Baaghi TV

Tag: شاعر

  • اردو کی نامور صحافی، ادیبہ اور شاعرہ مہ پارہ صفدر

    اردو کی نامور صحافی، ادیبہ اور شاعرہ مہ پارہ صفدر

    کاش تمھارے دل میں بھی اک ساتھ اتر جاتی
    میری سوچ کے دریا سے جو اٹھی ہے آواز

    دنیائے اردو کی نامور صحافی، ادیبہ اور شاعرہ مہ پارہ صفدر 15 نومبر 1954 میں لاہور میں پیدا ہوئیں، وہ معروف شاعر سید حسن عباس زیدی اور معروف سوز، حمد و نعت خوان سیدہ شمس الزہرہ کی بیٹی ہیں، وہ 6 بہنوں میں سے چوتھے نمبر پر ہیں، مہ پارہ صفدر کا اصل نام سیدہ مہ پارہ زیدی ہے، انہوں نے پرائمری سے بی اے تک سرگودھا سے تعلیم حاصل کی جبکہ ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا۔ 1975 میں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے بطور نیوز کاسٹر اور نیوز ریڈر منسلک ہو گئیں ، ان کے الفاظ کی خوب صورت ادائیگی اور بہترین آواز کے باعث ملک گیر شہرت اور مقبولیت ہو گئی، مہ پارہ زیدی کی اگست 1979 میں لاہور میں معروف شاعر سید صفدر ہمدانی سے شادی ہوئی جن سے انہیں دو بچے ایک بیٹی سیدہ زہرہ صفدر اور ایک بیٹا سید محمد صفدر پیدا ہوئے، 1990 میں مہ پارہ صفدر اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ بی بی سی اردو سروس میں ملازمت ملنے کی وجہ سےلندن منتقل ہو گئیں، 2014 میں رٹائر ہوئیں لیکن رٹائرمنٹ کے بعد بھی بی بی سی سے ان کی جزوی وابستگی برقرار ہے، 2006 سے وہ لندن سے شائع ہونے والے عالمی اردو اخبار کی مدیرہ (ایڈیٹر) کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اپنے والد اور اپنے شوہر کی شاعری سے متاثر ہو کر وہ بھی شاعری میں طبع آزمائی کرتی ہیں رہی ہیں اس کے علاوہ حمد، نعت اور نوحہ خوانی بھی کرتی ہیں ، انہوں نے پی ٹی وی ایوارڈ 2014 نگار ایوارڈ 1984 اور بولان اکیڈمی ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔

    مہ پارہ صفدر کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک ادھورا سا خواب ہو جیسے
    زندگانی کتاب ہو جیسے
    میری آنکھوں کے ریگزاروں میں
    اک مسلسل سراب ہو جیسے
    منتشر منتشر رہی ایسی
    بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے

    ساتھ ہے اس کا سُر کی دنیا ساتھی ہے آواز
    ہم نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھی ہے آواز
    کاش تمہارے دل میں بھی اک ساتھ اُتر جاتی
    میری سوچ کے دریا سے جو اُٹھی ہے آواز
    جنگل جنگل پھیل رہی ہوتی ہے اک خوشبو
    نرم ملائم جھیلوں میں جب اُگتی ہے آواز

    آغا نیاز مگسی

  • اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطاء شاد

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطاء شاد

    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطا
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہگار کیا

    عطا شاد

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطاء شاد 13 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے ، عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق ہے – 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا ۔ 13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    عطاء شاد کے چند منتخب اشعار اور غزلیں ملاحظہ ہوں

    دل وہ صحرا ہے جہاں حسرت سایہ بھی نہیں
    دل وہ دنیا ہے جہاں رنگ ہے رعنائی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو

    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو

    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو

    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو

    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو

    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا

    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا

    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا

    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا

    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا

    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو

    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو

    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو

    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو

    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو

    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Copied

  • پاکستان  کے ممتاز سیاستدان ، ادیب اور شاعر نوابزادہ نصراللہ خان

    پاکستان کے ممتاز سیاستدان ، ادیب اور شاعر نوابزادہ نصراللہ خان

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    نوابزادہ نصراللہ خان

    پاکستان کے ممتاز سیاستدان ، ادیب اور شاعر نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ، 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا،قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

    غزل ۔ ۔ نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • انگریزی کے  ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    جان ملٹن ، انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب

    جان ملٹن انگریزی کا ایک عظیم شاعر اور مصنف تھا جس کے کلام کو نہ صرف انگریزی ادب میں بلکہ دنیا کے ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس کی بعض نظمیں دنیا کے اعلٰی ترین ادب میں شمار کی جاتی ہیں۔ جان ملٹن کی شاعری کی عظمت پر سب کو اتفاق ہے لیکن اس کی نجی زندگی، اس کی سیاست اور اس کے مذہبی خیالات کے بارے میں اس کے نقادوں میں ہمیشہ سخت اختلاف رہا ہے۔

    ملٹن لندن میں پیدا ہوا اور سینٹ پال اسکول اور کرائسٹ کالج کیمبرج میں تعلیم حاصل کی۔ اس نے انگریزی اور لاطینی دونوں میں شاعری کی۔ شروع میں وہ چرچ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس لیے کہ برطانوی چرچ میں رسم پرستی بہت آ گئی تھی۔ آخر کار اس نے شاعری پر پوری توجہ صرف کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمبرج میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کی دیہی جائیداد پر رہنے لگا۔ یہاں اس نے کئی نظمیں لکھیں جن میں اس کی ایک نہایت عظیم نظم لسی ڈس (Lycidas) بھی ہے جو اس نے اپنے دوست ایڈورڈکنگ کی وفات پر لکھی تھی۔ ۱۶۳۸ میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد وہ اٹلی گیا۔ وہاں سیر کے علاوہ کافی مطالعہ بھی کیا اور اہم شخصیتوں سے ملا۔ ان میں گیلیلیو بھی تھا۔ ایک سال بعد واپس آیا اور بڑے زور شور کے ساتھ چرچ میں اصلاح کی مہم میں لگ گیا۔ کئی رسالے لکھے۔ ۱۶۴۳ میں اس نے میری پاول کے ساتھ شادی کی جو ایک سال بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی۔

    اسی سال ملٹن نے چار رسالے لکھنے شروع کیے جن پر طوفان کھڑا ہو گیا۔ ایک میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ نبھ نہ سکے تو طلاق لے لینا اخلاقاً جائز ہے۔ اس نے ایک اور رسالہ پریس کی آزادی پر لکھا جس کا عنوان "آریوپوگٹیکا” (Areopogitica) تھا۔ اسے اس کی نثری تصنیفات میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کی پریس پر لگائی ہوئی سنسر شپ پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایک اور رسالہ میں اس نے اس پر بحث کی ہے کہ رعایا اپنے نااہل بادشاہ کو تخت سے ہٹا سکتی ہے اور اسے موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر اسے کرامول نے اپنی حکومت میں سکریٹری یا وزیر بنا لیا اور اسے بیرونی زبانوں کا محکمہ سپرد کیا گیا۔اسی زمانہ میں اس نے برطانوی عوام کی مدافعت میں کئی رسالے لکھے۔

    ملٹن کی آنکھیں بچپن سے بہت خراب تھیں جب اتنا سرکاری کام اس کے سر پر آ پڑا تو آنکھیں بالکل جواب دے گئیں اور وہ بالکل اندھا ہو گیا اور اپنے سکریٹری کی مدد سے کام چلانے لگا۔

    ۱۶۶۳ میں ملٹن نے ایلزبیتھ من شل سے شادی کر لی۔ وہ آخر تک کامن ویلتھ کی حمایت کرتا رہا اور جب شاہیت دوبارہ قائم (۱۶۶۰) ہو گئی تو وہ کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہو گیا۔ اس کی بعض کتابیں جلا دی گئیں۔ عام معافی میں اسے بھی معاف کر دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ خاموش زندگی گزارنے لگا۔

    وہ ایک زمانہ سے ایک شاہکار نظم لکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک طویل نظم "بلینک ورس” میں لکھی جو ۱۶۶۷ میں مکمل ہوئی۔ یہ بارہ جلدوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا نام اس نے "جنت کی گمشدگی” (Paradise Lost) رکھا۔ ہم عصروں نے بے حد تعریف کی اور اس کے بعد سے یہ عظیم رزمیہ نظموں میں شمار ہونے لگی۔ اس میں حضرت آدم اور حضرت حوا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جب وہ باغ عدن میں تھے۔ اس کے ذریعہ اس نے اس دنیا میں پھیلی ہوئی برائیوں کی وجہ سمجھائی ہے۔ "جنت کی بازیافت” (Paradise Regained) اس کی ایک اور طویل بلینک ورس نظم ہے جو چار جلدوں میں ہے۔ اس میں اس نے یہ بتایا ہے کہ کس طرح حضرت عیسٰی حضرت آدم سے برتر تھے۔ کس طرح شیطان ان کو ترغیب دینے میں ناکام رہا۔ اسی کے ساتھ اس نے یونانی ٹریجڈی کے نمونہ پر ایک منظوم ڈرامہ بھی لکھا جس کا قصہ انجیل ہی سے لیا گیا تھا۔ ملٹن اگرچہ بنیادی طور پر پروٹسٹنٹ مذہب کا تھا لیکن بہت ساری چیزوں کے بارے میں اس کے اپنے ذاتی عقائد تھے جو اس نے اپنے ایک رسالہ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ یہ رسالہ اس کی زندگی میں شائع نہیں ہوا۔ اس کا سراغ بہت بعد میں لگا اور پھر یہ شائع ہوا۔

  • فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    نام فصیح الدین اور تخلص عدیم تھا۔ 01 اگست 1946ء کو فیروزپور(ہندستان) میں پیدا ہوئے فیصل آباد میں نشوونما ہوئی 1970ء میں لاہور آگئے ان کا کلام ادبی جریدوں میں باقاعدگی سے چھپنے لگا اس دوران انھوں نے ریڈیو اورٹی وی کے لیے گیت لکھے بعدازاں وہ راول پنڈی منتقل ہوگئے 2001ء میں اپنے عزیز اورممتاز شاعر افتخار نسیم کے پاس امریکا چلے گئے وہ طویل عرصے سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے ان کا بائی پاس آپریشن ہوچکا تھا وہ 05 نومبر 2001ء کو شکاگو میں انتقال کرگئے اور وہیں سپردخاک کردیے گئے ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’’ترکش‘، ’مکالمہ‘، ’چہرہ تمھارا یاد رہتا ہے‘، ’فاصلے ایسے بھی ہوں گے‘، ’بہت نزدیک آتے جارہے ہو‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)، محمد شمس الحق،صفحہ:384

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ
    ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

    اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
    میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

    بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
    اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

    ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے
    پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے

    یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا

    کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تک
    ملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر

    پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہے
    پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا

    ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
    تم بھی اک آدھ گھڑی کاش ہمارے ہوتے

    ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا
    عدیمؔ اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

    میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب
    مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا

    وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    بکتا تو نہیں ہوں نہ مرے دام بہت ہیں
    رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا کوئی آ کر

    شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
    وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

    جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے
    وہ مہ و سال اگر ساتھ گزارے ہوتے

    صدائیں ایک سی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
    ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے

    وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
    ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے

    مرے ہم راہ گرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
    مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

  • داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار، رسول حمزہ تووچ حمزہ توف

    داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار، رسول حمزہ تووچ حمزہ توف

