Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • موجودہ سیلاب یا عذاب  ، ازقلم:غنی محمود قصوری

    موجودہ سیلاب یا عذاب ، ازقلم:غنی محمود قصوری

    موجودہ سیلاب یا عذاب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک محتاط اندازے کے مطابق 14 جون 2022 سے لے کر اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت سے جانبحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 386 مرد،191 عورتیں اور 326 بچے شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 1293 سے تجاوز کر چکی ہے-

    ماہ رمضان بابرکت مہینے سے حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا سلسلہ جاری ہے کسی کو کرسی بچانے کی فکر ہے تو کسی کو کرسی گرانے کی ،ہر ایک کے پاس حکومت گرانے اور بنانے کیلئے ایم پی اے،ایم این اے خریدنے کے پیسے ہیں مگر نہیں تو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے نہیں-

    دنیا سے اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے ہمیں بھیک دی جائے تاکہ کچھ سیلاب متاثرین کو دیا جائے تو باقی اپنی جیبوں میں بھرا جائےتاہم بفضل تعالی غیور پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد میں مصروف ہیں مگر سیاستدانوں کی طرف سے اب بھی کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور مملکت پاکستان ایک بار پھر بہت بڑی آفت میں گھرا ہوا ہے-

    گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ ،صوبہ بلوچستان،صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر شدید سیلاب کی لپٹ میں ہیں تقریباً پاکستان کے کل رقبہ کا 60 فیصد سے زائد رقبہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے سب سے زیادہ سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخوا متاثر ہوئے ہیں اس سیلاب کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیںاور سیلاب کے باعث 4 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئی اور 7 لاکھ کے قریب گھر،دکانیں،ہوٹلز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں-

    ایک اندازے کے مطابق 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت اس وقت مسلط ہے
    اس سے قبل 2010 میں شدید سیلاب آیا تھا جسے اقوام متحدہ کی طرف سے آہستگی سے سونامی میں تبدیل ہونے والا سیلاب قرار دیا تھا
    2010 میں پاکستان کے 78 ضلع متاثر ہوئے تھے جبکہ اس بار 116 ضلع متاثر ہوئے ہیں-

    کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ہےآئیے دیکھتے ہیں قرآن مجید کی رو سے یہ سیلاب کیا ہے اللہ تعالی سورہ المؤمنون میں فرماتے ہیں ” ‏اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اُتارا
    پھر اُسے زمین میں ٹھہرا دیا اور یقین رکھو، ہم اُسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں”

    قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ نے پانی برسانے کا علاقہ ٹھیک چنا ہے اور اللہ تعالی اس پانی کو غائب بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اس علاقے کو پانی کی ضرورت تھی مگر ہم نے اس ضرورت کو سمجھا نہیں اور اسے ضائع ہونے دینے کے ساتھ اپنی جانوں و املاک کو تباہ بھی کروایا –

    ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چولستان کا علاقہ خشک سالی سے بنجر ہو گیا تھا اور بارشوں کیلئے دعائیں کی جا رہی تھیں تب بھی یہی سیاسی بندر بانٹ والا سلسلہ جاری تھا تھا اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے-

    قیام پاکستان سے لے کر کرسی کی اس چھینا چھینی نے حکمرانوں کو ایسا مصروف کئے رکھا ہے کہ انہیں نا تو ڈیم بنانے کی فرصت ہے اور نا ہی ڈیم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے والوں سیاستدان کے خلاف کاروائی کی ہوگی بھی کیوں آخر بھینس ہی تو بھینس کی بہن ہوتی ہے-

    کل ہی کی تو بات ہے کہ کرونا آیا تھا تو ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا تھا مگر افسوس کہ ڈنڈے کے زور پر ڈیم نہیں بنوائے جا رہے کرونا ایس او پیز پر سختی کروا کر دنیا سے امداد لینی تھی جبکہ ڈیم بننے سے پاکستان خودکفیل ہو گا اور یوں دنیا کی امداد سے ہم محروم رہیں گے-

