Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • ملک میں کھانے پینے اوردیگرضروریات کی کافی مقدارموجود ہے:نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر

    ملک میں کھانے پینے اوردیگرضروریات کی کافی مقدارموجود ہے:نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر

    اسلام آباد:نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹرضروری اشیائے خوردونوش کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ گندم، چاول، مکئی، آلو اور دیگر ضروری خوراک غذائی تحفظ کو پورا کرنے کے لیے کافی مقدار میں موجود ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری خوراک نے این ایف آر سی سی کو بریفنگ دی جس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال نے کی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور نیشنل کوآرڈینیٹر این ایف آر سی سی میجر جنرل محمد ظفر اقبال کی مشترکہ صدارت کی۔

    اجلاس کے شرکا کو میٹ اور سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری NF S&R نے ملک میں گندم کے سٹاک کے حوالے سے تفصیلی اپ ڈیٹ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ مستقبل میں گندم/چاول/مکئی/چینی کی کوئی قلت متوقع نہیں ہے کیونکہ ملک میں پہلے سے کافی ذخیرہ موجود ہے جو حالیہ سیلاب کے دوران محفوظ رہا۔

    سیکرٹری فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے واضح کیا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس حوالے سے رپورٹس غلط اور بے بنیاد ہیں۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی گندم کی سالانہ ضرورت 30.5 ملین ٹن ہے جبکہ 2 ملین ٹن سٹریٹجک ریزرو ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں ملک میں 7.07 ملین ٹن بشمول 2 ملین ٹن بیج دستیاب ہیں جو کہ تقریباً 153 دن کا سٹاک ہے جو کہ اس کے بعد کافی ہے۔ گندم کی نئی پیداوار کاشت کی جائے گی۔ مزید برآں اگلے سیزن کے لیے بیجوں کی جلد خریداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

    فورم کو بتایا گیا کہ فاسٹ ٹریک پر ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کا عمل جاری ہے۔ صرف ایک مسئلہ مواصلاتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا ہے جس کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مختلف اشیاء کی نقل و حمل میں خلل پڑا ہے۔

  • لیفٹیننٹ جنرل نگِارجوہر،سرجن جنرل پاکستان آرمی کا سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    لیفٹیننٹ جنرل نگِارجوہر،سرجن جنرل پاکستان آرمی کا سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    راولپنڈی:لیفٹیننٹ جنرل نگِار جوہر، سرجن جنرل پاکستان آرمی نےسندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی خیریت دریافت کی ، ان کے مسائل سنے اوران کی ہرممکن مدد کی یقین دہانی بھی کرائی

    سر جن جنرل نے بلوچستان میں نصیر آباداور ڈیرہ مراد جمالی میں آرمی کے مختلف فیلڈ میڈیکل کیمپس کا دورہ کیا۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سندھ میں جنرل نِگار جوہر نے دادو، چھور، بدین اور حیدر آباد میں مختلف فیلڈ میڈیکل کیمپس کا دورہ کیا۔

     

    پاک فوج کے ذرائع کے مطابق سرجن جنرل نے آرمی پیرامیڈکس اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی۔اس موقع پرلیفٹیننٹ جنرل نگِار جوہر، سرجن جنرل پاکستان آرمی نےکہا کہ وہ خاص طور پر نو زائیدہ بچوں اور خواتین سیلاب سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل نگِار جوہر، سرجن جنرل پاکستان آرمی نے کہا کہ بچوں اور بالخصوص نوزائیدہ بچوں اور حاملہ خواتین کو خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔بچوں اور خواتین کو ہر ممکن خوارک اور طبی سہولیات مہیا کی جائیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل نگِار جوہر، سرجن جنرل پاکستان آرمی نےاس موقع پر ہدایت کی کہ طبی سہولتوں کےساتھب ساتھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ سر جن جنرل نے ڈاکٹروں کو ہدایات دیں کہ وہ ہیضہ اور ٹائیفائیڈ سے متاثرہ لوگوں کو ویکسین لگائیں۔

  • عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    تونسہ:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تونسہ میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف کے کام کا جائزہ لینا آیا تھا، میں نے ہیلی کاپٹر سے سیلاب زدہ علاقے کا بھی جائزہ لیا، یہاں ڈیم کی فزیبلیٹی بن چکی ہے، 10ارب کا پراجیکٹ ہے، اس سے 38 ہزار ایکڑ زمیں سیراب ہوگی، اگر ڈیم بن جائے تو پھر پانی شدت اور تباہی نہ مچاتا بلکہ نعمت بن جاتا، فصلیں بھی تباہ نہ ہوتیں۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے 2010 کے سیلاب سے بہت زیادہ تباہی مچائی، یہ ساری تباہی کوہ سلیمان پر بارشوں سے آئی ہے، قوم کو ملکر اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، میں نے پیسے اکٹھے کیے، پاکستانیوں پر فخر کرتا ہوں، پانچ گھنٹے میں پاکستانیوں نے 10ارب اکٹھا کرکے دیا، کبھی اتنے تھوڑے وقت میں پیسا نہیں دیا گیا، پوری قوم کو سیلاب متاثرین کی فکر ہے، افسوس یہ ہے کہ پیسے میں متاثرین کیلئے اکٹھا کررہا ہوں جبکہ امپورٹڈ حکومت خوفزدہ ہوکر ٹی وی نشریات بند کردیں، ملک کے بڑے مجرموں کو خوف ہے کہ ان کی کرسی نہ چلی جائے اور ان کی کرپشن نہ پکڑی جائے۔

    پوری قوم کو اکٹھا ہوکر اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری ٹیم، پنجاب اور کے پی حکومت پوری کوشش کریں گے کہ سیلاب متاثرین کی ہرطرح مدد کریں گے۔ متاثرین کو ریلیف کے بعد ان کے گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے ہم اپنے متاثرین کی زندگیاں آسان کریں۔ انڈس ہائی وے متاثر ہوا پڑا ہے، نہروں کا سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے، صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھی مدد کرنی پڑے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دریائے سندھ کے ساتھ رائٹ بینک کنال 20سال سے بن رہی ہے، اس کا مقصد کوہ سلیمان کے پانی کو سمندر تک لے جانا ہوتا ہے۔ 2020میں واپڈا نے سیہون تک کام مکمل کرلیا تھا، اگر وہ نہر بن جاتی تو اتنی تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے مطالبہ کروں گا کہ تونسہ کو ضلع کا درجہ دیا جائے ، اس کی ساری فزیبلٹی پوری ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے کراچی پہنچ گئے

    سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے کراچی پہنچ گئے

    کراچی:سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے سندھ کے دورے پر ہیں اور اس سلسلےمیں وہ آج کراچی پہنچ چکے ہیں جہاں وزیراعلٰی سندھ نے ان کا استقبال کیا،سعودی سفیر نے پاکستان مین سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا

    سیلاب متاثرین کی مدد کے سلسلے میں اس دورے کا ذکرپاکستان میں سعودی سفارتخانے کی طرف سے بھی کیا گیا ، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹویٹر پرپیغام جاری کرتے ہوئے سعودی سفارتخانے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلی جناب سید مراد علی شاہ نے آج وزیر اعلی آفس میں خادم حرمین شریفین کے سفیر برائے پاکستان جناب نواف المالکی کا استقبال کیا۔

     

     

     

    سفارتخانے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں متعین سعودی سفیر نواف المالکی نےسیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر اظہار تعزیت کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت ہمیشہ پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

     

     

     

    دوسری طرف سیلاب زدگان کیلئے امدادی سامان کی آمد جاری ہے، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے امدادی پروازیں کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔

     

     

    سعودی عرب سے دوسری امدادی پرواز کراچی پہنچ گئی، کراچی ایئرپورٹ پر سعودی سفیر،قونصل جنرل، این ڈی ایم اے نمائندوں سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

    امدادی سامان پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، کراچی میں سعودی عرب کے قونصل جنرل بندر فہد الدیل نے این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ہمراہ وصول کیا۔

    دوسری جانب سیلاب زدگان کیلئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 23 ویں پرواز بھی کراچی پہنچ گئی، اماراتی ایئرفورس کا طیارہ امداد لے کر کراچی ایئرپورٹ پہنچا جہاں دبئی ہاوس عملے،این ڈی ایم اے اور پاک فوج افسران نے استقبال کیا۔

    یاد رہے کہ اب تک دنیا بھر سے 62 امدادی پروازیں پاکستان کے سیلاب زدگان کیلئے کراچی پہنچیں، یو اے ای سے 23،اقوام متحدہ کی یو اے ای سے 13، ترکی سے 11،چین سے 4، قطرسے 3،سعودی عرب سے2 پروازیں کراچی پہنچیں جبکہ ازبکستان، فرانس، ترکمانستان، نیپال،جارڈن اور یونیسف کی جانب سے ایک ایک امدادی پرواز کراچی ایئرپورٹ پہنچ چکی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    کراچی :سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیےترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے بحالی کے عمل اور امدادی کارروائیوں کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں انتہائی سرعت سے بحالی کا عمل اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    پاک فضائیہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے مصائب سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی بہبود اور بحالی کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھرپور طریقے سے امدادی کارروائیاں اور ریسکیو کے عمل میں سول انتظامیہ کی مدد کرکے ریاستی اداروں کو مزید فعال کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ نے فیلڈ میڈیکل کیمپس بھی قائم کیئے ہیں جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف چوبیس گھنٹے سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کر رہے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے تیار کھانا، خشک راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ تقسیم کیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹھال، لاکھڑا، مٹیاری، شہداد کوٹ، صحبت پور، قلعہ عبداللہ، فاضل پور، جھل مگسی، حاجی پور، بستی شیر محمد اور بستی جاگیر گبول کے ضرورت مند خاندانوں میں 15719 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، 507 پانی کی بوتلیں اور 3415 خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیئے۔ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں سیلاب میں پھنسے لوگوں کے باحفاظت انخلاء میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔ مزید براں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 2416 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

    پاک فضائیہ قدرتی آفات کے دوران انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ حالیہ امدادی کارروائیاں ضرورت کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کی مدد کے لیے پاک فضائیہ کے عزم کا عملی نمونہ ہیں۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

  • بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ  جاری کردی گئی

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    لاہور:ملک میں مزید سیلاب کے خطرے کی گھنٹی بج گئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 18 ستمبر کے دوران بھارت کا پانی ستلج، راوی اورچناب کومتاثر کر سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکموں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کردی۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب سے متعلق ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔تینوں دریاؤں اور معاون ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ وفاقی، صوبائی اورضلعی محکموں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کردی ہے۔این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ خطرے سے دوچارعلاقوں کو پیشگی خبردار کیا جائے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے والے سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی تک نہیں کہ بھارت کی طرف سے ایک اور آبی حملے کی خبرآگئی ہے، جس کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریاں رک نہ سکیں، گزشتہ چوبیس گھنٹے کےدوران مزید 54 افراد جاں بحق اور چھ زخمی، مزید چار ہزار سے زائد گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

    سیلاب سے نقصانات پر این ڈی ایم اے نے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں 44، بلوچستان میں 8 اور آزاد کشمیر میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔مرنے والوں میں 26 مرد، 10 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں، ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مجموعی ہلاکتیں 1481 ہوگئیں۔

    14 جون سے اب تک مجموعی طور پر بارہ ہزار سات سو چوراسی افراد زخمى بھی ہوئے۔گزشتہ چوبیس گھنٹے میں ملک بھر میں مزيد چوبیس ہزار آٹھ سو انہتر مويشیی سیلاب کی نذر ہوگئے، ملک بهر میں اکیاسی اضلاع حاليہ بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں۔رپورٹ کے مطابق ملک بهر میں 81 اضلاع حاليہ بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں۔

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد میں  متحدہ عرب امارات سب پر بازی لے گیا

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات سب پر بازی لے گیا

    اسلام آباد: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 11 ممالک اور 3 عالمی تنظیموں کی جانب سے امدادی سامان کے 90 طیارے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دوست ممالک پیش پیش ہیں جب کہ اب تک 11 ممالک اور 3 عالمی تنظیموں کی جانب سے امدادی سامان کے 90 طیارے پاکستان پہنچے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سب سے زیادہ 39 امدادی سامان کے طیارے راولپنڈی، کراچی اور لاہور پہنچے ہیں۔ترکیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 13 امدادی طیارے کراچی اور راولپنڈی بھیجے، امریکہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 11 امدادی طیارے سکھر، کراچی اور راولپنڈی بھیجے ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اور قطر سے چار چار امدادی طیارے پاکستان آئے ہیں جب کہ ازبکستان، ترکمانستان، فرانس، اردن، نیپال اور سعودی عرب سے ایک ایک امدادی طیارہ پاکستان پہنچا ہے۔
    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ یونیسف نے 2، اقوام متحدہ ادارہ مہاجرین نے 8 اور عالمی ادارہ برائے خوراک نے 3 امدادی طیارے پاکستان بھیجے ہیں۔

  • سیلاب سے مزید 54 افراد جاں بحق، مجموعی تعداد 1481 ہوگئی:کراچی میں پھربارشیں شروع

    سیلاب سے مزید 54 افراد جاں بحق، مجموعی تعداد 1481 ہوگئی:کراچی میں پھربارشیں شروع

    اسلام آباد:سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 54 افراد جان کی بازی ہار گئے جس سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1481 ہوگئی ہے، زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 700 سے تجاوز کر گئی۔

    این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سندھ میں 44، بلوچستان میں مزید 8 اور آزاد کشمیر میں 2 مزید افراد سیلاب سے جاں بحق ہوئے، سیلاب اور بارشوں سے مجموعی طور پر سب سے زيادہ 638 اموات سندھ میں ريکارڈ کی گئیں، بلوچستان میں 278، خيبرپختونخوا میں 303، پنجاب میں 191، آزاد کشمیر میں 48 اور گلگت بلتستان میں 22 افراد زندگى کى بازى ہار گئے۔

    دوسری جانب ملک بهر میں 11 لاکھ 85 ہزار 481 گھروں کو جزوى نقصان پہنچا جبکہ 5 لاکھ 69 ہزار 800 گھر مکمل تباہ ہو ئے، 390 پل اور 12 ہزار 418 کلومیٹر سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، ملک بھر میں 9 لاکھ 8 ہزار 137مويشی بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔

    ادھر کراچی کے مختلف علاقوں میں منگل کو ہونے والی بارش نے جل تھل کردیا۔ دو روز کے دوران کئی ملی میٹر بارش نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے منگل کو بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی۔دوپہرکے وقت نیوکراچی، گلشن معمار، ناظم آباد، سعدی ٹاؤن، نارتھ کراچی میں بارش رپورٹ کی گئی۔سپرہائی وے، موسمیات، بفرزون، نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف بارش نے موسم خوشگوار بنادیا۔لیاقت آباد ،فیڈرل بی ایریا،ناظم آباد،گلزارہجری، بہادرآباد،طارق روڈ،شارع فیصل میں بھی بارش کا ہوئی۔

    گزشتہ روز سب سے زیادہ 46 ملی میٹر بارش صدر میں ہوئی۔ ائیرپورٹ پر 34.2 ملی میٹر، یونی ورسٹی روڈ پر29.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔گلشن حدید میں 27 ملی میٹر، فیصل بیس پر 26 ملی میٹر، مسرور بیس پر24ملی میٹر،قائد آباد میں 17.5 ملی میٹر،نارتھ کراچی میں 15.2 ملی میٹر،جناح ٹرمینل پر 14.4ملی میٹر بارش ہوئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