Baaghi TV

Tag: شاعرہ

  • برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کی کلاسیکل گلوکارہ ، اداکارہ ، صحافی، شاعرہ اور وکیل ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل 20 اکتوبر 1918 کو بمبئی آنند رائو وکیل کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں انہوں نے ایم ایس سی، ایل ایل ایم اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ سشیلا نے 7 سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

    1942 میں انہوں نے کلاسیکل گائیکی کا آغازکیا اوربعد ازاں انہوں نے School for music shiv sangeetanjali کی بنیاد رکھی۔ موسیقی کے اس اسکول میں ان کے کئی مشہور فنکار شاگرد پیدا ہوئے ڈاکٹر سشیلا نےکچھ عرصےبمبئی ہائیکورٹ میں وکالت کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا نے متعدد فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں فلم عالم آرا، خدا کی شان، یاد رہے اور سندیسہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    موسیقی اور اداکاری میں فلم پروڈیوسر بابو رائو پٹیل نے ان کی بہت بڑی مدد کی اور بعد میں انہوں نے بابو رائو پٹیل سے شادی کی۔ شادی کے بعد بابوراؤ پٹیل اور ڈاکٹر سشیلا نے ایک فلمی رسالے ” Filmindia کا جاری کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہیں اور شاعری بھی کرتی رہیں ۔ 24 جولائی 2014 بمبئی میں 96 برس کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ میوزک کو ” سشیلا بابو رائو پٹیل” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔

  • کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    میں اکثر مرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    شازیہ نیازی بہار شریف، شیخ پورہ میں 23 جولائی 1990 بی اے تک تعلیم حاصل کی انہوں نے 2016 سے شاعری کا آغاز کیا ادبی نام تسلیم نیازی استعمال کیا ان کی تصنیفات میں شعری مجموعہ 2020 میں لفظوں کی سازش چھپا ،تسلیم نیازی، بشیر بدر، پروین شاکر اور تہذیب حافی ان کے پسندیدہ شاعر ہیں ،سرکاری انعامات و اعزازات: ۔Eastern Railway، ۔Asansol Division، ۔Kavyanga،۔15/8/2018

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی
    میں روز روز بہانا نہیں بنا سکتی
    ترا خیال مری روٹیاں جلاتا ہے
    میں اطمینان سے کھانا نہیں بنا سکتی
    ضرور وہ کسی آسیب کی گرفت میں ہے
    میں اس قدر تو دِیوانہ نہیں بنا سکتی
    سبھی کی تنگ خیالی نے گھر کو بانٹ دیا
    اکیلی سوچ گھرانا نہیں بنا سکتی
    نئے نئے سے یہ انداز چبھ رہے ہیں مگر
    میں تم کو پھر سے پرانا نہیں بنا سکتی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ دھیان میں رکھیو، بڑی کرسی بڑا غصہ
    کہیں مہنگا نہ پڑجائے ہمیں سرکار کا غصہ
    میں اکثر مرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ
    چلو اب مان بھی لو تم، تمھیں ذہنی مسائل ہیں
    ذرا سی بات پر کرتے ہو تم اچھا بھلا غصہ
    مری ہر ڈانٹ پر بچے جواباً مسکراتے ہیں
    بس اک مسکان سے اڑ جاتا ہے بن کر ہوا غصہ
    تری خفگی کے سارے ذائقوں کا علم ہے مجھ کو
    کبھی ہے نیم سا کڑوا کبھی ہے چٹپٹا غصہ
    زمانے، میری من مانی پہ کیوں آنکھیں دکھاتا ہے
    بہت دیکھے ترے جیسے تونگر، چل ہٹا غصہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کیسا جنون عشق کے دفتر میں آگیا
    سب فائلیں سمیٹ کے دل گھر میں آگیا
    اک درد بچ گیا تھا جو سہنے کے واسطے
    احساس میرا راہ کے پتھر میں آگیا
    تلخی تمھاری ذات کی مشہور ہوگئی
    مہندی کا رنگ چھوٹ کے چادر میں آگیا
    اس کی ہتھیلیوں سے بھی راحت نہیں ملی
    یہ کس طرح کا درد مرے سر میں آگیا
    مجھ کو ملا تھا باغ میں اک بولتا گلاب
    ہونٹوں سے جب لگایا تو پیکر میں آگیا
    پھر آج اک پرندہ ترا شہر چھوڑ کر
    دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بےاجازت تو بس آتی ہے ہوا کمرے میں
    کون رہتاہے ترے ساتھ بتا کمرے میں
    روز آتی ہے دبے پاؤں کسی کی خوشبو
    چھوڑ جاتی ہے کوئی نام پتا کمرے میں
    اپنے حالات بتائیں تو بتائیں کس کو
    ایک کُرتا ہے ترے بعد ٹنگا کمرے میں
    ہر نئی بات پہ جی بھر کے تماشا کرنا
    یہ فرائض تو وہ کرتے ہیں ادا کمرے میں
    مجھ سے تُو میری اداسی کا سبب پوچھتاہے
    جا کبھی تو مری تصویر لگا کمرے میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہر ایک جلوہ نمائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    ہم اپنے دستِ حنائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    کسی سوال کی ہوتی نہیں ہے گنجائش
    کہ آپ ایسی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    دہائی دیتے ہیں کیوں مذہبی نظام کی آپ
    یہاں ہم اپنے ہی بھائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    یقیں کو وار کے مایوسیوں کی راہوں میں
    کبھی کبھار خدائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    ذرا سی بات پہ آنچل بھگونے لگتی ہے
    یہی سبب ہے کہ مائی سے جھوٹ بولتے ہیںی

  • جب نہ ہو دل سے رابطہ دل کا ،ختم ہوگا نہ فاصلہ دل کا

    جب نہ ہو دل سے رابطہ دل کا ،ختم ہوگا نہ فاصلہ دل کا

    جانے کب وصل کی گھڑی آئے
    جانے کب ٹھہرے قافلہ دل کا

    نام: غزالہ بٹ
    تاریخ پیدائش:16 جولائی 1970ء
    جائے پیدائش:کوئٹہ
    زبان:اردو
    اصناف:افسانہ،شاعری

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تین ایک باسٹھ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ 2021ء
    ۔ (2)خیالِ منتشر
    ۔ (غزل، نظم اور ہائیکو پر مشتمل کتاب)
    ۔ طباعت کے مراحل میں
    ۔ (3)بیس عظیم کہانیاں
    ۔ (زیرِ طبع)
    مستقل سکونت : کوئٹہ

    غزالہ بٹ کے والدین کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ والدین امرتسر تقسیم وطن کے وقت پاکستان آئے تو کوئٹہ میں اقامت پذیر ہوئے۔ غزالہ بٹ کے والدین کا تعلق کشمیر سے تھا۔ ان کے والد کا نام غلام نبی بٹ ہے اور والدہ کا نام فاطمہ بٹ ہے۔ غزالہ بٹ کی سات بہنیں اور پانچ بھائی ہیں۔ غزالہ بٹ اپنی بہنوں میں چھٹے نمبر پر ہیں۔

    غزالہ بٹ 16 جولائی 1970ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔ غزالہ نے ابتدائی تعلیم ایوا گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔ ایف اے گورنمنٹ کینٹ کالج سے کیا۔ ایف اے کے بعد ان کی شادی ہوگئی۔ ان کی شادی 1995ء میں ہوئی۔ شادی کے بعد دس سال بچوں کی پرورش اور گھر داری میں گزر گئے۔ ہی وقت پُر لگا کر اڑ گیا غزالہ بٹ کے شوہر عمران کامل ہاشمی بھی شاعر ہیں –

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم کی صورت بدل گئی ہوگی
    زندگی چال چل گئی ہوگی
    ورنہ وعدے سے کیوں مکرتا وہ
    اس کی نیت بدل گئی ہوگی
    ہم نے چاہا بہت چھپانے کو
    بات آخر نکل گئی ہوگی
    دیکھ کر شدتِ غمِ دوراں
    موت بھی آ کے ٹل گئی ہوگی
    دیکھ کر اس کے خد و خال حسیں
    چاندنی خود ہی ڈھل گئی ہوگی
    یاد کر کے غزالہ وہ صورت
    کچھ طبیعت بہل گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جب نہ ہو دل سے رابطہ دل کا
    ختم ہوگا نہ فاصلہ دل کا
    ہم تو ہیں سامنے ترے د ل کے
    کاش دیکھو جو آئینہ دل کا
    جانے کب وصل کی گھڑی آئے
    جانے کب ٹھہرے قافلہ دل کا
    تم جو چاہو تو آ بھی سکتے ہو
    کوئی مشکل ہے راستہ دل کا
    ان سے کہنا کہ الوداع جاناں
    جان لیوا تھا حادثہ دل کا

  • پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔

    زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔

    وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر، تو اپنے ذہن سے پہلے نکال دے مجھ کو

    میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر، تو اپنے ذہن سے پہلے نکال دے مجھ کو

    میں اپنے دل سے مٹائوں گی تیری یاد مگر
    تو اپنے ذہن سے پہلے نکال دے مجھ کو

    زرینہ ثانی

    معروف ہندستانی ادیبہ اور شاعرہ زرینہ فاطمہ المعروف زرینہ ثانی کی پیدائش 5 جولائی 1936ء کو ناگپور شہر میں ہوئی تھی۔ ان کے والد عبدلرحیم(چکّی والے) ترقی پسند تحریک کے مفکر تھے۔ اس وقت جب لڑکیوں کو تعلیم دلانا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا، تب بھی وہ ان کی تعلیم پر زور دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیوں کو صرف رسمی تعلیم ملے۔ وہ اپنے طالب علمی کے زمانےسے ہی لکھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ 16 سال کی عمر میں ان کی پہلی کہانی "مطبوعہ” ماہ نامہ "بانو” میں نئی دہلی سے شائع ہوئی تھی۔

    انھوں نے اپنی میٹرک تک کی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ناگپور سے 1953ء میں مکمّل کی 17 سال کی عمر میں ان کی شادی کامٹھی کے عبدلحلیم ثانی کے ساتھ کر دی گئی۔ ان کا شروعاتی دنوں میں "زاری” تخلص تھا لیکن بعد میں اسے "ثانی” کر دیا انھوں نے بی اے اور دو بار ایم اے کی ڈگری اردواورفارسی زبان میں ناگپور یونیورسٹی سےحاصل کی اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر سید رفیع الدین کے زیر نگراں "سیماب کی نظم نگاری” تحقیقی مقالہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمّل کی۔ 1958ء میں بی اے پاس ہونے کےبعد انہوں نے عارضی استاد کے طور پر ایل اے ڈی کالج میں ملازمت کی اور صرف دو سال کے بعد وہ صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز ہوگئیں۔

    ان کی تصانیف میں ”اردو شاعری کی ہندوستانی روح“ 1967ء، ”سیماب کی نظمیہ شاعری“ 1978ء، ”بوڑھا درخت“ 1979ء، (مہر لال سونی۔ ضیاء فتح آبادی کی سوانح حیات)، ”صفدر آہ۔بحیثیت شاعر“ 1979ء شامل ہیں اور ان کی آخری کتاب ”آئینہ غزل“ جو کہ ڈاکٹر ونئے وائےکر کے ساتھ مل کر مرتب ہوئی تھی ، 1983ء میں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ شاعری کے علاوہ انہوں نے کئی چھوٹی کہانیاں بھی لکھی ہیں جن میں ”قصور اپنا نکل آیا“، ”بادل تیرے ستم کا“، ”عورت کی خود داری“، ”خیال اپنا اپنا“، ”مجرم ضمیر“، ”ایک کرن اجالے کی“ اور ”پھاٹک“ شامل ہیں۔ ان کی تحریریں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور برطانیہ کے کئ رسالوں میں شائع ہو چکی ہیں۔

    انھوں نے غزل، پابند نظم، آزاد نظم اور نثری نظم کے علاوہ آزاد غزلیں بھی کہی ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن ان کی بہو سواتی ثانی نے زرینہ ثانی کے نام سے ایک ویب سائٹ جاری کیا ہے۔ ان کو مہاراشٹر اور بہار اردو اکادمیوں نے ایوارڈس سے نوازا اور ماہ نامہ ”شاعر“ بمبئی نے 2012ء میں ان پر ایک خصوصی شمارہ پیش کیا تھا۔ 14 جنوری 1982ء کو محض 45 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو اپنے جیسا اچھوتا خیال دے مجھ کو
    میں تیرا عکس ہوں اپنا جمال دے مجھ کو
    میں ٹوٹ جاؤں گی لیکن نہ جھک سکوں گی کبھی
    مجال ہے کسی پیکر میں ڈھال دے مجھ کو
    میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر
    تو اپنے ذہن سے پہلے نکال دے مجھ کو
    میں سنگ کوہ کی مانند ہوں نہ بکھروں گی
    نہ ہو یقیں جو تجھے تو اچھال دے مجھ کو
    خوشی خوشی بڑھوں کھو جاؤں تیری ہستی میں
    انا کے خوف سے ثانیؔ نکال دے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی خار زار میں گزری
    جستجوئے بہار میں گزری
    کچھ تو پیمان یار میں گزری
    اور کچھ اعتبار میں گزری
    منزل زیست ہم سے سر نہ ہوئی
    یاد گیسوئے یار میں گزری
    پھول گریاں تھے ہر کلی لرزاں
    جانے کیسی بہار میں گزری
    زندگانی طویل تھی لیکن
    موت کے انتظار میں گزری
    آپ سے مل کے زندگی اپنی
    جستجوئے قرار میں گزری
    جو بھی گزری بری بھلی ثانیؔ
    آپ کے اختیار میں گزری

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے سنگ راہ آبلہ پائی نہ دے مجھے
    ایسا نہ ہو کہ راہ سجھائی نہ دے مجھے
    سطح شعور پر ہے مرے شور اس قدر
    اب نغمۂ ضمیر سنائی نہ دے مجھے
    انسانیت کا جام جہاں پاش پاش ہو
    اللہ میرے ایسی خدائی نہ دے مجھے
    رنگینیاں شباب کی اتنی ہیں دل فریب
    بالوں پہ آتی دھوپ دکھائی نہ دے مجھے
    ترک تعلقات پہ اصرار تھا تجھے
    اب تو مری وفا کی دہائی نہ دے مجھے
    بے بال و پر ہوں راس نہ آئے گی یہ فضا
    ثانیؔ قفس سے اپنے رہائی نہ دے مجھے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    یادیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عہد ماضی کے جھروکوں سے چلی آتی ہیں
    مسکراتی ہوئی یادیں میری
    گنگناتی ہوئی یادیں میری
    اور محسوس یہ ہوتا ہے مجھے
    جیسے بنجر سی زمیں
    قطرۂ ابر گہر بار سے شاداب بنی
    جیسے صحرا میں بھٹکتے ہوئے اک راہی کو
    چشمۂ آب ملا
    جیسے پامال تمنائیں ترشح پا کر
    پھر تر و تازہ ہوئیں
    جیسے ترسیدہ کلی
    مسکراہٹ سے دل آویز بنے
    ایک لمحہ کے لیے
    سینۂ سوزاں مرا
    شبنمی یاد سے مسکاتا ہے
    ایک لمحہ کے لیے
    کپکپاتی ہوئی سہمی ہوئی ہستی میں
    انہیں یادوں کی حلاوت میں سما جاتی ہے
    یہی یادیں تو مری زیست کا سرمایہ ہیں
    مسکراتی ہوئی یادیں میری
    گنگناتی ہوئی یادیں میری

  • معروف شاعرہ،مضمون نگار، نقاد اور سوشل ورکر مہر افروز کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ،مضمون نگار، نقاد اور سوشل ورکر مہر افروز کا یوم پیدائش

    صف عدو میں کھڑے تھے سبھی حبیب مرے
    ترے بھی ہاتھ میں تیر و کمان لگتا ہے

    معروف شاعرہ، فکشن نگار، مبصر، مکالمہ کار،مضمون نگار، نقاد اور سوشل ورکر مہر افروز کا اصل نام مہر افروزہ خانم ، قلمی نام ۔مہر افروز 25 جون 1968 کو کرناٹک میں پیدا ہوئیں۔والد کانام مرحوم ۔یعقوب خان ہارون خان اور والدہ کا نام زبیدہ بیگم ہے۔مہر افروز کی تعلیم یم اے ۔ انگریزی اردو، عربی ہندی یم ایڈ، یم فل پی ایچ ڈی(جاری ) تصوف موضوع ہے ۔وہ استاد الساتذہ برائے انگریزی زبان اور طریقہء تعلیم Teacher Educator DIET ضلع تعلیمی و تربیتی ادارہ دھارواڈ کرناٹک ہیں۔

    لکھنے کی ابتداء فلیش فکشن سے کی 1983 سولہ اپریل کو سالار سنڈے ایڈیشن میں افسانہ” لاشیں” شائع ہوا تھا ۔اب تک 200 سے زائد افسانے لکھ چکی ہیں۔اب تک کل 60 نصابی و غیر نصابی کتابیں لکھی ہیں ۔ادبی کتب کے نام ہیں
    ۱۔”حقائق گلستان ” ِ حضرت ہاشم پیر بیجاپور سوانح (۔ریسرچ ہے)
    ۲ ۔۔افسانوی مجموعہ "۔ٹوٹتی سرحدیں”2021 میں شایع ہوچکا ، ۳ شعری مجموعہ۔” عکس در عکس ” زیر اشاعت ہے۔
    ۴ "تنہا جزیرے” ۔تحقیق, تبصرے اور خاکوں کا مجموعہ زیر طباعت ہے۔

    ان کی ادبی ، ملی، سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئ ایوارڈ اور اعزاز بھی مل چکے ہیں۔
    اعزازات :
    ۱۔”تریاق” ماہنامہ۔ممبئی کی گوشہء خواتین کی مدیر ہیں ۔جہاں ایک سلسلہ چل رہا ہے "جدید شاعرات ” تیس سے زاید مضامین شایع ہوچکے ہیں۔ یہ کتاب بھی بن رہی ہے ۔تیس شاعرات پر اب تک وہ لکھ چکی ہوں ۔
    ۲۔۔تریاق نے سن دوہزار اٹھارہ کا خواتین نمبر ان کے نام سے نکالا تھا

    انعامات :
    ۔۱۔ بہترین افسانہ نگار سال 2017 سادھنا قومی ایوارڈ
    ۲۔بہترین ماہر تعلیم سنگولیّ راینا قومی ایوارڈ سن دوہزار بارہ ۔۔۔۔۔۔دھارواڈ شہر کی گوگل میپنگ کرواکر تاریخی عمارتوں، اہم مساجد، درگاہوں کی المختصر تاریخ کے ساتھ گوگل پر اپ لوڈ کرنے پر ۔
    ۳۔اکاّ مہادیوی ایوارڈ ۔بہترین ماہر تعلیم اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے سماجی خدمات اور کونسلنگ کے لئے ۔

    وہ ھدیٰ فاؤنڈیشن نام سے ادارہ، اور ویب سایئٹ کی مالک ہیں اور ایک رسالہ خرمن” ۔نکالا تھا جسے بعد میں انہوں نے برقی کردیا۔
    افسانوں کے علاوہ وہ غزلیں آزاد نظمیں پابند نظمیں، تنقید، خاکہ نگاری، مضامین بھی لکھ چکی ہیں ۔ان سے لوگ خاص کر اپنی کتابوں کا پیش لفظ لکھنے کی فرمائش کرتے ہیں ۔وہ اب تک سو سے زیادہ مقامی، قومی، بین الاقوامی سمینارس میں شرکت کرچکہیں اور مقالے اردو، انگریزی اور تاریخی مضامین پر پڑھ چکی ہیں جسٹس سچر کی سچر کمیٹی کی کرناٹک اقلیتیں سماجی ،معاشی، تہذیبی، تعلیمی حالت کی 270 صفحات کی رپورٹ اور 2.30 گھنٹے کی ڈاکیومینٹری فلم کی رائیٹر ڈائریکٹر ہیں ۔

    دیگر سماجی ملی خدمات
    ۱۔۔مخصوص بچوں کے لئے تعلیمی سہولیات اور سرکاری پروگرامز پر گدگ اور دھاواڈ ضلع کی ڈاکیومنٹری فلم بنائی ہے ۔
    ۲۔منریگا اسکیم اور دھارواڈ ضلع کے کسان ۔اسکی ڈاکیومینٹری کرشی درشن کے لیے بنائی ہے
    ۳۔تعلیمی اور نفسیاتی کونسلر ہیں اب تک کئی لوگوں کو ڈیپریشن سے نکال کر صحیح راستہ پر لگانے کی کوشش کرچکی ہیں خاصکر وہ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں جو میڈیکل کالج اور انجنیرنگ کالج میں پڑھتے تھے، ڈرگ ایڈکٹ بن گئے ۔ان کو واپس لاکر سماج کے لیے ایک کارآمد اکائی بنانے کی کامیاب کوششیں کی ہیں ۔
    ۴۔۔مسلم پراسٹیٹوٹس کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کروانا، انکی سوچ بدلنا اور انکو بہتر زندگی کے لئے تیار کرنا، یہ کام بھی کیا ہے اور کامیاب رہی ہیں –

    اداروں سے وابستگی
    ۱۔رکنیت : ٹیکسٹ کمیٹی ریاست کرناٹک کی ممبر ہیں ۔
    ۲۔۔برٹش قونصل آف انڈیا ساوتھ زون کی واحد خاتون ممبر ہیں اور رابطہ کار برائے تعلیم وتربیت برائے فروغ انگریزی زبان کام کرتی ہیں۔
    ۳۔۔ین سی پی یو ایل کی تخلیقی ادب اشاعتی کمیٹی کی رکن ہیں ۔
    پڑھنا ،فلم بنانا، فوٹو گرافی ۔باغبانی، سیاحت اور روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنا ان کا شوق ہے
    _________
    معروف شاعرہ اور فکشن نگار مہر افروز کے یوم ولادت پر پیش خدمت ہے ان کا نمونہ کلام ۔

    نعت ۱

    آپ ہیں نور جہانوں کا رسول عربی
    اور ہیں خلق زمانوں کا رسول عربی
    ختم سب آپ پہ قصے ہیں زمانے بھر کے
    آپ عنوان فسانوں کا رسول عربی
    راز کچھ راز نہیں عرش پہ جانے والے
    آپ مظہر ہیں نشانوں کا رسول عربی
    خاک پا بن گئی سریاب چھون سے تیری
    رہے نعلین یگانو ں کا رسول عربی
    راز کچھ راز نہیں عرش پہ جانے والے
    آپ مظہر ہو نشانوں کا رسول عربی
    ہر نفس بن گیا حقدار درود و صلواہ
    ہے ہر اک شاہ گھرانوں کا رسول عربی
    مجھ کو بس خاک مدینہ کی شفایابی ہو
    مجھ میں ڈیرہ ہے گمانوں کا رسول عربی
    _________

    نعت ۲

    ہے رحمتوں کا امین پیارا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے
    مرا نبی ہے فلک کا تارہ نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    سب اپنے دل پر لیے مصائب جو دین حق کا سفر تھا باندھا
    دلوں کا درماں، دلوں کا ماویٰ نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    مثال قائم وہ کر گئے ہیں، جہان روشن وہ کر گئے ہیں
    نبی ہے میرا حکیم و دانا نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    ہے امِّ سلمیٰ کے سر پہ بوجھا، نبی نے روکا ہے اپنا ناقہ
    نبی نے ڈھویا ہے بوجھ دوجا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    حرا سے نکلا وہ حکم لے کر ،کیا
    ہے روشن یہ جگ ہمارا
    زمانے بھر کا، وہ نوراعلیٰ، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    عطائی لمحوں کا وہ محافظ، فقیری تہذیب کا جو وارث
    ہے کالی کملی میں خود چھپایا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    فدا ہیں انساں، فلک فدا ہے، فدا ہے تجھ پر خدائی ساری
    ہے تیرا اخلاق خاص سارا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

    صبا سے کہہ دو مدینہ جائے سلام میرا انہیں سنائے
    سلامتی کی اداؤں والا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے
    _________

    ہانپتی کانپتی زندگی
    اک لکڑی کے سہارے چلتی
    اپنی سانسوں کی دھونکنی پر
    اشک بہاتے چلتی
    زندگی سے نادم ہے
    مر نہیں سکتی
    بوجھ ڈھونے کی سکت نہیں باقی
    بوجھ ڈھوتے ہویے ہے چلتی
    جنکا اب تک سہارا بنی
    بے سہارا کر گئے
    جنکو کندھے دئے تھے کبھی
    تماشا دہر کا دیکھنے
    آج وہ کندھے سبھی
    کسی اور کا سہارا تو ہیں
    مگر
    ان شانوں کا کیا
    زندگی نے جھکایا جنہیں
    کیا لکڑیوں کے سہارے جئیں ؟
    لکڑیوں کے سہارے چلیں
    ہانپتی کانپتی زندگی
    کب تک یونہی تو چلتی رہے ؟؟؟.؟
    _________

    اسے ڈھونڈتی ہوں اکثر
    جو کہیں پہ کھوگیا ہے
    ابھی رکھا تھا دل کے اندر
    کبھی یاد میں رکا تھا
    کہیں شعور کی تہوں میں
    میری ذات کا نشاں تھا

    تھی مشام جاں معطر
    اسی خوشبوؤں کے بل پر
    میرے یقیں کو کس نے لوٹا
    میرا کھوگیا بھروسہ
    ہوا اعتبار زخمی
    یہ پڑا ہوا ہے لاشہ
    بے کفن سی آرزو کا
    اسے کس نے ہے کھدیڑا
    اسے کس نے آکے نوچا
    یہ تن بریدہ سر ہے
    میری وفا کی میتوں کا
    اگر کر سکو تو کردو
    ایک کرم میرے بدن پر
    لٹی عظمتوں کا نقصان
    میرے یقیں کی ساعتوں کا
    جو دے سکو تو دے دو
    میرے یقین کا خزانہ
    میرا اعتبار دیدو
    میرا بھروسہ مجھ میں بھردو
    ورنہ یہ کرم تو کردو
    کھڑا ہوا یہ بے جان لاشہ
    میرے یقیں کا بنا ہے مدفن
    دفن تو کردو کہیں پہ جاکر
    ورنہ
    بے اعتباریوں و بے یقینیوں
    جرثومے سارے
    بکھیر دیگا تری فضا میں
    سڑن سے اپنی
    ___________

    روشنی روشنی ہی کرتے ہو
    کبھی سوچا بھی ہے یہ تم نے
    روشنی کے بھی مسائل ہونگے
    اسکے ضبط وقوانیں ہونگے

    اسکی بھی مجبوریاں رہی ہونگی.
    ظلمتوں کی وہ بھی تو ماری ہوئی ہوگی

    ہجر نے اسکو بھی ڈسا ہوگا

    نارسائی کا بھی گلہ ہوگا

    روشنی بھی روشنی کو ترستی ہوگی
    روشنی سے بھی جلی ہوئی ہوگی
    چاہنے والے روشنی کے سبھی
    کبھی راتوں کے بھی رسیا ہونگے
    روشنی نے بھی مہلتیں لکھی ہونگی
    اسکے آنسو بھی تو جلے ہونگے
    وہ بھی بیتاب تو رہی ہوگی
    شجر سائے کی تمنا ہوگی

    روشنی روشنی جو کرتے ہو
    کبھی روشنی کی بھی قدر کی ہے

    کہ جب پکارو تو وہ بھی آجائے

    __________

    میرے سنسناتے پیروں کا احساس
    یہ کہتا ہے
    کہ میں سنگ ہوتی جارہی ہوں
    میں نے سوچنا چھوڑا
    خود کو تیرے تابع کردیا
    میں نے پڑھنا چھوڑا
    کہ
    تم نے مجھے پڑھنے لگے
    میں نے چلنا اور سفر کرنا چھوڑا
    کہ
    تم میرے ہم سفر تھے
    اور مجھے لگا
    یہ زندگی اصل سفر ہے
    میرے احساس کی طنابیں
    تمہاری پسلی سے شروع ہوکر
    میری پسلیوں میں مقید دل پر
    ختم ہوتی تھیں
    سارے احساس کٹ گئے
    جذبے مٹ گئے کہ
    میں نے تم کو پاکر آنکھیں
    بند کرلیں تھیں
    آج اتنے سالوں بعد
    ویرانیوں کے صحراء میں
    تنہا کھڑی
    میں سوچوں
    کیا عجب تماشہ تھا
    کہ سارے کھیل خود پر بند کرلئے
    ایک شخص کی ہوکر,
    میں نے خود کو
    پتھر کرلیا
    تم نے میرے مجسمہ کو
    گھر کے شوکیس میں سجا کر,نکل گئے
    پتھر ہوتی میں
    اپنی آنکھوں سے اس
    قید کو دیکھوں
    اور چاہوں
    کوئی آواز دے
    کسی جاوداں اسم کوپڑھے
    کہ پتھر ہوتی میں
    ِجلا پاؤں
    اس قید کے شیشے کو توڑوں
    باہر نکل آؤوں
    کہ انکھوں کی روشنی بجھنے سے پہلے
    کچھ پل جی سکوں
    مجھے آواز دو
    میًں پتھر ہوتی جارہی ہوں
    __________
    ہم اپنے سچ جیتے ہیں
    ہم اپنے دائیروں میں مقید گھومتے
    اپنی سوچوں کے قیدی
    اپنی نظروں سے ساری دنیا کو دیکھتے اور پرکھتے
    اپنی سوچوں کو اوروں پر
    لادنے کی کوششوں میں
    یہ بھولتے ہیں کہ
    ہمارا سچ
    سب کا سچ
    نہیں ہوتا
    سب کا سچ
    سب سچ نہیں ہوتا
    کیونکہ
    کائیناتی سچ
    سب کی سمجھ نہیں ہوتا
    میرے اور تیرے سچ کے فرق نے
    کتنے فساد مچادئیے!!!!!
    کتنے آسمان اور کتنی زمینیں
    جل گئیں
    کواکب ٹوٹ کر بکھرتے رہے
    مگر ہم نے اپنے اپنے سچ سے کبھی پلٹنا نہیں سیکھا
    ہم سچے لوگ
    اپنے سچ پر جمے رہے
    کائیناتی سچ کی سمجھ
    ہمیں کب آئیگی
    کہ تیرے اور میرے سچ کا اختلاف
    ختم ہو
    تم اور میں
    ایک ہوجائیں
    سچ کے سچ میں
    جو سچا سچ
    کائیناتی سچ
    اور ازلی
    سچ ہے ……
    __________

    ہم آدم زاد

    ہم آدم زاد
    نسلوں ،ملکوں ،
    مذہبوں،ذاتوں
    مسلکوں اور قبیلوں
    میں بٹے ہم
    کیا کبھی یہ سوچیں
    کہ ہم اولاد آدم
    عشق کے جنوں میں
    زمین پر پھینکے گیےء
    کسی بم میں موج زن
    ایٹمس کی قوت و رفتار
    سے زمین پر پھیلے
    پھیلاو میں اتنے دور ہوےء
    کہ اپنی کوکھ کو بھلا بیٹھے
    ایکدوسرے کو کاٹنے لگے
    یہ جانے بنا کہ ہم ایک
    ہی کوکھ کے وہ سو پنڈ ہیں
    جنکو الگ الگ مٹکوں میں رکھ کر پیدا کیا گیا
    تو کیا اس کوکھ سے ہمارا رشتہ ٹوٹ گیا
    جس کے پنڈ کے ہم سو ٹکڑے بناےء گیےء تھے
    ہر مٹکے میں پل کر ہم نے سوچا
    یہی ہمارا پنڈ ہے
    اے کنویں کے مینڈکو !!!!
    زرا باہر نکلو
    خود کو پہچانو
    سب مل جاو
    واپس
    ایک پنڈ بنو
    اور اس کو دیکھو
    جس نے ہمیں
    اذن ہجرت دی
    وہ واپس ہمیں بلا رہا ہے
    اے اولاد آدم
    کیا اب بھی
    اپنے گھر لوٹ جانے کا وقت نہیں آیا؟
    آؤ لوٹ چلیں ازلی عشق ہمیں بلا رہا ہے
    ___________
    جنونِ آگہی

    مجھ کو تو کس سمت لیے جاتا ہے
    میں کبھی اِس پل میں
    کبھی اُس پل میں
    سما جاتی ہوں
    عشق تو عشق ہے
    بندوں سے کہ رب سے ٹہرا
    یہ وہ جذبہ ہے ،
    جو مجھے لامحدود کیے جاتا ہے
    میں جو اک ذرہّ تھی پوشیدہ فضاؤں میں کبھی
    عشق کی آگ مجھے
    مہکاتی ہے پھیلاتی ہے
    بن کے کہ آتشیں گولہ سا
    بکھر جاتی ہوں
    کر ضیا پاش زمانے کو ،نکھر جاتی ہوں
    تھی مگر خاک
    پھر خاک ہی بن کے میں
    بکھر جاتی ہوں
    عشق ابجد تھا
    عشق انزال تھا
    عشق ضیا بار ہوا
    عشق کے خاک بھی ہونے کے زمانے آئے
    یہ بھی سچ ہے کہ
    عشق کبھی فانی نہ ہوا.

    اے ازل تو ہی تو عشق
    انجام بھی عشق
    عشق تو بھی ہے
    اور میں بھی ہوں
    پورا سنسار

    کیوں عشق کو بدنام کرو
    کچھ اگر کرنا ہو تو
    اپنی اناؤں کو زیرِ نیام کرو

    _________

    غزل ۱۔

    تم نے جو پوچھا ہے تو سچ بات بتا دی جائے
    کیا کہ بیتے ہوئے لمحوں کو سزا دی جائے

    گرچہ موجود زمیں پر ہیں طلبگار بہت
    دل میں جس شخص کی چاہت ہے، بجھا دی جائے؟

    وقت زندان سا ہے، لمحے ہیں زنجیر بہ کف
    یہ ہوا آج زمانے میں اڑا دی جائے؟

    تاج گل کی ہیں طلب رکھتے زمانے والے
    مالا خاروں کے انھیں آج تھما دی جائے!!

    یاد کی ریت پھسلتی ہی رہی تارۂ شب
    دن کو یہ ریت ہوائوں میں ملا دی جائے؟

    داستاں لکھتے رہے چشم بہ نم عمر تمام
    سبھی اوراق جلا کر جو ہوا دی جائے

    شب کی آوارگی و دشت نوردی دن کی
    میری تخلیق کے پہلو میں سلا دی جائے

    وقت تیزاب ہے، ہر جھوٹ جِلا دیتا ہے
    میرے منصف کے حویلی کو منادی جائے

    آئینہ بن کے سسکتی ہوئی آنکھیں میری
    محفل یار ،کہ پھر آج سجادی جائے

    میں ہوں گرداب، تماشائی ہو تم ساحل کے
    دیکھنا زور ،سمندر میں جو وادی آئے

    دل کی نگری ہوئی پھر آج دعا کا مسکن
    کیوں نہ پھر آج محبت کو دعا دی جائے

    ہوگئے آج سے بس صاحبِ عرفاں ہم بھی
    یہ بھی افواہ سرِ ہجر اڑادی جائے

    منتظر دید کے ہیں مہر زمانے والے
    منتظر عید کے کہتے ہیں فسادی جائے
    __________

    غزل ۲

    "اپنی خوشبو پہ خود ہی شیدا ہوں ”
    مثلِ آہو بھٹکتا پھرتا ہوں

    لب پہ خاموشیوں کے تالے ہیں
    اپنی نظروں سے میں تو گویا ہوں

    سر پرستی رہی غموں کی مگر
    مست لمحوں سے میں بھی گزرا ہوں

    بے یقینی رہی تمام حیات
    چشم بینا کا میں بھی پرکھا ہوں

    حادثوں کا نگر رہاہوں کبھی
    آخری باغ کا میں غنچہ ہوں

    بجھ گیئ برگ و گل کی بینائی
    میں گئے کل کی رُت کا قصہ ہوں

    نکھری نکھری فضا کا میں باسی
    وقت کے ساتھ ساتھ بکھرا ہوں

    کوئی سمٹے تو پھر سے بن جاؤں
    گویا مٹی کا کوئی دھیلا ہوں

    اپنی راہ خود ہی میں بنالونگا
    بہتے پانی کا ایک ریلا ہوں

    اس تماشے پہ کچھ تو بول زرا
    اپنی ہی ذات کا میں میلہ ہوں

    یوں بکھیرو نہ مجھکو یارو تم
    میں کسی آنکھ کا ستارا ہوں
    __________

    غزل ۳

    ہر ایک زخم محبت نشان لگتا ہے
    کہ سارا لکھا ہی دردِ جہان لگتا ہے

    صف عدو میں کھڑے تھےسبھی حبیب مرے
    ترے بھی ہاتھ میں تیر وکمان لگتا ہے

    ارادہ تھا ترے ہی دل میں گھر بسالیتے
    مگر ابھی تو یہ کچا مکان لگتا ہے

    دیار غیر میں کوئی درخت سایہ دار
    کہ اپنے شہر میں گھر بھی مچان لگتا ہے

    محیط ہر جگہ تو ہی تو ہے مرے مولا
    تو چلتا دہر، زمین و زمان لگتا ہے

    کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤگے ہم سے پیروکار
    عتاب کا تو ہمی پر لگان لگتا ہے

    یوں آپڑا ہے مرے سر پہ آسماں یک لخت
    "جب اپنے ہاتھ میں سارا جہان لگتا ہے "

  • تجھے جب بھی کوئی دکھ دے،اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے،اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    اردو اور پنجابی کی ممتاز شاعرہ سارا شگفتہ 31 اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پنجابی اور اردو دونوں میں شاعری کرتی تھیں، ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔

    سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے بلدے اکھر، میں ننگی چنگی اور لکن میٹی اور اردو شاعری کے مجموعے آنکھیں اور نیند کا رنگ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے ایک تھی سارا اور انور سن رائے نے ذلتوں کے اسیر کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کی جس کا نام آسمان تک دیوار تھا 4 جون 1984ء کو سارا شگفتہ نے کراچی میں ریل کے نیچے آکر خودکشی کرلی-

    سارا شگفتہ صاحبہ کی منتخب نظمیں
    ..
    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے
    ——————
    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی
    ——————
    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں
    ——————
    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • کملا داس ثریا انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ

    کملا داس ثریا انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ

    کملا داس ثریا ہندوستان میں انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ تھیں ملیالم ادب میں آپ کو مادھوی کٹی کہا جاتا تھا۔ آپ کو انگریزی اور ملیالم ادب میں کمال حاصل تھا۔

    خاندانی پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    کملا داس 31مارچ 1934 کو بھارت کے شہر کیرالا کے ایک برھمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد وی ایم نائر اور والدہ اس دور کی مشہور ملیالم شاعرہ بالامانیمیمّا تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اے کے انتھونی بھی آپ کے رشتہ دار بتا‎‎ئے جاتے ہیں۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ کی ادبی زندگی کا آغاز 8 سال کی عمر میں ہی ہو گیا تھا جب آپ نے وکٹر ہیوگو کی تحریروں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ آپ کی پہلی کتاب ”سمران کلکتہ“ تھی جس نے آپ کو انقلابی ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان کی تحریروں میں مردوں کے تسلط والے سماج میں خواتین کی بے بسی کا ذکر ہے اور ان کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پڑھنے والوں کو عدم مساوات کو ختم کرنے پر سوچنے پر راغب کیا۔

