Baaghi TV

Tag: شاعر

  • بدنام اگر ہوں گے کیا نام نہ ہوگا

    بدنام اگر ہوں گے کیا نام نہ ہوگا

    بدنام اگر ہوں گے کیا نام نہ ہوگا

    مصطفیٰ خان شیفتہ

    پیدائش:27 دسمبر 1809ء
    دہلی
    وفات:11 جولا‎ئی 1869ء
    دہلی

    اردو کے ممتاز شاعر نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے ایک جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857ء میں باغیوں نے لوٹا اور آگ لگا دی تھی انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا ”جرم“ معاف ہوگیا اور پنشن مقرر ہوئی۔
    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان کے بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان کے پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یوپی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    گلشنِ بے خار
    تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
    دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

    اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
    یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

    جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
    کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
    بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

    شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
    اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

    بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
    یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

    ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
    جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

    فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

    آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
    طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

    کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
    کیا کوئی اور ستم یاد آیا

    دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
    چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

    اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
    لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو

    شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
    جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

    اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
    کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم
    سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
    تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ
    خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
    وہ تو سو بار اختیار میں آئے
    پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
    کب ہوئے خار راہ غیر بھلا
    کیوں کھٹکتے ہیں چشم یار میں ہم
    کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
    آمد و رفت بار بار میں ہم
    نعش پر تو خدا کے واسطے آ
    مر گئے تیرے انتظار میں ہم
    گر نہیں شیفتہؔ خیال فراق
    کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل لیا جس نے بے وفائی کی
    رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی
    تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو
    بات اچھی نہیں لڑائی کی
    تم کو اندیشۂ گرفتاری
    یاں توقع نہیں رہائی کی
    وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ
    مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی
    دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے
    کس کو ہے لاف دل ربائی کی
    ایک دن تیرے گھر میں آنا ہے
    بخت و طالع نے گر رسائی کی
    دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
    بات جو اپنے جی میں آئی کی
    شیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر
    دین داری و پارسائی کی
    آخر کار مے پرست ہوا
    شان ہے اس کی کبریائی کی

    Copied

  • مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا، انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں، اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں، شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے، قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔
    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں، ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے، ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے، اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے
    Cp

  • دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ،مظفر وارثی

    دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ،مظفر وارثی

    کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

    مظفر وارثی

    20 دسمبر 1933: تاریخ پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مظفر وارثی دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ہے، حمد ہو یا نعت، غزل ہو یا نظم، گیت ہو یا قطعات، ہر صنف سخن میں انہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہےمظفر وارثی ۲۰ دسمبر ۱۹۳۳ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم میرٹھ کے ہائی سکول سے حاصل کی، ۱۹۴۷ء میں لاہور آ کر میٹرک کیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازم ہو گئے، مظفر وارثی کا شمار پاکستان کے نامور نعت خواں اور بہترین شاعروں میں ہوتا ہے، ۱۹۸۱ء میں انہیں ریڈیو پاکستان کی جانب سے بہترین نعت خواں کا ایوارڈ دیا گیا، ۱۹۸۸ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

    مظفر وارثی نے اپنی شاعری کا آغاز غزلوں، نظموں اور فلمی گیتوں سے کیابعد ازاں انہوں نے خود کو حمدیہ اور نعتیہ کلام کے لیے مخصوص کر لیا، وہ بلاشبہ عہد جدید کے ان چند شاعروں میں سے ہیں جنہیں غیر ممالک میں بھی دلچسپی سے پڑھا اور سنا جاتا ہے ان کی شاعری میں فکر اور سوچ اپنے تمام تر رنگوں میں عیاں ہیں ان کا ہر مجموعہ دوسرے سے بڑھ کر خوبصورت اور دلکش ہے پاکستان کی مشہور جذبہ حب الوطنی سے سرشار فلم ’’ہمراہی‘‘ میں مسعود رانا کے گائے ہوئے نغمے مظفر وارثی نے لکھے تھے۔

    ٭ کیا کہوں اے دنیا والو! کیا ہوں میں
    ٭ کرم کی اک نظر ہم پر یا رسول اللہ
    ٔ٭ مجھے چھوڑ کر اکیلا کہیں دور جانے والے
    ٭ یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو

    نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا مشہور حمدیہ کلام ’’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے‘‘ بھی مظفر وارثی کا لکھا ہوا ہے مظفر وارثی کے حمدیہ اور نعتیہ مجموعوں میں اؒلحمد، لاشریک، نورِ ازل، بابِ حرم، میرے اچھے رسول، دل سے درِ نبی تک، صاحب التاج اور غزلوں اور نظموں کے مجموعوں میں برف کی ناؤ، کھلے دریچے بند ہوا،راکھ کے ڈھیر میں پھول، لہجہ، تنہا تنہا گزری ہے، دیکھا جو تیرے کھا کے، حصار، ظلم نہ سہنا، لہو کی ہریالی، ستاروں کی آب جو شامل ہیں اس کے علاوہ ان کی خود نوشت سوانح ’’گئے دنوں کا سراغ‘‘ بھی شائع ہو چکی ہے۔

    مظفر وارثی کا ۲۸ جنوری ۲۰۱۱ء بروز جمعہ کو لاہور میں ۷۷ سال کی عمر میں انتقال ہوا ان کی شاعری کے چند حسین اندازپیش خدمت ہیں۔

    کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
    زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا

    دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسے
    پیاسوں کے گھروں تک کوئی دریا نہیں جاتا

    منقول

  • ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    رام پرساد بسمل

    19 دسمبر 1927: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اور انقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کے گاؤں شاہجہان پور میں پیدا ہوۓ، بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی، کاکوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھاپنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھےانہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا، پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں

    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی کو نسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی،

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !

    منقول

  • دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھاملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھےانہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہر رنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سےسنے جاتے ہیں ان کےنغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں، انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے،شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا  ہونیوالے تنویر سپرا

    جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہونیوالے تنویر سپرا

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ، وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا  وہ شخص

    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    رشید قیصرانی

    اردو کے ممتاز شاعر و ادیب رشید قیصرانی 13 دسمبر 1930 میں اپنے والد سردار شیر بہادر خان کی بسائی ہوئی بستی شیر گڑھ میں پیدا ہوئے رشید قیصرانی کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے مشہور بلوچ قبیلے قیصرانی کے سردار گھرانے سے تھا۔ آپ نے شاعری کالج کے زمانہ سے ہی شروع کی، آپ نہ صرف اردو غزل میں ملک کے صف اوّل کے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ آپ کا نام اردو ادب کا بھی ایک مقبول نام ہے، مشہور نقّاد ڈاکٹر عابد حسین نے 1955ء میں اردو ادب کی تاریخ لکھتے ہوئے رشید قیصرانی صاحب کو پاکستان کی غزل کی آواز قراردیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر اختر ارینوی نے، ڈاکٹر انور سدید نے تاریخ ادب اردو میں خاص طور پر ان کا نام مرقوم کیا اور ان کی خدماتِ ادب کو سراہا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کے فن اور شخصیت پر مضامین لکھے ہیں، جن کوخالد اقبال یاسر اور جلیل حیدر لاشاری نے یکجا کر کے ’’رشید قیصرانی فن اور شخصیت‘‘کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں شائع کروایا۔

    رشید قیصرانی کے پانچ شعری مجموعے شائع ہوئے: ’فصیل لب‘، ’صدیوں کا سفر تھا‘، ’نین جزیرے‘، ’سجدے‘ اور ’کنار زمین تک‘۔ پھر ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتحال پر آپ کی کتاب Thought of the dayبھی شائع ہوئی جسے بڑی پذیرائی ملی۔ آپ کے اخباری کالم اور مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے‘‘ کے نام سے بھی شائع شدہ ہے۔

    ان کا انتقال 21 جون 2010 میں ملتان میں ہوا وہ عرصے سےعارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص
    سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

    میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
    اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

    سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں
    مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص

    سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی
    میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص

    میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً
    سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص

    یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس
    یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

  • ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم  ، اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم ، اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    معراج فیض آبادی

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے ایک بہترین شاعر سیّد معراج الحق المعروف معراجؔ فیض آبادی،2 جنوری 1941 میں ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع فیض آباد کے قصبے کولا شریف میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم فیض آباد میں حاصل کی اس کے بعد انہوں نے لکھنو یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ، تعلیم سے فراغت کے بعد سنّی وقف بورڈ میں ملازمت کی اور 2013ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوگئے ان کا ایک شعری مجموعہ ” ناموس“، 2004ء میں شائع ہوا ، وہ بیرون ممالک کےعالمی مشاعروں میں بڑی عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے ۔30 نومبر 2013ء کو ان کا لکھنو میں انتقال ہوا۔

    معراج فیض آبادی کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    کیوں ہمیں لوگ سمجھتے ہیں یہاں پردیسی
    ایک مدت سے اسی شہر میں آباد ہیں ہم

    کاہے کا ترک وطن کاہے کی ہجرت بابا
    اسی دھرتی کی اسی دیش کی اولاد ہیں ہم

    ہم بھی تعمیر وطن میں ہیں برابر کے شریک
    در و دیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم

    ہم کو اس دور ترقی نے دیا کیا معراجؔ
    کل بھی برباد تھے اور آج بھی برباد ہیں ہم

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھکی ہوئی مامتا کی قیمت لگا رہے ہیں
    امیر بیٹے دعا کی قیمت لگا رہے ہیں

    میں جن کو انگلی پکڑ کے چلنا سکھا چکا ہوں
    وہ آج میرے عصا کی قیمت لگا رہے ہیں

    مری ضرورت نے فن کو نیلام کر دیا ہے
    تو لوگ میری انا کی قیمت لگا رہے ہیں

    میں آندھیوں سے مصالحت کیسے کر سکوں گا
    چراغ میرے ہوا کی قیمت لگا رہے ہیں

    یہاں پہ معراجؔ تیرے لفظوں کی آبرو کیا
    یہ لوگ بانگ درا کی قیمت لگا رہے ہیں

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔

    ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
    تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے

    اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
    اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا

    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
    پاؤں بخشے ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے
    نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے

    اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
    میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے

    ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
    پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
    اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

    آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
    گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا

  • آرزو کی لاش جس میں ہے دبی، میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    آرزو کی لاش جس میں ہے دبی، میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    تمھاری بات میں ہونے لگیں جب تلخیاں شامل
    تو میں بھی اپنی وہ شیریں بیانی بھول بیٹھی ہوں

    نسیمہ بیگم ارم

    اڈیشا میں خواتین قلمکاروں کی تعداد فی زمانہ کم رہی ہے جن خواتین نے تھوڑی بہت لوح و قلم کی پرورش کی ہے ان کا رجحان ِطبع زیادہ تر شعر وشاعری کی طرف رہا ہے۔ ڈاکٹر نسیمہ بیگم ہی وہ واحد قلمکار ہیں جنھوں نے نثر ونظم میں اپنی تخلیقی بصیرت کے عمدہ نقوش مرتب کیے ہیں۔ا س کے علاوہ کوئی ایسی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے کہ نثر نگاری میں بھی کسی خاتون نے نام پیدا کیا ہو۔ڈاکٹر نسیمہ بیگم شاعرہ کم اور افسانہ نگارزیادہ تھیں۔اردو اور اڑیا زبانوں پر یکساں دسترس حاصل تھی۔وہ ایک کامیاب ترجمہ نگار بھی تھیں۔اڑیا کے متعدد افسانوں کو انھوں اردو جامہ عطا کرکے اردو ادب میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔

    جب شعر وشاعری کی طرف توجہ مبذول کی تو ارمؔ تخلص رکھا۔غزل کے علاوہ انھوں نے بہت سی آزاد اور نظمِ معرا بھی لکھی ہیں۔چونکہ افسانہ نگاری ان کی اولین ترجیح تھی اس لیے شعری اثاثہ بہت کم ہے۔ان کی غزلوں میں جہاں روایتی موضوعات مل جاتے ہیں وہیں عہدِ حاضر کے انہدام پذیر معاشرے کی جھلکیاں بھی نظر کش ہوتی ہیں۔ان کی غزلوں کا نمایاں پہلو نسوانی لہجے کی ریشمی سراسراہٹ ہے جو قاری کو ایک انوکھے ذائقے سے آشنا کراتی ہے۔

    کٹک کے محلہ ہاتھی تالاب کے ایک علمی خانوادے میں ان کی ولادت ۵؍جون ۱۹۵۰ ء کو ہوئی۔اردو میں ایم۔اے کرنے کے بعد پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔کٹک کے روانشا یونیورسٹی میں ریڈر کے فرائض انجام دیئے۔ سبکدوشی کے بعد حالانکہ فراغت کے لمحے میسر ہوئے مگر امورِ خانہ داری کی مصروفیا ت نے انھیں تخلیقی کارنامہ انجام دینے کا زیادہ موقع نہ دیا ۔پھر بھی انھوں نے اپنے ان افسانوں کو جو مختلف رسائل کی زینت بن چکے تھے‘یکجا کرکے کتابی شکل دی جو’’رنگ بدلتے چہرے ‘‘ کے نام سے شائع ہوکر اہلِ ادب سے پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔ ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۳ ء کو ان کی ناگہانی موت نے اڈیشا کی ادبی فضا میں جو خلا پیدا کیا ہے و ہ آسانی سے پر نہیں کیا جاسکتا۔
    ٭٭٭
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ماخوذ از اڈیشا میں اردو شاعری- مصنف سعید رحمانی)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں دل کے زخم کی ہراک کہانی بھول بیٹھی ہوں
    خوشی پانے کی خاطر زندگانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری یاد میرے دل میںپھر سے آ نہیں سکتی
    مجھے تم نے جو دی تھی وہ نشانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری بے رخی نے میری حالت ہی بدل ڈالی
    کبھی کی تھی جو تم نے مہربانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری بات میں ہونے لگیں جب تلخیاں شامل
    تو میں بھی اپنی وہ شیریں بیانی بھول بیٹھی ہوں

    مجھے حالات جب دینے لگے پسپائیاں پیہم
    ملی تھی پہلے جو بھی کامرانی بھول بیٹھی ہوں

    ارمؔ الجھن کے نرغے میں ہوئی محصور جب سے میں
    وہ پہلی مسکراتی زندگانی بھول بیٹھی ہوں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کھٹے میٹھے تجربوں کا ذائقہ رکھتی ہوں میں
    مشکلوں میں زندگی کا حوصلہ رکھتی ہوں میں

    درد کے موسم میں بھی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں نم
    چوٹ کھا کر مسکرانے کی ادا رکھتی ہوں میں

    اپنے بچوں کو تمازت سے بچانے کے لیے
    مامتا کی چھاؤں میں ان کو سدا رکھتی ہوں میں

    زندگی کی جنگ میں بچے ہوں میرے کامیاب
    ہونٹ کی محراب پر حرفِ دعا رکھتی ہوں میں

    شاعری میں اپنے دل کی ترجمانی کے لیے
    گونگے لفظوں کی زباں پر بھی صدا رکھتی ہوں میں

    ہے مرے پیشِ نظر محشر کا منظر اے ارمؔ
    اپنے دل میں اس لیے خوفِ خدا رکھتی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دھند میں روپوش گھر ہے اور میں
    کالے پانی کا سفر ہے اور میں

    سر پہ میرے دھوپ کا ہے سائباں
    ایک تپتی رہگزر ہے اور میں

    روز و شب جس کے مہکتے ہیں سدا
    تیری یادوں کا نگر ہے اور میں

    آرزو کی لاش جس میں ہے دبی
    میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    دھوپ کی یلغار سے چاروں طرف
    پیڑ بے برگ و ثمر ہے اور میں

    زندگی سے اور کیا چاہوں ارمؔ
    شاعری کا اک ہنر ہے اور میں

  • جان بہاراں رشک چمن غنچہ دہن  اے جان من

    جان بہاراں رشک چمن غنچہ دہن اے جان من

    جان بہاراں رشک چمن غنچہ دہن اے جان من

    سلیم رضا

    پاکستان کے معروف گلوکار سلیم رضا 4مارچ 1932ء کو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور استاد عاشق حسین ہاشمی کے شاگرد ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنی آواز کا جادو جگانا شروع کیا۔ فلم” نوکر” سے ان کے فلمی کیریئر کا آغاز ہوا اور پھر ان کی آواز ہر فلم میں جادو جگانے لگی۔ سلیم رضا کے مشہور فلمی نغمات میں

    یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں (سات لاکھ)،

    زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نہ(ہم سفر)

    جاں بہاراں رشک چمن (عذرا)،

    کہیں دو دل جو مل جاتے (سہیلی)،

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں (پائل کی جھنکار)

    یہ ناز، یہ انداز، یہ جادو ،یہ نگاہیں (گلفام)

    تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم (جب سے دیکھا ہے تمہیں)،

    میرے دل کی انجمن میں (قیدی)

    اور مشہور نعت شاہ مدینہ (نوراسلام) سرفہرست ہیں۔ 1960 کی دہائی میں گلوکار احمد رشدی، مسعود رانا اور مہدی حسن کی فلمی دنیا میں آمد کے بعد فلم سازوں نے سلیم رضا سے بے اعتنائی برتنا شروع کردی جس کے بعد وہ دیار غیر میں جابسے اور وہیں سے اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔

    25 نومبر 1983ء کو پاکستان کے نامور فلمی گلوکار سلیم رضا کینیڈا میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