    ایک اکیلے کالا باغ ڈیم کے بننے سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی اور مچھلی کی پیدوار زیاد ہو سکے گی جبکہ اس ڈیم سے پانی سٹور کرکے سیلاب پر بڑی حد تک قابو کرنے کیساتھ سستی ترین بجلی بھی حاصل ہو سکے گی-

    مگر کیا کریں ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخالفوں کو چپ تو کروانا آتا ہے مگر ملکی مفاد میں مخالفت کرنے والوں کو قابو کرنا نہیں
    شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مانگنے کا چسکا لگ گیا ہے اور اب ہمارا مانگے بنا گزارا نہیں اگر اب بھی ڈیموں بارے نا سوچا گیا تھا مستقبل میں اس سے بھی بڑی تباہی کا خدشہ ہے-

  • سیلاب زدہ علاقے میں میڈیکل کیمپ کیلئے ادویات کی خریداری

    سیلاب زدہ علاقے میں میڈیکل کیمپ کیلئے ادویات کی خریداری

    قصور
    احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کنگن پور کی طرف سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 10 لاکھ کی ادویات لے کر بلوچسان کے سیلاب متاثر علاقے الہ یار میں میڈیکل کیمپ لگایا جائے گا،ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء بھی تقسیم کی جائینگی

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے شہر کنگن پور میں واقع احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کنگن پور کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے 10 لاکھ روپیہ مالیت کی ادویات خریدی گئی ہیں اور کل بروز جمعہ میڈیکل ٹیم ادویات،خوراک و دیگر امدادی سامان لے کر بلوچستان کے علاقے الہ یار روانہ ہوگی
    10 لاکھ روپے مالیت سے زائد کی ادویات کی پیکنگ ہو چکی ہے جبکہ راشن و دیگر سامان کی پیکنگ جاری ہے
    سینئر ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ ہفتہ سے بدھ تک میڈیکل کیمپ لگایا جائے گا اور راشن و ملبوسات کی تقسیم کی جائے گی
    احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کی سیلاب متاثرین کیلئے دی گئی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لوگوں نے ادویات،راشن،ملبوسات و دیگر ضروری اشیاء کے ڈھیر لگا دئیے

  • سیلاب کے باعث بلوچستان میں  دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    شمالی بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں یکم جون سےاب تک جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 256 ہوگئی۔

    ملک بھر میں بارشوں اورسیلاب سے مزید 27 افراد جاں بحق

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جاںبحق ہونے والوں میں 121 مرد، 62 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں، سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، 21 لسبیلہ اور 17 پشین میں ہوئیں، جبکہ صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار718 مکانات کو نقصان پہنچا اور 1 لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذرہوگئے ہیں اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے سے راستے بند ہیں، نصیرآباد، جعفرآباد اور صحبت پور کےعلاقوں میں سیلابی پانی جمع ہے، متاثرین ادویات، خوراک اور صاف پانی کی شدید قلت سے پریشان ہیں۔

    سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرین سروس بھی معطل ہے پاکستان ریلوے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرینیں چلانا ممکن نہیں۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق اس وقت روہڑی، ٹنڈوآدم سیکشن پرکئی مقامات پر پانی جمع ہے، مسافر ٹرینوں کی بحالی میں مزید تین سے چار دن لگ سکتےہیں مسافر ٹرینوں کی بحالی مرحلہ وارہوگی، کنٹرولڈ اسپیڈ پرمال بردار ٹرینیں بحال کردی گئیں۔

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    لاہور:سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف وبائی امراض کے پھیلنے کی وجہ سے تکلیف اورپریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ، ان حالات کے پیش نظرماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرسیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بہت زیادہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں‌

    سندھ کے مختلف علاقوں میں زہریلے مچھر کاٹنے سے خطرناک بیماریاں شروع ہوگئی ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں میں زہریلے مچھروں کے کاٹنے سے جلدی امراض ہو رہے ہیں ، ایک ریسکیو ورکر کے زخموں کی حالت ہے جو چند دن جھڈو میرپور خاص رہ کر آیا ہے، سیلاب زدگان کی حالت کیا ہوگی جو مستقل وہیں بیٹھے ،

     

    اس سلسلے میں وہاں موجود فلاحی جماعت کے سوشل ورکز کا کہنا ہے کہ مچھر کے تباہ کُن حملوں سے بچنے کا واحد حل مچھردانی ہے مگران بے بس اور بے حال لوگوں کو مچھر دانیاں کون فراہم کرے گا ، یہ بھی کسی نہ کسی ذمہ داری لینا ہوگی

     

    ادھرماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں 50 لاکھ افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان پاکستان میں سیلاب سے اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، چند ہفتوں میں لاکھوں افراد آلودہ پانی اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر ہوں گے۔

    ڈاکٹر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ سیلابی علاقوں میں ٹائیفائیڈ اور ہیضے کی مشترکہ ویکسین ہر شخص کو لگائی جائے۔ماہر امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق سیلابی علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، خسرہ اور پولیو پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بچوں میں ویکسی نیشن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

  • ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    تونسہ:ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات نے سیلاب سے تباہی کے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان سے سینیئرتجزیہ نگار ممتازصحافی مبشرلقمان جو کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں موجود ہیں وہاں کے اصل حقائق اپنے قارئین تک پہنچا رہے ہیں

    مبشرلقمان بتاتے ہیں کہ وہ خود حیران ہیں کہ سیلاب تو آہی گیا مگراس سیلاب کوتباہ کُن بنانے میں تونسہ کے طاقتوروں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے کاروبار کو بچانے کی خاطرتونسہ اور ڈی جی خان کی عوام کو ڈبودیا

    اس سلسلے میں مبشرلقمان جب تونسہ کے اس علاقے میں پہنچے جہاں سے سیلاب نے تباہی پھیلانا شروع کی تو وہاں موجود مقامی افراد نے مبشرلقمان کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی ،

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مقام پرقدرتی طور پر بہت زیادہ پتھر تھے جو سیلاب کے پانی کے سامنے ایک بہت مضبوط اور قدری بند تھا مگریہاں کاروباری شخصیات نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے یہاں سے پتھر اٹھا اٹھا کراس کو کرش کرکے کے اپنا کاروبار چلایا لیکن مقامی لوگوں کوسیلاب کی تباہ کاریوں کے لیے پیش کردیا

     

    مقامی افراد نے اس موقع پر انکشافات کیے کہ اس وقت جب یہ چند مضبوط کاروباری شخصیات یہاں سے پتھراٹھا اٹھا کرلے جارہے تھے تومقامی افراد نے جوآج سیلاب کا سامناکررہے ہیں انہیں خدشات کی بنیاد پر احتجاج کیا تھا کہ اگریہ پتھریہاں سے اٹھا لیے گئے تو پھرپانی کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکے گی اورمقامی آبادیاں سیلاب کی نذرہوجائیں گی

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ حکومت یا مقامی انتظامیہ اس مسئلے پر کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی مگر افسوس کے ساتھ الٹآ مظاہرین کے خلاف مقدمات قائم کردیئے گئے، یہ ڈمپرز جنہوں مقامی لوگوں‌ کے زیراستعمال سڑکوں کو بھی تباہ کردیا ، مگریہ الزام لگا کر کہ ڈمپرز کو گزرنے نہیں دے رہے ، الٹا مقدمات قائم کیئے گئے

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے چھ ماہ پہلے جواحتجاج اسی سلسلے میں کیا تھا نہ ڈی سی نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی اے سی نے لوگوں کی بات پر توجہ دی بلکہ ان کاروباری طاقتور شخصیات کو تحفظ دیا

    مقامی لوگوں کی نشاندہی کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان نے وہاں اصل مقامات پر جاکراصل حقائق دکھائے ، وہاں کرشنگ پلانٹ لگے ہوئے ہیں اوروہاں ڈمپرز بھی موجود ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگریہ مافیا یہاں سے پتھر نہ اٹھاتا تو کبھی بھی دریا کا پانی نواحی بستیون اور دیگرمقامات کی طرف نہ جاتا مگرکون ہے جوغریب عوام کی آہ وبکا کو سُن لے یہاں تو طاقتور طاقتوروں کو بچانے کے لیے بہت کچھ کررہے تھے

     

