Baaghi TV

Tag: سیکیورٹی

  • اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

    نجی خبررساں ادارے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں،احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

    ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔

  • وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    پشاور: وزیر اعلی ہاؤس خیبر پختونخوا سے معلومات لیک ہونے کے معاملے پر سی ایم ہاؤس کے 80 اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تعینات عملے کو تبدیل کیا گیا یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اندرونی معاملات اور حساس معلومات کے مسلسل لیک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا،سپیشل برانچ کا عملہ طویل عرصے سے ایک ہی جگہ تعینات تھا جس کے باعث اندرونی سرگرمیوں کی تفصیلات باہر پہنچ رہی تھیں، بعد ازاں جاری کیے گئے ایک اور اعلامیے میں فرنٹیئر ریزرو پولیس کے اہلکاروں کی بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی۔

    53 اہلکار اسپیشل برانچ اور 27 اہلکار ایف آر پی کے تبدیل کر دیے گئے ذرائع سی ایم ہاؤس کے مطابق پولیس لائن اور سیکیورٹی یونٹ سے نئے اہلکار سی ایم ہاؤس تعینات کر دیے گئے ہیں،عید سے قبل ٹرانسفر ہونے والے اہلکار الاؤنس سے بھی محروم ہوگئے-

    دبئی، کویت اور دوحہ میں میزائل اور ڈرون حملے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں، حکام کے مطابق نئے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے، اور اب یہ عمل موجودہ قیادت اور ان کی ٹیم خود نگرانی میں مکمل کرے گی تاکہ معلومات کے اخراج کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد وزیر اعلیٰ ہاؤس کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، انتظامی امور کو بہتر کرنا اور حساس معلومات کی مکمل رازداری کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں سکیورٹی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے سپیشل برانچ اور فرنٹیئر ریزرو پولیس (ایف آر پی) کے اہلکاروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ایران کے اسرائیل پر 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

  • میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، سہیل آفریدی

    میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، سہیل آفریدی

    اسلام آباد:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر ردعمل دیا ہے۔

    گزشتہ روز، علی امین گنڈا پور نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا تھا،علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی گزشتہ روز چیف سیکیورٹی افسر کے حکم سے واپس لی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن اور ڈرائیور سمیت 14 افراد کا اسٹاف تھا، ڈی آئی خان ایک حساس علاقہ ہے اور مجھے پہلے سے تھر یٹ الرٹس ہیں، یہ تھرٹ الرٹس بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور حکومت میں دہشت گردی کے حوالے سے مؤثر پالیسی کے باعث ملی ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ یہ جھوٹ ہے اور کسی سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی، میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، اگر کوئی نان ایشو کو ایشو بنا کر خبروں میں رہنا چاہتے ہیں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔

    کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    دوسری جانب، خیبر پختونخوا پولیس نے بھی سیکیورٹی واپس نہ لینے کی تصدیق کر دی،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس 77 پولیس اہلکار موجود ہیں، علی امین گنڈا پور کی رہائش گاہ پر پولیس سیکیورٹی ونگ کے 58 اہلکار اور ایف آر پی پولیس کے 12 جوان بھی تعینات ہیں، علی امین گنڈاپور کے بنگلے پر ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے بھی 7 جوان تعینات ہیں۔

    عدالت کے حکم پربزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے شوہر کے حوالے کردیاگیا

  • وزیر داخلہ سندھ کی شبِ برات کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیر داخلہ سندھ کی شبِ برات کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت دی ہے کہ شبِ برات کے موقع پر صوبہ بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ مذہبی اجتماعات، محافلِ شبِ برات اور کھلے مقامات پر اضافی نفری اور موبائل گشت بڑھایا جائے ممکنہ حسا س مساجد اور امام بارگاہوں پر اسنیپ چیکنگ، واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹر کے استعمال کو یقینی بنایا جائے مزارات اور درگاہوں پر آنے والے زائرین کی سہولت اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا جائے-

    ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کھلے میدانوں اور قبرستانوں میں ہونے والی عبادات کے دوران بھی مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور کوآرڈی نیشن برقرار رکھا جائے کنٹرول رومز کو شبِ برات کے دوران 24 گھنٹے فعال رکھا جائے،کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ردعمل اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایاجائےاور ٹریفک پولیس کو مذہبی مقامات اور بڑے اجتماعات کےاطراف ٹریفک مینجمنٹ پلان نافذالعمل کیا جائے۔

  • کوئٹہ سے چلنے والی تمام ٹرینیں معطل

    کوئٹہ سے چلنے والی تمام ٹرینیں معطل

    سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلنے والی تمام ٹرینیں معطل کر دی گئیں۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینیں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں ٹرینوں کی معطلی کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفر ایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین کو معطل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک لیا گیامتاثرہ مسافروں کو ان کے ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کی جائے گی جبکہ ٹرین سروس کی بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 29 جنوری 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں کارروائی کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ پنجگور میں بھی 11 دہشت گرد مارے گئے تھےسیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    کراچی:محکمہ داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس کر دی۔

    ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس کر دی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ  پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر تنقید کے باعث پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہےسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔

    سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ایم کیو ایم رہنما رکن اور قومی اسمبلی حسان صابر نے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی سیکیوریٹی واپس لے لی گئی ہے،اس دوران کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی،سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ ان پر تنقید بھی نہ کی جائے،سیکیورٹی واپس بلانےکی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید ایک وجہ ہو، کچھ بھی ہو ہم سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے-

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نا ملنے پر بہنوں کا جیل کے قریب دھرنا

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نا ملنے پر بہنوں کا جیل کے قریب دھرنا

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نا ملنے پر بہنوں نے جیل کے قریب دھرنادے دیا-

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن ہے، تاہم جیل انتظامیہ نے ابھی تک کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی، جس کے خلاف علیمہ خان اور دیگر نے جیل کے قریب دھرنا دے دیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے آج کارکنوں کو کال دی تھی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں، تاہم انتظامیہ نے اس تناظر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کررکھی ہے، اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

    
پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، عمران خان چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے: بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر بتایا کہ انہیں بحریہ ٹاؤن کے فوراً بعد پولیس نے ناکے پر روک لیا ہے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار نے بھی سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ رکشے پر سوار ہو کر کٹھن اور دشوار راستوں سے اڈیالہ جیل کی جانب روانہ ہو چکی ہیں،سفر کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، عمران خان کی خاطر یہ جدوجہد نہیں رکے گے-

    شمالی وزیرستان میں پولیو کا کیس رپورٹ

    واضح رہے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے عمران خان سے ملاقاتیں بند ہیں، اور حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی کو بھی جیل میں بیٹھ کر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ماس سے قبل عمران خان کی بہنیں کارکنوں کے ساتھ جیل کے باہر دھرنا دیتی رہی ہیں-

    اجیت ڈوول نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

  • نیو ایئر نائٹ پر پنجاب پولیس ہائی الرٹ، سخت سیکیورٹی انتظامات

    نیو ایئر نائٹ پر پنجاب پولیس ہائی الرٹ، سخت سیکیورٹی انتظامات

    نیو ایئر نائٹ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انور نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے سال نو کی آمد پر صوبہ بھر میں 25 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کیمطابق سیکیورٹی ڈیوٹی پر 419 انسپکٹرز، 1267 سب انسپکٹرز، 2189 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 1408 ہیڈ کانسٹیبلزاور16 ہزار 977 کانسٹیبلزودیگراہلکار تعینات کیے گئے ہیں، صرف لاہور میں 5 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکارمختلف مقامات پرفرائض انجام دیں گے۔

    سونے کی قیمت میں مزید کمی

    آئی جی پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ صوبہ بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی جبکہ ملک دشمن اور شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھی جائےنیو ایئر نائٹ پرون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش اورہلڑبازی کی ہرگز اجاز ت نہیں ہو گی، خواتین اور شہریوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کو فوری طور پرحراست میں لیا جائے گا۔

    ڈاکٹر عثمان انور نے ٹریفک کے مربوط انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے، ڈولفن اسکواڈ، پیرو، ایلیٹ فورس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کی ٹیمیں سڑکوں اور شاہراہوں پر گشت بڑھائیں گی،سی سی پی او لاہور، آر پی اوزاورڈی پی اوزکوامن و امان کی فضا برقراررکھنے کے لئے انتظامات کی خود نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن ریٹائر

    آئی جی پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر 15 پردیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

  • ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن واپس

    ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن واپس

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

    ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو سیکیورٹی دینے سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے دوسرا وضاحتی اعلامیہ جاری کردیااعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ججز کی بیوائیں صدارتی آرڈر کے تحت سکیورٹی پروٹوکول میں شامل نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کی حد تک نوٹیفکیشن واپس لیا جاتا ہے،تاہم ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے فیصلہ برقرار رہے گا۔

    13 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق جاری مراسلے پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی وسائل کے دانش مندانہ استعمال کے عزم کے تحت چیف جسٹس کی سیکیورٹی کو معقول بنایا گیا ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روک دیا

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے پروٹوکول میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 8 سے کم کرکے 2 کر دی گئی ہےصدارتی حکم کے مطابق ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں حساس ڈیوٹی انجام دے چکے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل سیکیورٹی خدشات لاحق رہتے ہیں انہی خدشات کے پیش نظر سرکلر جاری کیا گیا تاکہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو عملی شکل دی جا سکے۔

    جرمنی:اسلام مخالف ریلی میں چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو عمر قید کی سزا