    قبول اسلام
    ۔۔۔۔۔۔
    کئی برس اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ نے اسلام قبول کر لیا جس کے باعث بھارت اور کیرالہ کے ادبی و سماجی حلقوں میں ایک طوفان آ گیا تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد آپ کا نام ثریا رکھا گیا۔ اپنے قبول اسلام کی بڑی وجہ جو وہ بیان کیا کرتی تھیں وہ ان کے الفاظ میں ”اسلام نے خواتین کوجوحقوق دیئے ہیں وہ جان کر میں حیران ہوں میرے قبول اسلام کے پس پردہ اسلام کی جانب سے خواتین کو دیے جانے والے حقوق کا بڑا کردار ہے 31مئی 2009 کو آپ پونا کے جہانگیر ہسپتال میں خالق حقیقی سے جاملیں۔ آپ کی عمر پچھتر برس تھی۔

    مشہور تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این اٹروڈکشن
    ۔ (2)دی ڈیزیڈنٹ
    ۔ (3)الفابیٹ آف لسٹ
    ۔ (4)اونلی سول نوز ہاؤ ٹو سنگ
    ۔ (5)مائی سٹوری (خود نوشت)

    اہم اعزازات
    ۔ (1)Ezhuthachchan Puraskaram
    ۔ Vayalar Award
    ۔ (2)ساہتیہ اکیڈمی اعزاز
    ۔ (3) Asan World Prize
    ۔ (4)Asian Poetry Prize
    ۔ (5)Kent Award
    ۔ (6)ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ (7)کیرالا ساہتیہ

  • آنکھ سے دل دکھائی دیتا ہے، کوئی دھوکہ میں کھا نہیں سکتی

    آنکھ سے دل دکھائی دیتا ہے، کوئی دھوکہ میں کھا نہیں سکتی

    مجھ سے اونچا ہونے کو وہ
    پنجوں کے بل کھڑا ہوا ہے

    25 اپریل 2017
    فرزانہ ناز کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ایک نئی ابھرتی ہوئی معصوم صورت شاعرہ فرزانہ ناز صاحبہ آج سے ٹھیک 6 برس قبل آج ہی کی تاریخ 25 اپریل 2017 کو ایک افسوسناک حادثہ کے نتیجے میں جانبحق ہو گئی تھیں ۔ نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام 22 اپریل تا 24 اپریل 2017 کو پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہونے والے 3 روزہ آٹھویں قومی کتب میلہ میں 24 اپریل کی شام فرزانہ ناز تقریب کے مہمان خصوصی کو اپنی شاعری کی کتاب پیش کرنے کے بعد واپسی پر اسٹیج سے سیڑھیاں اترتی ہوئی گر گئیں جس کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور ریڑھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ۔

    تقریب میں وفاقی وزیر احسن اقبال، عرفان صدیقی ، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی موجود تھے جن کی ہدایت پر فرزانہ ناز کو فوری طور پر شفاء انٹر نیشنل ہسپتال داخل کرا دیا گیا تھا ڈاکٹروں سخت محنت اور کوشش کے باوجود فرزانہ ناز جانبر نہ ہو سکیں اور 25 اپریل کی صبح ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سےجا ملیں اس تقریب میں حسب معمول ان کے دو کمسن بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی اور ان کے خاوند اسماعیل بشیر بھی موجود تھے ۔

    فرزانہ ناز جنوری 1991 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئی تھیں انہوں نےمیٹرک بھلوال گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سےعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا تھا ۔ انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” کسب کمال” کی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ادبی سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں ۔ وہ زیادہ تر مشاعروں کی نظامت کی ذمے داریاں سنبھال لیتی تھیں ۔

    مشاعروں میں ان کے شوہر ان کے دونوں کمسن بچے ہمراہ ہوتے تھے ۔ حادثے کے روز بھی وہ ان کے ساتھ ہی تھے ۔ فرزانہ ناز کا پہلا شعری مجموعہ ” ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے ” ان کی موت سے چند روز قبل شائع ہوا تھا ۔ 3 مئی 2017 کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں ان کی شاعری کی کتاب کی رونمائی کے لیے تاریخ طے کر دی گئی تھی مگر افسوس کہ وہ اس سے قبل ہی دنیا سے ” ہجرت ” کر گئیں ۔ ان کی حادثاتی موت کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کی ادبی فضا سوگوار ہو گئی تھی اور ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے تاہم ذرائع کے مطابق ان کی نماز جنازہ میں کوئی بھی حکومتی نمائندہ شریک نہیں ہوا تھا۔

    فرزانہ ناز صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے
    پاوں میں کتنے اور سفر ہیں

    کب سے ضد پہ اڑا ہوا ہے
    ایسے بھی کوئی بڑا ہوا ہے

    مجھ سے اونچا ہونے کو وہ
    پنجوں کے بل کھڑا ہوا ہے

    تماشہ گر ہمیشہ پس دیوار ہوتا ہے
    کہانی خود نہیں بنتی کہانی کار ہوتا ہے

    مری حیرانیوں پہ مسکرا کے مجھ سے ہے کہتا
    یہ دنیا ہے یہاں سب کچھ مری سرکار ہوتا ہے

    الجھے رستوں پہ جا نہیں سکتی
    تیری باتوں میں آ نہیں سکتی

    آنکھ سے دل دکھائی دیتا ہے
    کوئی دھوکہ میں کھا نہیں سکتی