Baaghi TV

Tag: شاعرہ

  • دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے

    دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے

    ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا
    اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا

    غزل جعفری

    اصل نام :نکہت یاسمین

    تاریخ پیدائش:14 نومبر 1960ء
    جائے پیدائش:کراچی

    تصنیفات
    ایک شعری مجموعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ” میں غزل ہوں ” سال اشاعت 1995

    مستقل پتا: گلشنِ اقبال، کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا
    اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا

    ہوں گے ستم کے ہاتھوں گرفتار بے گناہ
    توہین عدل بر سر دربار دیکھنا

    تاریخ اپنے خون سے لکھیں گے پھر ہمیں
    پیدا ہوئے ہیں پھر وہی آثار دیکھنا

    میرے وطن کی آن پہ آنے نہ دے گا آنچ
    کوئی تو ہوگا صاحب کردار دیکھنا

    دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے
    انسان کو پرکھنے کا معیار دیکھنا

    ہم چاہتے ہیں بزم میں ایسی جگہ ملے
    ممکن ہو تیری سمت لگاتار دیکھنا

    حق بات کہہ گئی ہے بھری بزم میں غزلؔ
    اس دور میں یہ جرأت اظہار دیکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا
    برا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھنا
    یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے
    جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا
    تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے
    پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا
    تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لئے
    نہ آ سکو جو کبھی تم قباحتیں لکھنا
    تم اپنے شعروں میں وہ زندہ لفظ لکھو غزلؔ
    محبتوں سے ہوں پیدا کرامتیں لکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم جان آرزو ہو نشاط خیال ہو
    کیا دوں بھلا مثال کہ تم بے مثال ہو
    دیکھا ہے جب سے تم کو عجب حال ہے مرا
    لگتا ہے جیسے تم ہی مرے ہم خیال ہو
    ملنے کی آرزو میں کبھی اس طرح ملیں
    دنیا کرے جدا تو بچھڑنا محال ہو
    لائیں کہاں سے جرأت اظہار مدعا
    ایسے میں جبکہ اپنی ہی حالت نڈھال ہو
    میں پھر رہی ہوں سائے کے پیچھے یہ سوچ کر
    شاید کہ اس طرح سے طبیعت بحال ہو
    خود کو غزلؔ اکیلی سمجھتی ہو کس لئے
    یہ کون جانے تم بھی کسی کا خیال ہو

    منقول

  • پاکستان کی پہلی  خاتون انگریزی  مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر  اور شاعرہ،بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ،بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    10 ستمبر 2000 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔ محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ آرمینیائی نسل کی عیسائی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہائش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گئیں ۔ وکٹوریہ کا اسلامی نام ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گائیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گئی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیرائی مل گئی۔ گوہر جان گائیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گائی ہوئی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گائیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے مائی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گئی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • اردو اور سندھی کی معروف ادیبہ، شاعرہ،پروفیسر سیما عباسی صاحبہ

    اردو اور سندھی کی معروف ادیبہ، شاعرہ،پروفیسر سیما عباسی صاحبہ

    سیما عباسي

    پیدائش : 18 اپریل 1973
    ۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی

    اردو اور سندھی کی معروف ادیبہ، شاعرہ ، افسانہ نویس و سفر نامہ نگار پروفیسر سیما عباسی صاحبہ 18 اپریل 1973 لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئیں ان کا اصل نام سیما پروین والد صاحب کا نام لعل محمد عباسی والدہ محترمہ کا نام انورخاتون اور شوہر کا نام فدا حسین عباسی ہے۔ سیما عباسی کی مادری زبان سندھی ہے انہوں نے پرائمری اور میٹرک و ایف اے کی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کی جبکہ ایم اے 1995 میں شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور سے کیا ۔ 2005 میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج لاڑکانہ میں لیکچرار مقرر ہوئیں ، انہوں نے سیدہ نور الہدی شاہ سے متاثر ہو کر 1985 میں طالبعلمی کے دوران شاعری اور نثر لکھنے کی ابتدا کی ۔ سیما صاحبہ اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں محترمہ بینظیر بھٹو گورنمٹ گرلز کالج اعظم بستی کراچی میں پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ماشاء اللہ وہ 3 بچوں 2 بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہیں ، سیما صاحبہ کی شاعری اور تحریریں روزنامہ کاوش ، ہزار داستان ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ سچی کہانیاں ، آداب عرض و دیگر اردو اور سندھی اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں وہ سندھی ادبی سنگت ، کراچی آرٹس کونسل و دیگر علمی و ادبی اداروں کی عہدیدار رہ چکی ہیں اور متعدد ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔

    سيما عباسي جا ڇپيل ڪتاب

    لفظن ڀوڳيو آ بنواس
    لاش لڙڪن جا
    ڏات جي ديوي
    ڪلھي ڪانڌي ڪير ؟
    تو سيما نان ء ٻڌو آ
    سفر نامون
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنڌي غزل

    ڪچا ڪيڏا سھارا ها ؟
    سفر سڀ بي ڪنارا ها

    جرح تنھنجي جبر واري
    عذر منھنجا ويچارا ھا

    اڃا احساس آسن جا
    رهيا پنھنجا ڪنوارا ها

    ڪئي تڪميل حڪمن جي
    ن ٻيا مون وٽ ڪي چارا ها

    لهو لفظن جو ڪاغذ تي
    قلم جا ويس ڪارا ها

    هنن هٿ جي لڪيرن ۾
    مقدر جا مونجھارا ها

    ندامت تن جي آئي پر
    ڪٿي آيا پر ڪفارا ھا؟

    ملي رشتن کي پيڙا پئي
    پرک جا پنڌ سارا ها

    مڃان ڪيئن عرض سي، تن جا؟
    اگر ٻين کي اشارا ها

    اسان جي ڀاڳ جا موسم
    خزائن جا خسارا ها

    نہ ڪن مون سان محبت پر
    رهن ڪنھن جا تہ پيارا ها؟

    ڀتا نڪتا جيڪي تعلق
    گمانن ۾ سگھارا ها

    مقدر جو مڪر چنئون يا ؟
    ظرف ڪنھن جا ڪسارا ها

    روحاني رمز جا ڪرڻا
    ايمانن جا سيپارا ها

    اسان جا عزم ارڏا هي
    ٿي چمڪيا چنڊ تارا ها

    وري ماتم ڪيو مقتل
    مفادي دار سارا ها

    ڇو ڏين الزام هن کي تون؟
    جڏھن هو راز وارا ها

    پڙاڏا منھنجي لفظن جا
    وڳا ائين ڄڻ نغارا ها

    صبر مون کان پڇيو سيما
    سدا ڇو هو ويسارا ها
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سب نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ہے
    اب اپنے خد و خال کو کچھ تو بکھیرنا ہے
    کچھ تو زوال کو تم بھی زہے نصیب ہو
    تھکتے ہوئے کمال کو کچھ تو بکھیرنا ہے

    دیار غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے
    مگر تھے کون اپنے جن کے دعووں سے پگھل جاتے

    ہمارے دل میں جو طوفاں دبائے ہم ہی بیٹھے ہیں
    اگر ان کا پتا دیتے ہزاروں دل بہل جاتے

    سیما عباسی

  • عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے

    عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے

    لندن: عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے 21 اپریل 1816 میں پیدا ہوئی اور 31 مارچ 1855 میں برسلز میں ڈلیوری کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی اس طرح وہ دنیا سے بے اولاد چلی گئی لیکن ان کے شاہکار ناول ”جین آئیر“ نے اسے ادب کی دنیا میں ہمیشہ کے لیےزندہ کردیا۔

    برونٹے کے والد کا نام پیٹرک برونٹے والدہ کا نام ماریا برانویل اور شوہر کا نام آرتھر بیل نکولس ہے۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیداہوئی اس نے معاشی تنگدستی کی وجہ سے نوکرانی کا کام بھی کیا لیکن اس کے باوجود اس نے تعلیم بھی حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہوئی لیکن اس کی شہرت اور خوشحالی کا آغاز اس کے ناول جین آئر سے ہوا یہ ایک شاہکار ناول ہے جس کا اردو سمیت دنیاکی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اس ناول پر 10 فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں ۔ اس کے دیگر مشہور ناولوں میں شرلی، ایما، پروفیسر اور ویلٹ شامل ہیں

  • انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ کملا داس ثریا

    انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ کملا داس ثریا

    کملا داس ثریا

    تاریخ پیدائش:31 مارچ 1934ء

    کملا داس ہندوستان میں انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ تھیں ملیالم ادب میں ان کو مادھوی کٹی کہا جاتا تھا۔ ان کو انگریزی اور ملیالم ادب میں کمال حاصل تھا۔

    خاندانی پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کملا داس 31مارچ 1934 کو بھارت کے شہر کیرالا کے ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد وی ایم نائر اور والدہ اس دور کی مشہور ملیالم شاعرہ بالامانیمیمّا تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اے کے انتھونی بھی ان کے رشتہ دار بتا‎‎ئے جاتے ہیں۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کملا داس ثریا کی ادبی زندگی کا آغاز 8 سال کی عمر میں ہی ہو گیا تھا جب انہوں نے وکٹر ہیوگو کی تحریروں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کی پہلی کتاب ”سمران کلکتہ“ تھی جس نے ان کو انقلابی ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان کی تحریروں میں مردوں کے تسلط والے سماج میں خواتین کی بے بسی کا ذکر ہے اور ان کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پڑھنے والوں کو عدم مساوات کو ختم کرنے پر سوچنے پر راغب کیا۔

    قبول اسلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کئی برس اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد کملا داس نے اسلام قبول کر لیا جس کے باعث بھارت اور کیرالہ کے ادبی و سماجی حلقوں میں ایک طوفان آ گیا تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد ان کا نام ثریا رکھا گیا۔ اپنے قبول اسلام کی بڑی وجہ جو وہ بیان کیا کرتی تھیں وہ ان کے الفاظ میں ”اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں وہ جان کر میں حیران ہوں میرے قبول اسلام کے پس پردہ اسلام کی جانب سے خواتین کو دیے جانے والے حقوق کا بڑا کردار ہے۔“
    31مئی 2009 کو پونا کے جہانگیر ہسپتال میں ان کی وفات ہوئی ۔ اس وقت ان کی عمر 75 برس تھی۔

    مشہور تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ (1)این اٹروڈکشن
    ۔ (2)دی ڈیزیڈنٹ
    ۔ (3)الفابیٹ آف لسٹ
    ۔ (4)اونلی سول نوز ہاؤ ٹو سنگ
    ۔ (5)مائی سٹوری (خود نوشت)

    منقول

  • ہندی شاعرہ، مجاہد آزادی اور ماہر تعلیم،مہا دیوی ورما

    ہندی شاعرہ، مجاہد آزادی اور ماہر تعلیم،مہا دیوی ورما

    مہا دیوی ورما

    پیدائش:26 مارچ 1907ء

    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گیان پیٹھ انعام (1982)
    ۔ (2)پدم بھوشن
    ۔ (3)پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم

    مہادیوی ورماہندستان سے تعلق رکھنے والی ہندی شاعر، مجاہد آزادی اور ماہر تعلیم تھیں ان کو ”جدید مِیرا“ تصویر کیا جاتا ہے۔ وہ 1914ء-1938ء کی جدید ہندی شاعری کی رومانوی تحریک ”چھایہ واد“ کی علمبردار اور ممتاز شاعرہ تھیں۔وہ الٰہ آباد کے نسوانی کالج، پریاگ مہیلا ودیاپیٹھ کی پرنسپل تھیں اور پھر وائس چانسل ہوئیں۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    26 مارچ 1907ء کو فرخ آباد میں مہا دیوی ورما کا جنم ہوا۔ الٰہ آباد کے کروستھ ویٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اس درس گاہ میں ان کی ملاقات سینئر سبھدرا کماری چوہان سے ہوئی، جو بعد ازاں مہا دیوی کی طرح خود بھی ہندی زبان کی ممتاز لکھاری اور شاعرہ بنیں۔
    مہا دیوی کا اصلاً داخلہ کانوینٹ اسکول میں ہوا تھا لیکن مزاحمت کرنے پر انہیں الہ آباد کروستھ ویٹ گرلز کالج میں ایڈمشن ملا۔ مہا دیوی کے مطابق انہوں نے کروستھ ویٹ کے ہاسٹل میں اتحاد کی طاقت کو سمجھا جہاں مختلف مذاہب کی طالبات رہتی تھیں۔

    مہا دیوی نے خفیہ طور پر نظمیں لکھنا شروع کیں؛ لیکن ان کی ہم کمرہ اور سینئر سبھدرا کماری چوہان (اسکول میں نظمیں لکھنے کے لیے مشہور تھیں) نے مہا دیوی کی نظمیں دیکھ لیں اور ان کے اندر کا چُھپا ہُنر ظاہر ہوا۔ اب مہا دیوی او سبھدرا نھ اکھٹے نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔

    وہ اور سبھدرا نظمیں چھاپنے کے لیے بھی بھیجتی تھیں جیسے کہ ہفتہ وار رسالوں میں اور وہ کچھ نظموں کو شائع کرنے میں کامیاب ہوتیں۔ دونوں شاعرات کوی سمیلن میں بھی شریک ہوتیں، جہاں ان کہ ملاقات مایہ ناز ہندی شعرا سے ہوتی تھی اور وہ ان کی نظمیں سامعین کو سناتی تھیں۔ یہ ساتھ سبھدرا کے کروستھ ویٹ سے تعلیم مکمل کرنے تک رہا۔

    وہ اپنی بچپن کی سوانح عمری، میرے بچپن کے دن میں لکھتی ہیں کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی پیدائش آزاد خیال خاندان میں ہوئی ورنہ اس وقت لڑکیاں خاندان میں بوجھ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے دادا ان کو عالمہ بنانا چاہتے تھے اور خواہش کی تھی کہ رسم کے مطابق نو برس کی عمر میں بیاہ ہو۔ ان کی والدہ سنسکرت اور ہندی روانی سے بولتی اور بہت مذہبی تھیں۔ مہا دیوی اپنی دلچسپی کا سہرا اپنی ماں کو دیتی ہیں جن سے متاثر ہو کر انہوں نے نظمیں لکھیں اور ادب میں دلچسپی لی۔

    1929ء میں مہا دیوی ورما کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے شوہر ڈاکٹر سورپ ناراین ورما نے ان کے ساتھ رہنے سے منع کر دیا کیونکہ وہ دکھنے میں اچھی نہیں تھیں۔ وہ ان کو منا بھی نہیں سکیں۔ انہیں بھکشونی سمجھا جاتا تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے بودھ پالی اور پراکرت نصوص کا مطالعہ کیا تھا کیونکہ وہ ان کی ماسٹر ڈگری کا حصہ تھے۔

    کاپی

  • خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں،یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے

    خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں،یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے

    خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
    یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے

    فرحت زاہد

    معروف شاعرہ فرحت سلطانہ المعروف فرحت زاہد 23 مارچ 1960،میں ملتان میں پیدا ہوئیں اور تعلیم بہاول پور میں حاصل کی۔30 برس دبئی اور نیویارک میں گزارے اور اب لاہور میں مقیم ہیں۔وہ کافی عرصے سے شاعری کر رہی ہیں ان کا کلام اہم رسائل جیسے ’فنون‘، ’اوراق‘اور’نقوش‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ مشاعروں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں’ لڑکیا ں ادھوری ہیں‘ اور ’عشق جینے کا اک سلیقہ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ تانیثیت کا مدھم لہجہ ان کی غزلوں کی شناخت ہے۔

    روشن لفظوں کی شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر:شبنم رومانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرحت زاہد ایک تازہ کار اور ضمیر دار شاعرہ ہے، اُس کا کینوس وسیع ہے۔ وہ اپنی ذات کے حوالے سے پورے طبقۂ اناث کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں خاص طور سے متوسط طبقہ اُس کی فکر کا محور ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ انسانی مستقبل اور عالمی صورتِ حالات سے بھی بے تعلق نہیں ہے۔ اپنے اور غیروں کے دکھ سکھ میں نہال رہنے والی یہ شاعرہ قدم جما جما کر آگے بڑھ رہی ہے۔ ترقی وہ ہے جو تدریجی ہو۔ چھلانگیں لگانے والے اکثر اوندھے منہ گرتے ہیں او پھر سنبھل نہیں پاتے۔ خیال کی تازگی اور اظہار کے توازن نے اُس کو ہر مکتبِ فکر کے لیے قابلِ قبول بنا دیا ہے، اس انکسار میں ایک افتخار بہرحال اُس کو سربلند رکھتا ہے کہ وہ عورت ہے جو محبت اور رفاقت، خدمت اور قربانی، تہذیب اور اخلاق کی علامت ہے جس کی وجہ سے تصویرِ کائنات میں رنگ ہے مگر جس کی ”مظلومی“ کو عقدۂ مشکل بناکر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    یہ بظاہر کومل اور کمزور سی لڑکی حقیقتاً جرأت اور استقامت کا پیکر ہے۔ فرحت کئی محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہی ہے۔ اُس کا پہلا مدِ مقابل خود اس کا وجود ہے، دوسری امتحاں گاہ اس کا اپنا گھر ہے۔ تیسرا معرکہ معاشرے سے ہے اور چوتھا مورچہ ” محاذِ فن“ ہے۔
    فرحت کے ہاں عورت کے سب رُوپ طرح دارا نہ حسن کاری اور فنکارانہ حقیقت نگاری کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کچّے رستوں سے ناآشنا اور بارشوں میں دھلی ہوئی یہ لڑکی عورت بن کر ایک الف لیلوی عالم سے دو چار ہوتی ہے تو ماں بن کر مامتا کے عظیم تجربے سے گزرتی ہے۔ یہ تبدیلی اس کے لیے اُڑن کھٹولے کے ذریعے دوسری دُنیا میں اُترنے کے مترادف ہے۔

    فکر و احساس کی اس دوسری دُنیا کے علاوہ ایک تیسری دنیا بھی ہے، کولمبس جس کو پہلی دنیا سمجھا تھا اور جس کو اب بھی پہلی دُنیا ہی کہا جاتا ہے۔ وہ عملاً اڑن کھٹولے کے ذریعے اس دنیا میں پہنچی ہے۔ یہاں کے شب و روز اور ان کے سیاق و سباق سب مختلف ہیں۔ یہاں چاروں طرف کرنسی نوٹوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے جو کمزور طبع لوگوں کو مدہوش کیے دیتی ہے۔ یہاں آرائشوں اور آلائشوں اور آسائشوں کا ایک طلسمی جال ہے، فرشتے بھی جس میں گرفتار ہونے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں۔

    مگر فرحت نے نقل مکانی کے باوجود اصل مکانی کو نہیں چھوڑا اور اپنی ”روحی“ کی محبت سے منہ نہیں موڑا۔ اس کے ہاں وطن کی محبت کا روایتی اور عامیانہ اعلان نہیں ہے بلکہ اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اپنی زمین اور اپنے آسمان سے محبت کی ایک نہایت بلیغ صورت اظہار ہے۔ وہ ہجرت کا دکھ سہتی ہے مگر ہجر کی عظمت کی بھی قائل ہے۔ وہ اداس ہے مگر مایوس نہیں ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں بھی روشنی کی ایک کرن کا پلو پکڑے رہتی ہے۔ اُس کی یہ رجائی سوچ اُس کی شاعری کا بڑا مثبت پہلو ہے جو اُس کے لیے امکانات کے نئے نئے در وا کرتی رہتی ہے۔
    ہم اپنی مشعلِ احساس لے کے جب نکلے
    تمام لفظ تھے روشن سخن کے رستے میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے
    جیسے دھوپ میں بارش ہونا اچھا لگتا ہے
    خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
    یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے
    سانجھ سویرے کھلتے ہیں جب تیتریوں کے پر
    اس منظر میں منظر ہونا اچھا لگتا ہے
    بارش آ کر برس رہے گی موسم آنے پر
    پھر بھی اپنا درد چھپانا اچھا لگتا ہے
    بادل خوشبو اور جوگی سے آخر کون کہے
    مجھے تمھارا آنا جانا اچھا لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے
    کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے
    وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے
    اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے
    کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا
    تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے
    جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہے
    مگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے
    پگھل رہا ہے مرا دن سیاہ راتوں میں
    کہانی گھوم رہی ہے زوال سے آگے
    رکے ہوئے ہیں کنارے پہ وہ تلاطم ہے
    یہ شہر عشق ہے اور ہے مجال سے آگے
    مشام جاں میں کوئی دیپ سا جلائے ہوئے
    نکل چلی ہوں میں رنج و ملال سے آگے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا
    موسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا
    وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکن
    اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا
    وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہ
    اسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا
    کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں
    پہنائی میں دل کی کبھی اترا نہیں کرتا
    اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہی ہوں
    بیتے ہوئے کل پر یہ گزارا نہیں کرتا

  • میری شہہ رگ ہے تیرا پایۂ تخت

    میری شہہ رگ ہے تیرا پایۂ تخت

    وہ خریدار قہقہوں کا
    اور میں درد بیچنے والی

    عالیہ بخاری ہالہ 20 مارچ 1970 کو لاہور میں سید بشیر حیدر اور سیدہ پروین اختر کے ہاں پیدا ہوئیں ان کی اصناف میں افسانہ، شاعری، مضامین تنقید، بچوں کا ادب شامل ہیں
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گورکھ دھندا
    ۔ (2)مولوی قدرت اللہ پاکستانی
    ۔ (3)کھیر کی پلیٹ
    ۔ (4)خواب
    ۔ (5)حسن حقیقی
    ۔ (6)گورکھ
    صحافتی ذمہ داری
    ۔۔۔۔۔۔
    ماہنامہ ”نوازش“، لاہور میں ایڈیٹر ہیں ، 1985 میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا

    حمد
    ۔۔۔۔
    خالقِ شش جہاں سبحان اللہ
    میں کہاں تو کہاں سبحان اللہ
    تجھ سے راز و نیاز کرتی ہوئی
    میری خاموشیاں سبحان اللہ
    بے نشان و حقیر ذات مری
    ہر جگہ تو عیاں سبحان اللہ
    میری شہہ رگ ہے تیرا پایۂ تخت
    توہے مجھ میں نہاں سبحان اللہ
    خاک کے گھر میں قید میرا نفس
    اور تو لامکاں سبحان اللہ
    تیری رحمت اگر ہے ساتھ مرے
    میں نہیں بے اماں سبحان اللہ
    سج گیا ہے تری تجلی سے
    میرے دل کا مکاں سبحان اللہ
    میں ہوں محدود تو ہے لا محدود
    ابدی و بیکراں سبحان اللہ
    ایک زرۂء خاک میرا وجود
    اور کہاں تیری شاں سبحان اللہ
    تو ہی رگ رگ میں ہے سمایا ہوا
    تو ہی ہے حرزِ جاں سبحان اللہ
    تو اندھیروں میں میرا سورج ہے
    دھوپ میں سائباں سبحان اللہ
    خالقِ شش جہاں سبحان اللہ
    میں کہاں تو کہاں سبحان اللہ

    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    وہ خریدار قہقہوں کا تھا
    اور میں درد بیچنے والی
    میری اور اس کی بات کیا بنتی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اس نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ
    اک دل بے قرار کا تحفہ
    قسمتو ں سے کسی کو ملتا ہے
    جانِ جاں وصلِ یار کا تحفہ
    سرد موسم نے لی ہے انگڑائی
    آ چکا ہے بہار کا تحفہ
    میرے قدموں کو کیجیے مضبوط
    دیجیے اعتبار کا تحفہ
    دل سلگتا ہوا ملا ہمیں یوں
    جیسے بھُس کو شرار کا تحفہ
    تیرا غم یوں چھپائے پھرتے ہیں
    جیسے دیرینہ یار کا تحفہ
    آپ کے روپ میں ہمیں ہالہؔ
    مل گیا غمگسار کا تحفہ

  • وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے

    شاعرہ ،افسانہ نگار اور صحافی صبا ممتاز بانو 12 مارچ 1971ء کولاہور میں پیدا ہوئیں ،
    افسانہ
    ۔۔۔۔۔
    پنچھی
    ۔۔۔۔۔
    رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔
    شب کے راجا نے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر تلے خاموشی بھی سمٹ گئی۔ ضیائے آفتاب نے ہر چیز کو برہنہ کردیا۔ شعاعوں نے راحت کی مچان پر لیٹی مانو سے آنکھ مچولی شروع کردی تو اس کے بدن نے آفتاب کے حرارت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ پلکیں رات بھر کے وصال کے بعد تازہ دم ہو چکی تھیں۔ اس نے چھت کی منڈیروں پر نگاہ ڈالی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ آج بھی کوئی پرندہ نہیں تھا۔
    اس نے مایوس ہو کر مٹی کے کونڈے کی طرف دیکھا۔ پانی شفاف تھا۔ روٹی کے ٹکڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ ان کی چمک ضرور ماند پڑ گئی تھی۔ سب کچھ ویسے کا ویسا تھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ کوئی بھولا بھٹکا افقی مسافر بھی ادھر نہیں آیا تھا۔ اگر آیا ہوتا تو یہ پانی اور یہ روٹی کے ٹکڑے یوں چپ تو نہ سادھے ہوتے۔
    اس نے اپنے گھر کے ساتھ والے باغ پر نگاہ ڈالی۔ وہاں بھی ایک رات میں کچھ نہیں بدلا تھا۔ گلاب کے مہکتے ہوئے پھول، مٹی کی سوندھی خوشبواور اس باغ میں تنہا کھڑا ایک درخت، یہ سب تو رات کو بھی تھے۔۔۔ اس کی عادت تھی کہ وہ نیند محل میں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اپنے گھر سے ملحقہ اس باغ کو ضرور دیکھتی تھی۔ جس میں ایک بڑا سا درخت اسے اپنی جانب پکارتا ہوا لگتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شاہین آکر اس پر بیٹھ جاتاتو اسے لگتا کہ کائنا ت اس کی مٹھی میں آ گئی ہو۔ کہاں سے آتا تھا وہ۔ کدھر کو جاتا تھا وہ۔؟ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتے۔ پھر مانو سونے کے لیے اپنی چار پائی کی طرف چل دیتی اور وہ اپنے ٹھکانے کی طرف۔ اسے کسی کے ہاتھ آنے کا شوق نہیں تھا اور مانو کو اسے ہاتھ لگانے کا شوق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ صبح کے وقت بھی آ جاتا تھا مگراب وہ اس درخت پر موجود نہیں تھا۔ مانو نے اس کے تصور سے دل کو شاد کیا۔
    سپیدی سحر میں یہ باغ حسن کی جاگیر لگ رہا تھا۔ پھولوں کی روشوں میں خراماں خراماں چلتی ہوئی ہوا کے راج پر صرف پھول ہی نہیں جھوم رہے تھے۔ یہ جشن مسرت چند کتے بھی منا رہے تھے جو ہوا کی اٹھکیلیوں پر پاگل سے ہو ئے جا رہے تھے۔ کوئی گول چکر میں پھیرے لے رہا تھا اور کوئی باغ کے اس کونے سے اس کونے تک دوڑ لگا رہا تھا۔
    ‘‘یاالٰہی، ہوا ان کے بدن میں بھی مستی دوڑا دیتی ہے، یہ دیوانگی، یہ جذب و جنوں ان پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ کیسے مستیاں کرتے ہیں یہ۔ کیسے شوخیاں کرتے ہیں؟’‘ سوچتے سوچتے اس نے مست ہوا میں آنچل کو لہرایا۔ سورج راجا کو ہٹنے کا اشارہ کیا۔ پھر کائیں کائیں کرتے ہوئے کووؤں کو پکارا۔ چہکتی ہوئی فاختاؤں کو آواز دی۔ کسی نے بھی تو نہیں سنا۔ وہ دکھ کی لہروں کو اپنے وجود میں سمیٹے ہوئے نیچے اتر آئی۔ شانو آٹا گوندھ رہی تھی۔ پلکوں پر بیٹھے ہوئے آنسو اسے دیکھتے ہی نیچے لڑھک گئے۔
    ”کیا ہوا، رو کیوں رہی ہو۔“ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ساعت کرن آنچل بھی لہرایا، ان کو پکارا بھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ‘‘وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”پگلی کہیں کی۔ ارے کیا ہوا۔؟ نہیں آتے تو نہ آئیں، ان کو دانہ دنکا بھی ڈالتے ہیں۔ روٹی چاول بھی رکھتے ہیں۔ پانی کا برتن بھی رکھا ہے۔ پھر بھی نہیں آتے۔ تو ہم کیا کریں۔‘‘ شانو نے اسے تسلی دی۔
    ”شانو۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ بابا کہا کرتے تھے۔ پرندے خدا کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنا کر رکھوگے تو سب ٹھیک رہےگا۔ بابایہ بھی کہا کرتے تھے۔ چھوٹی سی یہ مخلوق بڑی سی مخلوق کی خدا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔‘‘ مانو نے بابا کی بات شانو کو یاد دلائی۔
    ”بابا ٹھیک کہا کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی نخریلی ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہیں سنتی تو ہم کیا کریں۔’‘ شانو نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی۔
    ”مگر جب بابا تھے تب تو ہمارے گھر میں بہت پرندے آتے تھے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک دفعہ تو امی کا چھوٹو پرس بھی کھانے کی چیز سمجھ کر لے گئے تھے۔۔۔‘‘ مانو کو بھولی بھٹکی کوئی بات یاد آ گئی۔
    ”ہاں۔ پھر وہ گھر کے قریب جھاڑیوں میں اٹکا ہوا مال تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے۔‘‘ شانو نے لقمہ دیا۔
    ”یقینا اس کوے کی نگاہ کمزور ہوگی۔’‘ مانو کی اداسی اب ہنسی میں ڈھل گئی تھی۔
    ”ابا کا بس چلتا تو اس کو بھی عینک لگوا دیتے۔’‘ شانو کی رگ ظرافت بھی پھڑک چکی تھی۔
    ”کچھ بھی تھا شانو، ابا ہوتے تھے تو پرندے صبح دم ہی آکر بیٹھ جاتے اور شام کو جاتے تھے۔ اب یہاں دن سے شام ہو جاتی ہے۔ میں ان کی راہ تکتی رہتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ کوئی بھی تو نہیں آتا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”ارے وہ گھر بھی تو دوسرا تھا نا۔ اس گھر میں ہم اوپر والے حصے میں ہی آباد تھے۔ وہیں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی دوستی ہو گئی تھی ہم سے۔ یہاں ہم نیچے رہتے ہیں اور وہ دوستی کیا کریں، ان کو تو ہماری شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔’‘ شانو نے منطقی بات کی۔
    ”ہاں۔ تب ہمارا بسیر ا چھت پر تھا۔ وہ تو ہمارے ہاتھ سے اچک کر کھا لیتے تھے۔ اب تو ہم صرف ان کو کھانا ڈالنے ہی اوپر جاتے ہیں۔‘‘ مانو کی سمجھ میں شانو کی یہ بات آ گئی تھی۔
    ”چلو شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی بات مانی لیکن کل پھر صبح اٹھتے ہی تم نے مجھ سے پو چھنا ہے کہ شانو ہمارے گھر میں پرندے کیوں نہیں آتے۔’‘ شانو نے منہ بناکر کہا۔
    ”ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اپنا کھانا تو کھا لیا کریں نا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”کھا لیں گے۔ کھا لیں گے۔‘‘ شانو نے بڑی بہن مانو کو تسلی دی۔
    مانو کو گرمی میں چھت پر سونے کی عادت تھی۔ اسے تاروں سے بھرا آسمان امید کا جہان دکھتا تھا۔ افق پر بھولے بھٹکے پرندوں کو سفر کرتے دیکھ کر اسے ایسا لگتا جیسے وہ خود بھی کسی قافلے سے بچھڑ ی کوئی ڈار ہو جو اپنے غول کی تلاش میں ہو۔ ایک آہ، ایک کونج اس کے سینے سے نکلتی۔
    ”یہ انسان کا جسم مجھے کس نے اوڑھایا ہے۔ یہ بدن تو کسی پرواز پر تھا۔’‘
    کبھی کوئی درد بھری آواز کو وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی ہوئی سنتی تو فریاد کی بستی پر مصلے بچھا دیتی اور اس کا دل اس پر بیٹھ کر دعا گو ہو جاتا۔ میرے رب، مسافر قافلے سے بچھڑ جائے تو منزل کو کھو دیتا ہے۔ نیلگوں آسمان کی وسعتوں پر اڑنے والے قافلوں کو بھٹکنے سے بچا۔ دھرتی ان کی کونج کا درد نہیں سہار سکتی۔ یہ اونچی پروازوں کے راہی ہیں۔ ‘‘
    دونوں یادوں کے جنگل میں بسیرا ڈالے بیٹھی تھیں کہ دانی آ گیا۔ مانو نے دانی کو دیکھا تو سب بھول بھال اسے گود میں اٹھا لیا۔ اسے بانہوں سے پکڑا، جھولا دیا اور پھر نیچے اتار دیا۔ دانی خوشی سے دم ہلاتا ہوا چھت پر چلا گیا۔
    ”جتنے چکر یہ چھت کے لگاتا ہے۔ ہم لگائیں تو تھک ہی جائیں۔’‘ شانو نے دانی کو پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کہا۔
    ”بھئی اس کا واش روم جو اوپر ہے۔ اوپر نہ جائے تو کیا کرے۔’‘ مانو نے دانی کی حمایت کی۔
    ”ساری رات میرے ساتھ سکون سے سوتا ہے۔ صبح ہوتے ہی اس کی دھینگا مشتی شروع ہو جاتی ہے۔’‘
    شانو نے دانی کی شکایت کی۔
    ”ارے جا۔ میرا پتر شرارتی ضرور ہے مگر بدمعاش نہیں ہے۔ رات بھر تمہارے ساتھ سوتا ہے۔ کبھی اس نے چھیڑا تمہیں۔’‘ دانی کی شکایت پر مانو تو برس ہی پڑی۔
    ”چھیڑ کر دیکھا تو تھا ایک دن اس نے۔’‘ شانو نے کہا تو مانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
    ”پھر۔؟’‘مانو کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”پھر کیا، اسے پتا چل گیا کہ میں بلی نہیں ویسے کبھی ساتھ سلا کر دیکھو نا۔’‘ شانو نے کہا۔
    ”جس دن میرا میاں گھر نہ ہوا تو میں سلا لوں گی۔’‘ مانو نے فوراً جواب دیا۔
    دونوں کو بھورے سفید دھاری دار بلے سے بہت پیار تھا۔ اس گھر کی رونق تھا یہ بلا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر کے مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی رفیق ہیں۔ اسی لیے ان سے ہی فرمائشیں کرتا تھا۔ وہ بھی اسے چوکے پر بٹھاتیں۔ تحت پر سلاتیں۔ شیمپو سے نہلاتیں اور تھک جاتا تو دباتیں۔ دانی کا اس گھر میں راج تھا۔

    ”اگر دانی نہ ہوتا تو میں تو مر ہی جاتی۔ اس میں لگی رہتی ہوں تو غم کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ مانو نے سوچا۔
    پرندوں اور جانوروں سے پیار اسے ورثے میں ملا تھا۔ ابا ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے دل میں بھی ان کے لیے جیسے کوئی انجانی سی کشش اٹکی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ پرندوں کے پیچھے بھاگتی تھیں تو کبھی جانوروں کے لیے ہلکان ہو تی تھیں۔ مانو اور شانو دونوں کی کائنات ان میں سمٹی ہوئی تھی۔ اس کائنات میں آسماں پر پرندے رقص کرتے تھے اور زمین پر جانور دھما چوکڑی مچاتے تھے۔ وہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسی مخلوق کی طرح جی رہی تھیں جن کی زندگی کا واحد مقصد ہی ان کا خیال رکھنا اور ان سے پیار کرنا رہ گیا تھا۔

    پرندوں کو پکارتے پکارتے سمے بیت رہا تھا۔ مانو کی فریاد انہوں نے نہیں سنی۔ شانو کو کوئی غم نہیں تھا۔ اس کا دانی اس کے پاس تھا۔ اس کو بس دانی سے لگاؤ تھا۔ مانونے اب کھانا پینا گلی کے کتوں کو ڈالنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ پرندوں کے لیے رات کو کچھ نہ کچھ ضرور لے جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل بہل تو گیا تھا مگرکبھی کبھی مانو کی اداسی پھر عود کر آتی تو شانو اس کی گود میں دانی کو ڈال دیتی اور ہنستے ہوئے کہتی۔

    ”چھوڑو یار، دانی کو جھلاؤ۔’‘ وہ بھی ہر غم بھلاکر دانی کو پیار کرنے لگتی۔
    وقت کا ایک اور دن ڈھل گیا تھا۔ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔ مانو چھت پر سونے چلی گئی۔ شانو تسبیح پر کوئی ورد کرنے لگی۔ ماہتاب کی چمک مانو کے چہرے کو فروزاں کیے دے رہی تھی۔ اس نے چھٹکی ہو ئی چاندنی میں اردگرد کے منظر کو دیکھا۔ چاندنی کا حسن ہر چیز سے جھلک رہا تھا۔ اس سحر آفریں ماحول میں نیند کا خمار ایسا چڑھا کہ سارے منظر تحلیل ہو گئے۔ وہ نیند کے آسمان پر تحت نشین ہو گئی۔ رات میٹھی سی نیند میں گزر گئی۔

    چاند راجا کی سلطنت درہم برہم ہو گئی۔ سورج راجا ابھی تحت دن پر براجمان ہوا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوے روٹی کے ٹکڑے لیے منڈیروں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ چھت کائیں کائیں کی آواز سے گونج رہی تھی۔ فاختائیں دانہ دنکا کھا رہی تھیں۔ چوں چوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پرندے گھر کو آ گئے تھے۔ مانو کے دل میں مسرت کی لہریں پھوٹنے لگیں۔ وہ خوشی سے ہمکتی ہوئی نیچے آئی۔ شانو رو رہی تھی۔ دانی رات کو گھر نہیں لوٹا تھا۔ جانے راستہ بھول گیا تھا یا پھر گھر چھوڑ گیا تھا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دے دیا جو مقام اس کا ہے
    دل کی بستی میں نام اس کا ہے
    زندگی کی یہی صداقت ہے
    جس کی دنیا نظام اس کا ہے
    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے
    کتنے سالوں کے بعد میرے لیے
    آج آیا سلام اس کا ہے
    کب بھلایا اسے صباؔ میں نے
    ذکر تو صبح و شام اس کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم زدہ زندگی ہماری ہے
    چاہے دنیا بہت ہی پیاری ہے
    تم نہیں مانتے تو مت مانو
    میری ہر سانس بس تمہاری ہے
    چھوڑ کر ایسے وہ گئے ہم کو
    کیا جئیں گے کہ وار کاری ہے
    جو سہا میں نے وہ سہو گے تم
    وقت کی بھی تو ایک باری ہے
    بس سنبھلنا قدم قدم ہوگا
    زندگی ایک رازداری ہے
    اب ترے ہجر کا صباؔ ہر وقت
    میری آنکھوں سے خون جاری ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خواب اپنے لہو لہو کر کے
    رو دئے تیری جستجو کر کے
    کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
    آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
    کس قدر پر سکون ہوتے تھے
    اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
    عشق بے سود تو نہیں اپنا
    سوچنا میری آرزو کر کے
    لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
    یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
    ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
    زندگی میری مشکبو کر کے
    خود کشی تیرے پیار میں کر لی
    پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے