Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے.وزیر اعظم مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے کام نگرانی خود کر رہے ہیں،اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے.وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مواصلات اور رابطہ سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے.

    وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہوں کی بحالی کو یقینی بنا رہے ہیں،گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کو بحال کر دیا گیا ہے

    گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ بیشتر قومی شاہراہوں اور موٹر ویز کو بحال کر دیا گیا ہے، قومی شاہراہ N-15 کو مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ، اسی طرح کراچی سے چمن قومی شاہراہ N-25 جو کہ حب سے خضدار تک سیلاب سے متاثر تھی کو بھی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے. قراقرم ہائی وے N-35 جو کہ ٹریفک کے لیے انڈس کوہستان اور ہنزہ کے اضلاع میں بند تھی,کو بھی مکمل بحال کر دیا گیا ہے.

    قومی شاہراہ N-40 کا کوئٹہ -نوشکی سیکشن ، قومی شاہراہ N-45 کا چکدرہ- دیر سیکشن، انڈس ہائی وے N-55 کے راجن پور – تونسہ اور ڈیرہ اسماعیل خان – پیزو سیکشنز ، N-65 کا سبی – کوئٹہ سیکشن، N-70 کا فورٹ منرو سیکشن، N-90 کا الپوری- بشام سیکشن، N-140 کا گلگت-شندور سیکشن اور اسٹریٹجک ہائی وے S-1 کو شنگوس کے مقام پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے.

    تاہم کچھ شاہراہوں پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، قومی شاہراہ N-50 ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن،N-95 فتح پور -کالام سیکشن اور موٹر وے M-8 وانگو ہلز -بانجا سیکشن پر بحالی کا کام جاری ہے ; یہ شاہراہیں بھی جلد ہی ٹریفک کے لیےمکمل بحال کر دی
    جاینگی.

  • سیلاب متاثرہ اضلاع میں  ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    سیلاب متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پرملک بھر میں سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

    ترجمانِ وزارت صحت کے مطابق کیمپس نیشنل ایمرجنسی آپریشن سیل صوبائی ای اوسیز اور اغاخان یونیورسٹی کے اشتراک سے لگائے جایں گے.

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تقریبا 1200 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے،ہیلتھ کیمپس میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں گی ،کیمپس میں ادویات، اہل بچوں کی ویکسینیشن کی فراہمی کو یقینی بنایں گے.

    وزیرصحت نے کہا کہ جلد کے امراض، آ نکھوں کے انفیکشن، اینٹی ڈائریا کی ادویات بھی فراہم کی جایں گی ، ڈیرہ اسماعیل خان پشاور، ٹانک، کے ہر ضلع میں بھی اسی طرح ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے ، بلوچستان کے 6 اضلاع مجموعی طور پر تین سو کیمپ لگائے جایں گے، بلوچستان کے اضلاع میں لسبیلا جعفر آباد/نصیر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، بولان، موسی خیل اور ہرنائی شامل ہیں

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 95 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے ،خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع ٹوٹل چار سو ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے،ڈیرہ اسماعیل خان پشاور ٹانک نوشہرہ، چارسدہ، سوات، شانگلہ، دیر لوئر شامل ہیں، پنجاب کے 2 اضلاع ڈی جی خان راجن پور ٹوٹل سو کیمپ لگائے جایں گے، اندرون سندھ کے چھ اضلاع میں تین سو ہیلتھ کیمپس لگاے جایں گے ،.سندھ کے اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ/لاڑکانہ، سکھر/خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، سانگر/بدین اور شکارپور/کشمور شامل ہیں.

  • منچھر جھیل کا بند ٹوٹنےکا خطرہ، قریبی آبادیاں خالی کرنےکے احکامات جاری

    منچھر جھیل کا بند ٹوٹنےکا خطرہ، قریبی آبادیاں خالی کرنےکے احکامات جاری

    سیہون: منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے اور بند ٹونٹےکے خطرے کے پیش نظر قریبی آبادیوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیےگئے۔

    ڈپٹی کمشنر جامشورو کے مطابق منچھر جھیل کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جھیل کا بندکسی بھی وقت ٹوٹنےکا خدشہ ہے، یونین کونسل واہڑ، بوبک، جعفرآباد اور یونین کونسل چنا کے علاقے خالی کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہےکہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔

    ڈپٹی کمشنرکا مزید کہنا تھا کہ جھیل کے بند کو کٹ نہیں لگائیں گے، آخری وقت تک کوشش کریں گے کہ بچت ہوجائے، منچھر جھیل کے لیے اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں۔جھیل کا پانی کناروں سے چھلکنے لگا ہے، سیہون کی مقامی آبادی انتہائی خوف کا شکار ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منچھر جھیل میں بوبک اور اطراف کے سیکڑوں گاؤں بچانے کے لیے یوسف باغ کے مقام پر بندکو کٹ لگایا جائے۔ جھیل میں پانی کی سطح میں سلسل بڑھنے سے علاقہ مکین شدید پریشان ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بندوں پر موجود ہیں، سامان نہ ہونے کی وجہ سے رضاکار پریشان ہیں۔

    ادھر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان سےآنے والا پانی پہلے منچھراوردریا میں جاتا ہے، منچھرمیں بھی اب پانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ پانی اب چند ماہ تک انہی علاقوں میں رہے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان سندھ میں ہوا،یہاں سب ہی پریشان ہیں، ایک کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، ہمیں ٹینٹس چاہییں آرڈربھی دےچکےہیں لیکن دستیاب نہیں ہیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    اسلام آباد:بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

    ایل پی جی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس پر ایل پی جی ایسوسی ایشن نے کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے حکومت کو 10 ستمبر تک قیمتیں کنٹرول کرنے کا الٹی میٹم دیدیا۔

    چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے، اوگرا نے قیمت 212 روپے مقرر کی لیکن فروخت 280 روپے میں ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو سیلنڈر کی قیمت 2496 مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 3300 میں فروخت ہو رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں گیس کی قیمت 270 سے 300 روپے فی کلو وصول کی جارہی ہے۔

    دوسری طرف ملک بھر میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح 44 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی،ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1 اعشاریہ 83 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 23 اشیائے ضروریہ قیمتیں بڑھیں۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 47 روپے 42 پیسے بڑھ گئی، فی کلو ٹماٹر 110 رو پے کی اوسط قیمت سے 157 روپے تک پہنچ گئے، پیاز کی فی کلو قیمت میں 35 روپے 6 پیسے کا اضافہ ہوا، آلو کی فی کلو قیمت 3 روپے 88 پیسے بڑھ گئی، انڈوں کی قیمتوں میں فی درجن 7 روپے 25 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 51 روپے 2 پیسے مہنگا ہوا، بچوں کے خشک دودھ کا 390 ملی گرام کا پیکٹ 8 روپے 57 پیسے مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برائلر مرغی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 48 پیسے کا اضافہ ہوا، گندم کا 20 کلو آٹے کا تھیلا 7 روپے تک مہنگا ہوا، دال مونگ، ماش، جلانے کی لکڑی بھی مہنگی ہوئی، ایک ہفتے کے دوران صرف 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے دال مسور کی فی کلو قیمت میں 3 روپے 91 پیسے کی کمی ہوئی، ویجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں 5 روپے 52 پیسے، چینی، کیلے، ڈالڈہ کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی جبکہ حالیہ ہفتے تازہ دودھ اور دہی سمیت 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • کوٹری بیراج میں بڑاریلاداخل،جامشورو میں ایک ہی خاندان کے5افراد ڈوب گئے

    کوٹری بیراج میں بڑاریلاداخل،جامشورو میں ایک ہی خاندان کے5افراد ڈوب گئے

    کوٹری :کوٹری بیراج میں بڑا سیلابی ریلا داخل ہوگیا، جامشورو میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔دریائے سندھ کوٹری بیراج میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا داخل ہوگیا ہے، پانی کی سطح میں اضافے کے باعث کچے کے سیکڑوں دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

