Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • بارشوں اورسیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا،یونیسیف

    بارشوں اورسیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا،یونیسیف

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وفاقی ادارے متاثرہ مواصلاتی نظام کی بحالی میں مصروف عمل ہیں تمام سرکاری افسران اور اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خدمات کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری ہیں،نیشنل ہائی وے ،بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں اور پی ٹی اے نے مشکلات کے باوجود کام کیا،سیلاب سے بلوچستان ،سندھ اور خیبرپختونخوا میں بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا ،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بڑا چیلنج تھا،سیکریٹری پاو رڈویژن راشد لنگڑیال اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے ,وزیر اعظم شہباز شریف بجلی کی سپلائی کی بحالی کو خود سے مانیٹر کر رہے ہیں; اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی دو سپلائی لائنز, چکدرہ سے بری کوٹ اور سوات سے مٹہ کو 10 ستمبر تک بحال کر دیا جائے گا جبکہ مدین گرڈ اسٹیشن کو درال خوار جنریشن پلانٹ کے ذریعے سپلائی دے کر سپلائی بحال کی جائے گی.صوبہ سندھ کے 5 گرڈ اسٹیشنز اور صوبہ بلوچستان کے 2 گرڈ اسٹیشنز تاحال 4-3 فیٹ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جن سے سپلائی سیلابی پانی اترتے ہی بحال کر دی جا ئے گی. پاور ڈویژن افسران کو سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی سپلائی کی بحالی کےکام پرمامور کیاگیا ،سیلاب سے متاثرہ 81 گرڈ اسٹیشنز میں 46 سے بجلی کی سپلائی بحال کردی گئی سی ای اوز ڈسٹربیوشن کمپنیز کے رابطہ نمبرز اخبارات اور پاور ڈویژن کی ویب سائٹ پر دے دیئے گئے ابتدائی طور پر 11 کے وی کے 881 فیڈرز بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے، فیڈرز متاثر ہونے کے باعث 9لاکھ 75ہزار صارفین کو بجلی ترسیل متاثر ہوئی ،متاثرہ فیڈرز میں 475 بحال ، 70ہزار 600صارفین کو بجلی کی ترسیل بحال کر دی گئی سیلاب زدہ علاقوں میں کرنٹ سے بچاؤ کے لیے 35 گرڈ اسٹیشنز سے بجلی فراہمی شروع نہیں کی گئی سیلاب زدہ علاقوں کے 35 میں 25 گرڈ اسٹیشنز بلوچستان ، 5 سندھ اور 5 خیبر پختونخو امیں ہیں،

    یونیسیف پاکستان کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا ہے،ملک کے کچھ صوبوں میں 30 سال کی اوسط سے 5 گناہ زیادہ بارش ہوئی بارشوں اور سیلاب سے 400 بچوں سمیت ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوئے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد مکانات کونقصان پہنچا، پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کے مزید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے ڈائریا،ہیضہ،ڈینگی،ملیریاپھیلنے کے زیادہ خدشات ہیں

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، فیصل ایدھی

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 65 ہزار234 گھروں کومکمل نقصان پہنچا ،نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 68 ہزار871 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ،بارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں 29 افراد جاں بحق ہوئے، نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سے میں 41 افراد زخمی ہوئے، بارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں ایک لاکھ 66 ہزار 60 خاندان متاثرہوئے نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سے 5 لاکھ 59 ہزار 404 آبادی متاثر ہوئی،نواب شاہ کے ریلیف کیمپ میں 29 ہزار650 افراد میں موجود ہیں،نواب شاہ میں بارش کی تباہ کاریوں میں ایک ہزا ر632 مویشی اور اونٹ ہلاک ہوئے،

    چیئرمین این ایچ اے کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ این 65 کوئٹہ سبی روڈ ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی،قومی شاہراہ پر قائم بی بی نانی پل بارشوں اور سیلابی پانی سے متاثر ہوا تھا،پل بہہ جانے سے کوئٹہ اور سبی کے درمیان ٹریفک کئی دنوں سے معطل تھی پوری ٹیم ہفتے سے شاہراہ کی بحالی کے لیے علاقے میں موجود رہی ،وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے قومی شاہراہ کی بحالی پر اطمینان کا اظہارکیا اور کہا کہ شاہراہ کی بحالی سے سامان کی ترسیل اور معاشی سرگرمیا ں بحال ہونگی وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کچھی کو متبادل راستے پر ٹریفک کی بحالی کے لیے لیویز فورس کی تعیناتی کی ہدایت کر دی،

  • بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جان کی بازی ہار گئے رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 14 جون سے اب تک ایک ہزار 265 ا موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث آزاد کشمیر میں 42،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں 257،سندھ میں 470،پنجاب میں 188 اور خیبر پختونخوا میں 285 افراد جاں بحق ہوئے-

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 35 ہزار 584 مویشی مر چکے ہیں،اب تک بارشوں اور سیلاب سے 14 لاکھ 27 ہزار 39 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا،

    رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پلوں کو نقصان پہنچا،پنجاب میں 130 کلومیٹر،خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 589 کلومیٹر شاہرائیں متاثر ہوئیں ،سندھ میں 2 ہزار 328 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،60 پلوں کو نقصان پہنچا،بلوچستان میں ایک ہزار 500 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،18 پلوں کو نقصان پہنچا-

    کوہلو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد سانپوں کے ڈسنے کے کیسزمیں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رواں ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں سانپ ڈسنے کے 3 درجن سے زائد کیسزرپورٹ ہوئے-

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    دوسری جانب سیلاب متاثرین کے شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں 6 ماہ تک توسیع کردی گئی نادرا نے سیلاب متاثرین کی سہولت کے لیےایکسپائر ہونے والی شناختی کارڈز کو آئندہ 6 ماہ کے لیے قابل استعمال قراردے دیا۔ رعایت کا اطلاق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہوگا۔

    کوئٹہ، لسبیلہ، کوہلو سمیت بلوچستان بھر کے شہریوں کے ایکسپائر شناختی کارڈ 31دسمبر تک قابل استعمال ہیں۔ دادو، میرپور خاص اور لاڑکانہ سمیت سکھر ریجن کے سیلاب متاثرین کو بھی یہ سہولت دی گئی ہے۔

    نادرا نےڈیرہ غازی خان ریجن کےلیےبھی شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں توسیع کردی ہےچیئرمین نادرا کےمطابق یکم مئی سے زائد المعیاد اور تیس نومبر تک ایکسپائر ہونے والے تمام شناختی کارڈز اکتیس دسمبر تک قابلِ استعمال رہیں گے۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

  • امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس شیلا جیکسن اور ٹام سؤزی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے روانہ ہو گئے، اتوار کو پاکستان پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے پاکستان روانگی سے قبل شیلا جیکسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے امریکی کانگریس ارکان شیلاجیکسن اور ٹام سؤزی دو روزہ دورے پرپاکستان آئیں گے۔

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک نے رابطہ کیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل مائیکل ایرک نے سیلاب سے تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ سینٹ کام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کیلئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا امریکی ٹیم سیلاب کی تباہ کاریوں اور دیگر امور کا جائزہ لے گی، جائزہ رپورٹ کی روشنی میں یو ایس ایڈ کی امداد کے امور طے کیے جائیں گے

    دوسری جانب معروف سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پانچ لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے گوگل جنوب مشرقی ایشیا کی نائب صدر سٹیفنی ڈیوس نےلنکڈ ان پرپوسٹ کیاکہ ٹیک جائنٹ یہ رقم جو تقریبا 110 ملین روپےکےبرابرہے، Googl . org کے ذریعے سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی کو عطیہ کرے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی اس کے نتیجے میں مقامی تنظیموں کو ذیلی گرانٹ فراہم کرے گا جو بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے عمل پیرا ہیں پاکستان میں سب کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھتے دیکھا، ہم پاکستانیوں کےجذبے سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم بھی مدد کرنا چاہتے ہیں گوگل کمپنی دیگر وسائل سے بھی پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی۔

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    دوسری جانب ڈی جی خان،راجن پور میں گزشتہ 7 روز کے دوران سیلاب زدگان کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، محکمہ صحت پنجاب کے مطابق جنوبی پنجاب کے37 ہزار سے زائد سیلاب زدگان سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں راجن پور میں 68 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 58 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، لیہ میں 8 ہزار، مظفرگڑھ میں 6 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں،سیلاب زدگان میں سانس کی تکلیف، خارش، تیز بخار، ڈائریا سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے

    پنجاب کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیل چکی ہیں، سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جانے والے ریسکیو ورکرز بھی بیمار ہوچکے ہیں ،مچھروں کی بہتات ہے،سیلاب زدگان کواس وقت مچھردانیوں کی بھی ضرورت ہے،ادویات کی بھی ضرورت ہے،کئی دوردراز علاقوں میں ابھی تک کوئی میڈیکل ٹیم نہیں پہنچی

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

  • ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    لاہور:ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری،یہ کوئی کسی نیوز ایجنسی کی خبر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، پاکستان کے سینئرصحافی مبشرلقمان جو کہ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کے مسئائل جاننےکےلیے وہاں پہنچے ، انہوں نے وہاں کیا دیکھا اس دُکھ بھری کہانی کو وہ خود بیان کرتے ہیں‌

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں گئے ہیں ، وہاں بے بس انسانوں کوان ظالم حکمرانوں کی بے حسی کا شکاردیکھا ، کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ رہا ، یہ سب ڈرامے بازیان ہیں ، فرضی اور گھوسٹ کیمپ لگے ہوئے ہیں اوروہاں سوائے علامتی صورتحال کے سوا کچھ نہیں

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت وہاں نظر نہیں آئی ،ہاں مذہبی جماعتوں کی تنظیموں کو سلام جنہوں نے بلا امتیازپریشان حال لوگوں کی بڑی مدد کی اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے ، الخدمت والے تو بہت بہتر کام کررہےہیں ایسا کام انہوں نے کسی اور تنظیم کانہیں دیکھا ایک میکنزم ہے ، حق داروں تک حق پہنچ رہا ہے،لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جارہے ، ایسے ہی تحریک لبیک ، دعوت اسلامی والے بھی خدمت میں مصروف ہیں اگروہاں نہیں‌ ہیں تو حکومت کے اہلکار نہیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اگلے چند دنوں تک پیدائش کے مرحلے سے گزریں گی تو پھرایسی صورت حال میں تو بہت بڑی خطرے کی بات ہے ، ان کےلیے مخصوص میڈیکل کیمپ ہونے چاہیں ، جہاں پہلے ہی شدید گرمی ہے وہاں کس طرح‌ ان معاملات کو حل کیا جائے گا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امریکہ ، برطانیہ اور دیگرملکوں سے امداد کی آفر کی گئی لیکن میں نے اس لیے ٹھکرا دی کہ ہمارے پاس آڈٹ والا اکاونٹ ہی نہیں‌، آپ پاک آرمی کو دے دیں ، لبیک والوں کو دے دیں‌، الخدمت والوں کو دے دیں‌مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے اور حق داروں تک پہنچائیں گے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ لوگوں کے بُرے حال ہیں ،کرشنگ پلانٹ لگا کرجوقدرتی بند تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، سیلاب کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی اور اس نے بڑے بڑے شہراورہزاروں بستیاں تباہ کردیں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں لوگوں‌ کوایک کے بعد دوسری مصیبت میں دیکھا،ایک طرف لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں‌تو دوسری طرف بجلی کے بل ہیں‌، بجلی کے کھمبے کئی ماہ سے گرے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی میسر نہیں ، یونٹ صفر ہے مگر بل سترہ ہزار ، یہ کیسی بدمعاشی اور ظلم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ان حکمرانوں کو ، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی اس علاقے میں نہیں گئے ،عارف علوی آئے تو ایک فرضی کیمپ میں فوٹوسیشن کروا کرچلے گئے ، مونس الہی گجرات میں ہیں ، ان حالات میں اگر عوام الناس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل آیا تو بجا نہ ہوگا ، حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، جہاں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں وہاں‌س کے بڑے ذمہ وہاں کے طاقتور ، وڈیرے زیادہ ذمہ دار ہیں

  • سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    اسلام آباد:مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے، پاکستان اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات نمودار ہونے لگے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی پر زبردست تیزی کی توقع ظاہر کی جارہی تھی جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی 200 روپے سے بھی نیچے آنے اور 180 روپے تک ہونے کے اندازے لگائے جارہے تھے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام بحال اور قرضے کی قسط موصول ہونے کے باوجود اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں میں توقعات کے مطابق کچھ نظر نہیں آرہا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق سیلابی تباہ کاریاں اس حد تک زیادہ ہیں کہ اس کے سامنے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بھی ناکافی نظر آنے لگا ہے یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اور اس میں پاکستانی معیشت سے متعلق اہداف دیئے گئے ہیں، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں سیلاب کے نقصانات شامل ہی نہیں، اس لئے آئی ایم ایف کو اگلی جائزہ رپورٹ میں تمام تخمینوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔

    اسٹاک مارکیٹ
    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 282 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 42 ہزار 591 پوائنٹس سے کم ہوکر 42 ہزار 309 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے، مندی کے سبب سرمایہ کاروں کو 87 ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    ڈارسن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ سیلابوں سے نقصانات کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں اور اگست میں زبردست تیزی کی وجہ سے قیمتیں اونچی سطح پر پہنچ گئیں، جس پر سرمایہ کار اب فروخت کرکے منافع حاصل کرنے لگے ہیں۔

    کرنسی مارکیٹ
    انٹربینک میں 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں 1.26 روپے کے اضافے سے 221.92 روپے ہوگئی لیکن اس کے بعد 30، 31 اگست اور یکم ستمبر کو ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 218.60 روپے کی سطح پر آگیا لیکن 2 اگست کو پھر ڈالر کی قدر بڑھ کر 218.98 روپے ہوگیا۔

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 26 اگست کو 229.50 روپے تھا لیکن 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی اور 31 اگست کو ڈالر کم ہوتے ہوئے 218.50 روپے کی سطح پر آگیا لیکن یکم ستمبر سے صورتحال پھر بدل گئی اور ڈالر دو دنوں میں پھر بڑھ کر 223.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

    گولڈ مارکیٹ
    عالمی مارکیٹ میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں کمی 33 ڈالر کی کمی پر ریکارڈ کی گئی، جس سے فی اونس سونے کی قیمت 1738 ڈالر سے کم ہوکر 1705 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمت میں کمی آئی لیکن ڈالر کی قدر بڑھنے کے تناسب سے بعض دنوں میں کمی کا حجم کم رہا، ہفتہ بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی اور ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 47 ہزار روپے سے کم ہوکر ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہوگئی۔

    صارف مارکیٹیں
    مون سون بارشوں اور سیلابوں سے سب سے زیادہ صارف مارکیٹیں متاثر ہورہی ہیں۔ ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، اجناس اور دیگر اشیائے صرف کی ترسیل متاثر ہے جبکہ کئی اشیاء کی قلت بھی دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

    بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچنے کے سبب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشیائے صرف کی عدم دستیابی اور قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے مسائل آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہیں گے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق یکم ستمبر کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 1.31 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ ہفتہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 45.50 فیصد زائد مہنگا رہا۔

  • سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات:سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌،اطلاعات کےمطابق کے پی کے مشہورسیاحتی علاقے سوات میں تاریخ کے بد ترین سیلاب سے تباہی کے باوجود علاقے سے منتخب اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے موجود نہ ہونے پر مقامی لوگ سخت نالاں نظر آتے ہیں۔

    اس حوالے سے میڈیا ذرائع کا کہناہے کہ سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان ہیں، جس میں وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود ہی نہیں۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ارکان غیر ملکی دورے پر ہیں، میاں شرافت علی جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر علی انگلینڈ میں موجود ہیں۔ اور سیلاب کی تباہی کے باوجود بھی علاقے میں نہ پہنچ سکے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید گزشتہ اتوار کو وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، جس کے باعث مقامی لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

     

    بحرین سے کالام تک سڑک دریا برد ہوگئی ہے جبکہ علاقے میں کئی رابطہ پل بھی تباہ ہوگئے ہیں، جس کے باعث بالائی علاقوں میں اشیائے خور و نوش اور ادویات کی کمی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • سیلاب سے سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے18 مقامات کونقصان:پاکستان ریلوے بھی مشکلات میں گھرگیا

    سیلاب سے سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے18 مقامات کونقصان:پاکستان ریلوے بھی مشکلات میں گھرگیا

    کراچی :بارشوں کے باعث سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے 18 مقامات کوبھی نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ آثارقدیمہ کے مقامات کی مرمت کیلئےٹھیکیداروں کو بغیر ٹینڈر کام کرنےکی پیشکش کی گئی ہے۔

    محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیدرآباد کا پکاقلعہ،میاں غلام شاہ کلہوڑو،میاں غلام نبی کلہوڑوکےمقبرےمتاثر ہوئے ہیں۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    بارشوں سےٹنڈوفضل کےقدیمی مقبروں اورمسجدوں کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ کوٹ ڈیجی کا قلعہ،مومل کی ماڑی، بھنبھور، سکھرکاساتواں آستانہ بھی متاثرہوا ہے۔

    اس کےعلاوہ آمری میوزیم، رنی کوٹ کے آثارقدیمہ اور خدا آباد کی جامع مسجد میں بھی دراڑیں پڑگئی ہیں۔سیکریٹری آرکیالوجی نے بتایا ہے کہ ان مقامات کی مرمت کیلئے سیپرا قوانین پر عمل کریں گے تو دیرہوجائےگی۔

     

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    ادھرملک میں بدترین سیلابی صورت حال اور ریلوے ٹریک پانی میں ڈوبے جانے کے باعث کراچی سے چلنے والی ٹرینیں تاحال معطل ہے جس کی وجہ سے محکمے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق کراچی سے ٹرین آپریشن مزید ایک ہفتے بند رہے گا جبکہ بلوچستان کا ٹرین آپریشن مزید ایک ماہ بند رہے گا، کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کو 24 ٹرینیں یومیہ روانہ ہوتی ہیں

     

     

    ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے مسافر ٹرین آپریشن بند ہونے سے 30 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ کراچی سے گڈز ٹرینیں بند ہونے سے 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔کراچی سے ملتان تک مسافر ٹرین آپریشن مکمل بند ہے جبکہ ملتان سے پشاور کے درمیان خیبر میل کا ٹرین ہے۔اس حوالے سے ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کا ٹرین آپریشن بند ہونے اور ٹریک متاثر ہونے سے مجموعی طور پر 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

    کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کے ٹریک کتنا متاثر ہوا ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ریلوے ٹریک پر تاحال پانی جمع ہے اس لیے جائزہ لینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    ترجمان پاکستان ریلویز کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کو بحالی کے لیے 10 ارب روپے درکار ہے، کراچی سے ٹرین آپریشن ایک ہفتے کے اندر بحال کر دیا جائے گا جبکہ بلوچستان میں ٹرین آپریشن بحالی میں ایک ماہ سے زائد کا وقت لگے گا۔

  • خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خیرپور ناتھن شاہ سیلابی ریلے پہنچ گئے، شہر کے کئی مقامات پر پانی پہنچ گیا، شہریوں نے افراتفری میں نقل مکانی شروع کردی۔ضلع دادو میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوچکی ہے۔ تحصیل میہڑ جو پہلے ہی ڈوب چکا تھا، اب تحصیل خیرپور ناتھن شاہ بھی ڈوب گیا، انڈس ہائی وے زیر آب آگئی، جس کے باعث میہڑ، کے این شاہ اور جوہی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

     

     

    جوہی میں سیلابی ریلے کی آمد ہے، جو بچائو بند سے ٹکرا رہا ہے، دبائو بڑھنے کے باعث شہر کا حفاظتی بند خطرے میں پڑ گیا۔ جوہی کا ڈگری کالج بھی زیر آب آگیا۔کھوسہ کالونی کے رنگ بند میں دراڑیں پڑ گئیں، جہاں سے پانی کا رسا شروع ہوگیا۔ گورکھ ہل جانے والے راستے پانی آنے کے باعث بند ہوگئے۔خیرپور ناتھن شاہ میں ہر جگہ پانی ہی پانی آگیا۔ شہر کے کئی علاقوں میں سیلابی ریلے پہنچ گئے۔ شہری گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ شہر میں میڈیکل، کریانہ اور سبزی کے دکانوں سمیت پیٹرول پمپ بھی بند ہوگئے۔

     

     

    نوشہرو فيروز
    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔

    بھریاروڈ
    بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔
    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

     

    سانگھڑ
    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

     

     

    دادو
    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

     

    میہڑ
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے میہڑ کی جانب رخ کرلیا ہے اور پانی کا بہاؤ شہر کی جانب ہے، انڈس ہائی وے ڈوبنے سے مہڑ کا زمینی رابطہ مکمل طور پر سندھ کے دیگر شہروں سے منقطع ہے، میہڑ شہر کو بچانے کے لیے مہڑ رنگ بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جوہی انڈس ہائی وے مکمل طرح ڈوب چکا ہے جبکہ پانی کا دباؤ جوہی شہر کے رنگ بند پر برقرار ہے۔

     

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہی شہر کا زمینی رابطہ دادو سے منقطع ہے۔اہل علاقہ نے کہا کہ دادو ضلع میں سیلابی صورتحال شدید خراب ہوتی جارہی ہے، اب تک جوہی، خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ تحصیلیں مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث سیکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

     

     

    مٹیاری
    مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ مون سون کی غیر معمولی، بد ترین بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ 14 جون سے اب تک 399 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 191 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

     

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری
    وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی جانب سے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 13 ارب 57 کروڑ روپے کا نہری نظام تباہ ہوا، سندھ، کے پی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں 710 منصوبوں کو نقصان پہنچا۔ جاریرپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے پی میں ایک ارب اور سندھ میں 8 ارب 42 کروڑ کے نہری نظام کو نقصان پہنچا۔

    وزارت منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے بلوچستان میں 3 ارب 87 کروڑ کا نظام آبپاشی تباہ ہوا ہے۔ قبائل علاقہ جات میں 6 کروڑ 80 لاکھ ، سندھ میں 355 منصوبے اور کے پی میں 178 منصوبے تباہ ہوئے۔سیلاب سے 12 لاکھ کے قریب مکانات متاثر بھی ہوئے، جب کہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہوئے۔ سیلاب کے باعث 243 پل اور 5063 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔

     

    نوشہرہ
    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز کو مقامی انتظامیہ نے آفت زدہ قرار دے دیا ہے، جب کہ کالام کا مانکیال گاؤں پتھروں کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا۔حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کیا گیا تاہم ادارے کھلنے کے باوجود کئی اسکولوں میں صفائی کا کام جاری ہے۔ ادھر سوات میں سیلاب متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، آفت زدہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

