Baaghi TV

Tag: سی جے پی

  • سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سماجی کارکن سونم وانگچُک نے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے خلاف 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج ختم نہیں ہوگا اور مظاہرین نے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کا مؤقف ہے کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو کئی طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

    سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے دو وفاقی وزرا کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی، متعدد ارکان پارلیمنٹ کی اپیل ، مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات جلد ایک ویڈیو پیغام میں جاری کریں گے۔

    دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کی قربانی اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا،وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی شب اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا تھا کہ حکومت امتحانات سے متعلق خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج نریندر مودی کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو درپیش نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے جاری مون سون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی۔

    سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنے اور بھوک ہڑتال کے دوران کم ہونے والا وزن دوبارہ بحال کرنے کا مشورہ دیا۔

    احتجاج کرنے والوں نے جمعہ کو ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل بھی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوں۔

    جمعرات تک ہزاروں افراد نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع تھے، جہاں سخت سکیورٹی کے درمیان حکومت مخالف نعرے لگائے گئے اور بینرز اٹھائے گئے۔ احتجاج کے باعث دہلی کے مرکزی علاقوں میں میٹرو اسٹیشن بند رہے، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق رانچی، پونے، ترواننت پورم اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

  • امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

    مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔

    دوسری جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان سی جےپی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخرکار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیرتعلیم سمیت نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو پیسہ بنارہےہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں، ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھر میندر پرد ھا ن استعفیٰ نہیں دے دیتے-

  • جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت،تجزیہ : شہزاد قریشی

    جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت

    طاقت کا استعمال بمقابلہ جمہوری اقدار بھارت کے دعوے جمہوریت پر بڑھتے ہوئے عالمی سوالات

    تجزیہ شہزاد قریشی

    بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن جمہوریت کا اصل امتحان صرف انتخابات نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، نوجوانوں کی آواز سننا اور اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف سخت کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔
    جمہوریت کی روح یہ ہے کہ حکومت تنقید کو دشمنی نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاح کا موقع سمجھے۔ جب نوجوان سڑکوں پر آ کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھائیں تو ان کے مطالبات کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ صرف طاقت کے ذریعے جواب دینا۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کا احتساب کرنا ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جائے یا احتجاج کے حق کو محدود کیا جائے تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔
    بھارت کی طاقت ہمیشہ اس کی جمہوری روایات، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی تنوع سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن جب نوجوانوں کے احتجاج کو سختی سے کچلا جائے اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ تصادم کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوں تو عالمی سطح پر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا بھارت اپنے ہی جمہوری اصولوں پر پوری طرح قائم ہے؟-

    حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی عظمت طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ جو ریاست اپنے نوجوانوں کی آواز سننے اور سیاسی مخالفین کو اظہار کا حق دینے میں کامیاب ہو، وہی حقیقی معنوں میں ایک مضبوط جمہوری ریاست کہلا سکتی ہے۔ بھارت کے لیے بھی یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے دعوۂ جمہوریت کو صرف الفاظ تک محدود رکھنا چاہتا ہے یا عملی طور پر بھی اسے ثابت کرنا چاہتا ہے۔

  • نئی دہلی میں طلبا پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

    نئی دہلی میں طلبا پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور طلبا پر پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ اس مظاہرے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو گرفتار کر لیا اور کچھ دیر بعد رہا کردیا۔

    انگریسی رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے یہ سیاسی ہلچل کاکروچ جنتا پارٹی کی چھتری تلے طلبا کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئی ہے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور طلبا ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اترے ہوئے ہیں۔

    مودسی سرکار کی جانب سے ؛لاٹھی چارج اور تشدد کر نے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ ”مارو جتنا مارنا ہے، لیکن ہم نے نہیں ہارنا ہے“۔ پرجوش نوجوانوں کی یہ تحریک مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ پرانے تعلیمی نظام کو نامنظور کرتے ہوئے مودی کے نظام سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل سری لنکا میں 2022 کے معاشی بحران کے دوران عوامی تحریک نے راجا پاکسے خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا، بنگلہ دیش میں 2024 کے طلبا احتجاج نے شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا تختہ الٹ دیا، جبکہ نیپال میں ستمبر 2025 میں ڈیجیٹل بغاوت سڑکوں پر آنے کے بعد محض 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو استعفا دینا پڑا تھا،اب بھارت میں بھی نوجوانوں کا یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