    مبشرلقمان نے اس موقع پر اہل نظرکوان طاقتورمافیازکے اصل حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ ڈی جی خان سے لیکر تونسہ  تک تمام سڑکیں محفوظ ہیں ، بڑوں اوروڈیروں کے ڈیرے محفوظ ہیں مگراگرمحفوظ نہیں‌ تو غریب عوام کے کچے مکان اور ان کی جھونپڑیاں محفوظ نہیں ، یہاں ہرمکان تباہ حال ہیں n ، یہاں دوکانیں پانی میں گارا بن چکی ہیں ، یہاں کے مکین بے بس ہیں مگریہ بے بسی کب تک جاری رہے گی ، ہمارا کام تو حقائق کو پیش کرنا ، اہل نظرکا کام ہے حقائق کو پرکھنا اورحکمرانوں کا کام ہے اصلاح کرنا اگرپھربھی کچھ نہ ہوپائے توپھراپنے ہاتھوں سے ہی ہونے والی تباہی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرانا انصاف نہیں ہے

  • قدرت کا کمال سیلاب میں ہر چیز بہہ گئی پر اللّه پاک نے قرآن پاک کو خراش تک نہ آنے دی

    قدرت کا کمال سیلاب میں ہر چیز بہہ گئی پر اللّه پاک نے قرآن پاک کو خراش تک نہ آنے دی

    لاہور:قدرت کا کمال سیلاب میں ہر چیز بہہ گئی پر اللّه پاک نے قرآن پاک کو خراش تک نہ آنے دی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ جس کو دیکھ کرمسلمانوں کے ایمان تازہ اور مضبوط ہوگئے ہیں

    شہباز شریف کا بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت یہ ویڈیو وائرل ہورہی ہے ، جس میں ایک شخص سیلاب سے تباہ حال مکان کے ملبے سے اپنا سامان تلاش کررہاتھا کہ اس دوران اسے قران مجید نظرآیا ، اس شخص نے آگے بڑھ دیکھا تو وہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ قرآن مجید پانی میں بھی محفوظ تھا

     

     

     

    https://twitter.com/Rameen2526/status/1565002370517458946?t=PSbWwcuL6Z22YFlz4KvMNQ&s=19

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ ماشاءالله قدرت کا کمال سیلاب میں ہر چیز بہہ گئی پر اللّه پاک نے قرآن پاک کو خراش تک نہ آنے دی وہ قرآن جس کی حفاظت کا ذمہ خود رب کریم نے لیا ہو وہ کیسے متاثر ہو سکتا ہے۔

    ادھرملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 27 افراد جاں بحق اور 87 زخمی ہوگئے، سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ 80 اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب سے نقصانات کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں مزید 15، خیبرپختونخوا میں 7، بلوچستان میں 4 اور پنجاب میں ایک شخص جان سے گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں 1191 ہو چکیں جبکہ 3 ہزار 641 افراد زخمی ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 522 مرد، 246 خواتين اور 399 بچے شامل ہیں۔

  • برٹش رکن پارلیمنٹ نےپاکستان میں سیلاب سےبدترین   تباہی کاذمّہ داردنیا کےترقی یافتہ ممالک کوقراردیا

    برٹش رکن پارلیمنٹ نےپاکستان میں سیلاب سےبدترین تباہی کاذمّہ داردنیا کےترقی یافتہ ممالک کوقراردیا

    لندن:پاکستان میں سیلاب سے بدترین تباہی، برطانوی رکن پارلیمنٹ دنیا پر برس پڑیں،برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا ویب نے پاکستان میں سیلاب سے بدترین تباہی کا ذمے دار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمارے لالچ کی قیمت چکا رہا ہے۔

    برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا ویب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان گرین ہاؤس عالمی اخراج کے صرف ایک فیصدحصے کا ذمہ دارہے مگر ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے۔

     

     

    رکن پارلیمنٹ نےعالمی برادری کا ضمیر جھنجوڑتے ہوئے کہ پاکستان ہماری لالچ کی قیمت چکانے پر مجبورہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز پاکستان میں ہیں جن کی تعداد7 ہزار 253 گلیشئرز ہیں، تمام گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

     

    واضح رہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین سیلاب سے گزر رہا ہے ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع، کروڑوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور زرعی زمینیں تباہ وبرباد ہوچکی ہیں۔

    ادھر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے امداد کی اپیل کردی۔انگلش کرکٹ بورڈ نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ہماری دلی ہمدردیاں سیلاب سے متاثرہ پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔

    برطانوی بورڈ نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے دی سٹیزن فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔

  • بارشوں اورسیلابوں کے باوجود پانی پینے پرپابندی کیوں؟ریاست مسی سیپی سے اہم خبرآگئی

    بارشوں اورسیلابوں کے باوجود پانی پینے پرپابندی کیوں؟ریاست مسی سیپی سے اہم خبرآگئی

    جیکسن :پانی کی کمی بھی نہیں مگرپھر بھی پانی نہیں پینا،یہ گزارش ایک امریکی ریاست کی انتظامیہ کی ہے ،اس ریاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بعد موسلا دھار بارشوں اور سیلابوں نے متعدد بڑے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

    کچھ ایسی ہی صورتحال امریکہ میں بھی پائی جارہی ہے جہاں مستقبل قریب میں ریاست مسی سیپی کا شہر جیکسن میں جہاں سیلاب کے بعد غیر معینہ مدت تک پینے کے قابل پانی کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔

    اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپ میں خرابی کے بعد ایک لاکھ 80 ہزار لوگوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں اور شہریوں کو بوتلوں اور ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔

    مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے موجودہ صورتحال سے متعلق شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں چلنے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو گزشتہ کئی سال سے خراب طریقے سے چلایا جارہا تھا اور اس کی بڑی وجہ عملہ کی کمی بھی تھی۔

    امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست مسی سیپی کے دارالحکومت جیکسن میں 80 فیصد سے زیادہ آبادی سیاہ فام یا افریقی امریکیوں کی ہے۔

    پانی کی قلت کے حوالے سے مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ دریائے پرل میں آنے والے حالیہ سیلاب کی وجہ سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپوں کو چلانے والی موٹریں حال ہی میں خراب ہوئیں جس کے بعد بیک اپ پمپس سے کام چلایا جاتا رہا تاہم اب وہ بھی خراب ہوگئے۔

    مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    گورنر ٹیٹ ریوز نے خبر دار کیا کہ جب تک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا نظام ٹھیک نہیں ہوجاتا جب تک ہمارے پاس بڑے پیمانے پر بہتا ہوا پانی قابل بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ شہر میں آگ بجھانے کیلئے، بیت الخلاء کے استعمال کیلئے اور دیگر اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کی مطلوبہ مقدار موجود نہیں۔

  • سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    اداکارہ، ماڈل اور میزبان فضا علی ہیں کافی پریشان وہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے اپنے تائیں جتنا ہو سکے آواز اٹھا رہی ہیں. فضا علی نے حال ہی میں ایک وڈیو جا ری کی ہے جس میں وہ سوال اٹھاتی نظر آرہی ہیں، انہوں نے اس وڈیو میں کہا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا ہے تو غریب کا ہی گھر تباہ کیوں ہوتا ہے اسی کا گھر کیوں ٹوٹتا ہے اسی کا نقصان کیوں ہوتا ہے. امیر کا گھر کبھی کیوں نہیں ٹوٹا ، کبھی اس کے گھر پانی سے تباہی کیوں نہیں‌ہوئی. لاہور کراچی اور اسلام آباد و دیگر شہروں کی بڑی بڑی سوسائٹیز سیلاب آنے سے متاثر کیوں نہیں‌ہوتیں؟. کیوں ہماری حکومتیں مس مینجمنٹ کرتی ہیں وہ جانتی ہیں ہ سیلاب ہر سال آتا ہے تو کیوں وہ کوئی سلسلہ ایسا نہیں بناتی کہ لوگوں کے گھروں کی تباہی نہ

    ہو جانی نقصان نہ ہو. فضا علی نے مزید یہ بھی کہا کہ انڈیا نے ڈیمز بنائے لیکن ہم نے ڈیم نہیں بنائے، جب ہمارے ہاں سیلاب آتا ہے انڈیا جان بوجھ کر شرارت کرتا ہے اور پانی چھوڑ دیتا ہے ہم مزید متاثر ہوتے ہیں. کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیوں رکی ہوئی ہے؟ کیوں اسکی تعمیر کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے کیوں اس کو بنانے پر کسی کا اتفاق نہیں ہے.فضا علی نے کہا غریب کا حوصلہ ہے کہ اتنے مشکل حالات میں وہ جیتا ہے.