    کالام
    کالام میں پل اور سڑکیں بہہ جانے سے وادی کالام کے قریب گاؤں سمیت بارہ بستیوں کا زمینی رابطہ شہر سے کٹ گیا۔ دریا کے دوسرے کنارے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔ امدادی ہیلی کاپٹروں سے مدد کیلئے محصورین سرخ جھنڈیاں لگا کر علامتی ہیلی پیڈ بنائے بیٹھے ہیں۔

  • وزیر خارجہ بلاول کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    وزیر خارجہ بلاول کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری کا سعودی ہم منصب سے رابطہ ہوا ہے
    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں پاکستان میں سیلاب اور مون سون کی طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کی شدت سے آگاہ کیا وزیر خارجہ بلاول زرداری نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے بھرپور یکجہتی اور مسلسل امداد کے لیے سعودی عرب کی حکومت کا شکریہ ادا کیا

    وزیر خارجہ بلاول زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ بھی کی ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ سعودی ہم منصب سے انکی بات چیت ہوئی ہے

    قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہولناک تباہی، دوست ممالک سے امدادی طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، قطر سے انسانی امداد کی پروازوں کی دو سیریز کی پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی،

    قبل ازیں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا تھاکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت ہے کہ سیلاب متاثرین کی داد رسی کی جائے ریسکیو ریلیف کے عمل میں کوئی بھی کوتاہی ناقابل برداشت ہوگی ۔متاثرین کی امداد کیلئے سندھ حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور پوری مشینری کام کر رہی ہے متاثرین کو اسکولوں اور ٹینٹ سٹی میں قائم ریلیف کیمپس میں ٹھہرایا جا رہا ہے پورے صوبہ میں 91630 راشن بیگز تقسیم کر دیئے ہیں ایک لاکھ 19ہزار972 ٹینٹس تقسیم کئے ہیں متاثرین کو 5 لاکھ 3ہزار345 مچھردانیاں اور 76ہزار810 ترپال فراہم کر دیئے گئے ہیں سندھ میں سیلاب سے 522 ہلاکتیں اور 21885 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ 101901 مویشی ہلاک ہوئے ہیں ۔ 1455251 مکانات متاثر ہوئے ہیں ۔متاثرین کو اسکولوں اور ٹینٹ سٹی میں قائم ریلیف کیمپس میں ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ متاثرین کو دو وقت کا معیاری کھانا اور میڈیکل کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے ۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اسپرے مہم بھی جاری ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین کو 25، 25 ہزار روپے دیئے جا رہے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے

  • سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا

    سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا

    صنعا:سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا.اطلاعات کے مطابق المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی قومی گیس کمپنی کے ترجمان عصام المتوکل نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد نے یمن کے 4 بحری جہازوں جن میں سے 2 پٹرول اور 2 ڈیزل کے حامل تھے روک لیا ہے۔ اس طرح اب تک روکے جانے والے بحری جہازوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔

     

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

     

    یمن کی گیس کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ایندھن کے حامل یمن کے ان بحری جہازوں کو سعودی اتحاد نے اقوام متحدہ کا فراہم کردہ پرمٹ کے باوجود روکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے تحت 54 بحری جہازوں کو یمن آنے کی اجازت تھی تاہم ابھی تک صرف 33 بحری جہاز یمن پہونچ پائے ہیں۔

     

    ترجمان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی اتحاد کی جانب سے اس قسم کی جاری خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے سعودی اتحاد کے خلاف مؤثر عملی کارروائی کرے۔

     

    واضح رہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ایسی حالت میں جاری ہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرینڈ برگ نے یمن میں جنگ بندی کی مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع کئے جانے کا اعلان کیا تھا مگر سعودی اتحاد نے کبھی بھی اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