Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔

    دوسری جانب ضلع دادو کی تحصیل خیرپورناتھن شاہ میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی تیزی سے جاری ہے، لوگوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے کرائے دو سے تین گنا مہنگے کردیئے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد لوگ مال و متاع سمیٹ کر نقل مکانی پر مجبور گئے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ لوگوں پرایک بڑی مشکل یہ آن پہنچی ہے کہ سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں نے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر کے من مانی شروع کر دی ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    گھروں کو بند کر کے محفوظ مقام پر منتقلی کی کوششوں میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے کبھی اس وقت کا سوچا بھی نہ تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار کو روکنے والا کوئی نہیں، حکومت اور انتظامیہ نے نہ خیمہ دیا نہ راشن، کم از کم برے وقت میں ہمیں ایسے تنہا تو نہ چھوڑتے-

    ادھر عمرکوٹ میں بارشوں کا سلسلہ تو تھم چکا ہے مگر متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوئیں، ضلع کے بیشتر علاقوں سے تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

    عمرکوٹ میں کئی دن گزرجانے کے باوجود سینکڑوں دیہاتوں میں اب تک برسات کا پانی کھڑا ہے ضلع کی چاروں تحصیلوں عمرکوٹ کنری سامارو اور پیتھورو کے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگی ہیں۔

    عمرکوٹ میں حالیہ برساتوں کے باعث ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 05 لاکھ 57 ہزار سے زائد علاقہ مکین بے سروسامانی کے عالم میں ضلع کی مختلف راستوں پر امداد کے منتظر ہیں۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات کرے تاکہ ان کی گھروں کو واپسی ممکن ہو سکے-

    جبکہ راجن پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح برقرار ہے کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو ئے ہیں جبکہ سیلابی پانی جمع رہنے سے مچھروں کی بہتات اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے مکانات کو رہنے کے قابل بنانے کیلئے متاثرین کچھ مقامات پراپنے ٹوٹے گھروں کو بنانے کی کوشش کررہے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی بہتات ہے، رات کو مچھر اور سانپ سونے نہیں دیتے ہیں، سانپوں کے ڈسنے سے کئی افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    ادھر ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی میں واضح کمی ہوگئی ہے لیکن متاثرین اب بھی ریلیف کیمپس اور بعض مقامات پر کھلے آسمان تلے یا سڑک کنارے بیٹھے ہیں، قبائلی علاقوں کے زمینی راستے جزوی بحال ہوگئے۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

  • ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،انٹونی بلنکن

    ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہم پاکستان پر مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں حالیہ سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع ، فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سمیت وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ پاکستان تباہ کن سیلاب سے دوچار ہے، ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    امریکی سیاسی رہنماؤں کا پاکستان میں حالیہ سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی

    اپنے ایک بیان میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا یوایس ایڈ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے خوراک، پانی اور پناہ گاہوں کیلئے پاکستان کو 30 ملین ڈالرفراہم کررہا ہے۔

    امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ ڈیرک شولے جوکہ امریکی وزیر خارجہ کےسینئر پالیسی ایڈوائزر بھی ہیں نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے

    اپنے ٹوئٹ میں امریکی انڈر سیکریٹری ڈیرک شولے نے کہا کہ وہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع و دیگر نقصانات اور ان کے اثرات پر بہت غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں-

    امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رینکنگ ممبر سینیٹر جم رِش نے بھی سسیلاب زدگان سے ہمدردی کا اظہار کیا,اپنے ٹویٹ میں سینیٹر رِش نے کہا کہ ہم اس موقع پر پاکستان جوکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزماء ہے کے ساتھ ہیں۔ ہم سیلاب متاثرین کے لئے دعا گو ہیں۔

    مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    علاوہ ازیں دیگر امریکی رہنماؤں بشمول سینیٹر ٹیڈ کروز اور کانگریس وویمن شیلا جیکسن نے بھی سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

    دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف سے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ٹیلی فونک رابطہ کیاوزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، 1162 کے قریب ہلاک اور 3554 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیلاب متاثرین کیلئے بروقت امداد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زاید فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

    بلاول بھٹوکی اپیل پردنیا نے ایک کھرب 30 ارب روپے پاکستان کودے دیئے:مزید امداد کی…

  • سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے، مراد راس

    سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے، مراد راس

    صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس کی سیلاب سے ہونے والے نقصان و تباہی کا جائزہ لینے کے لئے پنجاب کے ضلع راجن پور پہنچ گئے۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا کہنا تھا کہ سیلاب کی بدولت لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ یہاں راجن پور میں لوگوں کی فصلیں تباہ اور بہت سی عمارتیں سیلاب سے متاثر ہوئیں ہیں۔

    مراد راس نے بتایا کہ راجن پور میں بہت سے سکول بھی سیلاب کی تباہی کی بدولت متاثر ہوئے اور آج ہم نے کئی ایسے سکولوں کا دورہ کیا جن میں پانی کھڑا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پنجاب سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔ سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے۔ مراد راس نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگوں کو اشد ضرورت خوراک اور ٹینٹوں کی ہے۔ متاثرین جب تک چاہیں حکومتِ پنجاب کے قائم کردہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں رہ سکتے ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم نے مخیر خضرات سے درخواست کی کہ مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں عوام کی مدد کیلئے اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مراد راس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی کسی بھی مشکل لمحے میں ملک کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے ضلع راجن پور کے دورے کے موقع پر حکومتِ پنجاب کی جانب سے سیلاب زدگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے قائم کردہ فلڈ رلیف کیمپوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر کیمپوں میں مقیم افراد سے ان کو درپیش مسائل کے حوالے بھی دریافت کیا۔

    وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی ضلع راجن پور آمد پر سردار بیرسٹر علی رضا خان دریشک، سردار محمد اویس خان دریشک، سی ای او ایجوکیشن راجن پور و دیگر نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔

  • نفلی عمرہ کرنے والے اپنی امداد سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیں، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

    نفلی عمرہ کرنے والے اپنی امداد سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیں، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل اور دارالافتاء پاکستان نےصاحب نصاب لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ قبل از وقت ادا کر دیں اور نفلی عمرہ کرنے والے اپنی امداد سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیں تو اللہ کریم ان کو دو اجر عطا فرمائیں گے ایک زکوٰۃ ادا کرنے اور عمرہ کرنے کا اور دوسرا انسانیت کی مدد کرنے کا، اہل تشیع کے اکابر علماء نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ پیسے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے دے دیں تا کہ ان کی مدد ہو سکے۔

    یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مولانا قاسم قاسمی ، مولانا ڈاکٹر ابو بکر صدیق ، مولانا نعمان ، صاحبزادہ ثاقب منیر ، مولانا ذوالفقار ، مولانا ابو بکر حمید صابری ، مولانا شہباز اور دیگر بھی موجود تھے۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اپنے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر ،اور متحدہ عرب امارات کے ذمہ داران نے ہمارے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کر کے امدادی سلسلے کو مزید بڑھانے اور تیزکرنے کا بتایا، امید ہے کہ اگلے 24 گھنٹے میں ان برادر اسلامی ممالک اور دوسرے برادر اسلامی ممالک سے بھی اور امداد آئے گی اور اس کے اعلانات ہوں گے ، اس وقت غیر یقینی اور ایمرجنسی کی صورتحال ہے اس میں پاکستان کے اندر جو تنظیمیں کام کر رہی ہیں جیسے الخدمت ہے ، رحمۃ اللعالمین ہے ، پاکستان علماء کونسل ہے اور جتنی بھی تنظیمیں ہیں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور سب کو اپنا اپنا کردارا دا کرنے کیلئے آگے بڑھنا ہے ۔

    ہم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ جہاں جس چیز کی ضرورت ہے وہاں وہ پہنچائی جائے ۔ وہاں اپنے بھائیوں کی مدد کی جائے اس میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب ، قطر، متحدہ عرب امارات ، چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے تعاون کیا ہے اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ پاکستان اب ٹریڈ کی طرف جائے گا۔ اب پاکستان کا مستقبل ٹریڈ سے وابستہ ہے امداد سے نہیں ، کب تک امداد پر گزارا کریں گے۔ پاکستان میں اللہ نے سب کچھ دیا ہوا ہے ایک ترتیب کی ضرورت ہے ۔ عوام الناس سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے بھائیوں کی امداد کریں کسی کا انتظار نہ کریں۔ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتے ہیں کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں ۔ سیاست اور پارٹی سے بالا تر ہو کر ریاست، قوم ، قوم کے املاک بچائیں اور قوم کو مستحکم کریں۔ فی الوقت باہمی اتحاد کی طرف توجہ دینا ہو گی

  • پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پشاور: پاک فضائیہ نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف اور بحالی کے آپریشن کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ریسکیو آپریشنز کو وسعت دے دی۔ خیبر پختونخوا کے گاؤں خیشکی اور نوشہرہ کلاں سے 800 افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں رسالپور کے فیلڈ کیمپوں میں 1400 افراد کو رکھا گیا ہے جہاں انہیں مفت طبی علاج، کھانا اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

    وادی نلتر میں پاک فضائیہ کی جانب سے مفت راشن اور طبی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ائیر مارشل حامد راشد رندھاوا ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف (ایڈمنسٹریشن) اور ائیر وائس مارشل معید خان ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ دونوں ایئر آفیسرز نے پی اے ایف کے اہلکاروں کی طرف سے سیلاب سے بچاؤ اور بحالی کی سرگرمیوں کا معائنہ کرنے کے لیے فیلڈ کیمپس کا بھی دورہ کیا۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 13960 پکے ہوئے فوڈ پیکٹ، 924 راشن پیک، جن میں بنیادی اشیائے خوردونوش اور اجناس شامل تھیں، ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔ مزید برآں، پی اے ایف کے فیلڈ ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیموں نے 804 مریضوں کو مفت علاج اور ادویات کی سہولیات فراہم کیں۔ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

  • دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    لاہور: دُنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا میں ایورج 3240 مِلی میٹرہوتی رہی اور سب سے کم بارش مِصر میں 18مِلی میٹر ہوئی

     

     

    جبکہ دُنیا کے 195 مُمالک میں ھونے والی ایورج بارشوں میں پاکستان کا نمبر 145 واں ہے۔ جہاں سالانہ ایورج 494 مِلی میٹر بارش ھوتی ہے یہ اعدادوشمار 2017 کے ہیں‌ جبکہ اس سال ہونے والی بارش نے پاکستان کوکئی درجات اونچا کردیا ہے اس کی درجہ بندی مون سون کے موسم کے اختتام پر ہوگی

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے دُنیا میں 144 مُمالک ایسے ہیں جہاں پاکستان سے زیادہ بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سال پاکستان میں ہونے والی بارشوں نے پاکستان کے ہی پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیئے

    دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست کچھ اس طرح ہے

     

     

     

    10-بنگلہ دیش:
    ہر جگہ پانی، بنگلہ دیش ایک خلیج کے دہانے پر واقع ہے جس میں کئی دریا زیادہ ہیں ملک کی مون سون کی آب و ہوا اس کے بیشتر حصوں میں شدید بارش لاتی ہے۔ مون سون کا موسم عام طور پر جون سے شروع ہوتا ہے اور اکتوبر میں ختم ہوتا ہے۔ ان دنوں کے دوران، یہ تقریباً 80 فیصد بارش کا تجربہ کرتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن کے قریب واقع علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جس میں بنیادی طور پر سلہٹ کا علاقہ شامل ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 2666 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    9. انڈونیشیا
    انڈونیشیا گرم پانیوں کے ذخائر کے ساتھ ایک خوبصورت ملک ہے، جو اس کی آب و ہوا کو زیادہ بارش کا سبب بنتا ہے۔ کل زمین کا 81% گرم پانیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ مانسون کا دورانیہ دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے۔ ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 2702 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

     

    8. برونائی دارالسلام
    برونائی بھی دنیا کی اشنکٹبندیی پٹی کے بیچ میں واقع ہے اس لیے سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر ذیلی موسمی حالات ہیں جس کے نتیجے میں تیز بارش اور زیادہ نمی کے ساتھ گرم موسم ہوتا ہے۔ بارش کی اوسط شرح 2722 ملی میٹر سالانہ ہے، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والا 8 واں ملک بناتا ہے۔

    7. ملائیشیا
    ہر سال 2875 ملی میٹر بارش کے ساتھ، ملائیشیا اس فہرست میں اگلے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں بھی مون سون کا موسم دسمبر کے اوائل سے شروع ہو کر مارچ میں ختم ہو جاتا ہے۔ شمال اور مغرب میں واقع علاقے جیسے سراواک اور صباح کی ڈھلوانیں سب سے زیادہ بارش کی زد میں ہیں، جو اس ملک میں ہونے والی کل بارش کا 70% سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

