Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    مون سون بارشوں نے ملکی تاریخ کی بدترین تباہی مچائی ہے۔ بارشوں نے بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے .حکومت نے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    وفاقی کابینہ کی طرف سے سرکولیشن سمری کے ذریعے فوج متاثرہ اضلاع میں بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج تعینات کرنے کی سمری کی منظوری دی گئی۔خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے متاثرہ اضلاع میں فوج بھیجی جائے گی، تمام صوبائی حکومتوں کے محکمہ داخلہ کو آگاہ کردیا گیا۔

    دوسری طرف وزارت داخلہ نے شدید بارشوں اور سیلاب کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظرسویلین حکومت کی مدد کیلئے چاروں صوبوں میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دےدی۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سویلین حکومت کی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشنز میں مدد کیلئے پاک افواج کی تعیناتی کی جارہی ہے۔ پاک افواج کو چاروں صوبوں کے سیلاب سے آفت زدہ علاقوں میں تعینات کیا جارہا ہے-

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان ضلع میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک افواج تعینات کی ریکوزیشن کی ہے، حکومت خیبر پختونخوا نے ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ریکوزیشن کی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نےنصیر آباد،جھل مگسی، صحبت پور، جعفر آباد اورلسبیلہ اضلاع میں فوج کی تعیناتی کیلئے ریکوزیشن کی ہے۔ سندھ حکومت نے سیلابی علاقوں میں صوبائی حکومت کی مدد کیلئے فوج تعینات کرنے کیلئے ریکوزیشن وزارت داخلہ بھیجی۔

    انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں قائم کنٹرول روم سے سیلاب کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہاہے۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔انسانی زندگیاں بچانا اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ضروری انسانی اور مالی وسائل فراہم کر رہی ہے۔

  • حسن علی ایشیا کپ اسکواڈ میں شامل ہوگئے

    حسن علی ایشیا کپ اسکواڈ میں شامل ہوگئے

    لاہور:نوجوان پیسر محمد وسیم جونیئر ایشیا کپ سے باہر ہوگئے، ان کی جگہ حسن علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا۔اطلاعات کے مطابق محمد وسیم کو کمر میں درد کی شکایت تھی جس کے بعد ان کا ایم آر آئی کرایا گیا، جس کی رپورٹ تسلی بخش نہیں آئی۔

    ایم آر آئی اسکین رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میڈیکل پینل نے انہیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    محمد وسیم کی جگہ ایشیا کپ کیلئے قومی اسکواڈ میں حسن علی کو شامل کرلیا گیا، ایونٹ کل سے شروع ہورہا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق حسن علی پہلی دستیاب فلائٹ سے دبئی روانہ ہوں گ

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کھلاڑیوں سے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی درخواست کردی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بابر اعظم نے لکھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب زدگان کے لیے دعائیں ہے۔

    قومی ٹیم کے کپتان نے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ یہ وقت بحیثیت قوم کھڑے ہونے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کا ہے، آگے بڑھیں اور اپنا بہترین کریں۔

    خیال رہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ملک کے مختلف صوبوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 34 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، خیبر پختونخوا میں 16، پنجاب میں 13، سندھ میں 10 اور بلوچستان میں 4 اموات ہوئیں جس سے مجموعی تعداد 934 تک پہنچ گئی جبکہ اب تک 42 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  • آرمی ایئرڈیفنس کمانڈہیڈکوارٹرزمیں آرمی فلڈریلیف سینٹر قائم:آرمی چیف کی امدادی آپریشن تیزکرنےکی ہدایت

    آرمی ایئرڈیفنس کمانڈہیڈکوارٹرزمیں آرمی فلڈریلیف سینٹر قائم:آرمی چیف کی امدادی آپریشن تیزکرنےکی ہدایت

    راولپنڈی :پاک فوج نے آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں آرمی فلڈ ریلیف سینٹر قائم کردیا،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کراچی پہنچ گئے ہیں۔

    آرمی چیف کو سندھ اوربلوچستان میں سیلابی صورتحال اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی جائے گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ سندھ اور بلوچستان میں فوجی جوانوں کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں آرمی فلڈ ریلیف سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ملٹری آپریشنز ڈائریکٹریٹ کے ساتھ قومی فلڈ ریلیف اقدامات کو کوآرڈینیٹ کرنا ہے۔

    ملک کے دیگرعلاقوں میں بھی فلڈ ریلیف سینٹرز قائم کردیے گئے ہیں۔ ان سینٹرز پر امدادی اشیاء اکھٹی کرکے متاثرین تک پہنچائی جارہی ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج سیلاب کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے۔ فوجی جوان متاثرین میں کھانا اور شیلٹرز بھی فراہم کررہے ہیں۔

    پاک فوج کی طرف سے حالیہ سیلاب کے حوالے سے تازہ ترین صورت حال سے آگاہ بھی کیا گیا جس کے مطابق

    ◼️ سندھ
    موہنجدڑو (38 ملی میٹر) میں زیادہ سے زیادہ بارش کے ساتھ صوبے میں ہلکی بارش کی اطلاع ہے۔
    سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور میں ڈھانچہ گرنے اور ڈوبنے کے واقعات میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ قمبر شہداد کوٹ میں واڑہ کے مغرب میں پانی کے زیادہ بہاؤ سے مقامی بند ٹوٹ گیا جس سے 600 افراد متاثر ہوئے۔

    پاک فوج نے اپنی امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے ٹھٹھہ میں 60 خاندانوں کے لیے خیمہ گاؤں قائم کیا گیا۔
    نگرپارکر، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، سانگڑھ، جامشورو، میرپور خاص اور دادو ضلع میں سیلاب متاثرین کو راشن اور امدادی اشیاء فراہم کرنےکےلیےفارورڈ بیس ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ ٹنڈو اللہ یار اور مٹیاری میں قائم 3x اضافی فارورڈ بیسز موبائل میڈیکل ٹیمیں صوبے کے دور دراز علاقوں میں طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ کوٹ ڈیجی۔ فوج کی ٹیموں نے پانی صاف کرنے کی کارروائیاں کیں اور راشن بیگ بھی تقسیم کیا۔خیرپور۔ فوج کے دستوں کی جانب سے انخلا کا آپریشن کیا گیا۔

    سیلاب متاثرین میں راشن کے پیکٹس کی تقسیم بھی جاری ہے
    ▪️ نوشہرو فیروز فوج کے دستوں کی طرف سے ڈی واٹرنگ آپریشن کیا گیا۔ دادو۔ سیلاب متاثرین کو پکا ہوا کھانا اور امدادی اشیاء کی فراہمی؛ ریسکیو ٹیموں کے ذریعے معیاری آبادی کا انخلا، سانگھڑ فیلڈ میڈیکل سنٹر قائم کیا گیا اور 136 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ *قمبر شہداد کوٹ* . پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں فوج کے دستوں نے کیں۔راشن کی تقسیم کے ساتھ 60 خاندانوں کے لیے ٹھٹھہ ٹینٹ گاؤں قائم کیا گیا ، بدین تحصیل ماتلی میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم۔ راشن کے پیکٹ کے ساتھ خیمے، مچھر دانی اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔

    ◼️ بلوچستان
    ▪️ صوبہ بھر میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کی اطلاع سبی میں (69 ملی میٹر) زیادہ سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں، یارو کاز وے پر پانی کے بلند ہونے کی وجہ سے N-65 پر ٹریفک کی آمدورفت عارضی طور پر روک دی گئی۔

    ▪️ جعفرآباد۔ کولپور اور مچھ کے درمیان ہیروک پل کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ریلوے کی نقل و حرکت معطل ہے،نصیرآباد ڈیرہ مراد جمالی سے چھتر اور گردونواح کا روڈ رابطہ عارضی طور پر درہم برہم ہےجبکہ خضدار۔ وانگو میں M-8 پر لینڈ سلائیڈنگ کی بحالی کے کام کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔

    ان علاقوں میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ،5 فیلڈ میڈیکل کیمپ قائم 575 ایکس مریضوں کا علاج کیا گیا۔جھل مگسی گندھاوا شہر میں ریلیف اور ڈیوٹرنگ آپریشن جاری ہے – 250 ایکس راشن پیکٹس کی تقسیم؛ 110 گنا سیلاب متاثرین کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا گیا۔نصیرآباد ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے؛ 500 افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا اور 200 ایکس راشن پیکٹ تقسیم کیے گئے۔

    ◼️ پنجاب

    پاک فوج کی طرف سے ڈی جی خان میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 2000 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50x ریلیف کیمپ قائم 5562 افراد کو جگہ دی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 38242 ایکس راشن پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 37428 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔2فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں 2x فیلڈ میڈیکل کیمپ منگروٹہ، تونسہ اور فاضل پور، راجن پور میں 2 کور کے ذریعے لگائے گئے ہیں۔ ہر ایک فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 1x لیڈی میڈیکل آفیسر کے علاوہ 2x میڈیکل آفیسر، 3847 مریضوں کا اب تک علاج کیا گیا اور مریضوں کو4 دن کی ادویات دی گئیں۔ریسکیو ٹیمیں ضروری سامان کے ساتھ سابق آرمی (13 ایکس بوٹس، OBMs، لائف جیکٹس وغیرہ) ڈی جی خان میں ریسکیو ریلیف آپریشن کو انجام دینے کے لیے پیش پیش ہیں۔آرمی کی ریسکیو ٹیمیں ضروری سامان کے ساتھ (22 ایکس بوٹس، OBMs، لائف جیکٹس وغیرہ) ریسکیو/ریلیف آپریشن کے لیے راجن پور کی پیش کش ہیں۔تونسہ اور روجھان میں ضروری سامان کے ساتھ فوج تعینات کی گئی ہے

    • کے پی کے
    ▪️ خوازہ خیلہ چارسدہ کے مقام پر دریائے سوات میں انتہائی بلندی کی وجہ سے نوشہرہ اور رسالپور کو شدید خطرہ ہے۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی خان دریائے سندھ کے کیچمنٹ ایریاز میں مسلسل بارش کے باعث ڈی آئی خان کے تمام نالوں میں طغیانی آگئی جس کے نتیجے میں بنوں، ٹانک، ژوب اور ڈی جی خان تک سڑکوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ ٹینک۔ سلیمان رینج سے بہاؤ بڑھنے سے سیلاب آیا۔

    سوات میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات میں تباہی بحرین سے کالام تک N-95 اور N-90 پر سڑکوں اور پلوں کی حالت نازک۔ کالام-بحرین روڈ عارضی طور پر بند، 2-3 دنوں میں کلیئر ہونے کا امکان ہے۔ مہندری کے مقام پر دریائے کمہار پر کاغان اور ناران پل شدید بہاؤ سے بہہ گئے

    یہاں بھی پاک فوج کے جوان خدمت اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ڈی آئی خان میں فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن – 13 افراد کو بچایا گیا، 9 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے اور متاثرین میں 1110 راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔گاؤں روڑی اور مدی میں خواتین کے طبی مراکز کا قیام؛ 600 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ درازندہ میں میڈیکل کیمپ کا قیام 400 ایکس مقامی لوگوں کا علاج کیا گیا۔سوات میں ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے میں فوجی دستے سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔

  • سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گورنر ہائوس لاہور میں سیلاب زندگان کی امداد کے لئے فلڈ ریلف فنڈ کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر بلا تفریق ساتھ چلنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سیلاب متاثرین کی حتی المقدور امداد فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر نگرانی سیلابی ریلوں میں اپنی جانوں کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین کو اب تک 80فیصد امدادی چیک دیئے جا چکے ہیں۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں تباہی اور بدحالی سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ثروت افراد اور مالی وسعت رکھنے والے طبقے پر لازم ہے کہ وہ آزمائش اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی بھر پور مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں وہی قومیں اپنی منزل حاصل کرتی ہیں جو اتحاد و یگانگت اور قوت ارادی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات، فلاحی تنظیموں سمیت تمام لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور ہم وطنوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنا ہوگی۔
    اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے مخیر حضرات کے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے حوالے سے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری نے ہمیشہ فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے 31مئی 2022سے اب تک اپنی تمام تنخواہ سیلاب متاثریں کے لئے دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور چانسلر انہوں نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ طلبا اور فیکلٹی ممبرز سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان اور ریلیف فنڈز اکٹھا کرنے میں کردار ادا کریں۔
    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آخر میں مخیر حضرات کے تعاون سے سیلاب زدگان کیلئے 14 امدادی ٹرک بھی روانہ کیے۔اس موقع پر حذیفہ رفیق اور شاہد حسن شیخ بھی موجود تھے۔
    ٭٭٭٭
    دریں اثنا گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آج پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو مراسلے کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے فوری فلڈ ریلیف مہم شروع کی جائے ۔انہوں نے تاکید کی ہے کہ یونیورسٹی فیکلٹی اور طلبا سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز، کپڑے، خوراک اور ضروری سامان اکٹھا کریں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے اکٹھا کیا گیا فنڈ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب ریلف فنڈ میں جمع کرایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات فنڈز اپنے ترجیحی میکنزم کے ذریعے بھی سیلاب زدگان کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کی اس گھڑی میں اپنے سیلاب زدگان بہن، بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا قومی فریضہ ہے۔

  • پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی مہم تیز کر دی

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی مہم تیز کر دی

    پاک فضائیہ نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی مہم تیز کر دی

    مون سون کی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث پاکستان بھر میں درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور سینکڑوں افراد بےگھر ہو گئے ہیں۔ اس تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر پاک فضائیہ نے اپنی امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور نورواہ، ماد پور، کوٹ مگسی، فاضل پور، بستی جندو شاہ، حاجی پور، بستی ڈھونڈی پل، بستی لکھا، بگو کاکا، جاگیر گبول اور سعید آباد کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو بروقت امداد فراہم کی جاری ہے۔ پی اے ایف بیسز بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

    پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب سے متاثرہ ضرورت مند خاندانوں تک امداد پہنچانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ انسانی ہمدردی کے تحت 785 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ اور 2860 پاؤنڈ کی بنیادی اشیائے خوردونوش ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کی گئیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیم نے 158 مریضوں کا علاج بھی کیا۔ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

  • سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی،ریڈیو پاکستان پرخصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت

    سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی،ریڈیو پاکستان پرخصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت

    سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان پر خصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس کے آغاز میں سیلاب زدگان متاثرین کیلئے دعا کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے سیلاب زدگان کیلئے اور ان کی امداد کیلئے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان پر خصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت دیں کہ اس خصوصی ٹرانسمیشن میں سیلاب متاثرین کو براہ راست شامل کریں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کمیٹی اپنا بھر پورکردار ادا کرے گی اور ساتھ ہی ساتھ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کا بھی اس حوالے سے اہم کردار ہے۔ سیلاب زدگان کیلئے جو فنڈقائم کیا گیا ہے اس کی تشہیر ضروری ہے، خدمت خلق کے اداروں کواس حوالے سے فعال بنانا چاہئے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اے آر وائی کی بندش کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹرفیصل جاوید نے پیمرا کو چینل ان ائر کرنے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ اے آر وائے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاملات طے ہونے تک چینل کو ان ائر کردیا جائے۔چینل کی بندش سے 400 ملازمین کا روزگار خطرے میں ہیں جس کا مطلب ہے کہ 400 خاندان متاثر ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ نے بھی اے آر وائی کی نشریات کھولنے کا کہا ہے۔پیمرا اور چینلز کو اس حوالے سے پل کا کردار ادا کرنا چاہئے، اس معاملے پر پیمرا کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔آزادی صحافت، میڈیا پر کوئی قد غن نہیں ہونی چاہئے۔چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبل آپریٹر کے ساتھ ان کا مسئلہ ہے۔اے آر وائی کیبل آپریٹر کے ساتھ انٹر کنیکٹ معاہدہ نہیں کر رہا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ چل رہا ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی بھی چینل کی بندش نہیں ہونی چاہئے خواہ کوئی بھی دورحکومت ہو۔انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت میں بھی آپکو نوٹس لینا چاہئے تھا چلو ابھی لیا اچھی بات ہے۔چیئرمین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر وزیر صاحبہ کمیٹی کو ٹائم نہیں دے سکتی تو ایک اور وزیر ساتھ میں لگا دیا جائے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کو معاملات دیکھ سکیں۔اے آر وائی کی بندش کا معاملہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کی عدم شرکت کے باعث چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ تک موخر کردیا۔

    صحافیوں کے حقوق کیلئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کیا گیا بل بھی ان کی غیر موجودگی کے باعث اگلی میٹنگ تک موخر کردیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کی حلف برداری کی تقریب پی ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنے اور اس حوالے سے ڈائریکٹرپی ٹی وی کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں ایوان صدر سیکرٹریٹ کے حکام کو بھی طلب کرلیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹرفیصل جاوید نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان صدر سیکرٹریٹ کا موقف بھی سننا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی وی حکام کو حلف برداری کی ان ائر فوٹیج بھی اگلی میٹنگ میں پیش کرنے کی ہدایات دیں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس حلف برداری کے حوالے سے پہلے سے اطلاعات دی گئی تھی۔چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی لاہور سے پہنچ گئے لیکن پی ٹی وی کی ڈی ایس این جی نہیں پہنچ سکی۔جس پر ڈائریکٹر نیوز پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ رات میں او بی کا اسٹاف نہیں ہوتا انسٹال ہونے میں 4 گھنٹے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے بھی نہیں بتایا گیا کہ حلف برداری یہاں ایوان صدر ہو رہی ہے۔لاہور میں پی ٹی وی کی دو ڈی ایس این جیز کھڑی رہی۔ ہمیں فون کر کے کہا گیا کہ حلف برداری لاہور گورنر ہاوس میں ہوگی۔ اسلام آباد ایوان صدر میں حلف برداری تقریب کے حوالے سے کسی نے فون بھی نہیں کیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان صدر سیکرٹریٹ کو بھی سنیں گے۔ آپ کی وضاحت سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔آن ائیر فوٹیج/ریکارڈنگ اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں پی ٹی وی کو دوبارہ سنیں گے آپ لوگوں کی وضاحت قبول نہیں کی جا سکتی۔

    سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں انکوائری رپورٹ پر بحث کریں گے۔

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

  • بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    دریائے سوات میں اونچے درجے کا سیلاب، کالام ، بحرین ، مدین میں متعدد ہوٹل اور مکانات پانی میں بہہ گئے

    سوات، مدین اور بحرین کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا فضاگٹ ، بریکوٹ کے مقام پر متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں سوات، بحرین اور کالام کے درمیاں متعدد مقامات پر طغیانی ہے ضلع بھر میں ہنگامی صورتحال ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لکڑیاں اکھٹے کرنے والوں کوانتباہ جاری،خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی سوات میں پانی تاریخی جامع مسجد کالام میں داخل ہو گیا ہے، بحرین اور مدین میں سیلاب نے تباہی مچادی 100سے زائد مکانات تباہ ہو گئے، کئی ہوٹلز اور رابطہ پل بہہ جانے سے کالام روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گیا ہے، بحرین بازار بھی سیلاب میں ڈوب گیا

    بالاکوٹ میں بارش ، منور نالہ میں سیلابی ریلا ، مہانڈری بازار شدید متاثر،3افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، عینی شاہدین کے مطابق مہانڈری میں درجن سے زائد دکانیں، 2 ہوٹل اور 5 گاڑیاں نالےمیں بہہ گئیں، سیلابی ریلے کی زد میں آکر خانہ بدوش خاندان کے 8 افراد بھی دریا میں بہہ گئے دریا کا پانی مہانڈری بازار، اسکولوں اور تھانے میں داخل،اداروں کو الرٹ کردیا گیا، این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ کاغان کو ناران تک ٹریفک کےلیے بحال کردیا گیا ،ناران سے آگے کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ بدستور بند ہے

    دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،ژوب سے آگے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے سیلاب کے باعث ابھی تک مختلف علاقوں سے 20ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ،ژوب سے آگے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کاسامنا ہے،

    بلوچستان میں جاری طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ٹیلی کام سروسز کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا ، پی ٹی سی ایل ترجمان کے مطابق سڑکوں اور پلوں کے ساتھ بچھائی گئی فائبر کیبلز کئی مقامات پر سیلاب کی زد میں آکر کٹ گئی ہیں ،خرابی سے بلوچستان کے وسطی اور شمالی حصوں میں ٹیلی کام سروسز کی فراہمی متاثر ہوئی ہے،پی ٹی سی ایل کی تکنیکی ٹیمیں متاثرہ مقامات تک پہنچنے اور خرابی دور کرنے کی کوشش کررہی ہیں،ٹیلی کام سروسز کو ترجیحی بنیادو ں پر بحال کیا جائے گا،

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے آپٹیکل فائبر کیبل کو نقصان پہنچا ، پی ٹی اے کے مطابق کوئٹہ، زیارت، خضدار ، ژوب میں وائس اور ڈیٹا سروسز متاثر ہوئی ہیں، لورالائی، پشین، چمن، پنجگور، قلعہ سیف اللہ اور قلعہ عبداللہ میں ڈیٹا سروسز متاثر ہوئی ہیں صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں جا ری ہیں،پی ٹی اے صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور مزید اپڈیٹس شیئر کی جائیں گی،

    شدید بارشیں، کوئٹہ کا زمینی فضائی اور مواصلاتی رابطہ رات 12 بجے سے مکمل منقطع ہے،بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی بجلی، گیس، موبائل فون بند، انٹرنیٹ سروس معطل ہے کوئٹہ کا پی ٹی سی ایل نیٹ ورک بھی بند ہوگیا، گراؤنڈ انٹرنیٹ بھی کام نہیں کر رہا آئی جی بلوچستان، کمشنر، ڈی آئی جی کوئٹہ سمیت کسی اعلی آفس رابطہ نہیں ہو رہا کوئٹہ میں دن بھر جاری رہنے والی بارش رات 11 بجے تک جاری تھی، رات 11 بجے کے بعد کو ئٹہ اور نواحی علاقوں میں مکمل بلیک آوٹ ہوا بجلی بند ہونے سے موبائل فون کمپنیوں، پی ٹی سی ایل اور انٹرنیٹ سروسز کا نظام بیٹھ گیا

    دوسری جانب ترجمان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ایئرپورٹ پر سول ایوی ایشن کا مواصلاتی نیٹ ورک مکمل طور پر فعال ہے، کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق ہے۔کوئٹہ ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد اور روانگی موسم کی خرابی کی وجہ سے متاثر ہوسکتی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن دیامر کا کہنا ہے کہ دیامر اور کوہستان میں کل رات سے جاری بارشوں کی وجہ سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال کا سامنا ہے کوہستان میں سیلاب سے اچھار نالہ اور زید کھڑ کے مقام پر شاہراہ قراقرم بلاک ہے۔مسافروں ,سیاحوں اور ٹرانسپورٹرز سے گزارش ہے کہ وہ شاہراہ قراقرم پر سفر سے گریز کریں۔گلگت بلتستان کے حدود میں اپنی منزل کی جانب ٹریولنگ کرنے والے سیاحوں سے اپیل ہے کہ وہ شاہراہ بابوسر کاغان پر اپنا سفر جاری رکھیں ۔ملک کے مختلف حصوں سے گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ بارش کے دوران سفر سے اجتناب کریں۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ اور اس سے منسلک ندیوں نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے، سیلاب کی سطح 227899 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔جو دریا/نالوں کے آس پاس رہنے والی آبادی کے لیے خطرناک صورتحال کا باعث بن سکتی ہے۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ سوات ،دیرلوئر ،مالاکنڈ ،مہمند، چارسدہ،مردان،نوشہرہ اور پشاور کو مراسلہ جاری کر دیا، جس میں ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں کی آبادی کی نشاندہی کرکے حفاظتی اقدامات اختیار کی ہدایت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی جانی و مالی، انفراسٹرکچر/فصلوں اور مال مویشیوں کو نقصان سے بچانے کے لئے بروقت اقدامات یقینی بنائیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ انتظامیہ کو دریاوں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ نزدیک آبادی کے انخلاء پر پناہ گاہوں میں خوراک اور ادویات کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے.کسی بھی صورت میں سڑکوں کی صفائی کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔غیر ضروری افواہوں پرکان نہ دھریں, ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔

    سوات مٹہ میں پاک فوج نے سیلاب میں گھرے 200 افراد کو ریسکیو کیا
    علاوہ ازیں ‏کے پی کے میں بھی پاک فوج نے سیلاب متاثرہ ریلیف آپریشن شروع کر دیا۔ سوات مٹہ میں پاک فوج نے سیلاب میں گھرے 200 افراد کو ریسکیو کیا اور ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ٹانک، بنوں اور ڈی آئی خان میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو سیلاب سے بچا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ گومل میں 35 افراد جب کہ ٹانک میں 55 سے 60 افراد کی جانیں بچائی گئیں۔۔

    پنجاب میں بارش اور سیلاب، مختلف واقعات میں 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، ریسکیو رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 15 جون سے 25 اگست تک سیلاب کے باعث 155 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بارشوں اور سیلاب سے زیادہ اموات ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ ہوئیں، ڈیرہ غازی خان میں سیلاب کے باعث 31 افراد جاں بحق ہوئے،راجن پور 12، ملتان 10 اورلاہور میں 6 افراد جاں بحق ہوئے پنجاب میں بارش اور سیلاب سے مختلف مقامات پر 26 افراد جاں بحق ہوئے، پنجاب میں عمارتوں کے گرنے سے 73 افراد ملبے تلے دب کر چل بسے، پنجاب میں بارش اور سیلاب سے کرنٹ لگنے کے باعث 7 افراد جاں بحق ہوئے، پنجاب میں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 34 اور دیگر وجوہات کے باعث 5 افراد جاں بحق ہوئے

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    قبل ازیں وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بہت ہی تکلیف دہ و پریشان کن ہیں، پورا ملک بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اس قومی اور انسانی بحرانی صورت حال میں ہمیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے،اس وقت ہماری ترجیح سیاسی معاملات و اختلافات نہیں سیلاب زدگان کی امداد ہونی چاہئے، متاثرین کو ہم سب کی مدد کی اشد ضرورت ہے سب کو دل کھول کر انکی مدد کریں،

    صدر عارف علوی کی قوم، سمندر پار پاکستانیوں اورعالمی برادری سے سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ پوری قوم، سمندر پار پاکستانی اور عالمی برادری سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئے ، سیلاب متاثریں کو بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے،پاکستان بھر میں سیلاب نے لوگوں کی زندگی اور معاش کو تباہ کر دیا ہے، پاکستانی قوم نے نے ماضی میں بھی غیر معمولی انسان دوستی کے جذبے کا مظاہرہ کیا ، ایک بار پھر قوم امدادی کوششوں میں دل کھول کر نقد رقم اور اجناس سے اپنا حصہ ڈالے تمام حکومتیں ، ادارے ، این جی اوز اور رضاکار متاثرین کو پناہ، خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد کریں ،میڈیا بھی قوم کو رقم اور ضروری اشیاء عطیہ کرنے کی ترغیب دے ،تاریخی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا، سڑکیں، پل ، بند ، مواصلاتی نظام اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ، بین الاقوامی برادری متعلقہ حکومتی اداروں کو اپنی مہارت، ٹیکنالوجی اور درکار مشینری فراہم کرے ،ماضی کی طرح قوم ایک بار پھر سیلاب متاثرین کی مدد کو آئے گی ، مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی،

  • جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیلئے ”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔مخیر حضرات اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی۔سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی پوری مشینری مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

     

    انہوں نے کہا کہ میری ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل متاثرہ علاقوں میں خود امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نقصانات کے ازالے کیلئے سروے کا حکم دے دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح ہے۔

    پنجاب حکومت مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔سیلاب سے متاثرہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے گا اور انشاء اللہ قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں پاک فوج کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے جو ناگہانی صورتحال سے دوچار لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہے۔فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، پاک فوج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے۔پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔پاک فوج کے تعاون سے کئی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں غضنفر عباس چھینہ،شہاب الدین خان، محمد عامر عنایت شاہانی،غضنفر عباس شاہ، غلام علی اصغر خان لہری،گلریز افضل گوندل،تیمور علی لالی، سردار محمد محی الدین خان کھوسہ، محمد علی رضا خان خاکوانی، محمد اعجاز حسین اور محمد احسن جہانگیرشامل تھے۔

  • خیبرپختونخوا: سیلاب سےمتاثرہ اضلاع میں تعلیمی ادارے بند:وزیراعلٰی محمود خان  بھی متحرک ہوگئے

    خیبرپختونخوا: سیلاب سےمتاثرہ اضلاع میں تعلیمی ادارے بند:وزیراعلٰی محمود خان بھی متحرک ہوگئے

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا۔سیلابی صورتحال کے باعث صوبائی حکومت نے ڈی آئی خان ،ٹانک، دیر اور چترال میں تعلیمی ادارے بند کردئے گئے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اپر چترال میں 10 ، ٹانک میں 3، ڈی آئی خان میں 2 روز تعلیمی ادارے بندرہیں گے۔ فیصلہ کسی جانی نقصان سے بچنے کے لیے کیا گیا۔دوسری جانب خیبرپختونخوامیں 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے مزید 9 افرادجاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ شانگلہ،سوات اور دیراپر کی بند سڑکوں کو کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے کہا ہےکہ ہم کے پی میں سیلابی صورت حال سے نمٹنےکےلیےالرٹ ہیں تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف کامیاب پروگرام پر ضلعی انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    محمود خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کا سوشل میڈیا سیلاب کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، کے پی میں سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نالائق حکومت ہے، امپورٹڈ حکومت سے ملک نہیں چل پا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کو منشیات کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہم منشیات ترک کرنے والوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع دیں گے۔

    محمود خان نے کہا کہ ایس ایچ او اور انتظامیہ کو منشیات کی سپلائی چین کا پتہ ہوتا ہے، پولیس اور انتظامیہ اپنی اس خاصیت کو منشیات کی روک تھام میں استعمال کرے، تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں منشیات کے تدارک کا کام شروع کرے۔

  • مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    سندھ اور بلوچستان اور پنجاب سمیت ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی،ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات ہوچکی ہیں-

    باغی ٹی وی: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب کے باعث 14 جون سے اب تک ہونے والے نقصانات کے اعدادو شمار جاری کردیئے،۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 903افراد جاں بحق ہوئے-

    خیبرپختونخوا:بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں،12 اقسام کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے4لاکھ 95ہزار259مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا سیلاب سے ایک ہزار 293 افراد زخمی ہوئے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے،ہزاروں ایکڑ فصلیں اجڑ گئیں۔ سڑکیں بہہ گئیں، شہروں اور صوبوں کا آپس میں رابطہ کٹ گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں 230 افراد جاں بحق ہوئے۔سندھ 293افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پنجاب میں 164افراد لقمہ اجل بنےآزاد کشمیر میں سیلاب اوربارشوں سے 37افراد جاں بحق ہوئے۔گلگت بلتستان میں 9افراد سیلاب کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں 26ہزار 897 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا خیبر پختونخوا میں 15 ہزار117مکانات سیلاب اوربارشوں میں بہہ گئے پنجاب میں 84 ہزار106مکانات متاثر ہوئے سندھ میں 3 لاکھ 68 ہزار233 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا۔

    کراچی میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے آج اور کل ہونے والی بارش سے کراچی ملیر ندی میں طغیانی کی وجہ سے کورنگی کاز وے ایک بار پھر زیر آب آگئی طغیانی کی وجہ سے کئی بار کورنگی کازوے زیر آب آچکی ہے جس کی وجہ سے کازوے کی سڑک خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہےاور پھر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

    کے پی کے میں سیلاب سے تباہی،عمران خان کو جلسوں سے فرصت نہیں

    ٹریفک پولیس نے رکاوٹیں لگا کر کازوے کو بند کیا ہے اور ٹریفک کو متبادل راستے کی طرف موڑا جارہا ہے۔

    دوسری جانب سوئی سدرن گیس حکام کے مطابق بولان میں سیلاب کے باعث گیس پائپ لائن بہنے سے کوئٹہ سمیت کئی اضلاع کو گیس کی فراہمی بند ہوگئی بولان کے علاقے بی بی نانی میں گیس پائپ لائن ریلےمیں بہہ گئی جس سےکوئٹہ کوگیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    ایس ایس جی سی کے مطابق برساتی ریلے میں گیس پائپ لائن بہنے سے مچھ، زیارت، پشین، مستونگ اورقلات کو بھی گیس کی فراہمی بند ہوئی شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 24 انچ گیس کی پائپ لائن پہلے ہی بہہ چکی ہے بولان ندی میں پانی کم ہونےکے بعدگیس لائن کی مرمت میں کچھ دن لگ سکتے ہیں جب تک متبادل 12 انچ کی لائن سے گیس فراہم کی جارہی ہے۔

    ادھر بارش برسانے والا ایک اور مضبوط سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں بہہ جانے اور پل ٹوٹنے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے والا مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے جس کے باعث چمن شہر کےنواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں چمن میں کئی علاقوں کے برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہیں۔

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز…

    لیویز کنٹرول کے مطابق کوہ خواجہ عمران کے دامن میں سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوژئی کے دیہات کا 3 دن سے چمن شہر سے رابطہ منقطع ہے پشین، برشور، خانوزئی، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں گرج چمک کےساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ لورا لائی، ژوب، میختر، شیرانی، دکی اور زیارت میں بھی بادل خوب برس رہے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ بارش سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور امدادی کاموں میں بھی دشواری کا سامنا ہے قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں موسلادھار بارش کے باعث رابطہ سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    نئے طاقتور اسپیل نے بلوچستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں پھر سے سیلابی صورتحال بنا دی ہے، بالائی علاقوں میں سیلابی ریلوں سےکئی مکانات اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے ڈیرہ بگٹی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل میں تیز بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دل کھول کر امداد فراہم کریں، سراج الحق کی اپیل

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24گھنٹے کے دوران سندھ ،بلوچستان ،پنجاب ،خیبر پختونخوا میں بارش ہوئی،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے بعض مقامات پر بھی بارشیں ہوئیں،سب سے زیادہ بارش سندھ میں سکرنڈ 175، پڈعیدن 142، نوابشاہ میں 118ملی میٹر بارش ریکارڈ،ٹنڈو جام 92، میرپور خاص 87، بدین 81، خیرپور 71،چھور 70، حیدرآباد 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    منڈی بہاؤالدین 32، چکوال 26، منگلا 21، اسلام آباد سید پور 20، گولڑہ میں 9ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی ،سیالکوٹ ایئرپورٹ 49، سٹی 36، جہلم 47، کوٹ ادو 38 اور مری میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بنوں 10، چترال، بالاکوٹ 08، پتن میں5 ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی-

    کالام 17، دیر بالا 24، زیریں 11، مالم جبہ 20، دروش 13، پاراچنار 12 میں ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی میر کھانی میں 28ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ،خیبر پختونخوا میں ڈیر ہ اسماعیل خان ایئرپورٹ 54، سٹی 44، سیدو شریف 32، کاکول میں 23ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی زیرو پوائنٹ 8، بوکرا 7، ائیرپورٹ کے قریب2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    وزیراعظم نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر لندن کا دورہ منسوخ کر دیا

    کراچی،ناظم آباد، کیماڑی، جناح ٹرمینل 11، یونیورسٹی روڈ 10، ایم او ایس، مسرور بیس میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی سعدی ٹاؤن 19، نارتھ کراچی، صدر 18، فیصل بیس، اورنگی 17، گلشن معمار 14 ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی قائد آباد 27، گلشن حدید، گڈاپ ٹاؤن 24، سرجانی 23، کورنگی 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    لاڑکانہ 65، موہنجو داڑو، روہڑی 62، جیکب آباد 59،سکھر 42، دادو 39 اور مٹھی 25ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی نارووال 11 ، ملتان ایئرپورٹ 5، شہر 1، گجرات 3، جوہر آباد 2، لیہ، اٹک میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بھکر17، رحیم یار خان 16، ڈی جی خان 11، راولپنڈی شمس 11، کچہری 9، چکلالہ ایئرپورٹ پر 5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،خضدار 36، بارکھان 22، لسبیلہ 18 اورقلات میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی