Baaghi TV

Tag: سیکیورٹی

  • کوئٹہ دھماکا: ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

    کوئٹہ دھماکا: ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

    کوئٹہ دھماکے کے بعد ریلوے پولیس نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے،جبکہ ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    ترجمان ریلوے پولیس کے مطابق کوئٹہ بم دھماکے کے تناظر میں تمام ریلوے پولیس اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ریلوے حدود میں واقع مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائےاسی طرح حسا س مذہبی مقامات اور عید اجتماعات پر اضافی ریلوے پولیس نفری تعینات کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے ٹریک، مسافر و مال گاڑیوں، اہم تنصیبات، ریلوے یارڈز، اسٹورز، ورکشاپس اور دفاتر کی سیکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے ریلو ے اسٹیشنز، پلوں، ٹریکس اور حساس مقامات پر باقاعدہ سرچ، سویپ اور گشت کا انعقاد کیا جائے گاعلاوہ ازیں ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنز پر تربیت یافتہ اور مسلح کمانڈوز تعینات کیے جائیں۔

    ترجمان کے مطابق ریلوے انتظامیہ، ضلعی پولیس، انٹیلی جنس اداروں، ریسکیو سروسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اس دوران مشکوک افراد، سامان، گاڑیوں اور لاوارث اشیا کی سخت چیکنگ اور نگرانی کی جائے گی۔ سی سی ٹی وی کیمروں، انٹیلی جنس بیسڈ نگرانی اور داخلی و خارجی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ریلوے حکام نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام سیکیورٹی ڈیوٹیوں، نفری کی تعیناتی اور ذمہ داریوں پر مشتمل جامع سکیورٹی پلان تیار کر کے فوری متعلقہ دفتر کو ارسال کیا جائے یہ اقدامات کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ ریلوے نیٹ ورک کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص  جوابی کارروائی میں ہلاک

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص جوابی کارروائی میں ہلاک

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

    حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

    سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔

    یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔

    واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

    یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔

    وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-

  • راولپنڈی:اڈیالا جیل میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز ہونے کا انکشاف

    راولپنڈی:اڈیالا جیل میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز ہونے کا انکشاف

    اڈیالا جیل میں ہیوی جیمرز کی موجودگی کے باوجود حوالاتی سے موبائل فون برآمد ہونے پر حساس قیدیوں کی نگرانی اور جیل سیکیورٹی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

    اڈیالا جیل راولپنڈی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والی چیکنگ کے دوران ایک حوالاتی کے قبضے سے موبائل فون برآمد کیا گیاجیل میں موبائل فون کی موجودگی نے انتظامیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت متعدد ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان بھی اسی جیل میں قید ہیں ایسی صورتحال میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز کی دستیابی کو سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں موبائل سگنلز روکنے کے لیے ہیوی جیمرز نصب ہیں، تاہم اس کے باوجود موبائل فون کا استعمال سامنے آنا انتظامی غفلت یا سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ موبائل فون جیل کے اندر کیسے پہنچا، اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں-

  • اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

    نجی خبررساں ادارے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں،احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

    ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔

  • وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    پشاور: وزیر اعلی ہاؤس خیبر پختونخوا سے معلومات لیک ہونے کے معاملے پر سی ایم ہاؤس کے 80 اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تعینات عملے کو تبدیل کیا گیا یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اندرونی معاملات اور حساس معلومات کے مسلسل لیک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا،سپیشل برانچ کا عملہ طویل عرصے سے ایک ہی جگہ تعینات تھا جس کے باعث اندرونی سرگرمیوں کی تفصیلات باہر پہنچ رہی تھیں، بعد ازاں جاری کیے گئے ایک اور اعلامیے میں فرنٹیئر ریزرو پولیس کے اہلکاروں کی بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی۔

    53 اہلکار اسپیشل برانچ اور 27 اہلکار ایف آر پی کے تبدیل کر دیے گئے ذرائع سی ایم ہاؤس کے مطابق پولیس لائن اور سیکیورٹی یونٹ سے نئے اہلکار سی ایم ہاؤس تعینات کر دیے گئے ہیں،عید سے قبل ٹرانسفر ہونے والے اہلکار الاؤنس سے بھی محروم ہوگئے-

    دبئی، کویت اور دوحہ میں میزائل اور ڈرون حملے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں، حکام کے مطابق نئے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے، اور اب یہ عمل موجودہ قیادت اور ان کی ٹیم خود نگرانی میں مکمل کرے گی تاکہ معلومات کے اخراج کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد وزیر اعلیٰ ہاؤس کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، انتظامی امور کو بہتر کرنا اور حساس معلومات کی مکمل رازداری کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں سکیورٹی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے سپیشل برانچ اور فرنٹیئر ریزرو پولیس (ایف آر پی) کے اہلکاروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ایران کے اسرائیل پر 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

  • میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، سہیل آفریدی

    میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، سہیل آفریدی

    اسلام آباد:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر ردعمل دیا ہے۔

    گزشتہ روز، علی امین گنڈا پور نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا تھا،علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی گزشتہ روز چیف سیکیورٹی افسر کے حکم سے واپس لی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن اور ڈرائیور سمیت 14 افراد کا اسٹاف تھا، ڈی آئی خان ایک حساس علاقہ ہے اور مجھے پہلے سے تھر یٹ الرٹس ہیں، یہ تھرٹ الرٹس بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور حکومت میں دہشت گردی کے حوالے سے مؤثر پالیسی کے باعث ملی ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ یہ جھوٹ ہے اور کسی سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی، میں اتنا فارغ نہیں کہ سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، اگر کوئی نان ایشو کو ایشو بنا کر خبروں میں رہنا چاہتے ہیں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔

    کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    دوسری جانب، خیبر پختونخوا پولیس نے بھی سیکیورٹی واپس نہ لینے کی تصدیق کر دی،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس 77 پولیس اہلکار موجود ہیں، علی امین گنڈا پور کی رہائش گاہ پر پولیس سیکیورٹی ونگ کے 58 اہلکار اور ایف آر پی پولیس کے 12 جوان بھی تعینات ہیں، علی امین گنڈاپور کے بنگلے پر ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے بھی 7 جوان تعینات ہیں۔

    عدالت کے حکم پربزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے شوہر کے حوالے کردیاگیا

  • وزیر داخلہ سندھ کی شبِ برات کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیر داخلہ سندھ کی شبِ برات کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت دی ہے کہ شبِ برات کے موقع پر صوبہ بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ مذہبی اجتماعات، محافلِ شبِ برات اور کھلے مقامات پر اضافی نفری اور موبائل گشت بڑھایا جائے ممکنہ حسا س مساجد اور امام بارگاہوں پر اسنیپ چیکنگ، واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹر کے استعمال کو یقینی بنایا جائے مزارات اور درگاہوں پر آنے والے زائرین کی سہولت اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا جائے-

    ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کھلے میدانوں اور قبرستانوں میں ہونے والی عبادات کے دوران بھی مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور کوآرڈی نیشن برقرار رکھا جائے کنٹرول رومز کو شبِ برات کے دوران 24 گھنٹے فعال رکھا جائے،کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ردعمل اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایاجائےاور ٹریفک پولیس کو مذہبی مقامات اور بڑے اجتماعات کےاطراف ٹریفک مینجمنٹ پلان نافذالعمل کیا جائے۔

  • کوئٹہ سے چلنے والی تمام ٹرینیں معطل

    کوئٹہ سے چلنے والی تمام ٹرینیں معطل

    سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلنے والی تمام ٹرینیں معطل کر دی گئیں۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینیں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں ٹرینوں کی معطلی کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفر ایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین کو معطل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک لیا گیامتاثرہ مسافروں کو ان کے ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کی جائے گی جبکہ ٹرین سروس کی بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 29 جنوری 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں کارروائی کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ پنجگور میں بھی 11 دہشت گرد مارے گئے تھےسیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    کراچی:محکمہ داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس کر دی۔

    ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس کر دی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ  پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر تنقید کے باعث پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہےسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔

    سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ایم کیو ایم رہنما رکن اور قومی اسمبلی حسان صابر نے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی سیکیوریٹی واپس لے لی گئی ہے،اس دوران کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی،سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ ان پر تنقید بھی نہ کی جائے،سیکیورٹی واپس بلانےکی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید ایک وجہ ہو، کچھ بھی ہو ہم سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے-