Baaghi TV

Tag: شاعر

  • معروف شاعر اور نعت گو سید سلمان گیلانی  انتقال کر گئے

    معروف شاعر اور نعت گو سید سلمان گیلانی انتقال کر گئے

    لاہور: معروف شاعر، نعت گو اور مزاحیہ شاعری کے ممتاز نام سید سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    سید سلمان گیلانی کچھ عرصے سے شیخ زید اسپتال میں زیرِ علاج تھے سید سلمان گیلانی کو مذہبی اور ادبی حلقوں میں خاص مقام حاصل تھا وہ ختمِ نبوت کے پرجوش حامی اور تحریک ختمِ نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے انہوں نے اپنے والد کی طرح دینِ اسلام، نعت رسولؐ اور سماجی موضوعات پر منفرد انداز میں شاعری کی۔

    مولانا فضل الرحمان نے سید سلمان گیلانی کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا،جے یو آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سید سلمان گیلانی مرحوم کی رحلت کی خبر سے دل رنجیدہ اور افسردہ ہے،اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو سوز و گداز سے بھرپور آواز اور دلنشین طرزِ بیان عطا کیا تھا، سید سلمان گیلانی بلند پایہ شاعر، باکمال نعت خواں اور عمدہ نثر نگار تھےمرحوم سچے عاشقِ رسولؐ تھے اور ان کے نعتیہ کلام سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔

    انہوں نےکہا کہ رمضان المبارک کے مقدس اوقات میں ان کا سفرِ آخرت ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنے گا مولانا فضل الرحمان نے سید سلمان گیلانی کو اپنے خانوادے کا فرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کے ساتھ ساتھ خود اور اپنی جماعت کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں، اللہ کریم مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے، تمام بشری لغزشوں سے درگزر کرے، انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔

    واضح رہے کہ 1951 میں لاہور میں پیدا ہونے والے سیدسلمان گیلانی اپنی برجستہ مزاحیہ شاعری اور طنزیہ کلام کی بدولت مشاعروں کی جان سمجھے جاتے تھے ان کا اندازِ بیان شائستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج تھا، جس سے محفلیں زعفران زار ہو جاتیں۔ نعتیہ کلام میں بھی ان کی پہچان نمایاں تھی، جس پر انہیں ’شاعرِ ختمِ نبوت‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔

    سید سلمان گیلانی نے پوری زندگی ادب، مذہب اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی ان کی تصنیف ’میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘ کو بھی قارئین میں پذیرائی ملی، جس میں ان کی یادداشتیں اور مشاہدات شامل ہیں،وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں شرکت کرتے رہے اور نعت و ختمِ نبوت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ نمازِ جنازہ کے حوالے سے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

  • معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر اعتبار ساجد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق اعتبار ساجد گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، اور منگل کی صبح خالق حقیقی سے جا ملے ،ان کی عمر 77 سال تھی،اعتبار ساجد کے انتقال پر ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    اعتبار ساجد یکم جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے،اعتبار ساجد اردو کے مقبول غزل گوؤں میں شمار ہوتے تھے، انھوں نے رومانوی شاعری میں اپنے منفرد شعری اسلوب سے قارئین کے دل موہ لیے تھے، اور ہجر و وصال کی کیفیتوں کو اظہار دینے والی رومانی شاعری کے لیے مشہور تھے،وہ ایم اے تک تعلیم حاصل کر کے تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے تھے، پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان میں لکچرر رہے، پھر اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہوئے، شاعری کے علاوہ نثر لکھی،اعتبار ساجد کو جدید اردو شاعری کے اہم اور مقبول شعرا میں شمار کیا جاتا تھا ان کا منفرد اسلوب، نرم لہجہ اور درد سے بھرپور اشعار قارئین کے دلوں میں خاص مقام رکھتے تھے۔

    اعتبار ساجد کی تصانیف میں دستک بند کواڑوں پر، آمد، وہی ایک زخم گلاب سا، مجھے کوئی شام ادھاردو و دیگر شامل ہیں انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا جن میں راجو کی سرگزشت، آدم پور کا راجا، پھول سی اک شہزادی، مٹی کی اشرفیاں وغیرہ شامل ہیں۔

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    بھارتی اداکار سیف علی خان پر بھارت میں گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا ہے، چور گھر میں گھسا اور سیف علی خان پر چاقو سے وار کئے،

    پولیس کے مطابق ایک شخص نے باورچی خانے کے مددگار کی مدد سے سیف علی خان کے گھر داخل ہواور جس کے پاس چاقو تھا اور اس نے سیف علی خان پر چاقوؤں سے وار کئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی تصویر سامنے آ گئی ہے او رملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا اس ضمن میں ٹیمیں تشکیل دی گئی تاہم عوام کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ مذہبی انتہاپسندی کے باعث پیش آیا، جس کی جڑیں بھارتی سیاست دان،وزیراعظم نریندر مودی کے حامی شاعر کمار وشواس کی تقاریر سے جڑتی ہیں۔

    عوام کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس پس منظر میں ہوا ہے جب چند دن پہلے کمار وشواس، جو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حامی ہیں، نے معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی اہلیہ کرینہ کپور اور ان کے بیٹے "تیمور” کے نام پر سخت تنقید کی تھی۔ کمار وشواس نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ کرینہ کپور نے اپنے بیٹے کا نام "تیمور” رکھا، جو تاریخ میں ایک مشہور فاتح کا نام تھا، جسے بعض حلقے مسلمانوں کے ساتھ جڑے متنازعہ تصورات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کمار وشواس کی اس تنقید نے مذہبی انتہاپسندی کو مزید بڑھاوا دیا اور کچھ افراد نے اس تنقید کو اپنے مذہبی خیالات کی تائید کے طور پر لیا۔
    saif
    مودی کے حامی شاعرکمار وشواس نے سیف علی خان کے بیٹے بارے کیا کہا تھا؟
    کمار وشواس کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے، یہ لوگ یہاں ریکارڈنگ کرنے بیٹھے ہیں، لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اب مایا نگری میں بیٹھے لوگوں کو سمجھنا پڑے گا کہ ملک کیا چاہتا ہے،اب یہ نہیں چلے گا کہ آپ ہماری وجہ سے مقبولیت حاصل کریں گے، ہم پیسے دیں گے، ہم ٹکٹ خریدیں گے، ہم آپ کو ہیرو اور ہیروئن بنائیں گے۔ پھر اگر آپ کی تیسری شادی سے بچہ ہوتا ہے تو آپ اس کا نام باہر سے آنے والے کسی حملہ آور کے نام پر رکھیں گے۔ یہ نہیں چلے گا، دوست اور بھی بہت سارے نام ہیں، آپ کچھ بھی رکھ سکتے تھے۔ وہ رضوان رکھ سکتے تھے، عثمان رکھ سکتے تھے، یونس رکھ سکتے تھے، حضور کے نام سے کوئی نام رکھ سکتے تھے۔ آپ کو صرف ایک نام ملا،وہ آدمی جس نے بھارت آکر ہماری ماؤں بہنوں کی عصمت دری کی، آپ لوگوں کو اپنے بیٹے کا نام رکھنے کے لئے وہی ملا اب اگر آپ اسے ہیرو بنائیں گے تو آپ اسے ولن نہیں بننے دیں گے، یہ یاد رکھیں، یہ نیا ہندوستان ہے۔

    یہ واقعہ اس بات کی علامت بن گیا ہے کہ کس طرح مذہبی اور سیاسی بیانات بعض افراد کے ذہنوں میں شدت پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور اس سے زیادہ خطرناک واقعات جنم لے سکتے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے متعلق تمام تفصیلات جلد عوام کے سامنے آئیں گی۔سیف علی خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں،

    اداکارہ کرینہ کپور نے 2016 میں اپنے پہلے بیٹے تیمور علی خان کو جنم دیا تھا، جس کے بعد ان کے بیٹے کے نام پر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ تیمور کے نام پر ہونے والی بحث و تکرار نے اس وقت خاصی توجہ حاصل کی تھی، لیکن سیف علی خان اور کرینہ کپور دونوں نے اس پر خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، اب کئی سالوں بعد کرینہ کپور نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑی تھی،کرینہ کپور نے معروف صحافی مِس مالنی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے دادا جی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ لوگ تمہارے بارے میں بات کریں گے، چاہے وہ اچھی بات ہو یا بری، لیکن وہ تمہارے بارے میں ہی بات کر رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سپراسٹار بننا چاہتے ہیں تو اس بات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کرینہ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو یہ جگہ آپ کے لیے نہیں ہے، اور آپ کو پتھردل بننا پڑے گا۔کرینہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ تیمور کے نام پر ہونے والا تنازعہ انہیں کافی پریشان کن لگا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا اور اس کا گہرا اثر ان پر پڑا تھا۔ وہ کہتی ہیں، "تیمور کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کے نام کے بارے میں اتنا ڈرامہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، لوگوں نے اسے بہت پسند کیا اور اس میں کافی دلچسپی بھی ظاہر کی۔”

    اسی دوران، کرینہ کپور نے اپنے شوہر سیف علی خان کے ردعمل کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف اس مسئلے پر بہت مطمئن اور سنجیدہ تھے۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ اس معاملے پر خاموش رہنا بہتر ہے اور ہمیں اس پر مطمئن رہنا چاہیے۔

    کرینہ کپور نے اس سے پہلے بھی ایک انٹرویو میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ تیمور اور جہانگیر کے ناموں پر ہونے والی ٹرولنگ پر ان کا ردعمل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "تیمور اور جہانگیر وہ نام ہیں جو ہمیں پسند تھے، اور یہ دونوں نام ہمیں بہت خوبصورت لگے۔ لیکن مجھے نہیں سمجھ آتا کہ لوگ بچوں کے ناموں پر کیوں ٹرول کرتے ہیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے اور مجھے یہ بہت خطرناک لگتا ہے۔ لیکن میں اس میں نہیں پڑنا چاہتی، کیونکہ میں اپنی ذاتی زندگی کو ٹرولرس کے نظریے سے نہیں دیکھتی۔”

    سیف علی خان نے بھی اس تنازعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ممبئی مرر کے مطابق، سیف علی خان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کا نام تیمور ترک حکمران کے نام پر رکھا گیا ہے، لیکن وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس نام کا کسی زندہ یا مردہ شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیف نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کا نام رکھتے وقت ایک وضاحت دینی چاہیے تھی کہ "اس نام کا کسی بھی تاریخی شخصیت یا حملہ آور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    آدمی کو بے سر و ساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ

    ڈاکٹر جی آر کنول

    16؍نومبر 1935 : یوم پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر گلشن رائے المعروف ڈاکٹر جی آر کنول 16؍نومبر 1935ء کو لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کی تشکیل زیر غور ہی تھی کہ لاہور کے متعدد ہندو سکھ گھرانوں نے سلسلۂ ہجرت (قسطوں میں) شروع کر دیا تھا۔ کنول آخری قسط میں اپنے والد محترم کے ہمراہ لاہور سے سیالکوٹ جمیون، پٹھان کوٹ، امرتسر اور دیگر شہروں کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ایک سال میں دلی پہنچے۔ سفر کا بیشتر حصہ، پا پیادہ تھا اس لیے مسلسل آبلہ پائی کا سبب بنا ہر طرف ایک کربناک منظر در پیش تھا۔ آتش زنی، افراتفری اور قتل و غارت گری کے ماحول میں باحفاظت سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ دلی پہنچ کر بھی سکون میسر نہ ہوا۔ کئی سال تک خانہ بدوشی اور بے سرو سامانی کا سایہ نصیب رہا۔ ان کے والد محترم کاروباری مشاغل کے علاوہ ”پیسہ اخبار لاہور“ سے وابستہ تھے۔ انھوں نے کنولؔ صاحب کے ادبی ذوق کو بچپن ہی میں پہچان لیا تھا۔ وہ انہیں شورشؔ کاشمیری، عطاء ﷲ خاں بخاری اور استاد ہمدمؔ کی محلفوں میں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔

    ان کی ابتدائی تعلیم تو لاہور ہی میں مکمل ہو چکی تھی۔ مڈل سے لے کر انگریزی میں پی۔ ایچ۔ ڈی تک کے مراحل بڑی سخت جانی سے دلی میں طے کرنے پڑے۔ وہ دلی میں تنہا ہی تھے کیوں کہ ان کے والدین انبالہ شہر میں آباد ہوگئے تھے۔ ایک لمبے عرصے تک دلی کے گلی کوچوں، خصوصا اردو بازار کے اطراف کی خاک چھانی جہاں اُس وقت کی بلند قامت شخصیتوں مثلاً جوشؔ ملیح آبادی، مجازؔ لکھنوی، علامہ انورؔ صابری، شعریؔ بھوپالی اور مخمورؔ دہلوی کے دیدار ہو جاتے تھے۔ اُردو بازار ہی میں ان کا رابطہ استاد رساؔ دہلوی سے ہوا جو کئی سال تک قائم رہا لیکن کبھی تلمذ میں تبدیل نہ ہوا۔ اس بازار سے تھوڑی دور کنولؔ صاحب نے کچھ عرصہ تک ادارۂ شرقیہ میں مولوی عبدالسمیع صاحب کے سامنے زانوئے ادب تہ کرکے فارسی نظم ونثر کا مطالعہ کیا جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما میں بہت کار گر ثابت ہوا۔

    کنولؔ کی معاشی زندگی کی ابتداء ایک اردو ہفت روزہ اخبار ”ساتھی دیکلی“ کی اشاعت اور ادارت سے ہوئی۔ چند سال بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیوں کہ اردو زبان کے قارئین کی تعداد بڑی تیزی سے رو بہ زوال ہو رہی تھی۔ مصلحتاً انہوں نے انگریزی صحافت اور انگریزی زبان و ادب کی درس و تدریس کی طرف رجوع کیا۔ کنول نے دلی یونیورسٹی کے آر ایل اے کالج کی لیچررشپ کی۔ دلی سینئر سیکنڈری اسکول اے ایس وی جے کی تقریباً 20 سال تک پرنسپل رہے۔ سمیر مل جنین پبلک اسکول جنگ پوری، نئی دہلی کی ڈائرکٹر اور ڈاون پبلک اسکول پچھم وبار نئی دہلی اور ڈون پبلک اسکول پنچکولہ (ہریانہ) کی چیئر مین کے منصبی فرائض انجام دیے۔ علاوہ ازیں کئی تعلیمی، ادبی اور سماجی تنظیموں کی عہدے داری اور اہم رکنیت حاصل رہی۔ کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ اٹھارہویں صدی کے عظیم طنز نگار شاعر نثار جوناتھن سوفٹ کے ”نظریۂ انسان“ پر ہے اور بیشتر تصانیف انگریزی ادب کے اُن شہ پاروں پر ہیں جو بی۔ اے آنرز یا ایم۔ اے کے نصاب میں شامل ہوتے ہیں۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
    ”شیشہ ٹوٹ جائے گا“ 1991ء، ”قلم آشنا“ 2003ء، ”درد آشنا“ 2006ء، ”غزل آشنا“ 2008، ”نیند کیوں نہیں آتی“ 2009ء، ”ریزہ ریزہ زندگی“ 2011ء وغیرہ۔
    #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_قلم_آشنا

    💫� ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنولؔ کی شاعری سے منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آدمی کو بے سروساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ
    ——
    بے مزہ کردے جو تیری زندگی
    اُس دوا کو درد کا درماں نہ لکھ
    ——
    ندی جیسے کوئی بے آب سی ہے
    ہماری زندگی بے خواب سی ہے
    ——
    لمحہ لمحہ بے انتشار مرا
    لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
    ——
    کبھی زینہ، کبھی در بولتا ہے
    مرے اندر مرا گھر بولتا ہے
    ——
    کیسے کہہ دوں بچھڑ گیا ہے وہ
    اُس نے مقطع ابھی نہیں لکھا
    ——
    لوگ کہتے ہیں مشت خاک مگر
    اپنے اندر تو کائنات ہوں میں
    ——
    حرف اول سے حرف آخر تک
    کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے
    ——
    قلندر ہوں مری خواہش نہ پوچھو
    میں دُنیا میں فقیری چاہتا ہوں
    ——
    دیار زندگی سینے میں تیرے
    مرے دل کا دیا بھی جل رہا ہے
    ——
    ذوق آوارگی سے بہتر تھا
    ہم کسی در پہ مر گئے ہوتے
    ——
    آه! قسمت کہ ہاتھ خالی ہیں
    اف یہ خواہش کہ سب ہمارا ہو
    ——
    ابھی ہے نا مکمل ہر فسانہ
    ابھی دنیا ادھوری داستاں ہے
    ——
    اوس اب اُنگلیاں جلاتی ہے
    جیسے شبنم نہ ہو شرارا ہو
    ——
    روح بھی چاہیے کنولؔ اُس میں
    صرف پیکر سے کچھ نہیں ہوتا
    ——
    ناز ہے جس پر مجھے اے ہم نفس
    وہ ترا چہرہ نہیں کردار ہے
    ——
    بہت میلی ہے میرے دل کی چادر
    نہیں آنسو کوئی اب دھونے والا
    ——
    دھوپ یہ کہہ کے ہوگئی غائب
    میرے سائے کی اب پرستش کر
    ——
    موج در موج ہو تو بات بھی ہے
    قطره قطره شراب بے معنی
    ——
    جس پہ چہکا تھا اک پرندہ آج
    مدتوں سے تھا وہ شجر خاموش
    ——
    کبھی تو بے ٹھکانہ پنچھیوں کا
    بنانے گی ہوا خود آشیانہ
    ——
    تو ہے خاموش اور برسوں سے
    میرے دل میں سوال کتنے ہیں
    ——
    زندگی بھر یہاں وہاں ٹھہرے
    پھر بھی دنیا میں بے نشاں ٹھہرے
    ——
    آپ آئیں تو ختم ہو قصہ
    آپ جائیں تو داستاں ٹھہرے
    ——
    حقیقت خواب سے ہوتی ہے بہتر
    ترے آگے تری تصویر کیا ہے
    ——
    قلم بے روح کر دیتا ہے نسلیں
    قلم کے سامنے شمشیر کیا ہے
    ——
    میری دستک تو تھی مکمل ہی
    اُس نے کھولا تھا اپنا در آدھا
    ——
    میرا آغاز ہے جب اک معمہ
    کسے معلوم ہے انجام میرا
    ——
    کہاں تک ٹھوکریں کھاؤں جہاں میں
    کوئی پتھر نہیں انسان ہوں میں
    ——
    نام ہر آدمی کا فانی لکھ
    صرف اعمال جاودانی لکھ
    ——
    زباں خاموش ہو جاتی ہے میری
    مگر چہرہ برابر بولتا ہے
    ——
    رند وہ ہو گیا خراب بہت
    جس کو ساقی نے دی شراب بہت
    ——
    کیسے بچتا چبھن سے کانٹوں کی
    جس کے دامن میں تھے گلاب بہت
    ——
    مکمل ہو تو سننے کا مزہ ہے
    ادھوری داستاں کچھ بھی نہیں ہے
    ——
    سلگتی آگ بے سرمایہ دل کا
    کنولؔ اُس میں دھواں کچھ بھی نہیں ہے

    👈 #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_ریزہ_ریزہ_زندگی

  • فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    عدیم ہاشمی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وفات :5نومبر 2001ء

    نامور شاعر فصیح الدین المعروف عدیم ہاشمی 1 اگست 1946ء کو فیروزپور(ہندستان) میں پیدا ہوئےفیصل آباد میں نشوونما ہوئی۔ 1970ء میں لاہور آگئے، ان کا کلام ادبی جریدوں میں باقاعدگی سے چھپنے لگا، اس دوران انہوں نے ریڈیو اورٹی وی کے لیے گیت لکھے، بعدازاں وہ راولپنڈی منتقل ہوگئے، 2001ء میں اپنے عزیز اورممتاز شاعر افتخار نسیم کے پاس امریکا چلے گئے وہ طویل عرصے سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے ان کا بائی پاس آپریشن ہوچکا تھا ۔وہ 05 نومبر 2001ء کو شکاگو میں انتقال کرگئے اور وہیں سپردخاک کردیے گئے۔ ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’’ترکش‘، ’مکالمہ‘، ’چہرہ تمھارا یاد رہتا ہے‘، ’فاصلے ایسے بھی ہوں گے‘، ’بہت نزدیک آتے جارہے ہو‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)، محمد شمس الحق،صفحہ:384

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ
    ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

    اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
    میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

    بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
    اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

    ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے
    پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے

    یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا

    کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تک
    ملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر

    پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہے
    پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا

    ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
    تم بھی اک آدھ گھڑی کاش ہمارے ہوتے

    ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا
    عدیمؔ اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

    میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب
    مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا

    وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    بکتا تو نہیں ہوں نہ مرے دام بہت ہیں
    رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا کوئی آ کر

    شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
    وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

    جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے
    وہ مہ و سال اگر ساتھ گزارے ہوتے

    صدائیں ایک سی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
    ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے

    وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
    ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے

    مرے ہم راہ گرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
    مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

    Copied

  • ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے، زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے، زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    امیر مینائی

    وفات: 13 اکتوبر 1900ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امیر مینائی اردو کے مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 21 فروری 1829ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔ کہ بیمار ہو گئے۔ اور 13 اکتوبر 1900 میں وہیں انتقال کیا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ایک دیوان غیرت بہارستان، 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صبح ازل آنحضرت کی ولادت اور شام ابد وفات کے بیان میں ہے۔ چھ واسوختوں کاایک مجموعہ بھی ہے۔ نثری تصانیف میں انتخاب یادگار شعرائے رام پور کا تذکرہ ہے، جو نواب کلب علی خان کے ایما پر 1890ء میں لکھا گیا۔ لغات کی تین کتابیں ہیں۔ سرمہ بصیرت ان فارسی عربی الفاظ کی فرہنگ ہے جو اردو میں غلط مستعمل ہیں۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے جس کی دو جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہو گیا۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
    سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

    تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
    مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

    وصل کا دن اور اتنا مختصر
    دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو
    نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

    ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
    کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

    مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
    سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

    آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
    وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

    امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
    کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

    فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
    کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

    کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
    خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

    آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا
    پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

    ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
    تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

    اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
    میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

    جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
    حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

    بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
    میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

    کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد
    یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

    سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
    نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

    جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
    اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال

  • منشی پریم چند

    منشی پریم چند

    منشی پریم چند

    8 اکتوبر 1936: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے سریواستَو تھا، آپ 31 جولائی 1880ء کو منشی عجائب لال کے ہاں موضع پانڈے پور، ضلع بنارس میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ آپ نے تقریباَ َ سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ برس کی عمر میں شادی ہوگئی۔ ایک سال بعد والد کا… انتقال ہوگیا۔ پریم چند اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر آن پڑا۔ فکرِ معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو ٹیوشن پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمۂ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر بی۔ اے کی تکمیل کر کے ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز ہو گئے۔ 1921ء میں ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف ہو گئے۔ بنارس میں اپنا ایک پریس بھی کھولا۔ دو پرچے ‘ہنس’ اور ‘جاگرُتی’ اپنی ادارت میں جاری کیے۔

    پریم چند کو ابتدا سے ہی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا اور یہی شوق چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے کا باعث بنا۔ ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1901ء سے ہوا جب انہوں نے رسالہ "زمانہ” کانپور میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اول اول مختصر افسانے لکھے اور پھر ناول، لیکن مختصرافسانہ نویسی کی طرح ناول نگاری میں بھی ان کے قلم نے چار چاند لگا دئیے۔ پریم چند کو اردو اورہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے ناول اور افسانے کے علاوہ چند ایک ڈرامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے ‘آنندی’، ‘پریم پچیسی’، ‘پریم بیتسی’، ‘سوز وطن’، ‘زاد راہ’ اور ‘واردات’ ہیں۔ مجموعی طور پر پریم چند نے تین سو سے زیادہ کہانیاں لکھیں جو مختلف مجموعوں میں موجود ہیں۔ پریم چند اچھے مترجم بھی تھے۔ انہوں نے انگریزی سے کئی کتابیں ترجمہ کیں۔

    پریم چند کے آرٹ کی عظمت کو ہر حلقے میں تسلیم کیا گیا۔ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنہوں نے شہر سے نکل کر دیہاتی زندگی کے ساتھ رشتہ جوڑا۔ پریم چند کی زبان بہت آسان اور سادہ ہے جو کہانیوں کے تاثر کو بڑھا دیتی ہے۔

    پریم چند مہاتما گاندھی کی تحریک سے متاثر تھے۔ وہ دل و جان سے ملک کی آزادی کے لیے لڑنا چاہتے تھے لیکن اپنی مجبوریوں کی بنا پر کسی تحریک میں عملی طور پر حصہ نہ لے سکے۔

    8 اکتوبر 1936ء کو پریم چند بنارس میں انتقال کر گئے۔

  • مولانا رومی  فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر

    مولانا رومی فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر

    مولانا رومی (فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر)

    30 ستمبر : یوم پیدائش

    فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر اور فلسفی مولانا محمد جلال الدین بلخی المعروف مولانا رومی کی ولادت 30 ستمبر 1207ء کو بلخ (افغانستان) میں ہوئی، مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ آپ فقہ اور مذہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انہیں اپنے پاس بلوایا، مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے اور بعد میں وہیں ان کی ملاقات اپنے پیر و مرشد شمس تبریزی سے ہوئی۔ جلال الدین رومی نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھی ہیں، مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز ان کی معروف کتب ہے ہیں۔ آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں۔ ان کی وفات 17 دسمبر 1273ء کو 66 سال کی عمر میں قونیہ (ترکی) میں ہوئی اور ان کا مزار بھی وہیں ہے۔

  • ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے

    ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے

    ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
    ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
    ..
    محسن احسان

    23 ستمبر 2010 : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محسن احسان کا اصل نام احسان الٰہی تھا اور وہ 15 اکتوبر 1932ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا اور 35 سال تک اسلامیہ کالج، پشاور میں انگریزی کی تدریس سے وابستہ رہے تھےمحسن احسان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب، نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل، قومی نظموں کا مجموعہ مٹی کی مہکار اور بچوں کی شاعری کا مجموعہ پھول پھول چہرے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے اس کے علاوہ انہوں نے خوشحال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1999ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا محسن احسان کی 23 ستمبر 2010 میں لندن میں وفات ہوئی محسن احسان کی تاریخ وفات ’’محسن احسان شاعر بے مثل‘‘ سے نکلتی ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ 1431 ہوتا ہے جو ان کا ہجری سن وفات ہے۔ وہ پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    محسن احسان کے چند منتخب اشعار

    امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
    سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

    کندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئے
    قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

    بجھا کے رکھ دے یہ کوشش بہت ہوا کی تھی
    مگر چراغ میں کچھ روشنی انا کی تھی

    مری شکست میں کیا کیا تھے مضمرات نہ پوچھ ​
    عدو کا ہاتھ تھا، اور چال آشنا کی تھی

    فقیہہِ شہر نے بے زار کر دیا، ورنہ​
    دلوں میں قدر بہت خانۂ خدا کی تھی

    ابھی سے تم نے دھواں دھار کر دیا ماحول​
    ابھی تو سانس ہی لینے کی ابتدا کی تھی

    شکست وہ تھی، کہ جب میری سربلندی کی​
    مرے عدو نے مرے واسطے دعا کی تھی

    اب ہم غبارِ مہ و سال کے لپیٹ میں ہیں ​
    ہمارے چہرے پہ رونق کبھی بلا کی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کلاسک سے ماخوذ