    رسول حمزہ تووچ حمزہ توف روسی جمہوریہ داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رسول حمزہ توف سوویت یونین کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر 28 ستمبر 1923ء پیدا ہوئے رسول حمزہ توف نے اپنے پہلے اشعار گیارہ سال کی عمر میں لکھے ایک حیرت انگیز واقعے نے ان کی دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا1934ء میں داغستان کے اس بلند پہاڑ ی گاؤں سدا میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، تاریخ میں پہلی بار ایک ہوائی جہاز اترا تھا اور مشہور شاعر حمزہ سداسا کے بیٹے نے اس عجوبے کو دیکھ کر شاعری کے میدان میں پہلا قدم اٹھایا۔

    ہائی اسکول کی تعلیم، استادوں کی تربیت کا کالج، آوار زبان کا سفری تھیٹر، ریڈیو نامہ نگار یہ تھے مرحلے ان کی جوانی کے سوانح کے۔ صحت کی حالت ایسی تھی کہ انھوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں لیکن جب داغستان کی سرحد ہی پر جنگ ہو رہی تھی تو شاعر کے شاعر بیٹے نے دشمن پر اپنی نظموں اور گیتوں کے وار کیے، سوویت فوج کی فتوحات سے خود وجدان حاصل کیا اور اپنے ہم وطنوں کو کانامے انجام دینے کا ہمت و حوصلہ عطا کیا۔

    جنگ کے بعد انہوں نے ماسکو میں ادبیات کے انسٹی ٹیوٹ موسوم بہ گورکی سے 1950ء میں اپنی تعلیم مکمل کی، یہیں بہت سے ادیبوں سے ان کی دوستی ہوئی، یہیں ان کی نظموں کے مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوئے جنھیں سوویت یونین میں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے قارئین میں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔

    ان کی شاعری وطن دوستانہ اور صدیوں پرانی عوامی دانش سے مملو ہے کردار کی جرات، لوگوں کے باہمی رشتوں میں دلی تعلق، بلند ترین انقلابی آدرشوں کی خاطر کارنامے انجام دینے پر آمادگی نے رسول حمزہ توف کی شاعری کو لوگوں کے لیے ضروری بنا دیا ہے رسول حمزہ توف داغستانی ادیبوں کی انجمن کے چیئرمیں رہ چکے ہیں اس کے علاوہ رسول حمزہ توف نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف اور مایا کو فسکی کی تخلیقات آوار زبان میں ترجمہ کیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    مجموعہ نثر
    ۔۔۔۔۔۔
    میرا داغستان (1968ء)
    مجموعہ نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    میری پیدائش کا سال
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں اور بیٹا
    نوکِ شمشیر
    سالگرہ
    نسخہ الفت
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1952ء – سوویت ریاستی”اسٹالن انعام“
    ۔ (2)1963ء – لینن انعام
    ۔ (3)1974ء – ہیرو آف سوشلسٹ لیبر
    ۔ (4)2003ء – آرڈر آف سینٹ اینڈریو
    چیئرمین انجمن مصنفین داغستان
    ۔ (5)2014ء – رسول حمزہ توف انعام کا اجرا
    ۔ (6)داغستان کا عوامی شاعر
    ۔ (7)جواہر لال نہرو انعام، ہندستان
    ۔ (8)لیرمونتوف انعام
    ۔ (9)فردوسی انعام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    رسول حمزہ توف 80 سال کی عمر میں 03 نومبر 2003ء میں ماسکو، روس میں وفات پا گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و انتخاب : آغا نیاز مگسی

  • کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    ندا فاضلی

    نام مقتداحسن فاضلی اور تخلص نداؔ ہے 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ندا فاضلی دعاڈبائیوی کے صاحبزادے ہیں بی اے تک تعلیم حاصل کی بمبئی میں فلمی نغمہ نگاری کرتے ہیں ان کا شعری مجموعہ ’’لفظوں کا پل‘‘ کے نام سے چھپ گیا ہے ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

    ’’کھویا ہوا سا کچھ‘‘، ’’دیواروں کے باہر‘‘، ’’دیواروں کے بیچ‘‘(خود نوشت)، ’’شہر میرے ساتھ چل تو‘‘، ’’مورناچ‘‘(مجموعہ کلام)، ’’ملاقاتیں‘‘ (خاکے)۔ مہاراشٹر اردو اکادمی، بمبئی اور ساہتیہ پریشد ، بھوپال سے ان کی کتابوں پر انعامات ملے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق، صفحہ: 335

    ندا فاضلی:
    ۔۔۔۔۔۔
    سورداس کی نظموں سے
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعر بننے کی ترغیب حاصل ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔
    ٍیہ اس وقت کی بات ہے جب تقسیم کے بعد ان کا پورا کنبہ ہندوستان سے پاکستان منتقل ہو گیا تھا لیکن ندا فاضلی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن جب وہ ایک مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تبھی انہوں نے سورداس کی ایک نظم سنی جس میں رادھا اور کرشن کی علیحدگی کو بیان کیا گیا تھا۔ یہ نظم سن کر ندا فاضلی اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے اسی لمحے فیصلہ کیا کہ وہ بطور شاعر اپنی شناخت بنائیں گے۔

    12 اکتوبر 1938 میں دہلی میں پیدا ہونے والے ندا فاضلی کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے گھر میں اردو اور فارسی دیوان کے مجموعے بھرے پڑے تھے۔ ان کے والد بھی شعر و شاعری میں دلچسپی لیا کرتے تھے اور ان کا اپنا ایک شعری مجموعہ بھی تھا، جسے ندا فاضلی اکثر پڑھا کرتے تھے۔ ندا فاضلی نے گوالیار کالج سے گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی اور اپنے خوابوں کو ایک نئی شکل دینے کے لیے وہ سال 1964 میں ممبئی چلے گئے۔ یہاں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس درمیان انہوں نے دھرم يگ اور بلٹز جیسے اخباروں میں لکھنا شروع کر دیا۔

    اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے ندا فاضلی تھوڑے ہی وقت میں لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی دوران اردو ادب کے کچھ ترقی پسند مصنفین اور شاعروں سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں ندا فاضلی کے اندر ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا۔ انہوں نے ندا فاضلی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اور انہیں مشاعروں میں آنے کی دعوت دی۔ ان دنوں اردو ادب کی تحریروں کی ایک حد مقرر تھی۔ آہستہ آہستہ فاضلی نے اردو ادب کی حدود کو توڑتے ہوئے اپنی تحریر کا ایک الگ انداز بنایا۔

    ندا فاضلی مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے جس سے انہیں پورے ملک میں شہرت حاصل ہوئی۔ ستر کی دہائی میں ممبئی میں اپنے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر انہوں نے فلموں کے لئے بھی گیت لکھنا شروع کر دیئے لیکن فلموں کی ناکامی کے بعد انہیں اپنا فلمی کیریئر ڈوبتا نظر آیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ تقریباً دس برسوں تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کےبعد ندا فاضلی کی 1980 میں ریلیز فلم ’آپ تو ایسے نہ تھے‘ کے اپنے نغمہ ’تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے‘ کی کامیابی کے بعد بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

    اس فلم کی کامیابی کے بعد ندا فاضلی کو اچھی فلموں کے آفر ملنے شروع ہوگئے۔ ان فلموں میں ’بیوی او بیوی، آہستہ آہستہ اور نذرانہ پیار کا‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ موسیقار خیام کی موسیقی میں آشا بھونسلے اور بھوپندر سنگھ کی آواز میں فلم آہستہ آہستہ کا یہ نغمہ ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘ ناظرین کے درمیان آج بھی بہت مقبول ہے۔ سال 1983 ندافاضلی کے فلمی کیرئیر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ فلم رضیہ سلطان کی تخلیق کے دوران نغمہ نگار جاں نثار اختر کی اچانک موت کے بعد فلمساز کمال امروہی نے ندا فاضلی سے فلم کے باقی گیت لکھنے کی پیشکش کی۔ اس فلم کے بعد وہ بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں قائم ہو گئے۔

    شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ نے ندا فاضلی کے لئے متعدد نغمات گائے جن میں 1999 میں آئی فلم ’سرفروش‘ کا یہ نغمہ ’ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے‘ بھی شامل ہے۔ ان دونوں فنکاروں کی جوڑی بہترین مثال ہیں۔ ندا فاضلی کے شعری مجموعوں میں مور ناچ، ہم قدم اور سفر میں دھوپ ہوگی اہم ہیں۔ ادب اور فلمی دنیا کو اپنے نغموں سے مسحور کرنے والے ندا فاضلی آٹھ فروری 2016 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    ندا فاضلی: ’
    ۔۔۔۔۔۔
    دنیا جسے کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    جادو کا کھلونا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    جے پرکاش نارائن
    ۔۔۔۔۔۔
    ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد شاعر تھے لہذا بڑے بھائی کے قافیہ سے ملا کر ان کا نام رکھا گیا مقتدیٰ حسن۔ ان کا بچپن اور لڑکپن مدھیہ پردیش کے گوالیار میں گزرا اور انہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔

    مقتدیٰ حسن بچپن ہی سے شاعری میں اپنے ہاتھ آزمانے لگے تھے اور ’ندا فاضلی‘ ان کا تخلص ہے۔ ندا کے معنی ہیں آواز اور فاضلی کشمیر کے علاقہ فاضلہ سے آیا ہے جہاں سے ان کے آبا و عزداد دہلی آئے تھے۔ ندا فاضلی کے اردو-ہندی ادب میں مکمل طور آنے کا سبب ایک حادثہ مانا جاتا ہے۔

    کہتے ہیں وہ کالج میں تھے تو اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے والی لڑکی سے انہوں نے یکطرفہ، انجانا اور انکہا رشتہ قائم کر لیا تھا۔ وہ آج کل کا دور نہیں تھا جہاں اظہار محبت بغیر شرم و حیا کر دیا جاتا ہے۔ تب تو اتنی بندشیں تھیں کہ احساسات کا اپھان سماجی بندھنوں کی دہلیز کو آسانی سے پار ہی نہیں کر پاتا تھا۔

    ایسی ہی کیفیت میں مقتدیٰ حسن کے دل کے آنگن میں ایک بیج پھوٹ کر پودا بن گیا۔ اچانک کالج کے نوٹس بورڈ پر ایک نوٹ چسپاں ہوا جس نے ندا فاضلی پر بم کا سا دھماکہ کر دیا۔ انگریزی میں نوٹس بورڈ پر جو لکھا تھا اس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے، ’کماری ٹنڈن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی ہے۔‘ اس خبر سے ندا اندر تک لرز گئے اور بہت غمزدہ ہوئے۔ لیکن اپنی تکلیف کے اظہار کے لئے ان کے پاس نہ تو الفاظ تھے اور نہ ہی سلیقہ۔ انہوں نے جو کوچھ محسوس کیا اسے لکھنے کی کوشش کی لیکن اپنے دکھ کو پوری طرح ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔

    کافی جد و جہد کے بعد ایک بات انہیں سمجھ آئی کہ قصور الفاظ میں نہیں بلکہ لکھنے کے طریقہ میں ہے۔ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جو ان کی اندر کی تکلیف کو نمایاں کر سکے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ صبح کے وقت مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تو کسی کو سورداس کے ایک بھجن گاتے سنا۔

    بس پھر کیا تھا؟ مقتدیٰ کو لگا کہ ان کے اندر کی تکلیف ظاہر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے۔ اس کے بعد تو ان پر کبیر داس، تلسی داس، سور داس، بابا فرید وغیرہ صوفی دور کے شاعروں کو پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا۔ وہ جتنا ان شاعروں کو پڑھتے گئے، اس نتیجہ پر پہنچتے گئے کہ ان شاعروں کی سیدھی سادی بغیر لاگ لپیٹ کی دو ٹوک زبان والی تخلیقات بہت موثر ہیں بس یہیں سے ندا فاضلی ایک عظیم شاعر بننے کی راہ پر قدم بڑھا چکے تھے۔
    بانگی دیکھیں:
    خدا خاموش ہے! تم آؤ تو تخلیق ہو دنیا
    میں اتنے سارے کاموں کو اکیلا کر نہیں سکتا
    سادہ زبان ہمیشہ کے لئے ندا فاضلی کا طرز بیاں بن گئی۔ ہندو مسلم قومی فسادات سے تنگ آکر ان کے والدین پاکستان میں جا بسے لیکن ندا ہندوستان سے نہیں گئے۔ روزگار کی تلاش میں وہ کئی شہروں میں بھٹکے لیکن کام کہاں ملتا! شاعری چلتی رہی، دراصل قسمت نے ندا کے لئے کچھ اور ہی لکھا ہوا تھا۔
    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے…
    ایسی نظموں تک ندا فاضلی یوں ہی نہیں پہنچے۔ بھوپال، الہ آباد، دہلی نہیں بلکہ ممبئی ہندی اور اردو ادب کا گڑھ تھا۔ سال 1964 میں ندا کام کی تلاش میں ممبئی پہنچ گئے۔ دھرم یُگ، بلِٹز، ساریکا جیتی میگزینوں کے لئے انہوں نے مضمون لکھنے شروع کئے، جلد ہی وہ شائع بھی ہونے لگے۔ ان کے آسان زبان والے اور موثر مضامین نے جلد ہی انہیں عزت اور شہرت دلا دی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ یہ ندا ہی کہہ سکتے تھے:
    دیوتا ہے کوئی ہم میں نہ فرشتہ کوئی
    چھو کے مت دیکھنا، ہر رنگ اتر جاتا ہے
    ملنے جلنے کا سلیقہ ہے ضروری ورنہ
    آدمی چند ملاقاتوں میں مر جاتا ہے
    ندا کی زیر بحث کتابوں میں لفظوں کے پھول، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، کھویا ہوا سا کچھ، آنکھوں بھر آکاش اور سفر میں دھوپ تو ہوگی، دیواروں کے بیچ، دیواروں کے باہر، ملاقاتیں، تماشہ میرے آگے شامل ہیں۔
    انہوں نے کچھ عمدہ شاعروں پر لکھی کتابوں کو ادارت بھی کی جن میں بشیر بدر: نئی غزل کا نام، جانسار اختر: ایک جوان موت، داغ دہلوی: غزل کا ایک اسکول، محمد علی دہلوی: شبدوں کا چترکار، جگر مراد آبادی: محبتوں کا شاعر، کافی مشہور ہوئیں۔
    اپنی ادبی خدمات کے لئے وہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، قومی ایکتا ایوارڈ، مدھیہ پردیش حکومت کے میر تقی میر ایوارڈ، خسروں ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، بہار اردو اکادمی ایوارڈ، اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ، ہندی اردو سنگم جیسے متعدد ایوارڈوں سے نوازے گئے۔ فلمی نغموں کے لئے بھی انہیں کئی مرتبہ ایوارڈوں سے نوازا گیا تھا۔
    بطور شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا سفر کتنا شاندار تھا یہ ان کے گیتوں، غزلوں اور شاعری کو سن کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کمال امروہی جب فلم رضیہ سلطان بنا رہے تھے تو گیت لکھنے کی ذمہ داری جانسار اختر پر تھی، اچانک وہ انتقال کر گئے۔ جانسار اختر بھی گوالیار سے ہی تھے اور انہوں نے کمال امروہی سے صد فیصد درست اردو بولنے والے کے طور پر ندا کا ذکر کیا ہوا تھا۔
    کمال امروہی نے جان نسار اختر کی بات کی قدر کرتے ہوئے ندا فاضلی سے رابطہ قائم کیا اور انہیں فلم کے بقیہ دو نغمے تخلیق کرنے کو کہا … اور پھر ندا نے کیا نغمے تخلیق کئے۔ یہ گانے تھے، پہلا-
    ’تیرا ہجر میرا نصیب ہے
    تیرا غم ہی میری حیات ہے
    مجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں
    تو کہیں بھی ہو میرے ساتھ ہے…‘
    اور دوسرا گانا تھا
    ’آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے
    دل ہوا کس کا گرفتار خدا خیر کرے
    جانے یہ کون میری روح سے چھوکر گزرا
    ایک قیامت ہوئی بے دار خدا خیر کرے..‘
    اور اس طرح اتنے شاندار نغموں سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں کے لئے گیت تخلیق کئے۔ ایسی فلموں میں سرفروش، آہستہ آہستہ، اس رات کی صبح نہیں، سُر وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ہندو ہو یا مسلم دونوں طرف کی انتہا پسندی کے سخت مخالف تھے۔
    ندا فاضلی کے اس شعر پر تنازعہ بھی کھڑا کیا گیا
    گھر سے مسجد ہے بڑی دور چلو یوں کر لیں
    کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
    ندا فاضلی ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے جب پاکستان گئے تو انہیں کچھ انتہاپسندوں نے گھیر لیا اور پوچھا کہ کیا آپ بچے کو اللہ سے بڑا سمجھتے ہیں؟ ندا کا جواب تھا کہ مجھے تو صرف اتنا پتہ ہے کہ مسجد انسان کے ہاتھ بناتے ہیں جبکہ بچے کو اللہ اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔
    اردو ہندی کے اس عظیم شاعر نے 8 فروری 2016 کو اس دنیا کو الوداع کہا۔ کاش ’آدمی کی تلاش‘ عنوان والی ان کی نظم کی شروعات کچھ یوں ہوتی،
    ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید
    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو، یہیں کہیں ہوگا
    کاش اس طرح ڈھونڈنے پر وہ مل جاتے۔
    یہ مضمون آج تک پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا
    کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا

    بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
    چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

    اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
    وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

    ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
    جسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

    اس کا قصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ
    وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا

    اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
    یوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا خدا کرو

    پر شور راستوں سے گزرنا محال تھا
    ہٹ کر چلے تو آپ ہی اپنے سزا ہوئے

    جس سے بھی ملیں جھک کے ملیں ہنس کے ہوں رخصت
    اخلاق بھی اس شہر میں پیشہ نظر آئے

    دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
    ہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ

    چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب
    سوچتے رہتے ہیں کس راہ گزر کے ہم ہیں

    کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
    کہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرف

    زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
    مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے

    فہرست مرنے والوں کی قاتل کے پاس ہے
    میں اپنے ہی مزار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

    اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
    جو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہے

    ہنستے ہوئے چہروں سے ہے بازار کی زینت
    رونے کی یہاں ویسے بھی فرصت نہیں ملتی

    نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
    تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

    دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
    زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

    یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
    مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے

  • سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    مدد علی سندھی سندھ، پاکستان میں پیدا ہونے والے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی ہیں ان کی کئی کتابیں شائع ہو ئی ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی 12 اکتوبر 1950ء کو اللہ بخش قریشی کے گھر میں سندھ کے ضلع حیدرآباد کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ مدد علی سندھی نے پرائمری تعلیم فاطمہ گرلز پرائمری اسکول حیدرآباد، سندھ سے حاصل کی۔ یہ اسکول خلافت تحریک کے رہنما شیخ عبدالرحیم کی بڑی بیٹی حاجانی غلام فاطمہ نے قائم کیا تھا اور اس خاتون نے ہی مدد علی سندھی کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل کی اور بی اے کی ڈگری گورنمنٹ سچل آرٹس اینڈ کامرس کالج حیدرآباد سے حاصل کی۔ جامعہ سندھ سے ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران دو مرتبہ رسٹیکیٹ ہوئے جس وجہ سے مکمل نہ کر سکے۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کے کئی مضامین، افسانے شائع ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری بھی جریدوں میں شائع ہوئی اور مجموعات کی شکل میں بھی شائع الگ سے ہوئے ہیں۔ مدد علی سندھی کی کئی کتابیں آن لائن انٹرنیٹ پر دست یاب ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی کتاب گونجا بی کائی کوجا ہے۔ یہ ان کی ایک مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب گڈ ریڈز پر دست یاب ہے۔
    گُڈ ریڈز دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جہاں پر کہ قارئین اور کتابوں کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ لوگوں کو عالمی سطح پر من پسند کتابوں کے دست یاب ہونے میں معاون ہوتا ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2007ء میں ہوا تھا۔مدد علی سندھی کے افسانے اردو میں بھی ترجمہ کیے گئے ہیں۔
    سیاست صحافت
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی طالب علمی کے زمانے میں سیاست میں متحرک رہے۔ پہلے جیے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں رہے۔ بعد میں 1969ء میں عوامی لیگ کے لیے حیدرآباد ڈویژن کے آرگنائزر مقرر ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے انہیں عوامی لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں بطور رکن نامزد کیا۔ مدد علی سندھی نے اکتوبر 1970ء میں سندھی زبان میں اگتے قدم نامی جریدہ شایع کیا جس پر 1972ء میں پابندی لگائی گئی اور خود بھی 1978 تک روپوش رہا۔
    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کو 14 اگست2021ء کو خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ تمغائے حسن کارکردگی دیا گیا۔وہ اس وقت نگران وفاقی وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہیں۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)شہر صحرابھانیاں-2005
    ۔ (2)پنرملن-1981
    ۔ (3)دل اندر دریا-1980
    نمایاں کام:گونجا بی کائی کوجا
    مستقل پتا:ای۶، جیسن لگزری اپارٹمنٹ
    بلاک3، کلفٹن کراچی

    اہم اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

  • اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    منزل کےلیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

    بہزاد لکھنوی

    معروف شاعر اور نغمہ نگار بہزاد لکھنوی 01 جنوری 1900 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے سردار احمد خاں نام تھا بہزاد تخلص اختیار کیا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا ۔ ان کے والد بھی اپنے وقت میں خاصے مقبول شاعر تھے۔ گھر اور لکھنؤ کے ادبی ماحول کے اثر سے بہزاد بھی بہت چھوٹی سی عمر میں شعر کہنے لگے تھے۔

    بہزاد ایک لمبے عرصے تک محکمۂ ریل سے وابستہ رہے اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی۔ اس دوران کئی فلمی کمپنیوں سے وابستہ ہوکر نغمے بھی لکھے تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے اور ریڈیو پاکستان کراچی میں ملازمت کی بہزاد لکھنوی کا انتقال 10 اکتوبر1974 کو کراچی میں ہوا۔ شعری مجموعے : نغمۂ نور، کیف و سرور ، موج طہور، چراغ طور، وجد وحال۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
    ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے
    اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
    تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے
    میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
    جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے
    آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانۂ دل کی
    کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے
    بہزادؔ ہر اک گام پہ اک سجدۂ مستی
    ہر ذرے کو سنگ در جانانہ بنا دے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تمہارے حسن کی تسخیر عام ہوتی ہے
    کہ اک نگاہ میں دنیا تمام ہوتی ہے
    جہاں پہ جلوۂ جاناں ہے انجمن آرا
    وہاں نگاہ کی منزل تمام ہوتی ہے
    وہی خلش وہی سوزش وہی تپش وہی درد
    ہمیں سحر بھی بہ انداز شام ہوتی ہے
    نگاہ حسن مبارک تجھے در اندازی
    کبھی کبھی مری محفل بھی عام ہوتی ہے
    زہے نصیب میں قربان اپنی قسمت کے
    ترے لیے مری دنیا تمام ہوتی ہے
    نماز عشق کا ہے انحصار اشکوں تک
    یہ بے نیاز سجود و قیام ہوتی ہے
    تری نگاہ کے قرباں تری نگاہ کی ٹیس
    یہ ناتمام ہی رہ کر تمام ہوتی ہے
    وہاں پہ چل مجھے لے کر مرے سمند خیال
    جہاں نگاہ کی مستی حرام ہوتی ہے
    کسی کے ذکر سے بہزادؔ مبتلا اب تک
    جگر میں اک خلش نا تمام ہوتی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں
    تو جان تماشا ہے میں محو تماشا ہوں
    تو باعث ہستی ہے میں حاصل ہستی ہوں
    تو خالق الفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں
    جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنۂ دو عالم
    جب درد سے غافل تھا اب درد کی دنیا ہوں
    کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں کوئی لیکن
    تو اور کسی کا ہے بے درد میں تیرا ہوں
    مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایۂ تسکیں میں
    اب تو تری فرقت میں دن رات تڑپتا ہوں
    ارمان نہیں کوئی گو دل میں مرے لیکن
    اللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں
    بہزادؔ حزیں مجھ پر اک کیف سا طاری ہے
    اب یہ مرا عالم ہے ہنستا ہوں نہ روتا ہوں

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آتا ہے جو طوفاں آنے دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
    ممکن ہے کہ اٹھتی لہروں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

    اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

    ہم بھی خود کو تباہ کر لیتے
    تم ادھر بھی نگاہ کر لیتے

    مجھے تو ہوش نہ تھا ان کی بزم میں لیکن
    خموشیوں نے میری ان سے کچھ کلام کیا

    زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
    جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں

    میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
    جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

    اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
    اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

    عشق کا اعجاز سجدوں میں نہاں رکھتا ہوں میں
    نقش پا ہوتی ہے پیشانی جہاں رکھتا ہوں میں

  • جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

    ممتاز شاعر مصطفٰی زیدی

    نام سید مصطفی حسین زیدی اور تخلص زیدی تھا۔ شروع میں تیغ الہ آبادی تخلص کرتے تھے۔10 اکتوبر 1930ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔اوائل طالب علمی ہی سے شاعری کا شوق پید ا ہوگیا تھا۔انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے۔ ایم اے (انگریزی) کا امتحان 1952ء میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے پاس کیا۔ دوران تعلیم ان کی غیر معمولی قابلیت کے اعتراف میں انھیں کئی گولڈ میڈل اور تمغے ملے۔1956ءمیں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔مختلف شہروں میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ حکومت پاکستان نے اعلی کارکردگی کے صلے میں انھیں’’تمغاے قائد اعظم ‘‘ عطا کیا۔12 اکتوبر 1970ء کراچی میں مصطفی زیدی کی اچانک موت کا سانحہ رونما ہوا۔ ان کا پہلا مجموعہ شاعری’’روشنی‘‘ کے نام سے قیام پاکستان سے قبل شائع ہوا ۔ان کے دیگرشعری مجموعوں کے نام یہ ہیں: ’زنجیریں‘، ’شہرآذر‘، ’موج مری صدف صدف‘، ’گریباں‘، ’قباے ساز‘، ’کوہ ندا‘۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے
    زیدی
    ۔۔۔۔۔۔
    مصطفیٰ زیدی اور شہناز
    مصطفیٰ زیدی جب گوجرانوالہ آئے تو یہیں ان کی ملاقات شہناز سے ہوئی شہناز گُل ۔۔۔۔۔ وہ پری وش جو مصطفےٰ زیدی کی زندگی کے آخری ایام میں اس کی تنہائیوں کی رفیق اور زندگی کے آخری پُر اسرار لمحوں کے رازوں کی امین تھی-

    یحییٰ خان کا زمانہ تھا۔ جس نے اسکریننگ کر کے 303 افسران کو بیک جنبش قلم ملازمتوں سے فارغ کر دیا تھا۔ زیدی بھی اس کا نشانہ بن گئے۔ افسر شاہی ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ جرمن بیوی ویرا زیدی اور دونوں بچے جرمنی میں تھے، پاسپورٹ سرکار نے ضبط کر رکھا تھا، ایسے عالم میں ماسٹر ٹائر اینڈ ربر فیکٹری کے مالک فیاض ملک نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا اور اپنے بنگلے کی انیکسی مصطفی زیدی کو رہائش کے لیے دے دی۔ اسی انیکسی میں ان کی ملاقاتیں ایک عرصے تک تو شہناز گل سے جاری رہیں، لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ایک دن مصطفی زیدی نے حبیب بینک پلازہ کے سگنل پر رکی ایک کار میں دیکھا کہ ان کی محبوبہ شہناز گل معروف صنعت کار آدم جی پیر بھائی کے ساتھ بیٹھی ہے۔ مصطفی زیدی جیسا حساس اور زودرنج شاعر اس نظارے کو برداشت نہ کر سکا، وہ تو سمجھتا تھا کہ شہناز گل اس کی محبت میں گرفتار ہے، اس کی چاہتوں کی اسیر ہے،مصطفیٰ زیدی کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی کے ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی جبکہ شہناز گل بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔

    (کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ زیدی مردہ حالت میں ہوٹل سمار کے ایک کمرے میں پائے گئے تھے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ان کی لاش ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ اس میں تضاد ہے)

    جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ ان دنوں ہمارے اخبارات اچانک ہی بالغ ہو گئے تھے کیونکہ عدالت میں شہناز گل کے دیئے گئے بیانات نے بہت سے لوگوں کو اپنے گھر آنے والے اخبارات کو روکنا پڑا تھا

    اور ہفت روزہ چٹان میں شورش کشمیری کو ایک نظم لکھنا پڑی تھی جس کے اس ایک شعر سے اس نظم کے موڈ کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا۔

    بانجھ ہو جائیں زمینیں, بیٹیاں پیدا نہ ہوں
    یا خدا شہناز گل سی, بیبیاں پیدا نہ ہوں

    رضا علی عابدی نے مصطفی زیدی کے ساتھ نیم مردہ حالت میں پائی جانے والی خاتون شہناز کا احوال بھی اپنے دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ پہلے یہ خبر بطور ایک چھوٹی خبر موصول ہوئی کہ ایک سرکاری افسر نے خودکشی کرلی ہے، جب خبر پھیلی کہ متوفی مصطفی زیدی ہیں تو تمام اخبارات اس خبر کی تفصیل کے پیچھے پڑ گئے اور بقول عابدی صاحب ایسی ایسی داستانیں نکال کر لائے کہ مصطفی زیدی اگر اس وقت بچ جاتے تو اب مر جاتے۔

    عدالت میں حریت کے فوٹو گرافر نے شہناز گل کی ایک قد آدم تصویر کھینچ لی۔ رضا علی عابدی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے کافی عرصے کے بعد افتخار عارف نے ایک تقریب میں شہناز گل سے کہا کہ ’ابھی تو آپ پر دس بیس شاعر اور قربان ہوسکتے ہیں عدالت نے طویل رد و کد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیامصطفی زیدی کی وفات کا دکھ ادبی حلقوں ہی میں نہیں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں محسوس کیا گیا۔

    جوش ملیح آبادی نے اس سانحے پر کہا "زیدی کی موت نے مجھ کو ایک ایسے جواں سال اور ذہین رفیق سفر سے محروم کر دیا جو فکر کے بھیانک جنگلوں میں میرے شانے سے شانہ ملا کر چلتا اور مسائل کائنات سلجھانے میں میرا ہاتھ بٹایا کرتا”

    وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

    مصطفی زیدی نے خود ہی کہا تھا کہ

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”

    شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ غزل بہت مشہور ہے:

    فن کار خود نہ تھی ،مرے فن کی شریک تھی
    وه روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
    اُترا تھا جس پہ باب حیا کا ورق ورق
    بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی
    میں اک اعتبار سے آتش پرست تھا
    وه سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی
    وه نازشِ ستاره و طَنّازِ ماہتاب
    گردش کے وقت میرے گہن کی شریک تھی
    وه ہم جليسِ سانحہ ء زحمتِ نشاط
    آسائشِ صلیب و رسن کی شریک تھی
    ناقابل بیان اندھیرے کے باوجود
    میری دُعائے صبحِ وطن کی شریک تھی
    دُنیا میں اک سال کی مدت کا قُرب تھا
    دل میں کئی ہزار قرن کی شریک تھی

    یہ نظم کراچی کے ہوٹل سمار میں لکھی گئی یہ وہی ہوٹل ہے جس کے ایک کمرے میں مصطفےٰ زیدی مردہ پائے گئے تھے

    "شہناز(5)”
    جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے
    ایسی شدت تو میرے عہد وفا میں بھی نہ تھی
    میں نے دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر
    جس کی جرات صف تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی
    تو نے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا
    ساز میں بھی نہ تھی وہ بات، صبا میں بھی نہ تھی
    بے نیاز ایسا تھا میں دشت جنوں میں کھو کر
    مجھ کو پانے کی سکت ارض و سما میں بھی نہ تھی
    اور اب یوں ہے کے جیسے کبھی رسم اخلاص
    مہ نشینوں میں تو کیا، ہم فقیروں میں بھی نہ تھی
    بے وفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش
    دل پرخون میں بھی اور رنگ حنا میں بھی نہ تھی
    نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کے
    جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے

    ہوٹل سمار، کراچی 22 ستمبر 1970

    "شہناز”
    خود کو تاراج کرو
    زندگیاں کم کر لو
    جتنا چاہو دل شوریدہ
    کا ماتم کر لو
    تاب وحشت کسی صحرا
    کسی زنداں میں نہیں
    اِس قدر چارہ گری
    وقت کے امکاں میں نہیں
    خاطر جاں کے
    قرینے تو کہاں آئیں گے
    صرف یہ ہو گا کہ
    احباب بچھڑ جائیں گے
    گھر جو اُجڑے تو
    سنورتے نہیں دیکھے اب تک
    ایسے ناسُور تو
    بھرتے نہیں دیکھے اب تک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں
    میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
    دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں

    میرا تو جرم تذکرہء عام ہے مگر
    کچھ دھجیاں ہیں میری زلیخا کے ہات میں

    آخر تمام عمر کی وسعت سما گئی
    اک لمحہء گزشتہ کی چھوٹی سی بات میں

    اے دل ذرا سی جراتِ رندی سے کام لے
    کتنے چراغ ٹوٹ گۓ احتیاط میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
    غم دل مرے رفیقو ، غم رائیگاں نہیں ہے

    کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی رازداں نہیں ہے
    فقط اک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

    کسی آنکھ کو صدا دو ، کسی زلف کو پکارو
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہونٹوں کا ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
    سر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں

    تم سے تو ایک دل کی کلی نہ کھل سکی
    یہ بھی بلا کشانِ محبت کے کام ہیں

    دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار
    اس سرزمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں

    تھوڑی سی دیر صبر کہ اس عرصہ گاہ میں
    اے سوزِ عشق ، ہم کو ابھی اور کام ہیں

    تم بھی خدا سے سوزِ جنوں کی دعا کرو
    ہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں

    وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
    اور جس پہ اتفاق سے آنسو حرام ہیں

    اپنے پہ آ پڑیں تو نۓ پن کی حد نہیں
    جو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں

    منعم کا تو خدا بھی امیں ، بت بھی پاسباں
    مفلس کے صرف تیغ علیہ السلام ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
    آج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے

    دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھو
    اس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے

    صبح و شام کی الجھن ، رات دن کے ہنگامے روز روز کا جھگڑا
    دیکھ پیر میخانہ آج میں نہ رہ جاؤں یا سبو نہ رہ جائے

    اپنا غم نہ اس کا اس کا غم ڈوبتی ہوئی لَو کو فکر ہے تو اس کی ہے
    دربدر نہ رسوا ہو حسرتوں کا افسانہ کو بہ کو نہ رہ جائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
    دیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھا

    قُلزُم نے بڑ ھ کے چو م لئے پھول سے قدم
    دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا

    اِک موجِ خونِ خَلق تھی کس کی جبیں پہ تھی
    اِک طو قِ فردِ جرم تھا ،کس کے گلے میں تھا

    اِک رشتہ ءِ وفا تھا سو کس ناشناس سے
    اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا

    صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر
    شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا

    کیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسے
    وہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا

    تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش
    مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے تھا