Baaghi TV

Tag: شاعرہ

  • شاعرہ اور افسانہ نگار  نیر رانی شفق

    شاعرہ اور افسانہ نگار نیر رانی شفق

    چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
    آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں

    نیر رانی شفق

    06 مارچ 1967ء کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہونے والی نیر رانی شفقؔ شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آباء و اجداد کا تعلق شہر انبالہ ہندوستان سے ہے، نیر رانی شفق نے اردو میں ایم اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ کچھ عرصے سے روزنامہ جنگ سے وابستہ رہیں، بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی کتابیں:۔ ” وطن کی خوشبو“ اور””ضیائے وطن“ پر صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ ان کے طویل افسانوں (کہانیوں اور ایک ناولٹ ) پر مشتمل کتاب ”شفق رنگ تقاریر“ پر ہند وپاک میں کئی ایوارڈ ملے ہیں۔ شعری مجموعہ ”شنگرفی شام“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    مری خستگی کو جمال دے
    مری بندگی کو کمال دے
    مرے دل کو نور میں ڈھال کر
    مرے فکر و فن کو اجال دے
    تو عروج دے مرے صبر کو
    مری خواہشوں کو زوال دے
    جو نکھار دے مری روح کو
    مرے دل کو ایسا ملال دے
    کوئی چاند بخش کے رات کو
    مری ہر سیاہی کو ٹال دے
    مری چشم گریہ کو حسن بخش
    دل ریزہ ریزہ سنبھال دے
    مجھے دائمی ہو شفقؔ عطا
    یہ مرض بدن سے نکال دے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہجر کی اندھی بہری راتیں
    تن من پیاسا بھیگی راتیں
    چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
    آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں
    مجھ سے خوب لپٹ کر روئیں
    سونی شام اندھیری راتیں
    صندل باتیں خوشبو لہجہ
    کہاں گئیں وہ مہکی راتیں
    ہم تم جھیل کنارے جاگے
    گاؤں کی شب اور شہری راتیں
    تارا تارا بکھر گئی تھیں
    وصل میں ڈوبی چاندنی راتیں
    بن کے پاگل پروا ڈھونڈوں
    لہریں ساحل بھیگی راتیں
    جنوری فروری اور دسمبر
    ٹھنڈ میں جاگی ٹھٹھری راتیں
    شفقؔ کے سوچ نگر میں ٹھہریں
    دھند میں لپٹی کیسی راتیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا
    صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا
    میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی
    اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا
    اک شوخ سی نگاہ جو رخ پہ جمی رہی
    عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا
    اس کی کتاب شوق کا سادہ ورق تھی میں
    میرا بھی عشق دیکھ کے اس کو سنور گیا
    منزل کی چاہتوں میں قدم رقص میں رہے
    بے کار عمر رائیگاں کا یہ سفر گیا
    چھایا تھا مہربان سا بادل جو دھوپ میں
    موج صبا جدھر گئی وہ بھی ادھر گیا
    کچھ شام سے لپٹ کے شفقؔ یوں جدا ہوئی
    لگتا تھا اب کے ہاتھ سے دل کا نگر گیا

  • چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنیوالی شاعرہ نورین طلعت عروبہ

    چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنیوالی شاعرہ نورین طلعت عروبہ

    عجب جنوں ہے کہ احوال کی خبر بھی نہیں
    ہم اپنے گھر بھی نہیں اور دربدر بھی نہیں

    نورین طلعت عروبہ

    تاریخ پیدائش 04 مارچ 1957ء
    جاے ولادت:| اٹک، پنجاب، پاکستان

    نورین طلعت عروبہ نے دور طالب علمی سے ہی اپنی دھواں دھار تقاریر اور غزل، نظم میں وہ نام بنایا جس کی تمنا ہر تخلیق کار رکھتا ہے۔ کالج سے یونیورسٹی کے چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن نورین کو اس سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ شاعری کا تحفہ اپنے شاعر دادا ڈاکٹر اظفر حسین خان اور والد محترم معروف صحافی اور شاعر جناب انوار فیروز سے ملا لیکن اس سلسلے میں جو محنت ان کی والدہ فہمیدہ انوار نے کی، نورین اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا ان کے سر باندھتی ہیں۔
    دور طالب علمی میں ہی ان کی غزلیں، پرویز مہدی، اقبال باہو، اور عطااللہ عینی خیلوی جیسے بڑے گلوکاروں نے گائیں۔
    دور طالب علمی ہی میں اپنے بہترین لہجے شاندار تلفظ اور متاثر کن آواز کی بدولت وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویِژن کی ضرورت بن گئیں۔ اسکرپٹ رائٹنگ کی صلاحیت کے باعث ڈھیروں شوز لکھے اور میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے۔
    مشاعروں کی نظامت پی ٹی وی سے جاری تھی کہ نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منتخب کر لی گئیں۔ ریڈیو پر پنجابی اور پاکستانی ٹیلی ویژن سے اردو میں بیک وقت خبریں پڑھنے والی پہلی نیوز کاسٹر بنیں۔
    جدہ میں قیام کے دوران وہاں خواتین کی پہلی ادبی و ثقافتی تنظیم ’’سلسلہ‘‘ کے نام سے بنا کر اس کی بانی صدر بنیں۔
    2002 میں ان کی نعتیہ شاعری پر مشتمل کتاب ’’حاضری‘‘ 72 نعتوں کے ساتھ کسی بھی شاعرہ کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس پر صوبائی اور قومی سطح پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اپنی تینوں کتابوں پر صدارتی ایوارڈ پانے والی پاکستانی شاعرہ ہیں۔
    آج کل امریکہ کی ریاست ورجینیا واسٹنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    عجب جنوں ہے کہ احوال کی خبر بھی نہیں
    ہم اپنے گھر بھی نہیں اور در بدر بھی نہیں
    وہ آنے والی رتوں کا حساب لیتے ہیں
    ہمیں تو لمحۂ موجود کی خبر بھی نہیں
    بھلا ہماری شہادت کو کون جانے گا
    ہماری آدھی گواہی تو معتبر بھی نہیں
    بجھا سکوں نہ اسے میں ترے اشارے پر
    چراغ جاں سے مجھے پیار اس قدر بھی نہیں
    یہ در کھلے گا خدا جانے کس کی کوشش سے
    ہمارے ہاتھ میں اب کے کوئی ہنر بھی نہیں
    میں اک نشست میں سارا تجھے سنا ڈالوں
    مرا فسانۂ غم اتنا مختصر بھی نہیں
    ترا یہ ترک تعلق بھی حوصلہ کن ہے
    کہ اب کسی سے بچھڑنے کا دل کو ڈر بھی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نمو کو شاخ کے آثار تک پہنچنا ہے
    بکھر کے پھول نے مہکار تک پہنچنا ہے
    ہم اپنی سلطنت شعر میں بہت خوش ہیں
    وہ اور ہیں جنہیں دربار تک پہنچنا ہے
    غریب شہر کے بہتے لہو کا ذکر فقط
    وہ سرخیاں جنہیں اخبار تک پہنچنا ہے
    ہمیں جو چپ سی لگی ہے یہ بے سبب تو نہیں
    کسی خیال کو اظہار تک پہنچنا ہے
    طلسم عمر کی تعریف ساری اتنی سی
    اک آئنہ جسے زنگار تک پہنچنا ہے
    کچھ ایسے لوگ جو شانوں پہ سر نہیں رکھتے
    مگر یہ زعم کہ دستار تک پہنچنا ہے
    وہ دن گئے کہ کوئی اشک پونچھنے آئے
    یہاں تو آپ کو غم خوار تک پہنچنا ہے

  • برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم  تورودت

    برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تورودت

    تورودت

    تورو دت برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تھیں۔ انہوں نے ہندوستانی ادب کو انگریزی زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق بنگال سے تھا۔04 مارچ 1856ء کو پید ہوئیں، ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے بعد خاندان سمیت عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ فرانس اور انگلستان کے سفر اختیار کیے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ اپنی تخلیقیات سے انگریزی ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ وہ ہندوستان کی پہلی ناول نگار ہیں جنہوں فرانسیسی زبان میں ناول تحریر کیا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تورو دت 04 مارچ 1856 کو بنگال کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ والد گووند چند دت کو سنسکرت اور قدیم ہندو تہذیب میں تعلیم و تربیت سے دلچسپی تھی۔تورو دت جب 6 سال کی تھیں کہ ان کا سارا خاندان عیسائی ہوگیا۔ تورو دت اور ان کا خاندان 1868ء میں یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 1870ء میں فرانس کے بعد اس خاندان کے لوگ انگلستان چلے گئے۔ فرانس میں تورو اور اس کی بہن آرو نے اسکول میں داخلہ لیا تھا، لیکن اسکول چھوڑ کر گھر پر ہی فراانسیسی زبان سیکھی۔ 1871ء میں نیونہم کالج، جامعہ کیمبرج میں داخل ہوئیں، وہاں انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وہ ستمبر 1873ء میں ہندوستان واپس آگئیں۔ جو کارنامے انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے وہ علمی نقطہ نظر سے ایک فن کارانہ اور قیمتی ذخریرہ ہیں۔ اگر انہیں زیادہ عمر ملی ہوتی تو دنیا کو ہندوستانی پرانوں اور کہانیوں سے کافی واقفیت ہو جاتی۔ انہوں نے جو تراجم کیے ان سے ہندوستان کی عزت بڑھی۔ ادب کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے کر سنسکرت زبان سے سیتا، لکشمی دھرو تیرملا کی کہانیوں کو انگرزی زبان میں متعارف کرایا۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں ایک ناول بھی لکھا تھا جو ان کے وفات کے بعد فرانس سے شائع ہوا۔
    جیون برکش (The Tree of Life)، کنول اور The Casrive فرانسیسی زبان میں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ انہوں نے مسیح کی تعلیمات کے عنوان پر نظمیں لکھیں۔ وہ ایک عیسائی خاتون تھیں جنہوں نے سماج کی خدمت مختلف طریقوں سے انجام دی اور مادرِ وطن کا نام نام بھی روشن کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    تورو دت 30 اگست، 1877ء کو بنگال کے شہر کلکتہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کلکتہ کے مانکتلا کرسچن قبرستان میں ہوئی۔

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ،  ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر  اور ریڈیو کمپیئر   افروز رضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    افروز رضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر اور ریڈیو کمپیئر

    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جانا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح

  • اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    میرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
    یہ جو گل نام کی لڑکی ہے نیا بولتی ہے

    گلفام نقوی

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین المعروف گلفام نقوی 19 فروری 1964 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں ۔ گلفام کے والد کا نام سید چراغ علی شاہ اور والدہ محترمہ کا نام سیدہ غلام جنت ہے۔ ان کے دادا سید سلطان شاہ اپنے علاقہ کی ایک بہت بڑی بااثر شخصیت تھے جبکہ گلفام کے نانا جان سید سردار علی شاہ ایک ولی کامل اور عارف شاعر و مصنف تھے ان کی ایک کتاب ، تحفہ عرفانی، شائع ہو چکی ہے ۔ گلفام نے گورنمنٹ کالج سمن آباد لاہور سے بی اے کیا ۔ 27 فروری 1987 میں ان کی شادی سید اقتدار علی شاہ سے ہوئی شادی کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئیں اولاد میں انہیں ایک بیٹا سید علمبدار حسین شاہ اور ایک بیٹی سیدہ قرت العین پیدا ہوئی ۔ شادی کے 5 سال بعد گلفام نقوی نے اپنے شوہر کے غلط راہ پر چلنے کی وجہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے فیصل آباد میں بیوٹی پارلر اور کپڑوں پر ڈیزائننگ کا کام شروع کیا اور بچیوں و خواتین کی تربیت کے لیے میں اپنے گھر میں سلائی کڑھائی کا سینٹر قائم کیا۔ گلفام کے دونوں بچے ماشاء اللہ بڑے ہو کر شادی کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔ گلفام نے بچپن سے ہی شاعری شروع کر دی تھی چھٹی جماعت میں انہوں نے پہلا شعر کہا۔ وہ اردو اور پنجابی میں غزل اور نظم لکھ رہی ہیں اب تک ان کے 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”سہارے مل ہی جاتے ہیں“دوسرا مجموعہ”کرب کی کوک میں “ ہے۔

    گلفام صاحبہ کی شاعری سے بطور نمونہ ایک غزل قارئین کی نذر

    میری پازیب کی جس وقت کتھا بولتی ہے
    میں تو چپ رہتی ہوں گھنگھور گھٹا بولتی ہے

    دستکیں بند کواڑوں پہ ہوا کرتی ہیں
    وصل کی جب میرے ہونٹوں پہ دعا بولتی ہے

    میرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
    یہ جو گل نام کی لڑکی ھے نیا بولتی ہے

    یہ جو دھڑکن ہے میرے دل کی مجھے تو ہی بتا
    نام اگر تیرا نہیں لیتی تو کیا بولتی ہے

    پیار کے گیت سناتی ھے وہاں خاموشی
    عاشقی دشت میں جب آبلہ پا بولتی ہے

    کس کی ہمت ھے تیری خاک۔قدم چھو پائے
    تیرے لہجے میں اگر خوئے حیا بولتی ہے

    کوئی سندیسہ تیرے نام کا لے آئی ھوں
    کان کی بالی سے چپکے سے ہوا بولتی ہے

    اس کی قربت میں تو خاموش ہی رہتی ہوں میں گل
    میری چوڑی میرے آنچل کی ادا بولتی ہے

    گلفام نقوی

  • مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    عائشہ ایوب

    پیدائش:18 جنوری 1983
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عائشہ ایوب نئی نسل کی شاعرات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ 18 جنوری 1983ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں ۔ ابتدائی تعلیم ممبئی اور سعودی عرب میں حاصل کی۔ وہ گزشتہ کئی سال سے لکھنؤ میں مقیم ہیں اورمختلف ادبی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اردو شاعری سے شغف ان کو بچپن ہی سے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مخاطب فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی اور اس کے ذریعے اردو کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔

    جہاں تک عائشہ کی شاعری کا تعلق ہے انہوں نے اپنے تجربات اور احساسات کو خوبصورت انداز میں شعری پیراہن میں ڈھال کر اظہار کے وسیلے کو احساس کی گرمی سے مالامال کیا اور اپنی آزاد و پابند شاعری میں احتجاج کے لہجے کے ساتھ نسائی احساسات و جذبات کو بھی خوبصورتی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عجلت میں وہ دیکھو کیا کیا چھوڑ گیا
    اپنی باتیں اپنا چہرہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    خواب زدہ تھا باتیں کرتا رہتا تھا
    رونے والوں کو بھی ہنستا چھوڑ گیا

    دل کے اک کونے میں آہیں رکھی ہیں
    جانے والا اپنا حصہ چھوڑ گیا

    جتنی یادیں لے کے ہم کو مرنا تھا
    اتنی سانسیں دے کے زندہ چھوڑ گیا

    دیواروں سے لگ کے رو لیتے ہوں گے
    جن کو ان کا سایا تنہا چھوڑ گیا

    کمرے سے جس دن اس کی تصویر ہٹی
    آئینے نے دیکھ کے پوچھا چھوڑ گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا
    تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا
    سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا
    مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا
    ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو
    جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا
    اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے
    اگر یہ زخم ہے مالک اسے ہرا کرے گا
    میں جانتی ہوں کہ جتنا خفا بھی ہو جائے
    وہ میرے شہر میں آیا تو رابطہ کرے گا
    میں اس سے اور محبت سے پیش آؤں گی
    جو میرے حق میں کوئی عائشہؔ برا کرے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم سے آتا نہیں جدا ہونا
    تم مری آخری سزا ہونا
    جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو
    اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا
    اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے
    ان درختوں کا یوں ہرا ہونا
    کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو
    کتنا آسان تھا بڑا ہونا
    میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا
    مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
    بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
    ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
    سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
    مری تنہائی کا عالم تو دیکھو
    زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
    تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے
    ترے حصے کا شکوہ کر لیا ہے
    نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں
    خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ہے
    ترستے ہیں جسے ملنے کی خاطر
    اسی کو اپنی دنیا کر لیا ہے
    وہ کیا ہے عشق ہم نے اب کی جاناں
    تکلف میں زیادہ کر لیا ہے
    اندھیروں میں تو رکھتے ہی تھے خود کو
    اجالوں میں بھی تنہا کر لیا ہے
    کھلے پنجرے میں بھی جس کو ہے وحشت
    یہ دل ایسا پرندہ کر لیا ہے

  • مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    فرحین چوہدری صاحبہ

    گفتگو و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ نگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے، وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے، ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں.

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہےشادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی صاحب نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے، فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے، انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔

    لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ، وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور انکی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹری رہیں وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں، فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنےکا بھی اعزاز حاصل کیا ہے، 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائریکٹر پروڈکشن اور پنجاب اور اسٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں، پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل، سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ، جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ،چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ، "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کےلئے بھی نامزد ہوا تھاآئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دئیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

  • بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن
    شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    فرزانہ نیناں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف پاکستانی شاعرہ فرزانہ نیناں کراچی میں پیدا ہوئیں تعلیم بھی یہیں پر حاصل کی رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد وہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں۔جہاں پہلے انھوں نے شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویڑن سے بھی وابستگی ہوئی، ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں۔

    شاعری کا رجحان انھیں اپنے چچا سے ملا۔ ان کے چچا محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے۔ابتدا میں انھوں نے نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے شاعری کا آغاز کیا۔ فرزانہ نیناں اپنی اسی نثری خصوصیات کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے ہیں۔ نیناں نے اپنے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی کی بدولت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے۔

    ان کے ہم عصر شاعروں کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”درد کی نیلی رگیں“ جب سے منظرعام پر آیا ہے نے تخلیقی چشمے میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے۔ ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے منفرد ہوا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں پیش کیا۔ پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصویروں کی طرح اجاگر کیا گیا ہے۔ اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے۔ ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے
    یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے

    جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی
    بھاگ بھری کے بھاگ اسی دن پھوٹے تھے

    مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئی
    ہم سایوں نے ہم سایے ہی لوٹے تھے

    شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
    ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

    اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناںؔ ساری رات
    اس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
    پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا

    پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روئی کیوں ہے
    موسم اس نے تو نشہ بار ذرا کرنا تھا

    تلخ لمحے نہیں دیتے ہیں کبھی پیاسوں کو
    سانس کے ساتھ نہ زہراب روا کرنا تھا

    کس قدر غم ہے یہ شاموں کی خنک رنگینی
    مجھ کو لو سے کسی چہرے پہ روا کرنا تھا

    چاند پورا تھا اسے یوں بھی نہ تکتے شب بھر
    یوں بھی یادوں کا ہر اک زخم ہرا کرنا تھا

    دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
    ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا

    کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
    درد کی نیلی رگیں دل میں رکھا کرنا تھا

    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    Copied

  • زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    علینا عترت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف ادیبہ اور شاعرہ علینا عترت صاحبہ کا تعلق اترپردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ سے انہوں نے انگریزی ادب اور تاریخ میں ایم اے کیا ہے اور بی ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے وہ اس وقت درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” سورج تم جائو” 2014 میں شائع ہوا جسے اردو اکادمی دہلی اور اردو اکادمی بہار کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا ہے۔ ان کی پہلی تخلیق عالمی سہارا میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی تخلیقات ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔علینا عترت مینا نقوی اور نصرت مہدی کی بہن ہیں اور وہ اس وقت دہلی میں مقیم ہیں۔

    علینا عترت کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھی
    تم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی کھبر سب سے چھپا لی میں نے

    تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملے
    ایسے سناٹوں سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے

    جب بھی فرصت ملی ہنگامۂ دنیا سے مجھے
    میری تنہائی کو بس تیرا پتہ یاد آیا

    ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
    ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

    ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
    یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

    جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی
    منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

    ہجر کی رات اور پورا چاند
    کس قدر ہے یہ اہتمام غلط

    اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی
    مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

    ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں
    ان چراغوں سے جل گئے شاید

    مرے وجود میں شامل تھا وہ ہوا کی طرح
    سو ہر طرف تھا مرے بس مری نظر میں نہ تھا

    بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
    خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے

    پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب
    میں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے

    جانے کب کیسے گرفتار محبت ہوئے ہم
    جانے کب ڈھل گئے اقرار میں انکار کے رنگ

    بن آواز پکاریں ہر دم نام ترا
    شاید ہم بھی پاگل ہونے والے ہیں

    بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں صدا
    گردش وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی

    عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی
    رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

    شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
    بس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا

    دل کے گلشن میں ترے پیار کی خوشبو پا کر
    رنگ رخسار پہ پھولوں سے کھلا کرتے ہیں

    اب بھی اکثر شب تنہائی میں کچھ تحریریں
    چاند کے عکس سے ہو جاتی ہیں روشن روشن

    کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم
    وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

    عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
    کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کے تھے حجاب میں ہم

    وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیے
    اسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود

    کوئی ملا ہی نہیں جس سے حال دل کہتے
    ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

    موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں
    ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

    بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی
    سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

    اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے
    یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

    گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس
    بیٹھے ہوئے ہے ایک کنارے ہمارے خواب

    خواہشیں خواب دکھاتی ہیں ترے ملنے کا
    خواب سے کہہ دے کہ تعبیر کی صورت آئے

    کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی
    جوں چمک اٹھتی ہے کوئی برق تلواروں کے بیچ

    کوزہ گر نے جب میری مٹی سے کی تخلیق نو
    ہو گئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی ہوا

    ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانند
    فکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی

  • مردانہ نام سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم

    مردانہ نام سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام
    22 نومبر 1819 یوم پیدائش
    لفظ Pop Music کی خالق
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلمی نام جارج ایلیٹ سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم "میری این ایوینز” کی زندگی میں خواتین مصنفین اپنے ہی ناموں کے تحت اپنا کام شائع کروانا شروع کر چکی تھیں، لیکن وہ خواتین کی تحریروں کو دقیانوسی رومانویت تک محدود سمجھنے کی شکل سے بچنا چاہتی تھیں ان کے قلمی نام کے استعمال کی دوسری وجہ اپنی نجی زندگی کو عوامی جانچ سے بچانے کی خواہش تھی، جس کی وجہ شادی شدہ جارج ہنری لیوس کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات تھے۔

    مارٹن ایمس اور جولین بارنز کے مطابق ایلیٹ کا ناول "مڈل مارچ” Middlemarch انگریزی ادب کا عظیم ترین ناول ہےوہ اپنے عہد کی کامیاب ترین ادیب تھیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول رومولا Romola کی اشاعت کے لیئے دس ہزار پاونڈ وصول کیئے تھے ۔

    جارج ایلیٹ نے اپنی زندگی کے آخری سال, اپنے سے 20 سال چھوٹے” جان کراس” سے شادی کی تھی، میوزک کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاح پاپ pop کا لفظ سب سے پہلے استعمال انہوں نے اپنے خطوط میں کیا (بمطابق: آکسفورڈ ڈکشنری)۔

    انہوں نے 22 دسمبر 1880 کو وفات پائی۔

    جارج ایلیٹ کے مشہور ناول درج ذیل ہیں:
    Adam Bede, 1859
    The Mill on the Floss, 1860
    Silas Marner, 1861
    Romola, 1863
    Felix Holt, the radical, 1866
    Middlemarch, 1871–72
    Daniel Deronda 1876
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی