Baaghi TV

Tag: شاعرہ

  • معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد

    معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد

    عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
    اک سچ کے تحفظ کیلیے سب سے لڑی ہوں

    معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد جن کا اصل نام فرحت سلطانہ ہے وہ 23 مارچ 1960،ملتان میں پیدا ہوئیں جبکہ تعلیم بہاول پور میں حاصل کی۔30 برس دبئی اور نیویارک میں گزارے اور اب لاہور میں مقیم ہیں۔ ایک عرصے سے شاعری کر رہی ہیں ان کا کلام اہم رسائل جیسے ’فنون‘، ’اوراق‘اور’نقوش‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ مشاعروں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں’ لڑکیا ں ادھوری ہیں‘ اور ’عشق جینے کا اک سلیقہ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ تانیثیت کا مدھم لہجہ ان کی غزلوں کی شناخت ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے
    جیسے دھوپ میں بارش ہونا اچھا لگتا ہے
    خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
    یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے
    سانجھ سویرے کھلتے ہیں جب تیتریوں کے پر
    اس منظر میں منظر ہونا اچھا لگتا ہے
    بارش آ کر برس رہے گی موسم آنے پر
    پھر بھی اپنا درد چھپانا اچھا لگتا ہے
    بادل خوشبو اور جوگی سے آخر کون کہے
    مجھے تمھارا آنا جانا اچھا لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے
    کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے
    وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے
    اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے
    کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا
    تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے
    جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہے
    مگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے
    پگھل رہا ہے مرا دن سیاہ راتوں میں
    کہانی گھوم رہی ہے زوال سے آگے
    رکے ہوئے ہیں کنارے پہ وہ تلاطم ہے
    یہ شہر عشق ہے اور ہے مجال سے آگے
    مشام جاں میں کوئی دیپ سا جلائے ہوئے
    نکل چلی ہوں میں رنج و ملال سے آگے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا
    موسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا
    وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکن
    اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا
    وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہ
    اسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا
    کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں
    پہنائی میں دل کی کبھی اترا نہیں کرتا
    اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہی ہوں
    بیتے ہوئے کل پر یہ گزارا نہیں کرتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کسی کے ساتھ ہوں اور وہ کسی کے ساتھ ہوں
    اک مسلسل حادثہ یہ زندگی کے ساتھ ہے

    ماں بن چکی ہوں میں بھی مگر اس سے کیا کہوں
    جو اپنی ماں کے پیار سے آگے نہ جا سکا

    محبت منتقل ہونے لگی ہے
    میں
    اب بچوں کی ہوتی جا رہی ہوں

    عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
    اک سچ کے تحفظ کیلئے سب سے لڑی ہوں

  • اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغا امتیاز سے نوازا۔ وہ کراچی میں رہائش تھیں ۔

    ممتاز شاعرہ ادا جعفری اپنے رنگ‘ اپنے اسلوب میں نہ صرف منفرد بلکہ تاریخ ادب میں نسائی لہجے کی غزل کہنے میں انتہائی مقبول اور معتبر قرار پائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری جو سابق بیوروکریٹ تھے اور بعد میں انجمن ترقی اُردو پاکستان کے صدر بھی رہے‘ ان سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ ادا جعفری اور نور الحسن جعفری کو اکثر ساتھ ہی دیکھا۔ جعفری صاحب کے انتقال کے بعد ادا جعفری نے دنیا سے ناطہ توڑ لیا اور مکمل طور پر گوشہ نشین ہو گئیں۔

    کوئی پندرہ سولہ برس کا عرصہ گزرا ادا جعفری نہ کسی مشاعرے میں شریک ہوئیں اور نہ کسی ادبی محفل میں اور نہ ان کا کلام کسی ادبی رسالے کی زینت بنا۔ ادا جعفری نے اُردو غزل اور نظم میں جو مقبولیت حاصل کی وہ کسی اور شاعرہ کے حصے میں اس طرح نہیں آئی جس طرح ادا جعفری کے حصے میں آئی۔ ہم نے اپنی نوجوانی کے دور میں صہبا لکھنوی مرحوم کی سرپرستی میں ادبی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں ادبی جریدہ ماہنامہ افکار شائع ہوا کرتا تھا۔ ادا جعفری اس ادبی جریدے میں تازہ ترین تخلیقات کے ساتھ شائع ہوا کرتی تھیں۔ جب بھی ادا جعفری کوئی نئی غزل یا نظم لکھتیں تو افکار میں شائع ہوتیں۔ وہ جب کبھی افکار کے دفتر آتیں تو صہبا لکھنوی ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور بتاتے کہ ادا بہن ادبی جرائد کو آج کل کتنے مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

    وہ اس سلسلے میں اشتاری معاونت بھی کرتیں اور صہبا لکھنوی کا حوصلہ بڑھاتیں۔ نور الحسن جعفری کے انتقال کے بعد ادا جعفری کی جو نظمیں شائع ہوئیں وہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں ان نظموں اور غزلوں میں ایک تنہائی کا احساس اور اپنے شریک سفر سے بچھڑ جانے کا انداز اشعار میں جس ڈھنگ سے آتا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ادا جعفری نے دو چار برس یہ سلسلہ جاری رکھا اور پھر انہوں نے چھپنے سے گریز کیا۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری کی صدارت میں ہم نے اپنی نوجوانی میں کئی مشاعرے پڑھے۔ وہ مشاعرے کی شاعرہ نہیں تھیں لیکن انہیں مشاعروں میں پوری توجہ کے ساتھ سنا جاتاتھا۔ وہ اپنے اشعار پر مشاعرے لوٹ لیا کرتی تھیں۔ 1987ء میں پی ٹی وی کا ایک یادگار مشاعرہ تھا جس میں ہم نے بحیثیت شاعر پہلی مرتبہ پی ٹی وی مشاعرہ میں شرکت کی۔ اس مشاعرے کی صدارت محترمہ ادا جعفری کر رہی تھیں جبکہ نظامت کے فرائض حمایت علی شاعر نے انجام دئیے تھے۔

    وہ مشاعرہ اس قدر اہم تھا جس میں مقبول شعراء شریک ہوئے۔ پروین شاکر‘ جمیل الدین عالی بھی محفل میں شریک تھے۔ ادا جعفری نے اس مشاعرے میں کئی خوبصورت غزلیں سنائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری نے اس وقت پروین شاکر کو بھی ان کی غزل پر خاصی داد دی تھی۔ اور ہم پر اپنا دست شفقت رکھا تھا۔ ادا جعفری شاعرہ تو بہت بڑی تھیں لیکن انسان بھی بہت بڑی تھیں۔ جب بھی اپنے چھوٹوں سے شعر سنتیں‘ اچھے اشعار پر ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ ان جیسی قد آور شاعرہ کے سامنے ہم جیسے نوجوانوں کی کیا حیثیت تھی۔ لیکن ان کا مشفقانہ طرز عمل ہمارے لئے باعث تقویت رہا۔

    ایک نوجوان شاعر نے انہیں اپنے ولیمے کا کارڈ دیا تو کچھ ہی دیر کے بعد جس محفل میں انہیں کارڈ دیا گیا تھا انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہاکہ ہم ولیمے کے روز بہت مصروف ہیں اگر آپ ہمیں اپنی شادی میں مدعو کر لیں تو آپ کا کیا خیال ہے۔ ادا جعفری کی اس بات پر نوجوان شاعر نے کہاکہ یہ تو میرے لئے‘ اہل خانہ کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ آپ شادی کی تقریب میں شریک ہوں۔ اور پھر ادا جعفری شادی کی تقریب میں شریک ہوئیں اور خاصی دیر شریک رہنے کے بعد دعائیں دیتی ہوئی رخصت ہوئیں۔

    ادا جعفری کی غزل میں ایک ایسا لہجہ چھپا ہوا تھا جس کی ہمارے عہد کی شاعرات نے نہ صرف تقلید کی بلکہ نسائی حسیت بھی ان کے شعروں میں نمایاں ہونے لگی۔ ادا جعفری کی غزل ہمارے عہد کی ایسی غزل ہے جس میں عورت کا بھرپور اظہار اور احساس کے ساتھ خیال کی سطح بلند ہوتی ہے اور اس طرح دل کو چھوتی ہے کہ پڑھنے والے اس خیال کو اپنے قریب تر سمجھنے لگتا ہے۔ غزل میں جو رچائو اور چاشنی ہے وہ ادا جعفری کی غزل کا خاصہ ہے۔ ادا جعفری کی وہ غزل جو بہت زیادہ مقبول ہوئی:

    ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے

    یہ غزل استاد امانت علی کی آواز میں گائے جانے سے تو مقبول ہوئی لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ استاد امانت علی کی گائیکی میں ادا جعفری کی خوبصورت غزل ان کے ریکارڈ میں شامل ہو گئی۔

    ادا جعفری کی نثر اس قدر منفرد نثر ہے ان کی سوانح حیات ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کس سطح کی نثر نگار تھیں۔ خود نوشت سوانح حیات میں ادا جعفری نے واقعات کے تانے بانے جس انداز سے جوڑے ہیں اور وہ واقعات جو ان کی ابتدائی زندگی میں آئے اور ان کی شاعرہ بننے میں کیا محرکات تھے وہ واقعات حیران کن بھی ہیں اور ادا جعفری کے جینئس ہونے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اُردو کی ایک اہم‘ ممتاز اور معرکتہ الآرا شاعرہ قرار پائیں۔ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری کے انجمن ترقی اُردو سے وابستہ ہونے کے باعث خود بھی انجمن سے جڑی رہیں۔ اُردو کے کلاسک شعراء کا انتخاب ’’غزل نما‘‘ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ آج ادا جعفری ہم میں نہیں ہیں لیکن ادا جعفری کی شاعری سے کئی نسلیں استفادہ کرتی رہیں گی۔

    #تصانیف

    میں ساز ڈھونڈتی رہی 1950(شاعری)
    شہر درد 1967 (شاعری)1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔
    غزالاں تم توواقف ہو 1974 (شاعری)
    ساز سخن بہانہ ہے 1982 (شاعری) ہائیکو
    حرف شناسائی (شاعری)
    موسم موسم (کلیات2002ء)
    جو رہی سو بے خبری رہی 1995 ( خود نوشت)

    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
    راہ میں سنگ وفا تھا شاید

    اس قدر تیز ہوا کے جھونکے
    شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

    جس کی باتوں کے فسانے لکھے
    اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

    لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
    وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

    تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے
    اور وہی وقت دعا تھا شاید

    خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم
    اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

    دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ
    پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخری ٹیس آزمانے کو
    جی تو چاہا تھا مسکرانے کو

    یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں
    اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

    سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو
    لوگ ہنستے رہے دکھانے کو

    زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے
    اک دیا رہ گیا جلانے کو

    جلنے والے تو جل بجھے آخر
    کون دیتا خبر زمانے کو

    کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے
    ان کہی بات منہ پہ لانے کو

    کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے
    لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

    ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں
    دل کی ویرانیاں جتانے کو

    حسرتوں کی پناہ گاہوں میں
    کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

    ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی
    پھول بالوں میں اک سجانے کو

    آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ
    یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

    حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

    لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

    تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
    مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

    باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

  • پیرس کی منفرد شاعرہ ممتاز ملک

    پیرس کی منفرد شاعرہ ممتاز ملک

    کتنے ہنگامے تھے وابستہ اسی کے دم سے
    وہ جو چپ چاپ میرے شہر سے جانے والا

    ممتازملک

    پیرس کی منفرد شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور کالم نگار : ممتاز ملک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سلمیٰ صنم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نام ممتاز ملک، تخلص ممتاز ہے۔ 22 فروری کو روالپنڈی پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد ملک خالد لطیف کا تعلق پنجابی قطب شاہی اعوان ( ملک) سے اور والدہ خورشید بیگم کا تعلق پختون قبیلے سے تھا۔ممتاز ملک نے گورنمنٹ گرلز آہی اسکول، مری روڈ روالپنڈی سے میٹرک کیا اور پھر ایف ایے اور بی آئی کی ڈگری پرائیوٹ طور حاصل پر کی۔

    اپنے حالات زندگی کے بارے میں وہ یوں لکھتی ہیں ”میں 4 بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔ 5 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہوں ۔ میری پیدائش کے لیے کوئی منت نہیں مانی گئی ۔ نہ ہی کوئی خوشی منائی گئی کیونکہ میرے والد صاحب جو ( ذات سے قطب شاہی اعوان۔ ملک خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی 5 پھوپھیوں اور 5 بہنوں والے گھر میں بیٹیوں سے بہت زیادہ ہونے والی محبت سے خائف رہا کرتے تھے۔ ان سب کی محبتوں کا قرض میں نے اپنے والد صاحب کی نفرت کا بوجھ اٹھا کر چکایا۔

    میری والدہ 16 سال کہ عمر میں بیاہ کر آئیں۔ (ان کا تعلق پختون قبیلے آشاخیل سے تھا) ان کے لیئے ان پڑھ لیکن بیحد حسین ہونے کے ساتھ ایک نئی قوم قبیلے اور زبان میں داخلہ خود ایک صبر آزما مرحلہ تھا وہاں وہ بیٹی کی پیدائش کو اتنا بڑا امتحان سمجھتی تھیں کہ میری پیدائش پر وہ خوب روئیں اور خدا سے آئندہ مذید کسی بھی بیٹی کی پیدائش سے معافی مانگ لی کہ اتنے سارے امتحانات میں ایک ایسے انسان کی بیٹیاں نہ دینا جو اس سے بیزار ہو۔میرا گھر میرے لئے ایک۔قید۔خانہ تھا اور میں 24گھنٹے کی بے تنخواہ ملازمہ جس کی اجرت تھی 3وقت کا کھانا اور سال کے 3 جوڑے کپڑے میرے والد صاحب اعلیٰ پائے کے میکنک تھے۔ اپنے کام میں ان کا کوئی جوڑ نہیں تھا ۔

    گھر سے باہر وہ ایک مہربان ترین انسان تھے۔ اور گھر میں ان کے آتے ہیں ہم بہن بھائی چھپنے کے لیے کونے کھدرے تلاش کیا کرتے تھے۔ اس ڈر سے کہ جانے کب کس بہانے آج ہمیں پانی بھرنے والے پلاسٹک کے پائپ سے یا بیلٹ سے مار کھانی پڑ جائے ۔

    میری شادی 07 جنوری 1996ء 15 شعبان المعظم کو بروز اتوار لاہور سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد اختر صاحب کےساتھ ہوئی جو پاکستان سے ایف ایس سی پاس کرتے ہی لڑکوں کے گروپ کے ساتھ فرانس چلے گئے تھے۔ وہیں کچھ زبان سیکھی مختلف جابز کیں۔ 1980 سے پیرس میں مقیم تھے۔ سیلز مین بھی رہے اپنا اوپن بازار میں (جسے فرنچ میں مارشا کہتے ہیں) کھلے کپڑے کا کاروبار کیا۔ کچھ عرصہ ایک دوست کے ساتھ مل کر اطالیہ (درزی خانہ) بھی چلایا ۔ پھر اپنی بوتیک بنائی۔ آج کل ایک الیکٹرونکس ڈپو پر جاب کرتے ہیں ۔

    الحمد اللہ وہ بہت اچھے اور مددگار انسان ہیں ۔ میں آج جو کچھ ہوں اپنے شوہر کی ہی حوصلہ افزائی کے سبب ہوں ۔ لکھنے کا باقاعدہ آغاز 2008 میں کیا مگر بچپن سے ہی وہ کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھیں۔ اپنے لکھاری بننے کے تعلق سے وہ یوں رقم طراز ہیں :

    ” فنکار، شاعر، لکھاری، مصور سب پیدائش ہوتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو زیادہ سےزیادہ پالش کرکے نکھارا جاسکتا ہے انھیں بنایا نہیں جاسکتا۔ میں بھی پیدائشی شاعرہ ہوں۔ قافیہ ردیف کی سمجھ میری فطرت میں گوندھی گئی تھی میں نے کسی سے شاعری نہیں سیکھی۔ بچپن میں کورس کی کتابیں خریدتے ہی دو تین روز میں ہی ساری پڑھ لیا کرتی تھی۔ صرف یہ ہی ہوتا تھا ذہن میں کہ اس میں نیا کیا لکھا ہے۔ یوں جو کتاب سامنے آتی اچھا برا، بڑوں کا چھوٹوں کا کوئی بھی موضوع ہوتا بلالحاظ و تفریق پڑھنے بیٹھ جاتی تھی ۔ اسی مطالعے نے مجھے بولنے کے لیئے الفاظ کا ذخیرہ عطا کر دیا۔

    جو بعد میں میرے قلم کی سیاہی بن گیا لیکن میں اپنے سکول کے دنوں میں انتہائی شرمیلی سی شرارتی بچی ہوا کرتی تھی ۔ جو کسی کے بھی اپنی جانب متوجہ ہونے پر گھبرا جایا کرتی تھی ۔ اس لیئے اپنی کوئی تحریر کسی کو سنانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی ۔ نہ ہی کبھی چھپوانے کا سوچا ۔ ابو جی بھی بہت سخت مزاج تھے ۔ حالانکہ ان کو شاعری کا خوب شعور تھا۔ان کا شعری ذوق اور میوزک کولکیشن شاندار تھا بس مجھے پڑھنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ بقول انکے میں لڑکی تھی اور لڑکیاں پڑھ لکھ کر ماں باپ کا منہ کالا کرواتی ہیں ۔ ہمارے گھر میں تو رسالوں کا داخلہ ممنوع تھا ۔

    میری کتابیں پھاڑ دی جاتی تھیں ۔ کتابیں پڑھنے پر خوب مار کھانا پڑتی تھی۔ کسی سے ملنے کیا دروازے پر جانے تک کی اجازت نہ تھی ۔ وہاں شاعری کا نام لینا کیسے ممکن پوتا ۔ اس لئے لکھنے کا یہ شوق دل ہی میں کہیں دفن رہا ۔ ان تحریروں کو سنبھالنے کا خیال بھی تب ہوتا جب وہ مجھے خود بھی اہم لگتا اور یقین ہوتا کہ میں انہیں کبھی کہیں شائع کروا پاونگی ۔ لیکن یہ جراثیم تب سے ہی مجھ میں موجود رہے ۔
    پھر زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے لگا ایک ایک بندے کے ساتھ کھپ کھپ کے اور اس کے ساتھ بحث کر کے اسے کسی بات پر قائل کرنے سے کہیں اچھا ہے کہ میں اسے لکھ کر ہزاروں لوگوں کے سامنے بیک جنبش قلم پیش کر دیا کروں ۔ کچھ لوگ مخالف ہوں گے تو وہ اس پر سوچیں گے ۔ اور جو اس بات کے حامی ہونگے وہ اسے مزید آگے بڑھائینگے ۔

    سو جناب 2008ء میں ایک مذہبی ادارے کی جنرل سیکٹری منتخب ہونے کے بعد مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ یہ مائیک کسقدر اہم ہے جسے لوگ مفاد پرستی اور منافقت کے لیئے استعمال کرتے ہیں جبکہ اسے بہت پاورفل انداز میں مثبت تبدیلیوں کے لیئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سو میں نے بطور جنرل سیکٹڑی کیساتھ سٹیج سیکٹری کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ۔ تین گھنٹے کا پروگرام مکمل مطالعے کے تحت کسی ایک ہی موضوع پر ہوتا ۔ جس میں اس موضوع پر آیات و احادیث و واقعات تجربات ،مشاہدات سبھی کچھ شامل ہوتا تھا ۔ جس کے لیئے میں ایک یا دو پروگرامز کے لیئے سارا مہینہ دیوانہ وار تیاری کیا کرتی تھی۔ بس یہ سمجھیں وہ میرا لکھاری بننے کی جانب ایک بڑا بھرپور اور یقینی قدم تھا ۔

    لکھنے کاباقاعدہ آغاز 2008 ء ہی میں ہوا۔ پہلے تخلیقات 2010ء سے تک صرف میرے دوستوں کی محفل تک ہی پہنچتی تھیں ۔ انہیں کے ذریعے جب پیرس میں فیض احمد فیض کے یوم پیدائش کی صدسالہ تقریبات کا پروگرام ہوا تو کہیں میرا ذکر بھی کسی کی زبانی ہوا تو ادبی تنظیم ” قلم قافلہ” نے میرا نمبر ڈھونڈ کر مجھے بارسلونا ریڈیو پر اپنا کلام پیش کرنے اور گفتگو کے لیئے مدعو کیا ۔ یوں یہ راز سر عام آ گیا کہ سنا ہے پیرس میں ممتازملک بھی کوئی خاتون ہے جو شعر کہا کرتی ہے یوں دوستوں نے مجھے راہ ادب میں دھکا دیدیا اور حکم ہوا کہ چلو جی کتاب لاو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔

    وہ مانتی ہیں کہ ہر لکھنے والا ان کا استاد ہے ۔کلاسیک شعراء میں انہیں اقبال اور غالب پسندہیں ان کے علاوہ انہیں حبیب جالب۔ محسن نقوی۔ فراز ۔ منیر نیازی کی شاعری بہت اچھی لگتی ہے۔ان کے بارے میں وہ لکھتی ہیں “شاعری تو ہم سب نے ہی پڑھ رکھی ہے اور پسند بھی کرتے ہیں ۔ لیکن مجھے خصوصا جن کے کلام نے ہمیشہ ہی متاثر کیا ہے ان میں حبیب جالب روایت شکن اور انقلابی نظریات لیئے ہوئے ہیں تو محسن نقوی سچ کا آئینہ یوں دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والا اپنے عکس سے بھی انجان لگتا ہے ،منیر نیازی جب لفظوں کی مالا پروتے ہیں تو پڑھنے والا ملنگ ہو ہی جاتا ہے ۔

    اشفاق احمد کی زندگی کے تجربات ہمیں روشنی کا مینارہ دکھاتے ہیں ۔ تو مشتاق احمد یوسفی اور یونس بٹ کی تحریروں سے تھکی ہوئی زندگی کے اندھیرے میں ڈسکو لائٹس کا سواد آ جاتا ہے ۔ یہ سب مجھے متاثر کرتے ہیں ۔ اور مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں ان کے ساتھ ایک ہی دور میں موجود ہوں اور ہمیشہ گنی جاونگی ۔

    عصر حاضر کے شعراء میں امجد اسلام امجد صاحب اور شہناز مزمل ،رقیہ غزل ، نیلما ناہید درانی ان کے پسندیدہ شاعر و شاعرات ہیں۔ شعر گوئی ان کے نزدیک قلبی واردات سے مشروط ہے ۔وہ سمجھتی ہیں کہ جو بات آپ کے دل تک نہیں پہنچتی آپ کی روح کو نہیں جھنجھوڑتی وہ کسی اور پرکوئی اثر نہیں چھوڑے گی ۔بقول ان کے۔ پیغمبر پر وحی خدا کی دین ہے تو شاعر پر شعر اللہ کی عطاء ہے ۔ وہ چاہے تو آپ کے دل کو حساسیت کے ساتھ الفاظ کی ترتیب و ترنم عطاء فرمادیگا۔وہ نہ دے تو کوئی شعر کوئی نغمہ ترتیب نہیں پا سکتا ۔

    وہ شاعری کے علاوہ کالم بھی لکھتی ہیں شروع سے ہی شاعری اور نثر نگاری ان کے ساتھ ساتھ چل رہی ہےاس طرح انہیں شاعری اور نثر نگاری دونوں ہی پسند ہیں ۔ کیونکہ بقول ان کےجو باتیں قافیئے اور ردیف کی بندش نہ سہہ پائیں اور پنچرہ توڑ کر الفاظ کے پنکھ لگا لیں تو نثر کی صورت اڑان بھرنے لگتی ہیں ۔ اور اڑتے پرندے کسے اچھے نہیں لگتے-

    ان کے مشاغل ہیں مطالعہ کرنا ، لکھنا ، فلاور میکنگ، ہوم ڈیکوریشن، ڈرائنگ ، سکیچنگ ، ککنگ، سوشل ورک، مقررہ، ٹیچنگ۔اوران کی مصروفیات ہیں نعت خوانی ، شاعری، کالم نگاری ، لکھاری، ٹی وی ہوسٹنگ ، اصلاحی و تربیتی لیکچرز دینا ، بلاگر ، کوٹیشنز رائیٹر ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ وغیرہ ۔

    وہ فرانس میں پہلے پاکستانی ویب ٹی وی / Ondesi tv پر پروگرام “انداز فکر” کی میزبان و لکھاری ہیں جس کی 29 (انتیس) کے قریب اقساط یوٹیوب پر بھی موجود ہیں ۔وہ اردو کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی لکھتی ہیں ۔اب تک ان کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں-
    ۔ (1)” مدت ہوئی عورت ہوئے “
    شعری مجموعہ(2011ء)
    ۔ (2)”میرے دل کا قلندر بولے “
    شعری مجموعہ(2014ء)
    ۔ (3)”سچ تو یہ ہے“
    کالمز کا مجموعہ(2016ء)
    ۔ (4)” اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم “
    نعتیہ مجموعہ( 2019 ء)
    ۔ (5)”سراب دنیا“
    شعری مجموعہ کلام (2020ء)
    پانچ کتابیں زیر طبع کتب ہیں
    ۔ (1)پنجابی شعری مجموعہ کلام
    ۔ (2)نظموں کا مجموعہ
    ۔ (3)شاعری کا مجموعہ
    ۔ (4)کالمز کا مجموعہ
    ۔ (5)کوٹیشنز کا مجموعہ
    ۔ بنام ” چھوٹی چھوٹی باتیں ”
    وہ فرانس میں پہلی پاکستانی نسائی ادبی تنظیم “راہ ادب” کی بانی اور صدرہیں۔ ان کی کتابوں پر انھیں کئی اعزازات اورانعامات سے نوازا گیا ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی کتاب “سراب دنیا” پر ایک ایم فل کا مقالہ طالب علم نوید عمر (سیشن 2018ء تا 2020ء) صوابی یونیورسٹی پاکستان سے لکھ چکے ہیں ۔
    انعامات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دھن چوراسی ایوارڈ
    چکوال پریس کلب 2015ء/
    ۔ (2)حرا فاونڈیشن شیلڈ 2017ء/
    ۔ (3)کاروان حوا اعزازی شیلڈ 2019ء/
    ۔ (4)دیار خان فاونڈیشن شیلڈ 2019ء/
    ۔ (5)عاشق رندھاوی ایوارڈ 2020ء/
    اور بہت سے دیگر اسناد۔۔۔۔
    ☆تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مدت ہوئی عورت ہوئے
    ۔ شعری مجموعۂ کلام-(2011ء)
    ۔ (2)میرے دل کا قلندر بولے
    ۔ شعری مجموعۂ کلام-( 2014ء)
    ۔ (3)سچ تو یہ ہے
    ۔ مجموعہ مضامین (2016ء)
    ۔ (4) اے شہہِ محترم (صلی اللہ علیہ وسلم)
    ۔ نعتیہ مجموعہ کلام ( 2019ء)
    ۔ (5) سراب دنیا۔
    ۔ شعری مجموعہ کلام ( 2020ء )
    زیر طبع کتب۔5
    ☆آغازِ تحریر: 1998ء سے
    ☆پتا:79 avenue de Rosny
    ۔ 93250 Villemomble
    ۔ France

    ۔۔۔۔۔۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    میری کتاب سراب دنیا پر ایک ایم فل کا مقالہ ۔ طالب علم نوید عمر (سیشن 2018ء تا 2020ء) صوابی یونیورسٹی پاکستان سے لکھ چکے ہیں ۔

    وہ سماجی اور اخلاقی موضوعات پر لکھنا زیادہ پسند کرتی ہیں ۔ ہم انہیں معاشرتی اور گھریلو مسائل پر بات کرتے ہوئے زیادہ پائیں گے ۔ کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہر گھر معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے اور جب بہت ساری اکائیاں اکٹھی ہوتی ہیں تو ہی کوئی معاشرہ تشکیل پاتا یے ۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھ کر اپنے معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے رہنا اور اس کی اصلاح کے لیئے تجاویز پیش کرتے رہنا ہی ایک اچھے لکھاری اور کالم نگار کی ذمہ داری ہے ۔ جسے وہ پورا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ اسی سلسلے میں ان کی گھریلو مسائل پر لکھی گئی تحاریر اور بچوں کی پرورش اور بڑھتی عمر کیساتھ ان کے مسائل پر لکھی گئی تحاریر ان کے دل سے بہت ذیادہ قریب ہیں ۔ جیسے کہ “بچے ،بچپن اور تحمل” ۔ “پاس نہیں قریب رہو “۔ “مائیں بور نسلیں تباہ” ۔ “گھروں کو گھر ہی رہنے دیں” ۔ اور بہت سے دوسرے کالمز بقول ان کے ان کی دل کی آواز ہیں ۔

    ان کے کالمز چالیس (40) سے زیادہ ویب سائٹس اخبارات میں شائع ہوتے ہیں جیسے جنگ اوورسیز ۔آزاد جائزہ ، ڈیلی میزبان ، عالمی اخبار وغیرہ ۔
    رقیہ غزل ان کے بارے میں لکھتی ہیں:
    ”ممتاز ملک صاحبہ فن شعر گوئی میں اپنے منفرد لہجے اور اسلوب کی بدولت نمایاں مقام رکھتی ہیں ۔ ۔ویسے بھی نسوانی جذبات کا اظہار ایک عورت سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ عملاً ان تجربات سے گزرتی ہے اس لیے کسی بھی عورت نے جب قلم اٹھایا تو عورت کی بے توقیری ، جذبوں کی پامالی ،مرد کی بے وفائی کے دکھ کو اپنا موضوع سخن بنایا ہے ممتاز ملک رہتی پیرس میں ہیں مگر ان کا کلام اور کالم ان کے پاکستان میں ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔

    ممتاز ملک کی شخصیت کا احاطہ تو بہت مشکل ہے کیونکہ وقار و تمکنت ان کا خاصہ اور شائستگی انکی فطرت کا حصہ ہے وہ لفظوں سے کھیلنا خوب جانتی ہیں ۔جہاں ان کے لفظوں کی کاٹ قاری کو بڑھکاتی ہے وہاں رم جھم سے گنگناتے ہوئے اشعار ذہنوں پر مثبت اور روحانی سکون چھوڑتے ہیں ۔ انسان بہتے پانیوں کی طرح ان کے سحر انگیز کلام کے زیر اثر شعری تصور کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے ۔اور یوں ایک قاری اور سامع ان کا کلام دل و دماغ میں یوں اٹھا ئے پھرتا ہے جیسے وہ کوئی جاگیر لئے پھرتا ہے کیونکہ ان کا اندازواقعی دلپذیر ہے ۔ممتاز ملک کا شمار ایسے قلمکاروں میں ہوتا ہے جو اپنے محسوسات ،مشاہدات اور عملی تجربات کو دوسروں تک پہنچانے کا فن جانتی ہیں ۔انھوں نے نہایت سادہ اور عام فہم انداز بیان کو اختیار کر کے مختلف مگر بے شمار موضوعات پر طبع آزمائی فرمائی ہے جو کہ قابل داد ہے” ۔

    عاشق حسین رندھاوی ان کی نعت گوئ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    ”نعت گوئی اہلِ ایمان اور مذہب اسلام سے وابستہ لوگوں کا ایک فکری اور دلی عقیدت نامہ اور اصناف سخن کا سب سے اعلیٰ اور پاکیزہ حصہ ہے ۔ مگر یہ جس قدر سعادت وخوش بختی بلکہ آپ ﷺ سے بے پناہ عقیدت ومحبت کی دلیل ہے وہیں سب سے مشکل ،دشوار گزار اور بال سے زیادہ باریک راستہ ہے ۔ نعت کا موضوع جتنا اہم ،دل آویز اور شوق انگیز ہے اتنا ہی اس موضوع پر قلم اٹھانا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے ۔خود شعر و ادب کی تخلیق کوئی کسبی چیز نہیں کہ جس کے مخصوص اوزان وبحور کو رٹ کر کچھ طبع آزمائی کرلی جائے ، بلکہ یہ ایک انعامِ الٰہی ہے جو خالقِ کائنات کی جانب سے بعض مخصوص بندوں ہی کو عطا کیا جاتا ہے۔

    ان ہی چند لوگوں میں سے ممتاز ملک بھی ہیں جو علمی و ادبی حلقوں میں شاید بہت زیادہ معروف نہیں ہیں ۔ لیکن انہیں نعت کہنے کا سلیقہ آتا ہے اور انہوں نے کچھ اس انداز سے اپنے خیالات کو شعروں میں ڈھالا ہے کہ ان کے اشعار سن کر دل جھوم اٹھتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ آنے والے دور کی بہت معروف اور پختہ شاعرہ بن کر سامنے آئیں گی ۔ ان کے اشعار سننے کے بعد میرا پہلا تاثر تھا کہ محترمہ نے اگر کچھ اور نہ بھی کہا ہوتا تو بھی یہ نعت انہیں ادب میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھی ۔ ان کی لکھی نعت کےچند اشعار خدمت ہیں :
    دیارِ نبی کا ارادہ کیا ہے
    کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

    سجائیں گے صحنِ حرم آنسوؤں سے
    تو مانگیں گے ان کا کرم آنسوؤں سے

    وہ رکھیں گے اپنا بھرم آنسوؤں سے
    انھیں سب بتائیں اعادہ کیا ہے
    ان اشعار میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے اپنا عقیدہ بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور تخیل کا یہ عالم ہے کہ عام انسان بھی ان کے اشعار کو پڑھ کر مدینے کی گلیوں میں سیر کرنے لگتا ہے ۔دعاہے اللہ تعالیٰ ان کے تخیل کو اور بھی پختہ اور بلند کرے”
    ایاز محمود ایاز ان کی نعت گوئی پر یوں رقم طراز ہیں

    ”ان کا نعتیہ مجموعہ کلام ۔۔ اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔اپنے نبی کریم ﷺ سے عشق ہے۔ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے حصے میں وہ سعادت آئی جو بڑے بڑے شعراء کو نصیب نہیں ہوتی ۔ میں سمجھتا ہوں نعت لکھی نہیں جاتی لکھوائی جاتی ہے جس پہ نبی کریمﷺ کی نظرِ خاص اور خصوصی کرم ہو وہ ہی نعت لکھ سکتا ہے۔ ممتاز ملک صاحبہ نے جہاں نبی کریم ﷺ سے اپنے عشق کو اپنا موضوع سخن بنایا وہیں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ کو بھی موضوع بنایا ممتاز ملک صاحبہ کے لئے دعا گو ہوں کہ آپکا یہ ہدیہ نعت آپ کی بخشش کا سبب ہو اور آپکی عقیدتوں کا یہ سفر ہمیشہ اسی طرح جاری رہے” ۔ آمین
    پیش خدمت ہے ان کا نمونہ کلام

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ شب و روز میرے ساتھ بتانے والا
    اب بھی ملتا ہے مگر حال زمانے والا
    جب ضرورت ہو مجھے یاد بھی کر لیتا ہے
    بن ضرورت کے نہیں وقت گنوانے والا
    مجھ سا بیکار نہیں ہے یہ مجھے علم نہ تھا
    ورنہ ہوتا نہ گلہ اس سے ستانے والا
    جانے والے کو برا کہتے نہیں لوگ کہیں
    خوش رہے مجھ پہ وہ الزام لگانے والا
    کتنے ہنگامے تھے وابستہ اسی کے دم سے
    وہ جوچپ چاپ میرے شہر سےجانے والا
    اس کو نسیان عجب طرز کا لاحق ہے سنا
    یاد رہتا نہیں پیمان نبھانے والا
    حال اپنا نہ کھلا اس پہ وگرنہ ممتاز
    وہ تو ریکھاوں سے تھا راز چرانے والا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    :ہوش والوں نے کیا نیلام جسکو
    ایک دیوانے نے اسکی لاج رکھ لی
    بے بیخودی تھی یا ندامت کیا خبر
    کل جو رکھ پایا نہیں وہ آج رکھ لی
    دوسروں کو بانٹ کے سارے تفاخر
    اپنے حصے کی خودی محتاج رکھ لی
    دفن کی اس نے محبت دھوم سے اور
    مسکرا کر اک عمارت تاج رکھ لی
    شیر و مکھن میں نہ تھا حصہ کوئی
    میری خاطر ماں نے لیکن چھاج رکھ لی
    چاک تھے جتنے گریباں سی لیئے ہیں
    اس طرح سے صبر کی معراج رکھ لی
    ہے محض ممتاز دھوکہ سوچ کا تو
    اک غلامی تھی بنام راج رکھ لی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تم گواہ ہو میری ہر سمت سفر کے سچے
    اے میرے پاوں کے چھالو مجھے پیارے تم ہو
    جانا چاہو تو چلے جاو میری دنیا سے
    اے میرے چاہنے والو مجھے پیارے تم ہو
    ہر گھڑی جس میں کوئی غم ہی گھلا ہے واللہ
    خوب شفاف ہو پیالو مجھے پیارے تم ہو
    میں جو سامان جہاں میں ہوں مقید ایسے
    قید سے مجھکو نکالو مجھے پیارے تم ہو
    آسمانوں سے گرا کر مجھے پاتالوں میں
    میرے ٹکڑے نہ سنبھالو مجھے پیارے تم ہو
    جس طرح زخم دیئے تم نے زباں سے اپنی
    جان سے مار ہی ڈالو مجھے پیارے تم ہو
    ہاتھ جل جائے نہ تن من تو جلا ہے پہلے
    یوں نہ انگار اچھالو مجھے پیارے تم ہو
    وقت رخصت کی سمجھ لو اسے دنیاداری
    مجھ کو سینے سے لگا لو مجھے پیارے تم ہو
    اب تو ممتاز جلن سانس کا حصہ ٹہری
    اور بھی چاہے جلا لو مجھے پیارے تم ہو

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ”ماں کے ہاتھوں کا دیا“
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں اپنی ماں کے
    حسین ہاتھوں کا وہ دیا ہوں
    وہ جس کی مدھم سی روشنی میں
    ہر ایک شئے کو تلاشتی تھی
    وہ اس کی کھوئی ہوئی سوئ ہو
    یا اس کے گم کردہ خواب ہوں پھر
    نہ صرف وہ کھوجتی تھی ان کو
    بڑے یقیں سے وہ پا بھی لیتی
    کبھی جو باد ستم چلی تو
    وہ اپنا ہاتھ
    اس کی لو پہ رکھ کر
    بنا کے چھجا بچا بھی لیتی
    کبھی کبھی اس کی حدتوں سے
    وہ ہاتھ اپنا جلا بھی لیتی
    مگر محبت کی روشنی کو
    وہ اپنا مقصد سمجھ چکی تھی
    کہ یہ ہی ممتاز روشنی تھی
    یہ روشنی اس کی زندگی تھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ”حد نگاہ“
    ۔۔۔۔۔۔
    یہاں سے سورج غروب ہوتا
    جو میں نے دیکھا
    وہاں سے لیکن
    اسی گھڑی میں
    طلوع صبح کی نوید
    اس نے مجھے سنائی
    نہ میں غلط تھی
    نہ وہ غلط تھے
    نہ کذب میرا
    نہ جھوٹ اس کا
    بس اپنے اپنے تھے یہ مناظر
    بس اپنے اپنے یہ فاصلے تھے

  • شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے

    21فروری 1978 میں پیدا ہونے والی شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا پورا نام ہاجرہ پروین ہے جبکہ ہاجرہ نور زریاب ان کا قلمی نام ہے ان کی تصنیفات میں ،چاند کے زینے پر، گم شدہ خیالوں کے عکس شامل ہیں-

    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1 )پروین شاکر ایوارڈ، صراط مستقیم کالج سلطان پور لکھنو
    ۔ (2) سرسید احمد خان ایوارڈ، جے پور

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے
    غربت کو شکست ِفاش ہوئی، دولت کے پجاری جیت گئے
    ایامِ اسیری بیت گئے، حالات کے بندی خانے میں
    سچائی یہاں مصلوب ہوئی ،جلسوں کے مداری جیت گئے
    اس جنگل کے قانون کی بھی بجھ پائی نہیں ہے پیاس کبھی
    معصوم پرندے ہار گئے، بے رحم شکاری جیت گئے
    دنیا کے تجارت خانے میں، ہر جنس گراں پامال ہوئی
    ارباب ِہنر ناکام رہے، زر کے بیوپاری جیت گئے
    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے
    جو راہ وفا میں ان کو ہوئی،ہیں اہل جنوں اس مات پہ خوش
    اور تم مغرور کہ یاروں سے، کرکے غداری جیت گئے
    وہ لوگ خس و خاشاک ہوئے، پھولوں میں جو رکھنے والے تھے
    زریاب مگر کچھ پتھر دل احساس سے عاری جیت گئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جب تیری توجہ کے طلبگار ہوئے ہیں
    اشعار میں الفاظ گرفتار ہوئے ہیں
    کھوئے ہوئے لمحات مری نیند میں آ کر
    خوابوں کے جھروکوں میں نمودار ہوئے ہیں
    تم جب بھی گئے یاد کی راہوں سے گزر کر
    ہم ایک نئے کرب سے دوچار ہوئے ہیں
    موجود ہے بس ذات کی خستہ سی عمارت
    دلکش تھے خدوخال جو مسمار ہوئے ہیں
    چھیڑا ہے دکھی ساز کے تاروں کو کسی نے
    سوے ہوئے نالے کہیں بیدار ہوئے ہیں
    تسکین تو دی ہے ترے آنے کی خبر نے
    لمحات مگر اور بھی دشوار ہوئے ہیں
    زریاب تھے جو آبرو ، کل صحن چمن کی
    نیلام وہی گل سر بازار ہوئے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل مرا مضطر بہت پیہم رہا
    زندگی بھر زندگی کا غم رہا
    کچھ تو حاوی درد کا موسم بھی تھا
    کچھ مقدر بھی مرا برہم رہا
    معجزے ہیں سب تمھارے عشق کے
    وصل میں بھی ہجر کا عالم رہا
    منزلیں پھر سے مقدر ہو گئیں
    راہ بھر پھر یاد کا عالم رہا
    کس طرف لے آئی ہے یہ زندگی
    وقت ہم پر مہرباں کیوں کم رہا
    پھر کسی کے تلخ لہجے کے سبب
    ہر چراغ آرزو مدھم رہا
    قہقہوں کے ساتھ آنسو تھے رواں
    رات خوشیوں میں بپا ماتم رہا
    میں نے چھو کر دیکھا اُس کے ہاتھ کو
    میرے ہاتھوں میں بھی جامِ جم رہا
    جب بھی دیکھا آئنہ زریاب نے
    عکس دھندلا ہی سہی تاہم رہا

  • ماضی کی معروف شاعرہ  فاطمہ تاج النساء کا یوم وفات

    ماضی کی معروف شاعرہ فاطمہ تاج النساء کا یوم وفات

    نام فاطمہ تاج النساء اور تخلص تاجؔ تھا 25؍اکتوبر 1948ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ محترمہ فاطمہ تاجؔ کا نام، گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی سے شروع ہونے والے زائد از نصف صدی طویل ادبی سفر میں والد ماجد رؤف خلش و اعتماد صدیقی مرحوم کے بشمول دیگر ممتاز شعراء کی فہرست میں شامل رہا ہے۔

    وہ جدیدیت سے پرے روایتی لیکن منفرد لہجہ کی حامل اچھی شاعرہ ہونے کے ساتھ عمدہ افسانہ و نثر نگار بھی تھیں۔ ان کی شائع شدہ تصانیف میں اب کے برس، خوشبوئے غزل، پھول غزل کے، حوصلہ، اک چراغ اور، چاندنی کا آئینہ، ہیرے بھی پتھر ہیں، بات ابھی باقی ہے (شعری مجموعے)، آس پاس، چھاؤں کی چادر دھوپ کی کلیاں، موسم کی طرح رشتے (افسانوں پر مشتمل)، وہ (ناولٹ) امانت (ادبی مضامین)، دلاسہ، من مانی (مضامین طنز و مزاح) جبکہ متوقع اشاعت پذیر کتابوں میں دو ناول ’’جب شام ہو گئی‘‘ و ’’نقشِ آب‘‘ اور مکمل شعری سرمایہ پر مشتمل "دیوانِ تاج” شامل ہیں۔

    حیدر آبادکی کئی نسائی ادبی تنظیموں کی فعال رکن بھی تھیں۔ اتر پردیس کی اردو اکادمی اور میرؔ اکادمی، لکھنؤ نے ان کو اعزازت سے نوازا ہے۔ ان کی شخصیت اور فن پر تسنیم سلطانہ نے ایم۔فل کیا ہےسیدہ فاطمہ تاجؔ 19؍جنوری 2020ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال کر گئیں۔

    منتخب کلام بطور خراجِ تحسین:-

    مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے
    وہ لمحہ کس کے خدا جانے اختیار میں ہے

    یہ پھول کانٹے بہت ہی عزیز ہیں ہم کو
    ہمارے ماضی کی خوشبو اسی بہار میں ہے

    کرے گا کیسے کوئی منزلوں کا اندازہ
    ابھی تو کارواں خود پردۂ غبار میں ہے

    نہ جانے کب یہ قفس زندگی کا ٹوٹے گا
    ابھی حیات مری درد کے حصار میں ہے

    زمانہ ٹوکتا جاتا ہے اس طرح مجھ کو
    کہ جیسے ترک وفا میرے اختیار میں ہے

    عجیب تاجؔ یہاں نظم زندگانی ہے
    ہے گلستاں میں کوئی کوئی لالہ زار میں ہے

  • پروین شاکر کی 28 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    پروین شاکر کی 28 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    صدیوں کی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ پروین شاکر اپنے خاندان میں اکیلی شاعرہ نہیں تھیں اور بھی شاعر تھے جن میں بہار حسین آبادی کا نام قابل زکر ہے ان کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔ انہوں نے اپنی منفرد شاعری کی کتاب ” خوشبو “ سے وہ شہرت حاصل کی جو کسی کا صرف خواب ہی ہو سکتا ہے . انہیں اس کتاب پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا، ان کے دیگر شعری مجموعے خود کلامی،صد برگ،انکار،ماہ تمام اور کف آئینہ کو بھی بے پناہ

    پزیرائی حاصل ہو ئی ۔ پروین شاکر نے اپنی خوبصورت اور منفرد شاعری میں محبت اور عورت کو موضوع بنایا ، اردو لہجے کی منفرد شاعرہ ہونے کی وجہ سے پروین شاکر کو بہت ہی کم عرصے میں شہرت حاصل ہو گئی ملک بھر کے طول و عرض میں نوجوان نسل کی اکثریت ان کی مداح ہے۔پروین شاکر درس و تدریس کے شعبہ سے بھی وابستہ رہیں اور بعد ازاں سرکاری ملازمت بھی کی. شاعری کے دیوانے آج بھی انکو چاہتے ہیں انکی شاعری کو سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں.پروین شاکر کی شاعری آج بھی انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے.

  • معروف شاعرہ پروین شاکر کی 27 ویں برسی

    معروف شاعرہ پروین شاکر کی 27 ویں برسی

    محبت اور خوشبوؤں کے رنگ بکھیرنے والی معروف شاعرہ پروین شاکر کی آج 27ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پروین شاکر24 نومبر1954 کوکراچی میں سید شاکر حسن کے گھر پیدا ہوئیں ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں نے بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔

    پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں اور مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد نو برس شعبہ تدریس سے منسلک رہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔

    خوشبو کی سفیر پروین شاکرکا آج 69 واں یوم پیدائش

    پروین شاکرنے انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔ بی۔ آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990ء میں ٹرینٹی کالج جو امریکا سے تعلق رکھتا تھا سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

    پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔

    عمران عباس کی والدہ کے انتقال پر شوبز شخصیات کا اظہار افسوس

    شاعری کی دنیا میں انہیں احمد ندیم قاسم جیسے ادیب کی سرپرستی حاصل رہی،کم عمری میں شاعری کا آغازکرنے والی پروین شاکرکوان کے پہلے شعری مجموعے’’خوشبو‘‘پرآدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا پروین شاکر کی معروف کتابوں میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام شامل ہیں۔

    پروین شاکر کے ساتھ دلچسپ اتفاق یہ ہوا کہ 1982 میں جب وہ سینٹرل سپیرئیر سروسزز(سی ایس ایس ) کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے پرچے میں ایک سوال ان کی شاعری سے ہی متعلق تھا۔

    پروین شاکرکی شاعری ایک نسل کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ عورت ہے پروین شاکرنے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت خوبصورتی سے لفظوں کے قالب میں ڈھالا بلقیس خانم سے لے کرشہنشاہ غزل مہدی حسن تک پروین شاکرکا کلام بہت سے گلوکاروں نے گایا جوبہت مقبول ہوا۔

    اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں نام بنانے والی شاعرہ 26 دسمبر 1994 میں اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئیں لیکن انسانی جذبات و احساسات کو لفظوں میں پرونے والی شاعرہ آج بھی اہل ذوق کے دلوں میں زندہ ہے۔

    سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی والدہ انتقال کر گئیں