Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    بیجنگ :چین کے شمال مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جہاں انتہائی موسمی حالات کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور بجلی بھی منقطع ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سیلاب درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران آتا ہے، متعدد شہروں میں سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان رہورٹ ہوا ہے۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ رواں ہفتے صوبہ کنگھائی کے ایک پہاڑی علاقے میں سیلاب آیا، جس سے 6 دیہات کے 6 ہزار 200 سے زیادہ شہری متاثر ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث سڑکیں کیچڑ سے ڈھکی ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر درخت اکھڑے گئے ہیں اور مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ ’18 تاریخ کو دوپہر تک، 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی کام جاری ہے’۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 20 کو بچا لیا گیا ہے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ‘فرنٹ لائن ہیڈکوارٹرز’ قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بچاؤ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے’، بدھ کی رات اچانک ہونے والی شدید بارش نے صورت حال میں مزید شدت آگئی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسم دیکھنے میں آرہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔

    جنوبی چین میں جون میں آنے والے شدید سیلاب نے نصف ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔چینی حکام نے خبردار کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت بیجنگ اور ہمسایہ ممالک تیانجن اور ہیبی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ میں حکام سے ‘سیلاب پر قابو پانے میں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے’ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا چین کے جنوب مغربی علاقے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیونکہ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام میں تعطل آگیا ہے۔

  • آخری سیلاب متاثرہ کو حق ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیرِ اعظم

    آخری سیلاب متاثرہ کو حق ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور مکمل بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مشترکہ سروے سب سے پہلے بلوچستان میں شروع کیا جائے .

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کے حوالے سے اہم جائزہ (follow up) اجلاس منعقد کیا گیا.اجلاس کو مشترکہ سروے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سروے میں سیلاب کے دوران جان بحق افراد، زخمیوں، تباہ شدہ گھروں، دکانوں، فصلوں اور ہلاک ہونے والے مویشیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائےگا. جس سے بحالی کے کاموں میں شفافیت، بہتری اور تیزی یقینی بنائی جا سکے گی.

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے طریقہ کار میں شفافیت یقینی بنائے گی. جب تک آخری سیلاب متاثرہ حقدار کو اسکا حق نہیں مل جاتا، چین سے نہیں بیٹھونگا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کہ متاثرین کو فوری مالی مدد NDMA کی نگرانی میں ڈیجیٹل طریقہ کار سے فراہم کی جائے. وزیر اعظم نے ان تمام اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یہ سروے سب سے پہلے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کیا جائےگا. جب کہ یہ سروے 20 اگست 2022 سے کو شروع کرکے اسکی تکمیل 22 ستمبر 2022 یقینی بنائی جائے گی. اسکے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے دی جانے والی فوری مالی امداد بائیو میٹرک کے نظام کے تحت تقسیم ہو گی جسکی نگرانی NDMA کرے گا.

    وزیر اعظم نے ان تمام اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، مفتاح اسماعیل، معاونِ خصوصی وزیرِ اعظم احد چیمہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر قمر الزمان کائرہ بزریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے .

  • ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے-

    باغی ٹی وی : – ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہےڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پر موسلادھار بارشوں سے بستی لتڑہ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا برساتی نالے مٹھوان کا سیلابی ریلا حفاظتی بند بہا کر لےگیا سیلابی ریلا بستی لتڑہ کی شہری آبادی میں داخل ہو گیا متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع ہو گئی۔

    ملک بھرکے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال سے ہزاروں متاثرین بے گھر

    آئندہ دو سے تین روز کے دوران تونسہ شریف اورکوہ سلیمان کے سلسلہ میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے جس سے ضلع بھر کے برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آسکتی ہےضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تمام اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، مزید کشتیاں تونسہ منگوالی گئی ہیں۔

    برساتی ندی نالوں سے ملحقہ آبادیوں کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی، بیشتر خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ بیشتر خاندان سڑکیں اور رابطہ پل بہہ جانے کی وجہ سے پیدل اور اونٹوں کے ذریعے ضروری سامان سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔

    وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 5 مکانات اور 3 بجلی گھر شدید متاثر،5 افراد…

    سیلاب نے تونسہ شریف میں تباہی مچا دی ہے متعدد بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں۔ سیلابی ریلے میں سب سے زیادہ نقصان تونسہ شریف کے مغرب میں آباد تاریخی قصبے “منگڑوٹھہ” میں ہوا سینکڑوں مکانات اور مال مویشی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئے-

    اسسٹنٹ کمشنر تونسہ کے مطابق فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو تین وقت کھانا اور رہائش دی جا رہی ہے، تاہم کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں ۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش:19 اگست تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    کراچی :شہر قائد میں ایک بار پھر طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 19 اگست تک جاری رہے گا،ادھر کراچی میں منگل کو بارش کا آغاز گلشن معمار، پورٹ قاسم، گلشن حدید اور اطراف کے علاقوں سے ہوا جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں کو بھی بتدریج بارش شروع ہوگئی۔

     

    کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں دن بھر وقفے وقفے سے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رواں برس موسم برسات میں غیر معمولی بارشوں کے باوجود انتظامیہ بدستور صرف دعوے ہی کرتی نظر آرہی ہے۔ شہر کی تمام اہم سڑکیں دور افتادہ علاقوں کے کچے راستوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھوں اور کھلے مین ہولز کی بدولت عوام کو شدید مشکلاتے کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھارتی ریاست راجستھان میں موجود ہوا کے کم دباؤ کی بدولت منگل کی شام سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے نئے اسپیل سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں 19 اگست جب کہ بلوچستان کے شمال مشرقی اور ساحلی اضلاع میں 20 اگست موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، جس سے نشیبی علاقے زیر آب اور مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

    کراچی بارشیں:عروہ حسین حکومت کے خلاف بولنے والوں برہم

    ادھرکراچی میں سرجانی ٹاؤن گرین بس سٹاپ کے قریب چار منزلہ بلڈنگ گر گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    کراچی بارشیں، شہری برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں اور کھمبوں سے دور رہیں، کے…

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گرین بس سٹاپ کے قریب واقع چار منزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔

    ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر 11 افراد کو زخمی حالت میں ملبے سے نکالا، زخمیوں کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے ایک شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید عمارت گرنے والے ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ پر آپریشن جاری ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل  طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے وزیراعظم ہاوس میں ہو گا،ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اہم سیاسی اور معاشی فیصلے لیے جائیں گے ،اجلاس میں ضمنی انتخابات اور دوست ممالک کے دوروں پر مشاورت ہو گی،پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ تحقیقات پر بھی بات چیت ہو گی.

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کیلئے 7 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی اور نقصانات پر بریفنگ دی جائے گی ،کابینہ کے اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کی منظوری دی جائے گی .

    کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت
    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایگری کلچر ٹاسک فورس کا ایک اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں ایگری کلچر ٹاسک فورس کی جانب سے ملک میں زراعت خصوصاً گندم، خورنی تیل کے بیج اور کپاس کی کاشت کی استعداد ، مسائل اور ان مسائل کے حل کی تجاویز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ معیاری بیج کی عدم دستیابی ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب عدم توجہی اور کسانوں کو آسان قرضوں کے حصول میں مشکلات زراعت کے شعبے کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں.

    اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہمارے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں زراعت جسے اہم شعبے کی نظر انداز کیا گیا یہی وجہ ہے کہ جن فصلوں میں ہم خود کفیل تھے انہیں آج درامد کرنا پڑ رہا ہے . وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دیگی;اس سلسلے میں وزیرِاعظم نے ہدایت جاری کی کہ ایگریکلچر ریسرچ کے اداروں میں میریٹ پر ہیومن ریسورس کی بھرتی کے لیے اقدامات کیے جایئں. وزیرِ اعظم نے کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں ہم نے پنجاب کے کسانوں کو آسان قرضے دیے جن کا ریکووری ریٹ بہترین تھا .

    وزیرِ اعظم نے زراعت کے شعبے کے مسائل کے حل اور اسکی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٨ ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت بھی جاری کی. جن میں خورنی تیل ، گندم ، کپاس ، ایگریکلچر فنانسنگ ,harvesters and mechanization ، زرعی ریسرچ انسٹیٹوٹس کی بحالی اور زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ورکنگ گروپس شامل ہیں.اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بھی شرکت کی .

