Baaghi TV

Tag: شاعر

  • اک بار  اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر

    اک بار اس نے دیکھا تھا مجھے مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    پنڈت میلہ رام وفا

    یوم وفات:19ستمبر 1980ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کےنام سےجانےجاتےہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں دیپو کےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔ ان کوباغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی۔ شعری مجموعے”سوزوطن“ اور ”سنگ میل“ کےعلاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں۔ بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے۔ ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے۔ فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔ بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی۔ 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا۔ پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئے۔ ارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہےاورلالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا۔ ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
    تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
    یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
    حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

    تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
    ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

    راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
    آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
    لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

  • یوم وفات: استاد شہر یار

    یوم وفات: استاد شہر یار

    18 ستمبر

    یوم فارسی شعر و ادب

    یوم وفات: استاد شہر یار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید محمد حسین بہجت تبریزی عرف "استاد شہریار” تبریز کے ایک ایرانی شاعر تھے جنہوں نے ترکی، آذربائیجانی اور فارسی زبانوں میں شاعری کی۔ وہ تبریز میں پیدا ہوئے اور اسی شہر میں دفن ہوئے۔ 27 شہریور بہ مطابق 18 ستمبر کو "فارسی شاعری اور ادب کا دن” کا نام دیا گیا ہے۔ اس نام کی یہ وجہ ہے کہ یہی دن استاد شہریار کا یوم وفات بھی ہے۔

    استاد شہریار کا سب سے اہم کام، نظم حیدر بابائے سلام (حیدربابا کو سلام) ہے، جسے آذربائیجانی ترک ادب کے شاہ کاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں شاعر نے گاؤں کی اصلیت اور خوبصورتی کا ذکر کیا ہے۔ یہ مجموعہ جدید نظموں میں شامل ہے اور دنیا کی 80 سے زیادہ زندہ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔

  • میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا

    میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا

    میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا !!!!!!
    کئی چہروں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا

    ڈاکٹر اجمل نیازی

    یوم ولادت : 16 ستمبر 1946
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر اجمل نیازی 16ستمبر 1946ء کو موسی خیل (ضلع میانوالی) میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طالبعلمی کے دوران راوی اور محور کی ادارت کی، مختلف مجالس سے وابستگی رہی، گارڈن کالج راولپنڈی اور گورنمنٹ کالج میانوالی میں لیکچرار رہے، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں تعینات رہے، روزنامہ نوائے وقت میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ہیں، 45 سال صحافتی و ادبی خدمات انجام دیں۔

    ڈاکٹر اجمل نیازی 75 سال 1 ماہ کی عمر میں طویل علالت کے بعد 18 اکتوبر 2021ء کی رات 2 بجے لاہور میں اِنتقال کرگئے،ڈاکٹر صاحب ایک کہنہ مشق استاد ،ماہر تعلیم، صحافی اور بلند پایہ شاعر تھے .آپ کی تصانیف "”مندر میں محراب”” (1991ء، سفرنامہ بھارت)، "”جل تھل”” (1980ء، تذکرہ شعرائے میانوالی )، "”محمد الدین فوق”” (1987ء، کتابیات)، "”بے نیازیاں”” (کالمز کا مجموعہ)، "”مجموعہ مقالات”” (سونح حمید نظامی) ہمیشہ آپ کو زندہ رکھیں گی.

  • ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    شان الحق حقی

    شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم

    15 ستمبر 1917: یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔

    نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

    کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

    کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

    لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

    شان الحق حقی

  • سید ضامن علی نقوی کا یوم وفات

    سید ضامن علی نقوی کا یوم وفات

    لیکن کھلا یہ بھید سر طور و کربلا
    دید و شہود کے بھی مقامات ہیں جدا
    ..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گویاؔ جہان آبادی

    10 ستمبر : یوم وفات

    سید ضامن علی نقوی المعروف گویا جہان آبادی، جہاں آباد کے رہنے والے تھے۔ ان کی ایک مثنوی ” اسرار مستی” نے بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کی تھی اس کی تعریف کرنے والوں میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ہند و پاک کی آزادی کے بعد گویاؔ پاکستان آ گئے تھے اور یہاں کے ادبی حلقوں میں خاصے مقبول تھے کراچی میں مقیم تھے ، وہیں تقریباً 75 سال کی عمر میں 10 ستمبر 1971ء کو آخری سانس لی
    …..
    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انساں نے آانکھ کھولی ہے بزم شہود میں
    آدم کے قبل آیا ہے عالم وجود میں
    تسخیر ہی کو ارض و سما کے حدود میں
    دیرینہ ایک جنگ ہے بود و نمود میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ظلمت خلاف نور ہے وقت دراز سے
    واقف نہیں اضافی افاضی کے راز سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن کھلا یہ بھید سر طور و کربلا
    دید و شہود کے بھی مقامات ہیں جدا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود میں خدا کی دید شہادت کا اقتضا
    نظارے کی طلب ہے تقاضا کلیم کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چشمِ کلیمؑ اِدھر ہے اُدھر قلب مصطفٰیﷺ
    طالب کا وہ مقم یہ مطلوب ک پتا
    ……
    چلی آتی ہیں موجیں اک جمال گل بداماں کی
    بنائیں ہر قدم پر ڈالتی سو سو گلستاں کی
    کھلا کرتی ہیں کلیاں آنکھ میں دل کے گلستاں کی
    دم نظارہ نظریں پھول برساتی ہیں انساں کی
    نہ دل سمجھا ، نہ غم سمجھے ، نہ دنیا ساز و ساماں کی
    یہ کیا سرگوشیاں تھیں چپکے چپکے اشک و مژگاں کی
    لیے بیٹھا ہوں آنسو دیر سے دامان مثگاں میں
    سرپ داستاں ہوں شبنم و برگِ گلستاں کی
    جہاں سے بزم ہستی میں ہوا ہے خاک پروانہ
    وہیں سے برق چمکی ہے کسی کے حسن پنہاں کی
    ٹھہر اے سوز نظارہ کہ لو دینے لگے آنسو
    حبابوں سے شعاعیں پھوٹ نکلیں آتش جاں کی
    پڑا ہوں سر بسجدہ پھر رہا ہے کوئی نظروں میں
    جبیں سائی میں منزل ہے نیاز دراز پنہاں کی
    فروغ شعلۂ شبنم سے حیرااں مہ و انجم
    نظر ہے قطرہء ناچیز پر ، مہر درخشاں کی
    مرے اشکوں کی فطرت ہے مسلسل جستجو گویاؔ
    ستارے منزلیں طے کر رہے ہیں کوئے جاناں کی

  • ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

    ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

    ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
    کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے

    پیدائش:12 جون 1939ء

    عبیداللہ نام اور تخلص علیم تھا۔ 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیالکوٹ سے نقل مکانی کرکے بھوپال میں آباد ہوگئے تھے۔ اس اعتبار سے ان کی پدری زبان پنجابی اور مادری زبان اردو تھی۔ بچپن سے انھیں اچھے شعر یاد کرنے اور پڑھنے کا شوق تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ میٹرک کے بعد پوسٹ آفس کے سیونگ بینک میں ڈیڑھ سال تک ملازم رہے۔ پھر تقریبا دوسال تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس میں کام کیا۔ 1959ء سے انھوں نے باقاعدگی سے شعر کہنا شروع کیا۔ عبید اللہ علیم نے کراچی سے اردومیں ایم اے کیا۔ گیارہ سال تک کراچی ٹیلی ویژن میں پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ اپنا ماہ نامہ ’’نئی نسلیں‘‘ بھی شائع کرتے رہے۔ 18 مئی 1998ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ’’چاند،چہرہ، ستارہ، آنکھیں‘‘ 1975ء میں شائع ہوا جس پر آدم جی ادبی انعام ملا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ویراں سرائے کا دیا‘‘1986ء میں چھپا۔ ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ نگار صبح کی امیدیں‘‘، ’’یہ زندگی ہے ہماری‘‘(کلیات)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:350

    عبید اللہ علیم کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
    میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا

    اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا
    وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا

    یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں مرا حال نہیں
    اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سکھ نے آزار دیا

    میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
    میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

    وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
    اس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا

    میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
    ان لوگوں پر جن لوگوں نے مرے لوگوں کو آزار دیا

    مرے بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں سے
    میں خشک پیڑ خزاں کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مٹی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا
    پھر ہفت آسماں مری پرواز سے اٹھا

    انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہو
    یہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا

    صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھا
    اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

    سو کرتبوں سے لکھا گیا ایک ایک لفظ
    لیکن یہ جب اٹھا کسی اعجاز سے اٹھا

    اے شہسوار حسن یہ دل ہے یہ میرا دل
    یہ تیری سر زمیں ہے قدم ناز سے اٹھا

    میں پوچھ لوں کہ کیا ہے مرا جبر و اختیار
    یارب یہ مسئلہ کبھی آغاز سے اٹھا

    وہ ابر شبنمی تھا کہ نہلا گیا وجود
    میں خواب دیکھتا ہوا الفاظ سے اٹھا

    شاعر کی آنکھ کا وہ ستارہ ہوا علیمؔ
    قامت میں جو قیامتی انداز سے اٹھا

  • مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

    28 مئی 1723 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’خدائے سخن‘ کہا جاتا ہے ، ”۔ میر تقی میر 28؍مئی 1723ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، میر کی عمر جب گیارہ بارہ برس کی تھی ان کے والد علی متقی کا انتقال ہو گیا۔ میر کے منہ بولے چچا امان اللّہ درویش، جن سے میر بیحد مانوس تھے، پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ جس کا میر کو بہت صدمہ تھا۔ باپ اور اپنے مشفق اللّہ امان کی موت نے میر کے ذہن پر غم کے دیر پا نقوش ثبت کر دئے جو ان کی شاعری میں جا بجا ملتے ہیں۔ والد کی وفات کے بعد ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ نہیں رکھا۔ وہ بڑی کسمپرسی کی حالت میں تقریباً چودہ سال کی عمر میں دہلی آ گئے۔ دہلی میں صمصام الدولہ، امیر الامراء ان کے والد کے عقیدتمندوں میں سے تھے۔ انہوں نے ان کا ایک روپیہ روزینہ مقرر کر دیا جو ان کو نادر شاہ کے حملہ تک ملتا رہا۔ صمصام الدولہ نادر شاہی قتل و غارت میں مارے گئے۔ ذریعہ معاش بند ہو جانے کی وجہ سے میر کو آگرہ واپس جانا پڑا لیکن اس بار آگرہ ان کے لئے پہلے سے بھی بڑا عذاب بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں ان کو اپنی ایک عزیزہ سے عشق ہو گیا تھا جسے ان کے گھر والوں نے پسند نہیں کیا اور ان کو آگرہ چھوڑنا پڑا۔ وہ پھر دہلی آئے اور اپنے سوتیلے بھائی کے ماموں اور اپنے وقت کے جید عالم، سراج الدین آرزو کے پاس ٹھہر کر تحصیل علم کے جویا ہوئے۔ نکات الشعراء میں میر نے ان کو اپنا استاد کہا ہے لیکن ذکر میر میں میر جفری علی عظیم آبادی اور امروہہ کے سعادت علی خان کو اپنا استاد بتایا ہے۔ موخرالذکر نے ہی میر کو ریختہ لکھنے کی ترغیب دی تھی۔ میر کے مطابق خان آرزو کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہیں تھا اور وہ اس کے لئے اپنے سوتیلے بھائی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان کے سلوک سے بہت دل بر داشتہ تھے۔ ممکن ہے کہ آگرہ میں میر کی عشق بازی نے ان کو آرزو کی نظر سے گرا دیا ہو۔اپنے اس عشق کا تذکرہ میر نے اپنی مثنوی خواب و خیال میں کیا ہے۔ میر نے زندگی کے ان تلخ تجربات کا گہرا اثر لیا اور ان پر جنوں کی کیفیت طاری ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد دوا علاج سے جنوں کی شدت تو کم ہوئی مگر ان تجربات کا ان کے دماغ پر دیر پا اثر قائم رہا۔

    میر نے خان آرزو کے گھر کو خیر باد کہنے کے بعد اعتماد الدولہ قمرالدین کے نواسے رعایت خان کی مصاحبت اختیار کی اور اس کے بعد جاوید خاں خواجہ سرا کی سرکار سے متعلق ہوئے۔ اسد یار خاں بخشی فوج نے میر کا حال بتا کر گھوڑے اور "تکلیف نوکری” سے معافی دلا دی۔ مطلب یہ کہ برائے نام سپاہی تھے کام کچھ نہ تھا۔ اسی عرصہ میں صفدر جنگ نے جاوید خاں کو قتل کرا دیا اور میر پھر بیکار ہو گئے۔تب مہا نراین، دیوان صفدر جنگ، نے ان کی دستگیری کی اور چند مہینے فراغت سے گذرے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ راجہ جگل کشور اور راجہ ناگر مل سے وابستہ رہے۔ راجہ ناگر مل کی رفاقت میں انہوں نے بہت سے مقامات اور معرکے دیکھے۔ ان مربیوں کے حالات بگڑنے کے بعد وہ کچھ عرصہ گوشہ نشین رہے۔ جب نادر شاہ اور احمد شاہ کی خونریزیوں نے دہلی کو اجاڑ دیا اور لکھنؤ آباد ہوا تو نواب آصف الدولہ نے انہیں لکھنؤ بلا لیا۔ میر لکھنؤ کو برا بھلا کہنے کے باوجود وہیں رہے اور وہیں تقریباً 90 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ میر نے بھر پور اور ہنگامہ خیز زندگی گزاری۔ سکون و راحت کا کوئی طویل عرصہ ان کو نصیب نہیں ہوا۔ میر نے اردو کے چھ دیوان مرتب کئے جن میں غزلوں کے علاوہ قصائد، مثنویاں رباعیات اور واسوخت وغیرہ شامل ہیں۔ نثر میں ان کی تین کتابیں نکات الشعراء، ذکر میر اور فیض میر ہیں۔ موخرالذکر انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے لکھی تھی۔ ان کا ایک فارسی دیوان بھی ملتا ہے۔
    میر تقی میرؔ، 21؍ستمبر 1810ء کو لکھنؤ میں وفات پائی ۔

    خدائے سخن، عظیم شاعر میر تقی میرؔ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

    راہِ دورِ عشق میں روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

    نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

    بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
    ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

    ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
    اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

    ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
    دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

    دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
    ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

    پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے
    دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے

    لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
    آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

    اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے
    پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

    پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
    پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

    عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
    اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

    شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
    عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

    اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی صورت
    ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر

    دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
    یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

    سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
    مستند ہے میرا فرمایا ہوا

    میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
    ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

    بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
    سب ہم سے سیکھتے ہیں اندازِ گفتگو کا

    جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
    اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

    ہستی اپنی حباب کی سی ہے
    یہ نمائش سراب کی سی ہے

    چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
    جمالِ یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

    پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
    اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

    روز آنے پہ نہیں نسبتِ عشقی موقوف
    عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

    جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
    کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

    ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
    اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں

    عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں
    کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق

    تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
    اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا

    آورگانِ عشق کا پوچھا جو میں نشاں
    مشتِ غبار لے کے صبا نے اڑا دیا

    آہ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیا
    اس باد نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

    تھا مستعارِ حسن سے اس کے جو نور تھا
    خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

    کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
    آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر

    روئے سخن ہے کیدھر اہلِ جہاں کا یا رب
    سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے

    الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
    دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

    آگے جمالِ یار کے معذور ہو گیا
    گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

    اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
    چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

    مانند شمع مجلسِ شب اشکبار پایا
    القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا

    کثرتِ داغ سے دل رشکِ گلستاں نہ ہوا
    میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا

    گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میرؔ
    اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ، غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ، غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ماہر القادری

    اردو کے معروف شاعر ماہر القادری کا اصل نام نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ القادری ہے۔ وہ 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد بجنور سے نکلنے والے مشہور اخبار ’مدینہ‘ سے وابستہ ہو گئے۔ ’مدینہ‘ کے علاوہ اور بھی کئی اخباروں اور رسالوں کی ادارت کی ممبئی میں قیام کے دوران فلموں کے لئے نغمے بھی لکھے، تقسیم کے بعد پاکستان متقل ہو گئے-

    کراچی سے ماہنامہ ’فاران‘ جاری کیا جو بہت جلد اس وقت کے بہترین ادبی رسالوں میں شمار ہونے لگا ماہر القادری نے تنقید ، تبصرہ ، سوانح ، ناول کے علاوہ اورکئی نثری اصناف میں لکھا ۔ ان کی نثری تحریریں اپنی شگفتگی اور رواں اسلوب بیان کی وجہ سے اب تک دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ ماہر القادری کی بیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: "آتشِ خاموش” ، "شیرازہ” ، "محسوساتِ ِ ماہر” ، "نغمات ِ ماہر” ، "جذباتِ ِ ماہر” ، "کاروانِ حجاز” ، "زخم و مرہم” ، "یادِ رفتگاں” ، "فردوس” اور "طلسمِ حیات”۔ 12 مئی 1978ء کو جدہ میں ایک مشاعرے کے دوران حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار :

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
    غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
    دل یہ کہتا ہے فریبِ دوست کھاتے جائیے

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں
    انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی

    یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
    کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی

    نقابِ رخ اٹھایا جا رہا ہے
    وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

    پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
    محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

    اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے
    جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود

    یوں کر رہا ہوں ان کی محبت کے تذکرے
    جیسے کہ ان سے میری بڑی رسم و راہ تھی

    ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
    دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی

    مرے شوقِ دیدار کا حال سن کر
    قیامت کے وعدے کیے جا رہے ہیں

    چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے
    آگ پانی میں لگا کر چل دیئے

    Cp

  • سعودی معروف شاعر، ادیب اور مصنف شہزادہ بدربن عبد المحسن انتقال کر گئے

    سعودی معروف شاعر، ادیب اور مصنف شہزادہ بدربن عبد المحسن انتقال کر گئے

    ریاض:سعودی عرب کے معروف شاعر، ادیب اور مصنف شہزادہ بدربن عبد المحسن علالت کے باعث 75 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ بدر کا شمار شاہی خاندان کے اہم افراد میں ہوتا تھا، شہزادہ بدر معروف شاعر، ادیب، مصنف اور نقاد بھی تھےشہزادہ بدر بن عبد المحسن کا شمار جزیرہ عرب کے جدید شعرا میں کیا جاتا ہےسعودی عرب کے قومی دن پر سب سے زیادہ سنا جانے والا قومی نغمہ ’فوق ھام السحاب‘ (بادلوں سے کہیں بلند)، کے بول بھی انہوں نےہی لکھے تھے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے 2019 میں شہزادہ بدربن عبد المحسن کو شاہ عبدالعزیز کے تمغے سے بھی نوازا تھا،شہزادہ بدربن عبد المحسن 2 اپریل 1949 کو ریاض میں پیدا ہوئے تھے، وہ شہزادہ عبدالمحسن بن عبدالعزیز آل سعود کے دوسرے بیٹے تھے۔

    پاکستانی نژاد برطانوی شہری صادق خان تیسری مرتبہ لندن کے میئر منتخب

    چیئرمین پی سی بی نے سٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کی دیں ہدایات

    فیصل کریم کنڈی نے بطورگورنرخیبرپختونخوا حلف اٹھالیا

  • عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

    عرفان صدیقی

    نامور شاعر محمد عرفان المعروف عرفان صدیقی 8 جنوری 1939ء میں اترپردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے تھے، عرفان صدیقی کی ولادت ایک علمی خانوادہ میں ہوئی، جس میں مذہب اور شعر گوئی کی روایت کئی پشتوں سے چلی آرہی تھی، ان کے پردادا مولانا محمد انصار حسین حمیدی زلالی بدایونی شمس العلما خواجہ الطاف حسین حالی کے شاگرد تھے اور دادا مولوی اکرام احمد شاد صدیقی، مولانا سید علی احسن مارہروی کے شاگرد تھے، عرفان صدیقی کے والد مولوی سلمان احمد صدیقی ہلالی بدایونی ایک وکیل اور صاحب طرز ادیب و شاعر تھے، ان کی والدہ مرحومہ رابعہ خاتون کو بھی شعر و ادب سے خاص انسیت تھی اور خود شعر بھی کہتی تھیں، ان کے بڑے بھائی نیاز بدایونی بھی شاعر تھے، محشر بدایونی اور دلاورفگار ان کے قریبی رشتےدار تھے۔

    عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ضلع بدایوں کے محلہ ”سُوتھا“میں اپنے گھر میں حاصل کی، پھر کرسچین ہائر سکنڈری اسکول بدایوں سے میٹرک کا امتحان 1953ء میں پاس کیا حافظ صدیق میسٹن اسلامیہ انٹر کالج بدایوں سے انٹر میڈیٹ، بریلی کالج بریلی سے1957ء میں بی۔اے اور 1959ء میں ایم۔اے کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن سے صحافت کا ڈپلوما کیا۔

    1962ء میں حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات و نشریات اور وزارت دفاع کے مختلف شعبوں میں اطلاعات، خبر نگاری اور رابطہ عامّہ کی مختلف ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے۔ ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدے سے 1998ء میں وظیفہ یاب ہوئے اور لکھنو میں آخری دم تک قیام رہا۔

    عرفان صدیقی کی شاعری کے پانچ مجموعے: کینوس، شبِ درمیاں، سات سماوات، عشق نامہ اور ہوائے دشت ماریہ کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات’دریا‘کے نام سے پاکستان میں اشاعت پذیر ہوئی عرفان صدیقی ایک اچھے مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے کالی داس کی ایک طویل نظم ’رت سنگھار‘اور کالی داس کے ڈرامے ’مالویکا اگنی متر‘ کا ترجمہ براہ راست سنسکرت سے اردو میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراکش کے ادیب محمد شکری کے سوانحی ناول کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے 1100ء سے 1850ء تک کے اردو ادب کا ایک جامع انتخاب بھی کیا تھا۔ جو ساہتیہ اکیڈمی سے اشاعت پذیر ہوا۔ 1998 میں عرفان صدیقی کو اترپردیش کی حکومت نے میر اکادمی کا اعزاز عطا کیا تھا،15؍اپریل 2004 کو درمیانی شب میں لکھنؤ میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ نماز جمعہ کے بعد ان کی تدفین ڈالی گنج کے قبرستان میں ہوئی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    عرفانؔ صدیقی کے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    ———-
    عجب حریف تھا ، میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
    ———-
    تو نے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
    ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
    ———-
    توڑ دی اُس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی
    اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی
    ———-
    شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
    جس کو جانا ہو چلا جائے ، اجازت کیسی
    ———-
    اب سخن کرنے کو ہیں نو واردانِ شہرِ درد
    اٹھیے صاحب ! مسندِ ارشاد خالی کیجیے
    ———-
    ہم سب آئنہ در آئنہ در آئنہ ہیں
    کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
    ———-
    نقش پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
    ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
    ———-
    رات کو جیت تو سکتا نہیں لیکن یہ چراغ
    کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
    ———-
    جل بجھیں گے کہ ہم اس رات کا ایندھن ہی تو ہیں
    خیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ
    ———-
    زمانہ کل انہیں سچائیاں سمجھ لے گا
    تم اک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو ابھی
    ———-
    اپنے لئے تو ہار ہے کوئی نہ جیت ہے
    ہم سب ہیں دوسروں کی لڑائی لڑے ہوئے
    ———-
    ہُو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
    ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
    ———-
    اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لیے
    کہ نیند شرط نہیں‌خواب دیکھنے کے لیے
    ———-
    ایک کوشش کہ تعلق کوئی باقی رہ جائے
    سو تری چارہ گری کیا ، مری بیماری کیا
    ———-
    ہم نے مدّت سے اُلٹ رکھّا ہے کاسہ اپنا
    دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک
    ———-
    میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
    کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
    ———-
    یہ تیر اگر کبھی دونوں کے درمیاں سے ہٹے
    تو کم ہو فاصلۂ درمیاں ہمارا بھی
    ———-
    کہیں خرابۂ جاں کے مکین نہیں جاتے
    درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے
    ———-
    اگر میں فرض نہ کرلوں کہ سن رہا ہے کوئی
    تو پھر مرا سخن رائیگاں کہاں جائے
    ———-
    مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
    میں آنے والی دنیا کوبھی تخمینے میں رکھتا ہوں
    ———-
    پیشِ ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
    اس رزق پر مگر گزر اوقات نہیں ہوئی
    ———-
    یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
    تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
    ———-
    عذابِ جاں ہے عزیزو ، خیالِ مصرع ء تر
    سو ہم غزل نہیں کہتے ، عذاب ٹالتے ہیں
    ———-
    لوگ کیوں مجھ کو بلاتے ھیں کنارے کی طرف
    میں جہاں ڈوب رھا ھوں وہ کنارہ ہی تو ہے
    ———-
    چاہتی ہے کہ مجھے ساتھ بہا لے جائے
    تم سے بڑھ کر تو مجھے موجِ فنا چاہتی ہے