Baaghi TV

Tag: سی ٹی ڈی

  • کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا، حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ27جون کو سندھ رینجرز کی ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر 4 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا،دہشت گردوں کے تمام ہینڈلرز افغانستان سےمسلسل ہدایات دے رہے تھے،جس میں تین دہشتگردوں کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا باجوڑ سےتھاجو 20 برس افغانستان میں رہا دہشتگردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بناکر جانی نقصان پہنچانا تھا، سندھ رینجرز کے کامیاب آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا، سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔

    وزیر داخلہ کا کہنا کہ پچھلے کئی سالوں سے بدامنی کی کارروائیاں جاری ہیں،کراچی میں بدامنی پھیلانےکی کوشش کی گئی،کراچی کے امن کوسبوتاژ کرنے کی سازشوں کوخاک میں ملایا،سیکیورٹی فورسز دشمن کی ہرسازش کوناکام بنارہی ہیں ،سیکیورٹی فورسزنے حملے کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کوبےنقاب کیا۔

    پریس کانفرنس کے دوران گرفتار زخمی دہشت گرد کا اعترافی ویڈیو بیان بھی نشر کیا گیادہشت گردوں کے منصوبے کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ عوام کو یرغمال بنا کر شہر میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے،رینجرز کیمپ پرحملے میں ملوث خارجی دہشت گردکااعترافی بیان بھی سامنےآیا،کراچی کا امن تباہ کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف قوتیں ملک کے امن کونقصان پہنچانے کےدرپے ہیں، ان کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا کئی افغانی عار ضی اجازت نامے، شادی اور مختلف کارڈز کے سہارے رہ رہے تھے،اب کسی بھی غیر قانونی مقیم افغان باشندے کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،پشتون برادری کی آڑ میں غیر قانونی افغان باشندے شہر میں گھل مل جاتے ہیں جو بڑا چیلنج ہےانتہائی محتاط اورجامع حکمتِ عملی کے ساتھ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کے دوران اپنے شہریوں کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

    ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ اس دہشتگردی کی کارروائی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلے افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دو سرے مرحلے میں دہشتگردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرا مرحلہ سہولت کار گروپ کا تھا اور آخر میں اسلحہ و خود کش جیکٹس فراہم کی گئیں،ایک خودکش بمبار جا نان افغانی، دوسرا باجوڑ کا اور تیسرا عمر فاروق افغان صوبے کنڑ کا رہائشی تھا،زخمی حالت میں گرفتار چوتھے دہشت گرد عثمان کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ہے۔

    دہشگردوں کا افغانستان سے تعلق واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عثمان کو افغانستان کی جامعہ سے منتخب کر کے 2 مختلف کیمپس میں تربیت دی گئی، منصوبہ بندی میں نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور جماعت الاحرار کا امیر بصیر عرف احرار ملا ملوث ہیں،حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ٹاسک سونپا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ رینجرز نے آپریشن کے دوران ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کیا، جس نے جرائم کا اعتراف کیا،افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،گرفتار زخمی دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات فراہم کر دیں دہشت گردوں کا گروہ بلوچستان کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حب سٹی پہنچا،حب سٹی سے گاڑی کے ذریعے دہشت گردوں کو کراچی کی چمڑا چورنگی لایا گیا،گرفتار ما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو کراچی میں کرائے پر کمرہ لے کر دیا تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ رینجرز حملے کی اس کارروائی میں قاری بشیر سمیت مجموعی طور پر 13 دہشت گرد ملوث ہیں،دہشتگرد عثمان نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر موسمیات جاکر ریکی کی،حملے کا اصل ماسٹر مائنڈ قاری بشیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آ چکا ہے،ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے حملے پر روانہ کرنے سے قبل دہشت گردوں کو رخصت کیاما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے د ہشت گردوں کی ویڈیو بنائی،ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ کے کہنے پر اسمگلر احسان اللہ کے ذریعے کراچی ہتھیار پہنچائے گئے،پہلے مرحلے میں کلاشنکوف اور بعد میں دستی بم فراہم کیے گئے،ہتھیاروں کی فراہمی اور اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک میں رحیم آفریدی سمیت 6 ملزمان ملوث ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ قاری بشیر نے لیاقت نامی سہولت کار سے ہتھیارلیے اور کورنگی کراسنگ پر دہشت گردوں کے حوالے کیے،تمام تیاریاں مکمل ہونے پر ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو ٹیکسی کے ذریعے رینجرز کیمپ روانہ کیا،حملے کے آغاز میں خودکش بمبار جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایاجس کے بعد اس کے 3 ساتھی اندر داخل ہوئے، خودکش دھماکے کے بعد پہلے دو اور پھر تیسرا دہشت گرد رینجرز کیمپ میں داخل ہوا،کارروائی کے دوران دہشت گرد وں سے کلاشنکوف، دستی بم اور گولیاں برآمد کر لی گئیں، رینجرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام اہم دہشت گرد اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے،گرفتار ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دورا ن تفتیش نیٹ ورک سے متعلق ناقابلِ تردید شواہد پیش کر دیئے ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پاکستانی حدود میں کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کواستعمال کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں شریک آئی جی جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواں سال دہشت گردی کے صرف 7 واقعات ہوئے،جبکہ گزشتہ سال ایسے 37 واقعات پیش آئے تھے،سندھ میں خفیہ اطلاعات پر اب تک 770 سے زائد کامیاب آپریشنز کیے جا چکے ہیں تمام مراحل میں سی ٹی ڈی کی کارکردگی انتہا ئی متاثر کن رہی ہے،دہشت گردوں کا بنیادی مقصدکراچی کے امن و امان کو سبوتاژ کرنا تھا،پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی 700 سے زائد کارروائیوں میں 75 دہشت گرد گرفتار کیےدہشت گردوں کو کارروائی کے لیے وقت اور جگہ کے انتخاب کا فائدہ ہوتا ہے،دہشت گردی کے لیے کلاشنکوف اور دیگر جدید ہتھیار بھی افغانستان سے لائے جا رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    پشاور: خیبرپختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔

    سینٹرل پولیس آفس خیبرپختونخوا میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ذوالفقار حمید کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی-

    رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 4 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جس میں 182 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 504 کو گرفتار کیا گیا گرفتار ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے 14 اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں-

    رپورٹ کے مطابق پولیس پر 294 حملے کیے گئے تاہم مؤثر حکمت عملی کے ذریعے 161 حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے د ہشت گردوں کے 341 ڈرون حملے بھی ناکام بنائے گئے جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پولیس کے یو اے وی (ڈرون) ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف کارروائیوں کے دوران 2 خودکش جیکٹس، 1771 کلوگرام بارودی مواد اور دیگر دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران 122 پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

    رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 10 ہزار 718 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 10 ہزار 173 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے گئے آپریشنز میں 10 ہزار 540 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 8 ہزار 125 افغان باشندوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا ملک دشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور امن میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی جی پولیس نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کے 50 ہزار اہلکاروں نے بہترین انداز میں سیکیورٹی فرائض سرانجام دے کر پرامن ماحول یقینی بنایا، انہوں نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،کالعدم بی ایل اے کے 2 دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،کالعدم بی ایل اے کے 2 دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دو تربیت یافتہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں مجاہد بلوچ اور فرید بلوچ عرف ذاکر شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 4 کلو گرام بارود ی مواد، ڈیٹونیٹرز، پرائما کارڈ اور بال بیرنگ برآمد کیے گئےابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں ملزمان نے بی ایل اے کے تربیتی کیمپ میں ریکی، کمیونیکیشن اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی، ملزمان تنظیم کے کمانڈر ساجد بلوچ اور بشیر زیب کی ہدایات پر کراچی میں مقیم تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد شہر کی حساس تنصیبات کی معلومات جمع کرکے اپنی تنظیم کو فراہم کرتے تھے، جبکہ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے خلاف دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے، گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف مقا مات پر کارروائیاں جاری ہیں۔

  • خیبرپختونخوا : انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی سروں کی بھاری قیمت مقرر

    خیبرپختونخوا : انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی سروں کی بھاری قیمت مقرر

    خیبرپختونخوا حکومت نے دیر اور اس کے قریبی علاقوں میں سرگرم 15 انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے اور ان کو پکڑوانے کے لیے بھار ی انعامات کا اعلان کیا ہے۔

    صوبے کے محکمہ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق ان مجرموں کے سروں کی قیمتیں 1 کروڑ روپے سے لے کر 40 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہیں، تاکہ عوام کی مدد سے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے، جاری کردہ اس فہرست میں الگ الگ مجرموں پر ان کے جرائم کے حساب سے انعام رکھا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خورشید نامی ایک خطرناک دہشت گرد کے سر کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 1 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے شیر امین نامی مطلوب دہشت گردجو جرائم کی دنیا میں کاکا کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کو قانون کی گرفت میں لانے یا اس کا پتا بتانے والے کے لیے1 کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے جبکہ دو خطرناک ملزمان قار ی احسان اور شیر عالم میں سے ہر ایک پر 60، 60 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے،سپین شاہ اور اعجاز نامی مفرور ملزمان پر50،50 لاکھ روپے، جبکہ کفایت، حضرت حسین اور شریف اللہ نامی دہشت گردوں میں سے ہر ایک پر 40، 40 لاکھ روپے کا سرکاری انعام رکھا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مطلوب افراد کو ڈھونڈنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں جو کوئی بھی شہری ان دہشت گردوں کے بارے میں کوئی بھی اطلاع فراہم کرے گا، اس کی پہچان اور شناخت کو بالکل چھپا کر اور خفیہ رکھا جائے گا تاکہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

  • دیر لوئر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک

    دیر لوئر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک

    دیر لوئر میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 6 مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگرد سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ایک کانسٹیبل کی شہادت میں ملوث تھے، کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے 6 کلاشنکوف اور 3 دستی بم بھی برآمد ہوئے واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کامیاب آپریشن پر فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک صوبے بھر میں کارروائیاں جاری رہیں گی، علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    دریں اثناء وزیر داخلہ محسن نقوی نے لوئر دیر میں خوارجیوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی اور پولیس کو سراہا ہے محسن نقوی نے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی اور پولیس کے بہادر اہلکاروں نے خوارجی عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا قوم کو اپنے ان بہادر جوانوں پر فخر ہے جنہوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے علاقے کو بڑے نقصان سے بچایا۔

  • سی ٹی ڈی  کی شبقدر میں خفیہ اطلاع پر  کارروائی،فتنہ الخوارج کے3 اہم دہشتگردہلاک

    سی ٹی ڈی کی شبقدر میں خفیہ اطلاع پر کارروائی،فتنہ الخوارج کے3 اہم دہشتگردہلاک

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) مردان نے شبقدر میں خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 3 اہم دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا-

    سی ٹی ڈی کے مطابق شبقدر کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج کے3 اہم دہشت گرد مارے گئے ہلاک ہونے والوں میں حیات خان عرف حیات اللہ شامل ہے، جو مولانا عزت اللہ ٹارگٹ کلنگ کیس میں مطلوب اور اشتہاری مجرم تھا دوسرا دہشت گرد عاصم ضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں اور مذہبی رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنے کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا تیسرا دہشت گرد امین اللہ عرف معاویہ عرف قاری تھا، جس کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے تین کلاشنکوفیں، ہینڈ گرنیڈ اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا گیا ہے کارروائی کے دوران کچھ دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • اٹک میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک

    اٹک میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اٹک کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف اہم آپریشن کیا،جس میں 5 خطرناک دہشت گرد ہو گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے جواب میں فورسز نے مؤثر کارروائی کی، جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دستی بم بھی برآمد کیے گئے ہیں، برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد پنجاب میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے تھے اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اٹک کے سرحدی علاقوں میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ ممکنہ سہولت کاروں اور فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات بھی جاری ہیں صوبے میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

  • کوئٹہ: سی ٹی ڈی کی پنجپائی اور نو حصار میں کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک، 4 اہلکار شہید

    کوئٹہ: سی ٹی ڈی کی پنجپائی اور نو حصار میں کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک، 4 اہلکار شہید

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقوں پنجپائی اور نوحصار میں سی ٹی ڈی کے کارروائیوں کے دوران 9 دہشتگرد مارے گئے جبکہ دہشتگروں کی فائرنگ سے 4 سی ٹی ڈی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں اور اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 4 سی ٹی ڈی اہلکار شہید جبکہ 6 اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیاسیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    دوسری جانب پشین کے علاقے سرخاب کیمپ میں بھی سی ٹی ڈی نے ایک اور کارروائی کی جس میں 4 دہشتگرد مارے گئے سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے، جس میں دستی بم، دیسی ساختہ بم، بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولیاں شامل ہیں،علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • ساہیوال :سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی ،مبینہ تخریب کاری کا منصوبہ ناکام ، خطرناک دہشتگرد  گرفتار

    ساہیوال :سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی ،مبینہ تخریب کاری کا منصوبہ ناکام ، خطرناک دہشتگرد گرفتار

    ساہیوال میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نےانٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنا دیا جبکہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک خطرناک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے 3 کلو دھماکہ خیز مواد، تیار شدہ الیکٹرک سرکٹ، ڈیٹونیٹر، بیٹریاں، اسلحہ اور نقدی برآمد ہوئی ہے ملزم خیبر پختونخوا کے علاقے تحصیل باڑہ سے ساہیوال تخریب کاری کی غرض سے آیا تھا خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا گیا دہشت گرد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ اس سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ممکنہ سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے دیگر افراد تک پہنچا جا سکے۔

    مشرق وسطیٰ صورتحال پر مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں،چینی صدر کی روسی صدر سے گفتگو

    وفاقی وزیر بحری امور سے قازقستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

  • کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    شاہ لطیف ٹاؤن ملیر میں 17 فروری کو ہلاک دہشت گرد بی ایل اے کا اہم کمانڈر نکلا۔

    حکام سی ٹی ڈی کے مطابق 17 فروری کے آپریشن میں سی ٹی ڈی نے پہلے سے گرفتار دہشت گردوں سے حاصل معلومات پر مشتبہ ٹھکانے کا محاصرہ کیا، دوران آپریشن دہشت گردوں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، چار انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک ہوئے ہلاک دہشت گردوں میں سے تین کی فوری شنا خت ہو گئی، چوتھا دہشت گرد نامعلوم رہا، بعدازاں انٹیلی جنس تحقیق کے بعد ہلاک دہشت گرد کی شناخت کر لی گئی۔

    ہلاک دہشت گرد کالعدم بی ایل اے کے الفتح اسکواڈ کا اہم کمانڈر سہیل بلوچ عرف “گرک” تھا، سہیل بلوچ عرف گرک فتنہ الہندوستان کا بدنام دہشت گرد تھا، سہیل بلوچ پہلے بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستہ رہا، 2022 میں بی ایل اے میں شامل ہوا اور اہم کمانڈر کے طور پر سرگرم رہا، دہشت گرد سہیل بلوچ متعدد بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا، دہشت گردوں کی رابطہ کاری اور اسلحہ و لاجسٹک معاونت فراہم کرنا بھی سہیل بلوچ کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔

    karachi

    خضدار میں ڈپٹی کمشنر پنجگور زاکر بلوچ کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی دہشت گرد سہیل بلوچ ملوث تھا۔ بی ایل اے کمانڈر سہیل بلوچ مختلف دہشت گرد حملوں میں 50 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث تھا سہیل بلوچ بولان ایریا میں الفتح اسکواڈ کا کمانڈر تھا، رحمان گل، ملا امین اور ڈاکٹر مکھو کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھا، جعفر ایکسپریس حملے کے لیے پانچ خودکش بمبار بھی سہیل بلوچ نے بھیجے تھےدہشت گرد سہیل بلوچ سڑکوں پر ناکے لگا کر لوٹ مار کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا، سہیل بلوچ کی ہلاکت بی ایل اے کے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا ہے اس کارروائی سے کراچی میں ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