    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 3 دن کے اندر 50 ہزار روپے فی خاندان امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تمام متاثرہ گھرانوں کو 30 ہزار کی بجائے 50 ہزار روپے فوری طور پر فراہم کئے جائیں.

    غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے. وزیراعظم

    وزیراعظم کی ہدایت کی کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 50 ہزار کیش کی رقم NDMA کی سرپرستی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرے. ویرِاعظم کا کہنا تھا کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کو شفاف رکھا جائے،کیش امداد کی فراہمی الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ حق دار کو اسکا حق ملے،وزیرِ اعظم کی ہدایت کی کہ50 ہزار کیش امداد کی تقسیم کا لائحہ عمل فلڈ ریلیف کوارڈینیش کمیٹی آج شام تک طے کرکے رپورٹ پیش کرے.

    عمران خان اپنی جماعت میں کسی کوضمنی انتخابات لڑنے کا اہل نہیں سمجھتے؟ شیری رحمان

     

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے ساتھ مشترکہ سروے کو 5 کی بجائے 3 ہفتوں میں مکمل کیا جائے، صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بروقت امداد کیلئے NDMA سے جلد از جلد مشترکہ سروے سے متعلق تعاون اور تاریخوں کے حوالے سے رابطہ یقینی بنائیں، یہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کوششوں کا حصہ بنیں، تاہم وفاقی حکومت اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کو یقینی بنائے گی.

    وزیرِ اعظم کی ہدایت وفاقی وزیرِ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے آگاہی مہم کیلئے جامع پلان مرتب کریں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مرتضی جاوید عباسی، مولانا اسد محمود، مشیرِ وزیرِ اعظم قمر الزمان کائرہ، چیئرمین NDMA لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. وفاقی وزیرِ ہاؤسنگ مولانا عبدالواسع، وزیرِ اعلی بلوچستان عبدلالقدوس بازنجو، رکنِ بلوچستان اسمبلی ثناء اللہ بلوچ کی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بارشوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے سیلاب سے ہوئے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے اشتراک سے سروے اس سلسلے کے بعد شروع کیا جائے گا. اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے کی تکمیل تک حکومت BISP کے تحت متاثرہ خاندانوں کو 30 ہزار روپے کا فوری ایمرجنسی کیش ریلیف فراہم کرے گی. جس پر وزیرِ اعظم نے ریلیف کی رقم کو 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کرنے اور NDMA کو اس آپریشن کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت بین الاقوامی ڈونرز اور دیگر فلاحی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے. اس سلسلے میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک ADP اور ورلڈ بنک نے حکومت کو ایمرجنسی ڈزاسٹر ریلیف فنڈ کے تحت سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور بحالی کیلئے ضروری فنڈز مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے. اسکے علاوہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی ٹیمیں بھیجی جا چکی ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں میں نقصان کا تخمینہ لگا رہا ہے.

    اجلاس کو وزیرِ اعلی بلوچستان اور صوبائی چیف سیکٹری کی طرف سے بلوچستان میں جاری بارشوں کے حالیہ سلسلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان اور صوبائی حکومت کے متاثرین کیلئے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا.

  • حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    راولپنڈی:حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی ،اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 547 فٹ تک بلند ہوگئی۔

    ارسا حکام کے ڈیم میں 56لاکھ ایکڑفٹ پانی ذخیرہ ہوچکا ہے جس کا مطلب کے ڈیم 99.8فیصد پانی سے بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں 1550فٹ پانی کی گنجائش ہے۔

    حکام کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی آمد2 لاکھ40 ہزار کیوسک ہے۔ ڈیم سیفٹی کےلئے یومیہ ایک فٹ سے بھی زیادہ بھرنا خطرناک ہوگا۔حکام کے مطابق مطابق گندم کی بوائی کے لئے تربیلہ ڈیم کا اسٹورشدہ پانی نہایت مفید ہوگا۔

    دوسری جانب سیلاب سے تباہ حال بلوچستان پھر مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے، کوہلو میں طوفانی بارش کےباعث سیلابی صورتحال کے باعث کئی کچے مکانات گرگئے۔

    کوہلو-کوئٹہ قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثرہوگئی، طوفانی بارش اور سیلاب کے سبب جشن آزادی کی مرکزی تقریب ملتوی کردی گئی۔قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے سے دو سو سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، تین روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

    توبہ اچکزئی میں موسلادھاربارشوں کے بعد ریلے میں بہہ کر دو افراد جاں بحق، بارکھان، رکھنی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، دھانا سر، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    چمن کے بالائی علاقوں کوژک ٹاپ، شیلاباغ پر موسلادھار بارش، راجن پور شہراورگردونواح کے ساتھ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث میدانی اور پچھاد کے علاقے پھر سے ڈوبنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • پنجاب میں سیلاب کا خدشہ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا

    پنجاب میں سیلاب کا خدشہ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا

    لاہور: پنجاب میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چودھری پرویزالٰہی نے اداروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ راجن پور اور ڈی جی خان کے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ رود کوہیوں کو کنٹرول کرنے کے لانگ ٹرم منصوبے پر جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلیف کیمپوں میں ضروری سہولتیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں اور دریائے راوی، چناب، جہلم کے کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی بارشوں کو تسلسل سے مانیٹر کیا جائے۔

    وزیر اعلیٰ نے پی ڈی ایم اے، ریسکیو1122، انتظامیہ اور پولیس کو ایمرجنسی فلڈ پلان کو اپ ڈیٹ کرنے کا حکم بھی دیا۔ پرویز الہی نے کہا کہ ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر تمام تیاریاں اور انتظامات مکمل رکھے جائیں، ان تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے میں جلد ہی خود ان علاقوں کا دورہ کروں گا۔

    دوسرئ طرف وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پاکستان کے 75ویں یوم آزادی پر بڑا تحفہ دیتے ہوئے صوبے میں گریجوایشن تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کردیا۔

    چودھری پرویز الٰہی نے ملی نغمے گانے والی خصوصی بچیوں کیلئے تین لاکھ روپے، لیڈ سنگر کیلئے 50 ہزار اور پولیس بینڈ کیلئے 1لاکھ روپے اور سکاؤٹس کے لئے 2 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پہلے میٹرک تک تعلیم فری کی، اب گریجوایشن تک تعلیم کو فری کرینگے، خصوصی بچوں کے اداروں اور سپورٹس سہولتوں میں اضافہ کرینگے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، سپہ سالار کی قیادت میں پاک فوج کی ملک سے دہشتگردی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے خدمات قابل تحسین ہیں، ہمیشہ عزت و احترام کا قائل رہا ہوں، افسروں کی عزت میں اضافہ کیا ہے، پہلے احترام پھر کام، پنجاب کو مثالی صوبہ بنائینگے۔

  • تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی

    تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی

    ڈیرہ غازی خان :تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن : سویلین حکام نے فوج سے ہیلی کاپٹر مانگ لئے،اطلاعات کے مطابق تونسہ میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، ڈی جی خان نے فوج سے ہیلی کاپٹر مانگ لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق تونسہ میں سیلاب نے اپنے راستے میں آنے والی بستیوں کو نشانہ بنایا، شدید بارشوں و سیلاب سے بستی مندرانی اور بستی کیچل میں سیکڑوں لوگ پھنس گئے۔

    شہریوں میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہے، فوج فوری طور پرعملہ سمیت ایک عدد ہیلی کاپٹر فراہم کرے۔ڈی جی ڈیرہ غازی خان نے کورپس 2 کنٹونمنٹ ملتان کو خط لکھ دیا ہے۔

    ڈیرہ ۔ رودکوہی سیلابی ریلے سے حفاظتی بند ٹوٹ گیا،تباہی مچ گئی

    بلوچستان میں سیلابی صورتحال
    دوسری جانب پروونشل ڈیزاسٹر میجنمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق آج سے 16اگست تک پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھاربارش جب کہ 18اگست تک ڈی جی خان کے برساتی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے متعلقہ تمام اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ندی نالوں میں پانی کی سطح کا جائزہ لیا جائے۔

    وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے تباہی پراظہارافسوس

    علاوہ ازیں بلوچستان میں بارشوں کے نئے اسپئیل کے بعد سبی وگردونواح می وقفے وقفے کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد سبی شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارشوں نے مزید سیلابی صورت حال پیدا کردی جبکہ ندی نالوں میں بھی طغیانی آگئی ہے۔

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    قلعہ عبداللّٰہ میں پانی کے دباؤ سے تین ڈیم ٹوٹ گئے اور سیلابی ریلے مختلف علاقوں میں داخل ہوگئے جس کے باعث لوگ پھنس گئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پیر علی زئی گاؤں میں 25 بچوں کو سیلابی ریلے سے نکال لیا گیا جبکہ سیلاب سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    مون سون کے پے درپے اسپیل، موسلا دھار بارشوں نے سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچادی، تھر پارکر اور بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق، قلعہ عبداللہ میں ڈیم ٹوٹ گیا، سیلابی ریلے میں ٹریکٹر ٹرالی اور بجلی کے درجنوں پول بہہ گئے جب کہ 2 افراد چل بسے، 20 لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

  • وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے تباہی پراظہارافسوس

    وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے تباہی پراظہارافسوس

    اسلام آباد:وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے تباہی پراظہارافسوس،اطلاعات کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے لسبیلہ، اوتھل، بارکھان، لورلائی، قلعہ عبداللہ،موسیٰ خیل، شیرانی،ڈیرہ بگٹی، کوئٹہ، مسلم باغ،قلعہ سیف اللہ،اورکزئی، دولت زئی، اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں حالیہ بارش اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

     

    سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اورخیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کا امکان

    چیئرمین سینیٹ نے ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ریسکیو حکام کو ہدایات جاری کیں کہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کریں اور تمام رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اورنشیبی علاقوں کی آبادیوں کی محفوظ جہگوں پر منتقلی کے لیے انتظامات کیے جائیں۔چیئرمین سینیٹ نے سیلابی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فوج اور صوبائی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔

    چیئرمین سینیٹ نے سیلابی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔چیئرمین سینیٹ نے حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔

    سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اورخیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کا امکان

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں حالیہ بارش اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

    دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں آنے والے سیلاب اور بارشوں کے باعث امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔

    بلوچستان کے ضلع قلعہ عبد اللہ سمیت صوبے بھر میں ہونے والی حالیہ بارشیں اور سیلاب کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    بارشوں اورسیلاب سے تباہ حال بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے

    شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان حکومت کو امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے حوالے سے فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم نے قلعہ سیف اللہ میں سیلاب سے دو بند ٹوٹنے اور نقصان کے مکمل تخمینے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ قوی امکان ہے شہباز شریف جلد ضلع قلعہ عبد اللہ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

    اس دوران انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے، سیلاب متاثرین کی رہائش کیلئے خیمہ بستیاں اور کھانے پینے کی اشیاء کا فوری انتظام یقینی بنایا جائے۔

  • بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    کوئٹہ:بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، طوفانی بارش نے ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں تباہی مچادی، اوتھل میں لُنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، کوئٹہ سے کراچی جانے والا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افرد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ، بارکھان، دکی، زیارت، سنجاوی اور چمن میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں طوفانی بارش کے باعث کئی علاقے زیرآب آگئے، آرگس گاؤں، سلطان آباد، جان آباد، شین خڑ کے علاقوں میں سیلابی پانی نے تباہی مچادی۔

    متاثرین کا شکوہ ہے کہ سیلاب نے پورے پورے گاؤں تباہ کردیئے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا، حکومت متاثرین کی فوری مدد کرے۔اوتھل میں لنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، سیلابی ریلے کے باعث قومی شاہراہ بند اور ٹریفک معطل ہوگئی۔

    کمشنر قلات داؤد خلجی کا کہنا ہے کہ لنڈا ندی پل سیلابی ریلے میں بہہ چکا ہے، عوام کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

    دوسری طرف پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 6 مزید افراد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی، 18 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکام کا کہنا ہے حالیہ بارشوں کے بعد مثاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