جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت
طاقت کا استعمال بمقابلہ جمہوری اقدار بھارت کے دعوے جمہوریت پر بڑھتے ہوئے عالمی سوالات
تجزیہ شہزاد قریشی
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن جمہوریت کا اصل امتحان صرف انتخابات نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، نوجوانوں کی آواز سننا اور اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف سخت کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔
جمہوریت کی روح یہ ہے کہ حکومت تنقید کو دشمنی نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاح کا موقع سمجھے۔ جب نوجوان سڑکوں پر آ کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھائیں تو ان کے مطالبات کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ صرف طاقت کے ذریعے جواب دینا۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کا احتساب کرنا ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جائے یا احتجاج کے حق کو محدود کیا جائے تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔
بھارت کی طاقت ہمیشہ اس کی جمہوری روایات، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی تنوع سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن جب نوجوانوں کے احتجاج کو سختی سے کچلا جائے اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ تصادم کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوں تو عالمی سطح پر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا بھارت اپنے ہی جمہوری اصولوں پر پوری طرح قائم ہے؟-
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی عظمت طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ جو ریاست اپنے نوجوانوں کی آواز سننے اور سیاسی مخالفین کو اظہار کا حق دینے میں کامیاب ہو، وہی حقیقی معنوں میں ایک مضبوط جمہوری ریاست کہلا سکتی ہے۔ بھارت کے لیے بھی یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے دعوۂ جمہوریت کو صرف الفاظ تک محدود رکھنا چاہتا ہے یا عملی طور پر بھی اسے ثابت کرنا چاہتا ہے۔
