Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • بلاول بھٹو  اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ،بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا –

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فلڈ کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے فعال ہے اور تمام اداروں کے نمائندے وہاں موجود ہیں،تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے اور 2 یا 3 ستمبر کو سیلابی ریلا پنجاب سے سندھ میں داخل ہوگا ان کے مطابق سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ 16 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہیں، 192 ریسکیو بوٹس اور دیگر انتظامات مکمل ہیں ایمرجنسی کی صورت میں شہری 04199222962، 02199222902 اور 02199222758 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا جبکہ ضلعی انتظامیہ ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بروقت منتقلی یقینی بنا رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، پاکستان کا کاربن ریشو صرف ایک فیصد ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا

  • دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں  391 موضع جات متاثر

    دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں 391 موضع جات متاثر

    لاہور:پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی،جبکہ،سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں-

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تین دریاؤں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

    سینئیر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے، سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے،ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔

  • ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دریائے ستلج میں سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    دریائے ستلج میں بھارتی آبی جارحیت کی انتہا ہو گئی، دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، پاکپتن میں سیلاب کے باعث سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیاسیلاب کے پیش نظرکئی دیہات کو خالی کروا لیا گیا، قصور کے علاقے میں دریائے ستلج میں سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، پولیس اور انتظامیہ متحرک رہی، ڈی پی او قصور اور ڈپٹی کمشنر رات بھر تلوار چیک پوسٹ پر موجود رہے۔

    چشتیاں کے نواحی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور 50 کے قریب بستیاں زیرآب ہوگئیں،بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔

    بنوں: دہشتگردوں کا تھانے پرحملہ ناکام بنا دیا گیا

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کشتیوں اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال رہی ہیں جبکہ کئی مقامات پر فصیلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ کماد اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں صبح تک مزید اضافے اور مزید بند ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور اعلانات کے ذریعے عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے انتظامیہ نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل مکانی کریں اور سیلابی صورتحال میں تعاون کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے، قصور کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اب کمی آنا شروع ہو گئی ہے، صورتحال ابھی بھی غیر معمولی ہے، آج شام ملتان کے علاقے میں بڑا سیلابی ریلا داخل ہوگادریائے راوی، دریائے چناب اور دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث سینکڑوں دیہات زیر آب ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہو ئے ہیں جبکہ اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔

    جلالپور پیروالا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے، پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے چناب کا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی جانب بڑھ رہا ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پرپانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    سیالکوٹ میں موسلا دھار بارش، شاہراہیں اور گلیاں دوبارہ ڈوب گئیں

    دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے،دریائے راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے،بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

    شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

    شانگلہ: دراد علاقے کے 57 سالہ چرواہے شیر ملک نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچایا-

    شانگلہ کا ضلع حالیہ بارشوں اور طوفانی سیلاب سے بدترین متاثر ہوا ہے جہاں 36 افراد جاں بحق ہوئے۔صرف پورن تحصیل میں اب تک 31 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کے مطابق خواڑ بانڈہ اور شاتی درہ میں لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے دراد علاقے کے 57 سالہ چرواہے شیر ملک نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچایا۔

    یہ واقعہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب ان کے قریبی ہمسایہ گھر میں خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار سنائی دی اس گھر میں کوئی مرد موجود نہ تھا اور مکان چاروں طرف سے سیلابی پانی میں گھرا ہوا تھاشیر ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے بچوں کو نکالا اور پھر خواتین کو اپنے گھر منتقل کیا،اسی دوران ہمسایوں نے ان سے مویشیوں کو بچانے کی درخواست کی، جس پر وہ دوبارہ پانی میں گیا لیکن ایک بکری کو نکالتے وقت مکان کی چھت گر گئی اور چرواہا ملبے تلے دب گیا۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    چھت لوہے کی چادروں کی بنی ہوئی تھی جس سے ان کا ہاتھ کٹ گیا وہ تقریباً 3 گھنٹے تک پانی کے بیچ ملبے میں پھنسے رہے مگر بالآخر بڑی جدوجہد کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوگئے بعدازاں مقامی لوگ اور رشتہ دار انہیں پشاور اسپتال لے گئے جہاں سرجری کے بعد ان کا ہاتھ کاٹنا پڑا ان کا کٹا ہوا ہاتھ بعد میں ملبے سے برآمد ہوا۔</strong

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    شیر ملک نے کہا کہ ایک مسلمان اور انسان ہونے کے ناطے وہ ہمسایوں کی جانیں بچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، ورنہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح سیلاب کی نذر ہوجاتے جو پانی میں بہہ گئےحادثے کے بعد مقامی افراد ان کی مدد فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ان کی بہادری کو سراہنے والے شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مشکل وقت میں انہیں مالی امداد دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ سنبھال سکیں۔

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

  • دریائے راوی میں سیلاب کا الرٹ جاری

    دریائے راوی میں سیلاب کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے نے مزید بارشوں کی صورت میں دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کی شدت کا الرٹ جاری کردیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق 30 اگست تا 3 ستمبر دریائے راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشیں اور تھین ڈیم سے پانی کا اخراج متوقع ہے اور سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے راوی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوجائے گادریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت تقریباً 1لاکھ47 ہزار کیوسک کا بہاؤ موجود ہے، 2 سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا جہاں 1لاکھ 25 ہزار سے1لاکھ 50ہزار کیوسک تک بہاؤ متوقع ہے، سدھنائی کے مقام پر یہ سیلابی ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

    دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور کے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں لاہور سٹی اور رائیونڈ شامل ہیں، قصور، پتوکی، اوکاڑہ، رینالہ خورد، ڈیپالپور، گوگرا، تانڈیانوالہ، کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی کے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں،دریائے چناب میں اس وقت چنیوٹ پل پر 8لاکھ 55ہزار کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں، ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھیں اور اہم دستاویزات محفوظ کریں، مزید رہنمائی کے لیے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کریں۔

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

  • فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل نےا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ،کیا-

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں بشمول سیالکوٹ سیکٹر، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور کا دورہ کرتے ہوئے عوام کی خدمت پر ریسکیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کی،آرمی چیف کو اس موقع پر موجودہ سیلابی صورتحال اور آئندہ بارشوں کے سلسلے میں تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    فیلڈ مارشل نے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا اور فوجی جوانوں و سول انتظامیہ کی مربوط اور انتھک کاوشوں کو سراہاانہوں نے سیالکوٹ سیکٹر میں متاثرہ سکھ کمیونٹی سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ سیلاب کے دوران متاثرہ تمام مذہبی مقامات بشمول دربار صاحب کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کیا جائے گا،اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے، پاکستان اس فریضے کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    سکھ برادری نے آرمی چیف کا پرجوش خیر مقدم کیا اور سیلاب کے دوران سول انتظامیہ و فوج کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے دربار صاحب کرتارپور کا فضائی جائزہ بھی لیافیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کی بروقت اور فعال حکمتِ عملی کو سراہا جس سے قیمتی جانوں اور املاک کے نقصانات کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملی۔

    سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے ان کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مشکل حالات میں عوام کی خدمت پر انہیں سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد پر کور کمانڈر گجرانوالہ نے ان کا استقبال کیا۔

    سائبر کرائم ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ

  • سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث جہاں پنجاب میں سیلابی صورت حال ہے وہیں دریائے سندھ میں بھی گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم پانی سے مکمل بھر گیا ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش بھی 1550 فٹ ہی ہےمنگلا ڈیم بھی 1222 فٹ تک بھر گیا ہے جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1242 فٹ ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا جبکہ زیریں کیچمنٹ ایریا جیسے راولپنڈی ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی،دریائے جہلم کے کیچمنٹ ایریا خشک رہیں گے جبکہ دریائے چناب کے اپر اور زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےدریائے راوی میں لاہور ڈویژن کے زیریں کیچمنٹ ایریا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ دریائے ستلج کے زیریں اور اپر کیچمنٹ ایریا میں موسم خشک رہے گا۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ تونسہ، گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر 4 اور 5 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گادریائے کابل میں پانی کی سطح سیلاب کے لیول سے کم ہے جبکہ دریائے چہلم میں منگلا اور رسول کے مقام پر پانی کی سطح سیلاب کے درجے سے نیچے ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ مرالہ اور تریمو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر پانی کا لیول سیلاب سے کم ہے دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اونچے جبکہ شاہدرہ اور بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گاجبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹے میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی،دریائے چناب میں تریمو کے مقام پر 29 اگست کی شام انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گا جبکہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔

  • 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ  کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔

    https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1960974633647092209

    مریم نواز نے کہا کہ شدید ترین بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سیلابی صورتحال ہے، یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، بھارت نے اپنے ڈیم بھر جانے سے پانی چھوڑا تمام ادارے مکمل الرٹ تھے، انتظامیہ نے بہترین دن رات کام کیا ہے، ریسکیو، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اچھا کام کیا،نارووال، گجرات، سیالکوٹ میں صورتحال بہت خراب ہے، تمام متعلقہ اداروں سے آئندہ سال کے لیے سیلاب سے بچاؤ اور نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبہ طلب کرلیا ہے۔

    سندھ میں سیلابی صورتحال، حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے،شرجیل میمن

    مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعظم نارووال گئے ہیں، کمشنرز، ڈی سی نے دن رات کام کیا اگر تیاری نا ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے ہمارے لیے ہر جان قیمتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا یہ سیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے، لوگوں کے مال مویشیوں کو منتقل کیا، اللہ نے بڑے نقصان سے بچایا ہے جو بھی نقصان ہوا ہے ، مجھے اس پر افسوس ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ بھارت میں بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کا لیول بھر گیا تو انہوں نے اپنے ڈیمز کے اسپل ویز کھولے، جس سے ہمارے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، پنجاب کے 3 دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، پنجاب میں بارشیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں،ہم اپنے متاثرہ عوام کے ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کریں گے، میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے،اس چیز پر کام کر رہے ہیں کہ سیلابی پانی کو کس طرح ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اب پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو رہا ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے چاہئیں۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا فضائی جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو سیلابی صورتحال اور ریسکیو آپریشن سے متعلق بریف کیا گیا۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی، آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے-

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔

    اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

    فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

    https://x.com/GovtofPunjabPK/status/1960961380531781790

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق: پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے،نارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے کہا کہ 39 ہزار 638 افراد کو مختلف اضلاع سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جن میں سیالکوٹ، سرگودھا، چنیوٹ، گوجرانوالہ، ننکانہ، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، گجرات، لاہور، نارووال، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور اور لودھراں شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں۔

  • ہیڈ قادر آباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند توڑ دیا گیا

    ہیڈ قادر آباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند توڑ دیا گیا

    دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے، بیراج کو بچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کی موجودگی میں حفاظتی بند توڑ دیا۔

    بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث دریائے ستلج، راوی اور چناب بپھر گئے ہیں جبکہ آبپاشی اسٹرکچر کو بچانے کے لیے دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے منڈی بہاؤالدین میں نقصان کا خدشہ ہے۔

    بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہےدریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے سے گنڈا سنگھ کے قریب 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہےنارووال کے نالہ بئیں کا برساتی پانی آبادی میں داخل ہوگیا جہاں سے 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔ اسی طرح ظفروال میں پانی تیز بہاؤ کے باعث پل بہہ گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    https://x.com/ghazanfarabbass/status/1960625971964322141

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رائٹ ڈاؤن اسٹریم بند میں بارودی مواد نصب کرکے شگاف ڈالا گیا، جس کے بعد منڈی بہاؤالدین کی آبادیوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہیڈ ورکس کی موجودہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک ہے جبکہ اس وقت پانی کا بہاؤ 9 لاکھ 35 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہےموجودہ سیلابی صورتحال 2014 کے بعد سب سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرگئی ہے، جب ساڑھے 9 لاکھ کیوسک پانی قادر آباد سے گزرا تھاماضی میں بھی یہ دریا اطراف کی آبادیوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا چکا ہے۔ 2014 میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے نے لاکھوں ایکڑ اراضی زیر آب کرنے کے ساتھ ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا تھا۔