  • ہماری پہلی ترجیح سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنا ہے،وزیر خارجہ بلاول

    ہماری پہلی ترجیح سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنا ہے،وزیر خارجہ بلاول

    پورا پاکستان بارشوں سے بری طرح متاثر،سکھر میں بلاول کی زیر صدارت ڈونر ایجنسیوں اور ڈپلومیٹس کا اجلاس

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی صدارت میں ڈونر ایجنسیوں اور ڈپلومیٹس کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں سفیروں اور ڈونر ایجنسیوں کے نمائندے شریک ہیں ،اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ، وفاقی وزیر خورشید شاہ،ڈی جی ایف ایم او آفتاب چودھری، ڈی جی کرائسز مینجمنٹ یونٹ میاں عاطف، ممبر این ڈی ایم اے محمد ادریس شریک ہیں

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان بارشوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے ،جولائی میں 308 اوراگست میں 784 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں،گڈو اورسکھر بیراجز پر اونچے درجے کے سیلاب سے ڈرینج سسٹم کام نہیں کر رہا، سیلاب میں کچے اور پکے کےعلاقے ڈوبے ہیں،لوگ بے گھر ہوگئے ہیں،سندھ میں آباد کاروں کے 335441 ملین روپے کی فصلیں تباہ ہو گئے ہیں، سندھ میں بھر میں بارشوں کی باعث وسیع تر روڈ نیٹ ورک ختم ہو گیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہم ریسکیواورریلیف کے مرحلےمیں ہیں،ہم ان ساری صورتحال کا مقابلہ کریں گے، عالمی سطح پر بھی بہت اچھا رسپانس آرہا ہے،نقصانات کے تخمینے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا،کئی گھروں اورروڈانفراسٹرکچر کونقصان پہنچا ہے،امدادکی اپیل پرعالمی برادری کا زبردست ردعمل آیا ہے،چاروں صوبوں میں متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،عالمی برادری کو بتایا ہے کہ سیلاب سے پاکستان کتنا متاثر ہوا ،سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اقدا مات کر رہے ہیں،ہماری پہلی ترجیح سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنا ہے،

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی کے 5 اضلاع میں قائم 38 ریلیف کیمپوں میں 11ہزار 784متاثرین کو ٹھہرایا گیا ہے کیمپوں میں متاثرین کو خوراک،پانی اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں،ضلع شرقی میں قائم 13 کیمپوں میں 5 ہزار691 متاثرین کو رکھا گیا ہے،ضلع غربی کے 6 کیمپوں میں 2 ہزار 488 متاثرین کو ٹھہرایا گیا،ضلع کورنگی میں ایک کیمپ ہے جہاں 400 متاثرین کو رہائش فراہم کی گئی ،ضلع ملیر کے09 ریلیف کیمپوں میں 2589 متاثرین موجود ہیں،

    دوسری جانب پییلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امدادی کیمپ وسطی پنجاب میں آپریشنل ہو چکے ہیں۔وسطی پنجاب کی 100تحصیلوں میں 124سے زائد ریلیف کیمپ لگائے ہیں۔پنجاب ایگزیکٹو اور ذیلی ونگز کے صدور امدادی کیمپوں کو مانیٹر کر کے رپورٹ دینگے۔ متاثرین کیلیے خوراک،پانی،دودھ،کپڑے اور عطیات جمع کر رھے ہیں کارکن گھر گھر اور مارکیٹوں میں جا کر بھی عطیات اکھٹے کرینگے عطیات کا چیک اور امدادی اشیاء چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پیش کرینگے۔میرے حلقہ کا ایک پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے پیپلز پارٹی متاثرین کی بحالی میں اپنی تمام توانائیاں صرف کریگی تکلیف کی گھڑی میں اپنے ملک اور متاثرہ بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑینگے

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا