Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔

  • بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے جعفر آباد، نصیر آباد اور صحبت پور کے علاقوں میں سیلاب کا پانی تاحال جمع ہے جس کے باعث وبائی امراض پھوٹ پڑے-

    باغی ٹی وی: شدیدگرمی میں ملیریا، جلدی امراض اورگیسٹروسے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ڈیرا الہیار، گنداخہ، صحبت پور، نوتال، بابا کوٹ اور ربیع میں متاثرین کو ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے-

    سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    دوسری طرف بولان میں سیلاب سے تباہ ہونےوالے پنجرہ پل کا کام اب تک شروع نہیں ہوسکا جس سے کوئٹہ آنے اور جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

    راجن پور کے سیلابی علاقوں میں بھی پانی کا اخراج نہ ہونے سے ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، مچھر دانیوں اور صاف پانی کی بھی شدید قلت ہے۔

    راجن پور میں اپنے گھروں کو لوٹ جانے والے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت اپنے تباہ حال گھروں کو تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے متاثرین اب بھی انڈس ہائی وے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب تحصیل جوہی میں نامعلوم افراد نے جوہی برانچ کو کٹ لگا دیا، جوہی میں سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دیئے گئے کٹ کو بھاری مشنری سے پُر نہ کیا گیا تو پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا اور شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

    منچھر جھیل میں پانی کی سطح کئی کٹ لگانے کے باوجود بھی کم نہ ہو سکی، دریائے سندھ کے قریب لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کو کٹ لگا دیا گیا تیز ریلوں نے بھان سعید آباد کی دل نہر کے حفاظتی بند پر چوڑا شگاف لگا دیا ہے جبکہ قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ سے لیکر سیہون تک پانی کی سطح میں انتہائی معمولی کمی ہوپائی ہے۔

    ادھرمختلف مقامات پر لگائے گئے کٹ اور شگافوں سے تقریباً پچاس ہزار کیوسک سے زائد پانی دریائے سندھ میں داخل ہورہا ہے جبکہ شہری میہڑ، جوہی، بھان سعید آباد اور دادو کے رنگ بندوں کی مضبوطی کیلئے کئی دنوں سے کام کر رہے ہیں-

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے…

  • بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب سے مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر بلوچستان میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے۔

    پراونشل ڈایزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 270 ہوگئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے ہلاک ہونے والے مال مویشی کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار 149 ہوگئی ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعداد 64 ہزار 385 ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب سے 2 لاکھ 936 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ بارشوں میں سیلاب سے 1500 کلو میٹر پر مشتمل سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلابی ریلوں سے 22 رابطہ پل ٹوٹ چکے ہیں، نصیرآباد ڈویژن اور کچھی کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی اور گرمی کی شدت سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔رضا کار تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو خیموں اور خوراک کی اشیاء کی اشد ضرورت ہے جب کہ سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

    دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے گللگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مشترکہ سروے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے سروے ٹیمز تشکیل دے دی ہیں، این ڈی ایم اے کی مشاورت سے سروے ٹیموں کو متعلقہ اضلاع میں بھجوا دیا گیا ہے۔

    تمام ڈپٹی کمشنرز کو 15 ستمبر تک سروے اور تخمینہ لگانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔چیف سیکرٹری محی الدین وانی رپورٹ وزیراعظم اور این ڈی ایم اے کو بھجوائیں گے۔

  • سرورفاؤنڈیشن اور پی ڈی این کی جانب سے سوا ارب کے راشن پیکٹ سیلاب متاثرین تک پہنچا دیئے گئے

    سرورفاؤنڈیشن اور پی ڈی این کی جانب سے سوا ارب کے راشن پیکٹ سیلاب متاثرین تک پہنچا دیئے گئے

    لاہور:سرور فاؤنڈیشن اور پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (پی ڈی این) کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی راشن کے 2 درجن سے زائد ٹرک سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کو روانہ کر دئیے گئے۔ سرور فاؤنڈیشن مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ راشن پیک متاثرہ علاقوں تک بھجوائے گا۔ ہر راشن پیک ایک فیملی کی ایک ماہ کی ضرورت کے تمام سامان پر مشتمل ہے۔ سوا ارب روپے سے زائد مالیت کے امدادی سامان کے ٹرک بانی و چئیرمین سرور فاؤنڈیشن چوہدری محمد سرور کی زیر نگرانی روانہ کئے گئے۔

    امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور نے سیلاب متاثرین کی بحالی تک ان کی کفالت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اگلے چار سے 6 ماہ تک متاثرین سیلاب کی خدمت میں خود کو مصروف رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر راشن کے 20 سے 25 کنٹینر متاثرہ علاقوں میں روانہ کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ اب تک 1 لاکھ سے زائد خاندانوں کو ایک ایک ماہ کا امدادی راشن پہنچا دیا گیا ہے۔

    چوہدری سرور نے کہا کہ ہمارا ہدف ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کو اس راشن پیکٹ سے مستفید کرنا ہے۔ معاون اداروں کے تعاون سے ہم یہ ہدف حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن باکس میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کے علاؤہ علاقہ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینے کا پانی بالخصوص اضافی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوہدری سرور نے کہا کہ انٹرنیشل کمیونٹی کو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آیا ہے۔ اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینا اور قرضے معاف کرنا انٹرنیشل کمیونٹی اور بینکنگ چینلز کا فرض ہے۔

    چوہدری سرور نے متاثرہ خاندانوں کی آباد کاری کیلئے انٹرنیشل کمیونٹی سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ خود بھی اس ضمن میں متحرک ہوں گے اور عالمی سطح پر رابطے بڑھائیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے پاک فوج سمیت ان تمام اداروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا جو فرنٹ لائن پر رہ کر سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ بے شمار لوگوں کی واحد امید ہم ہی ہیں۔ انہیں مایوسی کی دلدل میں جانے سے بچانے کیلئے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    چوہدری سرور نے کہا کہ سرور فاؤنڈیشن کے رضا کار ہر متاثرہ خاندان تک امدادی سامان پہنچائیں گے اور ان کی بحالی تک انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے راشن پیک تیار کرنے میں مدد کرنے پر چئیرمن اورینٹ میاں طلعت اور ایل ایچ آئی ایس سمیت پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شامل تمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اورینٹ احمد فضل، عبد الرحمن طلعت، جاوید اقبال بخاری بھی موجود تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں پھر بارشوں کی پیشنگوئی کر دی،کہاں کہاں ہو گی بارش؟

    محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں پھر بارشوں کی پیشنگوئی کر دی،کہاں کہاں ہو گی بارش؟

    ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں کل سے وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے

    محکمہ موسمیات کے مطابق مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں،مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں11ستمبرکو داخل ہو گا،10 سے 14ستمبر کے دوران اسلام آباد،پشاور میں بارش کا امکان ہے 10 سے 14 ستمبر کے دوران چترال،دیر، سوات،کوہستان، شانگلہ،بونیر میں بارش کا امکان ہے 10سے14ستمبر کے دوران مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ اور باجوڑ میں بھی بارش متوقع ہے 10 سے 14 ستمبر کے دوران مردان،چارسدہ ، صوابی ،نوشہرہ ، کرم ، کوہاٹ میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے 10 سے14ستمبر کے دوران تھرپارکر،عمرکوٹ،سانگھڑ میں بارش کا امکان ہے

    10سے14ستمبر کے دوران میرپورخاص،ٹھٹھہ اوربدین میں بھی بارش متوقع ہے وزیرستان، کشمیر، جی بی، مری ، اٹک ، چکوال، جہلم، سیالکوٹ اور نارووال میں بارش کا امکان ہے گوجرانوالہ،گجرات، شیخوپورہ، میانوالی، خوشاب، سرگودھا اورحافظ آباد میں بھی بارش متوقع ہے 13اور14ستمبر کے دوران بھکر،لیہ اور مظفرگڑھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے 13اور14ستمبر کے دوران لسبیلا،قلات اور خضدارمیں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    ،پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے محصور افراد کو نکالنے کے لیے 446 پروازیں بھریں

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    حکومت پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کا سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

  • پریشان حال لوگ ہر طرح کی امداد کے منتظر ہیں،چیئرمین سینیٹ

    پریشان حال لوگ ہر طرح کی امداد کے منتظر ہیں،چیئرمین سینیٹ

    پریشان حال لوگ ہر طرح کی امداد کے منتظر ہیں،چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئر مین اور آغا خان فنڈ برائے اقتصادی ترقی کے ڈائریکٹر سلطان علی الانہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی جسمیں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات، ریلیف اور بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں سماجی تنظیموں نے موثر کردار ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سیلاب متاثرین کے لیے دس ملین ڈالر امدادکے اعلان پر آغا خان اور انکے ادارے کا شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر فنڈ نے بتایا کہ ان میں سے پانچ ملین ڈالر حکومت پاکستان کے ریلیف سے متعلق فنڈ میں دیئے جائیں گے جبکہ 5ملین ڈالرز آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے ذریعے سے ریلیف اور بحالی کے کاموں پر خرچ کئے جائیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کو بتایا گیا کہ حبیب بینک لمیٹیڈ نے بھی سماجی ذمہ داری کے تحت عوامی بھلائی کیلئے سیلاب سے متاثر علاقوں میں ریلیف کے عمل میں مناسب شمولیت کی ہے اور بلوچستان کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں

    چیئرمین سینیٹ نے پاکستان میں صحت، تعلیم اور دیہی ترقی کے لیے آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں سے اپیل کی کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بھرپور کوششیں کریں تاکہ بحالی کے کاموں کو تیز تر کیا جا سکے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی وتعمیر نو کے لئے بڑے پیمانے پروسائل درکار ہیں اور ہم سب کو مل کر اتحاد کے ساتھ اس مشکل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ صاحب حیثیت لوگ سیلاب متاثرین کیلئے خوراک اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے انتظامات کریں پریشان حال لوگ ہر طرح کی امداد کے منتظر ہیں

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب کے بعد کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ مختلف وبا اور بیماریاں پھوٹنے سے 5 افراد انتقال کر گئے ہیں، انہیں حالات کے پیش نظر سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    خیرپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں گیسٹرو کا مرض وبائی شکل اختیار کر لیا گیا، جس کے بعد خیرپور میں پیر گوٹھ بچاؤ بند ہونے پر کیمپ میں چار افراد کی زندگی بازی ہار گئی۔ متاثرین خوراک اور علاج کی حالت سے خوفزدہ ہیں، جہاں مزید لوگوں کا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدشہ ہے کہ ضلع بھر میں تاحال میڈیکل کیمپ نہیں چلا۔سکھر میں بھی گیسٹرو سے بچہ دم توڑ گیا ہے اور یہاں بھی علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں

    ان علاقوں میں ٹینٹس نہیں اور لوگ دن کو کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کو مچھر اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں‌ کا سامنا کرتے ہیں‌ ، ادھر سکھر سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکھر بیراج کے دوسرے راستے سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد کی گئی۔سکھر بیراج پرموجود حکام کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران واقعات کی تعداد 33 واضح ہے۔ اس سے پہلے والی لاشوں میں 9 خواتین بھی شامل ہیں، تاہم کسی کی شناخت نہ ہو سکی۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے مرادی میں بارش کو تھمے ہوئے روز گزرے مگر میونسپل کمیٹی ڈی کی جانب سے شہر کے گلی محلوں سے پانی نہیں ملنے جاسکا۔ شہر کے اندر ہر طرف تالاب اور منہدم مکانات سے تباہی دل دہلا دینے کا منظرپیش کررہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکی ہیں اور لوگوں کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں ہے

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی سندھ کی طرح حالات اچھے نہیں ہیں، کوہستان ، کالام ، سوات ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگرعلاقوں میں سیلاب کی باقیات ابھی موجود ہیں اور لوگ ایک طرف سخت دھوب میں وقت گزار رہے ہیں تو دوسری طرف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں

    سندھ میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہوگئی ہے سندھ نے پنجاب حکوت سے ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈیکس بھیجنے کی استدعا کی ہے ۔

    سندھ حکومت کی استدعا پر سب سے پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ڈاکٹرزاور نرسز پر مشتمل 10رکنی وفد لاڑکانہ روانہ کردیا ہے، اور اس وفد کے ساتھ ڈائریا، جلدی امراض، سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کا اسٹاک بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز سندھ کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائیں گے اورپھرسندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں مزید طبی سہولتیں فراہم کریں گے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں

    از قلم غنی محمود قصوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حدیث کہلاتا ہے اور رب کا فرمان قرآن مجید فرقان حمید دونوں پہ عمل کرنا لازم و ملزوم ہےجب تک قرآن و حدیث دونوں کو نا سمجھا جائے بات کی سمجھ نہیں آئے گی ،مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمزور لوگ دنیاوی اور مدد کرنے والا اخروی فلاح پائے-

    ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پہ عمل کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہےاسی لئے کہا گیا ہے کہ خوب تحقیق کے بعد ہی بات آگے پہنچائی جائےاس وقت ملک پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ سیلاب متاثرین کی مدد میں لگے ہوئے جو کہ اس وقت ہم پر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی فرض عین ہے-

    لوگ کپڑوں،راشن،ادویات اور نقدی کی صورت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اس مدد بارے قرآن مجید فرقان حمید نے ہمیں ایسے حکم جاری کیا ہے

    لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ

    ترجمہ۔۔۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے-

    جبکہ حدیث رسول ہے

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے،صحیح متفق علیہ

    کچھ لوگوں کی طرف سے اس آیت و حدیث کی رو سے لوگوں کو پرانی استعمال شدہ اشیاء سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپنی محبوب اشیاء یعنی نئی اشیاء ہی صدقہ خیرات کی جائیں اور اپنے بھائیوں کیلئے بھی وہی پسند کریں جو آپ خود پسند کرتے ہیں نیز پرانی اور استعمال شدہ اشیاء دینا درست نہیں-

    مجھے ان لوگوں کی نیت پہ شک نہیں وہ اپنی طرف سے بہت اخلاص کی بات کر رہے ہیں مگر میں ان کی خدمت میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان پیش کرتا ہوں عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی ،الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

    ترجمہ۔۔۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں-

    پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا،جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی
    الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي
    پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ، ( ترمذی 3560 )

    اوپر والی آیت و حدیث ہمیں اپنی محبوب ترین چیز ( نئی غیر استعمال شدہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہے اور اپنی پسند اپنے بھائی کیلئے پسند کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ دوسری حدیث رسول ہمیں پرانی استعمال شدہ چیزیں صدقہ خیرات کی تلقین کر رہی ہے-

    اب غور کریں تو پتہ چلے گا کہ جو صاحب ثروت مالدار لوگ ہیں وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلی معیاری اور قیمتی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور وہی چیز دوسروں کیلئے پسند کریں جو خود کرتے ہیں جبکہ دوسری حدیث رسول مالی کمزوروں کو تلقین کر رہی ہے کہ اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی صدقہ خیرات کی جائیں تاکہ ان سے بھی کم مالی حیثیت اور افت زدہ لوگ وہ چیزیں استعمال کریں،ہمیں ایسی باتوں کی سمجھ تبھی آتی ہے جب قران و حدیث دونوں کو پڑھا سمجھا جائے

    اس وقت سیلاب زدگان کو کپڑوں و بستر کی سخت ضرورت ہے ہمیں چائیے کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ان کو نئی اشیاء بھی صدقہ کریں اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کو اپنی استعمال شدہ پرانی چیزیں بھی صدقہ خیرات کریں تاکہ وہ مصیبت کے مارے لوگ اپنی ضرروت پوری کر سکیں

    سیلاب زدگان کی مدد اس وقت ہر صاحب ثروت پر فرض ہے کیونکہ یہ ہم سب کا قومی و اسلامی فریضہ ہےخداراہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں بہت سی مذہبی جماعتیں ان تک سامان پہنچا رہی ہیں –

    اگر ہم خود جا سکتے ہیں تو اجتماعی شکل میں خود جا کر مدد کریں بصورت دیگر ان مذہبی جماعتوں کے توسط سے لازمی مدد کیجئے
    اللہ تعالی ہم سے راضی ہو اور سیلاب زدگان کی مدد کے عیوض ہمیں اچھا صلہ عطا فرمائے آمین

  • سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ ریسکیو ریلیف میں متحرک

    سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ ریسکیو ریلیف میں متحرک

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    پاک فضائیہ نے خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے بھرپور وسائل وقف کر دیئے ہیں اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔پاک فضائیہ ایسے دور دراز علاقوں میں راشن، ادویات اور اشیائے ضروریہ گرانے کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن کر رہی ہے جن سے زمینی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی زیادہ سے زیادہ امداد کے لیے فلڈ ریلیف کیمپوں میں بحالی کی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے اہلکار بھی سیلاب زدگان کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اشیائےضروریہ کی فراہمی کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی تکالیف کے ازحد ضروری ازالے کے لیے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ضرورت مند خاندانوں میں 23120 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، 2130 پانی کی بوتلیں اور 3348خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیئے، جن میں اشیائے خوردونوش موجود تھیں۔ مزید براں مفت خوراک اور رہائش کی فراہمی کے علاوہ پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں 2140 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • سیلاب کے باعث ریلوے آپریشن تاحال معطل

    سیلاب کے باعث ریلوے آپریشن تاحال معطل

    کراچی اور سکھر ڈویژن میں سیلابی پانی ریلوے ٹریک پر موجود ہونے کی وجہ سے ریلوے آپریشن مزید ایک ہفتہ تاخیر کا شکار ہوگیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ریلوے آپریشن کئی روز گزرنے کے باوجود بحال نہیں ہوسکا جس کے باعث لاہور کراچی، سکھر اور کوئٹہ جانے والے متعدد مسافر پھنس گئے-

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سےمزید 12 افراد جاں بحق

    ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین آپریشن 15 ستمبر تک بحال کیے جانے کا امکان ہے نواب شاہ اور دیگر سیکشنز کے ریلوے ٹریک پر سیلابی پانی ابھی تک موجود ہے جس کے باعث ایم ایل ون سمیت دیگر سیکشنز پر ٹرین آپریشن شروع کرنا مشکل ہو گیا ہے-

    ذرائع کے مطابق ٹرین آپریشن متاثر ہونے کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ نے پانچویں مرتبہ آن لائن ٹرینوں کی بکنگ بند کردی کیوںکہ لاہور کراچی کوئٹہ اور سکھر کے درمیان مین لائن کی تمام ٹرینیں معطل ہیں۔

    ریلوے حکام کی جانب سے اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں منسوخ کردی گئی ہیں جس کے باعث ریزرویشن دفاتر میں بھی بکنگ کا عمل مکمل طور پر روک دیا گیا۔

    اب ٹھٹھہ سیلاب کی زد :راوڑا موری کے مقام پر زمینداری بند میں شگاف، آبادیاں ڈوب…

    ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام ایکسپریس، بزنس ایکسپریس، قراقرم، شاہ حسین ایکسپریس، تیزگام، ملت ایکسپریس، رحمان بابا، جعفر ایکسپریس اور علامہ اقبال ، کراچی ایکسپریس، خیبر میل، شالیمار ایکسپریس اور بولان ٹرینیں معطل کردی گئی ہیں-

    واضح رہے کہ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سےمزید 12 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 355 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں اب تک زخمی افرادکی تعداد 12 ہزار 722 ہو گئی-

    این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 7 لاکھ 53 ہزار 187 مویشیوں کو نقصان پہنچا،ملک بھر میں 6579 کلو میٹر سڑک بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اورسیلاب سے تاحال متاثرہیں،ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 افراد بارشوں سے متاثر ہوئے-

    سیلاب متاثرین کیلیے امداد لیکر متحدہ عرب امارات سے مزید 2 پروازیں پہنچ گئیں