    6. کوسٹا ریکا
    کوسٹ ریکا اپنے سفید ریتیلے ساحلوں کے لیے مشہور ہے اور دنیا بھر سے بہت سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ آپ کے موسم گرما کو سرفنگ اور دھوپ میں گزارنے کے لیے ایک بہترین میدان فراہم کرتا ہے۔ اس ملک میں بھی ہر سال بارشوں کا شدید سلسلہ ہوتا ہے جو مئی میں شروع ہوتی ہے اور سات ماہ تک جاری رہتی ہے۔ ان مہینوں کے دوران جوار بہت زیادہ ہوتے ہیں اور سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ساحلوں پر نہ جائیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ اوسطاً 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    5. پانامہ
    پانامہ میں مون سون کا معمول اپریل میں شروع ہوتا ہے اور دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے! بارش کے 9 مہینے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً ہر سال 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ پاناما کا جغرافیہ ضرورت سے زیادہ بارشوں کا واحد عنصر ہے، بخارات کیریبین کے شمال اور شمال مشرق سے ہوتے ہیں جو بارش کا سبب بنتے ہیں۔ ساحلی پٹی کے قریب واقع علاقوں میں زیادہ تر بارش ہوتی ہے۔

    4. سلیمان جزائر
    سولومن جزائر سب سے زیادہ بارش والے ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دو الگ الگ آب و ہوا کی انتہا کا تجربہ کریں، ایک گیلی اور دوسری مکمل طور پر خشک۔ بارش کا موسم فروری سے شروع ہو کر مئی میں ختم ہوتا ہے جبکہ گیلے موسم کا دوسرا دور ستمبر سے نومبر تک جاری رہتا ہے۔ شدید بارشوں کے علاوہ، ملک کو ان جزائر کے بہت شمال سے آنے والے ٹائفون کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 3,028 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    3. پاپوا نیو گنی
    پاپا نیو گنی دنیا میں سب سے زیادہ بارش والے 10 ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جہاں مون سون کا موسم عام طور پر دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 3142 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ یہ ملک کے مغربی اور شمالی حصے ہیں جہاں زیادہ تر بارشیں ہوتی ہیں۔ سیلاب اور تباہی واضح ہو جاتی ہے اگر بارش کے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال یا چینلائز نہ کیا جائے۔

    2. SAO TOME اور PRINCIPE
    ملک کے برساتی موسم کو دو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سب سے زیادہ بارش والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلا شارٹ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور نومبر تک جاری رہتا ہے جبکہ لمبا حصہ مارچ سے مئی تک جاری رہتا ہے دونوں موسموں میں بارش کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ دونوں موسموں میں اوسط بارش کی مشترکہ رقم تقریباً 3200 ملی میٹر سالانہ ہے۔ خط استوا کے آس پاس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملک میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

    1. کولمبیا
    کولمبیا میں بارش کی سب سے زیادہ شرح ہے جس کا تخمینہ 3240 ملی میٹر سالانہ ہے۔ بہت زیادہ اور بھاری بارش کی وجہ سے ریاست کا کچھ علاقہ مستقل طور پر سیلاب کی زد میں رہتا ہے۔ بحرالکاہل کا سامنا کرنے والے علاقے سب سے زیادہ بارش کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ہر روز بارش ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ملک میں بارشی جنگلات کی کثرت ہے۔ جب ہم ملک کے مشرقی حصوں کی طرف بڑھے تو بارش کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔

    1. کولمبیا 3240
    2. ساؤ ٹوم 3200
    3. پاپا نیو گنی 3142
    4. جزیرہ سلیمان 3028
    5. پانامہ 2929
    6. کوسٹا ریکا 2926
    7. ملائیشیا 2875
    8. برونائی 2722
    9. انڈونیشیا 2702
    10. بنگلہ دیش 2666

  • فلڈ ریلیف کمیٹی  نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد:فلڈ ریلیف کمیٹی نے اپنے اہم اجلاس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ اضلاع اوروہاں کے دیگرمقامات کی نشاندہی کرکے نقشے تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں

    پاکستان میں سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جان سے گئے۔ فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت اس کام کو جلد ازجلد مکمل کرنے کےبھی ہدایات جاری کیں‌

     

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی زیر صدارت فلڈ ریلیف کمیٹی کا اجلاس ہوا، بریفنگ میں بتایا گیا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں سیلاب سے مزید 75 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔وفاقی وزیر نے سیکریٹری صحت سے صوبوں کے ساتھ اجلاس کے بعد تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

    فلڈ ریلیف کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 53 قیمتی جانیں سندھ میں، 16 کے پی میں، 5 گلگت بلتستان اور 2 قیمتی جانیں بلوچستان میں سیلاب کی نذر ہوگئیں۔

    کمیٹی نے مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچنے کیلئے حکمت عملی کا جائزہ لیا اور این ڈی ایم اے کو اس حوالے سے قواعد و ضوابط تیار کرنے کی ہدایت کردی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد معلوم کرکے مدد کی جائے گی۔

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے فنڈ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری پر خرچ کئے جائیں گے۔

    پہلے بھی تباہی ہوئی،تعمیرات کی اجازت دیکر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، آرمی چیف

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، اس قدرتی آفت میں ایک ہزار 150 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریبا 10 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ پوری قوم کو اجتماعی طور پر اتنے بڑے چیلنج سے نمٹنا ہوگا، قدرتی آفت سے ایک موقع یہ بھی ملا ہے کہ غریب خاندانوں کو منظم انداز میں استوار کیا جائے۔

  • شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکارپور:شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے:  سندھ کے باسیوں کی حالت زار سے پردہ اٹھا کے عوام الناس کی خدمت کے جھوٹے دعووں اور وعدوں کو بے نقاب کردیا ہے ،

     

    شکارپوربائی پاس سے باغی ٹی وی کے نمائندے عبداللہ عبداللہ جو کہ اس وقت وہاں موجود ہیں اور علاقے میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے آثارکا مشاہدہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی شکار پور اور گردونواح کے باسیوں کی حالت زار پر بھی نوحہ کناں‌ ہیں‌

     

    عبداللہ عبداللہ نے شکارپوربائی پاس سے اس وقت ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی کچھ ویڈیوز شیئر کی ہیں اور پھراس کے بعد وہاں کے لوگوں کے مسائل جان کرحالات کی عکاسی کی ہے ، ان کی طرف سے وائرل کی جانی والی ویڈیوز میں شکارپوربائی پاس کے گردوںواح کی آبادیاں اور گوٹھوں کے رہنے والے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہماری آبادیوں میں سیلاب کاپانی ہے اورہمارے گھر منہدم ہورہےہیں ، ہم حکام کی منتیں کررہے ہیں کہ ہمارے گھروں سے پانی نکالا جائے ،

     

    ان لوگوں کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ ہمارے گھروں سے پانی نکال رہے ہیں اور نہ نکالنے دے رہے ہیں ، آخریہ حکمران ایسا کیوں کررہے ہیں ، ہمیں بتایا جائے ہمارا کیا قصور ہے ،

    شکار پور کے ہونے والے شکار لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عبداللہ عبدالہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہت دکھی ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کےلیے کچھ نہ دیں مگرہمارے گھروں سے پانی تو نکالیں یا نکالنے دیں ، یہ ہمارا سب کچھ ہے جو ایک ایک کرکے منہدم ہورہے ہیں ، عبداللہ عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بڑھ کرپاکستان میں کسی طبقے کی بے بسی اور بدحالی اس سےپہلے نہیں دیکھی،

    ادھر سندھ میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، گوٹھ ڈوب گئے اور سیلابی ریلے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گئے، زمینی رابطہ منقطع ہونے سے متاثرین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

    شکارپور کا 800 گھروں پرمشتمل فقیر گوٹھ سیلاب نے اجاڑ ڈالا، گوٹھ ہر طرف سے دلدل اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے، سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گیا جس کے باعث متاثرین کے لیے گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں رہا۔

    پنجال شیخ میں مکانات ایک ایک کر کے منہدم ہونے لگے، کیونکہ موسلا دھار بارش نے چھوٹے سے جنوبی پاکستانی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اردگرد کے کھیتوں کے وسیع رقبے میں پانی بھر گیا۔

    اس ماہ تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل بارشوں کے بعد، تباہ شدہ دیواروں، ملبے اور لوگوں کے سامان کے ڈھیروں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا جو کہ بھورے سیلابی پانی اور مٹی کے تالابوں میں سے باہر نکل رہے تھے۔

    بدترین مون سون سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں، جس نے جون میں بارش شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 10 لاکھ مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے اور 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔“جب بارش شروع ہوئی تو ہر طرف تباہی پھیل گئی۔”بارشوں نے ایک ایک کرکے “سارا گاؤں ہی مٹا دیا گیا ہے۔”

     

    دوسری طرف اس وقت سندھ میں گڈوبیراج پراونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، لوگ پریشان ہیں اورانتظامیہ کو کچھ سوجھ بوجھ دکھائی نہیں دے رہی کہ اب کس طرح عوام الناس کی مدد کی جانی چاہیے

  • بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےتحت متاثرہ خاندان کو25ہزار روپےدیئےجائیں گے:چیئرمین این ڈی  ایم اے

    بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےتحت متاثرہ خاندان کو25ہزار روپےدیئےجائیں گے:چیئرمین این ڈی ایم اے

    اسلام آباد: بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےتحت متاثرہ خاندان کو25ہزار روپےدیئےجائیں گے:اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین خاندانوں کو 25 ہزارروپے ادا کیئے جائیں گے ،

    چیئرمین این ڈی ایم اے نےکہا کہ بلوچستان ،سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب او ربارشوں سے مواصلاتی نظام متاثر ہوا،جموں وکشمیر اور گلگت بلتستا ن میں بھی صورتحال سنگین ہے،ملک کے بعض علاقوں میں بارشوں نے 30سالہ ریکارڈ توڑ دیا،

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو رواں سال 4ہیٹ ویوز کا سامنا رہا، رواں سال بارشیں بھی قبل از وقت شروع ہوئیں ،

    چیئرمین این ڈی ایم اے اخترنواز نےکہا کہ سیلاب سے 10لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک فوج ، این ڈی ایم اے اور مقامی رضاکار متاثرین محفوظ مقامات پر منتقل کررہےہیں، اخترنواز نے کہا کہ پاکستان میں رواں سال گرمی وقت سے پہلے شروع ہوئی ،چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہاکہ پاکستان میں رواں سال بہار کا موسم نہیں آیا،

    چیئرمین این ڈی ایم اے اخترنواز نے کہا کہ سیلاب سے 20لاکھ ایکڑزمین اور 3کروڑسےزائدافراد متاثر ہوئے

  • آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 20 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو فوری انسانی ضروریات کے لیے مدد فراہم کررہے ہیں جس کےتحت آسٹریلیا عالمی خوراک پروگرام کےذریعے پاکستان کو 20 لاکھ ڈالرکی امداد دے گا سیلاب سے متاثر خواتین، بچے اور کمزور افراد فوری امداد کے مستحق ہیں۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی طرف سے سیلاب میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور ہماری سیلاب سے تباہ حال افراد کے ساتھ گہری ہمدردیاں ہیں۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں چین نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ملین یوآن (آر ایم بی) امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ چین کی فضائیہ کی پروازیں 300خیموں کی پہلی کھیپ لےکر آج اورکل کراچی پہنچیں گی۔

    چین کےصدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے سیلاب کی صورت حال پر اظہار افسوس اور یک جہتی کا اظہار کیا۔

    چین کے صدر اور وزیراعظم کا یہ پیغام پاکستان میں چینی سفیرنونگ رونگ نے پاکستانی قیادت کوپہنچایا ہے جس کے جواب میں وزیراعظم شہبازشریف نےصدرشی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔


    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پاکستان کے لیے اضافی ایمرجنسی امداد کا اعلان کیا ہے جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان کا ملک خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھے گا۔

    سیلابی صورتحال میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی پر افسوس کا اظہار کیا ہے پاکستان کےمستقل مندوب منیراکرم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات ہوئی۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی برادری سے خصوصی اپیل کریں گے کہ پاکستان کی مدد کی جائے، جس سے پاکستان میں بحالی اورتعمیر نو کا عمل ممکن بنایا جاسکےگا۔

    خیال رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جاں بحق ہوئےجس کے بعد سیلاب اوربارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 1136 تک پہنچ گئی ہے ملک بھر میں اب تک 10 لاکھ 51 ہزار 570 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 7 لاکھ 35 ہزار 375 مویشی مرچکے ہیں۔

    چین کا پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے 100 ملین یوآن کی امداد کا اعلان کردیا

    رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