Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    اسلام آباد:اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے شدید سیلاب کی وجہ سے 30 لاکھ سے زائد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور وہ پانی سے پھوٹنے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔

     

     

    یونیسیف نے ایک بیان میں بتایا کہ ادارہ متاثرہ علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادِل نے کہا کہ جب آفات آتی ہیں تو بچے ہمیشہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں، سیلاب پہلے ہی بچوں اور خاندانوں کو تباہ کن نقصان پہنچا چکا ہے اور صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

    یونیسیف، حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ متاثرہ بچوں کو جلد از جلد ضروری مدد مل جائے۔بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کے نظام کو 30 فیصد نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جس سے لوگوں کے کھلے مقام پر رفع حاجت کرنے اور غیر محفوظ پانی پینے کے ساتھ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    اس کے علاوہ اسہال اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، سانس کے انفیکشن اور جلد کی بیماریوں کے کیسز پہلے ہی رپورٹ ہو رہے ہیں جو زیادہ خطرات کی شکار آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

    علاوہ ازیں 40 فیصد بچے جو دائمی طور پر کم غذائیت کا شکار تھے وہ اب مزید غذائی قلت کا شکار ہوچکے ہیں۔یہ خطرناک انسانی صورت حال آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ پہلے سے زیر آب علاقوں میں اب بھی شدید بارشیں جاری ہیں۔

    قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہنگامی اپیل کے ایک حصے کے طور پر یونیسیف 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اپیل کر رہا ہے جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں بچوں اور خاندانوں تک زندگی بچانے والے طبی آلات، ضروری ادویات، ویکسینز، محفوظ ڈیلیوری کٹس، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی فراہمی، غذائیت کی فراہمی، عارضی تعلیمی مراکز اور سیکھنے کی کٹس سمیت دیگر مدد فراہم کرنا ہے۔

    یونیسیف کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس (سی سی آر آئی) کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لیے معروف ہے اور وہ ملک ہے جہاں بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے ‘انتہائی خطرے’ کا شکار سمجھا جاتا ہے۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    پاکستان سی سی آر آئی کی درجہ بندی والے 163 ممالک اور خطوں میں سے 14ویں نمبر پر ‘انتہائی بلند خطرے’ کے زمرے میں آتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ سیلاب سے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کافی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں کیونکہ 17 ہزار 566 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوگئے جس سے بچوں کی تعلیم کو مزید خطرہ لاحق ہے۔

    خاص کر گزشتہ دو سال کی وبائی بیماری کے بعد اسکول کی بندش کے بعد بچوں کی تعلیم میں مزید خلل پڑنے کا خطرہ ہے، باالخصوص ان علاقوں میں جہاں ایک تہائی لڑکیاں اور لڑکے بحران سے پہلے ہی اسکول سے باہر تھے۔

  • سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    راجن پور :سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے ،اطلاعات کےمطابق سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے خطاب کے دوران اسٹیج ٹوٹ گیا۔

    یوسف رضا گیلانی سیلاب سے متاثرہ راجن پور کے علاقے فاضل پور میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران اسٹیج ٹوٹ گیا، یوسف رضا گیلانی نے اسٹیج پر لڑکھڑانے کے باوجود تقریر جاری رکھی۔

     

    یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سےغریبوں کے مال مویشی تباہ ہوگئے، کروڑوں کا سامان دینے والے مخیر حضرات قابل تعریف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی خان سے فاضل پور اور راجن پور تک روڈ بنانے کی ضرورت ہے، حکومت سے گزارش ہےکہ متاثرین کے لیے خاص پالیسی بنائے۔

     

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روجھان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے

    اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی 3 ستمبر2016 کوملتان میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے خطاب کے دوران اسٹیج سے گرگئے تھے، یوسف رضاگیلانی کوساتھ کھڑے لوگوں نے پکڑکربچالیا۔

     

    وفاقی محتسب کی اپنے افسران کوسیلا ب متا ثرین کی فوری مدد کرنے کی ہدایت

    ملتان کے مقامی ہوٹل میں پیپلزلائرزفورم کے وکلا کا کنونشن جاری تھا، یوسف رضا گیلانی خطاب کے لیے آئے تو ساتھ لوگوں کا ہجوم اُمڈ آیا، ابھی تقریر شروع ہی کی تھی کہ اسٹیج دھڑام سے نچے آگرا۔

     

     

    ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار، امداد نہ ملنے کا شکوہ

    یوسف رضاگیلانی کوپیچھےکھڑےلوگوں نے تھام کرگرنےسےبچالیا،انتظامیہ نے ڈائس کو متاثرہ مقام سے ہٹاکر یوسف رضا گیلانی کے خطاب کی راہ ہموار کی تو سابق وزیراعظم نے شاباشی دے دی

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازبھی اسٹیج سے گرگئی تھیں اوران کو چوٹیں آگئی تھیں، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے بھی چوٹیں آتی رہتی ہیں‌

  • سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    کراچی:جنسی اور تولیدی صحت کے ادارے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے سیلاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی تاریک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں کم از کم ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین کو، جن میں سے 73 ہزار کے ہاں آئندہ ماہ ولادت متوقع ہے، زچگی کی صحت کی خدمات کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے نے یہ بھی متنبہ کیا کہ بہت سی خواتین اور لڑکیاں صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں کیونکہ سیلاب میں تقریباً 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

     

    ادارے نے کہا کہ اگلے مہینے تک 73 ہزار خواتین کے ہاں پیدائش متوقع ہے اور ان کو ماہر دائی، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہوگی۔ ادارے نے کہا کہ حمل اور بچے کی پیدائش ہنگامی حالات یا قدرتی آفات کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ ایسے میں ایک عورت اور بچے کو سب سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔یو این ایف پی اے پاکستان کے قائم مقام نمائندے ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ یو این ایف پی اے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی بچانے والی خدمات ملیں، شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سندھ میں ایک ہزار سے زائد صحت کی سہولیات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا، جب کہ بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں صحت کی 198 سہولیات کو نقصان پہنچا۔ ادارے نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان نے لڑکیوں اور خواتین کی صحت کی سہولیات تک رسائی کو اور متاثر کردیا ہے۔ ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کے چیلنج والے حالات کے باوجود مکمل طور پر کام کرنے کے لیے آلات اور انسانی وسائل کے ساتھ صحت کی سہولیات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    اپنے ہنگامی ردعمل کو تیز کرنے کیلئے یو این ایف پی اے پاکستان نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں فوری ترسیل کے لیے8 ہزار 311 ڈگنٹی کٹس، 7 ہزار 411 نوزائیدہ بچوں کی کٹس، اور 6 ہزار 412 کلین ڈیلیوری کٹس خریدیں۔اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور ردعمل کی خدمات کو بھی ترجیح دے رہی ہے، جس میں طبی اور نقسیاتی مدد بھی شامل ہے۔اقوامِ متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا ہے۔

     

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ردعمل میں اپنا تعاون بڑھائے۔یو این ایچ آر سی نے پناہ گزین دیہاتوں کے ساتھ ساتھ میزبان کمیونٹیز کو 71 ہزار سے زیادہ ہنگامی امدادی اشیا فراہم کی ہیں، جن میں خیمے، پلاسٹک کی ترپالیں، سینیٹری مصنوعات، کھانا پکانے کے چولہے، کمبل، شمسی لیمپ اور سونے کی چٹائیاں شامل ہیں۔ایک بیان میں کہا گیا کہ مزید برآں ادارے نے 10 ہزار بوریاں بھی فراہم کیں تاکہ گھرانوں کو ان کے گھروں کے ارد گرد دفاعی تحفظ فراہم کیا جا سکے، اب تک 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی جاچکی ہے لیکن مزید امداد کی ضرورت ہے۔

  • سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    کراچی:سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہونے کہا ہے کہ سندھ کے تمام ہی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ، سندھ اس وقت ڈوب چکا ہے

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہونے سیلاب کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں‌ ڈائریا ،جلد کے امراض ،ڈینگی ملیریا پھیلنے کا خدشہ ہے،صوبائی وزیرصحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ڈرپس ،بخار، نزلہ، کھانسی سمیت اینٹی الرجی ادویات کی قلت ہے ،

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 62ہزار افراد کا کیمپو ں میں علاج کررہے ہیں، 4لاکھ افراد کیمپوں سے باہر ہیں، متاثرین کو میڈیکل امداد فراہم کر رہے ہیں، سندھ کے تمام ہی اظلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ،

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دادو، حفاظتی بند کو مضبوط کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے،محکمہ انہار کی طرف سے اس حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق دادو، منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے

    محکمہ انہارکے حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دادو، پانی تیزی کے ساتھ منچھر جھیل میں داخل ہونا شروع ،دادو،منچھر جھیل زیرو پوائنٹ پربند کا ایک حصہ سیلابی پانی کے دباؤ سے ٹوٹ گیا

  • کوئی فرعون یا نمرود ہوگا جو اس مشکل وقت میں مدد نہیں کریں گے ،عدالت

    کوئی فرعون یا نمرود ہوگا جو اس مشکل وقت میں مدد نہیں کریں گے ،عدالت

    سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں سیلابی تباہ کاریوں سے متعلق اقدامات پر سماعت ہوئی

    سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے سخت اقدامات سے متعلق احکامات جاری کر دیئے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے ہر تعلقہ میں فوری ٹینٹ سٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے ٹینٹ سٹی میں خوراک طبی سہولیات قائم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ بارش کا جمع پانی فوری نکال کر رپورٹ پیش کی جائے سندھ میں لوگ بے یارو مددگار مر رہے ہیں انہیں بچایا جائے امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے سول جج کی سربراہی میں سٹیزن کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم بھی دیا گیا

    عدالت نے حکم دیا کہ ٹینٹ سٹی میں موبائل اسپتال لازمی قائم کی جائیں ،سندھ ہائی کورٹ نے کمیٹی میں بلدیاتی نمائندوں اور وکلا کو شامل کرنے کا حکم بھی دیا ،سندھ ہائی کورٹ نے افسران پر برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ امدای سامان با اثر اور وڈیروں کے حوالے کیا جا رہا ہے ،عدالت نے کمشنر سے استفسار کیا کہ اس وقت کتنے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا کیا اورسہولیات فراہم کی گئیں ؟اس مشکل وقت میں ہر انسان مدد کرنے کو تیار ہے کوئی فرعون یا نمرود ہوگا جو اس مشکل وقت میں مدد نہیں کریں گے ،

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

  • چین کے قونصل جنرل کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد کا اعلان

    چین کے قونصل جنرل کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے چین کے قونصل جنرل زاؤ شیرین (Mr.Zhao Shiren) کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو چین کے قونصل جنرل زاؤ شیرین نے چین کی حکومت اور پاکستان میں چین کے سفیر کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام دیا چین کے قونصل جنرل نے پنجاب میں سیلاب سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا چین کے قونصل جنرل نے متاثرین کی بحالی کے لئے تعاون کے عزم کااعادہ کیا،

    ملاقات میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری،تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں سی پیک پراجیکٹ کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے ملاقات میں چینی قونصل جنرل نےمتاثرین سیلاب کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا،چینی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ لاہور میں چینی قونصل جنرل آفس کی طرف سے متاثرین کی بحالی کیلئے 300 ملین روپے کی امداد دیں گے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے تعاون پر چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ،چینی قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، چینی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ مختصر عرصے میں چودھری پرویز الٰہی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ چین کی طرف سے دوستی کے تقاضے نبھاتے ہوئے سیلاب زدگان کے لئے تعاون پر مشکور ہیں – چین سے سیلاب زدگان کے لئے ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان بھجوانا قابل تحسین ہے- سیلاب زدگان کے لئے چین کی مدد اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں – پنجاب میں بحالی کا کام شروع کردیا ہے، چین کے تعاون کو سراہتے ہیں –

    چینی قونصل جنرل نے پنجاب کے طلبہ کیلئے قونصل جنرل سکالرشپ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی بحالی اور بہتری کیلئے معاونت کریں گے۔ پنجاب پولیس کی استعدادکار میں اضافے کیلئے ایم او یو پر دستخط کئے جائیں گے۔ چینی قونصل جنرل نے انفراسٹرکچر، پاور پلانٹ، تعلیم، صحت اور ڈیم پراجیکٹس کیلئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ دوست وہ جو مشکل میں کام آئے، ہم دوستی نبھائیں گے۔ سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر دلی افسوس ہوا-مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے دکھ میں شریک ہیں -باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے مزید اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ اکنامک ایجوکیشن کوآپریشن کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنائیں گے

    ملاقات میں ڈپٹی قونصل جنرل ساؤ کی (Cao Ke)، ڈائریکٹر پولیٹیکل اینڈ قونصلرا فیئرز ڈو ژاؤ(Du Yue)، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن زاؤ فشنZhao Fushan))، لیوکن بو(Liu Qinbo) اور کمرشل قونصل ژن ژانگ(Yan Yang) بھی موجود تھے چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل،انسپکٹر جنرل پولیس فیصل شاہکار، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ محمد خان بھٹی، چیئرمین پی اینڈ ڈی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

  • صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    ہر انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، ہر شے کو فنا ہونے والی ہے لیکن جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال ہی اس کا سہارا بنتے ہیں. اچھے اور برے اعمال کا دارومدار بھی اس انسان پر ہی ہے کہ اگر نیک اعمال ہونگے تو اس بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گے اگر برے ہونگے تو اس کے لیے بربادی ہے.

    مرنے کے بعد صرف تین چیزیں ہیں جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں.

    1: دعا
    2: اس کی اولاد جو بھی نیک اعمال کرتی ہے اس کا اجر اس مرنے والے کو ملتا ہے.
    3: صدقہ

    جب تک انسان زندہ ہوتا ہے وہ اچھے اور برے اعمال کرتا ہے. اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے. جب تک اس کے اہل وعیال رشتہ دار زندہ رہتے ہیں وہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے. لیکن جو تیسری چیز انسان کر جاتا ہے وہ صدقہ جاریہ ہے. جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو انسان کے لیے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہیں.

    1: علم: جو انسان علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچاتا ہے وہ علم آگے بڑھتا رہتا ہے تو مرنے کے بعد اس عالم کو اس کا اجر ملتا رہتا ہے.

    2: وہ کام جو انسان کسی تعمیر کی صورت میں کرے. جس میں سرفہرست مسجد بنوا دینا، جب تک نمازی نماز پڑھیں گے اس انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کا اجر ملتا رہے گا. کوئی فاونڈیشن یا اسپتال بنوادینا جس سے اس بندے کے اجر میں اضافہ ہوتا رہے گا.

    معزز قارئین. لوگ صدقے کو ایک ادنیٰ سی چیز تصور کرتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صدقے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے. حدیث شریف میں ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے ایک انسان اپنے گھوڑ یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے.

    بہت سارے لوگ صرف ڈونیشن کرنے کو ہی صدقہ سمجھتے ہیں. حالانکہ انسانیت کی خدمت بھی ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے اگر آپ کی وجہ سے کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو یہ سب سے بڑا صدقہ ہے.

    بہت سارے رہنما اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں ہیں. ان میں سے آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں. ان کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد ملک پاکستان وجود میں آیا. انہوں نے ہی نہیں ان کے ساتھ مل کر کئی لوگوں نے کام کیا کتنے ہی لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں اور ہمیں آزاد ملک دے دیا.

    رہتی دنیا تک لوگ ان سب کو دعائیں دیتے رہیں گے لیکن آج بھی ہمارے ملک کو ایسے ہی جانثار لوگوں کی ضرورت ہے. آج ہمارے ملک پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں اس میں کتنے انسان خطرے میں ہیں.

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے، کتنے لوگ ہیں جو بےآسرا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے. اگر ایک فرد بھی کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو کتنے ہی افراد مل کر لوگوں کی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں.

    خدمت انسانیت ہی ہے جو ایک انسان کو تمام لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے. بعض اوقات انسان کے پاس ایسا کوئی موقعہ نہیں ہوتا ہے یا انسان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے ہیں کہ انسان کوئی خدمت کا کام سرانجام دے سکے. اسلام میں بھی سب سے زیادہ حقوق العباد کا ذکر ہے. اس لئے اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتے ہیں. اچھا سلوک بھی خدمت انسانیت کے زمرے میں آتا ہے. کسی انسان کے برے وقت میں اس کے ساتھ مسکراہٹ کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے.

    خدمت انسانیت ہی ایسا جذبہ ہے جس سے ایک انسان کی اچھائی اور برائی کا پتہ چلتا ہے اسی جذبے کے تحت اگر انسان اگر کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آخرت اور دنیا دونوں سنوار دیتا ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور بارشوں اور سیلاب سے متاثر اور تباہ حال لوگوں کے لیے سہارا بنیں. ہم اپنے راشن رقم بستر وغیرہ دے کر ان کی مدد کرسکتے ہیں.

    ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے. یہ صرف ایک نشانی ہے جو اللہ نے ہمیں دکھائی ہے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے کتنی ہی بڑی عمارتیں اور شہر ہیں جو ایک لمحے میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں. لیکن اللہ بہت رحیم ہے ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ ہم سدھر سکیں.

    اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ڈوبتے لوگوں کا سہارا بنیں. کیا پتہ اس کارخیر سے اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے اور ان آفتوں کو ٹال دے.

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