔ لوگ ان علاقوں میں محصورہو کر رہ گئے ہیں۔ جہاں لوگوں نے پناہ لی چاہے وہ پل ہو سڑک یا کوئی اورجگہ سب پانی بہا لے گیا۔

    شیلا جیکسن نے کہا کہ امریکا سب سے پہلے پاکستان کی مدد کو پہنچا امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    سمندر میں لانچ کےاندر دم گھٹنےسے 3 افراد جاںبحق ہو گئے

    دوسری جانب ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں 32، بلوچستان میں 5افراد جاں بحق ہوئے۔ اموات کی تعداد ایک ہزار 545 تک جا پہنچی ہے۔

    سندھ میں اب تک 678، خيبرپختونخوا میں 306، بلوچستان میں 299افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں48 اموات ہوئیں ۔

    چوبیس گھنٹے میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 92 افراد زخمی بھی ہوئے۔ 14جون سے اب تک 12ہزر850افراد زخمی ہوئے ہیں چوبیس گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 36ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ۔ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے تاحال متاثرہیں۔

    روجھان – کچی آبادی روجھان سٹی سے رودکوہی پانی کا اخراج راستوں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی…

  • سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ،ٹنڈو حیدرسے متاثرین کی گھروں کو واپسی

    سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ،ٹنڈو حیدرسے متاثرین کی گھروں کو واپسی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی ، ابھی بھی کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین کو امداد کی ضرورت ہے،پانی ختم ہوا تو بیماریوں نے متاثرین کو آ گھیرا، ادویات،راش، صاف پانی کی قلت کی وجہ سے سیلاب متاثرین بیمار ہونے لگے

    قمبر شہدادکوٹ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے متاثرین نے انتظامیہ سے امدادکی اپیل کی ہے ،وارہ،گاجی کھاوڑ اور قبو سعید خان میں کئی کئی فٹ جمع ہے، ایف پی بند اور حمل جھیل میں سیلابی پانی میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار کسی امداد کے منتظر ہیں

    ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے 19لاکھ 21ہزار 622 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین میں 24ار ب 94کروڑ 3لاکھ روپے تقسیم کی جا چکی ہے بی آئی ایس پی کے تحت 10 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 25 ارب سے زائد رقم تقسیم ہوئی

    محکمہ صحت سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے سیلاب سے متاثر علاقوں میں سانس اور دمے کی شکایات کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے بلوچستان میں بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں جلدی امراض، خارش اور الرجی کے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے بچوں میں ان بیماریوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ گندے سیلابی پانی میں کھیلنا ہے۔ سیلاب کے بعد پھیلنے والے زیادہ تر جلدی امراض متعدی ہیں

    سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد جاری ہے، حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو حیدر کیمپ سے سیلاب متاثرین کی اپنے گھروں کی جانب روانگی ہوئی ہے، ٹنڈو حیدر کے علاقے کے سرکاری اسکولوں میں رہنے والے سیلاب متاثرین کو پانی کی نکاس ہونے کے بعد متاثرین کو انکے گھروں میں واپس بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی جانب سے متاثرین کو 15 دنوں کا راشن بھی دیا گیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن کے مشکور ہیں انہوں نے ہماری مدد کی

    این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 32 اور بلوچستان میں 5 افراد جاں بحق ہوئے بارشوں اور سيلاب سے سندھ میں سب سے زیادہ 678 اموات ريکارڈ ہوئیں بلوچستان میں 299، خيبرپختونخوا میں 306 ، پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 جبکہ آزاد کشمیر میں 48 افراد زندگى کى بازى ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 678 مرد 315 خواتين اور 552 بچے شامل ہیں سیلاب سے مجموعی طور پر ملک بھر میں 19 لاکھ 21 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے جبکہ 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے

    سیلاب متاثرین کی مدد، یو اے ای بازی لے گیا، سب سے زیادہ امدادی پروازیں

    این ڈی ایم اے کے معاملات میں گڑ بڑ،رپورٹ کچھ، زمین حقائق کچھ، چیف جسٹس نے کیا حکم دے دیا؟

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی ۔

    باغی ٹی وی : نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا تاہم بالائی پنجاب میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

    بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا سیلاب متاثرین کیلئےساڑھے7 کروڑ ڈالر امداد دینے کا…

    گزشتہ روز ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی 41، تربت، نوکنڈی، موہنجوداڑو، روہڑی، نور پور تھل اور خان پور 40 ڈگری سینٹی گریڈ تھا-

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کاؤنٹی کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا، کشمیر، بالائی/وسطی پنجاب اور جی بی میں چند مقامات پر آندھی/گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    انفراسٹرکچر اور پرائیویٹ املاک کے نقصانات:

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کل 12718 کلومیٹر سڑکیں اور 390 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

    سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔
    بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں کے پی میں دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    فوج کی امدادی کوششیں:

    ایوی ایشن کی کوششیں: اب تک 546 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 پروازیں کی گئیں اور 31 پھنسےہوئے افراد کونکالا گیا اور 2 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4648 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

    ریلیف کیمپس / امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس

    اب تک ملک بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپ اور 238 ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    عطیات
    اب تک 9176.2 ٹن اشیاء کے ساتھ ساتھ 1537.5 ٹن غذائی اشیاء اور 8067903 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں۔ تاہم اب تک 8918.3 ٹن خوراک 1503.6 ٹن غذائی اشیاء اور 8004473 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    دوسری جانب ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی-

    روجھان – کچی آبادی روجھان سٹی سے رودکوہی پانی کا اخراج راستوں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی…

    این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں 32، بلوچستان میں 5افراد جاں بحق ہوئے۔ اموات کی تعداد ایک ہزار 545 تک جا پہنچی ہے۔

    سندھ میں اب تک 678، خيبرپختونخوا میں 306، بلوچستان میں 299افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں48 اموات ہوئیں ۔

    چوبیس گھنٹے میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 92 افراد زخمی بھی ہوئے۔ 14جون سے اب تک 12ہزر850افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    چوبیس گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 36ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ۔ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں۔

  • سیلاب متاثرین کیلئےابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے:این ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرین کیلئےابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے:این ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرین کیلئے ابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے، این ڈی ایم اے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے اب تک ساڑھے 4 کروڑ ڈالر کے مساوی امداد آچکی ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس قیصر شیخ کی زیرصدارت ہوا جس میں این ڈی ایم اے حکام نے کمیٹی کو سیلاب زدہ علاقوں سے متعلق بریفنگ دی۔این ڈی ایم اے حکام نے بتایا سیلاب متاثرین کیلئے اقوام متحدہ نے 16 کروڑ ڈالر کی فلیش اپیل کی تھی، اس میں سے 15 کروڑ ڈالر کے وعدے ہو چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے حکام نے بریفنگ میں بتایا سیلاب میں اب تک 1508 انسانی اموات، 12 ہزار 758 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔جاں بحق افراد میں 528 بچے، 297 خواتین اور 656 مرد شامل ہیں، سیلاب کے نتیجے میں 9 لاکھ 8 ہزار 137 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

    دوسری طرف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں انکشاف ہواہے کہ بحرین سے سیلاب متاثرین کے لیے آنے والی ایک ملین ڈالر کی رقم این ڈی ایم اے نے لینے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ ہم اس رقم کواستعمال نہیں کرسکتے ہیں جس کے بعدرقم آرمی ریلیف فنڈ میں جمع کرادی گئی۔

    حکومت نے سیلاب کی وجہ سے عالمی اداروں کوقرض موخرکرنے کی درخواست نہ کرنے کافیصلہ کیاہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے این ڈی ایم اے پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگر این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتی تو اس کو بندکردیں ۔

    جمعہ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت ہو۔ اجلاس میں سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر منظور کاکڑ،سینیٹر عطاء الرحمن، سیکرٹری اکنامک افیئرز کاظم نیاز ودیگر حکام بھی شریک ہوئے۔ حکام نے کمیٹی کو وزارت کے کام سے متعلق بریفنگ دی۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • سیلاب کے باعث بلوچستان میں ہزاروں اسکول تباہ ہوگئے

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں ہزاروں اسکول تباہ ہوگئے

    کوئٹہ:محکمہ تعلیم بلوچستان نے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بارشوں کے بعد سیلابی صورت حال سے ہزاروں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔

    ادارے نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب کے باعث بلوچستان میں 2 ہزار 859 اسکول متاثر ہوئے جبکہ ضلع لسبیلہ میں سب سے زیادہ 321 اسکول تباہ ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان کے تمام اضلاع متاثر ہیں جبکہ کئی علاقوں میں اب بھی سیلاب کا پانی موجود ہے۔

    محکمہ تعلیم نے رپورٹ میں کہا کہ بارشوں سے تعلیمی نظام مکمل طور پر متاثر ہوا ہے، دارلحکومت کوئٹہ میں 204 اسکول بارشوں سے متاثر ہوئے، بلوچستان میں متاثرہ اسکولوں میں 6 ہزار 565 کمرے منہدم ہوئے، بارشوں سے 1 ہزار 68 اسکولوں کی دیواروں منہدم ہوئی ہیں۔

    ادارے نے رپورٹ میں مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں میں 3 لاکھ 86 ہزار 708 طلباء زیر تعلیم تھے، سیلاب سے تباہ ہونے والے اسکولوں میں مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • عالمی درجہ حرارت کا پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں کتنا کردار ہے؟حقائق سامنے آگئے

    عالمی درجہ حرارت کا پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں کتنا کردار ہے؟حقائق سامنے آگئے

    لاہور:پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونے کی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا ہے اسی عالمی پیشن گوئی کے تناظر میں محکمہ موسمیات نے پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونےکی پیشگوئی کردی۔

    محکمہ موسمیات پاکستان اور 9 ممالک کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں مون سون کی بارشیں مزید شدت اختیار کریں گی، اور پاکستان میں آئندہ مون سون زیادہ خطرناک ہونے کا خطرہ ہے۔مشترکہ رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مون سون بارشوں سے نقصانات کی وجوہات میں ناقص دریائی مینجمنٹ سسٹم، غیرقانونی آباد کاری اور معاشی عدم استحکام شامل ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے سے بارشیں 50 تا 75 فیصد زیادہ ہوئیں، مستقبل میں درجہ حرارت مزید بڑھنے پر بارشیں کئی گنا زیادہ شدید ہوسکتی ہیں، اور آئندہ اگست کے 5 دن مون سون بارشوں کا بلند سطح تک رحجان جاسکتا ہے۔

    تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا فقدان ہے، نقصانات سے بچاؤ کیلئے 2010 کے سیلاب کے بعد بنائے گئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔

    یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نومبر میں کوپ27 کے سربراہ اجلاس کی تیاریاں کی جاری ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ممالک کا مطالبہ ہےکہ امیر اور تاریخی آلودگی والے ممالک نقصانات کی تلافی کریں۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے

    شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے

    کراچی :شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد جاری ہے جس کے تحت مزید دوجہاز امدادی سامان لیکر کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں

    امدادی سامان میں خیمے، کمبل، غذائی اور غیر غذائی پیکج اور کھجوریں شامل ہیں

    تفصیلات کے مطابق شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی فوری مدد کے لیے سعودی عرب سے امدادی ہوائی جہاز کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے

    سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے سیہون شریف کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور وہاں پریشان حال لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرکے ان کے ساتھ بھرپورہمدردی ظاہر کی ہے

    سعودی عرب سے انسانی امداد کی پہلی پرواز گزشتہ روز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری تھی ، جہاں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور قونصل جنرل بندر فہد الدیل نے دفتر خارجہ اور این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پریہ امداد جہاز وصول کیا۔

    آج سیلاب متاثرین کے لیے سعودی عرب سے مزید دو جہاز امدادی سامان لیکر کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئےہیں جسے وصول کرنے کے لئے ر قونصل جنرل سمیت وزارت خارجہ، این ڈی ایم اے اور کور 5 کے حکام بھی ایئرپورٹ پر موجود ہیں‌ ۔امدادی سامان میں خیمے، کھانے پینے کی اشیاء سعودی حکومت نے بھیجی ہیں۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    راولپنڈی :سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک آرمی کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹنڈوالہیار، عمر کوٹ، سانگھڑ، میرپور خاص میں پاک فوج کے جوان سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیرپور ، نوشہرو فیروز، قمبر شہداد کوٹ میں بھی سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے پاک فوج سر فہرست ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کے جوانوں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راشن و دیگر اشیاء ضروریہ کی تقسیم بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق راشن ، کپڑے اور بستروں کے علاوہ آرمی کے جوانوں کی جانب سے سیلاب زدگان کو میڈیکل کی مفت سہولیات بھی فراھم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔

  • ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں عوام کے کھانے پینے اور ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر نے بڑا فیصلہ کیا ہے

    آج صبح نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کا باضابطہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کی زیرِ صدار ت ہوا۔ جس میں تمام چیف سیکرٹریز اور فیڈریٹنگ یونٹس نے شرکت کی اور فوڈ سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عوام کو غذائی اجناس خصوصاََ ٹماٹر اور پیاز کو فاسٹ ٹریک پر منگوانے کے اقدمات کی ہدایت کی گئی۔

    نیشنل فوڈسیکرٹری نے نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کو بتایا کہ لوگوں کو کھانے پینے کی ضروری اشیاء جس میں پیاز اور ٹماٹر شامل ہیں، مہیا کرنے کے لئے ہنگامی سطحوں پراقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ۔فورم نے ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں عوام کے لئے غذائی اجناس کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ فورم کو بتایا گیا کہ اس وقت غذائی اجناس کا سٹاک کافی تعداد میں موجود ہے اور اگلی فصل کی کاشت سے پہلے پہلے تک اگر بروقت اقدامات کر لئے جائیں تو انشاء اللہ پاکستان میں غذائی قلت نہیں ہو گی۔ فورم نے ہدایت دی کہ اس سلسلے میں ایک مکمل روڈ میپ تیار کر لیا جائے جس میں گندم، چاول، دالیں اور دیگر ضروری اشیا ء کی نہ صرف فراہمی کو یقینی بنایا جائے بلکہ متاثرہ علاقوں میں بھی پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

    فورم نے خاص طور پر ہدایات جاری کی گئیں کہ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کیا جائے اور اس حوالے سے صوبوں کو درخواست کی گئی کہ وہ تمام ذخیرہ اندوز افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جوکہ ان اشیاء کو ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت اور قیمتوں کے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    سیلاب متاثرین کی بحالی،پنجاب حکومت اوردعوت اسلامی کا ملکر کام کرنے پر اتفاق