    جامشورو میں علی آباد کے قریب لنک روڈ انڑپورپر ایک ہی خاندان کے 5 افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد پانی سے لاشیں نکال لیں جن میں 2 نوجوان لڑکیاں،2 خواتین اورایک بچہ شامل ہیں۔

    ادھراسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹرکا پہلا باضابطہ اجلاس یوا ، جس میں سیلاب کے بعد مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا
    وفاقی دارالحکومت میں ہونی والے اہم اجلاس میں وفاقی وزیر احسن اقبال، چیئرمین این ایف آر سی سی، چیئرمین این ڈی ایم اے، ڈی جی آئی ایس پی آر ، چیئرمین فلڈ کمیشن سمیت محکمہ موسمیات کے نمائندے بھی شریک ہوئے

    اجلاس میں حکام کی جانب سے سیلاب کی تازہ ترین صورت حال سے متعلق شرکا کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی کیلئے کیے جانے والے اقدامات بھی زیر غور آئے۔

    انہوں نے کہا کہ 500 فیصد سے زیادہ بارشوں سے سیلاب آیا، ترقی یافتہ ممالک بھی قدرتی آفت کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں، تاہم ہماری قوم نے ڈٹ کر ہر آفت کا سامنا کیا ہے۔ حکومت اور ادارے تنہا کسی بھی آفت کاسامنا نہیں کرسکتے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

     

     

  • ایشیا کپ: سری لنکا نے افغانستان کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی

    ایشیا کپ: سری لنکا نے افغانستان کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی

    دبئی:ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی سپر فور مرحلے کے پہلے میچ میں سری لنکا نے افغانستان کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔شارجہ میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا کےکپتان نے ٹاس جیت کر افغان ٹیم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔افغان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔

    افغانستان کی جانب سے رحمان اللہ گربز نے 84 اور ابراہیم زادران نے 40 رنز کی اننگز کھیلی، ان کے علاوہ نجیب اللہ زادران 17 اور حضرت اللہ زازئی 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔سری لنکا کی جانب سے دلشان مدو شاناکا نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔سری لنکا نے 176 رنز کا ہدف 6 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کرلیا۔

    سری لنکا کی جانب سے کوشل مینڈس 36 ، پاتھم نسانکا 35 اور دنوشکا گناتھیلاکا 33 رنز بنا کر نمایاں رہے، راجاپکسا 14 گیندوں پر 31 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔افغانستان کی جانب سے مجیب الرحمان اور نوین الحق نے 2 ،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس سے پہلے ایشیا کپ 2022 کے سپرفور مرحلے کے پہلے میچ میں افغانستان نے رحمٰن اللہ گرباز کے 85 رنز کی بدولت سری لنکا کے خلاف مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں پر 175 رنز بنا لیے۔شارجہ میں کھیلے جارہے میچ میں سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے ٹاس جیت کر افغانستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    حضرت اللہ زازئی اور رحمٰن اللہ گرباز نے ابتدائی اوورز میں برق رفتار بیٹنگ کی اور اسکور کو آگے بڑھایا اور 22 گیندوں میں 3 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔سری لنکا کی جانب سے مادوشانکا نے 46 کے اسکور پر حضرت اللہ زازئی کو آؤٹ کرکے افغانستان کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی لیکن گرباز نے مسلسل تیز بیٹنگ جاری رکھی۔

    رحمٰن اللہ گرباز نے 4 چوکوں اور 6 چھکوں کی مدد سے 45 گیندوں پر 84 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کا سکور 16 ویں اوور میں 139 رنز تک پہنچا کر فرنینڈو کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ابراہیم زدران نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 38 گیندوں پر 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز بنائے، انہیں مادوشانکا نے آؤٹ کیا۔

    افغانستان کی جانب سے چوتھے آؤٹ ہونے والے بلے باز محمد نبی تھے، جو صرف ایک رن بنانے کے بعد تھیکشانا کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔نجیب اللہ زدران 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، انہیں ڈی سلوا اور مینڈس کے گٹھ جوڑ نے رن آؤٹ کرکے پویلین بھیج دیا۔راشد خان آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز تھے جو آخری گیند رن آؤٹ ہوئے اور ان کی اننگز 9 رنز پر مشتمل تھی۔

    افغانستان نے 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 175 رنز بنالیے۔

    اس سے قبل سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے ٹاس جیتنے کے بعد کہا کہ ہم نے ہدف کے تعاقب میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اسی کو دہرانا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم میچ میں اچھی شراکت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ہماری توجہ اسی پر ہے۔

    افغانستان کے کپتان محمد نبی کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک اچھا اسکور بنانے کی کوشش کریں گے۔

    ٹیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند میچوں میں باؤلرز کی کارکردگی سے خوش ہوں اور امید ہے آج بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

    خیال رہے کہ ایشیا کپ کے گروپ میچ میں افغانستان نے سری لنکا کو شکست دے دی تھی۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں:

    افغانستان: محمد نبی (کپتان)، حضرت اللہ زازئی، رحمٰن اللہ گرباز(وکٹ کیپر)، ابراہیم زدران، نجیب اللہ زدران، کریم جنت، راشد خان، سمیع اللہ شنواری، نوین الحق، مجیب الرحمٰن، فضل الحق فاروقی

    سری لنکا: داسن شناکا (کپتان)، پاتھم نسانکا، کوسل مینڈس (وکٹ کیپر)، چاریتھ اسالینکا، دانوشکا گوناتھیلاکا، بھونوکا راجاپکسا، وانیندو ہسارنگا ڈی سلوا، چمیکا کارونارتنے، مہیش فرنینڈو، دلشان مادوشانکا

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • سیلاب سےپاکستانی کسان50سال پیچھےچلاگیا:خصوصی رپورٹ

    سیلاب سےپاکستانی کسان50سال پیچھےچلاگیا:خصوصی رپورٹ

    کراچی :سیلاب سے پاکستانی کسان 50 سال پیچھے چلاگیا ،سیلاب سے پورا ملک ڈوبا ہوا ہے اور پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اب کمزورپڑچکی ہے، کسان اب بھی تباہ کن سیلاب سے اپنے نقصانات گن رہے ہیں جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈال دیا ہے، لیکن طویل مدتی اثرات پہلے ہی واضح ہیں۔

    سندھ کے ایک کسان، اشرف علی بھنبرو کہتے ہیں‌ کہ ، "ہم 50 سال پیچھے چلے گئے ہیں،” جس کی 2500 ایکڑ کپاس اور گنے کی فصل کٹائی کے دہانے پر تھی، اب ختم ہو چکی ہے۔مون سون کی ریکارڈ بارشوں سے آنے والے سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور سندھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

    یہ صوبہ طاقتور دریائے سندھ کے ذریعے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، جس کے کناروں پر کھیتی باڑی صدیوں سے پھل پھول رہی ہے اور آبپاشی کے نظام کے ریکارڈ 4,000 قبل مسیح کے ہیں۔

    صوبہ مقامی طور پر ریکارڈ بارشوں سے بھیگ گیا تھا، لیکن اس پانی کی نکاسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ پہلے ہی پورے بہاؤ میں ہے، شمال میں معاون ندیوں سے پھولا ہوا ہے، اور کئی جگہوں پر اس کے کنارے پھٹ چکے ہیں۔بھنبرو نے کہا، "ایک مرحلے پر 72 گھنٹے مسلسل بارش ہوئی،” انہوں نے مزید کہا کہ صرف ان پٹس پر انہیں کم از کم 270 ملین روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    "یہ کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر ہونے والی لاگت تھی … ہم منافع کو شامل نہیں کرتے ، جو کہ بہت زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک بمپر فصل تھی۔”جب تک سیلاب زدہ کھیتی باڑیوں کی نکاسی نہیں ہو جاتی، بھنبرو جیسے کسان موسم سرما کی گندم کی فصل نہیں لگا سکیں گے جو کہ ملک کی غذائی تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    "ہمارے پاس ایک مہینہ ہے۔ اگر اس مدت میں پانی نہیں نکالا گیا تو وہاں گندم نہیں ہوگی،‘‘ سکھر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سمو خان ​​گاؤں میں اپنے فارم میں انہوں نے کہا۔پاکستان برسوں سے گندم کی پیداوار میں خود کفیل تھا، لیکن حال ہی میں اس نے درآمدات پر انحصار کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے سٹریٹجک ذخائر کے حصے کے طور پر بھرے ہوں۔

    ان حالات میں جبکہ پاکستان اربوں کا مقروض ہے۔اسلام آباد بہت کم درآمدات کا متحمل ہو سکتا ہے – چاہے وہ روس سے رعایتی اناج خریدے، جیسا کہ زیر بحث ہے۔

    ملک پر غیر ملکی قرض دہندگان کا اربوں کا قرض ہے، اور صرف گزشتہ ہفتے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو فنڈنگ ​​دوبارہ شروع کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوا جو کہ غیر ملکی قرضوں کو بھی پورا نہیں کر سکتا، سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بل کی ادائیگی کو چھوڑ دیں جس کا تخمینہ 10 بلین ڈالر ہے۔

    سکھر سے سمو خان ​​تک ایک بلند شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے سیلاب سے ہونے والی تباہی کا چونکا دینے والا منظر پیش کیا جاتا ہے۔کچھ جگہوں پر جہاں تک آنکھ نظر آتی ہے پانی ہے۔ جہاں سیلاب زدہ کھیتوں میں کپاس کی فصلیں نظر آتی ہیں، ان کے پتے بھورے ہو گئے ہیں، جس میں شاید ہی کوئی بیل نظر آئے۔

    سکھر سے 30 کلومیٹر شمال مشرق میں صالح پیٹ کے ایک کسان، لطیف ڈنو نے کہا، ’’آئیے کپاس کو بھول جائیں۔بڑے زمیندار ممکنہ طور پر سیلاب سے باہر نکلیں گے، لیکن دسیوں ہزار کھیت مزدوروں کو خوفناک مشکلات کا سامنا ہے۔

    بہت سے لوگوں کو صرف اس چیز کی ادائیگی ہوتی ہے جو وہ چنتے ہیں، اور صوبے بھر میں بکھرے دیہاتوں میں چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر خوراک اگا کر اپنی کمائی کو پورا کرتے ہیں۔وہ بھی پانی کے نیچے ہیں، اور دسیوں ہزار لوگ اپنے سیلاب زدہ گھروں سے اونچی زمین پر پناہ لینے کے لیے بھاگ گئے ہیں۔

    سعید بلوچ نے کہا، "چننے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا،” جو ہر موسم میں اپنے بڑھے ہوئے خاندان کے افراد کے ساتھ مزدوری کرتے ہیں، اپنی کمائی جمع کرتے ہیں۔
    اس سے صرف کسان متاثر نہیں ہوئے بلکہ سپلائی چین میں ہر ایک کڑی تناؤ محسوس کر رہی ہے۔

    صالح پیٹ کے ایک کپاس کے تاجر وسیم احمد نے کہا، ’’ہم برباد ہو گئے ہیں، جنہوں نے صنعت میں بہت سے لوگوں کی طرح قیمت خرید کو طے کرنے اور مہنگائی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچاؤ کے لیے پیشگی رقم ادا کی۔”200 من (تقریباً 8,000 کلو) کے مقابلے میں، صرف 35 من ہی کاٹی گئی ہے،” انہوں نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ اس نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کا منصوبہ بند کر رکھا ہے۔

    کاروباربند ہیں ،فیکٹریاں بھی بند ہوگئیں ، غریب کیا کرے گا اس کو بھی کوئی سمجھ نہیں آرہی ، بس اب تو کوئی معجزہ ہی ہے جواس قوم کومشکل صورتحال سے نکال لے ورنہ کئی سال بحالی میں لگ سکتے ہیں

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے بھرپور تعاون پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے آپ کی فکرمندی قابل تعریف اور قابل تحسین ہے، عوام کو مایوس نہیں کریں گے:

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لوگ پھنسے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے ،14 لاکھ سےزائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے ،نقصانات کا پتہ نکاسی آب کے بعد کیاجائے گا،سندھ حکومت ریسکیو اور ریلیف سے متعلق امور پر کام کررہی ہے سندھ میں سرکاری اسکولوں میں بھی متاثرین کو ٹھہرایا گیا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے عالمی سطح پر جو فنڈز ریزنگ ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے،سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ ابتدائی معالومات ہیں ، 14لاکھ 65ہزار 941گھروں کو نقصان ہوا ہے،سندھ میں اب تک 559افراد جاں بحق، 21ہزار 891زخمی ہوئے سندھ میں 6لاکھ 58ہزار 354افراد کیمپوں میں قیام پذیر ہیں حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت متاثرین کو 2وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے 44لاکھ 2ہزار 484ایکڑ زمین پر فصلوں کو نقصان پہنچا ،سیلاب سے کپاس کی فصل مکمل طور پرتباہ ہوچکی ہے ،سیلاب سے 100فیصد سبزیاں متاثر ہوئے ہیں سیلاب سے آم کے درختوں کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، پاک نیوی،پاک آرمی ،سندھ پولیس اور دیگر ادارے ریسکیو کے عمل میں مصروف ہیں،سیلاب متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے 03355557362 نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے، متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے02135381810نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے،اگر پی ڈی ایم اے سے رابطہ کرکے تصدیق ہوگی تو امداد دہرانے سے بچ جائیں گے، سندھ حکومت نے راشن بیگز کے آرڈر دے دئیے ہیں ،سندھ حکومت راشن ،خوراک ،پانی اور ضروری اشیا کی فراہمی کررہی ہے،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ تقسیم امداد شفاف طریقے سے جاری رہےمتاثرین سیلاب کی امدا د میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے

    عمران خان خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹرز ستعمال کر رہے ہیں ،

    پرویز الہیٰ نے عمران خان کو "خوش” کرنے کا ایک اور "پروگرام”

     ہیبت علی خان نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دریائے سندھ میں ڈوبتے شخص کی جان بچالی

    بشارت کی حدود میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ کے بعد پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لے لیا

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • لاہوراور اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    لاہوراور اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات سے منگل تک آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ، اسلام آباد ،راولپنڈی ،مری ، چکوال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق اٹک ، جہلم ،سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ میں بھی گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ اتوار اور پیر کو دیر ،کوہستان، ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، ہری پور میں بارش کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ اس سال ملک میں مون سون بارشوں کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں ایک ہزار 265 موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان موسمی تبدیلیوں کا شکار ہے۔

    یونیسیف پاکستان کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا ہے،ملک کے کچھ صوبوں میں 30 سال کی اوسط سے 5 گناہ زیادہ بارش ہوئی بارشوں اور سیلاب سے 400 بچوں سمیت ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوئے-

    بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد مکانات کونقصان پہنچا، پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کے مزید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے ڈائریا،ہیضہ،ڈینگی،ملیریاپھیلنے کے زیادہ خدشات ہیں-

    نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 65 ہزار234 گھروں کومکمل نقصان پہنچا ،نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 68 ہزار871 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ،بارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں 29 افراد جاں بحق ہوئے-

    نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سےمیں 41 افراد زخمی ہوئےبارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں ایک لاکھ 66 ہزار 60 خاندان متاثرہوئے نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سے 5 لاکھ 59 ہزار 404 آبادی متاثر ہوئی-

    نواب شاہ کے ریلیف کیمپ میں 29 ہزار650 افراد میں موجود ہیں،نواب شاہ میں بارش کی تباہ کاریوں میں ایک ہزا ر632 مویشی اور اونٹ ہلاک ہوئے،

    منچھر جھیل پر پانی کا شدید دباؤ،پانی کا رساؤ شروع،لوگ نقل مکانی کرنے لگے